65. Surah At-Talaaq
الطلاقDivorce · 12 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الطلاق سورة نمبر 65 کل رکوع 2 آیات 12 الفاظ و کلمات 298 حروف 1237 مقام نزول مدینہ منورہ ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنا ایک ایسا کلام اپنے رسول پر نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف ہیں تاکہ ہر وہ شخص جو ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ہمارا رسول ان کو اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لے آئے گا۔ فرمایا کہ بہت سی بستیاں تھیں کہ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کیں تو نہ صرف سختی کے ساتھ ان کا محاسبہ اور گھیراؤ کیا گیا بلکہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کرکے ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے قدم قدم پر سخت نقصانات اٹھائے۔ فرمایا کہ ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی عقل اور سمجھ ہے وہ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اور وہ اللہ کے خوف سے ڈرتا رہے گا۔ ٭عائلی یعنی گھریلو زندگی میں کبھی کبھی باہمی اختلافات یا مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے سے بات طلاق اور جدائی تک پہنچ جاتی ہے جو حلال ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس کے ضروری مسائل سورة بقرہ میں بیان کئے گئے تھے۔ اب اس سورة میں ان ہی مسائل میں سے بقیہ مسائل کو ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ ان مسائل کی تکمیل ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہے۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خو خطاب کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو وہ ان کی عدت کا خیال کرکے طلاق دیا کریں اور پھر عدت کا بالکل صحیح شمار رکھا کریں یعنی ایسے دنوں میں طلاق نہ دیں جس سے عدت کی مدت طویل ہوجائے اور عدت کے دنوں کا شمار ٹھیک ٹھیک رکھا کریں تاکہ وقت سے پہلے یا بعد میں عدت نہ کھلے اسی لئے فرمایا کہ تم اپنے اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ ٭فرمایا کہ دوران عدت تم ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ البتہ اگر وہ کھلا ہوا گناہ (زنا، بدکاری، بدکلامی جس سے ہر شخص عاجز آجائے) کریں تو ان کو نکالا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ایسا کریں گے تو وہ اپنے ساتھ بڑی زیادتی اور ظلم کرنے والے ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ممکن ہے اس کے بعد آپس میں دوبارہ مل جانے کا کوئی راستہ بن جائے۔ ٭فرمایا کہ وہ عورتیں جب اپنی عدت پوری کرلیں (اگر ایک یاد دو طلاقیں دی ہیں) یا تو ان کو بھلے طریقے سے روک لیں یعنی رجوع کرلیں یا بھلے اور نیک طریقے سے ان سے جدا ہوجائیں۔ ٭فرمایا کہ (بہت سے قانونی مسائل سے بچنے اور ٹھیک ٹھیک گوہی کے لئے اگر) عدل و انصاف والے دو گواہ بنا لیں تو بہتر ہے۔ گواہوں سے فرمایا گیا کہ اگر کوئی گواہی کا موقع آجائے تو وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی نصیحت ہر اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہو۔ اللہ ایسے لوگوں کے لئے ہر طرح کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسی کی ایسی جگہ سے مدد کی جاتی ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا جو اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے ہر کام کو پورا کرکے چھوڑتا ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار (تقدیر) مقرر کر رکھی ہے۔ ٭فرمایا تمہاری عورتوں میں سے وہ جنہیں اب حیض آنے کی توقع نہ ہو یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو اس ان کے لئے (چاند کے حساب سے) تین مہینے کی مدت مقرر ہے۔ اسی طرح حاملہ عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ جیسے ہی ولادت ہوجائے گی اس کی عدت بھی ختم ہوجائے گی۔ فرمایا کہ ان تمام معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اللہ نہ صرف ان کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کردیتا ہے بلکہ ان کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ ٭فرمایا کہ عورتوں کی عدت کے دوران جیسی جگہ پر بھی تم رہتے ہو اس میں ان کو رکھو اور ان کو تنگ نہ کرو نہ ستائو بلکہ حسن معاملہ کرو۔ ٭اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک کھلائو پلائو جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو ۔ اگر باہمی رضا مندی سے وہ دونوں کسی اور عورت سے دوچھ پلوانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ جس عورت سے دودھ پلوایا جا رہا ہے اس کی اجرت اس کو دی جائے اور اس معاملہ میں کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ ہر شخص اپنی حیثیت اور ہمت کے مطابق خرچ دیگا۔ اگر کوئی صاحب حیثیت ہے تو وہ اس کے مطابق دے اور جس کو کم رزق دیا گیا ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ تو اللہ کا نظام ہے کہ وہ جس کو جتنا دینا چاہیے دیت ا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنگ دستی کے باوجود اللہ اس کو فراخی عطا فرمادے۔ ٭آخر مین فرمایا کہ تمام احکامات میں اللہ کے حکم کی پوری تعمیل کی جائے۔ کیونکہ نہ جانے کتنی بستیاں ایسی تھیں کہ جب وہاں کے لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور رسول کی اطاعت سے انکار کیا تو نہ صرف ان کا سختی سے محاسبہ کیا گیا بلکہ ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کا مزہ چکھا اور انہوں نے قدم قدم پر شدید نقصانات اٹھائے۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ اے عقل رکھنے والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ ٭ایمان والوں سے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسا کلام نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف بیان کی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں، اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں پوری طرح اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ فرمایا کہ جو بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ نے اس کے لئے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت سے سات آسمان اور اس جیسی زمین بھی بنائی ہے۔ ان سب میں اللہ کے احکامات نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم اس بات کو اچھی طرح سے جان لو کہ اللہ ہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے یعنی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader
اے نبی ﷺ (آپ اہل ایمان سے کہہ دیجئے) کہ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرلو تو ان کی عدت کا خیال اور لحاظ رکھتے ہوئے طلاق دو ۔ (اور طلاق دینے کے بعد) تم (عدت کی) مدت شمار کرتے رہو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے۔ اور تم (ان مطلقہ) عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ عورتیں خود بھی نہ نکلیں۔ سوائے اس کے کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بےحیائی کر بیٹھیں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی حدود سے آگے بڑھتا ہے تو یقینا وہ اپنے وجود پر ظلم کرتا ہے۔ تمہیں یہ نہیں معلوم کہ شاید (اس طلاق کے بعد) اللہ کوئی نئی صورت حال پیدا کردے۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader
پھر جب وہ (ایک یا دو طلاقوں کے بعد) اپنی عدت پوری کر چکیں تو ان کو (شریعت کے قانون کے مطابق) یا تو نیکی کے ساتھ روکے رکھو یا (شریعت کے قانون کے مطابق) ان کو الگ کردو۔ اور بہر حال اپنے (مسلمان) لوگوں میں سے دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لیا کرو۔ اور اللہ کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔ یہ ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اس کے لئے اللہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال دیتا ہے۔
وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader
اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے (کام بنانے کے ) لئے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرکے رہتا ہے۔ بے شک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader
اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں (یعنی ان کو ماہانہ خون نہیں آتا) اسی طرح وہ لڑکیاں جنہیں خون آنا شروع نہیں ہوا اگر تمہیں شبہ ہو (یعنی عدت کے تعین میں) تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ (اس کے کاموں میں) آسانی پیدا کردیتا ہے۔
ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے گناہ اس سے دو رکر دیتا ہے (معاف کردیتا ہے) اور اس کو اجر عظیم عطا کیا جاتا ہے۔
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader
اور فرمایا تم اپنی گنجائش کے مطابق ان کو مکان دو جیسے تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے اذیت نہ پہنچائو۔ اور اگر وہ عورتیں حاملہ ہوں تو بچہ کی پیدائش تک ان کا خرچہ برداشت کرو یہاں تک کہ بچے کی پیدائش ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے کہنے سے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو دودھ پلانے کی اجرت ادا کرو۔ اور آپس میں مناسب طریقے پر مشورہ کرتے رہو۔ اور اگر تم دونوں آپس میں دشواری پیدا کروگے تو شوہر کے کہنے سے اس بچے کو دوسری عورت دودھ پلائے گی۔
لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader
جو صاحب حیثیت ہے وہ اپنی حیثیت (وسعت) کے مطابق خرچ کرے اور جس پرو روزی تنگ ہوگئی تو اس تنگ دست کو اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس کو اس میں سے خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو اس نے اس کو دیا ہے۔ تنگ دستی کے بعد اللہ بہت جلد فراخی (وسعت) پیدا کردے گا۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader
اور کتنی ہی بستی والوں نے اپنے رب کی اور اس کے رسولوں کی نافرمانیاں کیں تو ہم نے ان سے نہایت سخت حساب لیا۔ اور ان کو ایسا عذاب دیا جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔
فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader
پھر انہوں نے اپنے کاموں کے وبال کا مزہ چکھا۔ اور ان کے کاموں کے انجام میں نقصان و خسارہ ہی رہا۔
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader
اللہ نے ان کے لئے سخت ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے عقل والو ! جو ایمان لا چکے ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ نے تمہارے پاس ایک نصیحت بھیجی ہے۔
رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader
وہ ایسے رسول ﷺ ہیں کہ وہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں جو بالکل صاف اور واضح ہیں تاکہ وہ اللہ کے حکم سے ایمان والوں اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور عمل صالح اختیار کرتا ہے تو اس کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے ان کے لئے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور ان ہی کی طرح زمینوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ وہ ان تمام آسمانوں اور زمین میں اپنا حکم نازل کرتا رہتا ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔