65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

یایھا النبی ... العدۃ . ” اے پیغمبر ! (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینے لگو تو (زمانہ) عدت میں (یعنی حیض سے پہلے طہر کی حالت میں) طلاق دو اور عدت کی گنتی یاد رکھو۔ “ رسول اللہ ﷺ پیشوائے امت تھے ‘ اس لیے امت کو نداء نہیں کی گئی ‘ صرف آپ ﷺ کو نداء کی گئی۔ آپ ﷺ کو نداء کرنا ساریامتکو نداء کرنا ہی ہے لیکن حکم طلاق کے مخاطب سب امت والے بھی ہیں اور پیشوائے امت ﷺ بھی ‘ یا یوں کہا جائے کہ کلام تو صرف رسول اللہ ﷺ سے ہی ہے ‘ آپ ﷺ ہی مخاطب ہیں لیکن حکم عام ہے ‘ سب کو شامل ہے یا یوں کہا جائے کہ کلام مجاز پر مبنی ہے ‘ اصل مطلب اس طرح تھا : اے نبی ! اپنی امت سے کہہ دیجئے کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو ‘ طلاق دینے سے مراد ہے طلاق دینے کا ارادہ کرنا ‘ ارادۂ فعل تعبیر فعل سے کی ‘ جیسے آیت : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃ میں قیام سے مراد ہے نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرنا ‘ دوسری آیت ہے : وَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِدْذ بِ اللہ ِ : یعنی جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو تو پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو۔ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھُنَّ : شافعیہ کے نزدیک لعدتھن میں لام بمعنی وقت ہے یعنی عدت کے اوقات میں عورتوں کو طلاق دیا کرو۔ بغوی نے اس کی تائید میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ حیض کی حالت میں طلاق دینے کو حرام قرار دیتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے حیض کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کردیا۔ حضور ﷺ سن کر سخت غضبناک ہوگئے اور فرمایا : عورت کو لوٹا لے ‘ پھر ختم حیض تک روکے رکھے یہاں تک کہ عورت پاک ہوجائے پھر حیض آجائے پھر پاک ہوجائے۔ اس کے بعد اگر طلاق دینا چاہے تو طہارت کے وقت ‘ جس میں مباشرت نہ کی ہو طلاق دے دے۔ یہی ہے وہ عدت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ (متفق علیہ) بغوی نے لکھا ہے ‘ اس آیت کا نزول (حضرت ابن عمر ﷺ کے) اسی واقعہ کے متعلق ہوا ہے ‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثلاثۃ قروء میں قروء سے مراد طہر ہے ‘ حیض نہیں ہے اور عدت کا حساب طہر سے لگایا جائے گا ‘ حیض سے نہیں شمار کیا جائے گا۔ حنفیہ کہتے ہیں لام وقتیہ کا ‘ فی کے معنی میں استعمال عربی میں نہیں ہوتا (اس لیے لعدتھن کا مطلب فِی ‘ وقت عدتھن لینا درست نہیں۔ پس حیض میں طلاق واقع نہ ہونا اور طہر سے عدت کا شمار کرنا غلط ہے) اس کے علاوہ اگر لام کو بمعنی فی مانا جائے گا تو طلاق پر عدت کی تقدیم یا کم از کم دونوں کا ایک وقت میں ہونا لازم آئے گا۔ حکم آیت کا یہی تقاضا ہے۔ پس لام وقتیہ نہیں ہے بلکہ یہ لام عاقبت ہے (یعنی) عورتوں کو طلاق دو تو اس کے نتیجے میں عدت ہونا لازم ہے جیسے مشہور مصرعہ ہے : لدوا للموت وابنوا للخراب۔ جنوء ‘ جس کا لازمی نتیجہ موت ہوگا اور عمارتیں بناؤ ‘ جس کا لازمی نتیجہ ویرانی ہوگا۔ یا لام کا تعلق محذوف لفظ سے ہے یعنی عورتوں کو طلاق دو کہ وہ عدت کا استقبال کریں (طلاق کے بعد عدت شروع کریں) عرب تاریخ کے متعلق کہتے ہیں : خرجت لثلاث بقین من رمضان۔ میں نکلا جب کہ رمضان کے تین روز باقی تھے یعنی تین روز آگے آنے والے تھے۔ مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ بِعِدَّتِھِنَّ تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی قراءت کا معنی فی قبل عدتھن ہے ‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدت کا شمار حیض سے ہونا چاہیے ‘ طہر سے نہیں۔ قروء سے مراد حیض ہے یا طہر اور حیض میں طلاق دینا حرام ہے۔ یہ طویل بحث سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ جس طہر میں مباشرت کرلی ہے ‘ اس میں طلاق دینا حرام ہے۔ علماء کا اس فیصلہ پر اتفاق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا پھر طہر کی حالت میں جب کہ (اس طہر میں) عورت سے مباشرت نہ کی ہو ‘ طلاق دے دے ‘ مندرجہ ذیل مسائل پر بھی علماء کا اتفاق ہے۔ 1) جس جوان عورت سے کبھی مباشرت نہ کی ہو اس کو حالت حیض میں طلاق دینا جائز ہے۔ 2) نابالغ صغیرہ جس کو ابھی حیض نہ آیا ہو اس کو بھی قبل از مباشرت اور بعد از مباشرت طلاق دینا جائز ہے۔ 3) اگر حیض منقطع ہوگیا ہو یعنی عورت بوڑھی ہوگئی اور حیض آنے کی کوئی امید نہ رہی ہو تو مباشرت کے بعد اس کو طلاق دینا جائز ہے۔ جس طہر میں مباشرت کی ہو ‘ اس طہر میں طلاق دینا اس لیے حرام تھا کہ عدت کی مدت طویل نہ ہوجائے ‘ جہاں طویل مدت کا گمان نہ ہو وہاں بہرحال طلاق جائز ہے۔ لہٰذا جس عورت سے قربت نہ کی ہو اور طلاق دے دی ہو اس کی تو کوئی عدت ہی نہیں ہے۔ رہیں مؤخر الذکر دونوں صورتیں تو ان کی عدت ضرور ہوگی لیکن عدت کی گنتی مہینوں سے ہوگی۔ ان دونوں صورتوں میں مہینوں کی گنتی میں کوئی اضافہ بالاجماع نہیں ہوجاتا۔ جماع کے بعد بھی عدت کی مدت نہیں بڑھ جاتی۔ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ : اور عدت کو یاد رکھو ‘ ایسا نہ ہو کہ عدت کے بعد بھی تم طلاق سے رجوع کرلو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے اپنا نکاح کرلے کیونکہ یہ دونوں امر ناجائز ہیں۔ واتقوا اللہ ربکم لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینہ و تلک حدود ا .. ذلک امرا . ” اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا ربّ ہے ‘ ان عورتوں کو ان کے رہنے کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ عورتیں باہر نکلیں مگر ہاں ! کوئی کھلی بےحیائی کریں اور یہ سب خدا کے مقرر کیے ہوئے احکام ہیں (ان سے تجاوز نہ کرو) اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا ‘ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرے گا ‘ تجھ کو معلوم نہیں کہ شاید ‘ اس طلاق کے بعد اللہ کوئی نئی بات تیرے دل میں پید اکر دے (مثلاً طلاق پر پشیمانی ہوجائے) ۔ “ وَاتَّقُوا اللہ رَبَّکُمْ : یعنی عدت کو طول دینے اور عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لیے ایسا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔ لَا تُخْرِجُوْھُنَّ : یعنی جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو ‘ ان کو گھروں سے مت نکالو خواہ طلاق بائنہ ہو یا رجعی۔ گھروں سے مراد ہیں وہ مکان جن میں طلاق کے وقت عورتیں رہتی ہوں یعنی شوہروں کے مکان سے نہ نکالنے کا حکم عدت ختم ہونے کے وقت تک ہے۔ وَلاَ یَخْرُجْنَ : اور مطلقہ عورتیں خود بھی اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اس فقرے سے ثابت ہوتا ہے کہ مطلقہ کے لیے بلا ضرورت نکلنا جائز نہیں نہ رات کو نہ دن کو۔ ہاں ! ضرورت ہو تو مجبوراً نکل سکتی ہے ‘ عبادات میں ضرورت مستثنیٰ ہوتی ہے ‘ ضرورت ‘ ممانعت کو اباحت سے بدل دیتی ہے۔ ضرورت کی مختلف صورتیں ہیں مثلاً گھر کے گر جانے کا خوف ہو یا چوری کا اندیشہ ہو یا مکان کا کرایہ ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو یا مکان تنگ ہو کہ مرد ‘ عورت جدا جدا اس میں نہ رہ سکتے ہوں یا شوہر بدچلن ہو اور عورت و مرد کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو ‘ وغیرہ۔ امام احمد (رح) نے فرمایا : مطلقہ بائنہ دن میں اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔ امام شافعی (رح) کے دونوں قول مروی ہیں (بائنہ کے لیے بضرورت دن میں باہر نکلنے کا جواز اور ممانعت) ۔ بغوی نے لکھا ہے سوت فروخت کرنے یا روئی خریدنے کے لیے یا اسی طرح کے کسی دوسرے کام سے باہر نکلنا ضروری ہو تو دن کو باہر نکل سکتی ہے ‘ رات کو باہر نکلنا تو باتفاق ائمہ (رح) جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : قطعی آیت کے مقابلہ میں حدیث آحاد سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ‘ ہاں ! اگر بہت ہی مجبور کن ضرورت ہو تو باجماع علماء باہر نکلنا جائز ہے۔ مسئلہ اگر سفر کی حالت میں طلاق ہوگئی ہو اور عدت لازم ہوجائے اور قیام کی جگہ نہ ہو اور جس شہر سے سفر کرنے کے لیے نکلی تھی اس کا فاصلہ مسافت سفر سے کم ہو تو واپس آجائے (سفر میں اقامت عدت نہ کرے نہ سفر جاری رکھے) اور اگر منزل مقصود اور مبدء سفر کا فاصلہ مقام طلاق سے برابر ہو تو عورت کو اختیار ہے چاہے تو واپس آجائے اور چاہے منزل مقصود کی طرف سفر جاری رکھے ‘ خواہ ولی ساتھ نہ ہو ‘ واپس آنا زیادہ بہتر ہے تاکہ شوہر کے گھر کی پاسداری اور لحاظ میں کمی نہ ہو۔ بعض علماء کا قول ہے کہ جس جانب فاصلہ کم ہو اسی رخ کو اختیار کرے۔ مبدء سفر کا فاصلہ اگر بمقدار سفر ہو اور منزل مقصود کا فاصلہ اس سے کم ہو تو مقصود کی جانب سفر جاری رکھے۔ اگر طلاق بحالت سفر ایسے مقام پر ہوئی ہو جہاں قیام ہوسکتا ہو تو امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اسی مقام پر عدت پوری کرے۔ صاحبین کا قول ہے اگر ولی اس کے ساتھ ہو تو وطن کی طرف لوٹنا اور منزل مقصود کی طرف جانا دونوں حسب تفصیل مذکور جائز ہیں۔ مسئلہ جس عورت کا شوہر مرگیا ہو وہ عدت کے زمانے میں شوہر کے گھر سے دن کو نکل سکتی ہے ‘ رات کو باہر نکلنا ناجائز ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک رات ہو یا دن ہر وقت بیوہ کا باہر نکلنا جائز ہے ‘ اس مسئلہ کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ بغوی کا بیان ہے کہ کچھ لوگ غزوۂ احد میں شہید ہوگئے ‘ ان کی بیواؤں نے (خدمت گرامی میں) عرض کیا : ہم کو اپنے گھروں کے اندر تنہائی سے وحشت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی کہ ایسی بیوائیں کسی ایک بیوی کے گھر میں جمع ہو کر بات چیت کرلیا کریں اور جب سونے کا وقت ہو تو ہر عورت اپنے گھر چلی جایا کرے۔ سورۂ بقرہ میں حضرت ابو سعید خدری کی بہن کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا ‘ اپنی عدت وفات اپنے گھر میں بسر کرو اور وہیں مقیم رہو۔ اِلَّآاَنْیَّاْتِیْنَبِفَاحِشَۃٍمُّبَیِنَّۃٍ : یہ استثناء مضرغ ہے مستثنیٰ منہ محذوف ہے یعنی ان کو اپنے گھروں سے کسی وقت نہ نکالو۔ ہاں ! اگر وہ کھلی ہوئی بےحیائی کا کام کریں (تو نکال دو ) ابن عمر ‘ سدی اور ابراہیم نخعی نے کہا : فاحشہ کے لیے دوران عدت گھر سے نکلنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ابن ہمام نے کہا : یہ قول بہت زیادہ تعجب آفریں ہے۔ باہمی گفتگو میں بولا جاتا ہے ‘ تو زنا کر ‘ مگر یہ کہ تو فاحشہ ہو (یعنی اگر تو فاحشہ ہو تو زنا کر) ۔ رشتہ داروں کو گالیاں نہ دے مگر یہ کہ تو ان سے قطع تعلق کرنے والی ہو۔ اس مطلب پر اِلَّآاَنْیَّاْتِیْنَ کا تعلق لَا یَخْرُجْنَ سے ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : فاحشہ سے مراد ہے زنا ‘ زانیہ کو شرعی سزا (سنگسار کرنے یا سو کوڑے لگا دینے کے لیے اسے گھر سے نکالا جائے گا اور سزا کے بعد پھر واپس کردیا جائے گا۔ امام ابو یوسف (رح) نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ وضع لغت کے لحاظ سے یہ قول زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ الاّ غایت کے لیے ہے (یعنی الیٰ کا ہم معنی ہے) اور کوئی شے خود اپنی غایت نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : فاحشہ مبینہ یہ ہے کہ وہ عورت شوہر کے گھر والوں کو فحش کلمات کہتی اور زبان درازی کرتی ہو تو شوہر کے گھر میں سے اس کو نکال دینا جائز ہے۔ اسی طرح قتادہ کا قول ہے کہ اگر عورت نافرمان ہو ‘ شوہر سے سرکشی کرتی ہے تو اس کو طلاق دے دے (اور نکال دے) مؤخر الذکر دونوں صورتوں میں استثناء کا تعلق لا تخرجوہُنَّ سے ہوگا۔ وَ تِلْکَ حُدُوْدُ اللہ ِ..... یعنی یہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں (ان سے تجاوز نہ کرو) جو اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے ‘ اپنے نفس کو عذاب کے لیے پیش کرتا ہے۔ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللہ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا : امرا ‘ لا تدری کا مفعول ہے۔ یعنی اے مخاطب ! تو اس امر کو نہیں جانتا جو اللہ اس کے بعد پیدا کرے گا ‘ یہ جملہ احصوا العدۃ ولا تخرجوھن کی علت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ مرد کے دل میں عورت سے نفرت ہے ‘ وہ اس کو اپنے سے جدا کر رہا ہے لیکن ممکن ہے اللہ شوہر کے دل میں عورت کی محبت پیدا کر دے اور وہ ملاپ کا خواستگار ہوجائے اور پھر طلاق پر پشیمان ہو اور رجوع کرنا چاہے۔ (اس لیے عدت کی پوری گنتی محفوظ رکھو) کہ اگر ملاپ کی خواہش ہو تو عدت کے اندر رجوع ہو سکے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا

فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادۃ اللہ ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخرۃ . ” پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ جائیں تو تم (یا تو) قاعدے کے موافق (اپنے نکاح میں) روک لو یا قاعدہ کے موافق ان کو چھوڑ دو اور اپنے آپس کے آدمیوں میں سے دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لو (اے گواہو ! اگر شہادت کے لیے تم کو طلب کیا جائے تو) ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے شہادت دے دو ‘ اس مضمون سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ “ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ..... یعنی مطلقات رجعیہ ختم عدت کے قریب پہنچ جائیں۔ بَلَغْنَ اور اَجَلَھُنَّ ضمیریں ان مطلقات کی طرف راجع ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو۔ آغاز کلام میں عموم تھا جو تمام مطلقات کو شامل تھا ‘ بائنہ ہوں یا رجعیہ اور اس فقرے میں خاص عورتوں یعنی مطلقات رجعیہ کی طرف ضمیریں راجع ہیں ‘ خاص ‘ عام کے تحت داخل ہوتا ہے دوسری بعض آیات میں بھی ایسا کیا گیا ہے ‘ ایک جگہ فرمایا ہے : وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ ۔ اس آیت میں المطلقات کا لفظ عام ہے اور حکم بھی عام ہے لیکن آگے فرمایا ہے : وَ بُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ ۔ اس فقرے میں مطلقات رجعیہ کی طرف ضمیریں راجع ہیں۔ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ : دستور کے موافق عورتوں کو روک لو یعنی طلاق سے رجوع کرلو (عدت کے اندر عو رتوں سے ملاپ کرو ‘ ان کو اپنی طرف واپس لے لو) ۔ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ : یا ان کو اپنے سے جدا کر دو ‘ ان کو چھوڑ دو ۔ بِمَعْرُوْفٍ : مگر یہ سب کچھ حسن سلوک کے ساتھ ہو ‘ عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لیے نہ ہو کہ رجوع کرلو پھر طلاق دے دو پھر عدت ختم ہونے کو ہو تو رجوع کرلو اور اس طرح طویل مدت تک عورتیں الجھاؤ میں رہیں۔ وَاَشْھِدُوْا : اور رجعت یا فرقت پر اپنے دو آدمیوں کو گواہ بنا لو تاکہ باہمی نزاع ختم ہوجائے مگر یہ کہ گواہ عادل ہوں ‘ فاسق نہ ہوں۔ گواہ بنانے کا حکم استحبابی ہے ‘ ایجابی نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک کے نزدیک رجوع کے لیے شہادت کی ضرورت نہیں۔ ایک روایت میں امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ دوسری روایت کے اعتبار سے امام احمد کے نزدیک امر ایجابی ہے رجوع کرنے کے وقت دو گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی (رح) کے بھی دو قول منقول ہیں۔ زیادہ صحیح قول امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کے موافق ہے۔ ہم کہتے ہیں باتفاق علماء طلاق کے لیے گواہ بنانا واجب نہیں ہے۔ پس رجوع از طلاق کے لیے بھی واجب نہیں ہوگا اور امر استحبابی قرار پائے گا جیسے خریدو فروخت کے وقت گواہوں کی مو جو دگی کا حکم دیا گیا ہے اور فرمایا ہے : وَاَشْھِدُوْا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ‘ یہ حکم بھی استحبابی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ طلاق کے وقت گواہوں کی موجودگی تو واجب نہ ہو اور طلاق سے رجوع کرنے کے وقت واجب ہو ورنہ حقیقت و مجاز کا اجتماع (حقیقی معنی بھی مراد لینا اور مجازی معنی بھی مراد لینا) لازم آئے گا۔ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَِ ﷲِ : یعنی دنیوی لالچ اور غرض کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ کے واسطے شہادت دو ‘ جب تم کو شہادت کے لیے طلب کیا جائے تو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے شہادت ادا کرو۔ ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ..... یہ تمام نصیحت ان لوگوں کے لیے کی جا رہی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ ہی اس نصیحت سے فائدہ اندوز ہونے والے ہیں اور انہی کو نصیحت کرنی مقصود ہے۔ ابن مردویہ نے بروایت کلبی بحوالہ ابو صالح بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے بیٹے کو دشمن گرفتار کر کے لے گئے اور اس کی ماں بیتاب ہو رہی ہے۔ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں (یعنی میں کیا کروں ؟ ) حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم کو اور اس عورت کو حکم دیتا ہے کہ لاحول ولا قوّ ۃ الاّ باللہ بکثرت پڑھا کرو۔ عورت نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے جو تم کو حکم دیا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ چناچہ دونوں نے لاحول ولا قوّ ۃ الاّ باللہ بکثرت پڑھنا شروع کردیا ‘ کچھ ہی مدت گزری تھی کہ وہ دشمن ان کے لڑکے کی طرف سے غافل ہوگیا اور لڑکا دشمن قبیلہ کی بکریاں ہنکا کر اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ بغوی نے لکھا ہے وہ چار ہزار بکریاں تھیں۔ اس پر آیت وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ .... نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عوف بن مالک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے بیٹے کو دشمن پکڑ کرلے گئے۔ حضور عوف ؓ نے حضور ﷺ سے اپنی محتاجی کا بھی شکوہ کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو اور صبر کرو اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھا کرو ‘ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ایک روز جب کہ وہ اپنے گھر میں تھے کہ ان کا بیٹا دشمن کے کچھ اونٹ لے کر آگیا کیونکہ دشمن اس کی طرف سے غافل ہوگئے تھے (اور اس کو فرار ہونے کا موقع مل گیا) ۔ ابن جریر نے بھی یہ قصہ اسی طرح سالم بن ابی الجعد اور سدی کی روایت سے نقل کیا ہے۔ حاکم نے حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت : ومن یتق اللہ قبیلۂ اشجع کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ‘ یہ شخص محتاج ‘ نادار اور کثیر العیال تھا۔ خطیب نے اپنی تاریخ میں بطریق جریر از ضحاک حضرت ابن عباس کا بیان بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ ثعلبی نے اس کو دوسری ضعیف سند سے اور ابن ابی حاتم نے اس کو ایک اور سند سے مرسلاً بیان کیا ہے۔ ذہبی نے حضرت جابر کی حدیث کو منکر قرار دیا ہے لیکن کثرت شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح مانی جائے گی۔ ذہبی کے قول کو نظر انداز کردیا جائے گا۔ ومن یتق۔۔ ” اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ‘ اللہ اس کے لیے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ ..... یعنی جو شخص مصیبت اور دکھ میں صابر رہے گا ‘ بےصبری اختیار نہیں کرے گا اور ممنوعات سے پرہیز رکھے گا ‘ اللہ اس کے لیے اس مصیبت سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا اور ایسے طریقے سے اس کو (محتاجی اور ناداری دور کرنے والا حلال) رزق عطا فرمائے گا کہ اس کے گمان میں بھی نہ ہوگا جیسے حضرت عوف اشجعی کی مصیبت دور کی اور رزق عطا فرمایا۔ فائدہ بغوی نے بروایت مقاتل بیان کیا ہے کہ عوف بن مالک اشجعی کے بیٹے کے ہاتھ (دشمن کی) کچھ بکریاں اور سامان لگ گیا۔ وہ بکریاں اور سامان لے کر اپنے باپ کے پاس واپس آگئے۔ حضرت عوف نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا اور دریافت کیا کہ میرے لیے کیا یہ چیزیں حلال ہیں جو بیٹا لے کر آیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! (حلال ہیں) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فائدہ دنیوی اور دینی منافع کو حاصل کرنے اور مضرت کو دور کرنے کے لیے حضرت مجدد صاحب نے لاحول ولا قوۃ الا باللہ کی کثرت کو پسند کیا لیکن کثرت کی مقدار کیا ہونا چاہیے اس کے متعلق فرمایا : سو مرتبہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ روزانہ پڑھا جائے اور اوّل ‘ آخر سو سو مرتبہ درود پڑھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو اللہ نعمت عطا فرما دے اور وہ اس نعمت کی بقاء کا خواستگار ہو تو لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھا کرے۔ (رواہ الطبرانی من حدیث عقبہ بن عامر) صحیحین میں حضرت ابو مولیٰ کی مرفوع حدیث آئی ہے کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ نسائی کی روایت ہے کہ لاحول ولا قوۃ الاّ باللہ پڑھنا ننانوے بیماریوں کا علاج ہے جن میں ادنیٰ بیماری فکر ہے۔ مسئلہ اگر کوئی مسلمان قید ہو کر یا چھپے چوری بغیر ویزا کے دارالحرب میں پہنچ جائے اور وہاں سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ رہزنی وغیرہ کے بعد کچھ مال سمیٹ کر دارالسلام میں لے آئے تو اس مال کا وہ مالک ہوجائے گا اور اس کے لیے یہ مال حلال ہے اور اس مال کا پانچواں حصہ یعنی خمس ادا کرنا اس پر واجب نہیں ہے لیکن اگر کسی حربی کافر نے اس مسلمان کے پاس نقد و جنس بطور امانت رکھا یا کوئی حربی تاجر بغرض تجارت یا حربی سیاح ویزا لے کر دارالسلام میں آگیا اور کسی مسلمان نے اس کے مال پر قبضہ کرلیا تو یہ قبضہ حرام ہے اور اس طرح حربی کافر کے مال کا مالک بن جانا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ فریب ہے اور معاہدہ شکنی ہے ‘ دھوکہ دہی ہے۔ اس مال پر خمس بھی واجب نہیں (کیونکہ اس مال پر قبضہ ہی ناجائز ہے) اور اگر زبردستی دارالحرب میں جا کر کافر کے مال پر قبضہ کیا ہے تو اس مال کا حکم وہی ہے جو مال غنیمت کا ہے ‘ خمس ادا کرنا واجب ہے۔ بقول بغوی ‘ عکرمہ ‘ شعبی اور ضحاک نے آیت مذکورہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے یعنی سنت کے مطابق طلاق دیتا ہے ‘ اللہ اس کے لیے طلاق سے رجوع کرنے کا راستہ نکال دیتا ہے (یعنی عورت سے نفرت دور ہوجاتی ہے ‘ محبت لوٹ آتی ہے اور وہ رجوع کرلیتا ہے) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مخرج سے مراد ہے ان تمام چیزوں سے باہر آجانے کا راستہ جو دوسروں کے لیے تنگ ہیں۔ ابو العالیہ نے کہا : ہر سختی سے نکل آنے کا راستہ مراد ہے ‘ حسن نے کہا ہے تمام ممنوعات سے نکلنے کا راستہ مراد ہے۔ مَیں کہتا ہوں رفتار آیت حضرت عوف کے قصہ کے موافق ہے اور سیاق عبارت کے مناسب حکم عام ہے (یعنی مورد خاص ہے اور حکم عام) اور جملہ معترضہ ہے جو سابق حکم کی تائید کر رہا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا جو مرد اللہ سے ڈرتا ہے عورت کو بلا قصور نہیں ستاتا اور ظلم نہیں کرتا ‘ اگر عورت کی بدزبانی ‘ بد مزاجی اور نافرمانی کی وجہ سے طلاق دے دے اور حیض کی حالت میں بھی یہ طلاق نہ ہو بلکہ طہر کی حالت میں دی گئی ہو اور عورت کی عدت لمبی کر کے اس کو ضرر پہنچانا بھی مقصود نہ ہو (کہ جب عدت کے ختم ہونے کا وقت آجائے تو رجوع کرلے اور پھر طلاق دے دے اور پھر ختم عدت کے وقت رجوع کرلے اور پھر طلاق دیدے) اور عورت کو ایّام عدت میں گھر سے نہ نکالے اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز نہ کرے تو اللہ اس کے لیے گناہ سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اس بدزبان ‘ بد مزاج ‘ نافرمان عورت کے عوض ‘ فرمانبردار ‘ نیک ‘ پرہیزگار بی بی اس طور پر عنایت فرما دیتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا ‘ اسی طرح جو عورت اللہ سے ڈرے اور خاوند کی حق تلفی نہ کرے ‘ بدزبانی سے پیش نہ آئے ‘ بےوجہ طلاق کی خواستگار نہ ہو بلکہ شوہر اگر اس کو دکھ پہنچاتا ہو تو صبر کرے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرے تو اللہ اس کے لیے راہ نجات نکال دیتا ہے اور اس کو بےگمان طریقہ سے رزق عطا فرماتا ہے اور ظالم بدمزاج شوہر کی بجائے نیک ‘ حق شناس شوہر مرحمت کردیتا ہے۔ مضرت دارین سے نجات اور بچاؤ کا یہ حکم تمام اہل تقویٰ کے لیے عام ہے (مرد ہوں یا عورتیں) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس کو لے لیں (یعنی اس پر عمل کریں) تو ان کے لیے کافی ہوگی ‘ پھر حضور ﷺ نے آیت : وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَ یَّرْزُقُمْ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ تلاوت فرمائی۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ والدارمی و رواہ ابن حبان فی صحیحہ) حاکم کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کو بار بار پڑھتے تھے۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

لا یحتسب . اور اس کو اس جگہ سے رزق بھی پہنچا دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ “ ومن یتوکل ... شیء قدرا . ” اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ اس (کی تسہیل مہمات) کے لیے کافی ہے اور اللہ اپنا کام (جس طرح چاہے) پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ (اپنے علم میں) مقرر کر رکھا ہے۔ “ فَھُوَ حَسْبُہٗ : یعنی اس کے تمام فکر آگیں امور کے لیے اللہ کافی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے اگر تم لوگ اللہ پر ایسا بھروسہ کرلو جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے (یعنی کامل بھروسہ کرلو) تو اللہ تم کو اس طرح رزق عطا فرمائے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہی۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ) حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے ستّر ہزار آدمی ‘ بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر نہیں کراتے ‘ شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ (متفق علیہ) اور ایک روایت میں اتنا زائد ہے اور داغ نہیں لگواتے۔ اِنَّ اللہ بَالِغُ اَمْرِہٖ : یعنی اللہ اپنے ارادہ کو ضرور پورا کرتا ہے کوئی اسکو تکمیل ارادہ سے نہیں روک سکتا ‘ اسکے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ مسروق نے کہا خدا کی مشیت ضرور پوری ہو کر رہتی ہے ‘ کوئی اس کی مشیت پر بھروسہ رکھے یا نہ رکھے البتہ جو اس پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے اور اجر عظیم عطا کرتا ہے۔ قَدْ جَعَلَ اللہ لِکُلِّ شَیْ ءٍ قَدْرًا : یعنی اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے۔ ہر چیز تقدیر خداوندی کے اندر ہے۔ طلاق کا ایک وقت (یعنی طہر) اور عدت کی ایک میعاد (تین حیض اور چار ماہ دس روز) اسی کے اندازہ کے موافق ہے یا ہر چیز سے مراد ہے سختی ‘ نرمی ‘ دکھ ‘ سکھ۔ یعنی اللہ نے ہر دکھ سکھ کی ایک میعاد اور حد مقرر کردی ہے ‘ مقررہ حد پر پہنچ کر ہر چیز ختم ہوجاتی ہے اس میں تبدل و تغیر ممکن نہیں ‘ نہ بےصبر ہونے اور گھبرانے سے کوئی فائدہ ہے۔ اس صورت میں یہ وجوب توکل کا بیان ہوگا اور یہ تفسیر قول مسروق کے موافق ہوگی۔ ابن جریر ‘ اسحاق بن راہویہ اور حاکم نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا کہ جب سورة بقرہ میں عورتوں کی عدت کا حکم بیان کردیا گیا تو صحابہ ؓ نے کہا : کچھ عورتوں کی عدت تو بیان ہی نہیں کی گئی۔ نابالغ اور بوڑھی عورت کی مقدار عدت کا کچھ حکم نہیں دیا گیا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا

والی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلٰثۃ اشھر والی لم یحضن و اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن . ” اور تمہاری (مطلقہ) بیبیوں میں جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہوں ‘ اگر تم کو (ان کی عدت کی تعیین میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور (اسی طرح) ان (مطلقہ) عورتوں کی بھی جو (کم عمر ہوں اور کمر عمری کی وجہ سے) جن کو حیض نہ آیا ہو اور حاملہ (مطلقہ و بیوہ) عورتیں تو ان کی عدت وضع حمل ہے۔ “ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ : یعنی زیادتی عمر کی وجہ سے جن عورتوں کو حیض آنے کی امید نہیں رہی ہو بعض علماء نے پچپن سال اور بعض نے ساٹھ برس حیض سے مایوسی کی (انتہائی) عمر قرار دی ہے۔ اِنِ ارْتَبْتُمْ : یعنی اگر تم کو ان کی عدت میں شبہ ہو۔ اس شرط میں اس طرف اشارہ ہے کہ مجمل طور پر عدت تو تمام عورتوں کی جو (مطلقہ ہوں) آیت : وَالْمَطَلَّقَاتُ یَتَّرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ میں بیان کردی گئی ہے۔ تین حیض اکثر تین ماہ میں ہی ہوتے ہیں۔ اب اگر حیض نہ ہوں تو اس مدت کی تعیین ضروری ہے جس میں اکثر تین حیض ہوتے ہیں ‘ جس طرح بلوغ کی عمر 15 یا 17 سال علماء نے مقرر کی ہے کیونکہ اتنی عمر میں بلوغ ضرور ہوجاتا ہے یا جیسے وجوب زکوٰۃ کے معاملہ میں ایک سال کے دور کو نمو کے قائم مقام قرار دیا ہے کیونکہ اکثر بڑھوتری ایک سال کے اندر ہوجاتی ہے یا جیسے حیض سے مایوسی تعیین عمر سے کی ہے (55 یا 60 سال وغیرہ) شریعت میں اس کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ مقاتل نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت خلاد بن عمرو بجموح نے ان عورتوں کی عدت کے متعلق دریافت کیا جن کو حیض نہیں آتا ‘ اس پر جملۂ ذیل نازل ہوا۔ وَّالّٰیءِْ لَمْ یَحِضْنَ : یعنی جن بیبیوں کو حیض نہیں آیا خواہ وہ صغیر السن ہوں یا بالغ ہونے کے قریب یا عمر کے اعتبار سے بالغہ۔ مطلب یہ کہ ایسی عورتوں کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ وَاللَّاءِیْ یَءِسْنَ کا عطف مع معطوفات کے فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ کے مفہوم پر ہے۔ لِعِدَّتِھِنَّاضافت اور الْعِدَّۃ میں لام تعریف عہدی ہے یعنی ان مطلقات کی بھی وہی عدت ہے جو والْمَطَلَّقَاتُ یَتَّرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ سے معلوم ہوئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کی عدت بھی تین حیض ہے۔ اس آیت کا حکم انہی مطلقات کے متعلق ہے جو آزاد بیبیاں ہوں ‘ یہ مسئلہ اجماعی ہے خواہ وہ مطلقہ رجعیہ ہوں یا بائنہ ‘ مسلمان ہوں یا کتابی جو مسلمان کے نکاح میں ہوں۔ باندیاں خواہ مکمل باندیاں ہوں یا مکاتبہ یا مدبرہ اگر وہ حیض والیاں نہ ہوں ‘ یعنی ان کو ابھی حیض شروع نہ ہوا ہو یا عمر کے لحاظ سے حیض آنے سے مایوسی ہوگئی ہو تو ان کی عدت باتفاق علماء ڈیڑھ ماہ ہے ہم نے سورة بقرہ میں بیان کردیا ہے کہ باندی کی مکمل طلاق تو ڈیڑھ طلاق اور اس کی عدت ڈیڑھ حیض اصولاً ہونی چاہیے لیکن طلاق اور حیض چونکہ قابل تجزی نہیں ہے اس لیے باندی کی پوری طلاق دو طلاقیں اور پوری عدت دو حیض ہے لیکن جو حائضہ نہ ہوں ان کی طلاق و عدت کا حساب ایّام کی گنتی سے کیا جائے گا اور ایّام کی گنتی تو آزاد مطلقات کی گنتی سے پوری آدھی ہوسکتی ہے اس لیے ایسی عورتوں کی عدت ڈیڑھ ماہ ہوگی۔ امام شافعی (رح) نے بروایت سفیان بن عیینہ بحوالۂ محمد بن عبدالرحمن از سلمان بن یسار از عبداللہ بن عتبہ حضرت عمر ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ غلام دو عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے (چار سے ایک وقت میں نہیں کرسکتا ہے) اور دو طلاقیں دے سکتا ہے (اس کی دو طلاقیں تین کے قائم مقام ہوں گی) اور باندی دو حیض کی عدت پوری کرے ‘ اگر حیض نہ آتا ہو تو دو ماہ یا ڈیڑھ ماہ کی عدت کرے۔ مسئلہ اگر عورت جوان ہو ‘ حیض آتا ہو لیکن سن ایاس کو پہنچنے سے پہلے کسی وجہ سے حیض بند ہوجائے تو اکثر علماء کے نزدیک جب تک حیض کھل نہ جائے ‘ اس کی عدت ختم نہیں ہوگی ‘ اس طرح تکمیل عدت کے لیے تین حیض ضروری ہوں گے اور سن ایاس کو پہنچ گئی تو تین ماہ گزرنے پر عدت پوری ہوجائے گی۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن مسعود کا یہی فتویٰ ہے ‘ عطاء کا بیان ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے۔ اس قول کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ سن ایاس کو پہنچنے سے پہلے کسی وجہ سے جس کا حیض بند نہ ہو وہ نہ آئسہ ہے ‘ نہ اس کو غیر حائضہ کہا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر کا قول ہے کہ ایسی عورت کو نو ماہ انتظار کرنا چاہیے اگر اس مدت میں حیض نہ آئے تو اس کے بعد تین ماہ کی عدت کرے۔ یہی قول امام مالک (رح) کا ہے۔ حسن نے کہا : چھ ماہ انتظار کرے اس کے بعد تین ماہ کی عدت کرے۔ مسئلہ اگر کسی مطلقہ کو دو حیض آگئے اور پھر (تیسرا حیض آنے سے پہلے) سن ایاس کو پہنچ گئی اور خون منقطع ہوگیا تو از سر نو تین ماہ کی عدت کرے گی لیکن سن ایاس کو پہنچی ہوئی مطلقہ نے اگر مہینوں کے اعتبار سے عدت کرلی اور عدت ختم ہونے کے بعد یا دوران عدت میں اس کو خون آگیا تو گزشتہ عدت شمار نہیں کی جائے گی اور اگر سہ ماہی عدت کے بعد اس نے نکاح کرلیا ہوگا تو نکاح فاسد ہوگا لیکن یہ حکم اس وقت ہوگا جب عادت کے مطابق خون سیاہ یا سرخ ہو اگر زرد یا سبز یا خاکستری رنگ کا ہوگا تو اس کو حیض نہیں قرار دیا جائے گا (بلکہ کسی بیماری کا نتیجہ سمجھا جائے گا۔ ) ہاں اگر سن ایاس سے پہلے عادۃً اس کو حیض کا خون ‘ زرد یا بستہ آتا تھا اور بعد ایاس بھی خون کا وہی رنگ رہا تو اس کو حیض ہی مانا جائے گا۔ اگر طلاق شروع مہینے میں دی تو باتفاق علماء عدت کا حساب چاند کے مہینوں سے کیا جائے گا اور اگر وسط ماہ میں طلاق دی تو (مہینوں سے عدت کا حساب نہیں ہوگا بلکہ) دنوں سے گنتی کی جائے گی۔ وقوع طلاق سے نوے دن گزر جائیں گے تو عدت پوری ہوگی۔ اس سے کم مدت میں عدت ختم نہیں ہوگی۔ یہ قول امام ابوحنیفہ کا ہے صاحبین (امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) نے فرمایا : پہلے مہینے کی گنتی دنوں سے کی جائے گی یعنی 30 دن گنے جائیں گے اور آخر کے دو ماہ چاند سے شمار ہوں گے۔ (30 دن کے ہوں یا 29 دن کے ‘ دنوں کی گنتی نہیں کی جائے گی) ۔ مسئلہ عدت کی مذکورہ مقدار مطلقہ کے لیے ہے ‘ بیوہ کے لیے نہیں ہے۔ بیوہ اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت کی مدت چار ماہ دس روز ہے خواہ کم عمر ہو یا جوان یا سن ایاس کو پہنچی ہوئی۔ اسی پر اجماع سلف ہے اور علت اجماع وہ روایت ہے جو اس آیت کی شان نزول کے طور پر حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیان کی ہے۔ حضرت ابی کا بیان ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : نابالغ اور بڑی عمر والیاں (یعنی آئسہ) اور حاملہ عورتیں اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔ ان عورتوں کی عدت کا بیان باقی ہے اور کوئی شک نہیں کہ آیت : وَالْمَطَلَّقَاتُ یَتَّرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرْوْءٍ میں ان مذکورہ عورتوں کا بیان نہیں ہے۔ اس لیے ان تبتم فرمایا۔ رہی یہ آیت : وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَُوْنَ مِنْکُمْ تو یہ ناقابل اشتباہ ہے کیونکہ یہ آیت تو عام ہے ہر قسم کی بیواؤں کو شامل ہے۔ اشتباہ تو اس حکم میں ہوتا ہے جس کا ثبوت ظنی دلیل سے ہو۔ آیت : وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَُوْنَ مِنْکُمْ تو یقینی قطعی ہے ‘ اس کا شمول و عموم ظنی نہیں ہے۔ ایک شبہ تینوں جملوں کی رفتار ایک جیسی ہے۔ آپ کی پیش کردہ دلیل سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ آیت مطلقات کے ساتھ خاص ہے ‘ پس یہی دلیل چاہتی ہے کہ آیت : وَاَوْلاَتُ الْاَحْمَالِ..... بھی مطلقات کے ساتھ مخصوص ہو لیکن اس کا قائل تو کوئی بھی نہیں ہے۔ ازالہ آیت مذکورہ کا مطلقات کے ساتھ اختصاص باجماع علماء ثابت ہے۔ صرف حدیث آحاد ‘ نص قطعی کی مخصص نہیں بن سکتی ‘ نہ ہم اس کے قائل ہیں بلکہ اجماع کا انعقاد تو اس بات پر ہے کہ آیت : وَاَوْلاَتُ الْاَحْمَالِعام ہے۔ خواہ حاملہ عورتیں مطلقہ ہوں یا بیوہ ‘ سب کا یہی حکم ہے۔ ابن علیہ اور حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ بیوہ اگر حاملہ ہو تو عدت ختم ہونے کے لیے وضع حمل بھی ضروری ہے اور چار ماہ دس وز کی مدت بھی گزرنی لازم ہے۔ ان حضرات نے احتیاطاً دونوں آیتوں پر عمل کیا۔ جمہور کا قول ہے کہ صرف وضع حمل سے عدت ختم ہوجاتی ہے (وضع حمل کے بعد دنوں اور مہینوں کی گنتی لازم نہیں) ۔ امام مالک (رح) نے مؤطا میں حضرت عمر ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر کا یہی قول نقل کیا ہے کہ حاملہ کی عدت کے بیان میں کسی نے بھی وضع حمل کو غیر ضروری نہیں قرار دیا۔ امام مالک (رح) نے مؤطا میں سلیمان بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا حضرت ابو سلمہ بن حضرت عبدالرحمن بن عوف سے اس حاملہ کی عدت کی بابت اختلاف ہوگیا جس کا وضع حمل شوہر کے انتقال سے چند روز بعد ہی ہوگیا۔ ابو سلمہ نے کہا : جب وضع حمل ہوگیا تو عورت کی بندش کھل گئی ‘ عدت سے آزاد ہوگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دونوں مدتوں میں جو مدت زیادہ ہوگی اس پر عدت کا ختم ہونا موقوف ہوگا۔ وضع حمل چار ماہ دس روز سے زائد میں ہو تو ختم عدت کے لیے وضع حمل کا اعتبار کیا جائے گا اور چار ماہ دس روز سے پہلے وضع حمل ہوجائے تو چار ماہ دس روز کا انتظار کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میری رائے اپنے بھتیجے یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہے۔ لوگوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کو امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ ؓ کی خدمت میں یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا۔ کریب نے واپس آکر کہا کہ امّ المؤمنین نے فرمایا : سبیعہ اسلمیہ کے شوہر کے انتقال سے چند روز کے بعد سبیعہ کے بچہ پیدا ہوگیا۔ سبیعہ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا تو (عدت) سے آزاد ہوگئی۔ اب جس سے چاہے نکاح کرلے۔ صحیحین میں عمر بن عبداللہ بن ارقم کا بیان آیا ہے ‘ عمر بن عبداللہ نے کہا میں نے جا کر حضرت سبیعہ اسلمیہ بنت حارث سے ان کا واقعہ دریافت کیا ‘ کہنے لگیں میں سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی (حضرت سعد بنی عامر بن لوی کے قبیلہ سے تھے) آپ شرکاء بدر میں تھے ‘ حجۃ الوداع میں آپ کی وفات ہوئی) میں اس زمانہ میں حاملہ تھی ‘ کچھ ہی مدت کے بعد وضع حمل ہوگیا۔ جب نفاس سے پاک ہوگئی تو سنگھار کرنے لگی ‘ تاکہ لوگوں کو پیام نکاح دینے کا موقع مل سکے۔ بنی عبدالدار کے قبیلہ کا ایک شخص تھا جس کو ابو السنابل بن بعلبک کہا جاتا تھا۔ ابو السنابل نے سبیعہ سے کہا تو سنگھار کیوں کرتی ہے شاید تو نکاح کرنے کی خواستگار ہے ؟ لیکن جب تک چار ماہ دس روز نہ گزر جائیں خدا کی قسم تو نکاح نہیں کرسکتی۔ ابو السنابل کی یہ بات سن کر شام کو سبیعہ نے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا۔ سبیعہ کا بیان ہے ‘ حضور ﷺ نے فتویٰ دیا اور فرمایا : وضع حمل ہوتے ہی تو (عدت سے) آزاد ہوگئی ‘ اب اگر تو چاہے تو اپنا نکاح کرسکتی ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت : وَاَوْلاَتُ الْاَحْمَالِکا حکم بیوہ کو بھی شامل ہے اور مطلقہ کو بھی کیونکہ حضرت ابی بن کعب کی روایت میں آیا ہے ‘ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ‘ آیت : وَاَوْلاَتُ الْاَحْمَالِکا حکم مطلقہ ثلاث اور بیوہ دونوں کو شامل ہے ؟ فرمایا : مطلقہ ثلاث اور بیوہ دونوں کے لیے ہے۔ اس روایت میں ایک راوی مثنیٰ بن صباح متروک ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ آیت اس آیت کی مخصص ہے جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس روز مقرر کی گئی ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک کسی حکم کی تخصیص متراخی حکم سے جائز ہے (مخصص کا متصل ہونا ضروری نہیں) ۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس آیت کے عموم کو قائم رکھنا آیت : وَالَّذِیْنَ یّتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا کا عموم کو قائم رکھنے سے بہتر ہے کیونکہ اَوْلاَتُ الْاَحْمَالِکا عموم بالذات ہے اور ازواجًا کا عموم بالعرض اور اس جگہ حکم معلل (قیاسی) ہے اور اس میں حکم معلل نہیں ہے۔ حضرت سبیعہ کی حدیث اسی پر دلالت کر رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اس آیت کا حکم سورة بقرہ کی آیت کے حکم کو بقدر شمول منسوخ کر رہا ہے ‘ یہ آیت ناسخ ہے اور سورة بقرہ والی آیت منسوخ۔ حضرت ابن مسعود سے بھی یہی مروی ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور اس کو رخصت نہیں دیتے ( کہ جو صورت آسان ہو اور اس پر عمل کرے خواہ وضع حمل پہلے ہوجائے یا چار ماہ دس روز کی مدت پہلے ختم ہوجائے) چھوٹی سورت نساء تو لمبی سورت نساء کے بعد نازل ہوئی تھی۔ چھوٹی سورت نساء سے مراد ہے یہی سورت طلاق اور لمبی سورت نساء سے مراد ہے سورة بقرہ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں کہ چھوٹی سورت نساء لمبی سورت نساء کے بعد نازل ہوئی تھی۔ ابوداؤد ‘ نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں حضرت ابن مسعود کے یہ الفاظ آئے ہیں ‘ جو شخص چاہے میں اس سے ملاعنہ (لعان) کرنے کو تیار ہوں کہ چھوٹی سورت نساء ” چار ماہ دس روز “ (کی میعاد عدت) کے بعد نازل ہوئی تھی۔ مسئلہ بیوہ آزاد عورت ہو یا باندی حکم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وضع حمل میں تقسیم نہیں ہوسکتی (یعنی دنوں اور مہینوں کو تو نصف کیا جاسکتا ہے ‘ وضع حمل کو نصف نہیں کیا جاسکتا) ۔ مسئلہ اگر دو بچے جڑواں پیدا ہوں تو آخری بچہ کی پیدائش پر عدت ختم ہوگی کیونکہ باقتضاء آیت وضع حمل کی تکمیل ضروری ہے۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا

ومن یتق اللہ .... اجرًا . ” اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا ‘ اللہ اسکے ہر کام میں آسانی کر دیگا یہ (جو کچھ مذکور ہوا) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو شخص (ان سارے معاملات میں) اللہ سے ڈرے گا ‘ اللہ اسکے گناہ دور کردیگا اور اسکو بڑا اجر دیگا۔ “ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ : یعنی جو شخص احکام خداوندی (کی تکمیل اور پابندی) میں اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ اللہ اس کے لیے امور دنیا و آخرت آسان کردیتا ہے اور اس کو بھلائی اور خیر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ ذٰلِکَ : یعنی مذکورہ احکام۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ...... یعنی جو شخص احکام خداوندی (کی تکمیل اور پابندی) میں اللہ سے ڈرتا ہے اور حقوق و احکام کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اللہ اس کے گناہ ساقط کردیتا ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو زائل کردیتی ہیں اور اس کے اجر کو بڑھا کر چند گنا کردیتا ہے۔