Ayah 65:11۔ بلاشمار عدت سے قبل، حالت طہر میں عدت کی معیاد تین حیض ہیں۔ (جیسا کہ سورة البقرۃ کے حاشیوں میں صاف کہا جاچکا ہے) حیض سے قبل طلاق دینے میں مصلحت یہ ہے کہ پورے تین حیض شمار میں آجائیں گے اور حساب میں کچھ گڑبڑ نہ ہوگا۔ ورنہ اگر دوران حیض میں طلاق دی تو لامحالہ یا تو اس حیض کا کچھ حصہ چھوڑنا پڑے گا، اور یا اسے ملانا پڑے گا، دونوں صورتوں میں عدت کی اصل میعاد (تین حیض) سے کچھ نہ کچھ کمی یا زیادتی ضرور کرنی پڑے گی ، (آیت) ” یایھا النبی “۔ خطاب براہ راست رسول اللہ ﷺ سے ہونے کی حکمت بعض علماء نے یہ لکھی ہے کہ افراد امت تو تبعا اس میں شامل ہو ہی جائیں گے، اور صالحین وشرفاء کو اس میں عار بھی نہ آئے گا کہ ضرورت تو جب حضور ﷺ کو بایں رافت، حلم پڑ سکتی ہے ، (بلکہ واقعۃ پڑی تھی) تو دوسروں کا کیا ذکر ہے۔ اکتفاء بعلم المخاطبین بان ما خوطب بہ النبی ﷺ خطاب لھم اذ کانوا مامورین بالاقتداء بہ (جصاص) اور یہ ترکیب بھی صحیح مانی گئی ہے کہ قل لا منک “۔ یہاں محذوف ومقدر ہے۔ تقدیرہ یایھا النبی قل لامنک (جصاص) (آیت) ” اذا طلقتم النسآء۔ النسآء “۔ سے وہ بیویاں مراد ہیں جن کے ساتھ صحبت حقیقۃ یا حکما ہوچکی ہو۔ (آیت) ” لعدتھن “۔ حذف مضاف ہے یعنی فی قبل عدتھن اے طلقوھن مستقبلا لعدتھن (مدارک) ایک فقہی اختلاف خود لفظ قبل کی تشریح میں ہوا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک اس کے معنی آمد و استقبال کے ہیں۔ شافعیہ نے مراد ابتداء لی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ل توقیت یا اظہار وقت کا ہے۔ یعنی وہ وقت جس سے عدت بلاتردد شمار کی جاسکے۔
2۔ یعنی عبادات ہی کی طرح ان دنیوی معاملات اور قانون احکام میں بھی یاد رکھو کہ یہ بھی سب خدائے قادر مطلق ہی کے دیئے ہوئے ہیں۔ جس کے ارشادات کا ایک ایک جزئیہ اپنی جگہ پر پوری اہمیت رکھتا ہے۔ اور پھر وہ اللہ بھی کیسا تمہارا پروردگار ! ہر ہر حکم اور ہر ہر ہدایت میں تمہاری ہی تربیت کا، تمہاری ہی مصلحتوں کا لحاظ رکھنے والا ! (آیت) ” واحصوالعدۃ “۔ یعنی طلاق دینے کے بعد زمانہ عدت کو دھیان میں رکھو، اس حساب میں گڑبڑ نہ ڈالو۔ فقہاء حنفیہ نے کہا ہے کہ طلاق اگر حالت حیض میں دے دی ہے تو رجوع کرنا واجب ہے، اس لیے وہ وقت عدت نہیں، فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس حکم کے اندر تین طلاقیں دفعتہ دے بیٹھنے اور طلاق حالت حیض میں دینے، دونوں کی ناپسندیدگی ضمنا آگئی ہے۔
3۔ یعنی ان گھروں سے جن میں وہ طلاق کے وقت رہ رہی تھیں۔ (آیت) ” بیوتھن “۔ سے مراد وہی شوہروں کے گھر ہیں۔ جن میں بیویاں رہتی ہوتی ہیں، انہیں بجائے شوہروں کے بیویوں کی جانب منسوب اس لیے کیا کہ ان میں رہتی تو وہی لوگ تھیں۔ وھی بیوت الازواج واضیفت الیھن لاختصا صھا من حیث السکنی (مدارک) آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مطلقہ کا یہ حق سکونت مکان محض حق العبد نہیں، جس کا معاف کردینا خود مطلقہ کے اختیار میں ہو، (آیت) ” ولایخرجھن “۔ فقہاء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ زمانہ عدت بھر عورت کو باہر نہ نکلنا چاہیے بلکہ اپنے اسی مکان میں عدت میں قیام واجب ہے۔ وفیہ دلیل علی وجوب السکنی لھا ما دامت فی العدۃ (جصاص) زمانہ عدت بھر منکوحہ کی طرح مطلقہ کا بھی حق سکونت مکان قائم رہتا ہے۔
4۔ (جب البتہ بطور سزا نکالی جائیں گی) (آیت) ” فاحشۃ مبینۃ “۔ اس کے تحت میں بدکاری اور چوری دونوں آگئیں۔ بعض محققین نے زبان درازی کو بھی جس سے گھر میں ہر وقت کوفت ورنجش اور تکرار رہے اس میں داخل کیا ہے۔
5۔ (تیرے دل میں) خطاب یہاں طلاق دینے والے اور طلاق میں عجلت کرنے والے سے ہے کہ کیا معلوم آگے چل کر تجھے اپنے عاجلانہ عمل طلاق پر ندامت ہی ہو۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ یعنی بعدایقاع طلاق۔ آیت میں صاف ترغیب اس کی موجود ہے کہ تینوں طلاقیں دفعۃ واقع نہ کردی جائیں۔ اس لیے کہ طلاق مغلظہ کے بعد پھر کوئی موقع تدارک کا باقی نہ رہے گا (بجز (صورت حلالہ کے) دوسرے ائمہ کے ہاں تو دفعۃ تین طلاقیں ایک ہی طلاق کے حکم میں رہیں گی، حنفیہ کے ہاں قانونا واقع ہوجائیں گی، لیکن فقہاء حنفیہ نے یہ لکھا ہے کہ ایسی طلاق دینے والا گنہگار ہوگا۔ (آیت) ” فقد ظلم نفسہ “۔ اور یہ اپنے حق میں ظالم شخص اس ظلم نفس کے نتیجے بھی بھگتے گا۔ (آیت) ” تلک .... نفسہ “۔ قرآن مجید نے اپنے عام معمول کے مطابق یہاں بھی بندوں کو ڈرایا ہے کہ بندوں کے آپس کے معاملات کو امر خفیف نہ سمجھیں۔ اللہ کے ان احکام سے بھی بےپروائی پوری طرح قابل مؤاخذہ ہے۔ محققین نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ جس امر کی مختلف مصالح ہوں، ان کے انقطاعی فیصلہ میں جلدی نہ کی جائے۔
Ayah 65:26۔ مطلب یہ ہوا کہ انہیں طلاق ہی دینا ہو، تو ہر نشیب و فراز خوب سوچ سمجھ کر تین مہینہ کی لمبی مہلت لے کر دو ، اور انہیں شریفانہ طور پر عزت کے ساتھ رخصت کردو، ورنہ پھر طلاق رجعی سے رجوع کرکے انہیں عزت و شرافت کے ساتھ اپنی بیوی بنے رہنے دو ۔ یہ نہ ہو کہ محض ستانے کئے لیے انہیں قید نکاح میں معلق رکھو۔ غرض یہ کہ علیحدگی ہو تو، اور یکجائی بدستور رہے تو دونوں صورتوں میں عزت و شرافت کا سر رشتہ کسی طرح بھی ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ (آیت) ” ھن “۔ یہ ضمیر جمع مؤنث جہاں جہاں آئی ہے، اس سے مراد وہی بیویاں ہیں۔ جنہیں طلاق صرف رجعی ہوئی ہے۔ اور رجوع کی گنجائش ابھی باقی ہے۔
7۔ (اور اسی میں ایمان بالرسول بھی آگیا) (آیت) ” واشھدوا “۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ضیغہ امر وجوب کے لیے نہیں، محض استحباب کے لیے ہے۔ ھذا الاشھاد مندوب الیہ (مدارک) وھذا امر ندب (روح) دو عادل گواہوں کا یہ حکم استحبابی رجوع وافتراق دونوں صورتوں کے لیے ہے۔ امر بالاشھاد علی الرجعۃ والفرقۃ ایتھما اختار الزوج (جصاص) یعنی الرجعۃ والفرقۃ جمیعا (مدارک) اور دونوں صورتوں میں گواہیاں کرالینا، تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے جھگڑوں سے بچنے کے لیے مفید ہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” واقیموا الشھادۃ للہ “۔ یعنی شہادت بالکل سچی، محض حق تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہو۔ کسی کی رورعایت، کسی کی دوستی، دشمنی کو اس میں دخل نہ ہو۔ (آیت) ” ذوی عدل منکم “۔ گواہوں کو عادل یعنی سچا نہ صرف اس معاملہ بلکہ ہر معاملہ میں ہونا چاہیے۔ (آیت) ” ذلکم یوعظ بہ “۔ اشارہ ان تمام احکام طلاق و متعلقات طلاق کی طرف آگیا جو جمیع مامرمن ایقاع الطلاق (روح) (آیت) ” ذلکم ...... الاخر “۔ یہاں یہ بتلا دیا کہ ان احکام سے نفع تو صرف وہی اٹھائیں گے، جن کے دلوں میں حق تعالیٰ کا اور یوم حساب کا استحضار رہتا ہے۔
Ayah 65:38۔ آیت میں صاف اس کی تعلیم ہے کہ دشواریوں اور تنگیوں سے نکلنے کی کنجی تقوی الہی ہے۔ (آیت) ” یجعل لہ مخرجا “۔ یعنی اسے ہر قسم کی مشکلات سے نجات دلا دیتا ہے۔ (آیت) ” ویرزقہ من حیث لا یحتس “۔ قرآن مجید کی جن چند آیتوں کی صداقت وحقانیت پر، اپنے ذاتی تجربہ ومشاہدہ کی بناء پر بےاختیار وجد کرنے کو جی چاہتا ہے، ان میں ایک یہ آیت بھی ہے، واقعہ یہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے ایسے راستوں اور وسیلوں سے کھلاتا، پلاتا، آمدنیاں دلاتا ہے ادھر ان کا وہم و گمان بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اپنے اور دوسروں کیلئے روز مرہ اس کے مشاہدے ہوتے رہتے ہیں، بلکہ (آیت) ” ومن یتق اللہ کی قید کے بغیر بھی ! تقوی کے بغیر بھی عجیب عجیب اور حیرت انگیز طریقوں سے روزی پہنچاتا رہتا ہے۔
9۔ (اور وہ انداز معین ہمیشہ حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے) یعنی خدائی کارخانہ میں کوئی چیز یوں ہی اٹکل پچو تھوڑے ہی ہوجاتی ہے۔ اس نظام عالم کا ادنی سے ادنی جزئیہ ایک حکیمانہ قانون کا پابند اور اسی سے وابستہ ومنسلک ہے۔ (آیت) ” ومن .... حسبہ “۔ یہ ان یہ بتلادیا کہ حق تعالیٰ ہی کی ذات تو تمام اسباب ظاہری کا آخری سرچشمہ اور ان پر حاکم و متصرف ہے، (آیت) ” ان اللہ بالغ امرہ “۔ یہاں یہ بتایا کہ جن چیزوں کو تم اسباب عادی سمجھ رہے ہو، ان کا اسباب عادی ہونا تو تمہارے ہی نقطہ نظر سے ہے۔ حق تعالیٰ تو بہرحال ان قوانین کا یا کوئی بھی قوانین ہوں، ان کا ہرگز محکوم وپابند نہیں۔
Ayah 65:410۔ قرآن مجید علاوہ اپنی دوسری حیثیتوں کے ایک فقہی وقانونی کتاب کے لحاظ سے بھی ہر طرح جامع ومکمل ہے۔ بشری ضروریات کا کوئی بھی گوشہ، جو ذراسی بھی اہمیت رکھتا ہے، اس سے چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ اور حیرت و عبرت دونوں کی بات ہے کہ اپنی اپنی ناقص کتابیں رکھنے والے دوسرے اہل مذاہب اس کمال اور ہنر کو الٹا نقص اور عیب شمار کررہے ہیں ! (آیت) ” والیء یئسن من المحیض “۔ یہ مایوسی سن کر زیادتی کے باعث بھی ہوسکتی ہے اور مرض سے بھی۔ (آیت) ” ان ارتبتم “۔ یعنی ان کی تعیین عدت کے باب میں اگر تمہیں شبہ ہے۔
11۔ (بسبب کم سنی کے) یہاں یہ بتادیا کہ ان دونوں قسم کی بیویوں کی عدت طلاق کی مدت پورے تین مہینہ ہے۔ ایک فقہی استنباط آیت سے یہ بھی ہوا کہ لڑکیوں کا نکاح قبل بلوغ یا کم سنی میں بھی بالکل جائز ہے۔ جب طلاق بلوغ ہوسکتی ہے، تو ظاہر ہے کہ نکاح تو طلاق سے قبل ہی ہوگا۔
12۔ (خواہ یہ وضع حمل اپنی طبعی مدت سے قبل ہی ہوجائے) قرآن مجید کی اس تصریح کے بعد قدرۃ فقہاء بھی سب اس پر متفق ہیں کہ حاملہ مطلقہ کی عدت بس وضع حمل تک ہے۔ لم یختلف السلف والخلف بعدھم ان عدۃ المطلقۃ الحامل ان تضع حملھا (جصاص)
13۔ (اگر حسنا وظاہرا انہیں بھی، جب بھی معنا و باطنا تو ضرور ہی) (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ تقوی الہی سے مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے احکام کی پابندی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں بلااستثناء رکھی جائے۔
Ayah 65:514۔ گویا اس طرح وہ نفیاواثباتا دونوں طرح مزے میں رہے گا۔ ایک طرف سلب مضرت (آیت) ” یکفر عنہ سیاتہ “۔ دوسری طرف جلط منفعت (آیت) ” یعظم لہ اجرا “۔ ذلک “۔ یعنی جو اوپر مذکور ہوچکا۔ اشارۃ الی ماذکر من الاحکام (روح)
Ayah 65:615۔ مثلا کوئی ایسی بات کرنا کہ وہ پریشان ہو کر گھر چھوڑ دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ عزم افتراق، بلکہ خود افتراق کے بھی معا بعد شریعت کا حکم ہے کہ عدت بھر سابق بیوی کا اعزاز واکرام برقرار رکھا جائے ،۔ (آیت) ” اسکنوھن “ یعنی ان مطلقہ بیویوں کو زمانہ عدت بھررہنے کا مکان دو ، عام اس سے کہ طلاق رجعی یا بائن ہوچکی ہو۔ وجب ذلک للجمیع من البائن والرجعی (جصاص) (آیت) ” من حیث سکنتم من وجدکم “۔ مطلقہ کی سکونت کا مکان (عدت بھر کے لیے) شوہر کی حیثیت و مرتبہ کے لائق ہونا چاہیے۔
16۔ (خواہ وہ وضع حمل تین مہینہ کے اندر ہی ہوجائے، یا اس سے بہت زیادہ مدت لے) عام مطلقہ بیوی اگر حاملہ ہے تو اس میعاد عدت وہی وضع حمل ہے۔ اولاد اگر دوسرے ہی دن پیدا ہوجائے تو عدت اسی وقت ختم ہوجائے گی، اور انتظار زچگی میں اگر چھ مہینہ لگ جائیں، جب بھی عدت ختم نہ ہوگی، قائم رہے گی، (آیت) ” فانفقواعلیھن “۔ مطلقہ بیویوں کی سکونت کے لیے مکان ہی دینا نہیں، بلکہ عدت بھر ان کے کھانے پینے وغیرہ کے ضروری مصارف بھی شوہر کے ذمہ واجب ہیں۔ یہ ہیں اس شریعت کے احکام جسے ظالموں نے ” سخت “ مشہور کر رکھا ہے، دنیا میں کوئی شریعت، میں بقسم کہتا ہوں کہ ہر مخلوق کے حق میں عدل کرنے والی، اور کمزوروں کے حق میں رحیم وشفیق اسلامی شریعت سے بڑھ کر نہیں مل سکتی۔ صحابیوں میں سے حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ اور فقہاء میں سے تمام حنفیہ اور بعض دوسرے ائمہ فقہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ مکان سکونت اور نفقہ ہر قسم کی مطلقہ کے لیے زمانہ عدت بھر کے لیے ہے۔ فقال اصحابنا والثوری والحسن بن صالح لکل مطلقۃ السکنی والنفقۃ مادامت فی العدۃ حاملا کانت اوغیر حامل وروی مثلہ عن عمر ؓ وابن مسعود ؓ (جصاص)
17۔ یعنی رضاعت کی اجرت آپس میں مناسب شرح کے مطابق طے کرلیاکرو۔ یہ نہ ہو کہ عورت تو اپنی شرح بڑھاتی ہی چلے جائے اور مرد اتنے کے لیے بھی تیار نہ ہو جس سے عوراپنا گزر بھی کرپائے۔ یعنی لاتشط المرأۃ علی الزوج فی ماتطلبہ من الاجرۃ ولا یقصر الزوج لھا عن المقدار المستحق (جصاص) وأتمروا ائتمار باب افتعال سے ہے تفاعل کے معنی میں۔ گویا ایک لفظ سے فریقین کے باہمی مشورہ کی جانب اشارہ کردیا۔ (آیت) ” فان ارضعن لکم “۔ یعنی جو اولاد تم سے ہو، اس کی رضاعت کرنے کو تیار ہوجاؤ (آیت) ” فاتوھن اجورھن “۔ یعنی جو معاوضہ طے ہوجائے، اسے حسب قرار داد دیتے رہو۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی قرار داد نہیں ہوئی ہے، تو اجر واجب نہ ہوگی، فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب طلاق واقع ہوگئی، تو اب ماں کے لیے اپنی اولاد کی رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے۔ اور باپ (یا جو کوئی ولی ہو، اس) پر اس اجرت کا ادا کرنا واجب۔ (آیت) ” واتمروابینکم بمعروف “۔ مرشدتھانوی (رح) نے اس سے اہل طریق کے کام کی یہ بات نکالی ہے کہ انسان کو چاہیے نہ خود تنگی میں پڑے، نہ دوسرے کو تنگی میں ڈالے جس سے اپنی یا دوسرے کی آزادی میں خلل پڑے ،
18۔ یہ تو ایک طبعی چیز ہوئی، لیکن فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں خبر بمعنی امر ہے۔ یعنی یہ محض خبر نہیں دی جا رہی ہے، بلکہ حکم دیا جارہا ہے کہ دوسری انا تلاش کرلی جائے ،
Ayah 65:719۔ اولاد پر خرچ کرنا بہت مرتبہ انسان کو اپنے حب مال کی بناء پر گراں گزرتا ہے یہاں تک کہ بعض جاہلی اور ” مہذب قوموں “ نے اولاد پر خرچ کرنے کے مقابلہ میں اولاد کو قتل کر ڈالنا تک گوارا کرلیا ہے ، (آیت) ” ولاتقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “۔ قرآن مجید اس شجر خبیث کی جڑ بار بار کاٹتا ہے۔ (آیت) ” لینفق ..... اللہ “۔ یعنی جو امیر ہیں وہ اپنی امارت کے لائق، اور جو غریب ہیں وہ اپنی بساط کے موافق، اولاد کی رضاعت وپرورش پر خرچ کرنے سے دریغ نہ کریں۔
Ayahs 65:8–920۔ (اسی دنیا میں) دنیا میں کسی قوم پر عذاب آنے کے یہ معنی ہیں کہ خود وہ قوم یا اس کی تہذیب و تمدن مٹ جائیں۔
Ayah 65:1021۔ یعنی آخرت میں۔ اور یہ اخروی عذاب اس دنیوی عذاب کے علاوہ ہے۔
22۔ (کہ ایمان اور فہم دونوں کا تقاضہ یہی ہے) آج کی ” روشن خیال “ دنیا میں عقل وفہم کے معنی بھی مسخ ہو کر اور الٹ کر رہ گئے ہیں۔ اب کمال ” عقل “ کے معنی تمام تر آخرت فراموشی کے سمجھ لیے گئے ہیں۔
Ayah 65:1123۔ جس طاعت وتقوی کی طرف ابھی دعوت دی گئی تھی، وہ یہی ہے کہ انسان کفر، جہل وعصیان کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں سے نکل کر ایمان، علم وعمل صالح کی نورانیت میں آجائے۔ (آیت) ” ذکرا رسولا “۔ جائز ہے کہ ذکر سے مراد رسول اللہ ﷺ ہی سے لی جائے کہ آپ گویا مجسم ذکر وتذکیر تھے۔ اور (آیت) ” رسولا “ کو اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ھوالنبی ﷺ عبربہ عنہ لمواظبتہ علی تلاوۃ القران الذی ھو ذکر اوتبلیغہ والتذکیربہ ورسولابدل منہ (روح) رسولا بدل من ذکر اکانہ فی نفسہ ذکر (مدارک) لیکن عام طور پر (آیت) ” ذکر ا “ سے مراد قرآن ہی لی گئی ہے۔ والظاہران الذکر ھو القران والرسول ھو محمد ﷺ (بحر) اے القران (مدارک) (آیت) ” رسولا “۔ کو جو بعض اہل نحو نے (آیت) ” ذکرا “ کی صفت بھی مانا ہے مرشد تھانوی (رح) نے اس ترکیب کے لحاظ سے فرمایا کہ اس سے دلالت دونوں کے اتحاد پر نکلی، اور جب یہ ہے تو اس سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ شیخ طریق جو واسطہ ذکر ہوتا ہے ا سے مصاحبت ومکالمت منافی ذکر نہیں بلکہ گویا عین ذکر ہی ہے۔
24۔ یہاں ایک بار پھر یقین دلادیا کہ کسی کا حسن عمل اور دوام طاعت بےنتیجہ وبے ثمر ہرگز نہیں رہے گا۔
Ayah 65:1225۔ یعنی حق تعالیٰ کی صفات قدرت وعلم ہر طرح کامل، جامع وہمہ گیر ہیں۔ (آیت) ” ومن الارض مثلھن “۔ اس سے عام طور پر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ زمینیں بھی تعداد میں سات ہی ہیں۔ اور یہ احتمالات بھی مفسر تھانوی (رح) اور دوسرے محققین سے منقول ہیں، کہ ممکن ہے، یہ زمینیں ایسی ہوں جو نظرنہ آتی ہوں یا یہ کہ انہیں کو لوگ مریخ وغیرہ کواکب کے نام سے موسوم کرتے ہوں، اور صاحب روح المعانی نے جس کی تاریخ اختتام 1267 ھ یا انیسویں صدی عیسوی کا وسط ہے، ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ اس سے مراد زمین کے ساتھ بڑے خطے امریکہ، ایشیا، یورپ، افریقہ وغیرہ ہیں۔ اور محقق موصوف نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ممکن ہے کرۂ قمر وغیرہ کی مزید تحقیق کے بعد وہاں بھی زمین ثابت ہو۔ اور اس طرح زمینوں کے تعدد پر حس ومشاہدہ کی بھی گواہی ہوجائے، اس عاجز کے ذہن میں تو مثلیت کا اصل تعلق عدد سبع سے نہیں بلکہ فعل خلق سے ہے۔ یعنی یہ زمین یا زمینیں بھی آسمان ہی کی طرح مخلوق ہیں۔ اور یہ کہ ہر آسمان اور ہر زمین پر مخلوق بھی اسی کے ماحول کے متناسب آباد ہے۔ اور دلی مسرت ہوئی، جب ان سطور کی تحریر کے بعد مثلیت متعلق یہی قول بعض تفسیروں میں بھی نظرپڑگیا۔ وقیل المثلیۃ فی الخلق لافی العدد ولا فی غیرہ (روح) حدیث میں جو ان زمینوں کا اس زمین کے تحت میں ہونا وارد ہے ممکن ہے وہ باعتباربعض حالات کے ہو اور بعض حالات میں وہ زمین سے فوق ہوجاتی ہوں (تھانوی (رح)) اس عاجز کے خیال میں تو یہ بھی آسانی سے ممکن ہے کہ مراد اسی زمین کی سات پرتوں یا ساتھ تہوں سے ہو کہ اس سطح زمین کے نیچے 6 پرت یا 6 تہیں اور ہیں۔ (آیت) ” یتنزل الامر “۔ نزول احکام سے مراد احکام تشریعی کا نزول بھی ہوسکتا ہے اور احکام تکوینی کا بھی اور دونوں کے مجموعہ کا بھی، اسی نزول امر کا آسمانوں پر ملائکہ کے لیے ہوتے رہنا تو ظاہر ہی ہے اور تصرفات تکوینی کا اسی طرح ہر ممکن زمین پر ہوتے رہنا بھی اسی طرح ظاہر ہے۔ (آیت) ” لتعلموا “۔ الخ۔ یعنی یہ علم تمہیں اس لیے دے دیا گیا، تاکہ تم کو حق تعالیٰ کی قدرت کامل اور علم محیط پوری طرح معلوم ہوجائے۔