At-Talaaq 65:11

At-Talaaq · from ayah 11

65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ؕ— وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاللّٰهِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ— قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا ۟رَّسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ لِّيُخۡرِجَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًـا يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابد الاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[He sent] a Messenger [Muhammad] reciting to you the distinct verses of Allah that He may bring out those who believe and do righteous deeds from darknesses into the light. And whoever believes in Allah and does righteousness - He will admit him into gardens beneath which rivers flow to abide therein forever. Allah will have perfected for him a provision.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah At-Talaaq

All translations of 65:11

ایک ایسا رسو ل جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابد الاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعنی) رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں وه تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے، اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں، اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے، اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق طے کردیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ رسول کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور) رسول ﷺ کو (بھی بھیجا ہے) جو تم پر اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ اسے ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، بیشک اللہ نے اُس کے لئے نہایت عمدہ رزق (تیار کر) رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو ایسا رسول ہے کہ تمہارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، بلاشبہ اللہ نے اس کے لیے اچھا رزق بنایا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایک ایسا رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں، اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لئے بہت اچھا رزق رکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ایک رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے اور جو ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے۔ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اللہ نے ان کو نہایت اچھی روزی دی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ایک ایسا عظیم الشان رسول جو پڑھ (پڑھ) کر سناتا ہے تم لوگوں کو اللہ کی ایسی آیتیں جو کھول کر بتانے والی ہیں تاکہ وہ نکال باہر کرے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے (کفر و شرک اور جہل و ضلال کی طرح طرح کی گھٹا ٹوپ) تاریکیوں سے (حق و ہدایت کے) نور (مبین) کی طرف اور جو کوئی (سچے دل سے) ایمان لائے گا اللہ پر اور (اس کے مطابق) وہ نیک کام بھی کرے گا تو اللہ داخل فرما دے گا اس کو (اپنے کرم سے) ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں جہاں ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے رہنا نصیب ہوگا بیشک اللہ نے اس کو بڑے ہی عمدہ رزق سے نوازا

— مولانا اسحاق مدنی

) اور ایسا) رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے کھلے ہوئے احکام پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے۔ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اللہ اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے بیشک اللہ نے ایسے شخص کو بہت ہی اچھی روزی دی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) ایک رسول ﷺ جو اللہ کی آیات بینات تم لوگوں کو پڑھ کر سنا رہا ہے تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اندھیروں سے نور کی طرف۔ اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ اسے داخل کرے گا ان باغات میں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ لوگ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ اللہ نے اس کے لیے بہت عمدہ رزق فراہم کیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے پیغمبر بھی بھیجے ہیں جو تمہارے سامنے کھول کر سنانے والی اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ اور جو شخص ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ان کو بہشتوں کے باغوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیجے نہریں بہہ رہی ہـیں وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اللہ نے ان کو خوب رزق دیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

a Messenger who rehearses to you Allah's verses that clearly expound the Guidance so that He may bring out those that believe and act righteously, from every kind of darkness into light. He will admit whosoever believes in Allah and acts righteously to Gardens beneath which rivers flow. They shall abide in them forever. For such has Allah made an excellent provision.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a messenger who recites to you the verses of Allah, making (the truth) clear, so that He may bring forth those who believe and do righteous deeds from the layers of darkness into the light. And whoever believes in Allah, and acts righteously, He will admit him to the gardens beneath which rivers flow, wherein such people will live forever. Allah has made for him a good provision.

— Muhammad Taqi Usmani

a messenger who recites to you the verses of Allah, making (the truth) clear, so that He may bring forth those who believe and do righteous deeds from the layers of darkness into the light. And whoever believes in Allah, and acts righteously, He will admit him to the gardens beneath which rivers flow, wherein such people will live forever. Allah has made for him a good provision.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A Messenger, who recites to you the Ayat of Allah containing clear explanations, that He may take out those who believe and do righteous good deeds, from the darkness to the light. And whosoever believes in Allah and performs righteous deeds, He will admit him into Gardens under which rivers flow, to dwell therein forever. Allah has indeed granted for him an excellent provision.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A messenger reciting unto you the revelations of Allah made plain, that He may bring forth those who believe and do good works from darkness unto light. And whosoever believeth in Allah and doeth right, He will bring him into Gardens underneath which rivers flow, therein to abide for ever. Allah hath made good provision for him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[He sent] a Messenger [Muhammad] reciting to you the distinct verses of Allah that He may bring out those who believe and do righteous deeds from darknesses into the light. And whoever believes in Allah and does righteousness - He will admit him into gardens beneath which rivers flow to abide therein forever. Allah will have perfected for him a provision.

— Saheeh International

a Messenger who recites to you the illustrious revelations of God, to bring the righteously striving believers out of darkness into light. God will admit those who believe in Him and act righteously to Paradise wherein streams flow, and they will live therein forever. God will provide them with excellent sustenance.

— Muhammad Sarwar

An Apostle who recites to you the clear communications of Allah so that he may bring forth those who believe and do good deeds from darkness into light; and whoever believes in Allah and does good deeds, He will cause him to enter gardens beneath which rivers now, to abide therein forever, Allah has indeed given him a goodly sustenance.

— Muhammad Habib Shakir

An apostle reciting Unto you the revelations of Allah as evidences, that he may bring forth those who believe and work righteous works from darknesses into light. And whosoever believeth in Allah and worketh righteously, him He will cause to enter Gardens whereunder rivers flow, as abiders for evermore. Surely Allah hath made for him an excellent provision.

— Abdul Majid Daryabadi

An Messenger, who rehearses to you the Signs of Allah containing clear explanations, that he may lead forth those who believe and do righteous deeds from the depths of Darkness into Light. And those who believe in Allah and work righteousness, He will admit to Gardens beneath which Rivers flow, to dwell therein for ever: Allah has indeed granted for them a most excellent Provision.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 65:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–11

شریعت پر چلنا ہی۔۔ روشنی کا انتخاب ہے جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول ﷺ کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول ﷺ سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا اس وقت نادم ہنے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی ؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہوجاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والوں چاہئے کہ ان جیسے نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطَّلَاق 21 مفسرین میں سے بعض نے نصیحت سے مراد قرآن لیا ہے، اور رسول سے مراد محمد ﷺ اور بعض کہتے ہیں کہ نصیحت سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، یعنی آپ کی ذات ہمہ تن نصیحت تھی۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ پہلی تفسیر کی رو سے فقرہ یوں بنانا پڑے گا کہ " ہم نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے اور ایک ایسا رسول بھیجا ہے " قرآن کی عبارت میں اس تبدیلی کی آخر ضرورت کیا ہے جب کہ اس کے بغیر ہی عبارت نہ صرف پوری طرح بامعنی ہے بلکہ زیادہ پر معنی بھی ہے۔ سورة الطَّلَاق 22 یعنی جہالت کی تاریکیوں سے علم کی روشنی میں نکال لائے۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

(آیت) قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا، رسولاً اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی کلھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کہ ذکر اللہ کی کثرت کے سبب ان کا وجود گویا خود ذکر اللہ بن گیا وغیرہ ذلک (روح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–11

(اعد اللہ لھم عذابا شدیدا۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم ایت اللہ مبینت لیخرج الذین امنوا وعملوالصلحت من الظلمت الی النور ومن یومن باللہ ویعمل صالحا شدید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا) (10۔ 11) (ایک موثر تنبیہ و ترغیت)۔ یہ نہایت واضح الفاظ میں مسلمانوں کو تنبیہ بھی ہے ساتھ ہی نہایت موثر انداز میں ترغیب بھی کہ اللہ نے تمہاری طرف اپنی یاددہانی (قرآن) بھی نازل کردی اور اپنا رسول بھی بھیج دیا ہے۔ اب آگے کا کام تمہارا ہے کہ تاریکی سے روشنی کی طرف نکالنے کے لیے جو اہتمام اللہ نے فرمایا ہے اس کی قدر کرتے ہو یا ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 رسول، ذکر سے بدل ہے، بطور مبالغہ رسول کو ذکر سے تعبیر فرمایا، جیسے کہتے ہیں، وہ مجسم عدل ہے۔ یا ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسولاً سے پہلے اَرْسَلْنَا محذوف ہے یعنی ذکر (قرآن) کو نازل کیا اور رسول کو ارسال کیا۔ 11۔ 2 یہ رسول کا منصب اور فریضہ بیان کیا گیا کہ وہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو اخلاقی پستیوں سے شرک و ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ رسول سے یہاں مراد الرسول یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ 11۔ 3 عمل صالح میں دونوں باتیں شامل ہیں احکام و فرائض کی ادائیگی اور معصیات ومنہیات سے اجتناب، مطلب ہے کہ جنت میں وہی اہل ایمان داخل ہوں گے، جنہوں نے صرف زبان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

13: یہ قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جو احکام عطا فرماتا ہے، ان کے آگے پیچھے بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے احساس سے ڈرتے رہنا چاہیے، یہی وہ احساس ہے جو تمہارے لئے ان احکام پر عمل کرنا آسان بنادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رسولا .................... مبینت (56 : 11) ” ایک رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے “۔ یہ نہایت ہی گہرا قابل توجہ نکتہ ہے اور اس کے اوپر کئی دلائل ہیں۔ یہ ذکر جو رسول لوگوں تک پہنچانے کے لئے لائے ہیں وہ رسول اللہ کی شخصیت کے اندر سے وکر ان تک پہنچا ہے۔ آپ صادق وامین تھے اور آپ نے پورا ذکر ان تک پہنچا دیا گویا یہ ذکر خا سے براہ راست ان تک پہنچ گیا۔ اور رسول کی ذات نے اس کا کوئی حصہ چھپایا نہیں تھا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ذات رسول کو ذکر بتاتی ہے کہ رسول کی ذات پوری کی پوری ذکر ہوگی۔ رسول گویا مجسمہ ذکر ہیں اور وہ زندہ قرآن ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے اسی کی طرف اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی صاف آیتیں جن میں اللہ کے احکام کھول کھول کر سنائے گئے ہیں۔ 1 یعنی کفر و جہل کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور علم وعمل کے اجالے میں لے آئے۔ 2 جنت سے زیادہ بہتر روزی کہاں ملے گی

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1{ رَّسُوْلًا یَّـتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ لِّـیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”یعنی ایک رسول ﷺ جو اللہ کی آیات بینات تم لوگوں کو پڑھ کر سنا رہا ہے ‘ تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اندھیروں سے نور کی طرف۔“ یہاں وضاحت کردی گئی کہ ذکر سے مراد اللہ کا رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ ہے۔ سورة البینہ میں اس موضوع کی مزید وضاحت آئی ہے۔ { وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا } ”اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے“ دین کے تقاضوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 یعنی صرف قرآن ہی نازل نہیں کیا بلکہ ایک رسول یعنی محمد رسول اللہ کو بھی مبعوث فرمایا جو اس کی واضح آیات پڑھ کر بھی سناتا ہے پھر اس کے احکام و ارشادات پر عمل کرنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ 26 شرعی عائلی قوانین کی خوبیاں :۔ تاریکیوں سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں۔ اور یہ تاریکیاں ایک نہیں بلکہ لاتعداد ہوتی ہیں۔ انسان اپنے مسائل کے حل کے لیے جتنے بھی قوانین بناتا ہے وہ ناقص ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کی محدود عقلی فکر معاشرہ کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اسی لیے ان قوانین میں آئے دن ترمیم و تنسیخ کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں روشنی سے مراد علم وحی کی روشنی ہے۔ جو ایک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ جس طاعت وتقوی کی طرف ابھی دعوت دی گئی تھی، وہ یہی ہے کہ انسان کفر، جہل وعصیان کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں سے نکل کر ایمان، علم وعمل صالح کی نورانیت میں آجائے۔ (آیت) ” ذکرا رسولا “۔ جائز ہے کہ ذکر سے مراد رسول اللہ ﷺ ہی سے لی جائے کہ آپ گویا مجسم ذکر وتذکیر تھے۔ اور (آیت) ” رسولا “ کو اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ھوالنبی ﷺ عبربہ عنہ لمواظبتہ علی تلاوۃ القران الذی ھو ذکر اوتبلیغہ والتذکیربہ ورسولابدل منہ (روح) رسولا بدل من ذکر اکانہ فی نفسہ ذکر (مدارک) لیکن عام طور پر (آیت) ” ذکر ا “ سے مراد قرآن ہی لی گئی ہے۔ والظاہران الذکر ھو القران والرسول ھو محمد ﷺ (بحر) اے القران (مدارک) (آیت) ” رسولا “۔ کو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لیخرج الذین امنوا وعملوا الصلحت من الظلمت الی النور یعنی جہالت کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف نکال لائے، اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے، اور اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نئی نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرہ کے لئے مفید قانون میسر نہیں آسکا جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ نے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہم کو دیا تھا، اور جس پر کسی نظرثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی اور نہ پیش آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رسولایتلو علیکم ایت اللہ مبینت لیخرج الذین امنوا و عموا الصلحت من الظلمت الی النور ومن یومن باللہ و یعمل صالحا یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھار خلدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا . (اور وہ نصیحت نامہ دے کر) ایک ایسا رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں ‘ (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و عمل اور علم کی) روشنی کی طرف لے آئے اور (آگے) جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا خدا اس کو (جنت کے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بلاشبہ اللہ نے ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ رسول تمہارے سامنے قرآن کریم کی صاف صاف آیات پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائیں اور اعمال صالحہ کریں ان کو کفر سے ایمان کی طرف لے آئیں۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک اعمال کرے گا اللہ اس کو جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت میں بڑا عمدہ انعام دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللہ ِ مُبَیِّنٰتٍ :”رسولا“ پچھلی آیت میں مذکور ’ ’ ذکرا“ سے بدل ہے ، یعنی یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف عظیم ذکر نازل کیا ہے جو رسول ہے ، یعنی رسول ﷺ کا وجود سراپا نصیحت ہے کہ اس کا قول ، فعل ، حال اور تقریر سب نصیحت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سورة ٔ حجر (9) میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) (بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں) اس میں ”الذکر“ سے مراد صرقرآن مجید نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ ساری وحی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

وکاین من قریۃ جب احکام کا ذکر کیا تو امر کی مخالفت سے خبردار کیا اور قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نزول کا ذکر کیا۔ سورة آل عمران میں کاین کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ عتت عن امر ربھا یعنی انہوں نے نافرمانی کی۔ ذکر قریہ کا کیا مراد اس کے مکین ہیں۔ فحاسبنھا حسابا شدیدا یعنی دنیا میں ہم نے انہیں عذاب دے کر بدلہ دیا۔ و عدینھا عذابا نکرا۔ یعنی آخرت میں بھاری سزا دی۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (1) ! دنیا میں ہم نے انہیں بھوک، قحط، تلوار، زمین میں دھنسانا، صورتیں مسخ کرنا اور باقی ماندہ مصائب میں مبتلا کیا اور آخرت میں شدید ترین حساب لیا۔ نکرت مراد منکر ہے۔ اسے مخفف اور مشتل دونوں طرح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت آیات مبینت یا کے نصب کے ساتھ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَّسُوْلًا : (اور بھیج دیا ہے) ایک ایسا رسول جو ] [يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سناتا ہے تم لوگوں کو ] [اٰيٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی آیتیں ] [مُبَيِّنٰتٍ : واضح ہوتے ہوئے ] [لِيُخْرِجَ الَّذِينَ : تاکہ وہ نکالیں ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : ایمان لائے اور عمل کیے نیکیوں کے ] [مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ : اندھیروں سے نور کی طرف ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور جو ایمان لائے گا اللہ پر ] [وَيَعْمَلْ صَالِحًا : اور عمل کرے گا نیکی کا ] [يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ : تو وہ داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا : بہتی ہیں جن کے دامن سے ] [الْانهٰرُ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

گزشتہ ہلاک شدہ بستیوں کے احوال سے عبرت حاصل کرنے کا حكم ان آیات میں سرکش اقوام کی ہلاکت اور بربادی کا اور ایمان اور اعمال صالحہ والوں کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ صاہب معالم التنزیل فرماتے ہیں کے آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو دنیا میں بھوک اور قحط کا اور تلواروں سے مقتول ہونے کا اور دوسری مصیبتوں کا عذاب دیا اور آخرت میں ان سے سخت حساب لیں گے، ان لوگوں نے سرکشی کی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے منہ موڑا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ لہٰذا دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوئے اور عذاب بھی منکر تھا بہت سخت اور برا تھا اور رسوا کن تھا پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

تنبیہ وتحذیر برنافرمانی رب العالمین ودرس عبرت بہ بیان ہلاکت قریہائے مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من قریۃ عتت ..... الی ...... بکل شیء علما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاشرت اور معاملات کے احکام ذکر فرمائے جارہے تھے جن میں عدل و انصاف کا حکم تھا اور عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیاد خوف خدا ہے اس وجہ سے درمیان میں تین بار (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ ذکر فرمایا گیا کہ اللہ کا تقوی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اللہ کے تقوی سے دشواریاں آسانیوں سے بدل جاتی ہیں، اور اللہ کے تقوی سے انسان اپنی برائیوں سے پاک ہو کر مستحق اجر عظیم ہوتا ہے تو اب ان آیات میں میں اللہ کی نافرمانی پر وعید اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12 ۔ ” ومن یومن باللہ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں ہر اعلی مشروب کی ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان میں رہیں گے وہاں انہیں جو رزق ملے گا وہ بھی نہایت عمدہ، لذیذ اور اعلی درجہ کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ نے عورتوں کے نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ سے متعلق عائلی قوانین بتائے اور ان کی پابندی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرو ورنہ تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اب اللہ نے بطور عبرت یاد دلایا کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح نیست ونابود کیا۔ نافرمان قوموں کی تباہی : ارشا د ہوتا ہے وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا و رسلہ ، بہت سی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے تجاوز کیا ، اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے بھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فحاسبنھا حسابا شدیداً پس ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا وعذبنھا عذاباً نکرا اور ان کو سخت سزا میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللہِ مُبَـيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝ 0 ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللہِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ 0 ۭ قَدْ اَحْسَنَ اللہُ لَہٗ رِزْقًا۝ 11 رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–11

ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔ تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

اَعَدَّاللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا لا فَاتَّـقُواللّٰہَ یٰٓـاُوْلِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قف ط قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا۔ رَّسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتِ لِّـیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدًا ط قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَـہٗ رِزْقًا۔ (الطلاق : 10، 11) (اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو، جو ایمان لائے ہو،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس ذکر کا اس سے پہلے بیان ہوا ہے وہ ذکر ” اللہ “ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمایا جن میں آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں۔ الرّسول کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے احکام لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں ﷺ پر اپنا ذکر یعنی آخری کتاب نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں سورة الجمعہ کی ابتدا میں ارشادہوا کہ اسی نے اَن پڑھ قوم میں انہی میں سے ایک رسول منتخب کیا جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتے ہوئے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے الرّسول کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ سورت ابراہیم کی پہلی آیت میں فرمایا کہ اس کتاب کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11 : رَّسُوْلًا (ایک عظیم الشان رسول ) نمبر 1۔ رسولا منصوب ہے۔ فعل اس کا محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ارسل رسولاً یا یہ ذکراً سے بدل ہے۔ گویا کہ وہ رسول اپنی ذات کے اعتبار سے نصیحت ہے۔ نمبر 3۔ مضاف محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے قد انزل اللّٰہ ذکرارسولاً اور ذکر سے مراد شرف و عظمت ہوگی جیسا اس آیت میں ہے۔ وانہ لذکر لک ولقومک ] الزخرف : 44[ معنی یہ ہوا اے ذا شرف و مجد عند اللہ۔ الرسولؔ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ، نمبر 2، محمد (علیہ السلام) ۔ یَّتْلُوْا (وہ رسول پڑھتا ہے) نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ عزوجل عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ (تم پر اللہ تعالیٰ کی واضح آیات تاکہ وہ نکالے) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” اعداللہ لھم عذابا شدیدا فاتقوا اللہ یا اولی الالباب الذین امنوا قدانزل اللہ الیکم ذکرا “ یعنی قرآن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے پس کچھلوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ (وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا) اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے۔ یعنی واجبات ومستحبات پر عمل کرے۔ (يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–12

قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔ قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 36] بعثت رسول کے ایک مقصد عظیم کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے مبعوث فرما دیا تمہارے لیے ایک ایسا عظیم الشان رول جو تم لوگوں کو پڑھ کر سناتا ہے ایسی عظیم الشان آیتیں جو کھول کر یان کرنے والی ہیں حق اور حقیقت کو، حلال اور حرام کو، جائز اور ناجائز کو، صحیح اور غلط کو، پس جو حجرات اس کا ترجمہ واضح یا کھلی آیتیں کرتے ہیں وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا کہ یہ ترجمہ تو دراصل بینات کا ہے نہ کی مبینت کا جو کہ یہاں مذکور ہے بہر کیف یہ اشارہ فرمایا گیا کہ اللہ نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان ذکر بھی اتارا ہے ایسا عظیم الشان جو کہ تمہارے لیے دراین کی سعادت سے بہرہ مندی و سرفرازی کا کفیل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات) اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–12

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ مغربی معاشرہ۔ پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–11

ف 1 ذکر سے مراد قرآن ہے اور اگر ذاکر کے معنی میں لیا جائے تو اس سے مراد خود آنحضرت بھی ہوسکتے ہیں۔2 یعنی جنت میں انہیں فراخ روزی دی جو نہ کبھی فنا ہوگی اور نہ کم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(65:11) یتلوا علیکم : یتلوا مضارع واحد مذکر غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر وہ تلاوت کرتا ہے وہ پڑھتا ہے۔ یہ رسولا کی صفت ہے ای الذی یتلوا علیکم۔ ایت اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یتلوا کا۔ موصوف ہے اس کی صفت مبینت ہے (اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث) تفصیل کرنے والیاں، بہت زیادہ روشن یہ صفت ہے ایت کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اپنا پیغمبر بھی بھیجا ۔ جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ لیخرج۔ لام علت کا۔ یخرج : مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) صیغہ واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر۔ تاکہ وہ نکال لے آئے۔ یخرج کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور رسول بھی۔ الذین امنوا۔ صلہ و موصول مل کر یخرج کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–12

لغات القرآن۔ کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب اللہ نے ان قوموں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا انجام۔ (ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

زندہ قرآن 1: قرآن حکیم نے متعدد مقامات میں منصب نبوت کی تصریح کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے ۔ کہ پیغمبر کی اجازت عقیدت مندوں کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے ۔ اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی نجات ہے ۔ مگر ایک برخود غلط گروہ کا یہ عقیدہ ہے ۔ کہ قرآن کے سوا اور کوئی شخصیت مطاع نہیں ہے ۔ اور رسول ﷺ کی حیثیت محض یہ ہے ۔ کہ وہ پیغام کو ہم تک پہنچا دیتا ہے ۔ اب یہ ہمارا کام ہے ۔ کہ ہم اسکو لغت اور ادب کی روشنی میں سمجھیں ۔ رسول ﷺ یا تو کچھ تفصیلات بیان ہی نہیں کرتا ۔ اور یا اس کی بیان کردہ تفصیلات ہمارے لئے مستند نہیں ہیں ۔ اس آیت نے اس مغالطہ کو دور کردیا ہے ۔ اور بالکل واضح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) وہ ایسا رسول ہے جو تم پر اللہ تعالیٰ کی وہ آیتیں تلاوت کرتا ہے اور تم کو وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے جو احکام الٰہی کو واضح کرنے والی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے گا اور نیک اعمال کا پابند رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کو اچھی روزی عطا کی اور خوب دی اللہ نے ان کو روزی۔ آیت کا ترجمہ کئی طرح سے کیا گیا ہے ہم نے ایک طریقہ اختیار کرلیا ہے ذکر کو رسول سے بدل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

ف 6۔ مطلب یہ کہ جو نصیحت اس رسول کے ذریعے سے پہنچے اس پر عمل کرنا بھی اطاعت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ایمان والے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں 10 ؎ ان لوگوں کی صرف دنیا ہی خراب نہ ہوئی بلکہ انہوں نے اپنی آخرت بھی برباد کرلی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے اس کے شدید ہونے کی اطلاع وہ خود دے رہا ہے پھر جس کو اللہ تعالیٰ نے شدید فرمایا اس کی سختی کا کون اندازہ کرسکتا ہے تا ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کا اندازہ کرو کہ وہ بندوں کو بار بار ڈراتا ہے کہ جب تک زندگی ہے یہ آس بھی موجود ہے کہ نہ معلوم کسوقت ہی ان کی سمجھ سیدھی ہوجائے اور عقل ان کی رہنمائی کر دے اور وہ راہ راست پر آجائیں اور سچے دل سے ایمان لا کر اپنے کیے ہوئے گناہوں پر پھر والیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرً‌ا رَّ‌سُولًا (Allah has sent down to you a Reminder, a messenger...65:10-11). The verb arsala 'sent' needs to be understood preceding the object rasulan 'a messenger' which appears at the commencement of verse [ 11]. The simplest way in which these verses can be interpreted is to translate them thus: 'Allah has sent down to you a Reminder, (the Qur'an and He has also sent to you) a messenger...65:11) Other commentators have preferred other interpretations. For instance some say that the word dhikr ('Reminder' ) refers to the Holy Prophet ﷺ himself, and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 Sane of the commentators opine that 'Admonition here implies the Quran and 'Messenger" the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) ; some others say that "Admonition" implies the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace(himself, because he was admonition for .the people through anti through. We are of the opinion that this second interpretation is more correct, for according to the first commentary the sentence would read 'We have sent down to you an Admonition and sent such a Messenger. " obviously, there is no need for such an interpolation in the Qur'anic…

Read the full tafseer →