Ayah 65:1[ 1] خطاب پیغمبر (علیہ السلام) سے اور مراد امت۔ سو ارشاد میں نداء خطاب پیغمبر سے ہے علیہ الصلوھ والسلام لیکن اس سے اور مراد پوری امت ہے یعنی اس میں نداء کو تو پیغمبر کے ساتھ خاص فرمایا گیا ہے مگر خطاب عام امت سے ہے کیونکہ پیغمبر امت کے مقتداء و پیشوا اور ان کے وکیل ہیں سو آپ سے یہ خطاب تعظیم و تکریم کے طور پر اور اس اعتبار سے ہے کہ آپ اپنی امت کے وکیل ہیں ﷺ اور مراد اس سے پوری امت ہے کیونکہ جو احکام ارشاد فرمائے جارہے ہیں وہ تمام مسلمانوں اور پوری امت کے لیے ہیں اسی لے آگے صیغے جمع کے لائے گئے ہیں سو تقدیر عبارت یوں ہوگی، ایھا النبی قل للمومنین من امتک۔ یعنی اے پیغمبر آپ اپنی امت اہل ایمان سے کہیں کہ جب تم لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کو طلاق دیا کرو ان کی عدت کے لیے نیز چونکہ اس طرز خطاب میں خاص بلاغت ہے اس لیے اس کو اختیار فرمایا گیا (تفسیر روح المعانی، تفسیر قرطبی تفسیر ابن کثیر تفسیر جامع البیان اور خازن وغیرہ) سو اس طرز خطاب میں بلاغت کا یہ پہلو مضمر ہے کہ جب پیغمبر پر بھی ان احکام کی پیروی و پابندی لازم ہے تو پھر دوسروں پر یہ کہیں زیادہ شدت کے ساتھ لازم ہوگی اور جب پیغمبر ان کے لیے بھی اس سلسلہ میں کوئی استثناء نہیں تو پھر کسی اور کے لیے کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ کا ہر حکم وراشاد واجب الاتباع ہے۔
[ 2] طلاق کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان۔ سو پیغمبر کے واسطے سے امت کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو یعنی ایسے وقت میں طلاق دیا کرو جو کہ ان کی عدت میں محسوب ہوسکے اور وہ طہر کا وقت ہوتا ہے پس طلاق اس طہر میں جائے جس میں مجامعت نہ کی گئی ہو پس نہ تو عورت کو حالت حیض میں طلاق دی جائے کہ اس سے اس کی عدت خواہ مخواہ طویل ہوجائے گی کیونکہ حیض کے وہ دن طلاق میں محسوب نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کو ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں وطی کی گئی ہو کہ ایسی صورت میں مرد اور عورت میں سے کسی کو بھی یہ نہیں پتہ چل سکتا کہ اس مباشرت سے حمل قرار پا گیا ہے یا نہیں اور اس کی عدت حمل کی ہوگی یا حیض سے زمانہ جاہلیت میں یہ ہوتا تھا کہ جب کسی کو غصہ آجاتا تو وہ ایک ہی بار ایک ہی سانس میں اپنی بیوی کو تین ہی نہیں سینکڑوں اور ہزاروں طلاقیں دے ڈالتا اور ساتھ ہی اس کو گھر سے بھی نکال دیتا تو اسلام کی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے صنف نازک کو ان مظالم سے رہائی دلائی اور طلاق عدت وغیرہ سے متعلق یہ ایسی عظیم الشان بےمثال اور پاکیزہ ہدایات دی گئں۔ فالحمدللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔
[ 3] عدت کے اہتمام وشمار کا حکم وارشاد۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور تم لوگ شمار رکھا کرو عدت کا۔ تاکہ اس کی ابتداء وانتہاء سے آگہی رہے تاکہ نہ عدت کے خاتمے سے قبل نکاح کا خدشہ و احتمال رہے اور نہ عورت پر عدت پر عدت ضرورت سے زیادہ لمبی ہونے پائے سو طلاق اور عدت کا معاملہ بڑا اہم معاملہ ہے اس سے زوجین اور ان کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے اہم بنیادی مسائل وابستہ ہیں لہذا اس کو یوں ہی سا کوئی معمولی نوعیت کا معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس بارے میں پوری طرح خیال رکھنا چاہیے کہ عدت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور سورة بقرہ کی آیت نمبر 229 ۔ الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔ میں ارشاد فرمائی گئی ہدایت کے مطابق کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک ہی سانس میں تین یا اس کے زیادہ طلاقیں دے کر بیوی کو جدا کردے بلکہ طلاق دو مہینوں میں اور دو طہروں کے اندر دی جائے پھر تیسرے طہر میں وہ اگر چاہے تو اس سے مراجعت کرلے اگر اس کو دستور کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ بیوی بنا کر رکھنا مقصود ہو تو، ورنہ وہ اس کو دستور کے مطابق رخصت کر دے اور پھر علیحدگی کی صورت میں میاں بیوی دونوں پر عدت کا شمار ضروری ہے تاکہ کسی پر کوئی زیادتی نہ ہونے پائے۔
[ 4] مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی ممانعت کا زکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی عورتوں کو ان کے گھروں سے نہیں نکالنا نہ تم ان کو نکالو اور نہ وہ خود نکلیں کیونکہ انہی گھروں میں عدت گزارنا اللہ کا حکم اور شریعت کا دیا ہوا حق ہے جس کو بدلنے کا حق واختیار کسی کو بھی نہیں ہوسکتا سو عدت کے دوران نہ تم لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ تم ان کو گھروں سے نکالو اور نہ ہی ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ از خود وہاں سے نکل پڑیں بلکہ عدت کے خاتمے تک وہ وہیں رہیں تاکہ باہمی سازگاری اور اصلاح احوال کی کوئی گنجائش اگر موجود ہو تو یہ یکجائی اس لیے ممدود و معاون ثابت ہو سکے اور ان کے درمیان پھر رشتہ ازدواج قائم ہوسکے کیونکہ میاں بیوی کے درمیان رشتے کا ٹوٹنا اللہ کو پسند نہیں۔ طلاق ایک مجبوری کا علاج ہے جس کو دین فطرت نے مجبوری کی حالت میں اور مجبوری کی حد تک ہی جائز رکھا ہے اسی لیے اس کو حدیث میں بغض المباجات قرار دیا ہے یعنی جائز امور میں یہ سب سے زیادہ مبغوض اور مکروہ چیز ہے اس لیے شریعت مطہر نے طلاق پر عدت کو لازم قرار دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس دوران میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ وہ اپنے بارے میں ٹھنڈے دل سے سوچ سکیں۔ وباللہ التوفیق لما یحت ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
[ 5] دوران عدت اخراج کی ایک استثنائی صورت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا مگر یہ کہ وہ ارتکاب کر بیٹھیں کسی کھلی بےحیائی کا۔ مثلا زنا و بدکاری یا چوری چکاری کا جس کے نتیجے میں ان کو حد قائم کر کے لیے گھر سے نکالنا پڑے۔ والعیاذ باللہ۔ یا بدزبانی اور بدکاری کا جس کے باعث وہ ناشزہ کے حکم میں آکر حق سکنی سے محروم ہوجائے فاحشہ مبینہ کی مراد میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں اور حضرات اہل علم کے یہاں یہ دونوں ہی قول پائے جاتے ہیں جبکہ اس میں تیسرا قول و احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ان عورتوں کا از خود اپنے گھروں سے نکل جانا ہے لیکن فاحشہ مبینہ کا زیادہ معروف اطلاق زنا اور اس کے لوازم ومقدمات ہی پر ہوتا ہے (روح صفوہ، تسہلی، محاسن جامع اور تدبر وغیرہ) سو فاحشہ مبینہ کا زیادہ معروف معنی اور اطلاق کے مطابق اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر شوہر نے اپنی بیوی کو کسی بدکاری کے ارتکاب کی بنا پر طلاق دی ہو تو اس کے بعد نہ اس سے مرد سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی بدکار و بےوفا عورت کو اپنے گھر میں رکھے اور نہ ہی اس سے وہ مطلب حاصل ہوسکتا ہے جس کی بنا پر گنجائش پیدا ہوسکتی ہے جو فاحشہ مبینہ یعنی کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کر بیٹھے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
[ 6] حدود الہی کی خلاف ورزی خود اپنی جانوں پر ظلم، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ حدود الہی کی خلاف ورزی خود اپنی جان پر ظلم کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ کہ اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا دنیا میں بھی آخرت میں بھی والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حضرت جل مجدہ کی طرف سے ان حدود کا تقرر خود بندوں ہی کے بھلے کے لیے یا گیا ہے اس لیے جو کوئی ان سے تجاوز کرے گا گا وہ خود اپنی اہی نقصان کرے گا اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو قیدیں اور پابندیاں اپنے بندوں پر عائد کی ہیں وہ اپنے کسی نفع کے لیے نہیں بلکہ بندوں ہی کے بھلے اور فائدے کے لیے عائد فرمائی ہیں پس جو لوگ ان کو توڑتے پھلانگتے اور ان کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یارب العالمین ویا ارحم الراحمین۔ ویا اکرم الاکرمین، یامن بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
[ 7] ایک عظیم الشان حکمت کی طرف اشارہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم نہیں جانتے کہ شاید اس کے بعد اللہ کوئی بہتری کی صورت پیدا فرما دے جس سے تمہارے بگاڑ کی اصلاح ہوجائے اور تمہارا اجڑنے والا گھر بربادی سے بچ جائے پس تم لوگ طلاق بائن اور مغلظ دے کر اپنی راہیں خود مت کاٹا کرو، بلکہ تمہیں اگر طلاق دے دینا ہی پڑے تو رجعی طلاق دیا کرو تاکہ تمہارے لیے رجوع اور اصلاح کی گنجائش باقی رہا کرے اور طلاق دے دینے کی صورت میں ان کو ان کے گھروں سے نہیں نکالا کرو تاکہ تمہارے لیے اس اصلاح اور مصالحت کے مواقع باقی رہیں اور تمہیں اپنے بارے میں غور کرنے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کا موقع مل جائے اور شاید اللہ کوئی ایسی صورت پیدا فرما دے جس سے میاں بیوی کے درمیان اختلاف کے بعد توافق وملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے اور دونوں کی یکجائی کے نتیجے میں پھٹے ہوئے دل ایک مرتبہ پھر آپس میں جڑ جائیں۔
Ayah 65:2[ 8] امساک بالمعروف کی ہدایت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب عورتیں اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو پھر یا تو تم ان کو روک لو دستور کے مطابق یعنی اس رجوع اور امساک سے تمہارا مقصد ان کو باقاعدہ بیوی بنا کر رکھنا ہو نہ کہ محض پھنسانا اور تطویل عدت کے ذریعے ان کو تنگ اور پریشان کرنا بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب وہ تیسرے طہر میں داخل ہوجائیں تو اب تمہیں ان کے بارے میں اختیار ہے کہ یا تو تم انکو الگ کردینے کا فیصلہ کرلو یا ان کو اپنی زوجیت میں رکنے کا لیکن جو بھی کرو معروف یعنی دستور کے مطابق کرو جس طرحا یک خدا ترس مسلمان اپنی بیوی کو رکھتا ہے تکلیف دینا یا ایذا پہنچانا درست نہیں والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ یارب العالمین۔
[ 9] تسریح بالاحسان کی ہدایت کا ذکر وبیان۔ یعنی یا تو تم ان کو معروف دستور کے مطابق روک لو یا پھر تسریح بالاحسان کے ساتھ چھوڑ دو یعنی ایسے طریقے سے جس میں نہ کوئی بدگوئی اور بدزبانی ہو اور نہ کسی طرح کی تہمت تراشی اور کردار کشی۔ والعیاذ باللہ۔ سو اگر تم نے ان کو ایک خدا ترس مسلمان کی طرح بیوی بنا کر رکھنا ہو تو ان سے رجوع کرلو اور اگر چھوڑنا اور علیحدہ کرنا ہی مقصود ہو تو یہ بھی شریفوں کی طرح کچھ دے دلا کر دستور کے مطابق ہو ظلم اور زیادتی کی کوئی شکل بہر حال پیش نظر نہ ہو کہ ایسا کرنا اللہ کے قانون اور اس کی دی ہوئی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہوگا جو بہر حال بری چیز ہے اور اس کا وبال بہرحال بہت سخت ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف مطلقہ عورتوں کو اپنی مدت عدت پوری کرلینے کے اس موقع پر ان کے شوہروں کو اپنی بیویوں کو اپنے عقد زوجیت میں روک لینے کا بھی حق ہے اور چھوڑ دینے کا بھی لیکن ان صورتوں میں سے جس صورت کو بھی وہ اختیار کرے وہ معروف اور احسان کے ساتھ ہو یعنی اچھے اور عمدہ طریقے سے۔ اس میں کسی طرح کی ظلم و زیادتی کی کوئی صورت نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس حسن معاملہ اور اچھائی ہی کو ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اختیار کرنا چاہیے۔ وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ فی کل زمان ومکان وھو العزیز الوھاب۔
[ 10] دوعادل گواہ رکھنے کی تعلیم و تلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور گواہ بنا لیا کرو تم لوگ اپنے میں سے دو معتبر شخصوں کو جو ضرورت پڑنے پر امر واقع کی گواہی دے سکیں اور اس طرح نزاع وشقاق کو رفع کیا جاس کے۔ جمہور علمائے کرام کے نزدیک یہ امر استحاب کے لیے ہے اور بعض کے نزدیک وجوب کے لیے ہے (روح، قرطبی، البحر المحیط، محاسن التاویل، المراغی، جامع البیان، اور خازن، وغیرہ) بہر کیف اس سلسلے میں یہ خاص ہدایت فرمائی گئی کہ عدت گزرنے پر خواہ تمہیں اس کو بیوی کی طرح رکھنا اور روکنا منظور ہو، اور خواہ چھوڑنا اور علیحدہ کرنا، بہر صورت ایسے موقع پر تم لوگ اس بارے میں اپنے میں سے دو گواہ مقرر کرلیا کرو تاکہ کسی نزاع کے پیدا ہونے کی صورت میں ان کی گواہی سے جھگڑا نمٹایا جاس کے، اور وہ دونوں گواہ تم لوگوں میں سے یعنی مسلمان ہوں۔
[ 11] گواہی اللہ کے لیے ادا کرنے کی ہدایت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ گواہی کو قائم کرو اللہ کے لیے یعنی اس وحدہ لاشریک کی رضاوخوشنودی کے لیے ٹھیک ٹھیک، بغیر کسی طرح کی رورعایت اور بدوں کسی ہیرا پھیری کے اور اس ضمن میں تم نہ کسی لالچ میں آؤ اور نہ کسی دباؤ کی پرواہ کرو کیونکہ فیصلے کی صحت اور عدم صحت کا دارومدار اصل میں گواہوں کی گواہی پر ہی ہوتا ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ گواہ ہی اصل میں قاضی ہوتے ہیں _الشھودھم القضاہ) پس تم لوگ اے گواہو اپنی گواہی بلا کسی رورعایت اور بدوں کسی کم وکاست کے صحیح طور پر ادا کیا کرو تاکہ فیصلے صحیح اور درست شکل میں ہوا کریں اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے صحیح طور سے پورے ہو کریں پس اول تو گواہی سے حتی الامکان کترانا نہیں چاہیے اور پھر جب گواہی دینے کا موقع آئے تو گواہ بلا رو رعایت اور بغیر کسی خوف وخطر کے اللہ کی رضا کے لیے صحیح صحیح گواہی دے بہر کیف اس میں مسلمانوں کو عام طور پر اور گواہوں کو خاص طور پر گواہی کے فرائض ادا کرنے کی اور اللہ ہی کے لیے ادا کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کیونکہ مسلمان اس دنیا میں شھداء اللہ فی الارض کے منصب پر فائز ہیں اور حق کی گواہی دینا ان کے اس منصب کا تقاضا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال فی کل مواطن من المواطن فی الحیاہ فی کل زمان ومکان۔
[ 12] ایمان باللہ سعادت دارین سے سرفرازی کی اصل اساس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نصیحت کی جاتی ہے ہر اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہو اللہ اور قیامت کے دن پر کہ اس سے فائدہ حقیقت میں ایسے ہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ورنہ یہ ارشادات بلاتفریق و امتیاز سب ہی کے لیے عام ہیں سو اس سے واضح ہوگیا کہ ایمان و عقیدہ ہی سعادت دارین سے سرفرازی اور ہر خیر و بھلائی کی اساس و بنیاد ہے اور کفر وبد اعتقادی ہر شر و فساد کی جڑ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل ایمان کو یہ تنبیہ و تذکیر ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے ملنے والی ہدایات کو دل وجان سے اپنائیں کہ اس میں خود ان ہی کا بھلا ہے دنیا کی اس فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس کے بعد آنے والا ہے اور دوسری طرف اس میں ان کے لیے یہ درس عظیم بھی ہے کہ دنیا آج ہے اور قیامت وآخرت کل۔ جیسا کہ کہا جاتا کہا جاتا ہے الزمان یومان یوم الدنیا ویوم الآخرہ۔ بس اتنا فرق ہے کہ دنیا کا یہ دن محدود ہے اور آخرت کا وہ دن لا محدود۔ پس آج کے اس یوم محدود میں کل کے اس یوم غیر محدود کے لیے عمل اور محنت کر کے اپنے لیے دائمی آرام وراحت کا سامان کرلو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھوالھادی الی سوا السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ وتعالی۔
[ 13] تقوی و پرہیزگاری ذریعہ کشائش ورستگاری۔ سو اس سے تقوی و پرہیزگاری پر ملنے والے بعض اہم اور عظیم الشان انعامات کا ذکر فرمایا گیا ہے پس جو کوئی درتا رہا اللہ سے ہر موقع پر اور ہر حال میں اور اس کے تقوی وخوف کی بناء پر وہ اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتا رہے گا اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھے گا کہ کہیں میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہوجائے، سبحانہ تعالیٰ تو اس کے لیے عظیم الشان انعامات کی بشارت ہے سو تقوی و پرہیزگاری دراین سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے وبا اللہ التوفیق۔ آگے تقوی و پرہیزگاری کے درجات و مراتب مختلف ہیں سب سے پہلے اور بنیادی درجہ ہے کہ کفر و شرک اور الحادو بےدینی کی ظلمتوں سے بچنا اس کے بعد ہر قسم کے معاصی وذنوب سے واحتراز و اجتناب۔ پس اس میدان میں کوئی جتنا آگے بڑھے گا اتنا ہی وہ تقوی و پرہیزگاری کے میدان میں آگے بڑھے گا وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقوی و پرہیزگاری پر ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ ملے گا اور اس طرح اس سے بندہ مومن کے لیے ہر مشکل آسان ہوتی چلی جائے گی اور اس کے لیے خیرو وبرکت کے نت نئے دروازے کھلتے چلے جائیں گے سبحان اللہ کتنی عظیم دولت ہے ایمان وتقوی کی یہ دولت جو انسان کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیتی ہے اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے اور علی وجہ التمام والکمال نصیب فرمائے کیونکہ اس کے یہاں رزق وعطاء کی راہ کوئی ایک ہی راہ نہیں فانہ اکرام الاکرمین وارحم الراحمین۔ سو اس ارشاد سے حدود خدود خدا وندی کی پابندی و پاسداری کرنے والوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ ان کو کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ ان کے لیے راستہ نکالے گا وہ اپنے بندوں کو مشکلات کے ذریعے آزمائش کرتا ہے جو ان سے پست ہمت ہو کر برگشتہ ہوجاتے ہیں والعیاذ باللہ ان کو وہ ان ہی کے حال پر چھوڑ دیتا ہے والعیاذ باللہ لیکن جو مشکلات کے علی الرغم اس کی مقرر فرمودہ حدود کا احترام کرتے اور ان کی پابندی کرتے ہیں ان کو بالآخر آسان راستے سے سرفراز فرما دیتا ہے وبا اللہ التوفیق۔ اور صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم علیہ الصلوت والسلام سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ اس کو ہر غم سے کشائش نصیب فرمائے گا اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بخشے گا اور اس کو روزی وہاں سے عطا فرمائے گا جہاں اس کو گمان بھی نہیں ہوگا وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 65:3[ 14] تقوی و پرہیزگاری پر رزق بےگماں کی بشارت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو وہ روزی وہاں سے دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا روایات میں وارد ہے کہ حضرت عوف بن مالک الاشجعی ؓ نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ دشمن ان کے بیٹے سالم کو پکڑ کرلے گئے ہیں جس سے ان کی اہلیہ یعنی سلام کی والدہ کا برا حال ہو رہا ہے نیز انہوں نے نبی کی خدمت میں اپنے اس فقر وفاقہ کی بھی شکایت کی جس سے وہ اس وقت دو چار تھے اس پر نبی نے ان کو اسی ہدایت وتعلیم کی راہنمائی فرمائی جو کہ اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم دونوں میاں بیوی تقوی کو لازم پکڑو صبر سے کام لو اور لا حول ولا قوت الا باللہ۔ کی کثرت رکھو چناچہ حضرت عوف نے گھر جا کر جب اپنی بیوی کو نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد سنایا تو انہوں نے کہا کہ بہت بہتر تعلیم ہے جو نبی کریم ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمائی ہے اور اس کے بعد انہوں نے اس وظیفہ کی کثرت رکھی جس کے کچھ ہی دنوں کے بعد ان کے بیٹے نے اچانک گھر پہنچ کر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ان کا بیٹا سالم کھڑا ہے اور اس کے ساتھ ایک سو اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ بھی ہے پھر اس نے بتایا کہ اس نے اپنے دن دشمنوں کو غفلت میں پایا تو اپنی قید کے بندھنوں کو توڑ کر ان کے ان مال مویشی کو ساتھ لے کر وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی مگر حکم بہرحال عام ہے۔ (ابن جریر ابن کثیر، قرطبی مراغی، اور صفوہ وغیرہ) وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید، علی ما یحب ویرید، وھوالھادی الی سواء السبیل۔
[ 16] اللہ تعالیٰ اپنا کام بہرحال پورا کر کے رہتا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پورا کر کے رہتا ہے اپنے کام کو یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک خاص اندازہ مقرر فرما رکھا ہے سو اس نے اپنا کام بہر حال کرکے رہنا ہے اس کے لیے نہ کوئی رکاوٹ ہوسکتی ہے اور نہ مزاحمت۔ اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، وھو علی کل شی قدیر، سو اس قادر مطلق اور واہب مطلق پر توکل اور سچا پکا اعتماد بھروسہ ایسی شاہ کلید ہے کہ اس سے مشکلات سے نکلنے کے لیے بند دروازے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں جیسا کہ سنن ترمذی وغیرہ کی روایت میں وارد ہوا ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اللہ پر ایسا توکل اور بھروسہ رکھو جیسا کہ اس پر توکل اور بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تم کو ایسے روزی دے جیسا کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں لو انکم توکلتم علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر تغدوا خماصا وتروح یطانا۔ مگر افسوس کہ قرآن وسنت کی ان صاف وصریح نصوص اور طرح طرح کی تاکیدات کے باوجود آج کلمہ گو مشرک کا حال اس سے یکسر مختلف ہے اس کا بھروسہ کہیں کسی خود ساختہ سروکار پر ہے اور کہیں کسی من گھڑت اور بناوٹی آستانے پر، اور کہیں کسی اور بناوٹی خیالی اور فرضی چیز پر وہ طرح طرح کی ہستیوں کو پکارتا، ان کی دہائی دیتا اور ان کے نام جپتا ہے مگر وہ اپنے اللہ کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے بلانے پکارنے کے لیے تیار نہیں، یا علی مدد اور پیر دستگیر جیسے شرکیہ نعرے تو وہ لگائے گا اور زور شور سے لگائے گا لیکن یا اللہ مدد کہنے کی توفیق اس کو نہیں ہوگی۔ الا ماشاء اللہ العظیم والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیں اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 65:4[ 17] آئسہ عورتوں کی عدت کا ذکر وبیان۔ اوپر ان عورتوں کی عدت کا حکم بیان فرمایا جا رہا ہے جن کو حیض نہ آتا ہو چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو ان کے بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے جن کو اسی بناء پر آسی کہا جاتا ہے سو اوپر ان عورتوں کی عدت بتائی گئی ہے جن کو حیض آتا ہے اور جن کی عدت کی حد بندی حیض اور طہر سے ہوسکتی ہے اب یہ ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جا رہی ہے جن کو حیض نہ آتا ہو یا اس وجہ سے کہ ان کو ان کے برھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو جس کو آئسہ کہا جاتا ہے جس کا ذکر یہاں فرمایا جا رہا ہے اور یا اس کی صغر سنی کی بناء پر اس کو ابھی حیض آیا ہی نہیں جیسا کہ اس کے بعد آگے آ رہا ہے بہر کیف اس ارشاد سے آئسہ عورتوں کی عدت کا حکم بیان فرمایا گیا ہے جو کہ حائضہ کی عدت کے حکم سے مختلف ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی عدت تین مہینے ہے نہ کہ تین حیض جیسا کہ عام عورتوں کے بارے میں قاعدہ و ضابطہ ہے کہ ان کو تو حیض آتا ہی نہیں سو ان کے حق میں ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہوگا یہاں پر جو ان ارتبتم کی شرط لگی ہوئی ہے اس کا ایک مطلب اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر تم لوگوں کو ان کی عدت کے بارے میں کوئی شک ہو تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ وہ تین مہینے ہے یہ قول سعید بن جبیر سے مروی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے اور دوسرا مطلب اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم کو شک ہو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو اس کی عدت تین مہینے ہے اور مہینوں سے بھی مراد قمری مہینے ہیں جس طرح فقہاء کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے جن کے اندر اس کی تمام صورتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ والحمدللہ جل وعلاء۔
[ 18] صغر سنی کے نکاح کے جواز کے لیے ایک صریح دلیل کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور جن کو ابھی حیض ہی نہ ہو یعنی ان کی صغر سنی کی وجہ سے سو ان کا حکم بی یہی ہے کہ ان کی عدت بھی تین ماہ ہے نہ کی حیض سے کہ ان کو ابھی حیض آیا ہی نہیں سو اس سے ضمنا بھی معلوم ہوگیا کہ صغر سنی کا نکاح اور شادی جائز ہے کیونکہ عدت اور طلاق کا مرحلہ تو نکاح کے بعد ہی پیش آتا ہے بہر کیف اس ارشاد سے اس مطلقہ کی عدت بیان فرمایا گیا ہے جس کی شادی صغر سنی میں ہوگئی تھی اور اس کو حیض ابھی آیا ہی نہیں کہ وہ صغیر السن ہے یہاں پر یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ قرآن حکیم کی تصریح کے مطابق عدت کا سوال اسی عورت کے بارے میں پیدا ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کا شوہر خلوت صحیحہ کرچکا ہو کیونکہ خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں کوئی عدت سرے سے ہے ہی نہیں جیسا کہ پارہ 22 سورة احزاب کی آیت نمبر 49 میں اس کی تصریح فرمائی گئ ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا اذا نکحتم المومنت الخ۔ اس لیے ایسی لڑکیوں کی عدت بیان کرنا جن کو حیض ابھی تک آیا ہی نہیں صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ اس عمر میں نہ صرف یہ کہ لڑکی سے نکاح جائز ہے بلکہ اس کے شوہر کا اس سے خلوت کرنا بھی صحیح ہے پس جو لوگ صغر سنی کے نکاح کے خلاف شور مچاتے ہیں اس سے ان کی آنکھیں کل جانی چاہیے۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال۔ اللہ ہمیشہ راہ حق وصواب پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا حکم بھی یہی ہے یعنی یہ کہ ان کی عدت بھی آئسہ کی طرح تین ماہ ہوگی کہ ان کو بھی حیض نہیں آتا اس لیے ان کا حکم بھی وہی ہوگا جو آئسہ کا ہے اس کا عطف چونکہ والیئ پر ہے اس یے ان کا حکم بھی وہی ہے جو ان کا ہے۔ اور وہ چونکہ وہاں پر مذکور ہے اسی لیے اس پر اکتفاء کرتے ہوئے اس کو یہاں ذکر نہیں فرمایا گیا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) بہر کیف اس سے اس صغیر السن لڑکی کی عدت کے بارے میں بتادیا گیا کہ وہ بھی مہینوں میں ہوگی نہ کہ حیضوں کے اعتبار سے کہ ان کو ابھی تک حیض آیاہی نہیں اور اگر درمیان عدت اس کو حیض آجائے تو پھر اس کی عدت حیض سے ہوگی کہ اب اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو حائضہ کا ہوتا ہے کہ اس صورت میں اس کی عدت حیض ہی کے اعتبار سے ہوگی لیکن جب حیض ہوگا تو پھر اس کی عدت وہی تین ماہ ہوگی جو کہ معروف ہے۔
[ 19] حاملہ کی عدت وضع حمل۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حاملہ عورتوں کی عدت بچہ جننا ہے۔ خواہ خاوند کی وفات کے بعد ہی کیوں نہ بچہ جن لیں پس جونہی انہوں نے بچہ جنا وہ عدت سے فارغ ہوگئیں کہ عدت کا مقصد پورا ہوگیا سو حاملہ عورتوں کی عدت مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے نہیں مقرر کی جاسکتی کیونکہ اس کی عدت وضع حمل سے مشروط ہے اور وضع حمل کا اندازہ مہینوں اور دنوں سے نہیں لگایا جاسکتا بلکہ اس کا تعلق وضع حمل ہی ہے وہ جب بھی اور جتنے ہی دنوں یا مہینوں کے بعد ہو بہر کیف حاملہ کی عدت کے بارے میں جملہ اہل علم کا اجماع ہے کہ وہ وضع حمل ہے اور یہی تقاضا ہے عقل اور نقل دونوں کا پس جوں ہی وضع حمل ہوا وہ عدت سے فارغ ہوگئی کہ عدت کا مقصد پورا ہوگیا خواہ وہ جتنی بھی کم مدت میں ہو کم ہو یا زیادہ۔
[ 20] تقوی و پرہیزگاری وسیلہ یسر و آسانی۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقوی و پرہیزگاری یسر و آسانی کا ذریعہ وسیلہ ہے پس تقوی ہر تنگی کا علاج اور آسانی کا ذریعہ ہے مگر افسوس کہ لوگ ہیں کہ وہ اس سب کے باوجود اس قدر سستے بلکہ بالکل مفت ملنے والے، اور اتنے آسان اور عظیم الشان نسخے سے ناواقف اور محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ وایاک نسال اللھم التوفیق للتقوی وما تحب وترضی من القول والعمل یا ارحم الراحمین ویا اکرام الاکرمن۔ سو تقوی و پرہیزگاری دارین کی فوز و فلاح کا ذریعہ وسیلہ ہے اور اس سے مومن صادق کو ایسا نور ملتا ہے جس اس کو اندھیروں میں روشنی سے سرفراز کرتا ہے وبا اللہ التوفیق۔ سو احکام شریعت کے ذکر وبیان کے ساتھ ساتھ تقوی و پرہیزگاری سے متعلق اس طرح کی تنبیہات میں یہ درس عظیم ہے کہ دین متیں اور شریعت مقدسہ کے احکام کی پابندی کو بوجھ نہ سمجھا جائے کہ ان کے التزام اور پابندی میں انسان کے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان ہے اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم وثابت قدم رکھے۔ اور ہر قسم کے شرور فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین، ثم آمین۔
Ayah 65:5[ 21] احکام الہی کی عظمت شان کا ذکر وبیان۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کے اوامر وارشادات کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے احکام ہیں اس لیے ان کا کوئی متبادل ممکن نہیں ہوسکتا پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ کبھی ان احکام کو دنیاوی احکام پر قیاس نہ کرنا کہ یہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے نازل فرمودہ احکام ہیں جو تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کے ضامن وکفیل ہیں پس سچے دل سے ان کو مان کر ان پر عمل کرنا کہ اسی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت سرخروئی ہے سو اس سے اللہ کے اوامر ارشادات کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرت حق جل مجدہ کے اتارے ہوئے احکام ہیں جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے اور اس کے احکام میں سراسر اس کے بندوں ہی کا بھلا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے اور یہ شان اس مالک مطلق ہی کے احکام کی ہوسکتی ہے اس لیے اس کے احکام وارشادات کی پابندی سراسر اس کے بندوں ہی کا بھلا ہے پس نہ تم لوگ ان سے کبھی جی چرانا اور نہ ہی کبھی ان کو اپنے اوپر کوئی بوجھ سمجھنا کہ ان میں سراسر خود تمہارا ہی بھلا اور نفع و فائدہ ہے اس لیے ہمیشہ اپنا = اور سچے دل سے اس کا صلہ وبدلہ خود تم ہی کو ملے گا۔ وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
[ 22] تقوی کے بعض اہم نتائج وثمرات کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی تقوی و پرہیزگاری اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کو بہت بڑے اجر سے نوازے گا سو وہ تم کو ایسے بڑے عظیم الشان اجر سے نوازے گا کہ انسان کا ظن و گمان بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا اور اس کا احاطہ و ادراک اس کے بس میں نہیں اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو اس سے تقوی و پرہیزگاری کے بعض اہم نتائج وثمرات سے آگہی بخشی گئی ہے کہ اللہ ایسے خوش نصیبوں کی غلطیوں کوتاہیوں کو مٹا دے گا کہ نیکیاں برائیوں کو صاف کردیتی ہیں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ ان الحسنات یذھبن السیات۔ (ھود 114) نیز وہ ان کو عظیم الشان اجر سے نوازے گا پس تقوی ہی کو ہمیشہ اپنائے رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔
Ayah 65:6[ 23] معتدہ کے حق سکنی کا ذکر وبیان۔ سو اس سے زمانہ عدت میں عورت کو مسکن یعنی مکان دینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو تم وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔ سو اس میں اپنی طاقت کے مطابق برتاؤ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے لفظ وجد مثلثلہ الفاء ہے یعنی اس کے پہلے حرف پر فتحہ ضمہ اور کسرہ تینوں حرکات درست ہیں اور اس کے معنی طاقت اور گنجائش کے آتے ہیں پس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ تم لوگ اپنی مطلقہ عورتوں کو اپنی گنجائش کے مطابق نفقہ وسکنی دینے کے پابند ہو کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر کسی کو کسی امر کا پابند نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بار میں ایک قاعدہ کلیہ اور اصول موضوعہ کے طور ارشاد فرمایا گیا لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ (البقرہ 286) سو یہ ایک اہم اور بنیادی اصول اور ضابطہ ہے کہ انسان اتنا ہی مکلف ہے جتنا کہ اس کے بس میں ہو بس سے بڑھ کر کوئی کسی کا مکلف نہیں ہوسکتا اور یہی تقاضا ہے عقل ونقل اور فطرت مستقیم کا اور مظہر ہے حضرت حق جل مجدہ کی رحمت و عنایت کا، سبحانہ تعالی۔
[ 24] عورتوں کو تنگ کرنے کی ممانعت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان کو نقصان مت پہنچا تنگ کرنے کے لیے یعنی دکھلاوے اور خانہ پری کے لیے ان کو جگہ تو دے دی لیکن ان کو ایسی مشکلات میں ڈال دیا جائے کہ وہ تنگ آ کر نکلنے اور نان ونفقہ کا مطالبہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں کہ ایسا کرنا جو تمہارے لیے باعث وبال ہوگا اے لوگو والعیاذ باللہ کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی طاقت سے غلط فائدہ اٹھایا اور ایسے لوگوں کے لیے بڑا وبال ہے والعیاذ باللہ۔ دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی۔ پس نہ تم لوگ ان سے کبھی جی چرانا اور نہ ہی کبھی ان کو اپنے اوپر کوئی بوجھ سمجھنا کہ ان میں سراسر خود تمہارا ہی نفع اور فائدہ ہے۔ وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یارب العالمین ویا ارحم الراحمین۔ ویا اکرم الاکرمین، یامن بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
[ 25] حاملہ کے نان ونفقہ کا حکم وارشاد۔ سو اس سے حاملہ کو وضع حمل تک نان نفقہ دینے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ پس معتدہ حاملہ کو نفقہ اور سکنی دینا لازم ہے طلاق کی صورت میں تو باتفاق علماء لازم ہے اور وفات کی صورت میں بھی بعض علمائے کرام کے نزدیک یہی حکم ہے لیکن آئمہ ثلاثہ یعنی امام اعظم امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کا کہنا ہے کہ اس صورت میں اس کا حق اسے اس کے اپنے حصہ اور نصیب سے دیا جائے۔ (قرطبی، مراغی، اور معارف وغیرہ) بہر کیف حاملہ کے بارے میں خاص طور پر ہدایت فرمائی گئ کہ ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک وہ حمل سے فارغ ہوجائیں اور اس کو اس خاص اہتمام سے ذکر کرنے کی وجہ سے ظاہر ہے کہ ان کی مدت طویل بھی ہوسکتی ہے اور بعض حالات میں ان کے مصارف کی نوعیت بھی مختلف ہوسکتی ہے اس لیے ان کے بارے میں خاص طور پر یہ ہدایت فرمائی گئی تاکہ کہیں کوئی اس کو بوجھ نہ سمجھنے لگے اور اس کے لیے حیلے بہانے نہ ڈھونڈنے لگے۔ سبحان اللہ۔ کیسی کیسی باریکیاں اور رحمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشادات میں، سبحانہ وتعالی۔
[ 26] رضاعت سے متعلق بعض خاص احکام کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اگر وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تم ان کو ان کی اجرت دے دیا کرو۔ یعنی ان کو طلاق ہوجانے کی صورت میں سو اس میں وضع حمل کے بعد کے مرحلے کا ذکر ہے یعنی اگر وہ بچے کو جنم دینے کے بعد تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو تم انکو اس کا معاوضہ دو یعنی وہ معاوضہ جو تم نے باہمی مشورہ سے انکو دینا طے کیا ہے کہ یہ ان کا حق ہے اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دینا ایک طبعی اور طے شدہ امر ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر تم ان کی بجائے دوسری عورتوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ گے تو آخر ان کو بھی ان کی اجرت دینا پڑے گی تو پھر ان کو ان کے حق اجرت سے محروم کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس تم لوگ ان کو ان کی اجرت دے دیا کرو کہ یہ ان کا حق ہے اور حقدار کو اس کا حق دینا تقاضا ہے عقل ونقل دونوں کا، وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید علی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
[ 27] باہمی مشورے کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم آپس میں مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو۔ یعنی دستور کے مطابق۔ جس میں ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور بھلائی کا جذبہ کارفرما ہو نہ کہ شدت وسختی اور دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کا جذبہ نیز یہ کہ اس سے اولاد کی بہتری مقصود ہو کہ ان کی جسمانی اور اخلاقی لحاظ سے اچھی تربیت ہو اور مال کو اس ضمن میں اصل مقصود اور رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے نہ تو باپ دودھ پلائی کی اجرت اور دوسرے نفقات کے سلسلہ میں سختی اور ٹال مٹول سے کام لے اور نہ ہی عورت کی طرف سے اجرت میں زیادتی کا مطالبہ کرکے باپ کو حرج اور تنگی میں ڈالا جائے بہر کیف اس بارہ ہدایت فرمائی گئی کہ معاوضہ سے متعلق باہمی مشورے سے دستور کے مطابق ایک قرار داد طے کرلو جو وقت کے تقاضوں اور مرد کے معیار زندگی کے مطابق ہو اور اس کے مطابق جس کا جو حق بنے وہ اس کو پورے کا پورا دے دیا کرو تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
[ 28] تنگی کی صورت میں حکم کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم آپس میں ایک دوسرے پر تنگی کرو گے تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی اور آپس کی تنگی اس طرح کہ مثلا عورت دودھ پلانے کی حد سے زیادہ اجرت مانگنے لگے جو مراد ادا نہ کرسکے یا مرد اس کو استحقاق سے بھی کم دینے پر اتر آئے وغیرہ سو تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ باہم نرمی اور رواداری کا معاملہ کرنا چاہیے نہ عورت مرد کی حثییت سے زیادہ اجرت طلب کرے اور نہ مرد ماں کی ممتا کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے اور اسے اس کا حق واجب بھی دینے کو تیار نہ ہو سو کوئی بھی ایسا نہ کرے کہ یہ زیادتی ہے اور یہ اس معروف کے معارض و منافی ہے جو اس ضمن میں مامور و مطلوب ہے اور عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے تاکہ ہر صاحب حق کو اس کا حق مل سکے بہر کیف ارشاد فرمایا گیا اور طرفین کے لیے تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تنگی وسختی کا معاملہ کرو گے تو تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے لیے کوئی اور ماں دودھ پلا لے گی پس تمہیں آپس میں ایک دوسرے پر سختی اور تنگی سے کام لینے کی روش سے احتراز کرنا چاہیے سو اس ارشاد میں سختی کرنے پر ایک گو نہ ماں پر ملامت ہے جیسا کہ محاورے میں کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو کوئی دوسرا کرلے گا اور ماں کی تخصیص اس ضمن میں اس لیے کی گئی کہ اس سے مطالبہ دودھ کا ہے جو کہ ماں کا کام ہے اور عادت وعرف کے مطابق ماں کی ممتا کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے بچے کو از خود یوں ہی دودھ پلائے دوسری طرف اس میں شوہر کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ اگر تم اس کو اس کا حق نہیں دو سگے تو جو دوسری عورت دودھ پلائے گی اس کو بھی تو آخر تمہیں دودھ پلائی کی مزدوری دینا ہی پڑے گی تو پھر بہتر یہی ہے کہ اسی کی مزدوری اس کو اچھے طریقے سے اور معروف دستور کے مطابق دے دی جائے کہ اس کا حق بھی زیادہ بنتا ہے اور اس سے بچے کے لیے خیر خواہی کی امید وتوقع بھی زیادہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اسی سے متولد ہوا ہے جبکہ دوسری عورت سے ایسی توقع بہر حال اس درجے کی نہیں ہوسکتی پس دونوں ایک دوسرے کے لیے نرمی کا برتاؤ کریں کہ اسی میں ان دونوں کا بھلا ہے وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید علی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ۔ وھوالھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل بہ نستعین یامن بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayahs 65:7–8[ 29] انفاق میں ہر ایک کی حیثیت کا اعتبار : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، سبحان الہ۔ کیسا عمدہ ستھرا پاکیزہ اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ایک جامع اصول و ضابطہ ہے، جو کتنی کتنی جگہ کام دے سکتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے انسان کتنی الجھنوں کتنے اور کیسے کیسے جھنجٹوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے، کہ اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑھ کر نہ کوئی بوجھ اٹھائے اور نہ کسی پر کوئی بوجھ ڈالا جائے، بہرکیف اس ضمن میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ خوشحال اور کشادہ دست انسان اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، اور تنگ دسدت اپنی حیثیت کے مطابق، ہر ایک اپنے معیار کے مطابق معاملہ کرے، نہ خوشحالی اور کشادہ دست انسان ان کو اپنے معیار سے فروتر رکھے اور نہ غریب اور تنگ دست انسان پر اس کی حیثیت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا جائے۔ بلکہ ہر ایک سے معاملہ اس کی حیثیت کے مطابق کیا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، فی کل موطن من المواطن فی الحیاھ، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین جل وعلا۔
[ 30] تنگی کے بعد آسانی کی خوشخبری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بعید نہیں کہ اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا فرمادے۔ کہ تنگی اور آسانی کی ہر حالت اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے پس تم لوگ ہمیشہ اسی پر اعتماد رکھو۔ اور دعا والتجا بھی اسی کے حضور کرو اور اس کے تعلیم وارشاد فرمودہ احکام و فرامین پر صدق دل سے کاربند رہو اور وہی ہے جو تنگی کے بعد آسانی پیدا فرماتا ہے جیسا کہ اس کا اپنا وعدہ وارشاد ہے۔ فان مع العسر یسرا، ان مع العسر یسرا۔ سو اس ارشاد میں غریبوں کے لیے تسکین وتسلی کا سامان ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی حالت پر قانع رہیں اور صابر رہیں گے اور تنگدستی کے باجود اللہ کی حدود کو قائم رکھنے کا اہتمام کریں گے تو اللہ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جو لوگ غربت واحتیاج کے باوجود اللہ کی رضا وخوشنوی کے لیے ایثار کرتے ہیں اللہ ان کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی اہوں پر قائم رکھے۔ آمین، ثم آمین۔ یارب العالمین ویا ارحم الراحمین، ویا اکرام الاکرمین بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ فی کل زمان ومکان وھو العزیز الوہاب، جل جلالہ وعم نوالہ سبحانہ وتعالی۔
Ayah 65:9[ 32] منکروں کے لیے عذاب شدید تیار۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کے لیے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی سخت عذاب۔ اتنا سخت عذاب اور اس قدر ہولناک کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہوسکتی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ فیومئذ لا یعذب عذابہ احد، ولا یوثق وثاقہ احد۔ (الفجر 25، 26 پارہ 30) سو اللہ کے نازل کردہ دین حق کی ناقدری اور اس سے اعراض و روگردانی والعیاذ باللہ باعث ہلاکت و تباہی اور دراین کا خسارہ ہے پس صحت و سلامتی اور فوزوفلاح اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا راستہ وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے اس کی اتباع و پیروی میں دراین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں دنیا آخرت کی ہلاکت و تباہی اور دائمی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یارب العالمین، ویا اکرم الاکرمین وارحم الراحمین۔
Ayah 65:10[ 33] انکار حق کا نتیجہ، ہولناک خسارہ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہا کرو اللہ کی ناراضگی سے ہمیشہ اور ہر موقع پر اور ہر حال میں۔ یعنی جب تم لوگوں نے ان گزشتہ قوموں کے انجام کے بارے میں سن اور جان لیا تو تم اس رویہ ورش سے بچو جس کی بناء پر وہ اس ہولناک خسارے سے دوچار ہوئے پس تم لوگ اللہ کی گفت وپکڑ اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش میں رہو ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کا ہوچکا ہے کہ اللہ کا قانون سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے پس کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں اور فاسق وفاجر فسق و فجور سے باز آجائیں اور سچے اہل ایمان راہ صدق وصواب پر پکے اور پختہ رہیں وبا اللہ التوفیق، فاتقو اللہ کی فاء تفریع کے لیے ہے یعنی جب کفر وانکار، بغاوت و سرکشی اور اعراض و روگردانی کا یہ نتیجہ وانجام تمہارے سامنے آگیا اور جو ماضی کی کافر ومنکر قومیں بھگت چکیں تو تاریخ کے اس درس عظیم کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ بغاوت و سرکشی کی اس راہ سے بچو اور ہمیشہ بچنے کی فکر کرو جس سے ماضی کی یہ بدبخت قومیں ہمکنار دوچار ہوچکی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
[ 34] عقل سلیم کے تقاضے کی تذکیر ویاد دہانی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس ڈرو تم لوگ اللہ سے اے عقل سلیم رکھنے والو جو ایمان لائے ہو کہ عقل ودانش کا تقاضا یہی ہے مگر جن کی عقلیں میلی اور مسخ ہوگئیں اور ان کو کفر و شرک، زیغ وضلال، اور بغاوت و انحراف اور معصیت و سرکشی کے زنگ سے معطل وماؤف ہوگئیں ان کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی کہ ان کی علقیں مریض اور زنگ آلود ہوگئیں، والعیاذ با اللہ۔ اسی لیے یہاں پر اولوالعقول نہیں الوالالباب فرمایا گیا ہے اور ان دونوں میں بڑا فرق ہے کہ عقل تو عام ہے ہر قسم کی عقل شامل ہے جب کہ لب اس عقل خالص کو کہا جاتا ہے جو کہ ہر طرح کے میل کچیل اور اس کے شوائب سے پاک وصاف ہو ہم نے اپنے ترجمے میں اسی فرق کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے والحمدللہ رب العالمین اور ایسی عقل خالص نقی وصافی اور ایمان باہم لازم وملزوم ہیں اس لیے اس کی تعریف و توصیف میں ارشاد فرمایا گیا الذین آمنو۔ یعنی جو کہ ایمان لائے جس سے صاف ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو اور اس کے حقوق کو پہچانے اور ان کے ادا کرنے کی فکر وسعی کرے اور اس سعادت عظمی سے بہر مندی و سرفرازی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک کے اتارے ہوئے دین متین کی تعلیمات مقدسہ اور اس کے بھیجے ہوئے رسول امین کی اتباع و پیروی کی جائے کہ اس کے بغیر نہ اپنے خالق و ومالک کی صحیح معرفت نصیب ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے حقوق اطاعت و بندگی کی ادائیگی ممکن ہوسکتی ہے پس جو عقلیں اس راہ حق و ہدایت سے محروم وبے بہرہ ہیں وہ عقول سلیمہ نہیں بلکہ عقول مریضہ ہیں جو ماؤف ہو کر اپنا مقام و مرتبہ کھو بیٹھی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
[ 35] ذکر عظیم اور رسول عظیم کی نعمت عظمی کی تذکیری ویاد دہانی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے اتار دی تمہاری طرف اے لوگو ایک عظیم الشان نصیحت۔ اتنی عظیم الشان کہ اس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں جو ہر لحاظ سے کامل ومکمل نصیحت ہے اور جس میں کسی غلطی کا کوئی خدشہ و امکان نہیں اور جو دارین کی سعادتوں اور فوزوفلاح سے بہرہ ور کرنے والی بےمثال نصیحت ہے یعنی کتاب حکیم، قرآن مجید۔ نیز ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے بھیج دیا کہ ایک عظیم الشان رسول، سو رسولا کا عامل یا تو محذوف ہے یعنی وارسل رسولا، اور اس صورت میں یہ عبارت، علفتھا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہوگی روح قرطبی، ابن کثیر جامع البیان، صفوت البیان، وغیرہ) یارسولا، بدل ہے ذکرا۔ سے یعنی بدل اشتمال کہ اس ذکر کو پیش کرنے والے اور سنانے والے وہ رسول عظیم ہی ہیں اور ظاہر ومتبادر یہی ہے یا ذکرا یہاں پر مذکر کے معنی میں ہے اور رسولا اس سے بدل کل ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ انما انت مذکر۔ معنی بہر حال یہی ہے کہ ذکر سے مراد قرآن حکیم ہے اور رسول سے مراد محمد رسول اللہ ہیں کہ آپ اس ذکر حکیم کے حامل مبلغ اور معلم ہیں صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور کلبی کہتے ہیں کہ یہاں رسول سے مراد جبرائیل امین ہیں مگر جمہور کے نزدیک یہاں رسول سے مراد نبی کریم ہی ہیں وھوالتبادر بہر کیف اس ارشاد سے اس ذکر عظیم کے انزال اور رسول عظیم کی بعثت و تشریف آوری کی نعمت عظمی اور اس کے تقاضوں کی تذکیر ویاد دہانی فرما دی گئی پس ہدایت کے اس عظیم الشان انتظام کے بعد بھی جن لوگوں نے گمراہی کو اپنایا وہ اپنی ہلاکت و تباہی کے ذمہ دار خود ہیں والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین، ثم آمین، یارب العالمین، ویا ارحم الراحمین، یامن بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔