65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو ان کو طلاق دو ان کی عدت پر10 اور گنتے رہو عدت کو11 اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو ان کو ان کے گھروں سے12 اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بےحیائی13 اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اس نے برا کیا اپنا1 اس کو خبر نہیں2 شاید اللہ پیدا کر دے اس طلاق کے بعد نئی صورت3

10 نبی کو مخاطب بنا کر یہ ساری امت سے خطاب ہے۔ یعنی جب کوئی شخص (کسی ضرورت اور مجبوری سے) اپنی عورت کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو چاہیے کہ عدت پر طلاق دے۔ سورة " بقرہ " میں آچکا کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہیں (کما ہو مذہب الحنفیہ) لہذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیے تاکہ سارا حیض گنتی میں آئے اگر فرض کیجیے حالت حیض میں طلاق دے گا تو دو حال سے خالی نہیں۔ جس حیض میں طلاق دی ہے اس کو عدت میں شمار کریں گے یا نہ کریں گے۔ پہلی صورت میں ایقاع طلاق سے پہلے جس قدر وقت حیض کا گزر چکا وہ عدت میں سے کم ہوجائے گا۔ اور پورے تین حیض عدت کے باقی رہیں گے۔ اور دوسری صورت میں جب موجودہ حیض کے علاوہ تین حیض لیں گے تو یہ حیض تین سے زائد ہوگا۔ اس لیے مشروع طریقہ یہ ہے کہ طہر میں طلاق دی جائے اور حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔ 11 یعنی مرد و عورت دونوں کو چاہیے کہ عدت کو یاد رکھیں۔ کہیں غفلت و سہو کی وجہ سے کوئی بےاحتیاطی اور گڑ بڑ نہ ہوجائے۔ نیز طلاق ایسی طرح دیں کہ ایام عدت کی گنتی میں کمی بیشی لازم نہ آئے۔ جیسا کہ اوپر کے فائدہ میں بتلایا جا چکا ہے۔ 12 یعنی اللہ سے ڈر کر احکام شریعت کی پابندی رکھنی چاہیے جن میں سے ایک حکم یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے اور تین طلاقیں ایک دم نہ ڈالی جائیں اور مطلقہ عورت کو اس کے رہنے کے گھر سے نہ نکالا جائے۔ وغیر ذلک۔ 13 یعنی عورتیں خود بھی اپنی مرضی سے نہ نکلیں۔ کیونکہ یہ سکنیٰ محض حق العبد نہیں کہ اس کی رضا سے ساقط ہوجائے بلکہ حق الشرع ہے، ہاں کوئی کھلی بےحیائی کریں مثلاً بدکاری یا سرقہ کی مرتکب ہوں یا بقول بعض علماء زبان درازی کریں اور ہر وقت کا رنج و تکرار رکھتی ہوں تو نکالنا جائز ہے اور اگر بےوجہ نکلیں گی تو یہ خود صریح بےحیائی کا کام ہوگا۔ 1 یعنی گنہگار ہو کر اللہ کے ہاں سزا کا مستوجب ہوا۔ 2 " لاتدری " کا ترجمہ " اس کو خبر نہیں " بصیغہ غائب کیا ہے تامعلوم ہوجائے کہ خطاب اسی طلاق دینے والے کو ہے۔ نبی کریم ﷺ کو نہیں۔ 3 یعنی شاید پھر دونوں میں صلح ہوجائے اور طلاق پر ندامت ہو۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب پہنچیں اپنے وعدہ کو تو رکھ لو ان کو دستور کے موافق یا چھوڑ دو ان کو دستور کے موافق4 اور گواہ کرلو دو معتبر اپنے میں کے5 اور سیدھی ادا کرو گواہی اللہ کے واسطے6 یہ بات جو ہے اس سے سمجھ جائے گا جو کوئی یقین رکھتا ہوگا اللہ پر اور پچھلے دن پر7 اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے وہ کر دے اس کا گزراہ8

4 یعنی طلاق رجعی میں جب عدت ختم ہونے کو آئے تو تم کو دو باتوں میں ایک کا اختیار ہے۔ یا عدت ختم ہونے سے پہلے عورت کو دستور کے موافق رجعت کر کے اپنے نکاح میں رہنے دو یا عدت منقضی ہونے پر معقول طریقہ سے اس کو جدا کردو۔ مطلب یہ ہے کہ رکھنا ہو تب اور الگ کرنا ہو تب، ہر حالت میں آدمیت اور شریعت کا برتاؤ کرو۔ یہ بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو اور خواہ مخواہ تطویل عدت کے لیے رجعت کرلیا کرو۔ یاد رکھنے کی صورت میں اسے ایذاء پہنچاؤ اور طعن وتشنیع کرو۔ 5 یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے اگر نکاح میں رکھنا چاہے تو رجعت پر وہ گواہ کرے تاکہ لوگوں میں متہم نہ ہو۔ 6 یہ گواہوں کو ہدایت ہے کہ شہادت کے وقت ٹیڑھی ترچھی بات نہ کریں، سچی اور سیدھی بات کہنی چاہیے۔ 7 زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر بہت ظلم ہوتا تھا۔ بعض لوگ عورت کو سو سو مرتبہ طلاق دیتے تھے اور اس کے بعد بھی اس کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوتا تھا۔ قرآن نے جابجا وحشیانہ مظالم اور بےرحمیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ اور نکاح و طلاق کے حقوق و حدود پر نہایت صاف روشنی ڈالی۔ بالخصوص اس سورت میں منجملہ دوسری حکیمانہ ہدایات و نصائح کے ایک نہایت ہی جامع مانع اور ہمہ گیر اصول (فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) 65 ۔ الطلاق :2) بیان فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کو رکھو تو معقول طریقہ سے رکھو۔ اور چھوڑو تب بھی معقول طریقہ سے چھوڑو لیکن ان زریں نصیحتوں سے منتفع وہ ہی شخص ہوسکتا ہے جس کو خدا اور یوم آخرت پر یقین ہو۔ کیونکہ یہ ہی یقین انسان کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا کرتا ہے۔ اور اسی ڈر سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ جس طرح ایک کمزور عورت بخت و اتفاق سے ہمارے قبضہ و اقتدار میں آئی ہے، ہم سب کسی قہار ہستی کے قبضہ و اقتدار میں ہیں۔ یہ ہی ایک خیال ہے جو آدمی کو ہر حالت میں ظلم وتعدی سے روک سکتا اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرادری پر ابھارتا ہے۔ اسی لیے سورة ہذا میں خصوصی طور پر اتقاء ( پرہیزگاری اور خدا کے خوف) پر بہت زور دیا گیا ہے۔ 8 یعنی اللہ سے ڈر کر اس کے احکام کی بہرحال تعمیل کرو۔ خواہ کتنی ہی مشکلات و شدائد کا سامنا کرنا پڑے۔ حق تعالیٰ تمام مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ اور سختیوں میں بھی گزارہ کا سامان کر دے گا۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور روزی دے اس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو9 اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اس کو کافی ہے تحقیق اللہ پورا کرلیتا ہے اپنا کام اللہ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ10

9 اللہ کا ڈر دارین کے خزانوں کی کنجی اور تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے اسی سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں، بےقیاس و گمان روزی ملتی ہے گناہ معاف ہوتے ہیں، جنت ہاتھ آتی ہے اجر بڑھتا ہے اور ایک عجیب قلبی سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی سختی، سختی نہیں رہتی، اور تمام پریشانیاں اندر ہی اندر کافور ہوجاتی ہیں ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمام دنیا کے لوگ اس آیت کو پکڑ لیں تو ان کو کافی ہوجائے۔ 10 یعنی اللہ پر بھروسہ رکھو، محض اسباب پر تکیہ مت کرو۔ اللہ کی قدرت ان اسباب کی پابند نہیں۔ جو کام اسے کرنا ہو، وہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ اسباب بھی اسی کی مشیت کے تابع ہیں۔ ہاں ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ ہے۔ اسی کے موافق وہ ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کسی چیز کے حاصل ہونے میں دیر ہو تو متوکل کو گھبرانا نہیں چاہیے۔
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور جو عورتیں ناامید ہوگئیں حیض سے تمہاری عورتوں میں اگر تم کو شبہ رہ گیا تو ان کی عدت ہے تین مہینے اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا11 اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ جن لیں پیٹ کا بچہ12 اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے کر دے وہ اس کے کام میں آسانی

11 یعنی مطلقہ کی عدت قرآن نے تین حیض بتلائی (کما فی سورة البقرۃ) اگر شبہ رہا ہو کہ جس کو حیض نہیں آیا یا بڑی عمر کے سبب موقوف ہوا، اس کی عدت کیا ہوگی تو بتلا دیا کہ تین مہینے ہیں۔ 12 جمہور کے نزدیک حامل کی عدت وضع حمل تک ہے خواہ ایک منٹ کے بعد ہوجائے یا کتنی ہی طویل مدت کے بعد ہو اس میں مطلقہ اور متوفی عنہا زوجہا دونوں کا ایک حکم ہے کما ہو مصرح فی الاحادیث۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ حکم ہے اللہ کا جو اتارا تمہاری طرف اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے اتار دے اس پر سے اس کی برائیاں اور بڑھا دے اس کو ثواب13

13 جملہ کے بعد اتقاء اور اللہ کے ڈر کا مضمون مختلف پیرایوں میں دہرایا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا بار بار متنبہ ہو کہ عورتوں کے معاملات میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

ان کو گھر دور رہنے کے واسطے جہاں تم آپ رہو اپنے مقدور کے موافق1 اور ایذا دینا نہ چاہو ان کو تاکہ تنگ پکڑو ان کو2 اور اگر رکھتی ہوں پیٹ میں بچہ تو ان پر خرچ کرو جب تک جنیں پیٹ کا بچہ3 پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمہاری خاطر، تو دو ان کو ان کا بدلہ اور سکھاؤ آپس میں نیکی4 اور اگر ضد کرو آپس میں تو دودھ پلائے گی اس کی خاطر اور کوئی عورت5

1 مرد کے ذمہ ضروری ہے کہ مطلقہ کو عدت تک رہنے کے لیے مکان دے (اس کو سکنیٰ کہتے ہیں) اور جب سکنیٰ واجب ہے تو نفقہ بھی اس کے ذمہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ عورت اتنے دنوں تک اسی کی وجہ سے مکان میں مقید و محبوس رہے گی۔ قرآن کریم کے الفاظ (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ) 65 ۔ الطلاق :6) میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، کہ اس کو اپنے مقدور اور حیثیت کے موافق اپنے گھر میں رکھو۔ ظاہر ہے کہ مقدور کے موافق رکھنا اس کو بھی متضمن ہے کہ اس کے کھانے کپڑے کا مناسب بندوبست کرے۔ چناچہ مصحف ابن مسعود میں یہ آیت اس طرح تھی۔ (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ) 65 ۔ الطلاق :6) حنفیہ کے نزدیک یہ حکم سکنیٰ اور نفقہ کا ہر قسم کی مطلقہ کو عام ہے۔ رجعیہ کی قید نہیں کیونکہ پہلے سے جو بیان چلا آتا ہے مثلاً آئسہ، صغیرہ، اور حاملہ کی عدت کا مسئلہ اس میں کوئی تخصیص نہیں تھی۔ پھر اس میں بلاوجہ کیوں تخصیص کی جائے۔ رہی فاطمہ بنت قیس کی حدیث جس میں وہ کہتی ہیں کہ میرے زوج نے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلم نے مجھے سکنیٰ اور نفقہ نہیں دلایا۔ اول تو اس حدیث میں فاروق اعظم، عائشہ صدیقہ اور دوسرے صحابہ وتابعین نے انکار فرمایا۔ بلکہ فاروق اعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ عورت بھول گئی یا اس نے یاد رکھا۔ معلوم ہوا کہ فاروق اعظم کتاب اللہ سے یہ ہی سمجھے ہوئے تھے کہ مطلقہ ثلاث کے لیے نفقہ و سکنیٰ واجب ہے اور اس کی تائید میں رسول اللہ کی کوئی سنت بھی ان کے پاس موجود تھی۔ چناچہ طحاوی وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں جن میں حضرت عمر ؓ نے تصریحاً بیان کیا ہے کہ یہ مسئلہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ اور دارقطنی میں جابر کی ایک حدیث بھی اس بارے میں صریح ہے۔ گو اس کے بعد رواۃ میں اور رفع و وقف میں کلام کیا گیا ہے۔ دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے فاطمہ بنت قیس کے لیے سکنیٰ اس لیے تجویز نہ کیا ہو کہ یہ اپنے سسرال والوں سے زبان درازی اور سخت کلامی کرتی تھی جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ لہذا آپ ﷺ نے حکم دے دیا کہ ان کے گھر سے چلی جائے پھر جب سکنیٰ نہ رہا تو نفقہ بھی ساقط ہوگیا۔ جیسے ناشزہ کا (جو شوہر کی نافرمانی کر کے گھر سے نکل جائے) نفقہ ساقط ہوجاتا ہے، تاوقتیکہ گھر واپس نہ آئے (نبہ علیہ ابوبکر الرازی فی احکام القرآن) نیز جامع ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں ہے کہ اس کو کھانے پینے کے لیے غلہ دیا گیا تھا اس نے اس مقدار سے زائد کا مطالبہ کیا جو منظور نہ ہوا۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ حضور ﷺ نے اس سے زائد نفقہ تجویز نہیں فرمایا جو مرد کی طرف سے دیا جا رہا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہاں یہ یاد رہے کہ نسائی، طبرانی، اور مسند احمد کی بعض روایات میں فاطمہ بنت قیس نے حضور ﷺ کا صریح ارشاد نقل کیا ہے کہ سکنیٰ اور نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جس سے رجعت کا امکان ہو۔ ان روایات کی سندیں زیادہ قوی نہیں۔ زیلعی نے تخریج ہدایہ میں اس پر بحث کی ہے۔ فلیراجع۔ 2 یعنی ستاؤ نہیں کہ وہ تنگ آکر نکلنے پر مجبور ہوجائیں۔ 3 حمل کی مدت کبھی بہت طویل ہوجاتی ہے۔ اس کو خصوصیت سے بتلا دیا کہ خواہ کتنی ہی طویل ہو وضع حمل تک اس کو نفقہ دینا ہوگا یہ نہیں کہ مثلاً تین مہینے نفقہ دے کر بند کرلو۔ 4 یعنی وضع حمل کے بعد اگر عورت تمہاری خاطر بچہ کو دودھ پلائے تو جو اجرت کسی دوسری انّا کو دیتے وہ اس کو دی جائے۔ اور معقول طریقہ سے دستور کے موافق باہم مشورہ کر کے قرارداد کرلیں خواہ مخواہ ضد اور کجروی اختیار نہ کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کا برتاؤ رکھیں نہ عورت دودھ پلانے سے انکار کرے نہ مرد اس کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے پلوائے۔ 5 یعنی اگر آپس کی ضد اور تکرار سے عورت دودھ پلانے پر راضی نہ ہو تو کچھ اس پر موقوف نہیں کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی مل جائے گی۔ اس کو اتنا گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر مرد خواہ مخواہ بچہ کو اس کی ماں سے دودھ پلوانا نہیں چاہتا تو بہرحال کوئی دوسری عورت دودھ پلانے کو آئے گی آخر اس کو بھی کچھ دینا پڑے گا۔ پھر وہ بچہ کی ماں ہی کو کیوں نہ دے۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

چاہیے خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے موافق اور جس کو نپی تلی ملتی ہے اس کی روزی تو خرچ کرے جیسا کہ دیا ہے اس کو اللہ نے اللہ کسی پر تکلیف نہیں رکھتا، مگر اسی قدر جو اس کو دیا اب کر دے گا اللہ سختی کے پیچھے کچھ آسانی6

6 یعنی بچہ کی تربیت کا خرچ باپ پر ہے۔ وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق اور کم حیثیت کو اپنی حیثیت کے مناسب خرچ کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو زیادہ فراخی نصیب نہ ہو محض نپی تلی روزی اللہ نے دی ہو، وہ اسی میں سے اپنی گنجائش کے موافق خرچ کیا کرے۔ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جب تنگی کی حالت میں اس کے حکم کے موافق خرچ کرو گے، وہ تنگی کو فراخی اور آسانی سے بدل دے گا۔
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں کہ نکل چکیں حکم سے اپنے رب کے اور اس کے رسولوں کے پھر ہم نے حساب میں پکڑا ان کو سخت حساب میں اور آفت ڈالی ان پر بن دیکھی آفت7

7 یعنی احکام شریعت کی (خصوصاً عورتوں کے بارے میں) پوری پابندی رکھو۔ اگر نافرمانی کرو گے تو یاد رہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ و رسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ کی جا چکی ہیں جس وقت لوگ تکبر کر کے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لیا اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا۔ پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
Ayah 65:9

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پھر چکھی انہوں نے سزا اپنے کام کی اور آخرت کو ان کے کام میں ٹوٹا گیا8

۔8 یعنی عمر بھر جو سودا کیا تھا آخر اس میں سخت خسارہ اٹھایا اور جو پونجی تھی سب کھو کر رہے۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

تیار رکھا ہے اللہ نے واسطے ان کے سخت عذاب9 سو ڈرتے رہو اللہ سے اے عقل والو جن کو یقین ہے10 بیشک اللہ نے اتاری ہے تم پر نصیحت11

9 پہلے دنیاوی عذاب کا ذکر تھا اب اخروی عذاب بیان کیا۔ 10 یعنی یہ عبرتناک واقعات سن کر ایمانداروں کو ڈرتے رہنا چاہیے کہیں ہم سے ایسی بےاعتدالی نہ ہوجائے کہ خدا کی پکڑ میں آجائیں۔ العیاذ باللہ۔ 11 یعنی قرآن، یا " ذکر " بمعنی " ذاکر " ہو تو خود رسول ﷺ مراد ہوں گے۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

رسول ہے جو پڑھ کر سناتا ہے تم کو اللہ کی آیتیں کھول کر سنانے والی12 تاکہ نکالے ان لوگوں کو جو کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام اندھیروں سے اجالے میں1 اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر اور کرے کچھ بھلائی اس کو داخل کرے باغوں میں نیچے بہتی ہیں جن کے نہریں سدا رہیں ان میں ہمیشہ البتہ خوب دی اللہ نے اس کو روزی2

12 یعنی صاف آیتیں جن میں اللہ کے احکام کھول کھول کر سنائے گئے ہیں۔ 1 یعنی کفر و جہل کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور علم وعمل کے اجالے میں لے آئے۔ 2 جنت سے زیادہ بہتر روزی کہاں ملے گی
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی3 اترتا ہے اس کا حکم ان کے اندر4 تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کرسکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی5

3 یعنی زمینیں بھی سات پیدا کی جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی احادیث میں ہے ان میں احتمال ہے کہ نظر آتی ہوں اور ان میں احتمال ہے کہ نظر نہ آتی ہوں مگر لوگ ان کو کواکب سمجھتے ہیں جیسا کہ مریخ وغیرہ کی نسبت آج کل حکمائے یورپ کا گمان ہے کہ اس میں پہاڑ دریا اور آبادیاں ہیں۔ 4 یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لیے اللہ کے احکام تکونیہ و تشریعیہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر اترتے رہتے ہیں۔ 5 یعنی آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ان میں انتظامی احکام جاری کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات و علم وقدرت کا اظہار ہو (نبہ علیہ ابن قیم فی بدائع الفوائد) بقیہ صفات ان ہی دو صفتوں سے کسی نہ کسی طرح تعلق رکھتی ہیں۔ صوفیا کے ہاں جو ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔ " کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ " گو محدثین کے نزدیک صحیح نہیں۔ مگر اس کا مضمون شاید اس آیت کے مضمون سے ماخوذ و مستفاد ہو واللہ اعلم۔ تم سورة الطلاق وللّٰہ الحمد والمنۃ۔