65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsسراج البیان

Ayahs 65:1–10

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو1 تو انہیں عدت کے وقت طلاق دو ۔ اور عدت گنتے رہو ۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ خود بھی نہ نکلیں ۔ مگر جب وہ صریح بےحیائی کا کام کریں ۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے بڑھا ۔ اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ طلاق کے بعد کوئی نئی بات نکالے

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنے وقت کہ پہنچیں ۔ تو انہیں دستور سے رکھ لو یادستور سے جدا کردو اور دو معتبر اپنے میں سے گواہ کرلو ۔ اور اللہ کے لئے سیدھی گواہی دو ۔ یہ وہ حکم ہے جس کیساتھ اس کو جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے ۔ نصیحت کی جاتی ہے اور جو اللہ سے ڈر گیا وہ اس کے لئے (گزارہ) نکلنے کی راہ پیدا کرے گا

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اسے کافی ہے کچھ شک نہیں کہ اللہ اپنا کام پورا کرلیتا ہے اللہ نے ہر شئے کا اندازہ کررکھا ہے

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہیں ۔ اگر تم شک میں ہو تو ان کی مدت تین مہینے ہے ۔ ایسے ہی ان کی جنہیں حیض نہیں آتا ۔ اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ پیٹ کا بچہ جنیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا رہے گا وہ اس کے کام میں آسانی کریگا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم (ف 1) ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا رہے گا ۔ وہ اس کی بدیاں اس سے دور کردے گا ۔ اور اسے بڑا اجر دے گا

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

جہاں تم سکونت رکھتے ہو وہاں ان مطلقہ عورتوں کو اپنے مقدور کے مطابق مکان دو اور انہیں تنگ نے ضرر نہ پہنچاؤ اور اگر حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو ۔ یہاں کہ وہ پیٹ کا بچہ جن لیں پھر اگر وہ تمہاری خاطردودھ پلائیں تو ان کو ان کی مزدور اور موافقت رکھو آپس میں ساتھ اچھی طرح آپس میں ضد کرنے لگو ۔ تو دوسری عورت مرد کے کہنے سے دودھ پلائے گی

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

چاہیے کہ صاحب ومیعت کے موافق خرچ کرے اور جس کو اس کی روزی نپی تلی ملتی ہے ۔ تو جتنا اللہ نے اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے ۔ اللہ کسی کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا کہ اس نے اسے دیا ہے ۔ عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی کردے گا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت بستیاں ہیں کہ اپنے رب اور رسولوں کے حکم سر سرکشی ہوئیں ۔ پھر ہم نے ان کو سخت عذاب میں پکڑا اور ان دیکھے عذاب سے ہم نے انہیں دکھ پہنچایا

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہوا

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کیا ہے ۔ سو اپنے عقل مندو اللہ سے ڈرو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے

اسلامی نظام ازواج 1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں طلاق حرام ہے ۔ وہ بھی جہاں تک حالات کا تعلق ہے ۔ جدائی اور علیحدگی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ باوجود مال محبت کے بعض وقت دونوں میاں بیوی اخلاقی اور روحانی نقطہ نگاہ سے ضروری سمجھتے ہیں ۔ کہ ان کا ایک دوسرے سے جدا ہونا زیادہ مناسب اور اون ہے ۔ لہٰذا اسلام کے طلاق کی اجازت دے کر انسانیت پر ظلم نہیں کیا ہے ۔ بلکہ انسانی فطرت کی ترجمانی کرکے اس کو بہت سے مظالم سے بچا لیا ہے ۔ بعض دفعہ تحریر طلاق کے لئے ایک جذباتی ولیل پیش کی جاتی ہے ۔ کہ وہ رشتہ جس کو خدا نے جوڑا ہے ۔ تمہیں کیا استحقاق ہے کہ اس کو توڑ دو ۔ مگر یہ نہیں سوچا جاتا ۔ کہ اس دلیل میں معقولیت کتنی ہے ۔ اول تو یہ غلط ہے ۔ کہ رشتہ فطری رشتہ ہے ۔ کیونکہ عملاً ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ بیوی کے مرجانے کے بعد دوسری شادی کا مرد کو اختیار حاصل ہے ۔ اسی طرح مرد کے انتقال کیب عد عورت دوسرے مرد کو حاصل کرسکتی ہے ۔ حالانکہ فطری رشتہ کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ اس کو کوئی بدل قرار نہ دیا جاسکے ۔ جس طرح کہ ماں باپ اور بھائی بہنیں ۔ کہ آپ بڑی کوشش کریں ۔ ماں کی جہ دوسری ماں اور باپ کی جگہ دوسرا باپ نہیں پاسکتے ۔ اسی طرح بھائی اور بہنوں کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا ۔ پھر ان رشتوں میں قدرتی طور پر استحکام اتنا ہے ۔ کہ اگر آپ ناراض بھی ہوجائیں ۔ جب بھی ماں کے ماں ہونے سے اور باپ کے باپ ہونے سے انکار نہیں کرسکتے ۔ آپ مجبور ہیں ۔ کہ ہر حالت میں ان رشتوں کو تسلیم کریں ۔ بخلاف میاں بیوی کے تعلق کے ۔ یہ ان معنوں میں فطری رشتہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اس رشتہ کا محرک کذبہ جنس وانس ہے ۔ قانون اور فقہ اس کو باقاعدہ شکل دے دیتا ہے ۔ اور پھر جب یہ معلوم ہو کہ اس کذبہ جنس وانس کی تکمیل میں یہ رشتہ حائل ہے ۔ تو قانون وقفہ کو اتنا اختیار ہے ۔ کہ اس کو منقطع کردے ۔ ثانیا اس دلیل میں یہ مغالطہ ہے ۔ کہ جس کو خدا نے جوڑا ہے ۔ اسکو گویا ہم توڑ رہے ہیں ۔ حالانکہ خدا کے قانون کے ماتحت اس کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ اور اسی کی ہدایت کے مطابق ہیں کو ختم کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ حقیقت ہے ۔ کہ قرآن حکیم نے فلسفہ ازواج کو جس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ۔ وہ اسی کا حصہ ہے ۔ ان آیات کا اختصار کے ساتھ یہ مطلب ہے ۔ کہ جب طلاق دو ۔ بہتر حالت میں دو ۔ جب کہ ظاہری تنظر کے اسباب موجود نہ ہوں ۔ یعنی طہر اور پاکیزگی کی حالت میں ۔ اور عدت کو باقاعدہ گنتے رہو ۔ یہ بھی ضروری ہے ۔ کہ عورتیں اس اثنا میں اپنے گھروں سے نہ نکل جائیں ۔ کیونکہ ممکن ہے ۔ کہ طلاق کے بعد پھر وہ اپنے طرز عمل سے دوبارہ خاوند کو رجوع پر آمادہ کرسکیں ۔ ہاں اگر کھلی بےحیائی کا ارتکاب ہو ۔ تو اس وقت مرد کو عورت کے گھر سے نکال دینے کا حق حاصل ہے ۔ پھر جب طلاق رہتی میں عدت ختم ہونے کو ہو ۔ تو مرد کو یہ اختیار حاصل ہیں ۔ یا تو شرافت اور حسن سلوک کے ساتھ اس کو اپنے نکاح میں رہنے دے ۔ یا قاعدہ کے موافق اس کو جدا کردے ۔ وہ عورتیں جو عمر کی زیادتی سے حیض سے مایوس ہوں اور وہ جو صغر سستی کی وجہ سے ابھی اس قابل نہ ہوں ۔ وہ تین مہینے تک عدت گزاریں ۔ اور اس کے بعددوسرا نکاح کریں ۔ حل لغات :۔ شح ۔ بخیل اور حرص بعدتھن ۔ بمعنے طہر میں ۔ حل لغات :۔ بفاحشۃ ۔ بےحیائی ۔ مراد زنا مبغوض ترین جواز طلاق کو اسلام بالکل اضطراری حالات میں جائز تصور فرماتا ہے ۔ اور یہ قطعاً پسند نہیں کرتا ۔ کہ جاہلیت کی طرح ایک آدمی جب چاہے ۔ بلا کسی عذر کے عورت کو چھوڑ دے ۔ یہی وجہ ہے حضور ﷺ نے فرمایا ہے ۔ البغض امباحات عنداللہ الطلاق ۔ کہ اللہ کے نزدیک وہ بات جو جائز تو ہے مگر مبغوض ترین صورت میں وہ طلاق ہے ۔ یعنی اپنی رفیقہ حیات کو اپنے سے جدا کرنا ۔ بعض غیر مسلم یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ اسلام میں طلاق پر کوئی پابندی عائد نہیں ۔ یا اسلام نے طلاق کے ایجاد کرنے میں اذلیت اختیار کی ہے ۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہے ۔ اسلام نے طلاق پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں ۔ کہ ایک پرہیز گار انسان کے لئے عام حالات میں عورت کو ھوڑ دینا ممکن ہی نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے ۔ کہ یہ صلاح وتقویٰ کے خلاف ہے ۔ اور اس جذبہ کے خلاف ہے جس کو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ گھر اگر حالات اس کو بالکل مجبور ہی کردیں ۔ تو بھی رجوع کے مواقع باقی رکھے ہیں ۔ تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ لے ۔ اور اگر چارہ وناچار وہ اس مقام تک پہنچ جائے ۔ جہاں پہنچ کر علیحدگی ضروری ہوجاتی ہے ۔ تو پھر اسلام اس کے اس جائز حق کو پامال نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کو اجازت دیدی ہے ۔ کہ بذریعہ طلاق عورت کو چھوڑ دے اور وہ بھی تکلیف سے آزاد ہوجائے ۔ آپ غور فرمائیے ۔ کہ وہ ان حالات میں بھی جبکہ میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہورہے ہیں تقوی اور نیکی کی تلقین کرتا ہے ۔ اور بتاتا ہے کہ ان تعلقات کو یوں منقطع کرو ۔ جس طرح ایک پاکباز انسان بدرجہ مجبوری منقطع کرتا ہے ۔ خود غرض اور ظالم آدمی کی طرح نہیں ۔ گویا اسلام چاہتا ہے ۔ کہ مسلمان عالم غیض وغضب میں بھی اخلاقی بلندی کو ہاتھ سے نہ ڈالے اور ثابت کردے کہ وہ یہ علیحدگی جو گوارا کررہا ہے ۔ تو بالکل مجبور ہوکر ورنہ وہ جانتا نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ اولاف الاخوتی ۔ حاملہ عورتیں ۔ اسلام سے پہلے بھی طلاق کا رواج تھا ۔ اور اس پر کوئی پابندی عائد نہ تھی ۔ ایک مرد جب چاہتا عورت کو طلاق دے دیتا ۔ اور پھر جب چاہتا رجوع کرلیتا ۔ اسلام نے اس صورت حالات کو بالکل ختم کردیا ۔ اور اس کو باقاعدہ نظام کی شکل میں ڈھال دیا ۔ ان آیات میں اجمال کے ساتھ ان مسائل کا ذکر ہے (1) حاملہ عورت کی عدت تاوضع حمل ہے (2) مطلقہ عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق مکان دو (3) ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو (4) اگر مطلقہ عورت حاملہ ہو ۔ تو اس کے نفقہ کا بھی بندوبست کرو (5) اگر بچہ ہو تو دودھ کے لئے اس کی ماں کو اجرت دو ۔ اس کے بعد یہ بتایا ہے ۔ کہ جن قوموں نے اپنے رب کی مخالفت کی ہے ۔ وہ دنیا سے مٹ گئی ہیں ۔ اور غالباً اس میں اس طرف لطیف اشارہ ہے ۔ کہ جب قومیں مٹتی ہیں ۔ تو ان کی تباہی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ۔ کہ ان کی خانگی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ اور وہ اپنے گھر کے اندر ہر سعادت اور ہر مسرت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اور اس کے بعد ان کی یہ محرومی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہوجاتی ہے ۔ واللہ اعلم حل لغات :۔ من وجدکم اپنی وسعت کے موافق ۔ واتمروا بیناکم ۔ تعاون باہمی سے کام لو ۔ باہم مشورہ کرلیا کرو ۔
Ayahs 65:11–12

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

وہ (خدا) کا بھیجا ہوا ہے ۔ جو تمہیں اللہ کی کھلی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ۔ تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے ۔ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے وہ اسے باغوں میں داخل کریگا ۔ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ نے اسے اچھی روزی دی

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو زمین سے ان کی امانت ۔ اس کا حکم ان کے درمیان نازل ہوتا ہے ۔ تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر شئے پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ کے علم میں ہر شئے کی سمائی ہے

زندہ قرآن 1: قرآن حکیم نے متعدد مقامات میں منصب نبوت کی تصریح کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے ۔ کہ پیغمبر کی اجازت عقیدت مندوں کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے ۔ اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی نجات ہے ۔ مگر ایک برخود غلط گروہ کا یہ عقیدہ ہے ۔ کہ قرآن کے سوا اور کوئی شخصیت مطاع نہیں ہے ۔ اور رسول ﷺ کی حیثیت محض یہ ہے ۔ کہ وہ پیغام کو ہم تک پہنچا دیتا ہے ۔ اب یہ ہمارا کام ہے ۔ کہ ہم اسکو لغت اور ادب کی روشنی میں سمجھیں ۔ رسول ﷺ یا تو کچھ تفصیلات بیان ہی نہیں کرتا ۔ اور یا اس کی بیان کردہ تفصیلات ہمارے لئے مستند نہیں ہیں ۔ اس آیت نے اس مغالطہ کو دور کردیا ہے ۔ اور بالکل واضح کردیا ہے ۔ کہ وہ ذکر جس کی پیروی کی تم کو تلقین کی گئی ہے ۔ اس کو صرف قرآن کے اوراق میں نہ ڈھونڈو ۔ کہ اس طرح تم حق وصداقت کو تلاش کرنے میں قطعاً ناکام رہو گے ۔ اس کو رسول کی زندگی کے صفحات میں ڈھونڈو ۔ کہ وہ اللہ کی طرف سے مامور ہے ۔ کہ آیات بینات کو تفصیل کے ساتھ پڑھ کر سنائے ۔ اور اس طرح انسانیت کو فہم و استدلال کے تاریک جنگلوں سے نکال کر ایمان اور تقویٰ کی روشن وادیوں میں پہنچادے ترکیب نحومی کے لحاظ سے یہاں رسولاً ذکر ان کا بدل ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اطاعت اور وہ اطاعت اور فرمانبرداری جو قرآن میں مذکور ہے ۔ اس کی تکمیل اسوقت تک نہیں ہوسکتی ۔ جب تک اس کو رسالت کی روشنی میں نہ دیکھاجائے ۔ کیونکہ رسول ﷺ ہی قرآن کا محطب اول سے ۔ اس کا دل مہیط وحی ہے ۔ اس کے اعمال پر اس کو خدا کی جانب سے تبیہ ہوتا ہے ۔ اس کی شان میں آیا ہے ۔ وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی ۔ یعنی وہ جو کچھ نہیں کہتا ۔ اس حالت میں یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ قرآن کی تفصیلات حجت اور سندد ہوں ۔ اور وہ فاسق وفاجر نسان و چند کتابیں پڑھ لیتا ہے ۔ قرآن کا معتبر معارج بن جائے ۔ وہ جس کا استاد جبرائیل ہو ۔ علمہ شدیدالقویٰ ۔ وہ جس کا سینہ حقائق کے فہم کے لئے کشادہ اور وسیع ہو الم نشرح لک صدراک وہ تو قرآن کو صحیح نہ سمھے ۔ اور آج کل کے روشنی والے درست اور صحیح سمجھیں ۔ جو نہ دولت علم سے بہرہ مند ہیں ۔ اور نہ صلاح وتقویٰ سے آشنا ۔ ع برین عقل وہمت بباید گریست ۔ سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے ۔ کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سوائے اس قرآن کے جس کو ہم سمجھتے ہیں ۔ اور کوئی بات حجت نہیں ۔ وہ کس درجہ گستاخی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ کیا ان کے نزدیک منصب نبوت کے معنے محض یہ ہیں کہ وہ ایک نوع کی سفارت ہے ۔ جس کو سیرت اخلاق اور اعمال کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ۔ کیا رسول ﷺ کی یہی حیثیت ہے کہ وہ قرآن کو بلا کم وکاست پہنچا دے ۔ چاہے معاذ اللہ خود نہ سمجھے اس پر عمل نہ کرے ۔ اور دوسروں کو نہ سمجھائے اگر واقعہ اس کے برعکس ہے ۔ تو منکرین سنت بتائیں ۔ کہ رسول کا فہم اس کا عمل اور اس کی سیرت کہاں منضبط ہے ؟ کن کتابوں میں موجود ہے ! آخر قرآن فہمی کی ضرورت تو ان کو ان حاملین قرآن سے کہیں زیادہ ان کو محسوس ہوتی ہوگی ۔ وہ قرآن فہمی ہے کہاں ؟