At-Talaaq 65:12

At-Talaaq · from ayah 12

65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ؕ— یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۙ۬— وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا ۟۠اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عِلۡمًا

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is Allah who has created seven heavens and of the earth, the like of them. [His] command descends among them so you may know that Allah is over all things competent and that Allah has encompassed all things in knowledge.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Talaaq

All translations of 65:12

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی انہی کی طرح اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی برابر زمینیں حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ (ہی) ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمین (کی تشکیل) میں بھی انہی کی مِثل (تہ بہ تہ سات طبقات بنائے)، ان کے درمیان (نظامِ قدرت کی تدبیر کا) امر اترتا رہتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ فرما رکھا ہے (یعنی آنے والے زمانوں میں جب سائنسی اکتشافات کامل ہوں گے تو تمہیں اللہ کی قدرت اور علمِ محیط کی عظمت کا اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح اُس نے صدیوں قبل ان حقائق کو تمہارے لئے بیان فرما رکھا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بیشک اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے انہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے۔ تاکہ تم جان لو کہ اللہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور انہی کے مانند زمین بھی۔ ان میں اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ وہ ہے جس نے پیدا فرمایا (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) سات آسمانوں کو اور زمین سے بھی انہی کے مانند ان سب کے درمیان اتر تے رہتے ہیں اس کے احکام (تکوینی و تشریعی اور تمہیں یہ اس لئے بتادیا گیا ہے کہ) تاکہ تم لوگ یقین جان لو کہ اللہ (پاک) ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور (تاکہ تم لوگ اس کا بھی یقین کرلو کہ) بلاشبہ اللہ نے ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے علم کے اعتبار سے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پید اکئے اور انہیں کی طرف زمین بھی ان (سب) میں (اللہ کے) احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ ہر شے (اپنے) علم سے گھیرے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے ہیں اور زمین میں سے بھی انہی کی مانند۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں اللہ کے حکم اترتے رہتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ اللہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے،

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah it is He Who created seven heavens, and, like them, the earth. His commandment descends among them. (All this is being stated so that you know) that Allah has power over everything, and that Allah encompasses all things in His knowledge.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is the One who has created seven skies, and their like from earth. The Command descends among them, so that you may know that Allah is powerful over every thing, and that Allah has encompassed every thing in knowledge.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is the One who has created seven skies, and their like from earth. The Command descends among them, so that you may know that Allah is powerful over every thing, and that Allah has encompassed every thing in knowledge.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof. His command descends between them, that you may know that Allah has power over all things, and that Allah surrounds all things with (His) knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah it is who hath created seven heavens, and of the earth the like thereof. The commandment cometh down among them slowly, that ye may know that Allah is Able to do all things, and that Allah surroundeth all things in knowledge.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is Allah who has created seven heavens and of the earth, the like of them. [His] command descends among them so you may know that Allah is over all things competent and that Allah has encompassed all things in knowledge.

— Saheeh International

It is God who has created the seven heavens and a like number of earths. His commandments are sent between them, so that you would know that God has power over all things and that His knowledge encompasses all.

— Muhammad Sarwar

Allah is He Who created seven heavens, and of the earth the like of them; the decree continues to descend among them, that you may know that Allah has power over all things and that Allah indeed encompasses all things in (His) knowledge.

— Muhammad Habib Shakir

Allah it is Who hath created seven heavens, and of the earth the like thereof; the commandment cometh down between them, that ye may know that Allah is over everything Potent, and that Allah! He encompasseth everything in knowledge.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah is He Who created seven Firmaments and of the earth a similar number. Through the midst of them (all) descends His Command: that ye may know that Allah has power over all things, and that Allah comprehends, all things in (His) Knowledge.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 65:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حیرت، افزا شان ذوالجلال اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے، تو فرمایا کہ ساتوں آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، جیسے حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا (ترجمہ) کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ساتوں آسمانوں کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ؟ اور جگہ ارشاد ہے (ترجمہ) یعنی ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں، پھر فرماتا ہے اسی کے مثال زمینیں ہیں، جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے جو شخص ظلم کر کے کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطَّلَاق 23 " انہی کے مانند " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ اور " زمین کی قسم سے " مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں، اپنی موجودات کے لیے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سات زمینیں کہاں کہاں کس صورت میں ہیں (آیت) اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ، اس آیت سے اتنی بات تو واضح طور پر ثابت ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں ایسی ہی زمینیں بھی سات ہیں۔ پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع و صورت میں ہیں اوپر نیچے طبقات کی صورت میں تہ برتہ ہیں یا ہر ایک زمین کا مقام الگ الگ ہے اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں ہر دو آسمان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے اور ہر آسمان میں الگ الگ فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ اور ہوا فضا وغیرہ ہیں اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقات زمین ایک دوسرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مشلعن یتنزل الامربینن لتعلموا ان اللہ علی کل شئی قدیر وان اللہ قدا حاط بکل شی علماء) (12) (صفات الٰہی کا حوالہ تاکہ لوگوں کا عقیدہ محکم ہو)۔ یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت اور صفت علم کی یاددہانی فرمائی ہے تاکہ اوپر جو باتیں فرمائی گئیں ہیں، خواہ ان کا تعلق تنبیہ و تہدید سے ہوتاتسکین و تسلی سے، ان کا اعتقاد لوگوں کے اندر راسخ ہو اور وہ یہ جانیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور اس کا علم بھی محیط کل ہے۔ سات آسمانوں اور سات زمینوں کی کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔ اگر کسی نے کوئی نیکی کی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے اور اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 ای خلق من الارض مثلھن۔ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد و مسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے۔ (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جیسے نبی ﷺ نے فرمایا من اخذ شبرا من الارض ظلاما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین (صحیح مسلم) جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیالی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری) اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں خسف بہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

14: احادیث سے اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔ البتہ ان کی کوئی تفصیل قرٓان و حدیث نے نہیں بتائی کہ یہ سات زمینیں تہہ بر تہہ ہیں، یا ان کے درمیان فاصلہ ہے، اور اگر فاصلہ ہے تو وہ کہاں واقع ہیں۔ کائنات کی بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن تک ابھی انسان کے علم کی رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کی حقیقت جانتا ہے، اور قرآن کریم کے مقصد کے لیے یہ ساری تفصیلات جاننا ضروری بھی نہیں ہے۔ آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ کائنات کے ان حقائق سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر ایمان لانا ہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اللہ الذی ............................ شیء علما (56 : 21) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہنا ہے۔ (یہ بات تمہیں اس لئے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے “۔ سات آسمانوں کے بارے میں ہمیں ابھی تک پورا علم حاصل نہیں ہوا ہے کہ ان کی دوریاں اور فاصلے کتنے ہیں۔ اسی طرح سات زمینوں کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں ان میں سے ایک ہوگی اور باقی اللہ کے علم میں ہوں گی اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ زمین آسمانوں ہی کے جنس سے ہے۔ اپنی ترکیب اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی زمینیں بھی سات پیدا کی جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی احادیث میں ہے ان میں احتمال ہے کہ نظر آتی ہوں اور ان میں احتمال ہے کہ نظر نہ آتی ہوں مگر لوگ ان کو کواکب سمجھتے ہیں جیسا کہ مریخ وغیرہ کی نسبت آج کل حکمائے یورپ کا گمان ہے کہ اس میں پہاڑ دریا اور آبادیاں ہیں۔ 4 یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لیے اللہ کے احکام تکونیہ و تشریعیہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر اترتے رہتے ہیں۔ 5 یعنی آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ان میں انتظامی احکام جاری کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات و علم وقدرت کا اظہار ہو (نبہ علیہ ابن قیم فی بدائع الفوائد) بقیہ صفات ان ہی دو صفتوں سے کسی نہ کسی طرح تعلق رکھتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ } ”اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے ہیں اور زمین میں سے بھی انہی کی مانند۔“ یہ آیت ”آیاتِ متشابہات“ میں سے ہے۔ ابھی تک انسان سات آسمانوں کی حقیقت سے بھی واقف نہیں ہوسکا۔ ”زمین میں سے انہی کی مانند“ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے اس نے متعدد آسمان بنائے ہیں ویسے ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ قرآن حکیم کے بعض مقامات پر ایسے اشارے ملتے ہیں کہ جاندار مخلوقات صرف زمین پر ہی نہیں ہیں ‘ عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مفسرین نے اپنے اپنے اندازوں سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 سات زمینوں کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ لغوی مفہوم یہ ہے کہ سماء اور ارض دونوں اسمائے نسبیہ سے ہیں۔ سماء یعنی بلندی ہے اور ارض بمعنی پستی۔ اس لحاظ سے ہم ہر بلندی کے مقابلہ میں پستی کو ارض کہہ سکتے ہیں اور ہر پستی کے مقابلہ میں بلندی کو سماء کہہ سکتے ہیں۔ گویا ہماری زمین پہلے آسمان کے مقابلہ ارض ہے۔ اور پہلا آسمان دوسرے آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ علی ہذا القیاس چھٹا آسمان ساتویں آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ اس طرح سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات بن جاتی ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس سے ہماری زمین کے ہی سات طبقات یا سات پرت مراد ہوں۔ جنہیں طبقات الارض کہا جاتا ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ یعنی حق تعالیٰ کی صفات قدرت وعلم ہر طرح کامل، جامع وہمہ گیر ہیں۔ (آیت) ” ومن الارض مثلھن “۔ اس سے عام طور پر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ زمینیں بھی تعداد میں سات ہی ہیں۔ اور یہ احتمالات بھی مفسر تھانوی (رح) اور دوسرے محققین سے منقول ہیں، کہ ممکن ہے، یہ زمینیں ایسی ہوں جو نظرنہ آتی ہوں یا یہ کہ انہیں کو لوگ مریخ وغیرہ کواکب کے نام سے موسوم کرتے ہوں، اور صاحب روح المعانی نے جس کی تاریخ اختتام 1267 ؁ھ یا انیسویں صدی عیسوی کا وسط ہے، ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ اس سے مراد زمین کے ساتھ بڑے خطے امریکہ، ایشیا، یورپ، افریقہ وغیرہ ہیں۔ اور محقق موصوف نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ممکن ہے کرۂ قمر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اللہ الذین خلق سبع سموات ومن الارض مثلھن، مثلھن میں تشبیہ اجمالی ہے کہ کس چیز میں زمین مثل سماوات ہے اس آیت سے اتنی بات تو واضح طور پر ثابت ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں، پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں ہیں اور کس وضع و صورت میں ہیں ؟ تہ برتہ طبقات کی شکل میں ہیں یا ہر زمین کا مقام الگ الگ ہے ؟ اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں ہر دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے اور ہر آسمان میں فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ ہے اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقات زمین ایک دوسرے سے متصل اور پیوستہ ہیں ؟ قرآن مجید اس سے ساکت ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ الذین خلق .. علما . ” اللہ ہی نے تو سات آسمان پیدا کیے اور انہی کی طرح زمین بھی اور ان سب میں اللہ کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور (یہ بھی معلوم ہوجائے کہ) اللہ ہر چیز کو اپنے احاطۂ علمی میں لیے ہوئے ہے۔ “ وَمِنَ الْاَرْضِ مِثْلُھُنَّ : یعنی آسمانوں کی طرح سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا آپ لوگ جانتے ہیں ‘ یہ کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو بخوبی علم ہے۔ فرمایا : یہ عنان (اَبر) ہے۔ یہ زمین کے آبکش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ ہی نے سات آسمان اوپر نیچے اور اسی طرح سات زمینیں تہ بہ تہ پیدا کیں ان سب آسمانوں اور زمینوں میں فرشتے وحی و تنزیل اور اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر آتے رہتے ہیں۔ تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے اور تم یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں میں ہر ایک پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو اپنے احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اَﷲُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ۔۔۔۔: سورت کے آخر میں اس کے اندر مذکور احکام کی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لیے آسمان و زمین کی پیدائش ، ان میں اپنے اوامر کے نزول اور اپنے علم و قدرت کا ذکر فرمایا ، تا کہ یہ بات مد نظر رہے کہ یہ احکام دینے والا کون ہے۔ بارہ (12) آیات پر مشتمل اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہے جو اس کے نام ، اس کی ضمیر اور اس کی طرف نسبت کی صورت میں تقریباً تیس (30) مرتبہ آیا ہے اور آخر میں پھر اس عظیم ہستی کا تعارف ان صفات کے ساتھ دہرایا ہے۔ (ابن عاشور) 2۔ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمانوں کی کیفیت تو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر دلالت ہے وہ دوبارہ اٹھانے اور محاسبہ کرنے پر قادر ہے۔ آسمانوں کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں وہ سات ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں۔ اس پر معراج کا واقعہ اور دوسری چیزیں دال ہیں۔ پھر فرمایا : ومن الارض مثلھن یعنی سات زمین (1) ۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے اور دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے اور یہی جمہور کا قول ہے (2) کہ زمینیں سات ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں۔ ہر دو زمینوں کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی مسافت دو آسمانوں کے درمیان ہے اور ہر زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ ضحاک نے کہا : ومن الارض مثلھن یعنی سات زمینیں۔ وہ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

زمین کے نیچے مخلوق ہے 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سوال کیا۔ کیا زمین کے نیچے مخلوق ہے ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف نہیں دیکھا۔ آیت خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن یتنزل الامر بینہن۔ اللہ ہی نے سات آسمان پید اکیے اور انہی کی طرح زمین بھی اور ان سب میں اللہ کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے آیت اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلہن۔ سورة کے آخر تک کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس ؓ نے اس آدمی سے فرمایا آدمی کے لیے وہی ہے جو تجھ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ : اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیے ] [سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان ] [وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ : اور زمین سے ان (آسمانوں) جیسی بھی (پیدا کیں)] [يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ : اترتے ہیں تمام احکام ان کے مابین ] [لِتَعْلَمُوْٓا ان اللّٰهَ : تاکہ تم لوگ جان لو کہ اللہ ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ] [وَّان اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ : اور یہ کہ اللہ نے احاطہ یا ہوا ہے ] [بِكُلِ شَيْءٍ عِلْمًا : ہر چیز کا بلحاظ علم کے ] (آیت۔ 12) مثلھن میں مثل کی نصب بتارہی ہے کہ یہ خلق کا مفعول ہے۔ اس کے ساتھ جمع مؤنث کی ضمیر ھن آئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور انہیں کی طرح زمینیں پیدا فرمائیں یہ آیت سورة ٴ طلاق کی آخری آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور شان قادریت اور تکوین کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمینیں بھی ان کی جیسی یعنی تعداد میں ان کے برابر پیدا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام ان کے درمیان نازل ہوتے ہیں۔ سب سے اوپر کے آسمان سے لے کر سب سے نیچے والی زمین تک جو بھی مخلوق ہے سب پر اس کے احکام تکوینیہ نافذ ہیں اور بہت سی مخلوق احکام شرعیہ کی بھی مکلف ہے۔ یہ سات زمینیں کہاں ہیں کس طرح ہیں جمہور علماء کا یہی فرمانا ہے کہ یہ بھی آسمانوں کی طرح اوپر نیچے سات طبقات ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

تنبیہ وتحذیر برنافرمانی رب العالمین ودرس عبرت بہ بیان ہلاکت قریہائے مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من قریۃ عتت ..... الی ...... بکل شیء علما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاشرت اور معاملات کے احکام ذکر فرمائے جارہے تھے جن میں عدل و انصاف کا حکم تھا اور عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیاد خوف خدا ہے اس وجہ سے درمیان میں تین بار (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ ذکر فرمایا گیا کہ اللہ کا تقوی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اللہ کے تقوی سے دشواریاں آسانیوں سے بدل جاتی ہیں، اور اللہ کے تقوی سے انسان اپنی برائیوں سے پاک ہو کر مستحق اجر عظیم ہوتا ہے تو اب ان آیات میں میں اللہ کی نافرمانی پر وعید اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” اللہ الذی “ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ اس سورت کے آخر میں توحید پر عقلی دلیل ہے۔ اس سورت کے آخر میں توحید کا بیان آگیا تاکہ دیگراحکام کے ساتھ ساتھ توحید کی طرف بھی توجہ باقی رہے۔ کیونکہ اصل مقصود یہی ہے۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور زمین و آسمان کے درمیان وہی متصرف و مختار ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔ ” لتعلموا “ کا متعلق مقدر ہے ای اخبرتکم او اعلمتکم بذلک ولتعلموا (روح ج 28 ص 146) ۔ یعنی میں نے تمہیں یہ اس لیے بتایا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے پر حاوی ہے۔ لہذا وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کے عائلی قوانین من جملہ نکاح ، طلاق ، عدت ، عدت کے اعتبار سے عورتوں کی قسمیں اور عدت کی مدت ، دوران عدت رہائش اور خرچہ کا مسئلہ اور اولاد کی پرورش وغیرہ بیان ہونے ہیں۔ اللہ نے تاکید فرمائی ہے کہ ان احکام پر عمل کرتے رہو اور خلاف ورزی نہ کرو۔ پھر اللہ نے سابقہ امتوں کی مثال بیان فرمائی ، جنہوں نے اللہ کے احکام اور اس کے رسولوں کے فرامین سے انکار کیا ، غرور وتکبر کیا تو اللہ نے ان کو دنیا میں ہی محاسبہ کرکے ان کو ہلاک کیا اور پھر آخرت کی دائمی سزا آگے آنے والی ہے ، فرمایا اے عقلمندو اللہ سے ڈرجائو ، اللہ نے تمہاری طرف قرآن کی صورت میں نصیحت نامہ نازل کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ۝ 0 ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ 0ۥۙ وَّاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا۝ 12 ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ا ؎ امام رازی (رح) فرماتے ہیں اگر سات زمینوں سے سات اقلیم مراد لیے جائیں جہاں تاثیر سیارات مختلف طور پر نمایاں ہے تو ممکن ہے مگر وہ روایات کہ جن میں سات زمینوں کا یکے بعد دیگرے ہونا اور ہر ایک میں پانچ سو برس کا فاصلہ ہونا اور اخیر زمین کا مچھلی پر ہونا مذکور ہے اور اسی طرح آسمانوں کی بابت ایک یاقوت کا وسرا زمرد کا وغیرذلک یہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ ط یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ لا 5 وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عِلْمًا۔ (الطلاق : 12) (اللہ وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان، اور انھیں کی مانند زمین بھی، ان میں اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔ ) احکام دینے والے کی عظمت تعمیل کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے انسان کو جب کسی بالاتر شخصیت کی جانب سے زندگی سنوارنے کے لیے احکام ملتے ہیں چاہے ان کا تعلق پبلک لائف سے ہو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ پر اس لیے ایمان لانا اور اس کے حکم کے مطابق نیک اعمال کرنے ہیں کیونکہ رب نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی پورے نظام کو چلا رہا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیات 21 اور 22 میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا وہی آسمان سے پانی نازل کرتا ہے اور اس کے ذریعے تمہیں پھلوں سے رزق عطا کرتا ہے، اس کے سوا نہ کوئی پیدا کرنے والا اور نہ تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت جاننے کے باوجود اس کے ساتھ کسی کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مثلیت ِارض سے مراد : 12 : اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ (اللہ تعالیٰ ہی نے سات آسمان پیدا کیے) نحو : اللہ مبتدأ الذی خلق خبر ہے۔ سبع سٰمٰوت۔ اجماعِ مفسرین : مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آسمان سات ہیں۔ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ (اور انہی کی طرح زمین بھی) نحو : منصوب مانیں تو اس کا عطف سبع سمٰوٰت پر ہوگا۔ ایک قول : قرآن مجید میں ہے سوائے اس آیت کے اور کوئی آیت نہیں جو زمین کے سات عدد ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ ہر دو آسمانوں کے مابین تو پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی ہے۔ اور زمینیں بھی ان آسمانوں کی طرح ہیں۔ ایک اور قول : زمین ایک ہے البتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” رسولا “ یہ ذکر اسے بدل ہے۔ اور کہا گیا ہے تمہاری طرف قرٓن کو اتارا ہے اور رسول کو بھیجا اور کہا گیا ہے مع الرسول اور کہا گیا ہے ذکر وہی رسول ہیں اور کہا گیا ہے ذکر ا یعنی شرف۔ پھر بیان کیا کہ وہ کیا ہے تو فرمایا ” یتلوا علیکم آیات اللہ بینات لیخرج الذین امنوا وعملوا الصالحات من الظلمات الی النور و من یومن باللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنات تجری تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا “ یعنی جنت جس کی نعمتیں ختم نہ ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تبارک وتعالی نے خبر دی ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اس طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے یہ سب کچھ اسلیے ہے کہ بندے کو اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیا پر محیظ ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنی اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–12

قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔ قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 40] حضرت خالق جل مجدہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اور زمین سے بھی انہیں کے مانند۔ جس کی پوری حقیقت کا ادراک ہماری سمجھ اور ہمارے دائرہ علم سے بالا ہے۔ اس لیے اس میں زیادہ کھود کرید کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سلف کے ارشاد کے مطابق اس کو ویسے ہی مبہم رہنے دیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں اس کو مبہم رکھا گیا ہے۔ اور ان مختصر حواشی میں تو ویسے بھی ایسی بحثوں کی گنجائش نہیں مفصل تفسیر کی سعادت اگر نصیب ہوگئی تو انشاء اللہ ضروری تفصیل اس میں عرض کردی جائے گی، واللہ الموفق والمعین، بہر کیف اس ارشاد سے اللہ نے آخر میں اپنی صفت قدرت اور صفت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات) اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–12

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ مغربی معاشرہ۔ پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات ہونے کا صحیح احادیث میں واضح طور پر ذکر ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ایک دعائے ثورہ میں اللھم رب السموت السبع وما اظللن و رب الارضین السبع وما اقلن صحیح مسلم میں ہے کہ ” جو شخص ظلم سے ایک بالشت زمین چھینے گا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ (شوکانی) ممکن ہے کہ سات زمینوں سے مراد چاند مریخ وغیرہ ہوں جنہیں ہم ستارے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی ہماری زمین کی طرح زمین ہیں اور موجودہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میں پہاڑ، دریا اور آبادیاں ہیں۔ (واللہ اعلم)4 یہ سورة بالاتفاق مدنی ہے اور اس کا دوسرا نام سورة النبی بھی ہے۔ اس کی ابتدائی آیات دو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(65:12) اللہ الذی خلق سبع سموت : اللہ مبتداء الذی اسم موصول واحد مذکر۔ خلق سبع سموت جملہ فعلیہ ہوکر صلہ اپنے موصول کا۔ صلہ و موصول مل کر خبر اپنے مبتدا کی ۔ خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے۔ ومن الارض مثلہن۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای وخلق من الارض مثلہن : من بیان جنس کے لئے ہے۔ مثلہن مضاف مضاف الیہ۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب سموت کی طرف راجع ہے۔ اور زمین بھی اس نے ان کی مانند (بنائی یا پیدا کی) مثلہن سے کیا مراد ہے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) مثلہن : فی العدد (خازن، بیضاوی۔ جلالین) یعنی سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں۔ (2) وقیل الارض واحدۃ الا ان الاقالیم سبعۃ۔ کہتے ہیں کہ زمین ایک ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–12

لغات القرآن۔ کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب اللہ نے ان قوموں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا انجام۔ (ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح سات آسمان بنائے ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہی بنائی ہیں۔ یہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع و صورت میں ہیں، ان میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ خالی پڑی ہوئی ہیں ان باتوں کے بارے میں قرآن ساکت ہے اور کیونکہ ہماری دینی یا دنیوی ضرورت ان باتوں کی تحقیق پر موقوف نہیں اس لئے اس کی فکر و تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ سلف صالحین کا ایسی صورتوں میں یہی عمل رہا ہے۔ انہوں نے یہی فرمایا ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اسے مبہم رہنے دو ۔ [12] یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام ان ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں۔ ان احکام کی دو قسمیں ہیں،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

زندہ قرآن 1: قرآن حکیم نے متعدد مقامات میں منصب نبوت کی تصریح کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے ۔ کہ پیغمبر کی اجازت عقیدت مندوں کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے ۔ اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی نجات ہے ۔ مگر ایک برخود غلط گروہ کا یہ عقیدہ ہے ۔ کہ قرآن کے سوا اور کوئی شخصیت مطاع نہیں ہے ۔ اور رسول ﷺ کی حیثیت محض یہ ہے ۔ کہ وہ پیغام کو ہم تک پہنچا دیتا ہے ۔ اب یہ ہمارا کام ہے ۔ کہ ہم اسکو لغت اور ادب کی روشنی میں سمجھیں ۔ رسول ﷺ یا تو کچھ تفصیلات بیان ہی نہیں کرتا ۔ اور یا اس کی بیان کردہ تفصیلات ہمارے لئے مستند نہیں ہیں ۔ اس آیت نے اس مغالطہ کو دور کردیا ہے ۔ اور بالکل واضح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کی طرح زمین کو بھی پیدا کیا اور ان سب آسمانوں اور زمینوں میں اس کا حکم اترتا اور نازل ہوتا رہتا ہے اس لئے بتادیا کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے اعتبار سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے - جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمین کے بھی سات طبقات ہیں یا سات اقالیم اور سات حصے ہیں جن میں احکام تکوینیہ اور تشریعیہ کا نزول ہوتا رہتا ہے اور عالم کے انتظام و تدبیر کے لئے اللہ تعالیٰ یہ احکام نازل فرماتا رہتا ہے۔ آگے فرمایا یہ سب ہم نے اس لئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

ف 6۔ مطلب یہ کہ جو نصیحت اس رسول کے ذریعے سے پہنچے اس پر عمل کرنا بھی اطاعت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں اور ان کی مثل زمینوں کو پیدا کیا ہے 12 ؎ زیر نظر آیت اس سورت کی آخری آیت ہے اور اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جس طرح ہم اس زمین پر بستے ہیں اور ہمارے لیے بعض سیارے سورج ، بعض چاند اور بعض ستارے دکھائی دیتے ہیں عین ممکن ہے کہ یہ ہماری زمین کسی دوسری زمین کے لیے ستارہ ، چاند یا سورج کا کام دے رہی ہو اور اس طرح ان ستاروں ، چاند اور سورج ہی میں ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان پورے ہوتے ہیں یا علاوہ ازیں کوئی زمین ظاہر ہوجائے جس کو ہم اسی زمین کی طرح جاننے لگیں۔ ہم سے پہلے جب یہ دنیا علم کی روشنی میں آرہی تھی تو ان سات براعظموں کو سات زمینیں قرار دیا گیا جنہیں بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Where are the Seven Earths and in at Form? اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْ‌ضِ مِثْلَهُنَّ (Allah is the One who has created seven skies, and their like from earth...65:12). This verse indicates that there are seven earths as there are seven heavens, but the question is where these earths are and in what shape or form. Are they in the form of seven layers one above the other, or each earth is separate from the other. If they form layers one above the other, is there a distance between two earths, just as there is a distance between two heavens? Are there separate…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 "Also their like-- does not mean that He created as many earths as the heavens, but it means that He has also created several earths as He has created several heavens. "Of the earth- mean that just as this earth which is inhabited by man is serving as bed and cradle for the creatures living on it, so has AIlah made and set other earths also in the universe, which serve as beds and cradles for the creatures living on them. Moreover, there arc clear pointers in the Qur'an to the effect that living creatures are not found only on the earth but also in the heavens. (For instance, sec…

Read the full tafseer →