At-Talaaq 65:9

At-Talaaq · from ayah 9

65:9

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا ۟فَذَاقَتۡ وَبَالَ اَمۡرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ اَمۡرِهَا خُسۡرًا

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it tasted the bad consequence of its affair, and the outcome of its affair was loss.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah At-Talaaq

All translations of 65:9

انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور اُن کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزه چکھ لیا اور انجام کار ان کا خساره ہی ہوا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا، اور ان کے اعمال کا آخری انجام نقصان ہی نقصان ہوا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام انجام گھاٹا ہوا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو انہوں نے اپنے کئے کا وبال چکھ لیا اور اُن کے کام کا انجام خسارہ ہی ہوا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارہ تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھ لیا اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہی تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو انہوں نے چکھا وبال اپنے کئے کا اور انجام کار ان کا معاملہ بڑے ہی خسارے (اور سخت نقصان) کا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

غرض انہوں نے اپنے کرتوت کا وبال چکھا۔ اور اپنے انجام کار میں گھاٹا بھی اٹھایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے اپنے معاملے کی پوری سزا بھگت لی اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہی تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو انہوں نے اپنے کاموں کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

So they tasted the evil fruit of their deeds; and the fruit of their deeds was utter loss.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus they tasted the evil consequence of their acts, and the end of their conduct was loss.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus they tasted the evil consequence of their acts, and the end of their conduct was loss.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So it tasted the evil result of its affair, and the consequence of its affair was loss.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So that it tasted the ill-effects of its conduct, and the consequence of its conduct was loss.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it tasted the bad consequence of its affair, and the outcome of its affair was loss.

— Saheeh International

They suffered the consequences of their deeds and their end was perdition.

— Muhammad Sarwar

So it tasted the evil result of its conduct, and the end of its affair was perdition.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore they tasted the evil consequence of their affair, and the end of their affair was loss.

— Abdul Majid Daryabadi

Then did they taste the evil result of their conduct, and the End of their conduct was Perdition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 65:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–11

شریعت پر چلنا ہی۔۔ روشنی کا انتخاب ہے جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول ﷺ کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول ﷺ سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا اس وقت نادم ہنے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی ؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہوجاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والوں چاہئے کہ ان جیسے نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–10

سورة الطَّلَاق 20 اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہونگے، اور اگر اطاعت کی راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

خلاصہ تفسیر اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم (ماننے) سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی سو ہم نے ان (کے اعمال) کا سخت حساب کیا (مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفر یہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا بلکہ سب پر سزا تجویز کی، یہاں حساب سے پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں) اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی (کہ عذاب کے ذریعہ ہلاک کئے گئے) غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کا رخسار ہی ہوا (یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک سخت عذاب تیار رکھا ہے (اور جب انجام نافرمانی کا یہ ہے) تو اے سمجھدار جو کہ ایمان لائے ہو تم خدا سے ڈرو (کہ ایمان بھی اس کو مقتضی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(فذاقت وبال امرھا وکان عاقبۃ امرما خسرا) (9)۔ یعنی جب وہ خدا کے محاسبہ کی زد میں آگئیں تو انہیں اپنی سر کشی کا انجام بھگتنا پڑا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔ اس لیے کہ فلاح و بہبود کی واحد راہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتائی ہے۔ اگر قومیں اپنی سر کشی کے سبب سے اس سے انحراف اختیار کرتی ہیں تو لازماً نامرادی سے دو چار ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–10

8۔ 1 عَتَتُ ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔ 7۔ 2 نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

12: شوہر پر بیوی بچوں کو جو نفقہ واجب ہوتا ہے، وہ اس کی اپنی مالی حیثیت کے مطابق واجب ہوتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فذاقت .................... خسرا (56 : 9) ” انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے “۔ اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ اور اس عذاب کی تصویر یہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

۔8 یعنی عمر بھر جو سودا کیا تھا آخر اس میں سخت خسارہ اٹھایا اور جو پونجی تھی سب کھو کر رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8{ وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہٖ } ”اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں علیہ السلام سے سرکشی کی“ { فَحَاسَبْنٰـہَا حِسَابًا شَدِیْدًالا وَّعَذَّبْنٰـہَا عَذَابًا نُّکْرًا۔ } ”تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا بہت شدید محاسبہ اور ہم نے ان کو عذاب دیا بہت ہولناک عذاب۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

23 عائلی زندگی سے متعلق احکام بیان کرنے اور ہر ہر مقام پر اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی اور سرتابی کی راہ اختیار کی تھی۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتے تھے۔ تو ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کی ٹھیک ٹھیک سزا دے ڈالی۔ ان کا سختی سے مواخذہ کیا اور کسی کو بھی معاف نہیں کیا اور انہیں ایسی آفت میں پھنسایا جس سے وہ نکل نہ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

20۔ (اسی دنیا میں) دنیا میں کسی قوم پر عذاب آنے کے یہ معنی ہیں کہ خود وہ قوم یا اس کی تہذیب و تمدن مٹ جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

ترجمہ : اور بہت سی بستیاں (کاین) میں کاف جر ہے، جو ای پر داخل ہے کم کے معنی میں ہے، جس کے رہنے والوں نے اپنے رب کے حکم کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے آخرت میں ان کا سخت محاسبہ کیا اور سخت عذاب دیا اگرچہ آخرت کا وقوع ابھی نہیں ہوا مگر یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا گیا ہے، نکرا کاف کے سکون اور ضمہ کے ساتھ بمعنی شدید ہے، اور وہ آگ کا عذاب ہے، پس انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ لیا (یعنی ان کا انجام بھگت لیا) انجام کار ان کا خسارہ زیاں اور ہلاکت ہی ہوئی، اللہ نے ان کے لئے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے وعید کی تکرار تاکید کے لئے ہے پس اللہ سے ڈرو، اے عقلمندو اور ایمان والو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ ہی ہوا وَبَالَ اَمْرِھَا : یعنی ان کے کفر و معاصی کی دنیا میں سزا۔ وَ کَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا : یعنی قبر اور آخرت میں ان کی سزا سراسر گھاٹا اور خسارہ ہی ہوگا۔ بجائے جنت کے دوزخ ان کا ٹھکانا ہوگی۔ مقاتل نے آیت مذکورہ کی یہی تفسیر کی ہے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ آیت کے الفاظ میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے ‘ اصل عبادت اس طرح تھی ‘ ہم نے دنیا میں ان کو بھوک ‘ قحط اور طرح طرح کے مصائب میں گرفتار کیا اور آخرت میں ان کی حساب فہمی سختی کے ساتھ کریں گے اور انجام کار ان کو خسارہ ہی ہوگا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک سب جگہ آخرت کا حساب اور عذاب ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) سو آخرت میں ہم ان کا سخت حساب کرلیں گے اور دنیا میں بھی ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی غرض کہ انہوں نے دنیا میں اپنے اعمال کا ہلاکت کے ساتھ مزہ چکھ لیا اور آخرت میں بھی ان کا انجام خسارہ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے اے سمجھدارو جو کہ ایمان لائے ہو تم اللہ سے ڈرو، اللہ نے رسول کے ساتھ تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ یعنی قرآن بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ۔۔۔:”عتت“ ”عتا یعتو عتوا“ (ن) سے ماضی معلوم ہے ، اصل میں ”عتوت“ ہے۔ ”نکرا“ اجنبی ، نہ پہچانا ہوا ، جو نہ دیکھا ہو نہ سنا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے طلاق وغیرہ کے متعلق اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا، یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی ان کا انجام کیا ہوا۔ مقصد مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی اقوام کی بربادی میں شرک و کفر کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے ان تفصیلی احکام کی مخالفت بھی تھی جو زندگی کے ہر شعبے میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

وکاین من قریۃ جب احکام کا ذکر کیا تو امر کی مخالفت سے خبردار کیا اور قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نزول کا ذکر کیا۔ سورة آل عمران میں کاین کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ عتت عن امر ربھا یعنی انہوں نے نافرمانی کی۔ ذکر قریہ کا کیا مراد اس کے مکین ہیں۔ فحاسبنھا حسابا شدیدا یعنی دنیا میں ہم نے انہیں عذاب دے کر بدلہ دیا۔ و عدینھا عذابا نکرا۔ یعنی آخرت میں بھاری سزا دی۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (1) ! دنیا میں ہم نے انہیں بھوک، قحط، تلوار، زمین میں دھنسانا، صورتیں مسخ کرنا اور باقی ماندہ مصائب میں مبتلا کیا اور آخرت میں شدید ترین حساب لیا۔ نکرت مراد منکر ہے۔ اسے مخفف اور مشتل دونوں طرح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذاقت وبال امرہا۔ سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا۔ یعنی انہوں نے اپنے کام کی سزا کو چکھا۔ 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذاقت وبال امرہا سے مراد ہے اپنے کام کی سزا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا : پھر انھوں نے چکھی اپنے کیے کی سزا ] [وَكَان عَاقِبَةُ اَمْرِهَا : اور ہے ان کے کام کا انجام ] [خُسْرًا : گھاٹا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

ہر صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے : ﴿ لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ 1ؕ﴾ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دے رکھا ہے) یعنی پیسہ والا آدمی بچہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور تنگ دست آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا 1ؕ﴾ (اور اللہ کسی جان کو اس سے زیادہ خرچ کرنے کا مکلف نہیں بناتا مگر جتنا اس کو دیا ہے) ۔ اللہ تنگی کے بعد آسانی فرما دے گا : ﴿ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

تنبیہ وتحذیر برنافرمانی رب العالمین ودرس عبرت بہ بیان ہلاکت قریہائے مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من قریۃ عتت ..... الی ...... بکل شیء علما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاشرت اور معاملات کے احکام ذکر فرمائے جارہے تھے جن میں عدل و انصاف کا حکم تھا اور عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیاد خوف خدا ہے اس وجہ سے درمیان میں تین بار (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ ذکر فرمایا گیا کہ اللہ کا تقوی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اللہ کے تقوی سے دشواریاں آسانیوں سے بدل جاتی ہیں، اور اللہ کے تقوی سے انسان اپنی برائیوں سے پاک ہو کر مستحق اجر عظیم ہوتا ہے تو اب ان آیات میں میں اللہ کی نافرمانی پر وعید اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

10:۔ ” وکاین من قریۃ “ خانگی امور انتظامیہ طلاق، عدت، سکنی، نفقہ اور رضاعت کے احکام بیان کرنے کے بعد تخویف دنیوی و اخروی سنائی گئی۔ تاکہ احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں کو اپنے انجام بد کا علم ہوجائے اور نیک لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں۔ فرمایا بہت سی بستیاں ایسی تھیں جن کے باشندوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی کی اور روگدانی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت دردناک سزا دی اس طرح انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھ لیا اور انجام کار دین و دنیا کا خسارہ اٹھایا اور پھر آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لیے شدید ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ نے عورتوں کے نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ سے متعلق عائلی قوانین بتائے اور ان کی پابندی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرو ورنہ تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اب اللہ نے بطور عبرت یاد دلایا کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح نیست ونابود کیا۔ نافرمان قوموں کی تباہی : ارشا د ہوتا ہے وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا و رسلہ ، بہت سی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے تجاوز کیا ، اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے بھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فحاسبنھا حسابا شدیداً پس ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا وعذبنھا عذاباً نکرا اور ان کو سخت سزا میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِہَا وَكَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِہَا خُسْرًا۝ 9 ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–11

ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔ تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰـھَا حِسَابًا شَدِیْدًا لا وَّعَذَّبْنٰـھَا عَذَابًا نُّـکْرًا۔ فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِھَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا خُسْرًا۔ (الطلاق : 8، 9) (اور کتنی بستیاں ایسی تھیں جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی، تو ہم نے بڑی سختی سے ان کا محاسبہ کیا، اور ہم نے انھیں نہایت ہولناک عذاب دیا۔ پس انھوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ تھا۔ ) اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرکشی ہمیشہ سخت عذاب کا باعث ہوتی ہے اب مسلمانوں سے خاص طور پر یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ دنیا میں کتنی ایسی قومیں گزری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے عائلی قوانین بیان کرتے ہوئے انہیں کئی مرتبہ حدود اللہ قرار دیا ہے اور بار بار حکم دیا ہے کہ میاں، بیوی کو حدود کے بارے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اگر دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو علیحدگی بھی اچھے انداز میں ہونی چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔ اگر لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کا انجام اپنے سامنے رکھنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِھَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا خُسْرًا (غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ ہی ہوا) یعنی خسارہ اور ہلاکت۔ مراد یہ ہے آخرت کا حساب اور عذاب اور جو اس میں وبال پائیں گے اور خسارہ حاصل ہوگا۔ ایک نکتہ : یہ لفظ ماضی سے ذکر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ جس کا انتظار ہو رہا ہے۔ اور اس کی وعیدیں جو مستقبل سے متعلق ہیں۔ وہ حقیقت میں ایسی ہیں جیسے پہنچ چکی اور جو بھی ہونے والا ہے گویا وہ ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” وکاین من قریۃ عتت “ نافرمانی کی اور سرکشی کی۔ ” عن امرربھا ورسلہ “ یعنی اور اپنے رسول کے امر سے۔ ” فحاسبناھا حسابا شدیدا “ سخت حساب مناقشہ اور پورا حساب لینا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کے دین کے اعمال پر اس کا حساب کیا۔ پھر اس کو آخرت میں عذاب کا بدلہ دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وعذبناھا عذابا نکرا “ ہولناک اور وہ آگ کا عذاب ہے۔ ان دونوں کا لفظ ہے اور دونوں کا معنی استقبال کا ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اس کی عبادت یوں بنے گی ” فعذبناھا فی الدنیا، بالجوع والقحط والسیف “ بھوک، قحط، تلوار اور تمام مصائب کے ذریعے ” وحاسبناھا فی الآخرۃ حسابا شدیدا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

اللہ تبارک تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگ کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت حساب اور دردناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی ور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ) لہذا ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو۔ یعنی ایسی عقل رکھنے والو جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اس ہستی نے گزرے ہوئے زمنے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–12

قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔ قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 32] منکروں کے لیے عذاب شدید تیار۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کے لیے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی سخت عذاب۔ اتنا سخت عذاب اور اس قدر ہولناک کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہوسکتی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ فیومئذ لا یعذب عذابہ احد، ولا یوثق وثاقہ احد۔ (الفجر 25، 26 پارہ 30) سو اللہ کے نازل کردہ دین حق کی ناقدری اور اس سے اعراض و روگردانی والعیاذ باللہ باعث ہلاکت و تباہی اور دراین کا خسارہ ہے پس صحت و سلامتی اور فوزوفلاح اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا راستہ وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات) اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–12

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ مغربی معاشرہ۔ پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–11

ف 1 ذکر سے مراد قرآن ہے اور اگر ذاکر کے معنی میں لیا جائے تو اس سے مراد خود آنحضرت بھی ہوسکتے ہیں۔2 یعنی جنت میں انہیں فراخ روزی دی جو نہ کبھی فنا ہوگی اور نہ کم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(65:9) فذاقت :عاطفہ یا ترتیب کا ہے۔ پس چکھ لیا (ان بستیوں نے یعنی ان بستیوں کے رہنے والوں نے) ۔ وبال امرھا : اپنے فعل کے انجام کا ضرر (نیز ملاحظہ ہو 64:5) وکان عاقبۃ امرھا خسرا : کان افعال ناقصہ سے ہے۔ عاقبۃ مضاف امرھا مضاف مضاف الیہ۔ مل کر عاقبۃ کا مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کان کا اسم۔ خسرا اس کی خبر۔ اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ ہی رہا۔ بعض کے نزدیک فذاقت وبال امرھا کا تعلق عذاب دینا سے ہے اور وکان عاقبۃ امرھا خسرا۔ کا عذاب آخرت سے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے :۔ کہ آیت کے الفاظ میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے کہ :۔ ہم نے دنیا میں ان کو بھوک، قحط، طرح طرح کے مصائب میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–12

لغات القرآن۔ کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب اللہ نے ان قوموں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا انجام۔ (ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

اسلامی نظام ازواج 1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) غرض انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھا اور ان کا انجام کا خسارہ ہی ہوا اور ان کے کام میں ٹوٹا آگیا یعنی آخرکار نقصان ہی نقصان میں رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 4۔ مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفریہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا، بلکہ سب پر سزا تجویز کی اور پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

گجرات شہر کے ایک وفادار خاوند اور شریف النفس اور پارسا بیوی کی کہانی اس سلسلہ میں آپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں ۔ آپ اس سے اندازہ لگا گیں کہ ہمارے مذہب پروہتوں کا کیا حال ہے ؟ ایک صاحب انگلینڈ (Engladn) میں ملازم تھے جو گجرات شہر کے رہنے والے تھے۔ ایک عورت سے ان کی شادی ان کے والدین نے کی ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دونوں میاں بیوی میں بہت محبت تھی اور بہت خوشی سے رہ رہے تھے۔ اتفاق یہ کہ ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی ۔ عرصہ دس سال کے بعد ان صاحب کے والد کا لڑکی کے والدین سے کسی معاملہ میں جھگڑا ہوگیا اور بات تو تو میں میں پر ہی ختم ہوگئی ۔ اس وقت وہ صاحب اپنی بیوی کے ہمراہ ملک سے باہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Commentary فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرً‌ا (so We called them to a severe account, and punished them with an evil punishment...65:8). The severe account and evil punishment of nations mentioned in this verse refers to what will happen in the Hereafter. However, the past tense has been employed presumably to indicate the occurrence of these events is as certain as if it has already been materialised. [ Ruh ]. The other possibility is that the hisab or 'account' in this context does not refer to interrogation, but to the determination of punishment, (in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

20 Now, the Muslims are being warned of the fate the would meet I this world and in the Hereafter is they disobeyed the Commands they have been given through the Messenger of AIIah and His Book and the rewards they would receive if they adopted obedience.

Read the full tafseer →