65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsاحکام القرآن

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) انکو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

نبی کو خطاب دراصل امت کو خطاب ہے قول باری ہے (یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن، اے نبی ﷺ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں خطاب کی تخصیص حضور ﷺ کے ساتھ کی گئی ہے اس کے کئی وجوہ محتمل ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ مخاطبین کے اس علم پر اکتفا کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر جو حکم سنایا جارہا ہے اس کے مخاطب وہ بھی ہیں کیونکہ انہیں حضور ﷺ کی پیروی کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس قاعدے سے صرف وہی احکام مستثنیٰ ہیں جو حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں۔ آیت کی ابتداء حضور ﷺ کے ساتھ خطاب کی تخصیص سے ہوئی پھر خطاب کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیا گیا کیونکہ حضور ﷺ کو خطاب کے معنی مسلمانوں کی پوری جماعت کو خطاب کے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبارت اپنے مفہوم کے لحاظ سے کچھ اس طرح بنتی ہے۔ ” یا ایھا النبی قل لامتک اذا طلقتم النساء (اے نبی ﷺ ! اپنی امت سے کہہ دو کہ جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو الخ) تیسری وجہ یہ ہے کہ عادۃً جب سردار کو خطاب کیا جاتا ہے تو اس میں اس کے تمام پیروکار اور متبعین داخل ہوتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے (الی فرعون وملائہ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف) آیا دوران حیض طلاق واقع ہوسکتی ہے ؟ قول باری ہے (فطلقوھن لعدتھن تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی تھی، جب حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” ان سے کہو کہ رجوع کرکے بیوی کو اپنی زوجیت میں رکھیں۔ جب وہ حیض سے پاک ہوجائے اور اس کے ایک اور حیض گزر جائے اور طہر کا زمانہ آجائے تو ہم بستری کرنے سے پہلے علیحدگی اختیار کرلیں یا اسے بدستور اپنی بیوی بنائے رکھیں۔ کیونکہ یہی وہ عدت ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ “ نافع نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ روایت کی ہے ۔ ابن جریج نے ابوالزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ حضور ﷺ نے قرات کی تھی فطلقوھن فی قبل عدتھن (انہیں ان کی عدت کی ابتداء میں طلاق دو “ آپ نے فرمایا ” طہر کی حالت میں جس میں ہم بستری نہ ہوئی ہو “۔ ) وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابوطلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمن سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہ انہوں نے حیض کے دوران اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا جسے سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : ” انہیں کہو کہ رجوع کرلیں اور پھر طلاق دے دیں خواہ بیوی حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔ “ بعض طرق میں اس روایت کے یہ الفاظ ہیں : ” اسے حالت طہر طلاق دیں جس میں ہم بستری نہ ہوئی ہو یا حالت حمل میں طلاق دیں جبکہ حمل ظاہر ہوچکا ہو۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے قول باری (فطلقوھن لعدتھن) میں اللہ کی مراد کو واضح کردیا ہے کہ طلاق کا ماموربہ وقت یہ ہے کہ اسے حالت طہر میں طلاق دی جائے جس میں ہمبستری نہ ہوئی ہو یا حالت حمل میں طلاق دی جائے جبکہ حمل ظاہر ہوچکا ہو۔ حضور ﷺ نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ سنت طلاق کی ایک صورت اور بھی ہے وہ یہ کہ دو طلاقوں کے درمیان ایک حیض کا فاصلہ رکھا جائے چناچہ آپ نے فرمایا : بیوی سے رجوع کرلیں پھر اسے حیض سے پاک ہونے دیں پھر وہ ایک حیض گزار کر پاک ہوجائے پھر اگر چاہیں تو اسے طلاق دے دیں۔ “ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ایک ہی طہر میں دو طلاق دے دینا سنت طریقہ نہیں ہے ہمیں کسی اہل علم کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ اس نے طہر کے اندر ہمبستری کے بعد طلاق کی اباحت کی ہو۔ البتہ وکیع نے حسن بن صالح سے، انہوں نے بیان سے اور انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی کی حالت طہر میں طلاق دے دیتا ہے تو اس کی یہ طلاق سنت طلاق ہوگی خواہ اس نے اس کے ساتھ ہم بستری کیوں نہ کرلی ہو۔ شعبی کی یہ بات حضور ﷺ سے ثابت شدہ سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے تاہم شعبی سے ایسی روایت بھی ہے جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان کی مراد اس سے یہ ہے کہ عورت حاملہ ہو۔ یہ روایت یحییٰ بن آدم نے حسن بن صالح سے ، انہوں نے بیان سے اور انہوں نے شعبی سے کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حمل کے دوران طلاق دے دے تو اس کی یہ طلاق سنت طلاق ہوگی خواہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری کیوں نہ کرلی ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شعبی سے اصل روایت یہی تھی لیکن کسی راوی نے غفلت برتتے ہوئے حاملہ کے لفظ کا تذکرہ نہیں کیا۔ قول باری (فطلقوھن بعدتھن) ایک طلاق کو نیز تین طلاقوں کو شامل ہے جو طہر کے زمانوں میں متفرق صورت میں دی جائیں۔ کیونکہ حرف لام کا ادخال اسی مفہوم کا مقتضی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل، نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک) آیت ہر زوال آفتاب کے وقت نماز کے عمل کی تکرار کے حکم کو شامل ہے۔ اس لئے زیر بحث آیت کی دو باتوں پر دلالت ہورہی ہے۔ ایک تو یہ کہ تین طلاقوں کی اباحت ہے جو طہر کے زمانوں میں متفرق صورت میں دی جائیں۔ اس میں ان حضرات کے قول کا ابطال ہے جن کے نزدیک طہر کے زمانوں میں تین طلاق دینا سنت نہیں ہے۔ امام مالک ، اوزاعی، حسن بن صالح اور لیث بن سعد کا یہی مسلک ہے۔ دوسری بات جس پر آیت کی دلالت ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقوں کی ممانعت ہے۔ کیونکہ قول باری (لعدتھن) اس کا مقتضی ہے، ایک ہی طہر میں تینوں طلاقوں کا مقتضی نہیں ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (لدلوک الشمس) یہ قول باری ایک وقت کے اندر دو نمازوں کی ادائیگی کا مقتضی نہیں ہے بلکہ یہ اوقات کے اندر نماز کی ادائیگی کی تکرار کا مقتضی ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ طلاق سنت دینے کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو وقت کا پہلو ہے وہ یہ کہ حالت طہر میں طلاق دے جس کے اندر ہم بستری نہ ہوئی ہو یا حمل کی حالت میں طلاق دے جب کہ حمل ظاہر ہوچکا ہو۔ دوسرا پہلو طلاق کی تعداد کا ہے وہ یہ کہ ایک طہر میں ایک سے زائد طلاق نہ دے۔ وقت کی شرط اس شخص کے لئے ہے جو عدت میں طلاق دے رہا ہو کیونکہ جس عورت پر عدت واجب نہیں ہوتی مثلاً ایسی عورت جسے اس کے خاوند نے دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، اسے حیض کے دوران طلاق دینا مباح ہے۔ کیونکہ قول باری ہے (لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضۃ، تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے یا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مذکورہ بیویوں کو طہر اور حیض دونوں حالتوں کے اندر طلاق دینامباح کردیا ہے۔ ہم نے سورة بقرہ میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کو واضح کردیا ہے جن کے نزدیک ایک حیض میں تین طلاقوں کو جمع کردینا طلاق سنت کی ایک صورت ہے اور ان لوگوں کے قول کے بطلان کو بھی جو کہتے ہیں کہ طہر کے زمانوں میں تین طلاق متفرق کرکے دینا بھی ممنوع ہے۔ اگریہ کہا جائے کہ حاملہ عورت کو ہم بستری کے بعد طلاق دے دینا اگر جائز ہے تو غیر حاملہ عورت کو طہر کے اندر ہمبستری کے بعد طلاق دے دینا بھی جائز ہونا چاہیے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کسی مسئلے میں حدیث اور اتفاق سلف کے ہوتے ہوئے قیاس کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوتی تاہم اگر قیاس کی جہت سے دیکھا جائے تو دونوں صورتوں کے اندر واضح فرق معلوم ہوگا۔ وہ یہ کہ اگر عورت حیض سے پاک ہوجائے اور طہر کی حالت میں مرد اس کے ساتھ ہم بستری کرے تو اسے یہ علم نہیں ہوگا کہ اس ہم بستری کے نتیجے میں عورت کو حمل ٹھہر گیا ہے یا نہیں ۔ حمل ٹھہر جانے کی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اسے طلاق نہ دینا چاہتا ہو اور پھر طلاق دینے کی بنا پر اسے نادم ہونا پڑے۔ قول باری ہے (واحصوا العدۃ اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو) یعنی وہ عدت جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ فروء اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں) ۔ نیز (ما للانی یئسن من المحیض اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں) تاقول باری (والائی لم یحضن واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن وہ عورتیں جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عد ت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے) کے ذریعے واجب کردیا ہے۔ کیونکہ درج بالا آیات میں مطلقہ عورتوں کی عدتوں کا ذکر ہے جو ان پر آیات میں مذکورہ احوال کے تحت واجب ہوتی ہیں۔ اس طرح عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کئی مقاصد کے لئے ہوگا۔ ایک مقصد تو یہ ہے کہ اگر شوہر کا ارادہ رجوع اور بیوی کو رکھنے کا یا اسے رخصت کرکے علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو اس کی عدت کی مدد سے ایسا کرنا ممکن ہوگا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ جس حالت میں عورت کو طلاق ملی ہے اسے اسی حالت پر باقی رہنے دینے کے لئے عدت کا پورا پورا خیال رکھا جائے اور کوئی ایسی حالت پیدا ہونے نہ دی جائے جس کی بنا پر اس کی عدت کا اس حالت کی طرف منتقل ہوجانا واجب ہوجائے۔ تیسرا مقصد یہ ہے کہ عورت جب عدت گزر جانے کے بعد بائن ہوجائے تو مرد اس کی علیحدگی کی گواہی پیش کرکے اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح کرسکے جس کے ساتھ اس مطلقہ کی موجودگی میں نکاح جائز نہیں تھا۔ نیز یہ مقصد بھی ہے کہ عدت کے اختتام سے پہلے مطلقہ عورت کو اس کا شوہر اس کے گھر سے نکال نہ سکے۔ احکام القرآن پر کتابیں لکھنے والوں میں سے ایک صاحب کا خیال ہے کہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے کہ طلاق سنت کی تعداد ایک ہوتی ہے نیز امام کے نزدیک یہ بھی طلاق سنت کی ایک صورت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دینا چاہے تو ہر طہر میں ایک طلاق دے دے۔ اس طرح امام صاحب اور ان کے رفقاء کے نزدیک پہلی صورت بھی طلاق سنت ہے اور دوسری صورت بھی طلاق سنت ہی ہے۔ اب یہ بات کیسے جائز ہوسکتی ہے کہ ایک چیز اور اس کے برعکس دونوں سنت بن جائیں۔ اگر یہ بات جائز ہوتی تو حرام کا حلال ہوجانا بھی جائز ہوجاتا ۔ اگر امام ابوحنیفہ یہ کہہ دیتے کہ پہلی صورت سنت ہے اور دوسری صورت رخصت تو زیادہ مناسب بات ہوتی۔ “ ابوبکر حبصاص مصنف کے اس پورے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسے شخص کا کلام ہوسکتا ہے جسے عبادات کے اصول اور ان کے ورود کے جواز اور عدم جواز کی صورتوں کی معرفت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی اہل علم بھی درج بالا جیسی صورت کے ساتھ عبادت کے ورود کے جواز کی نفی نہیں کرتا کیونکہ یہ بات جائز ہے کہ طلاق کے سلسلے میں سنت طریقہ یہ ہوجائے کہ شوہر کو دو باتوں کے درمیان اختیار دے دیا جائے۔ ایک یہ کہ وہ بیوی کو طہر کی حالت میں ایک طلاق دے کر بس کرے اور دوسری یہ کہ حالت طہر میں ایک طلاق دینے کے بعد دوسرے طہر میں دوسری طلاق اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے دے۔ اور یہ دونوں صورتیں مندوب ومستحب قرار دی جائیں اور اسی کے ساتھ پہلی صورت دوسری صورت سے بہتر تسلیم کی جائے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (والقوا عد من النساء اللاتی لا یرجون نکاحا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن، اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں) پھر ارشاد ہوا (وان یستعففن خیرلھن، تاہم وہ بھی حیاداری برتیں تو ان کے حق میں اچھا ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قسم توڑنے والے کو تین باتوں کا اختیار دیا ہے وہ ان میں سے جو بات بھی کرلے گا اس کا فرض پورا ہوجائے گا۔ ابوبکر حبصاص کی نظروں میں مصنف کا یہ کہنا کہ ” اگر یہ بات جائز ہوتی تو حرام کا حلال ہوجانا بھی جائز ہوجاتا۔ “ سنن اور فروض میں تخیر کی نفی کا موجب ہے۔ نیز ایک چیز کا بیک وقت حلال اور حرام ہونا اپنی جگہ خود ممتنع ہے۔ مصنف کے اس قول کا بودا پن اور اس کی نامعقولیت اس قدر واضح ہے کہ اس کی تردید میں کوئی لمبی چوڑی بات کہنے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف حضرت ابن مسعود ؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے بعینہ ہمارے قول کی طرح قول مروی ہے۔ تکمیل عدت تک مطلقہ بیوی گھر سے نہ نکلے قول باری ہے (لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں) اس میں شوہر کو مطلقہ بیوی کو گھر سے نکالنے اور مطلقہ بیوی کو خود گھر سے نکلنے کی نہی ہے۔ اس میں مطلقہ کے لئے عدت کے اختتام تک سکونت مہیا کرنے کے وجوب پر دلیل موجود ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں کو اپنے جن گھروں سے نکلنے سے منع فرما دیا ہے یہ وہی گھر ہیں جن میں طلاق سے پہلے وہ سکونت پذیر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان ہی گھرورں میں سکونت پذیر رہنے دینے کا حکم فرمایا۔ آیت میں گھر کی نسبت مطلقہ عورت کی طرف سکونت کی بنا پر کی گئی ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (وقرن فی بیوتکن ، اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑی رہو) حالانکہ ازواج مطہرات کے یہ حجرے حضور ﷺ کے تھے۔ اسی آیت کی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ شوہر کے لئے اپنی مطلقہ بیوی کے ساتھ سفر اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس سے رجوع کرنے کی گواہی قائم نہ کرلے۔ ہمارے اصحاب نے عدت کے اندر مطلقہ کو سفر کرنے سے بھی روکا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ طلاق رجعی کی صورت میں شوہر پر مطلقہ کی سکونت اور نفقہ کے وجوب کے بارے میں اہل علم کے درمیان ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے نیز اس پر اتفاق ہے کہ اسے اس کے گھر سے نکال دینا بھی جائز نہیں ہے۔ قول باری ہے (الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ، الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں) حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ عدت کے اختتام سے پہلے اس کا گھر سے نکلنا صریح برائی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” الا یہ کہ وہ شوہر کے اہل خاندان سے بدزبانی پر اتر آئے۔ اگر وہ ایسا کرے تو ان کے لئے اسے گھر سے نکال دینا جائز ہوجائے گا۔ ضحاک کے قول کے مطابق شوہر کی نافرمانی صریح برائی ہے ۔ حسن اور زید بن اسلم کا قول ہے کہ وہ زنا کا ارتکاب کرلے اور پھر اس پر حد جاری کرنے کے لئے اسے باہر لے جایا جائے۔ قتادہ کا قول ہے کہ نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تو ایسی صورت میں اسے نکال دینا جائز ہوگا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لفظ کے اندر مذکورہ بالا تمام معانی کا احتمال موجود ہے اور یہ کہنا درست ہے کہ تمام معانی مراد ہیں۔ اس صورت میں اس کا گھر سے نکل جانا صریح برائی ہوگیا، اگر وہ زنا کی مرتکب ہوگی تو حد جاری کرنے کے لئے اسے باہر لے جایا جائے گا۔ اگر شوہر کے خاندان والوں کے ساتھ بدزبانی کرے گی تو اسے نکال دیا جائے گا۔ حضور ﷺ نے اس وقت فاطمہ بنت قیس کو شوہر کے گھر سے منتقل ہوجانے کا حکم دیا تھا جب انہوں نے اپنے خاوند کے رشتہ داروں کے ساتھ بدزبانی کی تھی۔ اگر شوہر کی نافرمانی اور اس سے سرکشی، بدزبانی اور بد خلقی کی صورت میں ہو جس کی وجہ سے اس کا وہاں رہنا مشکل ہوجائے تو آیت میں اس کا مراد ہونا جائز ہوگا لیکن اگر شوہر کی نافرمانی کی کوئی اور صورت ہو تو ایسا عذر تسلیم نہیں کیا جائے گا جس کی بنا پر اسے گھر سے نکال باہر کرنا جائز ہوجائے۔ ہم نے آیت میں مراد جن تاویلات کا ذکر کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ عذر کی بنا پر اس کا اس گھر سے منتقل ہوجانا جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اعذار کی بنا پر جن کا ہم نے ذکر کیا ہے مطلقہ کے گھر سے نکل جانے کی اباحت کردی ہے۔ قول باری ہے (ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ، اور جو کوئی اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خودظلم کرے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو سنت طریقے سے طلاق نہیں دے گا اس کی طلاق واقع ہوجائے گی لیکن اللہ کے حدود کو تجاوز کرنے کی بنا پر وہ اوپر خودظلم کرنے والا قرار پائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر طلاق عدت کے بعد کیا ہے۔ اس لئے اس نے یہ واضح کردیا کہ جو شخص غیر عدت کے لئے طلاق دے گا اس کی طلاق واقع ہوجائے گی اس لئے کہ اگر اس کی طلاق واقع نہ ہوتی تو وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا نہ کہلاتا۔ شوہر کا اپنے نفس پر ظلم کرنے کے باوجود اس کی دی ہوئی طلاق کا واقع ہوجانا آیت میں مراد یہ ہے۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے کہ جس کا ذکر مذکورہ بالا آیت کے فوراً بعد ہوا ہے (لا تدری لعلی اللہ یحدث بعد ذلک، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا کردے) یعنی اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ندامت کا احساس پیدا کردے لیکن یہ احساس اسے کوئی فائدہ نہ دے سکے کیونکہ وہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے چکا ہے۔ یہ بات امام شافعی کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کہ ایک کلمہ کے ذریعے تین طلاق دے دینا بھی سنت طریقہ ہے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین طلاق دینے پر نیز بعد میں طلاق ہونے والی ندامت کا اعتبار نہ کرنے پر اسے اپنے اوپر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے۔ حضور ﷺ نے بھی حضرت ابن عمر ؓ کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ جب انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دی تھی اور انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ حیض کے دوران دی ہوئی پہلی طلاق غلط تھی۔ آپ نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا تاکہ غلطی کے اسباب ختم ہوجائیں اور پھر وہ سنت طریقے سے اپنی بیوی کو نئے سرے سے طلاق دیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حیض کے دوران دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ہم نے سورة بقرہ میں کتاب وسنت کی جہت سے اس قول کے بطلان کو واضح کردیا ہے۔ اس کے بطلان پر یونس بن جبیر کی وہ گفتگو بھی دلالت کرتی ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ہوئی تھی۔ یونس نے ان سے حیض کے دوران طلاق دینے کا مسئلہ پوچھا تھا اور حضور ﷺ کے اس حکم کا بھی ذکر کیا تھا جو آپ نے انہیں حیض کے دوران اپنی بیوی کو طلاق دینے پر رجوع کرلینے کے سلسلے میں دیا تھا۔ جب یونس نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ پوچھا کہ آیا انہوں نے اس حیض کو عدت میں شمار کیا تھا ؟ تو انہوں نے جواب میں کہا تھا۔” منہ بند کرو تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ (یعنی میں) اتنا ہی عاجز اور بیوقوف تھا۔ “ اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جسے محمد بن بکر نے ہمیں بیان کیا ہے۔ انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن صالح نے، انہیں عبدالرزاق نے ، انہیں ابن جریج نے، انہیں ابوالزبیرنے کہ انہوں عروہ کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن ایمن کو حضرت ابن عمر ؓ سے ایک شخص کے متعلق مسئلہ پوچھتے ہوئے سنا تھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے اپنا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا۔ حضور ﷺ کے زمانے میں میں نے اپنی بیوی کو حیض کے دوران طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے جب اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے بیوی کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے کوئی بات قرار نہیں دی اور فرمایا کہ جب یہ حیض سے پاک ہوجائے تو پھر اسے طلاق دے دینا یا اپنے عقدزوجیت میں باقی رہنے دینا۔ آپ نے اس موقع پر آیت (یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن فی قبل عد نہن) کی تلاوت کی۔ مستدل کا خیال یہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے یہ بتایا ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی بیوی کو ان پر لوٹا دیا تھا اور اسے کوئی بات قرار نہیں دی تھی یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض نے جو کچھ کہا ہے وہ اس پر دلالت نہیں کرتا کہ آپ نے طلاق واقع ہوجانے کا حکم نہیں لگایا بلکہ طلاق واقع ہوجانے پر اس کی دلالت واضح ہے کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ کے قول ” آپ نے بیوی کو مجھ پر لوٹا دیا۔ “ سے رجوع مراد ہے اور آپ نے اسے کوئی بات قرار نہیں دی “ سے یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ نے بیوی کو ان سے بائن نہیں کیا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی اس روایت کو ان سے حضرت انس ؓ نے روایت کی ہے، حضرت انس ؓ سے ابن سیرین، سعید بن جبیر اور زیدبن اسلم نے روایت کی ہے اسی طرح منصور نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے اس کی روایت کی ہے ۔ سب کے الفاظ یہ ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت ابن عمر ؓ کو حکم دیا تھا کہ اپنی بیوی سے رجوع کرلیں حتیٰ کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے۔
Ayahs 65:2–3

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی معیار (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انکو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور گواہوں) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز اخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کیلئے (رنج وسخن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دیگا

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا خدا اس کو کفایت کرتے گا اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

قول باری ہے (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اوفار قوھن بمعروف ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجائو) اس سے مراد یہ ہے کہ جب عدت کے اختتام کا وقت قریب آجائے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ جب عدت کی مدت حقیقت میں گزر جائے کیونکہ عدت گزر جانے کی منزل پر پہنچ جانے کی صورت میں رجوع کرلینے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے مدخولہ بیوی کی طلاق کا ابتداء میں جو ذکر کیا ہے وہ رجوع کرلینے کے ذکر کے ساتھ مقرون ہے چناچہ ارشاد ہے (لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا) یعنی یہ کہ شوہر کی رائے بدل جائے اور بیوی کو زوجیت میں باقی رکھنے کا خیال دل میں آجائے جس کے نتیجے میں وہ عدت کے اندر اس سے رجوع کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر فرمایا (فامسکوھن بمعروف اوفارقوھن بمعروف) اور سورة بقرہ میں فرمایا (فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف) انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے انہیں رخصت کردو۔ رجوع کرنے یا علیحدگی اختیار کرنے پر گواہی قائم کرنا قول باری ہے (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اوفار قوھن بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم، جب وہ اپنی عدت کی مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہوجائو اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں) شوہر چاہے رجوع کرے یاعلیحدگی اختیار کرے دونوں باتوں پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمران بن حصین ؓ ، طائوس، ابراہیم اور ابو قلابہ سے مروی ہے کہ شوہر اگر رجوع کرلے اور گواہی قائم نہ کرے تو رجوع کرنے کا عمل درست ہوگا اور بعد میں گواہی قائم کرلے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کو رجوع کرلینے یا علیحدگی اختیار کرلینے کا حکم دیا اور اس کے فوراً بعد گواہی قائم کرنے کا ذکر کیا تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ رجوع کرلینے کی صورت میں اس کا رجوع درست ہوگا اور اس کے بعد گواہی قائم کرلینا درست ہوگا کیونکہ اللہ نے گواہی قائم کرنے کو رجوع کرنے کے عمل میں شرط قرار نہیں دیا۔ فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آیت میں مذکور فراق سے مراد یہ ہے کہ شوہر اس سے علیحدہ رہے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے نیز یہ کہ گواہی قائم نہ کرنے کے باوجود علیحدگی درست ہوجاتی ہے اور شوہر اس بات پر بعد میں گواہی قائم کرلے گا۔ علیحدگی کے ذکر کے بعد گواہی قائم کرنے کا ذکر ہوا ہے لیکن اس کے باوجود گواہی قائم کرنا علیحدگی کی صحت کے لئے شرط قرار نہیں دیا گیا ہے اس لئے رجوع کرنے کے عمل میں گواہی قائم کرنے کا مفہوم بھی یہی ہوگا۔ نیز علیحدگی اختیار کرنا شوہر کا حق ہوتا ہے اور یہ گواہی قائم کیے بغیر جائز ہے کیونکہ اس میں کسی اور کی رضامندی حاصل کرنے کی اسے ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح رجوع کرنا بھی شوہر کا حق ہے اس لئے ضروری ہے کہ گواہی کے بغیر بھی یہ جائز ہوجائے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے شوہر اور اس کی مطلقہ بیوی سے تہمت کی نفی کرنے اور احتیاطی تدبیر کے طور پر امساک یا فرقت پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جب طلاق کا علم ہو اور رجوع کرلینے کا علم نہ ہو یا طلاق اور فراق دونوں کا علم نہ ہو تو اس صورت میں خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں دونوں ایک دوسرے کو جھٹلا نہ بیٹھیں۔ احتیاط کا مفہوم صرف رجوع کرلینے یا علیحدگی کرنے کی حالت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس حالت کے بعد بھی اگر گواہی قائم کردی جائے تو یہ احتیاط باقی رہتی ہے۔ اس لئے رجوع کرلینے کے گھنٹے دو گھنٹے کے بعد اگر گواہی قائم کردی جائے تو ضروری ہے کہ اس گواہی اور ماقبل کی گواہی کے حکم کے درمیان کوئی فرق نہ رکھاجائے۔ گواہوں کے بغیر رجوع کرلینے کی صورت میں اس کے درست ہونے کے متعلق ہمیں اہل علم کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں۔ البتہ سفیان نے ابن جریج سے اور انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” طلاق، نکاح اور رجوع گواہی کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔ “ عطاء کا یہ قول اس امر پر محمول ہے کہ گواہی قائم کرنے کا حکم اس احتیاط کے پیش نظر دیا گیا ہے کہ بعد میں طرفین ایک دوسرے کو جھٹلا نہ سکیں۔ یہ مراد نہیں ہے کہ گواہوں کے بغیر رجوع کا عمل درست نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ عطاء نے اپنے قول میں طلاق کا بھی ذکر کیا ہے جب کہ کسی کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ گواہوں کے بغیرطلاق واقع ہوجاتی ہے۔ شعبہ نے معطر الوراق سے اور انہوں نے عطاء اور حکم سیروایت کی ہے کہ اگر شوہرعدت کے اندر بیوی کو آغوش میں لے لے یعنی ہم بستری کرلے تو اس کا یہ عمل رجوع کرنے کا عمل قرار پائے گا۔ قول باری ہے (واقیموا الشھادۃ للہ، اور اے گواہ بننے والو ! ) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو، آیت میں حکام کے سامنے تمام حقوق کے بارے میں گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ اس مقام پر شہادت کا لفظ اسم جنس کے معنی ادا کررہا ہے۔ اگرچہ اس کا ذکر رجوع کرنے کے عمل پر دو عادل آدمیوں کی گواہی قائم کرنے کے حکم کے بعد ہوا ہے لیکن یہ بات لفظ کو اس کے عموم میں استعمال کرنے سے مانع نہیں ہے۔ اس طرح یہ قول باری دو باتوں پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور دوسری یہ کہ گواہی قائم کرنا اللہ تعالیٰ کے حق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، آیت کے آخری حصے کے ذریعے اس کی تاکید اور اس پر عمل پیرا رہنے کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (انکی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (انکی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کام میں سہولت کر دے گا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں اور خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا۔

آیسہ اور صغیرہ کی عدت کا بیان قول باری ہے (واللائی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھرو ا للائی لم یحضن اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ اس میں جن عورتوں کا ذکر ہے ان کے لئے شک کے بغیر ایاس ثابت کردیا جائے اور قول باری (ان ارتبتم) سے ایاس کے متعلق شک مراد لینا درست نہیں ہے کیونکہ جن عورتوں کا ایاس ثابت ہوگیا ہے ان کا حکم آیت کی ابتداء میں اللہ نے ثابت کردیا ہے۔ اس سے یہ واجب ہوگیا کہ شک کا تعلق ایاس کے سوا کسی اور بات کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔ آیت میں مذکور شک کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔ مطرف نے عمرو بن سالم سے روایت کی ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں نابالغ لڑکیوں ، بوڑھی عورتوں نیز حاملہ عورتوں کی عدت کا ذکر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (واللائی یئسن من المحیض من نسآء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلاثۃ اشھر واللائی لم یئسن و اولا ت الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن) ۔ اس حدیث میں یہ ذکر ہوا کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ لوگوں کو نابالغ لڑکیوں، بوڑھی عورتوں نیز حاملہ عورتوں کی عدت کے متعلق شک تھا۔ آیت میں شک کا ذکر دراصل اس سبب کے ذکر دراصل اس سبب کے ذکر کے درجے پر ہوا ہے جس کی بنا پر حکم کا نزول ہوا۔ اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوگا ” اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر کوئی شک لاحق ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ان کی عدت تین مہینے ہے۔ “ جس عورت کا حیض بند ہوجائے اس کے حکم کے متعلق سلف اور ان کے بعد آنے والے فقہاء امصار کی آرا میں اختلاف ہے۔ ابن المسیب نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا ” جس عورت کو طلاق ہوجائے پھر اسے ایک یا دو حیض آجائیں اور پھر حیض بند ہوجائے تو نو ماہ تک حیض آنے کا انتظار کیا جائے گا۔ اگر اس دوران حمل ظاہر ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ نو ماہ کے بعد تین ماہ اور گزارے گی اور پھر عدت سے فارغ ہوگی۔ “ حضرت ابن عباس ؓ سے اس عورت کے متعلق جس کا حیض ایک سال تک بند رہے منقول ہے کہ ” اسی کو شک کہتے ہیں۔ “ معمر نے قتادہ سے، اور انہوں نے عکرمہ سے اس عورت کے متعلق نقل کیا ہے جسے سال میں ایک مرتبہ حیض آتا ہو کہ ” اسی کو شک کہتے ہیں اس کی عدت تین ماہ ہوگی۔ “ سفیان نے عمرو سے اور انہوں نے طائوس سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ اور حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ ایسی عورت تین حیض گزارے گی۔ امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت کی ہے کہ ان کے دادا احبان کے عقد میں دو عورتیں تھیں، ایک ہاشمیہ تھی اور دوسری انصاریہ۔ انہوں نے انصاریہ کو اس وقت طلاق دی جب وہ بچے کو دودھ پلارہی تھی۔ ایک سال گزرنے کے بعد حبان کی وفات ہوگئی اور مطلقہ کو حیض نہیں آیا۔ وہ کہنے لگی کہ میں ان کی وارث بنوں گی مجھے حیض نہیں آیا ہے۔ جھگڑا امیر المومنین حضرت عثمان ؓ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ۔ اس فیصلے پر ہاشمیہ نے حضرت عثمان ؓ سے اپنے غصے کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا ” یہ تمہارے چچا زاد بھائی (حضرت علی) کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے ہی ہمیں یہ مشورہ دیا تھا۔ ابن وہب نے روایت کی ہے کہ یونس نے ابن شہاب زہری سے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ اس روایت میں ابن شہاب نے کہا تھا کہ انصاریہ کو نو ماہ تک حیض نہیں آیا، پھر انہوں نے حبان کی وفات اور وراثت کے جھگڑے کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ حضرت عثمان ؓ نے اس جھگڑے کے بارے میں حضرت علی ؓ اور حضرت زید ؓ سے مشورہ کیا۔ دونوں نے یہی مشورہ دیا کہ مطلقہ وارث ہوگی۔ کیونکہ وہ نہ تو ان عورتوں میں سے ہے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اور نہ ان کنواری لڑکیوں میں سے جنہیں ابھی تک حیض نہیں آیا۔ اسے تو حبان کے پاس تین حیض گزارنے تک رہنا ہوتا خواہ اس کی مدت کم ہوتی یا زیادہ ۔ ان دونوں حضرات کے اس قول سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ قول باری ، عورت کے بارے میں شک پر محمول نہیں ہے بلکہ عورتوں کی عدت کے حکم کے متعلق شک کرنے والوں کے شک پر محمول ہے۔ نیز یہ کہ ایک عورت اس وقت تک آیسہ نہیں ہوتی جب تک وہ ان عورتوں میں سے نہ ہو جو جوانی سے گزری بیٹھی ہوں اور ان کے حیض آنے کی امید ختم ہوچکی ہو۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ اس بارے میں فقہاء امصار کے مابین بھی اختلاف رائے ہے۔ جس عورت کا حیض بند ہوجائے اور اس کی وجہ یہ نہ ہو کہ نئے سرے سے حیض آنے کے متعلق مایوسی ہو۔ اس کے متعلق ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اس کی عدت کا حساب حیض کے ذریعے ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ اس عمر کو پہنچ جائے جس میں اس کے خاندان کی عورتوں کو حیض نہیں آتا۔ اس صورت میں وہ حیض سے مایوس عورت جیسی عدت گزارے گی یعنی نئے سرے سے عدت کے تین ماہ اور گزارے گی۔ سفیان ثوری، لیث بن سعد اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ ایسی عورت پہلے نو ماہ تک انتظار کرے گی اگر اس دوران اسے حیض نہ آئے تو پھر تین ماہ کی عدت گزارے گی۔ اگر تین ماہ مکمل کرلینے سے پہلے حیض آجائے تو عدت کا حساب حیض کے ذریعے کرے گی۔ البتہ اگر اس پر نو ماہ گزر جائیں اور اسے حیض نہ آئے تو اس صورت میں وہ اگلے تین ماہ کی عدت گزارے گی جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے۔ ابن القاسم نے امام مالک کی طرف سے بیان کیا ہے کہ مطلقہ عورت کو اگر حیض آجائے اور پھر اسے شک ہوجائے یعنی اس کا حیض بند ہوجائے تو ایسی صورت میں حیض بند ہونے کے دن سے ، نہ کہ طلاق واقع ہونے کے دن سے، نو ماہ کی عدت گزارے گی۔ امام مالک نے قول باری (ان ارتبتم) کے معنی یہ یہاں کیے ہیں کہ ” اگر تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اس عورت کے معاملہ میں تمہیں کیا کرنا چاہیے۔ “ اوزاعی کا قول ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی جوان بیوی کو طلاق دے دے پھر اس کا حیض بند ہوجائے اور تین ماہ تک اسے کوئی حیض نہ آئے تو وہ ایک سال کی عدت گزارے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے آیسہ کی عدت تین ماہ مقرر کی ہے۔ ظاہر لفظ اس امر کا مقتضی ہے کہ یہ عدت ان عورتوں کے لئے ہو جنہیں حیض سے مایوسی ہوچکی ہو اور اس میں شک وشبہ نہ ہو۔ جس طرح قول باری (واللانی لم یحضن) اس لڑکی کے لئے ہے جس کے متعلق یہ ثابت ہو کہ اسے حیض نہیں آیا اور جس طرح قول باری (واولات الاحمال اجلھن) اس عورت کے لئے ہے جس کا حمل ثابت ہوچکا ہو ، اسی طرح قول باری (واللائی یئسن) اس عورت کے لئے ہے جس کا ایاس ثابت اور متعین ہوچکا ہو، اس عورت کے لئے نہیں جس کے ایاس کے بارے میں شک و شبہ ہو۔ قول بایر (ان ارتبتم) کو تین باتوں میں سے ایک پر محمول کیا جاسکتا ہے یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ شک اس بارے میں ہو کہ آیا وہ آیسہ ہے یا آیسہ نہیں ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو۔ یا آیسہ اور صغیرہ (نا بالغ لڑکی) کی عدت کے بارے میں مخاطبین کا شک مراد ہے۔ آیت کو پہلی صورت پر محمول کرنا اس بنا پر درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عورت کی عدت مہینوں کے حساب سے مقرر کردی اسے آیسہ ثابت کردیا ہے۔ اب ایسی عورت جس کے ایاس کے متعلق شک ہو وہ آیسہ نہیں ہوسکتی کیونکہ رجاء یعنی امید کے ساتھ ایاس کا اجتماع محال ہے اس لئے کہ یہ دونوں اضداد میں سے ہیں۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ حیض سے مایوس عورت کے بارے میں حیض آنے کی امیدرکھی جائے۔ اس لئے آیت سے ایاس کے بارے میں شک کے معنی لینا غلط ہے۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھیے۔ سب کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بڑی عمر کی وہ عورت آیت میں مراد ہے جس کی حیض سے مایوسی یقینی امر ہوتی ہے۔ آیت میں مذکور شک تمام مخاطبین کی طرف راجع ہے، اور مذکورہ بالا عورت کے سلسلے میں شک سے مراد اس کی عدت کے بارے میں مخاطبین کا شک ہے اس لئے جس عورت کے ایاس کے متعلق شک ہو اس کے سلسلے میں بھی عدت کے بارے میں شک مراد لینا واجب ہے کیونکہ لفظ کا عموم سب کے بارے میں ہے۔ نیز اگر عورت جوان ہو اور اسے سال میں ایک مرتبہ حیض آنے کی عادت ہو تو ایسی عورت کو اپنے ایاس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوتابل کہ اس کا حیض والی عورت ہونا یقینی امر ہوتا ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ اس کی عدت کی مدت ایک سال ہو جبکہ یہ معلوم ہو کہ وہ آیسہ نہیں ہے بلکہ حیض والی عورت ہے۔ دو حیضوں کے درمیان مدت کی طوالت اسے حیض والی عورتوں کے دائرے سے خارج نہیں کرتی۔ اس لئے جو شخص ایسی عورت پر مہینوں کے حساب سے عدت واجب کرتا ہے وہ دراصل کتاب اللہ کی مخالفت کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حیض والی عورتوں کی عدت حیض کے حساب سے مقرر کی ہے چناچہ ارشاد ہے (والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروم اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء یعنی حیض تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں گی) آیت میں یہ فرق نہیں رکھا گیا ہے کہ کسی عورت کی حیض کی مدت طویل ہوتی ہے اور کسی کی قصیر۔ یہاں یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ شک سے مراد حمل سے مایوسی کے بارے میں شک ہے اس لئے کہ حیض سے مایوسی دراصل حمل سے مایوسی کی صورت ہوتی ہے۔ ہم نے دلائل سے ان لوگوں کے قول کا بطلان بھی ثابت کردیا ہے جن کے نزدیک آیت میں مذکور شک حیض کی طرف راجع ہے۔ اس لئے اب تیسری صورت ہی باقی رہ گئی یعنی قول باری (ان ارتبتم) سے آیسہ اور صغیرہ کی عدت کے بارے میں مخاطبین کا شک مراد ہے۔ جیسا کہ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ انہیں آیسہ اور صغیرہ کی عدت کے بارے میں شک ہوا تھا اور پھر انہوں نے حضور ﷺ سے اس بارے میں استفسار کیا تھا۔ نیز اگر ایاس کے بارے میں شک مراد ہوتا تو اس میں آیت کا خطاب مردوں کو ہونے کی بجائے عورتوں کی طرف ہونا اولیٰ ہوتا کیونکہ حیض کے بارے میں معلومات کا حصول عورت کی جہت سے ہوتا ہے۔ اسی بنا پر حیض کے بارے میں عورت کے بیان کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس صورت میں آیت میں (ان ارتبتم ) کی بجائے ” ان ارتبتن یا ان ارتبن “ (اگر تم عورتوں کو شک ہو یا ان عورتوں کو شک ہو) کے الفاظ ہوتے۔ لیکن جب شک کے بارے میں خطاب کا خ عورتوں کی بجائے مردوں کی طرف ہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس سے عدت کے بارے میں مخاطبین کا شک مراد ہے۔ قول باری (واللائی لم یحضن) سے مرادیہ ہے کہ جن عورتوں کو ابھی تک حیض نہیں آیا ان کی عدت کی مدت تین ماہ ہے۔ کیونکہ یہ فقرہ ایسا کلام ہے جسے مستقل بالذات قرار نہیں دیا جاسکتا اس لئے اس کے ساتھ پوشیدہ لفظ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور یہ پوشیدہ لفظ وہ ہے جس کا ذکر ظاہر لفظ میں گزر چکا ہے یعنی (فعدتھن ثلثۃ اشھر) دوسرے الفاظ میں ان عورتوں کی عدت کا حساب مہینوں کے ذریعے ہوگا۔ حاملہ عورت کی عدت کا بیان قول باری ہے (واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن، اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ سلف کے مابین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ طلاق یافتہ حاملہ عورت کی عدت کی حد یہ ہے کہ اس کا وضع حمل ہوجائے۔ البتہ ایسی حاملہ عورت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو اس کی عدت کی مدت کے بارے میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ دونوں مدتوں میں سے جو زیادہ طویل ہوگی وہ اس کی عدت کی مدت ہوگی۔ ایک مدت تو وضع حمل ہے اور دوسری مدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابو مسعود ؓ البدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ اس کی مدت کی حد وضع حمل ہے۔ جب وضع حمل ہوجائے گا تو اس کے لئے کسی سے نکاح کرلینا جائز ہوگا۔ فقہاء امصار کا بھی یہی وقل ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ابراہیم نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا ” جو شخص چاہے میں اس کے ساتھ اس امر پر مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ قول باری (واولات الاحمال اجلھن ان یعضعن حملھن) کا نزول اس آیت کے بعد ہوا ہے جس میں بیوہ ہوجانے والی عورت کی عدت کی مدت بیان ہوئی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ کا یہ قول دو معنوں کو متضمن ہے۔ ایک تو درج بالا آیت کے نزول کی تاریخ کا اثبات نیز یہ کہ اس کا نزول بیوہ ہوجانے والی عورت کے لئے عدت کے مہینوں کے ذکر کے بعد ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ درج بالا آیت اپنی ذات کے لحاظ سے اس حکم کو بیان کرنے میں خود کفیل ہے جو اس کے عموم کے اندر پایا جاتا ہے ، اور اسے ماقبل کی آیت کے ساتھ جس میں مطلقہ عورت کا ذکر ہے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بنا پر تمام طلاق یافتہ اور بیوہ ہوجانے والی عورتوں میں جبکہ وہ حاملہ ہوں عدت کے لئے وضع حمل کا اعتبار واجب ہوگا اور وضع حمل کے حکم کو صرف طلاق یافتہ عورتوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا کیونکہ اس میں دلالت کے بغیر عموم کی تخصیص لازم آئے گی۔ آیت زیر بحث میں بیوہ ہوجانے والی عورت جبکہ حاملہ ہو داخل اور مراد ہے اس پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ اگر اس کی بیوگی کی عدت کے مہینے گزر جائیں لیکن وضع حمل نہ ہوا ہو تو سب کے نزدیک اس کی عدت نہیں گزرے گی بلکہ وضع حمل تک یہ عدت میں رہے گی۔ اگر مہینوں کے اعتبار کا اس بنا پر جواز ہوتا کہ اس کا دوسری آیت میں ذکر ہے تو پھر طلاق یافتہ عورت کے سلسلے میں حمل کے ساتھ حیض کا بھی اعتبار کرنا جائز ہوتا کیونکہ قول باری (والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروا) میں اس کا ذکر ہے۔ اب جبکہ حمل کے ساتھ حیض کا اعتبار نہیں ہوتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حمل کے ساتھ مہینوں کا اعتبار بھی نہیں ہوگا۔ منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے ابوالسائل بن بعکک سے روایت کی ہے کہ سبیعہ ؓ بنت الحارث نے اپنے شوہر کی وفات کے تیئس دن بعد بچے کو جنم دیا اور نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوا تو آپ نے فرمایا (ان تعفل قد خلا اجلھا ، اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو کرسکتی ہے کیونکہ اس کی عدت کی مدت گزر گئی ہے) یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کریب کو حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج کر سبیعہ ؓ کے بارے میں دریافت کروایا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ شوہر کی وفات کے چند دنوں بعد سبیعہ ؓ کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا تھا اور حضور ﷺ نے انہیں نکاح کرلینے کی اجازت دے دی تھی۔ محمد بن اسحاق نے محمد بن ابراہیم التیمی، انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے سبیعہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ان کے ہاں اپنے شوہر کی وفات کے دو ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوگئی تھی اور حضور ﷺ نے انہیں نکاح کرلینے کی اجازت دے دی تھی۔ ہمارے اصحاب نے نابالغ لڑکے کی بیوی کی عدت وضع حمل ہی رکھی ہے جب اسے حمل ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے کیونکہ قول باری ہے (واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن) آیت میں بالغ اور نابالغ کی بیویوں کے درمیان نیز نسب کے ساتھ ملحق ہونے والے اور محلق نہ ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔