65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 65:1–7

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جب تم لوگ (اپنی) عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت (طہر) کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارے پروردگار ہیں۔ نہ تو ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ کوئی صریح بےحیائی کا کام کریں (تو نکال دو ) ۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو درحقیقت اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (اے مخاطب ! ) تجھ کو کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد (رجعت کی) کوئی نئی بات پیدا فرمادیں

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں تو ان کو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو۔ اور اپنے میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلو اور (گواہی کی ضرورت پڑے تو) اللہ کے لئے درست گواہی دو ۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے لئے نجات کی صورت پیدا کردیتے ہیں

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتے ہیں جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہیں۔ بیشک اللہ اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہیں) پورا کردیتے ہیں۔ یقینا اللہ نے ہر چیز کا پورا اندازہ فرما رکھا ہے

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو ان (کی عدت) کے بارے شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو (ابھی) حیض نہیں آنے لگا (ان کی بھی) اور حمل والی عورتوں کی عدت بچہ جننے تک ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ (اللہ) اس کے کام میں سہولت پیدا فرمادیں گے

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا تو وہ اس سے اس کے گناہ دور فرمادیں گے اور اسے بہت بڑا صلہ عطا فرمائیں گے

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

(مطلقہ) عورتوں کو وہیں رکھو (ایام عدت میں) جہاں تم خود رہتے ہو جیسی (جگہ) تمہیں میسر ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کو خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچے کو تمہاری خاطر دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو اور (بچے کے معاملے میں) پسندیدہ طریقے سے موافقت کرو اور اگر تم باہم ضد کرو گے تو اس (بچے) کو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے گی

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

دولت مند کو اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو جتنا اس کو اللہ نے دیا ہے اس کے مطابق خرچ کرے۔ اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس نے ان کو دیا ہے۔ اللہ عنقریب تنگی کے بعدفراخی بھی بخشے گا

آیات 1 تا 7۔ اسرار ومعارف۔ اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی اور مسنون طریقے سے رجعت کرکے انہیں روک لو یاپھرنہایت مناسب انداز میں رخصت کردو اور اس معاملہ پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ کرلو کہ وہ محض اللہ کی رضا کے لیے گواہی دیں جن لوگوں کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے اور اللہ انہیں طلاق کے احکام پر پوری طرح عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور جن کے دل میں خوف خدا ہوگا اللہ ان کے لیے راستہ پیدا فرمادے گا اور اسے ایسے ذرائع سے رزق دے گا جس کی اسے امید بھی نہ ہوگی لہذا رزق کی تنگی کو جھگڑے کا باعث نہ بنایا جائے کہ نوبت طلاق تک جاپہنچے کہ اللہ جو کام چاہے وہ پورا ہوجاتا ہے اور اس نے ہر شے کے لیے مناسب اندازہ مقرر فرمادیا ہے۔ جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو بوجہ کم سنی یابڑھاپے کے ان کی عدت تین ماہ ہوگی اور اگر کوئی خاتون حاملہ ہو اور بوجہ حمل حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت وضح حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہوگی لہذا دوران عدت بھی حدود اور حقوق کا خاص خیال رکھاجائے اور جو بھی اللہ کی عظمت کا اقرار کرکے اس کی اطاعت میں کوشش کرے گا اللہ اس کے لیے کام آسان فرمادے گا۔ یہ سب وہ امور و احکام ہیں جو اللہ نے تم لوگوں کے لیے نازل فرمائے ہیں اور جو کوئی اللہ کی ناراضگی سے ڈر کر ان پر عمل کی کوشش کرے گا اللہ اس کی خطائیں معاف فرما کر اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ دوران عدت انہیں گھروں میں انہیں سہولتوں کے ساتھ رہنے دوجوخود تمہیں حاصل ہیں اور نہ انہیں ایذا دو اور نہ تنگ کرو کہ طعنہ زنی کرویاسہولتوں میں کمی کرو یہ درست نہیں اور اگر خاتون حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کے اخراجات برداشت کرو پھر اس کے بعد اگر وہ دودھ پلاناچا ہے تو اس کی اجرت باپ کو ادا کرنا ہوگی ہاں آپس میں حیثیت کے مطابق طے کرلو اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلاسکتی ہے تاکہ بندہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے ، امیر اپنے اندازے کے مطابق اور غریب اپنی حیثیت کے مطابق کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا حکم نہیں دیتے اور وہ قادر ہے تنگی کے بعد فراخی اور آسانی بھی دے سکتا ہے۔ نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت۔ اسلامی نقطہ نظر سے نکاح ایک عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور تمام مذاہب باطلہ میں بھی اسے مذہبی تقدس حاصل ہے اور چند رسوم ضرورادا کی جاتی ہیں مگر اسلام میں تو یہ ایک عبادت ہے کہ انسانی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے شہوانی جذبات کی تسکین کا ایک خوبصورت اور پاکیزہ طریقہ بھی ہے اور بقائے نسل کے عمرانی مسائل اور تربیت اولاد کے بارے نہایت اعلی نظام بھی ہے ا اس کو عمر بھر کا ساتھ اس انداز میں کہ معاشرے کو اچھے انسان بھی دیں کہ ایک دوسرے کا دکھ سکھ بھی بانٹیں اور اس پر آخرت کا بہترین اجر بھی مرتب ہو لیکن کبھی ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے کہ میاں بیوی کا آپس میں مل کر رہنا ممکن نہ رہے تو اس کے لیے طلاق کا قانون مرتب فرمایا اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ حلال کامون میں سے سب سے ناپسندیدہ کام اللہ کے نزدیک طلاق ہے اگر طلاق دینا ہی پڑے تو ان امور کا خیال کرے اور اللہ کے ڈر سے اور اسے دین سمجھ کر کرے جہلا ایک ہی با ر تین طلاق کہہ دیتے ہیں جس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اور واپسی کی صورت باقی نہیں رہتی سوائے اس کے کہ عدت کے بعد عورت دوسرا نکاح کرے پھر اس سے بیوہ ہو یا وہ مرضی سے طلاق دے دے تو پھر عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے جسے ، حلالہ ، کہا جاتا ہے لیکن یہ ایک بارگی تین طلاق کا عمل حرام ہے جس کا گناہ طلاق دینے والے پر ہے۔ اسی صورت کی ان آیات کے تحت مفتی محمد شفیع (رح) نے پندہ مسائل درج فرمائے ہیں ملاحظہ ہوں۔ مسئلہ۔ پہلاحکم : کہ عدت کا خیال کیا جائے۔ ایک طلاق دی جائے جو حیض سے پاک ہونے پر دے اور حیض سے فارغ ہونے اور طلاق دینے کے درمیان جماع نہ کرے تاکہ خاتون کو عدت گزارنے میں آسانی ہو اس طرح تین حیض گزرنے پر عدت پوری ہوجائے گی اگر کم سن یا عمر رسیدہ ہو کہ حیض نہ آتا توعدت تین ماہ شمار ہوگی اور خاوند کی وفات پر عدت وفات چار ماہ دس روز شمار ہوگی اگر خاتون حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہونے تک عدت ہوگی جیسے بچہ پیدا ہوگا عدت ختم ہوجائے گی۔ دوسراحکم : عدت کے ایام کو پورے اہتمام سے یادرکھاجائے۔ تیسراحکم : عدت کی مدت خاتون کو گھر میں رہنے کی اجازت اللہ کی طرف سے اس کا حق ہے یہ کوئی احسان نہیں خاوند بھی رہنے کی اجازت دے اور خاتون بھی ضرور گھر میں رہے کہ یہ شرعی حکم ہے۔ چوتھاحکم : کہ عورت بےحیابن کر خود نکل جائے یاجھگڑا اور بدزبانی وغیرہ کرتی ہو کہ رکھنامحال ہوجائے یابدکاری وغیرہ سے باز نہ آتی ہوتونکالاجاسکتا ہے۔ پانچواں حکم : کہ جب عدت پوری ہوجائے تو ممکن ہے تین طہر تک گھر میں رہنے سے کوئی صورت سمجھوتے کی نکل آئے تو جب بھی آپس میں صلح کرلیں رجعت ہوجائے گی لیکن اگر عدت پوری ہوگئی رجعت کا ارادہ نہیں ہے تو پھر اسے بخوشی جانے دے یعنی رجعت نہ کرے تواز خود طلاق ہوجائے گی اور کچھ تحفہ تحائف دے کر عزت دے رخصت کرے کم ازکم طلاق کسی دشمنی کا سبب نہ بنے نیز پھر کبھی جب چاہے آپس میں نکاح ہوسکتا ہے۔ بیک وقت تین طلاق۔ لیکن یہ یاد رہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے عورت حرام ہوجاتی ہے اور سوائے مذکورہ طریقہ حلالہ کے جو اکثر ممکن نہیں ہوتا واپسی کی کوئی صورت نہیں اس پر اجماع امت ہے سوائے کچھ اہل حدیث اور شیعہ کے کسی کو اس میں اختلاف نہیں۔ چھٹاحکم : روکناہویارخصت کرنا دونوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے احسن طریقہ اختیار کیا جائے۔ ساتواں حکم : کہ طلاق ہمیشہ ایسی دی جائے کہ واپسی کا حق یعنی حق رجعت باقی رہے۔ آٹھواں حکم : دو معتبر مسلمان گواہ کرلیے جائیں۔ نواں حکم : میعاد حیض ہے جو اوپر لکھی جاچکی ہے۔ دسواں حکم : ایام عدت میں پریشان نہ کیا جائے بلکہ عزت واحترام سے رہنے دیاجائے۔ گیارھواں حکم : ان کانان نفقہ ایام عدت میں شوہر پر واجب ہے خواہ طلاق دی ہو یا عورت نے طلاق کا مطالبہ کیا ہو جسے خلع کہتے ہیں کہ عدالت سے طلاق کا دعوی کرکے قاضی سے فیصلہ حاصل کرلے ۔ بارھواں حکم : مطلقہ کا بچہ پیدا ہو تو وہ دودھ پلانے کی اجرت کا حق رکھتی ہے کہ عدت میں تو نان نفقہ شوہر کے ذمہ ہے مگر اس کے بعد نہیں لہذا اگر بچے کو دودھ پلانے کی اجرت لے تو جائز ہے۔ تیرھواں حکم : کہ دودھ پلانے کی اجرت باہمی رضامندی سے شوہر کی حیثیت کے مطابق مقرر کی جائے ۔ چودھواں حکم : اگر معاملہ طے نہ ہوسکے یا عورت مرضی سے دودھ پلانے پر تیارنہ ہو تو پھر کسی دوسری عورت سے دودھ پلوایاجاسکتا ہے خواہ وجہ یہ ہو کہ دوسری عورت مفت یا کم معاوضہ پر پلانے پر تیار ہو لیکن بچے کو ماں سے الگ نہ کیا جائے گا وہ عورت ماں کے پاس رکھ کردودھ پلائے گی۔ پندرھواں حکم : کہ اجرت شوہر کی حیثیت کے مطابق مقرر کی جائے اگر شوہر امیر ہے تو اللہ کی رضا کے لیے اپنی حیثیت کے موافق خرچہ دے اگر غریب ہے تو عورت اللہ سے ڈر کر رعایت کا معاملہ کرے۔
Ayahs 65:8–12

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کا حکم ماننے سے انکار کیا تو ہم نے ان سے بڑا سخت حساب لیا اور ہم نے ان کو بڑی سخت سزا دی

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وہاں چکھا اور ان کا انجام نقصان ہی ہوا

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے ایک سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ تو اے سمجھ رکھنے والو ! جو کہ ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ نے تمہارے پاس نصیحت (کی کتاب) بھیجی ہے

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور اپنے) ایک ایسے پیغمبر (محمد ﷺ بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے اللہ کی واضح آیات پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا وہ اس کو باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بلا شبہ اللہ نے ان کو خوب رزق عطا فرمایا ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور ویسی ہی زمین اور ان سب میں (اللہ کے) احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز یہ قادر ہیں۔ اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم سے احاطہ میں لے رکھا ہے

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ مغربی معاشرہ۔ پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کر رکھے ہیں لہذا صاحب دانش کو عذاب الٰہی سے بچناچاہیے اور اللہ پر ایمان لاکر اس کی اطاعت کرنا چاہیے۔ سراپاذکر۔ اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اپنارسول مبعوث فرمایا جو تمہیں اس روشن کتاب کو صاف صاف سناتا ہے اور برکات نبوت سے تم اس کتاب پر عمل کرکے اور اللہ کو دل میں بسا کر سراپا ذکر بن سکتے ہو کہ مفسرین نے ذکرارسولا سے مراد خود رسول اللہ کو بھی لیا ہے کہ کثرت ذکر سے ان کا وجود باجود خود ذکر بن گیا۔ برکات ذکر کا معیار۔ برکات رسالت اور ذکر کا حاصل یہ ہے کہ بندہ مومن ظلمت سے نور کی طرف نکلے یعنی عقیدے اور عمل کی برائی مٹنے لگے اور اطاعت الٰہی کا نور نصیب ہونے لگے چناچہ برکات ذکر کا معیار یہی ہوگا کہ عملی زندگی میں مثبت تبدیلی آنے لگے اور یہ ہر آدمی کا اس کی اپنی استعداد کے مطابق ہوگا کوئی بہت جلدی اور کوئی آہستہ آہستہ مگر نیکی محبوب ہوتی جائے گی اور بدی سے نفرت ہونے لگے گی۔ اور جو بھی اللہ پر ایمان لاکر اس کی اطاعت اختیار کرے دنیا کی سرفرازی کے ساتھ آخرت میں جنت میں داخل ہوگاجہاں بہت خوبصورت نعمتیں نصیب ہوں گی۔ سات زمینیں۔ اللہ وہ قادر ہے جس نے ساتوں آسمان بنائے اور ایسی ہی سات زمینیں پیدا کرکے نعمتوں سے بھردیں وہ اس سے اعلی جنت اور اس کی نعمتیں بھی پیدا کرسکتا ہے پھر زمینوں پر اپنے احکام نازل فرمائے کہ تم حقیقت حال جان سکو بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیاسات زمینیں تہہ درتہہ ہیں یابراعظموں کو کہا گیا ہے علماء کی رائے مختلف ہے مگر حق یہ ہے کہ قرآن نے اس کو مبہم رکھا ہے لہذا اس بحث میں پڑنا درست نہیں اجمالی ایمان کافی ہے۔