Ayah 65:1اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ ) اے نبی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ پس، تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجہ طلاق تلاش کرو جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ( فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ) انہیں ان کی عدت کے آغاز کے وقت میں طلاق دو ۔ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے ظاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے، پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہوجائے گا۔ اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہوگی لہذا واضح نہ ہوگا کہ وہ کون سی عدت شمار کرے جبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے (وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ ۚ ) یعنی ایسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حقوق، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی بھی ہے نیز اس میں مطلقہ کے نان ونفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس کے حمل یا حیض وغیرہ کا حال واضح طور پر معلوم ہوگا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔ عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے اگر بیوی مکلف ہے ورنہ اس کے سرپرست کی طرف ( وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ ۚ ) یعنی اپنے تمام امور میں تقوی اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ (لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ ) عدت کی مدت کے دوران اور ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر شوہر نے اس کو طلاق دی ہے (وَلَا يَخْرُجْنَ ) اور نہ وہ خود نکلیں۔ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کرسکے جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا ہے اور اس کی عدم حفاظت ہے طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کے پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ( اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۭ ) مگر یہ کہ وہ صریح بےحیائی کریں یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہوا اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھروالوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلا فحش اقوا، عافعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا گھروالوں کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود ہی بنی ہے یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان ونفقہ کے تابع ہے اور نان ونفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو اس کے لیے نان ونفقہ نہیں ہے۔ (وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ) یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے مقررر کرکے مشروع کیا ہے اور ان کا حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کا حکم دیا ہے۔ (ۭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ ) اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے۔ (فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۭ ) تو یقینا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے ہے جن میں دنیا وآخرت کی اصلاح ہے اپنے حصے کو ضائع کیا۔ (لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا) تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کرکے اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1۔ عدت کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کردے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کرلے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کردے۔ یہ چیز مطلقہ سے رجوع کرنا عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔ 2۔ ہوسکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہوجائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرلے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہوگیا ہے۔ 3۔ ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران میں اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی برات معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 65:2(فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ ) یعنی جب طلاق یافتہ عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انہوں نے عدت پوری کرلی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یاجدا کردینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ( فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ (اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) یا دستور کے مطابق انہیں الگ کردو۔ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں خوئی محذور امر نہ ہو باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ (وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ ) اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو اپنے مسلمانوں میں سے دو عادل مردوں کو کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کیطرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے۔ (وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ۭ ) اے گواہو ٹھیک ٹھیک ادا کرو گواہی اللہ کے لیے۔ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتے دار کی، اس کی رشتے داری اور کسی دوست کی اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو (ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ڛ) یہ جو تمہارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ اللہ اور آخرت پر ایمان صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں اپنی آخڑت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کرگیا پس اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم بھی نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔ چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کردیت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقوی کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ جو طلاق وغیرہ میں تقوی پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور رنج وغم سے نجات کی راہ نکالے گا جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں نہ ہو نہ ایسے طہر میں ہو جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا ہے آیت اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عموم لفظ کا ہے پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے تو اللہ دنیا وآخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے جیسا کہ کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلوخلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجئے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے مثلا ایک بارگی تینوں طلاقیں دے دینا وغیرہ، تو اسے ایسی پشمانی ہوگی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
Ayah 65:3اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ ) اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ( وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ) جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ پر توکل کرتا ہے یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ بھروسا کرتا ہے (فھو حسبہ) تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے جس میں اس نے اس پر بھروسا کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے بنا بریں فرمایا (اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ ) بیشک اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ یعنی اس کی قضا وقدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے۔ لیکن ( قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقرر کررکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
Ayah 65:4چونکہ اللہ تبارک وتعالی نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق عورتوں کی عدت کے لیے ہے اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ ) وہ عورتیں جنہیں حیض آتا تھا پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ( ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ ) تین مہینے ہے۔ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ( وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ۭ ) یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشاد میں بیان فرمائی ہے (والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قرو۔ البقرہ 228) اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔ (وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۭ ) اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت، یعنی ان کی عدت وضع حمل تک ہے۔ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں ان کو وہ جنم دے دیں اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہوگا۔ (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا) یعنی جو تقوی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کردیتا ہے۔
Ayah 65:5(ذٰلِكَ ) یہ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے۔ (اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗٓ اِلَيْكُمْ ۭ ) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ تاکہ تم اس پر چلو اسے اپنے راہ نما بناؤ ور اس کی تعظیم کرو۔ اور جو الللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا یعنی محذر اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہوگا۔
Ayah 65:6پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کو گھروں سے نکلانے سے روکا ہے اور اس مقام پر اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمای اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان دونوں کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ (وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ۭ ) یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول وفعل کے ذریعے سے اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہعدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آکر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔
آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔
(وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ) اور اگر ہوں۔ یعنی مطلقات حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان ونفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے نان ونفقے کی انتہا وضع حمل تک ہے جب وضع حمل ہوجائے توہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں ؟ ( ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ۚ ) پس اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو ۔ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہے ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں۔ ( وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ ۚ ) یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ یک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا وآخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معرف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شرکا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا نیزباہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقوے پر تعاون ہے۔
اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان خاص طور پر جب اند ونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقے کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازعہ اور جھگڑا واقع ہوجاتا ہے جدائی عموما بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں لہذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے ( وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ ) اور اگر تم باہم ضد ( اور نااتفاقی) کرو۔ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ مطلقہ بیوی اپنے بچے کو دوھ پلائے (فَسَتُرْضِعُ لَهٗٓ اُخْرٰى) تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے۔ فرمایا (فلاجناح علیکم اذا سلمتم ما اتیتم بالمعروف۔ البقرہ 233) ۔ اگر تمہارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلونے کا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کردو جو تم نے طے کی تھی یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہوں اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہیں کرتا تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہوگی اور ماں پر رضاعت واجب ہوگی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرکے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہوسکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنی سے ماخوذ ہے کیونہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے وہ تو باہر نہیں آسکتا توا للہ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے اور جب بچہ متولد ہوجاتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کرسکتا ہے تو اللہ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کردی ہیں چناچہ بچہ اگر ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں ہی کو مقرر کیا جائے گا۔
Ayah 65:7پھر اللہ تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نان نفقہ مقرر فرمایا ہے چناچہ فرمایا (لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ ) وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے وہ اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقرا خرچ کرتے ہیں ( وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ ) اور جسے کا اس کا رزق نپا تلے ملے۔ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ( فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ ۭ ) تو وہ اسی رزق میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اس کو عطا کیا ہے۔ ( لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا ۭ ) اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقے وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ (سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا) یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ ان سے سختی کو دور کردے گا اور مشقت کو اٹھالے گا کیونکہ (فان مع العسر یسرا۔ ان مع العسر یسرا۔ الم نشرح، 5، 6) بلا شبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
Ayahs 65:8–10اللہ تبارک تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگ کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت حساب اور دردناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی ور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ) لہذا ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو۔ یعنی ایسی عقل رکھنے والو جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اس ہستی نے گزرے ہوئے زمنے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انہی کے مانند ہیں دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
Ayah 65:11پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے پس کچھلوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ (وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا) اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے۔ یعنی واجبات ومستحبات پر عمل کرے۔ (يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے ( خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے انہیں خوب رزق دیا ہے، یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 65:12پھر اللہ تبارک وتعالی نے خبر دی ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اس طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے یہ سب کچھ اسلیے ہے کہ بندے کو اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیا پر محیظ ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنی اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق وامر کا یہی مقصد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، چناچہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے، جن کو توفیق سے بہرہ مند کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کررہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔