65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں عدت سے پہلے طلاق دو ، اور عدت کو اچھی طرح شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ان عورتوں کو تم ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بےحیائی کرلیں یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے سو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، اے مخاطب شاید تو یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا فرما دے،

طلاق اور عدت کے مسائل، حدود اللہ کی نگہداشت کا حكم یہاں سے سورة الطّلاق شروع ہے اس کے پہلے رکوع میں طلاق اور عدت کے مسائل بتائے ہیں درمیان میں دیگر فوائد بھی مذکور ہیں چونکہ اس میں عورتوں سے متعلقہ احکام مذکور ہیں اس لیے اس کا دوسرا نام سورة النساء القصریٰ بھی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسے اس نام سے موسوم کیا۔ اصل بات تو یہی ہے کہ جب مرد عورت کا آپس میں شرعی نکاح ہوجائے تو آخر زندگی تک میل محبت کے ساتھ زندگی گزار دیں، لیکن بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ طبیعتیں نہیں ملتی ہیں اور کچھ ایسے اسباب بن جاتے ہیں کہ علیحدگی اختیار کرنی پڑجاتی ہے لہٰذا شریعت اسلامیہ میں طلاق کو بھی مشروع قرار دیا ہے، جب شوہر طلاق دے دے تو اس کے بعد عورت پر عدت گزارنا بھی لازم ہے جب تک عدت نہ گزر جائے عورت کو کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ عدت کے بھی متعدد احکام ہیں، حیض والی عورت اور حمل والی عورت اور بےحمل والی عورت اور زیادہ عمر والی عورت (جسے حیض نہ آتا ہو) ان کے ایام عدت میں فرق ہے، جن عورتوں کو حیض آتا ہے اگر ان کو طلاق دے دی جائے اور حمل سے نہ ہوں تو ان کی عدت حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کے نزدیک تین حیض ہیں اور حضرات شافعیہ کے نزدیک تین طہر ہیں یہ اختلاف لفظ قروء کا معنی متعین کرنے کی وجہ سے ہوگیا ہے جو سورة البقرہ میں وارد ہوا ہے۔ یہ لفظ قرء کی جمع ہے جو لفظ مشترک ہے حیض کے معنی میں بھی آتا ہے اور طہر کے معنی بھی۔ اپنے اپنے اجتہاد کے پیش نظر کسی نے اس کو حیض کے معنی میں لیا اور کسی نے طہر کے معنی میں لیا، ہر فریق کے دلائل اور وجوہ ترجیح اپنے اپنے مسلک کی کتابوں میں لکھی ہیں۔ یہاں سورة الطّلاق میں فرمایا کہ اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ایسے وقت میں طلاق دو کہ طلاق کے بعد ان کی عدت شروع ہوجائے۔ اس میں ابتدائی خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اس کے بعد ضمیر جمع مذکر حاضر لا کر ﴿ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ﴾ فرمایا ہے کیونکہ امت کے لیے احکام بیان کرنا مقصود ہے، حیض والی عورت کی عدت حنفیہ کے نزدیک چونکہ تین حیض ہیں اس لیے ان کے نزدیک ﴿ فَطَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ ایسے وقت میں طلاق دو کہ اس کے بعد عدت شروع ہوجائے طلاق کے بعد جو پہلا حیض آئے گا وہ حیض اور اس کے بعد دو حیض آنے پر عدت تمام ہوجائے گی، جب عدت گزارنے کے لیے تین حیض پورے کرنے ہیں تو طلاق ایسے وقت پر دی جائے جو حیض شروع ہونے سے پہلے ہو اور یہ وقت طہر کا ہے اور بموجب حکم حدیث طلاق اس طہر میں دینی چاہیے جس میں جماع نہ کیا ہو یا عورت کو حمل ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی جبکہ وہ حیض کے دن گزار رہی تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کردیا، آنحضرت ﷺ کو اس پر غصہ آگیا پھر فرمایا کہ اس سے کہو کہ رجوع کرلے پھر پاک ہونے تک اسے روکے رکھے پھر جب ایک حیض آجائے اور اس کے بعد پاک ہوجائے اور طلاق دینے کی رائے ہو تو طلاق دے دے، یہ طلاق طہر کی حالت میں ہو اور ایسے طہر میں ہو جس میں جماع نہ کیا ہو، پھر فرمایا کہ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ (صحیح بخاری صفحہ 729: ج 2) صحیح مسلم (جلد نمبر 1) میں ہے : (فقال لہ النبی ﷺ لیراجعھا وقال اذا طھرت فلیطلقھا او یمسک قال ابن عمر ؓ عنھما وقرء النبی ﷺ یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقو ھن فی قبل عدتھا وھو بضم القاف والباء ای فی وقت تستقبل فیہ العدة وھو تفسیر النبی ﷺ للفظ لعدتھن۔ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض میں طلاق دینا ممنوع ہے اگر حیض میں طلاق دے دی تو رجوع کرلے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ طلاق ایسے طہر میں دے جس میں جماع نہ کیا ہو ﴿ فَطَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ ﴾ کی مذکورہ بالا تفسیر سے معلوم ہوگیا کہ ﴿ٖفَطَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ طہر میں طلاق دی جائے تاکہ اس کے بعد پورے تین حیض آجانے پر عدت ختم ہوجائے اور حضرت شوافع کے نزدیک چونکہ عدت طہروں سے معتبر ہے اس لیے ان کے نزدیک آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ طہر کے شروع میں طلاق دیدو تاکہ عدت وہیں سے شروع ہوجائے۔ عدت کو اچھی طرح شمار کرو : ﴿وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ ﴾ کا معنی یہ ہے کہ عدت کو اچھی طرح سے شمار کرو کیونکہ اس سے متعدد مسائل متعلق ہیں، اس میں سے ایک تو رجعت کا ہی مسئلہ ہے، جب کسی عورت کو رجعی طلاق دیدے تو عدت کے اندر اندر رجوع کرنا جائز ہے اور زمانہ عدت کا خرچہ بھی طلاق دینے والے مرد کے ذمہ ہے، عدت گزرنے تک اس کا خرچہ دے، اگر عدت کے اندر شوہر نے رجوع نہ کیا تو عورت کو عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، اگر اچھی طرح عدت کو شمار نہ کیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ ان احکام میں فرق پڑجائے مثلاً عورت عدت کے اندر دوسرا نکاح کرلے یا عدت گزرنے کے بعد بھی شوہر سے خرچہ مانگتی رہے یا عدت کے ختم ہونے کے بعد شوہر یہ سمجھ کر کہ ابھی عدت پوری نہیں ہوئی رجوع کرلے۔ ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ ﴾ (اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے) عورت جھوٹ نہ کہہ دے کہ میری عدت گزر گئی اور مرد عدت گزرنے کے بعد بھی رجوع کا دعویدار نہ ہوجائے اور عدت گزر جانے کے باوجود عورت خرچہ وصول نہ کرتی رہے۔ مطلقہ عورتوں کو گھر سے نہ نکالو : ﴿لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ ﴾ (جن عورتوں کو تم نے طلاق دیدی انہیں عدت کے درمیان گھر سے نہ نکالو اور عورتیں بھی گھر سے نہ نکلیں) عدت گزرنے تک اس گھر میں رہیں جس میں طلاق ہوئی ہے۔ جس عورت کو طلاق ہوگئی ہو اس کا نفقہ یعنی ضروری خرچہ اور رہنے کا گھر طلاق دینے والے شوہر کے ذمہ ہے، مرد بھی اسے اس گھر میں رکھے جہاں اسے طلاق دی ہے اور عورت بھی اسی گھر میں رہے : ﴿ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ﴾ اس میں استثناء کی ایک صورت بیان فرمائی ہے یعنی اگر مطلقہ عورت عدت کے زمانہ میں کھلی ہوئی بےحیائی کر بیٹھے تو اسے گھر سے نکالا جاسکتا ہے جس میں اس کو طلاق دی ہے مثلاً اگر اس نے زنا کرلیا تو حد جاری کرنے کے لیے اس کو گھر سے نکالا جائے گا پھر واپس اسی گھر میں لے آئیں گے۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فاحشہ مبینہ کا مطلب یہ ہے کہ مطلقہ عورت بدزبان ہو اگر شوہر اور شوہر کے گھر والوں کے ساتھ بدزبانی کرتی ہو تو اس کی وجہ سے گھر سے نکالا جاسکتا ہے۔ ﴿ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ﴾ (اور یہ اللہ کے احکام ہیں) ان کی پابندی کرو۔ ﴿ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ 1ؕ﴾ (اور جو شخص اللہ کے حدود سے آگے بڑھ جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اپنی جان پر ظلم ہے اس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں سزا مل سکتی ہے۔ طلاق اور عدت اور رجعت اور گھر سے نکالنے کی تاکید ان میں سے کسی بھی حکم شرعی کی مخالفت کی تو یہ ظلم شمار ہوگا۔ ﴿ لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا 001﴾ (ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے کے بعد کوئی نئی بات پیدا فرما دے) مثلاً طلاق دینے پر ندامت ہوجائے اور دل میں رجوع کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، لہٰذا سوچ سمجھ کر احکام شرعیہ کو سامنے رکھ کر طلاق دینے کا اقدام کیا جائے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تین طلاق بیک وقت نہ دی جائیں کیونکہ اس کے بعد رجوع کا حق نہیں رہتا۔ اگر تین طلاق دینی ہی ہوں تو ہر طہر میں ایک طلاق دے دے۔ دو طلاق تک عدت میں رجوع کرنے کا حق ہے اگر تین طلاقیں بیک وقت دے دیں تو رجوع کا وقت ختم ہوجائے گا اور طلاق بائن دینے سے بھی رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے اس لیے سوچ سمجھ کر اقدام کرے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ عورتیں اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں روک لو بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دو بھلائی کے ساتھ اور عدل والے دو آدمیوں کو گواہ بنا لو اور اللہ کے لیے گواہی کو قائم کرو اور یہ وہ چیز ہے جس کی اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے

طلاق رجعی کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو تو مطلقہ کو روک لو یا خوبصورتی کے ساتھ اچھے طریقے پر چھوڑ دو ﴿فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ (جب مطلقہ عورتوں کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو تو انہیں خوبی کے ساتھ روک لو) یعنی رجوع کرلو۔ ﴿ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ (یا انہیں خوبی کے ساتھ جدا کر دو ) ایسا نہ کرو کہ انہیں دکھ تکلیف دینے کے لیے بار بار طلاق دیتے رہو اور رجوع کرتے رہو۔ یہ مضمون سورة البقرہ میں بھی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا : ﴿ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا﴾ (اور انہیں نہ روکو یعنی ایسا نہ کرو کہ انہیں ضرر پہنچانے یا دکھ دینے کی وجہ سے روک کر رکھے رہو) وہاں یہ بھی فرمایا ہے ﴿وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ﴾ (جو شخص ایسا کرے گا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا) (دیکھو انوار البیان جلد اول) ﴿وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ ﴾ (اور اصحاب عدل میں سے اپنے دو آدمیوں کو گواہ بنا لو) یہ امر استحبابی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق دینا ہو یا طلاق دینے کے بعد رجوع کرنا ہو یا طلاق بائن دے کر رجوع نہ کرنا طے کردیا ہو تو ان چیزوں پر دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو نیک صالح اور سچے لوگ ہوں تاکہ اگر کبھی پھر کوئی اختلاف کی صورت بن جائے تو گواہوں کے ذریعہ ثابت کیا جاسکے۔ ﴿ وَ اَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾ (اور گواہی کو اللہ کے لیے قائم کرو) ۔ اس میں یہ بتادیا کہ گواہی ٹھیک طریقہ پر قائم کی جائے یعنی صحیح گواہی دی جائے نیز یہ بھی بتادیا کہ جو بھی گواہی دی جائے وہ اللہ کی رضا کے لیے ہو جس کے ذریعہ مظلوم کا حق اسے مل جائے۔ اہل دنیا میں سے کسی کے دباؤ میں جھوٹی گواہی نہ دے دی جائے۔ اللہ کی رضا کے لیے گواہی دینے میں یہ بھی شامل ہے کہ اجرت پر گواہی نہ دے۔ گواہی دینے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے البتہ آنے جانے کا کرایہ لے سکتا ہے۔ شہادت کے تفصیلی احکام سورة البقرہ کے رکوع نمبر 39 میں گزر چکے ہیں : ﴿ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ اوپر جو باتیں بیان ہوئیں ان کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو۔ اوپر جو احکام مذکور ہوئے سراپا ہدایت ہیں ان کے ماننے میں خیر ہی خیر ہے۔ اہل ایمان پر لازم ہے کہ ان کا دھیان کریں اور ان کے مطابق چلیں، سامنے آخرت کا دن بھی ہے جسے آخرت کا یقین ہے حساب کتاب کا ڈر ہے اسے تو ضرور ہی نصیحت پر عمل کرنا لازم ہے۔ تقویٰ اور توکل کے فوائد : ﴿وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ002﴾ (اور جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے لیے اللہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے) ۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں اسے ملنے کا گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرلے سو وہ اس کے لیے کافی ہے بلاشبہ اللہ اپنا کام پورا ہی کر کے رہتا ہے بیشک اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر فرمایا ہے۔

﴿ وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق ملنے کا خیال بھی نہ ہو) اس میں مومن بندوں کے لیے بہت بڑی تعلیم ہے جو شخص فرمانبرداری کرے گا نیک اعمال میں لگے گا گناہوں سے بچے گا اور احکام شرعیہ پر عمل کرے گا (خواہ طلاق یا رجعت سے متعلق ہوں جن کا یہاں ذکر ہے۔ خواہ زندگی کے دوسرے شعبوں سے متعلق) ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی ہے۔ تقویٰ مومن بندوں کے لیے دنیا و آخرت میں فلاح کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ والوں سے دو وعدے کیے ہیں اول یہ کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی مخرج یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ نکال دے گا۔ دنیا میں مشکلات تو پیش آتی ہی رہتی ہیں۔ لوگ ان کے لیے تدبیریں کرتے رہتے ہیں بعض لوگ گناہوں کے ذریعہ ان کو دفع کرنا چاہتے ہیں لیکن پھر بھی مشکلات میں پھنسے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے وعدہ فرمایا کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں (کیا رجوع کرنے کی کوئی صورت ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم لوگ حماقت کا کام کرتے ہو پھر کہتے ہو اے ابن عباس، اے ابن عباس، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ002﴾ اور اے سائل تو اللہ سے نہیں ڈرا۔ میں تیرے لیے کوئی مخرج یعنی مشکل سے نکلنے کا راستہ نہیں پاتا، تو نے اللہ کی نافرمانی کی تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ 299) دوسرا وعدہ یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے والے کو اللہ ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اس کا دھیان بھی نہ ہوگا۔ دونوں وعدے دنیا سے متعلق ہیں اور آخرت سے بھی، تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے دنیا میں بھی خیر ہے مشکلات سے چھٹکارہ ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جہاں سے خیال بھی نہ ہو۔ یہ باتیں آزمائی ہوئی ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں اگر لوگ اس پر عمل کرلیں تو ان کے لیے کافی ہوجائے۔ وہ آیت یہ ہے : ﴿ وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ002 وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 453) ﴿وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ 1ؕ﴾ (اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے سو اللہ اس کے لیے کافی ہے) اس سے پہلے متقی کے لیے غیبی مدد اور خیر و خوبی اور رزق کا وعدہ فرمایا اور اس جملہ میں توکل کرنے والوں سے خیر کا وعدہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے کافی ہے یہ بھی بہت بڑی بشارت ہے اور اللہ کی طرف سے مدد اور نصرت کا اعلان ہے۔ تقویٰ اور توکل دونوں بڑی اہم چیزیں ہیں مومن کی گاڑی کے پہیے ہیں۔ کوئی دونوں کو اختیار کر کے تو دیکھے پھر دونوں چیزوں کی برکات بھی دیکھ لے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کا دل ہر وادی میں کچھ نہ کچھ مشغول رہتا ہے سو جس شخص نے اپنے دل کو ان سب مشغولیتوں میں لگا دیا اس کے بارے میں اللہ کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ اسے کس وادی میں ہلاک کر دے اور جو شخص اللہ پر توکل کرے اللہ اس کے سب کاموں کی کفایت فرمائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 453) حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آجاتے ہیں۔ توکل کے درجات ہیں ترک اسباب بھی ایک درجہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اسی کو اختیار فرمایا کہ میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہوجاؤں بلکہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے۔ ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَۙ0098 وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ (رح) 0099﴾ (اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور سجدہ کرنے والوں میں سے رہیے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کیجئے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 444) اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی بندہ متوکل ہوسکتا ہے بشرطیکہ اسباب پر بھروسہ نہ ہو بھروسہ اللہ پر ہی ہو اور حقیقی رازق اسی کو سمجھتا ہو جب یہ بات حاصل ہوجائے تو بندہ اسباب اختیار کرنے میں بھی گناہ سے بچتا ہے اور رزق حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرتا جس میں گناہ کو اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا انداز مقرر فرمایا ہے : ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ 1ؕ﴾ (بیشک اللہ اپنا کام پورا کر ہی دیتا ہے) وہ جو ارادہ فرمائے گا اس کے ارادہ کے مطابق ہو کر رہے گا اور احکام تشریعیہ میں جو حکم دینے کا ارادہ کرے گا وہ حکم دے ہی دے گا اس کے ارادہ کو کوئی روکنے والا نہیں۔ ﴿ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا 003﴾ (بےشک اللہ نے ہر چیز کو ایک انداز مقرر میں رکھا ہے) ۔ اسی کے مطابق تکوینی اور تشریعی احکام نافذ ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تم کو شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عورتوں کو حیض نہیں آتا اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کر دے گا،

عدت سے متعلق چند احکام کا بیان، حاملہ، حائضہ، آئسہ کی عدت کے مسائل ان آیات میں متعدد احکام بیان فرمائے ہیں۔ اولاً تو ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جن کو حیض آنا بند ہوا۔ ان کی عدت تین ماہ ہے۔ دوم وہ عورتیں جن کو حیض آنا شروع نہیں ہوا، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ پھر ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جن کو حمل ہو ان کا حمل جب بھی ختم ہوجائے (بچہ پیدا ہوجانے سے یا ایسے حمل ساقط ہوجانے سے جس کا کوئی عضو بن گیا تھا) ۔ عدت ختم ہوجائے گی، حمل والی عورتوں کی عدت علی الاطلاق وضع حمل جو بتائی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک اس کا عموم ہر عدت گزارنے والی عورت کو شامل ہے۔ جس کسی عورت کا شوہر کی وفات پر جو چار مہینے اور دس دن اور طلاق والی عورت کو جو عدت گزارنے کے لیے تین حیض گزارنے کا حکم ہے یہ ان عورتوں سے متعلق ہے جن کو حمل نہ ہو۔ فائدہ : جس کسی عورت کا کسی مرد سے نکاح ہوا ہو، پھر میاں بیوی کی تنہائی ہونے سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو ایسی عورت پر کوئی عدت واجب نہیں۔ فائدہ : جس عورت کو حیض آتا ہے پھر حیض آنا بند ہوگیا اور ابھی اس عمر کو بھی نہیں پہنچی جس میں حیض آنا بند ہوجاتا ہے (جس کو سن ایاس کہتے ہیں) ایسی عورت کو طلاق ہوجائے تو اس کی عدت تین مہینے گزرنے سے نہیں پوری ہوگی وہ انتظار کرے یا تو تین حیض آجائیں یا پھر سن ایاس آجائے جس میں بڑی عمر ہونے کی وجہ سے حیض آنا ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا ﴿وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا 004﴾ (کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے آسانی فرما دیتا ہے) دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانیاں ہوجاتی ہیں۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا،

پھر فرمایا ﴿ ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَيْكُمْ 1ؕ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ ﴿وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ وَ يُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا 005﴾ اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ اس رکوع میں تین بار تقویٰ کی فضیلت بیان فرمائی ہے پہلے تو یہ فرمایا جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو، پھر فرمایا جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے کاموں میں آسانی فرما دے گا، پھر فرمایا جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ تینوں آیات ملانے سے تقویٰ کی بڑی اہمیت اور ضرورت معلوم ہوئی اور اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تقویٰ اختیار کرنے پر جو وعدے فرمائے ہیں ان کا علم ہوا۔ کوئی شخص تقویٰ اختیار کر کے تو دیکھے پھر دیکھے اللہ تعالیٰ کے وعدے کس طرح پورے ہوتے ہیں لوگوں نے تقویٰ اور توکل کو چھوڑ دیا، عام طور سے لوگوں میں گناہگاری اور دنیا داری آگئی، لہٰذا غیبی مددیں بھی نہیں رہیں۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

تم ان عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو، اور ان کو تنگ کرنے کے لیے ضرر مت پہنچاؤ اور اگر وہ عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے تک ان پر خرچ کرو۔ پھر اگر وہ عورتیں تمہارے لیے دودھ پلائیں تو تم ان کو اجرت دو ۔ اور باہم مناسب طور مشورہ کرلیا کرو۔ اور اگر باہم کشمکش کرو گے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلا دے گی۔

تیسرا حکم یہ فرمایا ﴿ اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ﴾ کہ ان عدت گزارنے والی عورتوں کو وہیں ٹھہراؤ، جہاں تم ٹھہرے ہوئے ہو اپنی استطاعت کے مطابق۔ چوتھا حکم یہ فرمایا ﴿ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ﴾ (اور تم ان کو ضرر نہ پہنچاؤ تاکہ انہیں تنگی میں ڈال دو اور وہ تمہارے گھر سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں) ۔ پانچواں حکم یہ فرمایا کہ حمل والی عورتوں پر حمل وضع ہونے تک خرچ کرو۔ مطلقہ عورتوں کے اخراجات کے مسائل ان احکام کی توضیح اور تفسیر یہ ہے کہ عدت والی عورتوں کی پانچ قسمیں ہیں : (1) رجعی طلاق دی ہوئی ہو۔ (2) طلاق بائن یا مغلظ دی گئی ہو اور عورت حمل والی نہ ہو۔ (3) طلاق ملنے والی عورت حاملہ ہو۔ (4) وہ عورت جس نے شوہر سے خلع کرلیا ہو۔ (5) عدۃ الوفاۃ گزار رہی ہو۔ ان عورتوں کو جن اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے وہ تین ہیں : 1 کھانے کا خرچہ۔ 2 رہنے کا گھر۔ 3 کپڑے پہننے کی ضرورت طلاق رجعی ہو یا بائن یا مغلظ حالت حمل میں ہو یا غیر حمل میں۔ ہر صورت میں طلاق دینے والے کے ذمہ ہے کہ عدت کے زمانے کا نان و نفقہ برداشت کرے اور رہنے سہنے کے لیے گھر بھی دے اگر خود بھی اسی گھر میں رہے تو طلاق بائن یا مغلظہ ہونے کی صورت میں پردہ کر کے رہے اور اگر کسی عورت نے اپنے شوہر سے خلع کرلی تو یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہے وھو مقید بھا اذا لم تجعلہ داخلا فی بدل الخلع۔ (راجع البحر الرائق) اس میں بھی عدت واجب ہوتی ہے اور عدت کا نان و نفقہ اور رہنے کے لیے گھر دینا واجب ہوتا ہے اور جس عورت کا شوہر وفات پا گیا ہو اس پر عدت تو لازم ہے لیکن شوہر کے مال میں نان و نفقہ واجب نہیں یہ عورت اپنے مہر میں سے یا میراث کے حصہ میں سے اپنے اوپر خرچ کرے اگر خرچہ موجود نہ ہو اور میکہ والے بھی خرچ نہ کریں تو محنت مزدوری کر کے گزارہ کرلے، اگر اس کے لیے گھر سے نکلنا پڑے تو پردہ کے ساتھ دن میں باہر جاسکتی ہے اگر واپسی میں دیر ہوجائے اور تھوڑی سی ابتدائی رات اپنے گھر سے باہر گزر جائے تو اس کی اجازت ہے ضرورت پوری ہوتے ہی واپس آجائے اور رات کو اسی گھر میں رہے جس میں رہتے ہوئے شوہر نے وفات پائی ہے عدت وفات والی عورت کے شوہر کی میراث سے مذکورہ گھر میں اگر اتنا حصہ نہ نکلتا ہو جو اس کی رہائش کے لیے کافی ہو یا شوہر کے ورثا اس کو گھر سے نکال دیں یا مکان کرائے پر تھا اس کا کرایہ ادا کرنے کی طاقت نہ ہو یا اپنی جان یا مال کے بارے میں خوف و خطرہ ہو تو اس گھر کو چھوڑ سکتی ہے جس میں شوہر کی وفات ہوئی۔ مطلقہ عورتوں کو رہنے کی جگہ دینے کا حکم : ﴿اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ﴾ میں فرمایا ہے اور ﴿ مِّنْ وُّجْدِكُمْ﴾ فرما کر یہ بتادیا کہ اپنی وسعت قوت اور طاقت کو دیکھو اس کے مطابق اسے رہنے کو جگہ دو ، شریعت کی پاسداری کرو حکم شرعی ہونے کی وجہ سے انہیں اسی گھر میں ٹھہراؤ جس میں تم رہتے ہو ﴿ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ﴾ اور ان کو تکلیف نہ دو تاکہ تم انہیں تنگدل کر دو یعنی ایسی صورت اختیار نہ کرو کہ وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ قول سے یا فعل سے کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے اس کا تمہارے ساتھ رہنا دوبھر ہوجائے یہ تو مطلقہ عورتوں کو رہائش دینے کا حکم ہوا۔ اس کے بعد فرمایا : ﴿فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ﴾ جب اولاد پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ دونوں مل کر پرورش کرتے ہیں۔ بچے شفقت میں پلتے بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ ماں دودھ پلاتی ہے اور باپ بچہ پر اور بچہ کی ماں پر خرچ کرتا ہے لیکن اگر طلاق ہوجائے تو بچے کی پرورش کا اور دودھ پلانے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ مال کا دل تو چاہتا ہے کہ میں ہی اسے دودھ پلاؤں اگر مفت میں پلائے تو اسے اختیار ہے اور اچھی بات ہے اور اگر بچہ کے باپ سے دودھ پلانے کی مناسب اجرت مانگے تو یہ بھی جائز ہے اور باپ کے ذمے ہے کہ اسے دودھ پلانے کی اجرت دے۔ اس مضمون کو مذکورہ عبادت میں بیان فرمایا ساتھ ہی ﴿ وَ اْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ بھی فرما دیا مطلب یہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں باہمی مشورہ کرلیں اور بچہ کی خیرخواہی ہر ایک کے پیش نظر رہے عورت بھی مناسب سے زیادہ اجرت نہ مانگے اور باپ بھی اجرت طے کرنے کے بعد انکار نہ کرے۔ حق واجب کو نہ روکے، باپ یوں نہ سمجھے کہ چونکہ اس کا بچہ ہے اس کو پلانا پڑے گا میں اجرت دوں یا نہ دوں، كم دوں یا زیادہ دوں اور ماں یہ سوچ کر زیادہ اجرت نہ مانگے کہ اپنے بچے کی وجہ سے یہ منہ مانگی اجرت دینے پر راضی ہوگا۔ شرعاً باپ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بچہ کی ماں کی مطلوبہ اجرت ضرور ہی دے۔ زائد اجرت طلب کرنے کی صورت میں دوسری عورت سے بھی دودھ پلوا سکتا ہے لیکن ماں، ماں ہی ہے وہ زیادہ شفقت سے رکھے گی، باپ بچے کو اس کی ماں کے ذمے لگائے اور اسی سے دودھ پلوائے تو اسے بھی چاہیے کہ مناسب اجرت سے زائد نہ لے۔ رضاع اور ارضاع کے مسائل سورة ٴ بقرہ میں بھی گزر چکے ہیں۔ فائدہ : جب کسی مرد نے کسی عورت کو طلاق دے دی اور ماں نے بچہ کو پرورش کے لیے لے لیا تو جب تک شوہر کی طرف سے زمانہ عدت کا نان و نفقہ مل رہا ہے تو اس وقت تک دودھ پلانے کی اجرت طلب نہیں کرسکتی، یعنی دوہرا خرچہ نہیں دیا جائے گا۔ اور جب عدت گزر جائے اور ابھی دودھ پلانے کا زمانہ باقی ہے تو اب بچہ کی ماں بچہ کے باپ سے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے بچہ کے دوسرے اخراجات اس کے سوا ہوں گے۔ ﴿ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ006﴾ اور اگر تم آپس میں تنگی محسوس کرو کہ نہ ماں مناسب اجرت پر دودھ پلانے پر تیار ہو اور نہ باپ اس کی مطلوبہ اجرت دینے پر راضی ہو تو دوسری عورت پلا دے گی یہ بظاہر خبر بمعنی الامر ہے یعنی بچہ کا والد اور کسی دودھ پلانے والی کو تیار کرلے جو دودھ پلا دے، اس طرز خطاب میں تربیت ربانیہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک جان کو پیدا فرمایا ہے اور اسے زندہ بھی رکھتا ہے اور اس کی پرورش بھی کروانی ہے تو وہ کسی اور کو آمادہ فرما دے گا آخر بےماؤں کے بچے بھی تو پرورش پاتے ہی ہیں۔
Ayahs 65:7–9

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے اللہ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے اللہ تنگی کے بعد جلدی خوشحالی دے دے گا۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے ر ب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی۔ سو ہم نے ان کا سخت حساب کیا اور انہیں برا عذاب دیا

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو اس نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور ان کا انجام کا خسارہ ہوا۔

ہر صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے : ﴿ لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ 1ؕ﴾ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دے رکھا ہے) یعنی پیسہ والا آدمی بچہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور تنگ دست آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا 1ؕ﴾ (اور اللہ کسی جان کو اس سے زیادہ خرچ کرنے کا مکلف نہیں بناتا مگر جتنا اس کو دیا ہے) ۔ اللہ تنگی کے بعد آسانی فرما دے گا : ﴿ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا (رح) 007﴾ (اللہ تعالیٰ عنقریب تنگی کے بعد آسانی فرما دے گا) لہٰذا کوئی خرچ کرنے والا راہ خیر میں خرچ کرنے سے پہلو تہی نہ کرے اور مالیات کے سلسلہ میں جو فرائض وو اجبات ہیں ان میں خرچ کرے اور یہ نہ سوچے کہ اس کو خرچ کر دوں گا تو اور کہاں سے آئے گا۔ عموماً فقہاء کے کلام میں مطلقہ عورت کے لیے زمانہ عدت کا نان و نفقہ اور سکنی یعنی رہائش کا گھر دینے کا ذکر ہے کسوۃ یعنی پہننے کے کپرے دینے کا ذکر نہیں ہے۔ صاحب البحر الرائق نے اس پر توجہ فرمائی ہے اور لکھا ہے کہ ذخیرہ اور خانیہ اور عنایہ اور مجتبیٰ میں پوشاک کے مستحق ہونے کا بھی ذکر ہے۔ پھر لکھا ہے کہ اس کا تعلق حاجت اور ضرورت سے ہے اگر عورت کے پاس پہننے کے لیے کپڑے ہیں اور مدت بھی مختصر ہے مثلاً تین حیض یا تین ماہ ہیں تو کپڑے کا انتظام کرنا واجب نہیں اور اگر اسے کپڑوں کی ضرورت پڑگئی اور عدت کی مدت لمبی ہوگئی مثلاً حیض نہیں آتا جس کی وجہ سے طہر میں امتداد ہوگیا تو قاضی کپڑے بھی دلائے گا۔ ولم یذکر الکسوة ولامنقول فی الذخیرہ والخانیة والعانیة والمجتبٰی ان المعتدة تستحق الکسوة قالوا وانما لم یذکرھا محمد فی الکتاب لان العدة لا تطول غالبا فتستغنی عنھا حتی لو احتاجت الیھا یفرض لھا ذلک فظھر بھذا ان کسوة المعتدة علی التفصیل اذا استغنت عنھا لقصر المدة كما اذا کانت عدتھا بالحیض وحاضت او بالاشھر فانہ لا کسوة لھا وان احتاجت الیھا لطول المدة كما اذا کانت ممتدة الطھر ولم تحض فان القاضی یفرض لھا وھذا ھو الذی حررہ الطرسوسی فی انفع الرسائل وھو تحریر حسن مفھوم من کلامھم۔ (البحر الرائق صفحہ 216: ج 4)
Ayahs 65:10–11

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار فرمایا سو اے عقل والو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نامہ نازل فرمایا

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

ایک ایسا رسول جو تم پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے جو واضح طور پر بیان کرنے والی ہیں تاکہ ان لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو وہ اللہ اسے ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی مقرر فرمائی ہے۔

گزشتہ ہلاک شدہ بستیوں کے احوال سے عبرت حاصل کرنے کا حكم ان آیات میں سرکش اقوام کی ہلاکت اور بربادی کا اور ایمان اور اعمال صالحہ والوں کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ صاہب معالم التنزیل فرماتے ہیں کے آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو دنیا میں بھوک اور قحط کا اور تلواروں سے مقتول ہونے کا اور دوسری مصیبتوں کا عذاب دیا اور آخرت میں ان سے سخت حساب لیں گے، ان لوگوں نے سرکشی کی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے منہ موڑا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ لہٰذا دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوئے اور عذاب بھی منکر تھا بہت سخت اور برا تھا اور رسوا کن تھا پھر آخرت میں بھی ان سے سخت حساب لیا جائے گا وہاں سخت حساب کے جواب کی کسے تاب ہوگی لہٰذا وہاں پوری طرح خسارہ یعنی ہلاکت و بربادی کا سامنا ہوگا اور انجام کے طور پر دوزخ کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے دنیا میں بھی اپنے کیے کا وبال چکھا، اور آخرت میں بھی برباد ہوں گے اسی کو فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ کہ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار فرمایا ہے۔ قرآن کریم ایک بڑی نصیحت ہے : اس کے بعد اہل ایمان سے خطاب فرمایا اور انہیں اہل عقل بتایا ارشاد فرمایا اے عقل والو ! جنہوں نے ایمان قبول کیا اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نامہ نازل فرمایا ہے یعنی قرآن اور تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے یہ رسول تمہارے اوپر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے یہ آیات بینات ہیں جو واضح طور پر صاف صاف کھول کر حق اور باطل کے درمیان فرق بتاتی ہیں تاکہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے انہیں اندھیروں سے نور یعنی روشنی کی طرف نکال دے (جو لوگ اللہ کی کتاب قرآن حکیم اور اس کے رسول کریم ﷺ کو نہیں مانتے وہ برابر کفر و شرک کی اندھیریوں میں رہتے ہیں، دنیا میں کفر و شرک کی گمراہی کی اندھیریوں میں رہتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کی اندھیریوں میں رہیں گے۔ اہل ایمان کا انعام : اس کے بعد اہل ایمان کا انعام بیان فرمایا کہ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے پھر اس مضمون کو ﴿ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا 0011﴾ پر ختم فرمایا یعنی جو بندہ مومن ہوا اور اعمال صالحہ انجام دیتا رہا اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اچھا رزق تیار فرمایا ہے وہ جنت میں جائے گا تو اپنا رزق لے لے گا یہ رزق بےمثال عمدہ اور دائمی ہوگا۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان ہی کی طرح زمین بھی ان سب میں احکام نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور انہیں کی طرح زمینیں پیدا فرمائیں یہ آیت سورة ٴ طلاق کی آخری آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور شان قادریت اور تکوین کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمینیں بھی ان کی جیسی یعنی تعداد میں ان کے برابر پیدا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام ان کے درمیان نازل ہوتے ہیں۔ سب سے اوپر کے آسمان سے لے کر سب سے نیچے والی زمین تک جو بھی مخلوق ہے سب پر اس کے احکام تکوینیہ نافذ ہیں اور بہت سی مخلوق احکام شرعیہ کی بھی مکلف ہے۔ یہ سات زمینیں کہاں ہیں کس طرح ہیں جمہور علماء کا یہی فرمانا ہے کہ یہ بھی آسمانوں کی طرح اوپر نیچے سات طبقات ہیں اللہ تعالیٰ کا فرما دینا مومن بندوں کے لیے کافی ہے یہ بات کہ وہ سات زمینیں بنی آدم کے مشاہدہ میں نہیں ہیں ان کے وجود میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ احادیث صحیحہ مرفوعہ سے سات زمینوں کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ یہ احادیث حضرت سعید بن زید اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہیں۔ (دیکھو صحیح بخاری صفحہ 453 اور صحیح مسلم 32، 33: ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کا ترجمہ یہ ہے کہ جس نے بالشت بھی کسی کی زمین ناحق لے لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک سب زمینوں کو ساتویں زمین کے ختم تک طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دے گا۔ (صحیح مسلم صفحہ 32: ج 2) حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تھے تو یہ کلمات ضرور پڑھتے تھے : (اللھم رب السموت السبع وما اظللن ورب الارضین السبع وما اقللن ورب الشیاطین وما اضللن ورب الریاح وماذرین فانا نسئلک خیر ھذہ القریة وخیر اھلھا ونعوذبک من شرھا وشر اھلھا وشرما فیھا۔ ) (رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد واقرہ الذہبی) (اے اللہ جو ساتوں آسمانوں اور ان سب چیزوں کا رب ہے جو آسمانوں کے نیچے ہیں اور جو ساتوں زمینوں کا اور ان سب چیزوں کا رب ہے جو ان کے اوپر ہیں اور جو شیطانوں کا اور ان سب کا رب ہے جن کو شیطانوں نے گمراہ کیا ہے اور جو ہواؤں کا اور ان چیزوں کا رب ہے جنہیں ہواؤں نے اڑایا ہے سو ہم تجھ سے اس آبادی کی اور اس کے باشندوں کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس کے شر سے اور اس کی آبادی کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں) ۔ ﴿لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ1ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (رح) 0012﴾ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آسمانوں اور زمینوں کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے اس لیے ہے کہ تو یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ بھی جان لو اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے (کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں ہے) ۔ وھذا آخر تفسیر سورة الطلاق والحمد للہ العلی الخلاق، والصلٰوة والسلام علی رسولہ الذی عرج الی سبع السموات وعلی الہ و اصحابہ الذین نشروا الدین فی الآفاق