Explained with ayahs 8–11
شریعت پر چلنا ہی۔۔ روشنی کا انتخاب ہے
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول ﷺ کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول ﷺ سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا اس وقت نادم ہنے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی ؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہوجاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والوں چاہئے کہ ان جیسے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة الطَّلَاق 20
اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہونگے، اور اگر اطاعت کی راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(آیت) قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا، رسولاً اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی کلھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کہ ذکر اللہ کی کثرت کے سبب ان کا وجود گویا خود ذکر اللہ بن گیا وغیرہ ذلک (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(اعد اللہ لھم عذابا شدیدا۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم ایت اللہ مبینت لیخرج الذین امنوا وعملوالصلحت من الظلمت الی النور ومن یومن باللہ ویعمل صالحا شدید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا) (10۔ 11)
(ایک موثر تنبیہ و ترغیت)۔ یہ نہایت واضح الفاظ میں مسلمانوں کو تنبیہ بھی ہے ساتھ ہی نہایت موثر انداز میں ترغیب بھی کہ اللہ نے تمہاری طرف اپنی یاددہانی (قرآن) بھی نازل کردی اور اپنا رسول بھی بھیج دیا ہے۔ اب آگے کا کام تمہارا ہے کہ تاریکی سے روشنی کی طرف نکالنے کے لیے جو اہتمام اللہ نے فرمایا ہے اس کی قدر کرتے ہو یا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 1 عَتَتُ ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔
7۔ 2 نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
13: یہ قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جو احکام عطا فرماتا ہے، ان کے آگے پیچھے بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے احساس سے ڈرتے رہنا چاہیے، یہی وہ احساس ہے جو تمہارے لئے ان احکام پر عمل کرنا آسان بنادے گا۔
Read the full tafseer →اعداللہ ................ شدیدا (56 : 01) ” اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اس عذاب اور برے انجام کی یہ تفصیلات اس لئے دی ہیں کہ اللہ کے کے احکام کی نافرمانی کی سزا کا خوف دیر تک انسانی اعصاب پر رہے۔ یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مناظر کو نہایت ہی مفصل اور طوالت سے بیان کرتا ہے۔
اس ڈراوے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ باری باری نافرمانی اقوام کو پکڑا گیا اور اس پکڑ کا ذکر یہاں احکام وقوانین کی نافرمانی کے ضمن میں آرہا ہے۔ گویا طلاق کے احکام قوانین کا تعلق بھی سنت الٰہیہ سے ہے۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوانین طلاق محض ایک سوال لاء ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق امت…
Read the full tafseer →9 پہلے دنیاوی عذاب کا ذکر تھا اب اخروی عذاب بیان کیا۔
10 یعنی یہ عبرتناک واقعات سن کر ایمانداروں کو ڈرتے رہنا چاہیے کہیں ہم سے ایسی بےاعتدالی نہ ہوجائے کہ خدا کی پکڑ میں آجائیں۔ العیاذ باللہ۔
11 یعنی قرآن، یا " ذکر " بمعنی " ذاکر " ہو تو خود رسول ﷺ مراد ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 10{ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًالا } ”اللہ نے ان کے لیے بہت شدید عذاب تیار کر رکھا ہے“
{ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓــاُولِی الْاَلْبَابِج الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو ‘ جو ایمان بھی لائے ہو !“
نوٹ کیجیے ! یہاں پھر تقویٰ کے بارے میں تاکید کی جا رہی ہے۔ قبل ازیں پہلے رکوع میں چار مرتبہ تقویٰ کا ذکر آچکا ہے۔
{ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَـیْکُمْ ذِکْرًا } ”اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کردیا ہے۔“
Read the full tafseer →24 ذکر کے مختلف مفہوم :۔ آیت نمبر 10 میں ذکر سے مراد قرآن کریم ہے اور یہ لفظ ان معنوں میں قرآن کریم میں متعدد بار استعمال ہوا۔ مثلاً ارشاد باری ہے : ( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :9) یعنی ہم ہی نے یہ قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں واضح رہے کہ ذکر کا لغوی معنی یاددہانی اور نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن انسان کو عہد الست کی بھی یاددہانی کراتا ہے۔ اور سابقہ رسولوں کی تعلیمات کی بھی۔ اور ذکر کو اگر اس کے وسیع معنوں میں لیا جائے تو اس سے مراد وہ تمام وحی ہے جو آپ پر نازل ہوئی۔ اور جو قرآن کی ہی تفسیر و تعبیر پیش کرتی ہے۔ یعنی اللہ نے…
Read the full tafseer →21۔ یعنی آخرت میں۔ اور یہ اخروی عذاب اس دنیوی عذاب کے علاوہ ہے۔
22۔ (کہ ایمان اور فہم دونوں کا تقاضہ یہی ہے) آج کی ” روشن خیال “ دنیا میں عقل وفہم کے معنی بھی مسخ ہو کر اور الٹ کر رہ گئے ہیں۔ اب کمال ” عقل “ کے معنی تمام تر آخرت فراموشی کے سمجھ لیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو، دیگر مفسرین حضرات نے اور توجیہات بھی لکھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کثرت ذکر کی وجہ سے رسول گویا خود ذکر ہوگیا تو یہ زید عدل کے قبیل سے ہوگا۔
Read the full tafseer →اور (آخرت میں) اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔
فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا
” سو اے سمجھدار لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو ‘ خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا
فَاتَّقُوا اللہ : یعنی اپنے رب کے حکم اور پیغمبروں کی ہدایت سے سرکشی مت کرو تاکہ وہ عذاب ‘ جو سرکش بستیوں پر آچکا ہے تم پر بھی نہ آجائے۔
یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ : الذین اولی الالباب سے بدل ہے یا صفت موضحہ ہے عقلمندی کا تقاضا ایمان ہے۔
ذِکْرًا : یعنی قرآن اللہ نے اتارا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) سو آخرت میں ہم ان کا سخت حساب کرلیں گے اور دنیا میں بھی ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی غرض کہ انہوں نے دنیا میں اپنے اعمال کا ہلاکت کے ساتھ مزہ چکھ لیا اور آخرت میں بھی ان کا انجام خسارہ ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے اے سمجھدارو جو کہ ایمان لائے ہو تم اللہ سے ڈرو، اللہ نے رسول کے ساتھ تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ یعنی قرآن بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اَعَدَّ اللہ ُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا : پچھلی آیات میں دنیا کے عذاب کا ذکر تھا ، اس میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔
2۔ فَاتَّقُوا اللہ یٰٓـاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : یہ ”فائ“ فصیحہ ہے جو محذوف شرط کا اظہار کر رہی ہے ، یعنی جب تم ان بستیوں کا حال سن چکے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی تو اے عقل والوں جو ایمان لا چکے ہو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچ جاؤ۔
3۔ قَدْ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا :”ذکرا“ پر تنوین تعظیم کی ہے ، عظیم نصیحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
وکاین من قریۃ جب احکام کا ذکر کیا تو امر کی مخالفت سے خبردار کیا اور قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نزول کا ذکر کیا۔ سورة آل عمران میں کاین کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ عتت عن امر ربھا یعنی انہوں نے نافرمانی کی۔ ذکر قریہ کا کیا مراد اس کے مکین ہیں۔ فحاسبنھا حسابا شدیدا یعنی دنیا میں ہم نے انہیں عذاب دے کر بدلہ دیا۔ و عدینھا عذابا نکرا۔ یعنی آخرت میں بھاری سزا دی۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (1) ! دنیا میں ہم نے انہیں بھوک، قحط، تلوار، زمین میں دھنسانا، صورتیں مسخ کرنا اور باقی ماندہ مصائب میں مبتلا کیا اور آخرت میں شدید ترین حساب لیا۔ نکرت مراد منکر ہے۔ اسے مخفف اور مشتل دونوں طرح…
Read the full tafseer →5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد انزل اللہ الیکم ذکر۔ رسولا۔ خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا ہے جو ایک رسول ہیں۔ یعنی محمد ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →[اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ : تیار کیا اللہ نے ان کے لیے ] [عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ] [فَاتَّقُوا اللّٰهَ : تو تقوٰی اختیار کرو ] [يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے خالص عقل والو جو ایمان لائے ] [قَدْ انزَلَ اللّٰهُ : اتار دیا ہے اللہ نے ] [اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [ذِكْرًا : ایک یاددہانی (قرآن)]
ترکیب : (آیت۔ 10) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو یٰاُولِی الْاَلْبَابِ سے متعلق مانا جائے ایسی صورت میں اس پر جملہ ختم ہوگا اور قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ سے نیا جملہ شروع ہوگا اور مطلب ہوگا اے وہم و جذبات سے پاک عقل والو جو ایمان لائے ہو۔ دوسرا امکان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
گزشتہ ہلاک شدہ بستیوں کے احوال سے عبرت حاصل کرنے کا حكم
ان آیات میں سرکش اقوام کی ہلاکت اور بربادی کا اور ایمان اور اعمال صالحہ والوں کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ صاہب معالم التنزیل فرماتے ہیں کے آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو دنیا میں بھوک اور قحط کا اور تلواروں سے مقتول ہونے کا اور دوسری مصیبتوں کا عذاب دیا اور آخرت میں ان سے سخت حساب لیں گے، ان لوگوں نے سرکشی کی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے منہ موڑا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ لہٰذا دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوئے اور عذاب بھی منکر تھا بہت سخت اور برا تھا اور رسوا کن تھا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
تنبیہ وتحذیر برنافرمانی رب العالمین ودرس عبرت بہ بیان ہلاکت قریہائے مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من قریۃ عتت ..... الی ...... بکل شیء علما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں معاشرت اور معاملات کے احکام ذکر فرمائے جارہے تھے جن میں عدل و انصاف کا حکم تھا اور عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیاد خوف خدا ہے اس وجہ سے درمیان میں تین بار (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ ذکر فرمایا گیا کہ اللہ کا تقوی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اللہ کے تقوی سے دشواریاں آسانیوں سے بدل جاتی ہیں، اور اللہ کے تقوی سے انسان اپنی برائیوں سے پاک ہو کر مستحق اجر عظیم ہوتا ہے تو اب ان آیات میں میں اللہ کی نافرمانی پر وعید اور…
Read the full tafseer →11:۔ ” فاتقوا اللہ “ اے عقلمند مؤمنین ! اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کی اطاعت کرو۔ اس نے تمہاری رہنمائی کے لیے ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جو سراپا نصیحت ہے اور ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو اس کی واضح ور روشن آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ مومنین صالحین کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کرے۔ رسولا، ذکرا سے بدل ہے، تلاوت قرآن پر مواظبت کی وجہ سے آپ کو ذکر فرمایا۔ یا رسولا کا فعل ناصب مقدر ای ارسل رسولا۔ سدی اور ابن عطیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے (روح) ۔ امام زجاج، قرطبی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی (مظہری) اور حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک بھی یہی مختار ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات :
پچھلی آیات میں اللہ نے عورتوں کے نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ سے متعلق عائلی قوانین بتائے اور ان کی پابندی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرو ورنہ تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اب اللہ نے بطور عبرت یاد دلایا کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح نیست ونابود کیا۔
نافرمان قوموں کی تباہی :
ارشا د ہوتا ہے وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا و رسلہ ، بہت سی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے تجاوز کیا ، اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے بھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فحاسبنھا حسابا شدیداً پس ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا وعذبنھا عذاباً نکرا اور ان کو سخت سزا میں…
Read the full tafseer →اَعَدَّ اللہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا 0 ۙ فَاتَّقُوا اللہَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ 0ڀ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0 ۭۣۛ قَدْ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۙ
عد ( اعداد)
والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔
تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اَعَدَّاللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا لا فَاتَّـقُواللّٰہَ یٰٓـاُوْلِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قف ط قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا۔ رَّسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتِ لِّـیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدًا ط قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَـہٗ رِزْقًا۔ (الطلاق : 10، 11)
(اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو، جو ایمان لائے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے عائلی قوانین بیان کرتے ہوئے انہیں کئی مرتبہ حدود اللہ قرار دیا ہے اور بار بار حکم دیا ہے کہ میاں، بیوی کو حدود کے بارے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اگر دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو علیحدگی بھی اچھے انداز میں ہونی چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔ اگر لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کا انجام اپنے سامنے رکھنا…
Read the full tafseer →10 : اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے) اس میں وعید کو دوبارہ لائے اور اس بات کی وضاحت فرمائی کہ یہ ہے جس کا انتظار ہے۔ گویا اس طرح فرمادیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اعد اللہ لھم ھذا العذاب۔ کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کیا ہے۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓـاُ ولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (پس اے سمجھدار لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو) اے عقل والو ! ایمان والوں میں سے یہ تمہارے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تقوے میں مہربانی اور اس کے عقاب سے بچنے میں خیر ہے۔ اوپر والی آیات حاسبنہا کو ملا کر تفسیر کر رہے اور یہ بھی جائز…
Read the full tafseer →9 ۔” فذاقت وبال امرھا “ اس کے امر کی جزاء اور کہا گیا ہے اس کے کفر کے انجام کا بوجھ۔” وکان عاقبۃ امرھا خسرا “ دنیا اور آخرت میں خسارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اللہ تبارک تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگ کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت حساب اور دردناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی ور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ) لہذا ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو۔ یعنی ایسی عقل رکھنے والو جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اس ہستی نے گزرے ہوئے زمنے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔
قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…
Read the full tafseer →[ 33] انکار حق کا نتیجہ، ہولناک خسارہ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہا کرو اللہ کی ناراضگی سے ہمیشہ اور ہر موقع پر اور ہر حال میں۔ یعنی جب تم لوگوں نے ان گزشتہ قوموں کے انجام کے بارے میں سن اور جان لیا تو تم اس رویہ ورش سے بچو جس کی بناء پر وہ اس ہولناک خسارے سے دوچار ہوئے پس تم لوگ اللہ کی گفت وپکڑ اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش میں رہو ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کا ہوچکا ہے کہ اللہ کا قانون سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے پس کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں اور فاسق وفاجر فسق و فجور سے باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام
تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات)
اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
آیات 8 تا 12۔
اسرار ومعارف۔
مغربی معاشرہ۔
پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1 ذکر سے مراد قرآن ہے اور اگر ذاکر کے معنی میں لیا جائے تو اس سے مراد خود آنحضرت بھی ہوسکتے ہیں۔2 یعنی جنت میں انہیں فراخ روزی دی جو نہ کبھی فنا ہوگی اور نہ کم
Read the full tafseer →(65:10) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔ اس نے تیار کیا۔ لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب بستیوں میں رہنے والوں کے لئے ہے۔
عذابا شدیدا : عذابا مفعول بہ موصوف، شدیدا صفت، سخت عذاب۔
فائدہ : اعد اللہ لہم عذابا شدیدا۔ (آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ترجمہ مولنا حقانی (رح)) مخاطبین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نے بستیوں کے مکینوں کا حال سنا کہ کس طرح ان کی رب سے سرکشی اور اس کے رسول کی نافرمانی ان کے سخت محاسبہ اور شدید عذاب پر منتج ہوئی اور ان کا انجام خسران یعنی گھاٹا ہی رہا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
لغات القرآن۔
کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔
تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔
جب اللہ نے ان قوموں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
نافرمانوں کا انجام۔
(ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(10) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اور بھی ایک سخت عذاب تیار کررکھا ہے پس اے اہل دانش اور اے عقل والو ! جو ایمان لاچکے ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس ایک نصیحت بھیجی ہے - یعنی ان نافرمان بستیوں کے لئے صرف دنیاوی عذاب پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان کے لئے آخرت میں بھی سامان عذاب تیار کررکھا ہے پس یہ حالات معلوم ہونے کے بعد سرکشی کا بدلا دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔
اے ارباب عقل وایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے احککام بجا لائو اور نافرمانی اور سرکشی کا تصور بھی نہ کرو اور نافرمانوں کا جو حشر ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہو اس نے تمہاری ہدایت کے لئے…
Read the full tafseer →ف 5۔ ڈرنا یہ کہ اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کا مزہ چکھا اور آخرت کا خسارہ اس کے علاوہ ہے
9 ؎ ہم نے پیچھے ان قوموں اور بستیوں کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا ہے اور انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی سرگزشتیں بھی بیان کی ہیں ، ذران قوموں کی تاریخ کو پڑھو اور ان برباد شدہ شہروں اور بستیوں کی درد بھری داستانیں سنو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں اور رسولوں کی اطاعت سے منہ موڑا اور تمردو سر کشی کا راستہ اختیار کیا تو ہم نے بھی ان سے بڑی شدید قسم کی باز پرس کی اور ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس کے نتیجہ میں وہ ( سباء منثورا) ہو کر رہ گئے۔ اس دنیا میں ہی ان کے کرتوتوں اور بداعمالیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا (Allah has sent down to you a Reminder, a messenger...65:10-11). The verb arsala 'sent' needs to be understood preceding the object rasulan 'a messenger' which appears at the commencement of verse [ 11]. The simplest way in which these verses can be interpreted is to translate them thus: 'Allah has sent down to you a Reminder, (the Qur'an and He has also sent to you) a messenger...65:11) Other commentators have preferred other interpretations. For instance some say that the word dhikr ('Reminder' ) refers to the Holy Prophet ﷺ himself, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
20 Now, the Muslims are being warned of the fate the would meet I this world and in the Hereafter is they disobeyed the Commands they have been given through the Messenger of AIIah and His Book and the rewards they would receive if they adopted obedience.
Read the full tafseer →