65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsانوار البیان

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) انکو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

(65:1) یایھا النبی اذا طلقتم النسائ : یایھا النبی میں صرف نبی کریم ﷺ کو نداء کی گئی ہے لیکن چونکہ آپ پیشوا، امت ہیں اس لئے آپ کو نداء کرنا ساری امت کو نداء کرنا ہے گویا حکم طلاق کے مخاطب صرف آپ ہی نہیں ہیں بلکہ آپ کے ساتھ ساری امر کو بھی خطاب ہے جیسا کہ طلقتم میں صیغہ جمع مذکر حاضر ظاہر کرتا ہے۔ اذا ظرف زمان ہے شرطیہ آیا ہے :۔ طقلتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تطلیق (تفعیل) مصدر۔ جب طلاق دو ۔ طلاق دینے سے مراد طلاق دینے کا ارادہ کرنا ہے ارادہ فعل کی تعبیر فعل سے کی : جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ واذا قرات القران فاستعذ باللہ (16:98) یعنی جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو تو پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھ لیا کرو۔ النساء میں الف لام عہد کا ہے۔ تمہاری عورتیں، تمہاری اپنی عورتیں۔ طلقتم کا مفعول ہے۔ یہ جملہ شرط ہے : ترجمہ :۔ اے پیغمبر ! (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو ۔ یا طلاق دینے لگو : (یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ فطلقوھن لعدتھن یہ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے۔ طلقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تطلیق (تفعیل) مصدر ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب اس کا مرجع النساء ہے۔ لعدتھن : میں لام عاقبت کا ہے یعنی عورتوں کو طلاق دو تو اس کے نتیجے میں عدت لازم ہے۔ عدتھن مضاف مضاف الیہ ان کی عدت۔ کہ طلاق کے بعد وہ عدتشروع کریں۔ یعنی ایسے موقعہ پر طلاق دو کہ اس موقعہ سے لے کر وہ اپنی عدت شمار کرسکیں۔ (متفقہ صورت یہ ہے کہ حیض سے پہلے طہر کی حالت میں طلاق دی جائے) ۔ عدۃ وعد بروزن فعلۃ بمعنی معدود ہے جیسے کہ طحن بمعنی مطحون۔ اور اسی بناء پر انسانوں کی گنی ہوئی جماعت کو عدۃ کہتے ہیں اور عورت کی عدت بھی اسی معنی میں ہے یعنی اس کے گنے ہوئے دن ۔ عورت کی عدت سے مراد وہ ایام کہ جن کے گزر جانے پر اس سے نکاح کرنا حلال ہوجاتا ہے۔ واحصوا العدۃ : واؤ عاطفہ۔ احصوا امر جمع مذکر حاضر ہے۔ احصاء (افعال) مصدر سے بمعنی گننا۔ شمار کرنا۔ العدۃ مفعول ہے فعل احصوا کا۔ اور عدت شمار کرتے رہو (ایسا نہ ہو کہ عدت کے بعد بھی تم رجوع کرلو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کرلے کیونکہ یہ دونوں امرنا جائز ہیں) ۔ واتقوا اللہ ربکم ۔ واؤ عاطفہ اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم ڈرو۔ تم ڈرتے رہو اللہ، اللہ سے۔ ربکم : ای الذی ربکم : جو کہ تمہارا رب (پروردگار) ہے (یعنی عدت کو طول دینے اور عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لئے ایسا نہ کرو) اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے۔ اللہ صفت ربوبیت کو امر کی تاکید میں اور اتقاء کے وجوب میں مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ لا تخرجوھن فعل نہی جمع مذکر حاضر اخراج (افعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ اس کا مرجع مطلقہ عورتیں ہیں۔ مت نکالو ان کو (اپنے گھروں سے) من بیوتھن من حرف جار۔ بیوتھن مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ ان کے (اپنے) گھروں سے۔ گھروں سے مراد وہ گھر ہیں جن میں طلاق کے وقت وہ عورتیں رہتی ہوں۔ ولایخرجن۔ واؤ عاطفہ لایخرجن فعل نہی کا صیغہ جمع مؤنث غائب اور نہ وہ عورتیں (خود) باہر نکلیں۔ الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ۔ الا حرف استثناء ، مستثنیٰ منہ محذوف ہے لہٰذا یہ استثناء مفرغ ہے۔ یعنی ان کو اپنے گھروں سے کسی وقت باہر نہ نکالو ! ہاں اگر وہ کھلی ہوئی بےحیائی کا کام کریں (تو نکال دو ) ۔ ان مصدریہ ہے یاتین مضارع کا صیغیہ جمع مؤنث غائب ہے ایتاب (باب ضرب) مصدر ب حرف جار فاحشۃ مبینۃ موصوف و صفت مل کر مفعول یاتین کا مگر یہ کہ وہ کریں کھلی ہوئی بےحیائی کا کام۔ فاحشۃ بےحیائی۔ زنا۔ بدکاری۔ فحش سے اسم مصدر۔ موصوف مبینۃ اسم فاعل ، واحد مؤنث۔ صفت۔ بمعنی تفصیل کرنے والی۔ بہت زیادہ روشن ظاہر۔ عیاں۔ وتلک : واؤ عاطفہ۔ تلک اسم اشارہ بعید واحد مؤنث۔ بمعنی احکام مذکورہ بالا۔ ومن یتعد حدود اللہ۔ واؤ عاطفہ۔ من شرطیہ، یتعد مضارع واحد مذکر غائب۔ تعدی (تفعل) مصدر عدو مادۃ۔ اور جو حدود الٰہیہ سے تجاوز کرے گا۔ فقد ظلم نفسہ۔ جملہ جواب شرط ۔ تو اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ لاتدری۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ دری (باب ضرب) مصدر۔ درایۃ بھی مصدر ہے) دری مادہ۔ تو نہیں جانتا۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ سے بھی ہوسکتا ہے اور ہر مخاطب سے بھی۔ لاتدری صیغہ واحد مؤنث بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کا فاعل نفس (جان) ہوگا۔ لعل : حرف مشبہ بالفعل ہے ترجی (امید یا خوف پر) دلالت کرنے کے لئے اس کی وضع ہے۔ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ بمعنی امید کہ۔ شاید کہ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 11:12 متذکرۃ الصدر۔ یحدث مضارع واحد مذکر غائب احداث (افعال) مصدر۔ وہ پیدا کر دے۔ بعد ذلک اس کے بعد ۔ یعنی طلاق دینے کے بعد۔ امرا : اس کی جمع امور آتی ہے ۔ بات۔ نئی بات، امرا۔ لاتدری کا مفعول ہے۔ یعنی اے مخاطب تو اس امر کو نہیں جانتا جو اللہ تعالیٰ اس کے بعد پیدا کرے گا۔ یہ جملہ واحصوا العدۃ ولا تخرجوھن کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرد کے دل میں عورت سے نفرت ہے وہ اس کو اپنے سے جدا کر رہا ہے لیکن ممکن ہے کہ شوہر کے دل میں اللہ تعالیٰ عورت کی محبت پیدا کردے اور وہ ملاپ کا خواستگار ہوجائے (اس لئے عدت کی پوری گنتی محفوظ رکھو)
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی معیار (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انکو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور گواہوں) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز اخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کیلئے (رنج وسخن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دیگا

(65:2) فاذا بلغن اجلہن جملہ شرط ہےتعقیب کا ہے۔ اذا ظرف زمان ہے اور شرطیہ آیا ہے۔ بلغن ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ بلوغ وبلاغ (باب نصر) مصدر بمعنی پہنچنا۔ اجلہن مضاف مجاف الیہ مل بلغن کا مفعول۔ پھر جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں ۔ یعنی جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں۔ بلغن اور اجلہن کی ضمیریں ان مطلقات کی طرف راجع ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو۔ فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف : جواب شرط۔ امسکوھن فعل امر جمع مذکر حاضر۔ امساک (افعال) مصدر۔ بمعنی روکنا۔ روک لینا۔ رکھ لینا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب ۔ او بمعنی یا خواہ وغیرہ حرف عطف ہے۔ فارقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ مفارقۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی جدا کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ بمعروف : ب حرف جر مصاحبت کے لئے۔ معروف مجرور۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ معرفۃ وعرفان (باب ضرب) مصدر سے، بمعنی اچھا کام۔ اچھی بات۔ دستور کے مطابق ۔ اس جملہ میں بھی ھن کی ضمیر کا مرجع بھی مطلقہ عورتیں ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو۔ آیت کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ پھر جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو یا ان کو دستور کے مطابق (زوجیت میں) رکھ لو یا دستور کے مطابق چھوڑ دو ۔ واشھدوا ذوی عدل منکم۔ یہ نیا جملہ ہے۔ اشھدوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اشھاد (افعال) مصدر۔ اور تم گواہ کرلیا کرو۔ گراہ کرلو۔ گواہ بنا لو۔ یعنی رجعت یا فرقت پر دو گواہ بنالو۔ تاکہ جھگڑا ختم ہوجائے۔ ذوی عدل : ذوی ، ذوا کا تثنیہ بحالت نصب و جر۔ مضاف عدل مضاف الیہ ۔ دو صاحب عدل (گواہ) منکم ، من تبعیضیہ ہے۔ تم میں سے کوئی دو ۔ واقیموا الشھادۃ للہ : واؤ عاطفہ ۔ اقیموا فعل امر ، جمع مذکر ھاضر۔ اقامۃ (افعال) مصدر۔ تم قائم کرو۔ تم درست رکھو (شہادت کو) یعنی شہادت پر قائم رہو۔ للہ : اللہ کے لئے یعنی تماری شہادت کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے لئے نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ محض اللہ کے واسطے شہادت دو ۔ ذلکم۔ یہ اسم اشارہ ہے۔ یہ، یہی۔ کم ضمیر جمع مذکر خطاب کے لئے ہے یہ اشارہ شہادت دینے کی طرف ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ یہ اشارہ وقوع طلاق کے متعلق جو اوپر احکام بیان ہوئے ہیں ان کی طرف ہے۔ مثلا عدت کا شکار۔ عدت کے دوران گھر سے باہر نہ نکلنا۔ عدت کے بعد امساک بالمعروف یا مفارقت بالمعروف اور اقامۃ الشہادۃ۔ ذلکم مبتداء یوعظ فعل مجہول مضارع واحد مذکر غائب من موصولہ مع اپنے صلہ کے مفعول مالم یسم فاعلہ اور مبتداء کے بعد سارا جملہ اس کی خبر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ نصیحت کی باتیں اس کو سمجھائی جاتی ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا : من یتق اللہ جملہ شرط اور جو اللہ سے ڈرے گا۔ یجعل لہ مخرجا۔ جواب شرط۔ تو وہ اس کے لئے مخلصی کی صورت بھی نکال دے گا۔ مخرجا۔ اسم ظرف مکان خروج (باب نصر) مصدر۔ نکلنے کی جگہ ۔ خلاصی کا راستہ۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا خدا اس کو کفایت کرتے گا اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

(65:3) ویرزقہ من حیث لا یحتسب : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور یہ بھی جواب شرط ہے۔ وہ اس کو رزق دیتا ہے (اس میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب من یتق اللہ میں من کی طرف راجع ہے) من حرف جار اور حیث (بمعنی جہاں۔ جس جگہ) اسم ظرف مکان مبنی برضمہ ہے۔ من حیث ایسی جگہ سے، جہاں سے ۔ لایحتسب مضارع منفی مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ واحد مذکر غائب احتساب (افتعال) مصدر۔ (جہاں سے ) وہ گمان بھی نہیں کرتا۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ ” میں کہتا ہوں کہ :۔ رفتار آیت حضرت عوف کے قصہ کے موافق ہے اور سیاق عبارت کے مناسب حکم عام ہے۔ (یعنی مودر خاص اور حکم عام) اور جملہ معترضہ ہے۔ جملہ سابق حکم کی تائید کر رہا ہے ۔ اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا۔ جو مرد اللہ سے ڈرتا ہے اللہ کو بلا قصور نہیں ستاتا اور ظلم نہیں کرتا۔ اگر عورت کی بدزبانی بد مزاجی اور نافرمانی کی وجہ سے طلاق دے دے۔ اور یہ طلاق حیض کی حالت میں بھی نہ ہو بلکہ طہر کی حالت میں دی گئی ہو اور عورت کی عدت لمبی کرکے اس کو ضرر پہنچانا بھی مقصود نہ ہو۔ (کہ جب عدت کے ختم ہونے کا وقت آجائے تو رجوع کرلے اور پھر طلاق دیدے اور پھر ختم عدت ک کے وقت رجوع کرلے اور پھر طلاق دیدے) اور عورت کو ایام عدت میں گھر سے نہ نکالے اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز نہ کرے تو اللہ اس کے لئے گناہ سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اس بدزبان عورت ، بد مزاج، نافرمان عورت کے بدلے فرمانبردار، نیک ، پرہیزگار ، بی بی عنایت فرما دیتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو عورت اللہ سے ڈرے اور خاوند کی حق تلفی نہ کرے بدزبانی سے پیش نہ آوے بےوجہ طلاق کی خواستگار نہ ہو بلکہ شوہر اگر اس کو دکھ پہنچاتا ہو تو صبر کرے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرے تو اللہ اس کے لئے راہ نجات نکال دیتا ہے اور اس کو بیگمان طریقہ سے رزق عطا فرماتا ہے اور ظالم و بدمزاج شوہر کے بجائے نیک حق شناس شوہر مرحمت فرما دیتا ہے “۔ فائدہ : بغوی نے بروایت مقاتل بیان کیا ہے کہ عوف بن مالک اسجعی کے بیٹے کے ہاتھ (دشمن کی کچھ) بکریاں اور سامان لگ گیا۔ وہ بکریاں اور سامان لے کر اپنے والد کے پاس واپس آگئے۔ حضرت عوف نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ چیزیں میرے لئے حلال ہیں جو بیٹا لے کر آیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ہاں (حلال ہیں) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ (اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے) جملہ شرط ہے فھو حسبہ جواب شرط ہے (تو وہ اس کو بس ہے، اس کو کافی ہے) ۔ حسبہ۔ مضاف مجاف الیہ۔ ہ ضمیر من کی طرف راجع ہے اور ھو کا مرجع اللہ ہے ۔ حسب : حسب یحسب (باب نصر) کا مصدر ہے بمعنی فاعل آیا ہے۔ بس ہے کافی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وان یریدوا ان یخدعون فان حسبک اللہ (8:62) اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ (یعنی خدا تمہارے لئے کافی ہے۔ اور واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جھنم (2:206) اور جب اس سے کہا جاتا ہے ہے کہ خدا سے خوف کر۔ تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو (بطور سزا) جہنم ہی کافی ہے ان اللہ بالغ امرہ : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ اللہ اسم ان بالغ امرہ ، ان کی خبر امرہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بالغ مضاف، بالغ بلوغ (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ پہنچنے والا۔ پالنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے کام تک پہنچ کر رہتا ہے یعنی پورا کرکے رہتا ہے کوئی اس کی تکمیل ارادہ سے نہیں روک سکتا۔ قدرا : بمعنی اندازہ، طاقت ، گنجائش، فراخی (قاموس) آیت میں وقتی اندازہ یعنی مقررہ وقت مراد ہے (بیضاوی) قدر یقدر (باب ضرب) سے قد (مصدر) بمعنی اندازہ کرنا۔ اندازہ لگانا۔ قد ریقدر (باب نصر) قد بمعنی کسی چیز پر قادر ہونا۔ اس کی طاقت رکھنا۔ اور اسی مصدر سے باب ضرب و نصر سے بمعنی خدا کا رزق تنگ کرنا ہے۔ آیت ہذا میں بمعنی کسی چیز کا اندازہ مقرر کرنا۔ وقت مقرر کرنا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (1) اور خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے (مولنا فتح محمد جالندھری و تفسیر حقانی) (2) خدا نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی تغیر وتبدل ممکن نہیں ہے (بیضاوی، روح المعانی) (3) مقرر کر رکھا ہے اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک اندازہ (ضٰیاء القرآن) (4) طلاق، عدت وغیرہ کی بابت ایک حد۔ ایک وقت مقرر۔ ایک اندازہ کر رکھا ہے۔ (السیر التفاسیر)
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (انکی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (انکی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کام میں سہولت کر دے گا

(65:4) الئی۔ اسم موصول، التی کی جمع (وہ سب عورتیں) جو ۔ جنہوں نے۔ یئسن : ماضی جمع مؤنث غائب یاس (باب سمع) مصدر۔ یئس ماضی واحد مذکر غائب ۔ بئس مضارع واحد مذکر غائب ی و س مادہ مایود ہونا۔ ناامید ہونا۔ یئس (جو) ناامید ہوگئی ہوں۔ المحیض۔ اسم ظرف زمان (وت حیض) ظرف مکان (مقام حیض) مصدر۔ (حیض آنا) یا بمعنی حیض۔ وہ فاسد خون کو مخصوص زمانہ اور مخصوص حالت میں تندرست جوان غیر حاملہ عورت کے رحم سے نکلتا ہے۔ محاض بھی مصدر ہے اس سے افعال باب ضرب سے آتے ہیں۔ من نسائکم : من تبعیضیہ ہے نسائکم مضاف مجاف الیہ ۔ تمہاری عورتوں میں سے بعض۔ ان ارتبتم جملہ شرط۔ ان شرطیہ۔ ارتبتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ارتیاب (افعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ اگر تم شک میں پڑو، اگر تمہیں کچھ شک ہو۔ فعدتھن ثلثۃ اشھر۔ جواب شرط۔ اشھر شھر کی جمع ۔ مہینے ۔ تو ان کی عدت کی میعاد تین مہینے ہے۔ والتی لم یحضن واؤ عاطفہ۔ التی موصول لم یحضن مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مؤنث غائب۔ صلہ۔ التی کا۔ دونوں مل کر مبتداء خبر محذوف ای فعدتھم کذلک ان کی عدت بھی اسی طرح ہوگی۔ واولات الاحمال اور حمل والیاں۔ اولات اولوا کی مؤنث ذات کی جمع علی غیر لفظہ مضاف۔ الاحمال حمل کی جمع۔ مضاف الیہ۔ مبتدائ۔ اجلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان عورتوں کی مدت مقرہ ۔ مبتداء ۔ ان یضعن حملہن : ان مصدریہ یضعن مضارع منصوب جمع مؤنث غائب وضع (باب فتح) مصدر۔ کہ جن لیں۔ یا ان کے بچہ پیدا ہوجائے، ان کا وضع حمل ہوجائے۔ خبر اپنے مبتدا کی۔ اور سارا جملہ خبر ہے اولات الاحمال کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور حاملہ (مطلقہ، بیوہ) عورتیں تو ان کی عدت و ضع عمل۔ ومن یتق اللہ جملہ شرط ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے یعنی جو شخص احکام خداوندی (کی تکمیل اور پابندی) میں اللہ سے ڈرتا رہتا ہے یجعل لہ من امرہ یسرا۔ جواب شرط۔ یسرا۔ آسانی، سہولت (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) ۔ یعنی اللہ اس کے لئے امور دنیا و آخرت آسان کردیتا ہے۔ اس کو بھلائی اور نیکی کی توفیق عطا فریا ہے۔ من فی امرہ مضاف مضاد الیہ۔ اس کے کام میں۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں اور خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا۔

(65:5) ذلک : اسم اشارہ واحد مذکر، بمعنی احکام متذکرہ بالا۔ امر اللہ : مضاف مضاف الیہ مل کر مشار الیہ ، یہ جو کچھ عدت اور اس کی تفصیل کے متعلق اوپر مذکور ہوا ہے یہ اللہ کا حکم ہے۔ انزلہ : انزل میں فاعل اللہ ہے ہ ضمیر امر کی طرف راجع ہے جو اس نے (تمہاری طرف) نازل کیا ہے۔ ومن یتق اللہ۔ جملہ شرطیہ ہے (ملاحظہ ہو آیت نمبر 4 متذکرہ الصدر) ۔ یکفر عنہ سیئاتہ جملہ شرط ہے یکفر مضارع مجزوم واحد مذکر تکفیر (تفعیل) مصدر۔ وہ دور کر دے گا۔ وہ زائل کر دے گا۔ سیئاتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی برائیوں کو، اس کے گناہوں کو۔ ویعظم لہ اجرا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے یہ بھی شرط جواب میں ہے۔ یعظم مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب ۔ اعظام (افعال) مصدر۔ وہ بڑھادے گا۔ ہ ضمیر مفعول لہ واحد مذکر غائب۔ اجرا مفعول ثانی۔ اور اس کے اجر کو بڑا کر دے گا۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کیلئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو پھر اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو اور (بچے کے بارے میں) پسند یدہ طریق سے موافقت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچے کو) اس کے باپ) کے کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائیگی

(65:6) اسکنوھن۔ فعل امر حاضر اسکان (افعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ان کو رہنے بسنے دو ۔ ان کو ٹھہراؤ۔ ان کو سکونت مہیا کرو۔ سکون اصل تو حرکت نہ ہونے کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال رہنے بسنے میں بھی ہوتا ہے۔ من حیث : حیث جہاں ، جس جگہ۔ ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے۔ من یا تو تبعیضیہ ہے یعنی اپنے رہنے والے بعض مکانوں میں ان کو بھی ٹھہراؤ۔ یا من زائدہ ہے۔ جہاں تم سکونت رکھتے ہو ان کو بھی وہاں ٹھیراؤ۔ سکونت دو ۔ ان کو رکھو۔ بساؤ۔ سکنتم : جہاں تم ضود سکونت پذیر ہو۔ من وجدکم اپنی طاقت کے مطابق، اپنے مقدور کے موافق وجدکم مضاف مضاف الیہ۔ وجد۔ طاقت، وسعت، وجد سے مالی حالت یا مقدور مراد ہے۔ اور غنی (تونگری) کو وجد اور جدۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ من حرف جار وجدکم مجرور۔ ولاتضاروھن۔ واؤ عاطفہ۔ لاتضاروا جمع مذکر حاضر فعل نہی مضارۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ بمعنی تنگ کرنا۔ ستانا۔ رنج پہنچانا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب اور ان کو مت تنگ کرو۔ ان کو ایذا مت دو ۔ لتضیقوا علیہن لام تعلیل کا ہے تضیقوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ تضیق (تفعیل) مصدر۔ تنگ کرنا۔ ضیق علی تنگ کرنا۔ سختی کرنا۔ تاکہ تم ان کو تنگ کرو۔ اصل میں تضیقون تھا۔ نون اعرابی لام کے عمل سے ساقط ہوگیا۔ ترجمہ :۔ اور ان کو تنگ کرنے کے لئے یا ستانے کے لئے ایذا مت پہنچاؤ۔ وان کن اولات حمل۔ جملہ شرط ہے۔ اور اگر وہ حمل سے ہوں۔ حاملہ ہوں۔ حمل والیاں ہو۔ ملاحظہ ہو۔ اولات الاحمال آیت نمبر 4 متذکرہ الصدر۔ فانفقوا علیہن جواب شرط۔ انفقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر انفق علی۔ کسی پر خرچ کرنا۔ تو ان پر خرچ کرو۔ حتی۔ انتہاء غایت کے لئے۔ حتی کہ۔ یہاں تک کہ۔ یضعن حملہن : یضعن مضارع منصوب جمع مؤنث غائب وضع (باب فتح) مصدر۔ بمعنی رکھنا۔ اتار دینا۔ الگ کرنا۔ پیدا کردیں۔ بچہ کو جنم دے چکیں۔ حملہن مضاف مضاف الیہ۔ اپنا حمل۔ حتی کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔ فان ارضعن لکم : جملہ شرطیہ ارضعن ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب ارضاع (افعال) مصدر بمعنی دودھ پلانا۔ عورت کا بچے کو اپنی چھاتی سے دودھ پلانا اور پستان چوسانا اور اگر وہ تمہارے بچے کو (نوزائیدہ کو) اپنی چھاتیوں سے دودھ پلا دیں۔ فاتوھن اجورھن۔ جواب شرط۔جواب شرط کے لئے ۔ اتوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دینا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو تم ان عورتوں کو دو (ادا کرو) ۔ اجورھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ اتوا کا مفعول ثانی، تو ادا کرو ان عورتوں کو ان کی اجرتیں۔ اجور جمع اجر کی، بمعنی حق۔ اجرت۔ عورت کے مہر کے لئے بھی آتا ہے۔ واتمروا۔ واؤ عاطفہ۔ أتمروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ایتمار (افتعال) مصدر جس کے اصل معنی حکم بجالانا کے ہیں۔ اور تشاور (تفاعل) یعنی باہم مشورہ کرنے کو بھی ایتمار کہا جاتا ہے۔ کیونکہ مشورہ میں بھی ایک دوسرے کا حکم قبول کیا جاتا ہے چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ان الملأ یاتمرون بک (28:20) شہر کے رئیس تمہارے بارے میں مشورہ کرتے ہیں۔ بینکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے آپس میں ۔ تمہارے درمیان۔ بمعروف : معروف دستور۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 2 متذکرۃ بالا) اور (بچے کے بارے میں) پسندیدہ طریق کے مطابق (یا دستور کے مطابق) ایک دوسرے کی بات کو قبول کرو۔ وان تعاسرتم : واؤ عاطفہ، جملہ شرط۔ تعاسرتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تعاسر (تفاعل) مصدر۔ بمعنی آپس کے معاملہ میں تنگی پیدا کرنا۔ دشواری پیدا کرنا۔ باہم ایک دوسرے کو تنگ کرنا۔ عسر مادہ۔ العسر کے معنی تنگی اور سختی کے ہیں یہ یسر (آسانی ، فارغ البابی) کی ضد ہے ۔ وان تعاسرتم اور اگر تم باہم ضد اور نا اتفاقی کرو گے۔ ایک دوسرے کے لئے دشواری پیدا کرو گے۔ فسترضع لہ اخری :جواب شرط کے لئے ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔ فسترضع : س جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے۔ ترضع مضارع اور مؤنث غائب ارضاع (افعال) مصدر۔ (اس کو) دودھ پائے گی۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب بچے کے باپ کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اگر تم باہم ضد اور نا اتفاقی کرو گے تو (بچے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔ اخری (کوئی) دوسری عورت اخر واخر دونوں کی مؤنث اخری آتی ہے۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔

(65:7) لینفق۔ فعل امر واحد مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ چاہیے کہ وہ ایک مرد خرچ کرے۔ ذوسعۃ۔ مضاف مجاف الیہ۔ صاحب وسعت۔ صاحب طاقت، صاحب مال ۔ خوش حال۔ من سعتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی وسعت ، اس کی طاقت ، من حرف جار سعتہ مجرور۔ اپنی وسعت کے مطابق۔ اپنی گنجائش کے مطابق۔ ترجمہ ہوگا :۔ چاہیے کہ خرچ کرے صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق۔ (یعنی اگر وہ صاحب مال ہے تو اسے کھلے دل سے بچے پر خرچ کرنا چاہیے۔ ومن قدر علیہ رزقہ۔ اور جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا۔ جملہ شرط ہے ۔ قدر علی (اللہ کا کسی پر) رزق تنگ کرنا۔ قدر (باب ضرب و نصر) مصدر۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واما اذا ما ابتلہفقدر علیہ رزقہ (89:16) اور جب دوسری طرح وہ آزماتا ہے کہ اس پر روزی کو تنگ کردیتا ہے۔۔ فلینفق مما اتہ اللہ۔ تو وہ خرچ کرے اس میں سے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔ اس میںجواب شرط کے لئے لام تاکید کا اور ینفق مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ لینفق امر واحد مذکر غائب تو اسے چاہیے کہ وہ خرچ کرے۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے اتہ اللہ صلہ ما موصولہ کا۔ جو اللہ نے اسے دیا ہے یعنی مفلس حسب استطاعت کچھ بھی خرچ کرے گا کافی ہوگا۔ لایکلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب تکلف (تفعیل) مصدر۔ وہ تکلیف نہیں دیتا ہے۔ وہ مامور نہیں کرتا ہے۔ نفسا۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ کسی جان کو۔ الا۔ حرف استثناء ما اتھا ما موصولہ اتھا اس کا صلہ۔ اتی ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ نفس کی طرف راجع ہے مگر اس قدر کہ جتنا اس کو دیا ہے۔ سیجعل۔ س مضارع سے قبل اس کو مستقبل کے لئے مخصوص کردیتا ہے یجعل مضارع واحد مذکر غائب، وہ کر دے گا۔ بعد عسر : مضاف مضاف الیہ۔ دشواری، تنگی، سختی، مشکل، یسر کی ضد ہے۔ مصدر ہے باب سمع اور کرم سے۔ یسرا۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔ اسم نکرہ، بمعنی آسانی، سہولت، فراخی، فراغت باب سمع۔ مصدر۔ بمعنی آسان ہونا۔ سیجعل اللہ بعد عسر یسرا۔ اللہ سختی کے پیچھے آسانی پیدا کر دیگا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فان مع العسر یسرا ، ان مع العسر یسرا (94:5-6) تحقیق مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ تحقیق مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ مطلب آیت ہذا کا یہ ہے کہ اگر کسی وقت غربت اور تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑے تو گھبراؤ نہیں جی لگا کر محنت کرو۔ صبر کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کوئی بعید نہیں کہ وہ تمہیں بہت جلد خوشحال اور متمول کر دے (ضیاء القرآن)
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام کی سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا۔ اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

(65:8) وکاین من قریۃ۔ واؤ عاطفہ۔ کاین بہت بکثرت۔ من تمیز بہت سی بستیاں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 3:146) عتت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ عتو (باب نصر) مصدر۔ ع ت و ، مادہ اس نے سرکشی کی۔ اس نے سرتابی کی۔ اس نے نافرمانی کی ۔ وہ سرتابی میں حد سے گزر گئی یہاں یہ مؤنث کا صیغہ جمع کے معنی میں بستیوں کے لئے آیا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وعتوا عن امررتھم۔ (7:77) اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ ربھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غالب بستیوں کے لئے ہے۔ ورسلہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای وعتت عن امر رسلہ اور اس (خدا) کے رسول کے حکم سے (بھی) سرکشی کی۔ فحاسبنھا :تعلیل کی ہے ۔ بدیں وجہ۔ حاسبنا ماضی جمع متکلم مھاسبۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ، (بستیوں کے لئے ہے) ہم نے ان کا حساب لیا۔ ہم نے ان کا محاسبہ کیا۔ عذبنھا : عذبنا ماضی جمع متکلم تعذیب (تفعیل) مصدر۔ بمعنی عذاب دینا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنثغائب (بستیوں کے لئے) عذابا مفعول مطلق موصوف، نکرہ صفت ، سخت، شدید، اور ہم نے ان کو سخت سرادی۔
Ayah 65:9

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔

(65:9) فذاقت :عاطفہ یا ترتیب کا ہے۔ پس چکھ لیا (ان بستیوں نے یعنی ان بستیوں کے رہنے والوں نے) ۔ وبال امرھا : اپنے فعل کے انجام کا ضرر (نیز ملاحظہ ہو 64:5) وکان عاقبۃ امرھا خسرا : کان افعال ناقصہ سے ہے۔ عاقبۃ مضاف امرھا مضاف مضاف الیہ۔ مل کر عاقبۃ کا مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کان کا اسم۔ خسرا اس کی خبر۔ اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ ہی رہا۔ بعض کے نزدیک فذاقت وبال امرھا کا تعلق عذاب دینا سے ہے اور وکان عاقبۃ امرھا خسرا۔ کا عذاب آخرت سے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے :۔ کہ آیت کے الفاظ میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے کہ :۔ ہم نے دنیا میں ان کو بھوک، قحط، طرح طرح کے مصائب میں گرفتار کیا اور آخرت میں ان کی حساب فہمی سختی کے ساتھ کریں گے اور انجام کار ان کو خسارہ ہی ہوگا۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک سب جگہ آخرت کا حساب اور عذاب ہی مراد ہے۔ ماضی کے صیغے اس لئے استعمال کئے کہ یہ حساب و عذاب یقینا ہوگا اس کا ہونا قطعی اور اتنا یقینی ہے کہ گویا ہوگیا۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصحیت (کی کتاب) بھیجی ہے۔

(65:10) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔ اس نے تیار کیا۔ لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب بستیوں میں رہنے والوں کے لئے ہے۔ عذابا شدیدا : عذابا مفعول بہ موصوف، شدیدا صفت، سخت عذاب۔ فائدہ : اعد اللہ لہم عذابا شدیدا۔ (آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ترجمہ مولنا حقانی (رح)) مخاطبین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نے بستیوں کے مکینوں کا حال سنا کہ کس طرح ان کی رب سے سرکشی اور اس کے رسول کی نافرمانی ان کے سخت محاسبہ اور شدید عذاب پر منتج ہوئی اور ان کا انجام خسران یعنی گھاٹا ہی رہا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ تو نتیجہ انہوں نے اپنی کرتوتوں کا اس دنیا میں دیکھ لیا آخرت میں عذاب شدید ان کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ فاتقوا اللہ میںسببیہ ہے۔ پس بایں وجہ اتقوا اللہ اللہ سے ڈرو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر سے پس ڈرو اللہ سے۔ یاولی الالباب : یا حرف ندی۔ اولی والے۔ جمع ہے۔ اس کا واحد نہیں آتا۔ بعض ذو کو اس کا واحد بتاتے ہیں اولوا بحالت رفع اور اولی بحالت نصب یا جر ہوگا۔ یہاں اولی منادی ہے۔ اور مفعول بہ آتا ہے۔ لہذا منصوب ہے ۔ یہ مضاف ہے اور الباب جمع ہے۔ لب کی بمعنی عقلیں۔ مجاف الیہ ہے۔ یاولی الالباب : اے عقلمندد۔ اے دانشمندو۔ فائدہ : الالباب پر معانقہ ہے اور امنوا پر بھی۔ معانقہ کی صورت میں الالباب پر بھی وقف کرسکتے ہیں اور امنوا پر بھی۔ لیکن الالباب پر معانقہ کے اشارہ کے ساتھ صلے کا اشارہ ہے جو الوصل اولی کا اختصار ہے یعنی یہاں ملا کر پڑھنا بہتر ہے آگے امنوا پر اشارہ وقف ہے جس کے معنی ہیں ٹھہر جاؤ۔ لہٰذا یہاں امنوا پر وقف کرنا بہتر ہے۔ اس صورت میں عبارت یوں آئے گی :۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا۔ تو اس صورت میں الذین امنوا بدل ہوگا۔ فاتقوا اللہ کا۔ یعنی اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو۔ اولی الالباب سے مقصود الذین امنوا ہے۔ (مراد وہ مومن جو نزول قرآن کے بعد ایمان لائے) قد انزل اللہ الیکم ذکرا : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے ۔ اور فعل کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ ذکرا : ای القران۔ رسولا : اس سے قبل فعل محذوف ہے : ای وارسل رسولا : رسولا مفعول بہ ہے۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے) ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں انکو اندھیرے سے روشنی میں لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا انکو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآ باد اس میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔

(65:11) یتلوا علیکم : یتلوا مضارع واحد مذکر غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر وہ تلاوت کرتا ہے وہ پڑھتا ہے۔ یہ رسولا کی صفت ہے ای الذی یتلوا علیکم۔ ایت اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یتلوا کا۔ موصوف ہے اس کی صفت مبینت ہے (اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث) تفصیل کرنے والیاں، بہت زیادہ روشن یہ صفت ہے ایت کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اپنا پیغمبر بھی بھیجا ۔ جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ لیخرج۔ لام علت کا۔ یخرج : مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) صیغہ واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر۔ تاکہ وہ نکال لے آئے۔ یخرج کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور رسول بھی۔ الذین امنوا۔ صلہ و موصول مل کر یخرج کا مفعول۔ من الظلمت الی النور۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف ۔ کفر کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی میں۔ ومن یؤمن باللہ : من شرطیہ ، جملہ شرطیہ۔ یؤمن مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ واحد مذکر غائب ویعمل صالحا اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یعمل مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ واحد مذکر غائب صلحا مفعول مطلق (محذوف) کی صفت ہے۔ ای عملا صلحا اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا۔ یدخلہ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط صیغہ واحد مذکر غائب ادخال (افعال) مصدر۔ ضمیر فاعل واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب من شرطیہ کی طرف راجع ہے (تو) خدا اس کو داخل کرے گا۔ خلدین فیہا ابدا : یدخلہ کی ضمیر مفعول سے حال ہے فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔ خلدین جمع کا صیغہ بلحاظ معنی آیا ہے۔ اگرچہ اس کا مرجع یدخلہ میں ضمیر مفعول ہ واحد مذکر ہے۔ قد احسن قد تحقیق۔ احسن ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب احسان (افعال) مصدر۔ تحقیق اس نے اچھا بنایا۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے احسان کیا۔ رزقا تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک خدا نے اس کو خوب رزق دیا ہے۔ قد احسن اللہ لہ رزقا۔ یہ جملہ یا تو یدخلہ کی ضمیر مفعول سے حال ہے یا خلدین کی ضمیر جمع مذکر غائب سے حال ہے۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

(65:12) اللہ الذی خلق سبع سموت : اللہ مبتداء الذی اسم موصول واحد مذکر۔ خلق سبع سموت جملہ فعلیہ ہوکر صلہ اپنے موصول کا۔ صلہ و موصول مل کر خبر اپنے مبتدا کی ۔ خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے۔ ومن الارض مثلہن۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای وخلق من الارض مثلہن : من بیان جنس کے لئے ہے۔ مثلہن مضاف مضاف الیہ۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب سموت کی طرف راجع ہے۔ اور زمین بھی اس نے ان کی مانند (بنائی یا پیدا کی) مثلہن سے کیا مراد ہے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) مثلہن : فی العدد (خازن، بیضاوی۔ جلالین) یعنی سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں۔ (2) وقیل الارض واحدۃ الا ان الاقالیم سبعۃ۔ کہتے ہیں کہ زمین ایک ہے لیکن مشتمل برہفت اقالیم ہے (مدارک التنزیل) (3) مثلہن فی الخلق : یعنی اپنی خلقت کے لحاظ سے ساتوں آسمان اور زمین ایک ہی قسم کے مادہ سے بنائے گئے ہیں۔ (4) تفہیم القرآن میں مثلہن پر ایک نوٹ اس طرح دیا گیا ہے :۔ انہیں کی مانند کا مطلب یہ ہے کہ :۔ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں َ اور ” زمین کی قسم سے “ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنی موجودات کے لئے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی آبادیوں کے لئے فرش اور گہوارہ ہیں بلکہ بعض مقامات پر قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین پر ہی نہیں ہیں بلکہ عالم بالا پر بھی پائی جاتی ہیں۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم الشوریٰ آیت 29 حاشیہ 50) بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بیشمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں یہ سب ڈھنڈار پڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرف ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جو ان میں دنیائیں آباد ہیں۔ قدیم مفسرین میں سے زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد 5 سورة الطلاق آیت 12 حاشیہ 23، اور روح المانی تفسیر سورة الطلاق آیت 12) یتنزل الامر : یتنزل مضارع واحد مذکر غائب۔ تنزل (تفعل) مصدر۔ نازل ہوتا ہے۔ اترتا ہے۔ الامر : حکم ، معاملہ، کام۔ یہاں مراد احکام خداوندی ہیں۔ یتنزل الامر بینھن۔ مطلب یہ ہے کہ انہی سات آسمانوں میں اور زمین میں خدائے عزوجل کا حکم اور اس کی قضاء وقدر نافذ العمل رہتی ہے۔ ای ۔۔ امر اللہ تعالیٰ وقضاء وقدرہ (روح المعانی) لتعلموا۔ لام تعلیل کا ہے تولموا مضارع جمع مذکر حاضر۔ علم باب سمع مصدر نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا ہے۔ تاکہ تم جان لو۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر : ان تحقیق، بےشک، یقینا۔ حرف مشبہ بفعل ہے ۔ اللہ اسم ان قدیر خبر۔ علی کل شیء متعلق خبر۔ یہ جملہ مجموعا تعلموا کا مفعول ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وان اللہ قد احاط بکل شیء علما۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور (یہ) کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اپنے احاطہ علمی میں لئے ہوئے ہے۔ احاط ماضی واحد مذکر غائب۔ احاطۃ (افعال) مصدر۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ علما بوجہ تمیز منصوب ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل اللہ اسم ان قد احاط اس کی خبر بکل شیء علما متعلق خبر۔