65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الطلاق سورة نمبر 65 کل رکوع 2 آیات 12 الفاظ و کلمات 298 حروف 1237 مقام نزول مدینہ منورہ ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنا ایک ایسا کلام اپنے رسول پر نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف ہیں تاکہ ہر وہ شخص جو ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ہمارا رسول ان کو اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لے آئے گا۔ فرمایا کہ بہت سی بستیاں تھیں کہ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کیں تو نہ صرف سختی کے ساتھ ان کا محاسبہ اور گھیراؤ کیا گیا بلکہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کرکے ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے قدم قدم پر سخت نقصانات اٹھائے۔ فرمایا کہ ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی عقل اور سمجھ ہے وہ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اور وہ اللہ کے خوف سے ڈرتا رہے گا۔ ٭عائلی یعنی گھریلو زندگی میں کبھی کبھی باہمی اختلافات یا مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے سے بات طلاق اور جدائی تک پہنچ جاتی ہے جو حلال ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس کے ضروری مسائل سورة بقرہ میں بیان کئے گئے تھے۔ اب اس سورة میں ان ہی مسائل میں سے بقیہ مسائل کو ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ ان مسائل کی تکمیل ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہے۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خو خطاب کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو وہ ان کی عدت کا خیال کرکے طلاق دیا کریں اور پھر عدت کا بالکل صحیح شمار رکھا کریں یعنی ایسے دنوں میں طلاق نہ دیں جس سے عدت کی مدت طویل ہوجائے اور عدت کے دنوں کا شمار ٹھیک ٹھیک رکھا کریں تاکہ وقت سے پہلے یا بعد میں عدت نہ کھلے اسی لئے فرمایا کہ تم اپنے اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ ٭فرمایا کہ دوران عدت تم ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ البتہ اگر وہ کھلا ہوا گناہ (زنا، بدکاری، بدکلامی جس سے ہر شخص عاجز آجائے) کریں تو ان کو نکالا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ایسا کریں گے تو وہ اپنے ساتھ بڑی زیادتی اور ظلم کرنے والے ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ممکن ہے اس کے بعد آپس میں دوبارہ مل جانے کا کوئی راستہ بن جائے۔ ٭فرمایا کہ وہ عورتیں جب اپنی عدت پوری کرلیں (اگر ایک یاد دو طلاقیں دی ہیں) یا تو ان کو بھلے طریقے سے روک لیں یعنی رجوع کرلیں یا بھلے اور نیک طریقے سے ان سے جدا ہوجائیں۔ ٭فرمایا کہ (بہت سے قانونی مسائل سے بچنے اور ٹھیک ٹھیک گوہی کے لئے اگر) عدل و انصاف والے دو گواہ بنا لیں تو بہتر ہے۔ گواہوں سے فرمایا گیا کہ اگر کوئی گواہی کا موقع آجائے تو وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی نصیحت ہر اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہو۔ اللہ ایسے لوگوں کے لئے ہر طرح کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسی کی ایسی جگہ سے مدد کی جاتی ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا جو اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے ہر کام کو پورا کرکے چھوڑتا ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار (تقدیر) مقرر کر رکھی ہے۔ ٭فرمایا تمہاری عورتوں میں سے وہ جنہیں اب حیض آنے کی توقع نہ ہو یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو اس ان کے لئے (چاند کے حساب سے) تین مہینے کی مدت مقرر ہے۔ اسی طرح حاملہ عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ جیسے ہی ولادت ہوجائے گی اس کی عدت بھی ختم ہوجائے گی۔ فرمایا کہ ان تمام معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اللہ نہ صرف ان کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کردیتا ہے بلکہ ان کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ ٭فرمایا کہ عورتوں کی عدت کے دوران جیسی جگہ پر بھی تم رہتے ہو اس میں ان کو رکھو اور ان کو تنگ نہ کرو نہ ستائو بلکہ حسن معاملہ کرو۔ ٭اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک کھلائو پلائو جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو ۔ اگر باہمی رضا مندی سے وہ دونوں کسی اور عورت سے دوچھ پلوانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ جس عورت سے دودھ پلوایا جا رہا ہے اس کی اجرت اس کو دی جائے اور اس معاملہ میں کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ ہر شخص اپنی حیثیت اور ہمت کے مطابق خرچ دیگا۔ اگر کوئی صاحب حیثیت ہے تو وہ اس کے مطابق دے اور جس کو کم رزق دیا گیا ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ تو اللہ کا نظام ہے کہ وہ جس کو جتنا دینا چاہیے دیت ا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنگ دستی کے باوجود اللہ اس کو فراخی عطا فرمادے۔ ٭آخر مین فرمایا کہ تمام احکامات میں اللہ کے حکم کی پوری تعمیل کی جائے۔ کیونکہ نہ جانے کتنی بستیاں ایسی تھیں کہ جب وہاں کے لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور رسول کی اطاعت سے انکار کیا تو نہ صرف ان کا سختی سے محاسبہ کیا گیا بلکہ ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کا مزہ چکھا اور انہوں نے قدم قدم پر شدید نقصانات اٹھائے۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ اے عقل رکھنے والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ ٭ایمان والوں سے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسا کلام نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف بیان کی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں، اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں پوری طرح اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ فرمایا کہ جو بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ نے اس کے لئے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت سے سات آسمان اور اس جیسی زمین بھی بنائی ہے۔ ان سب میں اللہ کے احکامات نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم اس بات کو اچھی طرح سے جان لو کہ اللہ ہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے یعنی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔

Ayahs 65:1–7

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ (آپ اہل ایمان سے کہہ دیجئے) کہ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرلو تو ان کی عدت کا خیال اور لحاظ رکھتے ہوئے طلاق دو ۔ (اور طلاق دینے کے بعد) تم (عدت کی) مدت شمار کرتے رہو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے۔ اور تم (ان مطلقہ) عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ عورتیں خود بھی نہ نکلیں۔ سوائے اس کے کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بےحیائی کر بیٹھیں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی حدود سے آگے بڑھتا ہے تو یقینا وہ اپنے وجود پر ظلم کرتا ہے۔ تمہیں یہ نہیں معلوم کہ شاید (اس طلاق کے بعد) اللہ کوئی نئی صورت حال پیدا کردے۔

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ (ایک یا دو طلاقوں کے بعد) اپنی عدت پوری کر چکیں تو ان کو (شریعت کے قانون کے مطابق) یا تو نیکی کے ساتھ روکے رکھو یا (شریعت کے قانون کے مطابق) ان کو الگ کردو۔ اور بہر حال اپنے (مسلمان) لوگوں میں سے دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لیا کرو۔ اور اللہ کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔ یہ ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اس کے لئے اللہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال دیتا ہے۔

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے (کام بنانے کے ) لئے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرکے رہتا ہے۔ بے شک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں (یعنی ان کو ماہانہ خون نہیں آتا) اسی طرح وہ لڑکیاں جنہیں خون آنا شروع نہیں ہوا اگر تمہیں شبہ ہو (یعنی عدت کے تعین میں) تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ (اس کے کاموں میں) آسانی پیدا کردیتا ہے۔

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے گناہ اس سے دو رکر دیتا ہے (معاف کردیتا ہے) اور اس کو اجر عظیم عطا کیا جاتا ہے۔

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

اور فرمایا تم اپنی گنجائش کے مطابق ان کو مکان دو جیسے تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے اذیت نہ پہنچائو۔ اور اگر وہ عورتیں حاملہ ہوں تو بچہ کی پیدائش تک ان کا خرچہ برداشت کرو یہاں تک کہ بچے کی پیدائش ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے کہنے سے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو دودھ پلانے کی اجرت ادا کرو۔ اور آپس میں مناسب طریقے پر مشورہ کرتے رہو۔ اور اگر تم دونوں آپس میں دشواری پیدا کروگے تو شوہر کے کہنے سے اس بچے کو دوسری عورت دودھ پلائے گی۔

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

جو صاحب حیثیت ہے وہ اپنی حیثیت (وسعت) کے مطابق خرچ کرے اور جس پرو روزی تنگ ہوگئی تو اس تنگ دست کو اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس کو اس میں سے خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو اس نے اس کو دیا ہے۔ تنگ دستی کے بعد اللہ بہت جلد فراخی (وسعت) پیدا کردے گا۔

لغات القرآن۔ طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔ اسکنوھن۔ تم ان عورتوں کو گھر دو ۔ سکونت دو ۔ لا تضار وھن۔ ان عورتوں کو نہ ستائو۔ لتضیقوا۔ تاکہ ان کی (زندگی) تنگ کردو۔ تعاسرتم۔ تم نے آپس میں اختلاف کیا۔ تنگی پیدا کی۔ ترضع۔ دودھ پلائے گی۔ ذوسعۃ۔ وسعت والا۔ قدر۔ تنگ کردی گئی۔ لا یکلف۔ وہ ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ تشریح : قرآن کریم قیامت تک اساری انسانیت کی فلاح و ترقی اور آخرت کی نجات کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عبادات، معاملات، معاشرت، معیشت، تہذیب، و تمدن، کے اصولی احکامات بیان کئے گئے ہیں۔ عام طور پر زندگی سے متعلق احکامات کو مختصر بیان کیا گیا ہے لیکن نکاح، طلاق، عدت، عدت کے دوران مطلقہ یا بیوہ کا نان نفقہ، رہائش اور اگر اولاد ہو تو اس کو دودھ پلانے اور پرورش وغیرہ کے احکامات کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ زندگی کے یہ اہم ترین اور بنیادی مسائل ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ خاندانوں سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہر ایک خاندان پر سکون ہے تو سارا معاشرہ خوش حال ہوگا لیکن خاندانوں اور گھریلو زندگی کی ابتری سارے معاشرہ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیتی ہے۔ شریعت اسلامی میں اس اصول کو ابنیاد بنایا گیا ہے کہ نکاح کے ذریعہ شہوانی جذبات کی تسکین کے ساتھ نسل انسانی کی بقاو ترقی کا سامان کیا جائے۔ لیکن اگر وقتی شہوانی جذبات کی تسکین تک بات محدود رہے تو اس سے نسل انسانی کی بقا کے لے شدید خطرات پیدا ہوسکتے ہیں اور خاندانی زندگی کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نکاح کے زریعہ جو تعلق قائم ہوا ہے اس کو باقی رہنا چاہیے۔ اس کو کھیل تماشا نہ بنایا جائے کیونکہ یہ زندگی کا ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے جس میں مرد کو سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ عورت اور مردو دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حوصلے اور برداشت سے اپنے گھر کو سنبھال کر چلائیں اور کوئی ایسی صورت نہ پیدا ہونے دیں جس سے یہ تعلق کمزور ہوجائے یا ٹوٹ جائے لیکن اگر آپس کی رنجشیں اور تلخیاں بڑھ جائیں اور بات طلاق تک پہنچ جائے تو اس میں بھی عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔ وہ چاہے تو اس گرہ کو بندھا رکھے یا طلاق کے ذریعہ اس بندھن کو کھول دے۔ لیکن اسے اس بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ طلاق حلال ہونے کے باوجود اللہ و رسول کو سخت ناپسند ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” نکاح کرو، طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے اللہ کا عرش بھی کانپ اٹھتا ہے “۔ (قرطبی) ۔ حضرت معاذ ابن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” زمین پر اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیز یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کیا جائے۔ اور اللہ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں ان سب میں اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ (قرطبی) ۔ ان احادیث سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ شریعت نے طلاق دینے کی اجازت دی ہے لیکن اس سے روکا بھی ہے کیونکہ طلاق انتہائی نازل مسئلہ ہے جس سے صرف ایک مرد عورت ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اولاد اور خاندان کے بیشمار اخلاقی اور قانونی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قانونی حق کو استعمال کرنے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ نادانی اور بےوقوفی میں زندگی کے اس بندھن کو کاٹ کر پھینک دینا سخت ناپسندیدہ بات ہے۔ اس کے لئے شریعت نے ایسے اصول مقرر فرمائے ہیں جن پر عمل کرنے سے زندگی کی اس خطرناک صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔ (1) نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دور جہالت میں عورت مردوں کے ہاتھوں کا کھلونا تھی وہ جس طرح اور جتنا چاہتے عورت کی فطری کمزوریوں سے فائدے اٹھاتے رہتے اور عورت کی زندگی بھر ظلم کی چکی میں پیسے چلے جاتے تھے جس پر اسے اف تک کرنے کی اجازت نہیں تھی ایک حیوان اور انسان میں کوئی فرق نہیں رکھتے تھے لیکن دین اسلام نے نکاح، طلاق اور عدت کے ایسے حکیمانہ اصول بیان فرمائے ہیں جن سے عورت پر ظلم و جبر کا دور ختم ہوگیا اور اس کو آبرو مندانہ زندگی گزارنے کا حق مل گیا۔ مثلاً عرب کے لوگ عورتوں کو طلاق دیتے اور جب جیسے رجوع کرلیتے۔ دین اسلام نے ایک نکاح میں مرد کو صرف تین طلاقوں تک کی اجازت دی ہے وہ اس حق کو ایک وقت میں تین طلاقیں دے کر ختم کردے یا ایک ایک کرکے طلاق دے۔ دو طلاقوں تک رجوع کرنے کا حق باقی رہتا ہے لیکن تین طلاقوں میں رجوع کرنے کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ شرعی کے اس عورت سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم میں طلاق دینے کے اصول بھی مقرر فرما دئیے تاکہ کوئی شخص جلد بازی میں کوئی ایسی غلطی نہ کر بیٹھے جس سے اس کو زندگی بھر پچھتانا پڑے۔ (2) چونکہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں دی ہے اور اس کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے لہٰذا جب وہ اس بات کو محسوس کرلے کہ اس کی بیوی مسلسل نافرمانی کر رہی ہے اور آپس میں اختلافات بڑھ رہے ہیں تو گھر کی بات گھر میں رکھتے ہوئے اپنی بیوی کو سمجھائے اور نصیحت کرے کہ اگر ہمارے اختلافات اسی طرح بڑھتے گئے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے ؟ (3) اگر اس کی بیوی شوہر کے سمجھانے کے باوجود پھر بھی اپنی روش زندگی کو تبدیل کرنے پر تیار نہ ہو تو پھر کچھ نفسیاتی طریقے اختیار کئے جائیں مثلاً شوہر اپنا بستر الگ کرلے یا دوسرے کمرے میں سونا شروع کردے۔ اس سے دونوں کو سوچنے کا موقع ملے گا کہ آج تعلقا ت میں ایک دیوار آڑے آئی ہے ایسا نہ ہو کہ اس کے بعد زندگی کی دیوار آڑے آجائے اور جدائی ہوجائے۔ (4) اگر اس کی بیوی اس نفسیاتی حربے کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتی تو پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس پر سختی کی جائے۔ اگر مارنے کی ضرورت ہو تو شریفانہ طریقے سے مارا جائے تاکہ اس کو کچھ تو ہوش آجائے لیکن اس طرح نہ مارا جائے جیسا کہ آج کل لوگوں نے اسلام کے اصولوں سے ناواقفیت کی وجہ سے اپنی عورتوں کو مارنا شروع کردیا ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایسا نہ کرو تو کہتے ہیں کہ اس کی ہمیں اسلام نے اجازت دی ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کا انداز جاہلانہ ہے۔ جس کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ حکم یہ ہے کہ بیوی کے سر، منہ، سینہ اور نازک جگہوں پر نہ مارا جائے۔ اتنی زور سے نہ مارا جائے جس سے ہاتھ یا کسی چیز کا نشان بن جائے۔ فقہا نے جب ان شرائط پر غور کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عورت تو ساری انتہائی نازک ہے اگر کوئی مارتا ہے تو کہاں مارے۔ فرمایا کہ صرف ایک جگہ رہ جاتی ہے اور وہ پیٹھ کے اوپر کا حصہ جو کاندھے کے پاس ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد مار پیٹ نہیں ہے بلکہ ہلکے سے کاندھے کے پاس مارنے کا حکم ہے جو ایک شریفانہ مار ہے۔ اس میں جاہلانہ انداز نہیں ہونا چاہیے۔ (5) قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی بیوی نصیحت کرنے، نفسیاتی حربوں اور سختی سے بھی باز نہیں آتی تو پھر گھر کی بات کو خاندان کے بزرگوں تک پہنچایا جائے۔ چناچہ حکم ہے کہ لڑکے اور لر کی کے خاندان کے ایک ایک معتبر بزرگ کو بلا کر اس معاملہ کو سامنے رکھا جائے۔ یقینا جو خاندان کے بزرگ ہیں وہ دونوں کو سمجھائیں گے۔ اگر پھر بھی اختلافات اپنی جگہ رہتے ہیں تو پھر ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ طلاق دے دی جائے۔ لیکن قرآن کریم اور احادیث میں طلاق دینے کا طریقہ متعین کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ (6) اپنی بیوی کو ایسے طہر (پاکی کی حالت) میں صرف ایک طلاق دی جائے جس میں اس سے صحبت نہ کی گئی ہو اور حاملہ بھی ہو۔ کیونکہ اگر حیض ( ناپاکی کے ایام) میں طلاق دی جائے گی تو وہ طلاق پڑجائے گی لیکن اس سے اس کی بیوی کو سخت تکلیف پہنچے گی۔ وجہ یہ ہے کہ جس حیض کی حالت میں اس کو طلاق دی گئی ہے نہ تو وہ مدت شمار ہوگی۔ اور حیض کے بعد پاکی کی حالت میں بھی اس کی مدت شمار نہ ہوگی جب اس کو حیض آئے گا تو اس کی عدت کی مدت شروع ہوگی۔ اس طرح تین حیض کے بجائے اس کی عدت چار حیض تک پہنچ جائے گی۔ دوسرے یہ کہ اگر پاکی کی حالت میں صحبت کی جائے گی تو اس کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ اس صحبت میں کوئی حمل ٹھہرا ہے یا نہیں۔ اگر حمل ٹھہر گیا تو پھر عدت اس وقت تک طویل ہوجائے گی جب تک اس عورت کے ہاں ولادت نہ ہوجائے۔ اگرچہ حیض اور حمل کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق پڑجاتی ہے لیکن عورت کو اس تکلیف سے پچایا گیا ہے کہ اس کو ناحق اتنی تکلیف کیوں پہنچے۔ ایک یا دو طلاقیں دئیے جانے کے بعد یہ عورت عدت شروع کردے گی، اسی گھر میں رہے گی اور اس کا نان نفقہ بھی شوہر کے ذمے ہوگا۔ اگر شوہر چاہے تو اس عدت کے دورابن یا بعد میں اس سے رجوع کرسکتا ہے۔ رجوع کرنے کے لئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ” میں نے رجوع کرلیا ہے “ یہ کہتے ہی رجوع ہوجائے گا۔ اگر اس موقع پر دو معتبر گواہ بھی بنا لئے جائیں تو بہتر ہے تاکہ فریقین میں سے کوئی انکار نہ کرسکے اور اگر کسی وقت یہ معاملہ کسی عدالت میں پہنچ جائے تو گواہی دونوں کو فائدہ دے گی۔ ایک طلاق دینے میں میاں بیوی دونوں کا فائدہ ہے۔ مثلاً شوہر عدت میں یا عدت گزر جانے کے باوجود جب چاہے اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے اور بغیر کسی نکاح اور حلالہ کے دونوں پھر سے گھر آباد کرسکتے ہیں۔ عورت کو یہ فائدہ ہے کہ وہ عدت گزارنے کے بعد اگر کہیں اور شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ اس معاملہ میں بالکل آزاد ہے لیکن اگر پہلا شوہر رجوع کرنا چاہتا ہے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ زندگی تجربات کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ عورت پہلے شوہر کی طرف آجائے لیکن اگر آنا نہ چاہے تو کوئی اس کو مجبور نہیں کرسکتا۔ (7) جس طرح ایک طلاق دینے کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے اسی طرح دو طلاقیں دینے کے بعد بھی مرد کا یہ حق باقی رہتا ہے کہ وہ رجوع کرلے۔ لیکن دو طلاقوں کی عدت گزرنے کے بعد دونوں کی رضا مندی ضروری ہے۔ (8) اگر کسی نے تیسری طلاق بھی دیدی تو یہ دونوں غیر بن جائیں گے۔ اب اس وقت تک رجوع نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ عورت پہلے شوہر کی عدت گزار کر کسی اور مرد سے شادی نہ کرلے اور اگر وہ کسی وجہ سے طلاقی دیدے یا دوسرا شوہر مر جائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزار کر یہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اسی کو ” حلالہ شرعی “ کہا جاتا ہے اس حلالہ شرعی کے علاوہ پہلے شوہر کی طرف لوٹنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ (9) اس موقع پر یہ مسئلہ بھی سمجھ لیجئے کہ مذکورہ طریقہ جو شریعت نے بتایا ہے وہی احسن طریقہ ہے لیکن سب سے بد ترین طریقہ وہ ہے کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیدی جائیں اور معاملہ ایک لمحے میں ختم کردیا جائے۔ اس کو نبی کریم ﷺ نے سخت ناپسند فرمایا ہے۔ مسئلہ کی رو سے اگرچہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں پڑجاتی ہیں لیکن امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ ایک ناجائز فعل ہے اس کو ایسا نہیں کرنا چاہتے تھا لیکن اس بات پر بھی اجماع امت ہے کہ اگر ایک وقت میں تین طلاقیں دی دی جائیں تو تینوں طلاقیں پڑجاتی ہیں اس کی بیوی اس کی غیر بن جاتی ہے اور اس کی عدت شروع ہوجاتی ہے۔ بعض حضرات غلط فہمی پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ایک وقت میں تین طلاقیں دیدی جائیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یعنی عورت پر کوئی بھی طلاق نہیں پڑتی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق پڑتی ہے۔ اس کے لئے وہ حضرت رکانہ بن عبد یزید کا واقعہ دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت رکانہ نے ایک ہی مجلس میں پانی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حلف دے کر پوچھا کہ کیا ان کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی۔ جب انہوں نے حلفیہ بیان دیا تو آپ ﷺ نے ان کو رجوع کرنے کا حق دیدیا۔ (ابو دائود۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی۔ حاکم) ۔ دوسری روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دیدی کہ جب ان کی بیوی کو حیض (خون ) آرہا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ سخت ناراض ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے اور اسے اپنی زوجیت میں رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے۔ پھر اس کے بعد حیض آئے۔ اس حیض سے بھی پاک ہوجائے۔ اس وقت اگر طلاق دینا ہی ہے تو اس پاکی کے زمانہ میں جب کہ اس سے صحبت نہ کی گئی ہو طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آیت ہی حکم دیا ہے۔ (بخاری و مسلم) ۔ حضرت رکانہ کی روایت کے متعلق تو عرض ہے کہ درحقیقت انہوں نے ایک ہی طلاق دی تھی۔ بقیہ دو الفاظ تو انہوں نے تاکید کے طور پر کہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سنتے ہی یہ نہیں فرمایا کہ جائو یہ تین طلاقیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی ہے جیسا کہ آجکل لوگ سنتے ہی کہہ دیتے ہیں بلکہ آپ نے پہلے ان سے اچھی طرح پوچھا چونکہ یہ بھرپور اعتماد کا دور تھا جس میں صحابہ کرام ؓ خود بھی احتیاط کرتے تھے جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا یقین دلا دیا تو آپ نے ان کی بات مان کر تین طلاقوں کو ایک ہی قرار دیا۔ حضرت عبد اللہ ابن عمرو ؓ والی روایت کے متعلق عرض ہے کہ انہوں نے بھی درحقیقت حیض کی حالت میں ایک ہی طلاقی دی تھی۔ دارقطنی اور ابن ابی شیبہ نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں تین طلاقیں دیدیتا تو کیا پھر بھی رجوع کرسکتا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور یہ فعل معصیت ہوتا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اگر تم ایسا کرتے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوجاتی۔ (معارف) نبی کریم ﷺ کے دور میں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے مختصر دور خلافت میں بھی اسی پر عمل ہوتا رہا کہ جب کوئی کہہ دیتا کہ میں نے درحقیقت ایک ہی طلاقی دی ہے تو اس کا مان لیا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق کے ابتدائی دوسالوں تک اسی پر عمل ہوتا رہا لیکن جب حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ لوگ اب احتیاط نہیں کرتے اور تین طلاقیں دے کر اس کو ایک بیان کرتے ہیں تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اب اگر کوئی شخص تین طلاقیں دے گا تو اس میں نیت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ظاہری الفاظ پر عمل کیا جائے گا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں اکثر صحابہ کرام ؓ حیات تھے۔ اگر حضرت عمر ؓ کا فیصلہ غلط ہوتا تو صحابہ کرام ؓ اس کو نہ مانتے چونکہ اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تو گویا اسی پر اجماع امت ہوگیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ حیض اور حمل کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق پڑجائے گی لیکن یہ گناہ ہے کیونکہ اس میں عورت کی مدت بہت طویل ہوجاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صریح اور واضح الفاط میں طلاق دے گا تو جتنی طلاقیں دے گا وہ پڑجائیں گی اس میں نیت کا کوئی دخل نہیں ہے لیکن اگر الفاط طلاق نہ ہوں تو اس میں شوہر کی نیت پوچھی جائے گی مثلاً اگر ایک شخص نے سخت غصے کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا کہ تیرا میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر شوہر سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری بات کا کیا مطلب ہے ؟ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاقی دیدی ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ وہ تو میں نے غ سے میں اپنی بیوی کو دھکمانے اور ڈرانے کے لئے کہہ دیا تھا میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو پھر اس کی بیوی پر کوئی طلاق نہیں پڑے گی او اگر وہاں کہتا ہے تو اس کی بیوی پر طلاق بائن (جدائی کی طلاق) پڑجائے گی۔ ّ (10) چونکہ طلاق کا معاملہ انتہائی نازک ہے جس سے خاندانی اور کئی قانونی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اس لئے طلاق کے الفاظ کہنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ دور جہالت میں عربوں کا یہ حال تھا کہ وہ جتنی مرتبہ چاہتے طلاق دیدیتے اور عدت ہی میں رجوع کرلیتے۔ اس طرح وہ عورتوں کو ستایا کرتے تھے۔ دین اسلام نے طلاق کے حق کو تین الفاظ تک محدود کردیا ہے تاکہ سوچ سمجھ کر اس حق کو استعمال کیا جائے۔ (11) ایک وقت میں تین طلاقیں جائز نہیں ہے لیکن اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیدیں تو وہ اس پر پڑجائیں گی اور وہ عورت مرد ایک دوسرے کے لئے غیر ہوجائیں گے۔ چونکہ آدمی غصے میں تین طلاقیں دے کر پچھتاتا ہے اور اپنے فعل پر شرمندہ ہوتا ہے تو پھر وہ فتوے پوچھتا پھرتا ہے تاکہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ یہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی۔ میرے نزدیک طلاق دینے سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ایک حرام کام کو جائز کرنے کی فکر میں لگ جائے اور اس پر عمل بھی شروع کردے۔ حالانکہ تین طلاقیں دینے کے بعد اب اس بیوی کی واپسی کا طریقہ ایک ہی ہے کہ پہلے یہ عورت عدت پوری کرے۔ عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرکے اس سے صحبت کرے پھر کسی وجہ سے اس کا دوسرا شوہر اس کو طلاق دے یا مر جائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ یہ درحقیقت میاں بیوی کے لئے ایک سزا ہے۔ شوہر کے لئے تو یہ کہ اس کی بیوی کسی دوسرے سے نکاح اور صحبت کرے اور بیوی کو سزا اس لئے مل رہی ہے کہ اس نے ایسے حالات کیوں پیدا کئے جس سے بات طلاق تک پہنچ گئی اور اس کا گھر ٹوٹ گیا۔ میاں اور بیوی دونوں کے لئے یہ سزا برابر ہے۔ (12) مدخولہ ( جس سے صحبت کرلی گئی ہو) اگر اس کو حیض (ماہانہ خون) آتا ہو اور طلاق دی گئی ہو تو تین حیض گزرنے کے بعد اس کی عدت پوری ہوجائے گی۔ عدت گزرنے کے بعد عورت اپنے بارے میں اپنی مرضی سے معروف طریقے پر کوئی بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ (13) وہ خواتین جن کو زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے خون نہ آتا ہو یا ابھی خون آنا شروع نہ ہوا ہو تو ان کی عدت کی مدت (چاند کے حساب سے) تین مہینے ہے۔ (14) اگر کسی لڑکی کا نکاح ہوا اور ابھی تک مرد نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا اور اس کو طلاق ہوجائے تو اس کی عدت نہیں ہے۔ وہ چاہے تو طلاق کے بعد اسی وقت دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ (15) جس عورت کا شوہر مر جائے اس کی عدت (چاند کے حساب سے) چار مہینے اور دس دن ہے۔ ہر مہینہ تیس دن کا شمار ہوگا۔ (16) ایک یا دو طلاقوں کے بعد اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس موقع پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنا لے۔ گواہ بنانا لازمی اور ضروری نہیں ہے۔ لیکن اگر گواہ بنا لے گا تو اس سے دونوں میاں بیوی کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس طرح نہ تو شکوک و شبہات پید اہوں گے اور نہ وہ دونوں انکار کریں گے۔ فرمایا کہ سچے مومنوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے مفاد کے لئے جھوٹ بولیں گے کیونکہ ان کو اس بات کا یقین کامل ہوتا ہے کہ ان کے کسی فعل کو کوئی دیکھ رہا ہے یا نہیں دیکھ رہا ہے لیکن اللہ تو ان کے تمام کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ (17) یہ ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدت کے ایام کو شمار کرنے کا اہتمام کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عدت ختم ہونے سے پہلے ہی عدت ختم کرلی جائے۔ یہ ذمہ داری مرد اور عورت دونوں کی ہے۔ { عورت کا نان نفقہ اور سکونت } (18) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں دیدی گئی ہوں اس کے زمانہ عدت میں نان و نفقہ اور رہائش دینا یہ شوہر کی ذمہ داری ہے۔ (19) طلاق ایک ہو یا دو یا تین ہر حالت میں مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مطلقہ کو اپنی حیثیت کے مطابق کھانے پینے کے اخراجات اور رہائش کی سہولتیں بہم پہنچائے۔ جس گھر میں شوہر رہتا ہے اسی میں اس کی مطلقہ بیوی بھی رہے گی۔ اس عدت کے دوران شوہر کو یا شوہر کے عزیزوں کو اس بات کا قطعاً اختیار نہیں ہے کہ وہ اس کو اس گھر سے نکالیں۔ البتہ اگر وہ عورت کوئی کھلا ہوا گناہ یا بدکاری کرے یاس قدر زبان دراز ہو کہ اس کی زبان سے سب عاجز ہوں تو اس کو اس گھر سے نکل جانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے لیکن نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر ہی کی ہوگی۔ { بچے کی دودھ پلانا } (20) اگر طلاق دینے کے بعد کوئی بچہ موجود ہو تو اس بچے کی کفالت اور دودھ پلوانے کی ذمہ داری مرد پر ہے۔ اگر وہ مطلقہ عورت اپنے بچے کو دودھ نہ پلانا چاہے تو مناسب اجرت پر دوسری کسی عورت کے ذریعے دودھ پلوانا جائز اور ضروری ہے۔ مطلقہ بیوی کے نان نفقہ، سکونت اور بچے کے دودھ پلوانے میں مرد کی آمدنی اور حیثیت کا لحاظ رکھا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی پر اس کی ہمت اور طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ سورۃ الطلاق کی ان آیات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر ایک معاملہ میں اللہ کا خوف غالب رہنا چاہیے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کا تقویٰ ، خوف اور ڈر رکھیں گے اللہ تعالیٰ ان سب کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے اور ان پر ایسے مقام سے کرم ہوں گے جہاں کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔ انسانی تعلقات میں خوف الٰہی بنیاد ہے۔ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کاموں میں برکت نازل کئے جانے کا سبب ہے۔
Ayahs 65:8–12

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستی والوں نے اپنے رب کی اور اس کے رسولوں کی نافرمانیاں کیں تو ہم نے ان سے نہایت سخت حساب لیا۔ اور ان کو ایسا عذاب دیا جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے کاموں کے وبال کا مزہ چکھا۔ اور ان کے کاموں کے انجام میں نقصان و خسارہ ہی رہا۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے عقل والو ! جو ایمان لا چکے ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ نے تمہارے پاس ایک نصیحت بھیجی ہے۔

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

وہ ایسے رسول ﷺ ہیں کہ وہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں جو بالکل صاف اور واضح ہیں تاکہ وہ اللہ کے حکم سے ایمان والوں اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور عمل صالح اختیار کرتا ہے تو اس کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے ان کے لئے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور ان ہی کی طرح زمینوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ وہ ان تمام آسمانوں اور زمین میں اپنا حکم نازل کرتا رہتا ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

لغات القرآن۔ کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب اللہ نے ان قوموں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبروں کو بھیجا تو انہوں نے ان کی اطاعت کے بجائے ان کو جھٹلایا، ان کی نافرمانی کی اور اللہ کے احکامات کی پروا نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکا کہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ان قوموں کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا کہ ان کی زندگیاں اور ان کا بنایا ہوا معاشرہ، تہذیب و تمدن اور بلند وبالا عمارتیں کھنڈ ربن گئیں۔ یہ تو ان پر دنیا کے اعتبار سے عذاب تھا آخرت میں ان کا کتنا بھیانک انجام ہے اس کا اس دنیا میں رہتے ہوئے تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو تمہاری ہدایت و رہبری کے لئے بھیجا ہے جن کے ساتھ وہ عظیم کتاب ہے جسے وہ نہایت وضاحت سے پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں تاکہ ان پر ایمان لانے والوں کو زندگی کے اندھیروں سے نکال کر اس حقیقی روشنی میں لے آئیں جس سے ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ فرمایا کہ جو بھی ان پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کرے گا تو اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جس میں ہر طرف سرسبزی و شادابی، بہتی نہریں، اعلیٰ ترین رزق اور ہمیشہ کی زندگی عطا کی جائے گی۔ فرمایا کہ یہ اس اللہ کا سچا وعدہ ہے جس نے سات آسمان اور ان ہی جیسی سات زمینیں پیدا کی ہیں یا زمین کے سات طبقات پیدا کئے ہیں۔ اتنی بڑی زمین اور آسمان کا کوئی ایسا ذرہ نہیں ہے جس کا اسے علم نہ ہو۔ اس کائنات میں ہر طرح کی طاقت و قوت صرف اللہ کی ہے وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے سورة طلاق کی تمام آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر تشریح ملاحظہ فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)