At-Talaaq 65:8

At-Talaaq · from ayah 8

65:8

وَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا ۙ— وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا ۟وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبۡنٰهَا حِسَابًا شَدِيۡدًاۙ وَّعَذَّبۡنٰهَا عَذَابًا نُّكۡرًا‏

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how many a city was insolent toward the command of its Lord and His messengers, so We took it to severe account and punished it with a terrible punishment.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Talaaq

All translations of 65:8

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انہیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انہیں بری مار دی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن (کے رہنے والوں) نے اپنے رب کے حکم اور اُس کے رسولوں سے سرکشی و سرتابی کی تو ہم نے اُن کا سخت حساب کی صورت میں محاسبہ کیا اور انہیں ایسے سخت عذاب میں مبتلا کیا جو نہ دیکھا نہ سنا گیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان کا بڑا سخت محاسبہ کیا اور انہیں بری طرح سزا دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جنہوں نے سرکشی (و سرتابی) کی اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں (کی ہدایات) سے سو آخرکار ہم نے ان کا محاسبہ کیا بڑا ہی سخت محاسبہ اور ہم نے ان کو سزا دی (طرح طرح کے عذابوں) سے بڑی بری سزا

— مولانا اسحاق مدنی

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب کیا اور انہیں سز ا بھی بڑی بھاری دی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں ؑ سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا بہت شدید محاسبہ اور ہم نے ان کو عذاب دیا بہت ہولناک عذاب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بہت سی بستیوں کے رہنے والوں نے اپنے رب اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر ایسا عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How many towns rebelled against the commandment of their Lord and His Messengers. Then We called them to a stern accounting, and subjected them to a harrowing chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And how many a township rebelled against the command of its Lord, and against His messengers, so We called them to a severe account, and punished them with a punishment that was unimagined by them.

— Muhammad Taqi Usmani

And how many a township rebelled against the command of its Lord, and against His messengers, so We called them to a severe account, and punished them with a punishment that was unimagined by them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And many a town revolted against the command of its Lord and His Messengers; and We called it to a severe account, and We shall punish it with a horrible torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And how many a community revolted against the ordinance of its Lord and His messengers, and We called it to a stern account and punished it with dire punishment,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how many a city was insolent toward the command of its Lord and His messengers, so We took it to severe account and punished it with a terrible punishment.

— Saheeh International

How many a town has disobeyed its Lord and His Messenger! For them Our questioning was strict and Our punishment severe.

— Muhammad Sarwar

And how many a town which rebelled against the commandment of its Lord and His apostles, so We called it to account severely and We chastised it (with) a stern chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

And how many a city trespassed the commandment of its Lord and His apostles! Wherefore We reckoned with them a stern reckoning, and We tormented them With a torment unheard of.

— Abdul Majid Daryabadi

How many populations that insolently opposed the Command of their Lord and of His messengers, did We not then call to account,- to severe account?- and We imposed on them an exemplary Punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 65:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–11

شریعت پر چلنا ہی۔۔ روشنی کا انتخاب ہے جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول ﷺ کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول ﷺ سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا اس وقت نادم ہنے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی ؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہوجاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والوں چاہئے کہ ان جیسے نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–10

سورة الطَّلَاق 20 اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہونگے، اور اگر اطاعت کی راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

خلاصہ تفسیر اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم (ماننے) سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی سو ہم نے ان (کے اعمال) کا سخت حساب کیا (مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفر یہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا بلکہ سب پر سزا تجویز کی، یہاں حساب سے پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں) اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی (کہ عذاب کے ذریعہ ہلاک کئے گئے) غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کا رخسار ہی ہوا (یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک سخت عذاب تیار رکھا ہے (اور جب انجام نافرمانی کا یہ ہے) تو اے سمجھدار جو کہ ایمان لائے ہو تم خدا سے ڈرو (کہ ایمان بھی اس کو مقتضی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(وکاین من قریۃ عتت عن امرربھا ورسلہ فحاسبنھا حسابا شدیداوعذب تھا عذابا نکرا) (8)۔ (ایک عام تنبیہ)۔ اس آیت کا موقع و محل سمجھنے کے لیے سورة تغابن کی آیات 6۔ 8 پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ یہ ایک عام تنبیہ ہے جس کے مخاطب قریش اور سلمان سب ہیں کہ اللہ نے تمہاری رہنمائی کے لیے اپنی ہدایات نازل کردی ہیں۔ اگر تم نے ان کی قدر کی تو ان کا فائدہ تمہی کو پہنچے گا اور اگر نافرمانی کی تو یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کی ناقدری کی تو اللہ نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا۔ یہ اشارہ عاد وثمود وغیرہ کی طرف بھی ہے جن کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–10

8۔ 1 عَتَتُ ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔ 7۔ 2 نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

12: شوہر پر بیوی بچوں کو جو نفقہ واجب ہوتا ہے، وہ اس کی اپنی مالی حیثیت کے مطابق واجب ہوتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وکاین من قریة ........................ رزقا (11) (56 : 8 تا 11) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے ، اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو۔ اے صاحب عقل لوگو ، جو ایمانلائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے ، ایک ایسا رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی احکام شریعت کی (خصوصاً عورتوں کے بارے میں) پوری پابندی رکھو۔ اگر نافرمانی کرو گے تو یاد رہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ و رسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ کی جا چکی ہیں جس وقت لوگ تکبر کر کے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لیا اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا۔ پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8{ وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہٖ } ”اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں علیہ السلام سے سرکشی کی“ { فَحَاسَبْنٰـہَا حِسَابًا شَدِیْدًالا وَّعَذَّبْنٰـہَا عَذَابًا نُّکْرًا۔ } ”تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا بہت شدید محاسبہ اور ہم نے ان کو عذاب دیا بہت ہولناک عذاب۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

23 عائلی زندگی سے متعلق احکام بیان کرنے اور ہر ہر مقام پر اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی اور سرتابی کی راہ اختیار کی تھی۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتے تھے۔ تو ہم نے انہیں ان کی کرتوتوں کی ٹھیک ٹھیک سزا دے ڈالی۔ ان کا سختی سے مواخذہ کیا اور کسی کو بھی معاف نہیں کیا اور انہیں ایسی آفت میں پھنسایا جس سے وہ نکل نہ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

20۔ (اسی دنیا میں) دنیا میں کسی قوم پر عذاب آنے کے یہ معنی ہیں کہ خود وہ قوم یا اس کی تہذیب و تمدن مٹ جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

ترجمہ : اور بہت سی بستیاں (کاین) میں کاف جر ہے، جو ای پر داخل ہے کم کے معنی میں ہے، جس کے رہنے والوں نے اپنے رب کے حکم کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے آخرت میں ان کا سخت محاسبہ کیا اور سخت عذاب دیا اگرچہ آخرت کا وقوع ابھی نہیں ہوا مگر یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا گیا ہے، نکرا کاف کے سکون اور ضمہ کے ساتھ بمعنی شدید ہے، اور وہ آگ کا عذاب ہے، پس انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ لیا (یعنی ان کا انجام بھگت لیا) انجام کار ان کا خسارہ زیاں اور ہلاکت ہی ہوئی، اللہ نے ان کے لئے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے وعید کی تکرار تاکید کے لئے ہے پس اللہ سے ڈرو، اے عقلمندو اور ایمان والو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و کاین من قریۃ عتت عن ... عذابا شدیدا . ” اور بہت سی ایسی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اللہ کے پیغمبروں سے سرتابی کی۔ سو ہم نے ان کے اعمال کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو بڑی بھاری سخت سزا دی (یعنی تباہ کردیا) وَ کَاَیِّنُ مِّنْ قَرْیَۃٍ : قریہ سے مراد ہے قریہ والے یعنی قریہ میں رہنے والے مضاف محذوف ہے۔ اسی طرح بعد والے فقروں میں جو ضمیریں استعمال کی ہیں ‘ ان سے مراد بھی بستیوں والے ہیں یعنی بہت سی بستیوں کے باشندوں نے سرکشی اور اپنے رب کے حکم سے اور پیغمبروں کی ہدایت سے سرتابی کی تو ہم نے سخت محاسبہ کیا ‘ ان کے کسی عمل سے درگزر نہیں کی ‘ دنیا میں انکے اعمال کا محاسبہ کیا اور سخت سزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور بہت سی بستیوں والے ایسے تھے جنہوں نے حکم خداوندی قبول کرنے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسولوں کی بات ماننے سے اور رسول جو احکام لے کر آئے تھے ان کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ۔۔۔:”عتت“ ”عتا یعتو عتوا“ (ن) سے ماضی معلوم ہے ، اصل میں ”عتوت“ ہے۔ ”نکرا“ اجنبی ، نہ پہچانا ہوا ، جو نہ دیکھا ہو نہ سنا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے طلاق وغیرہ کے متعلق اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا، یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی ان کا انجام کیا ہوا۔ مقصد مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی اقوام کی بربادی میں شرک و کفر کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے ان تفصیلی احکام کی مخالفت بھی تھی جو زندگی کے ہر شعبے میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

وکاین من قریۃ جب احکام کا ذکر کیا تو امر کی مخالفت سے خبردار کیا اور قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نزول کا ذکر کیا۔ سورة آل عمران میں کاین کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ عتت عن امر ربھا یعنی انہوں نے نافرمانی کی۔ ذکر قریہ کا کیا مراد اس کے مکین ہیں۔ فحاسبنھا حسابا شدیدا یعنی دنیا میں ہم نے انہیں عذاب دے کر بدلہ دیا۔ و عدینھا عذابا نکرا۔ یعنی آخرت میں بھاری سزا دی۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (1) ! دنیا میں ہم نے انہیں بھوک، قحط، تلوار، زمین میں دھنسانا، صورتیں مسخ کرنا اور باقی ماندہ مصائب میں مبتلا کیا اور آخرت میں شدید ترین حساب لیا۔ نکرت مراد منکر ہے۔ اسے مخفف اور مشتل دونوں طرح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فحاسبناھا حسابا شدید سو ہم نے ان کے اعمال کا سخت محاسبہ کیا یعنی ان ہستیوں پر کوئی رحم نہیں کیا گیا آیت وعذبناہا عذابا نکرا اور ان کو بڑی بھاری سخت سزا دی یعنی بڑی اور سخت سزا۔ 2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عذبانکرا میں نکر اکو مثقلہ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ : اور کتنی ہی ہیں بستیوں میں سے ] [عَتَتْ : جنھوں نے سرکشی کی ] [عَنْ اَمْرِ رَبِهَا : اپنے رب کے حکم سے ] [وَرُسُلِهٖ : اور اس کے رسولوں سے ] [فَحَاسَبْنٰهَا : تو ہم نے حساب لیا ان سے ] [حِسَابًا شَدِيْدًا : جیسے سخت حساب لینے کا حق ہے ] [وَّعَذَّبْنٰهَا : اور ہم نے عذاب دیا ان کو ] [عَذَابًا نُّكْرًا : جیسے برا عذاب دینے کا حق ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

ہر صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے : ﴿ لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ 1ؕ﴾ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دے رکھا ہے) یعنی پیسہ والا آدمی بچہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور تنگ دست آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا 1ؕ﴾ (اور اللہ کسی جان کو اس سے زیادہ خرچ کرنے کا مکلف نہیں بناتا مگر جتنا اس کو دیا ہے) ۔ اللہ تنگی کے بعد آسانی فرما دے گا : ﴿ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

تنبیہ وتحذیر برنافرمانی رب العالمین ودرس عبرت بہ بیان ہلاکت قریہائے مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من قریۃ عتت ..... الی ...... بکل شیء علما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاشرت اور معاملات کے احکام ذکر فرمائے جارہے تھے جن میں عدل و انصاف کا حکم تھا اور عدل و انصاف قائم کرنے کی بنیاد خوف خدا ہے اس وجہ سے درمیان میں تین بار (آیت) ” ومن یتق اللہ “۔ ذکر فرمایا گیا کہ اللہ کا تقوی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اللہ کے تقوی سے دشواریاں آسانیوں سے بدل جاتی ہیں، اور اللہ کے تقوی سے انسان اپنی برائیوں سے پاک ہو کر مستحق اجر عظیم ہوتا ہے تو اب ان آیات میں میں اللہ کی نافرمانی پر وعید اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

10:۔ ” وکاین من قریۃ “ خانگی امور انتظامیہ طلاق، عدت، سکنی، نفقہ اور رضاعت کے احکام بیان کرنے کے بعد تخویف دنیوی و اخروی سنائی گئی۔ تاکہ احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں کو اپنے انجام بد کا علم ہوجائے اور نیک لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں۔ فرمایا بہت سی بستیاں ایسی تھیں جن کے باشندوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی کی اور روگدانی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت دردناک سزا دی اس طرح انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھ لیا اور انجام کار دین و دنیا کا خسارہ اٹھایا اور پھر آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لیے شدید ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ نے عورتوں کے نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ سے متعلق عائلی قوانین بتائے اور ان کی پابندی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرو ورنہ تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اب اللہ نے بطور عبرت یاد دلایا کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح نیست ونابود کیا۔ نافرمان قوموں کی تباہی : ارشا د ہوتا ہے وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا و رسلہ ، بہت سی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے تجاوز کیا ، اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے بھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فحاسبنھا حسابا شدیداً پس ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا وعذبنھا عذاباً نکرا اور ان کو سخت سزا میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰہَا حِسَابًا شَدِيْدًا۝ 0 ۙ وَّعَذَّبْنٰہَا عَذَابًا نُّكْرًا۝ 8 قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–11

ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔ تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰـھَا حِسَابًا شَدِیْدًا لا وَّعَذَّبْنٰـھَا عَذَابًا نُّـکْرًا۔ فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِھَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا خُسْرًا۔ (الطلاق : 8، 9) (اور کتنی بستیاں ایسی تھیں جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی، تو ہم نے بڑی سختی سے ان کا محاسبہ کیا، اور ہم نے انھیں نہایت ہولناک عذاب دیا۔ پس انھوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ تھا۔ ) اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرکشی ہمیشہ سخت عذاب کا باعث ہوتی ہے اب مسلمانوں سے خاص طور پر یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ دنیا میں کتنی ایسی قومیں گزری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے عائلی قوانین بیان کرتے ہوئے انہیں کئی مرتبہ حدود اللہ قرار دیا ہے اور بار بار حکم دیا ہے کہ میاں، بیوی کو حدود کے بارے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اگر دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو علیحدگی بھی اچھے انداز میں ہونی چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔ اگر لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کا انجام اپنے سامنے رکھنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرکشی اور اس کے نتائج : 8 : وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (بہت سی ایسی بستیاں ہیں) قریہ سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ اے اہل قریۃ بستیوں والے عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ (جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں سے سرتابی کی) یعنی انبیاء سے عنادو سرکشی کی بناء پر اعراض کیا۔ فَحَاسَبْنٰھَا حِسَابًا شَدِیْدًا (پس ہم نے ان کے اعمال کا سخت محاسبہ کیا) ان کا پیچھا کرکے اور پڑتال کر کے۔ وَّعَذَّبْنٰھَا عَذَابًا نُّکْرًا (اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سخت سزا دی) قراءت : مدنی اور ابوبکر نے نُکْرًا پڑھا ہے۔ بہت ہی اوپرا اور انوکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” لینفق ذوسعۃ من سعتہ “ اپنے غنا کی مقدار پر۔ ” ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ “ مال سے۔ ” لا یکلف اللہ نفسا “ نفقہ میں ” الا ما آتاھا “ جو اس کو مال دیا ہو۔ ” سیجعل اللہ بعد عسر یسرا “ سختی اور تنگی کے بعد مالداری اور وسعت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–12

8۔ 12۔ اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے ان آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو پچھلی قومیں اپنی کم عقلی اور سرکشی کے وبال میں طرح طرح کے دنیا اور عقبیٰ کے عذابوں میں گرفتار ہوگئیں ان کا حال مختصر طور پر ذکر فرما کر حال کے صاحب عقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

اللہ تبارک تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگ کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت حساب اور دردناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی ور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ) لہذا ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو۔ یعنی ایسی عقل رکھنے والو جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اس ہستی نے گزرے ہوئے زمنے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–12

قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔ قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

[ 29] انفاق میں ہر ایک کی حیثیت کا اعتبار : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، سبحان الہ۔ کیسا عمدہ ستھرا پاکیزہ اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ایک جامع اصول و ضابطہ ہے، جو کتنی کتنی جگہ کام دے سکتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے انسان کتنی الجھنوں کتنے اور کیسے کیسے جھنجٹوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے، کہ اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑھ کر نہ کوئی بوجھ اٹھائے اور نہ کسی پر کوئی بوجھ ڈالا جائے، بہرکیف اس ضمن میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ خوشحال اور کشادہ دست انسان اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، اور تنگ دسدت اپنی حیثیت کے مطابق، ہر ایک اپنے معیار کے مطابق معاملہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا علاج اور مومنو کو انعام تشریح : محمد یوسف اصلاحی صاحب نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، ظاہر ہے اللہ کا یہ فرمان صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے رہتی دنیا تک آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اسی پر ہے کہ رسول اللہ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سنت کو قرآن کے حکم کو ہر معاملے میں سند مانتا ہے یا نہیں۔ اللہ کے نزدیک اپنے دعوئے ایمان میں صرف وہی لوگ سچے اور مخلص ہیں، جو دل و جان سے قرآن و سنت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور دل کی پوری آمادگی سے اس کی اتباع کریں،۔ (شعور حیات) اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو رب ذوالجلال کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ ایسا رب جو رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–12

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ مغربی معاشرہ۔ پھرکتنی آبادیاں ایسی ہیں جنہوں نے اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کی جس کی روشن مثال مغرب کا جنسی بےراہ روی کا شکار معاشرہ ہے کہ مرد عورتو کے تعلقات کو محض شہوت رانی کے لیے ان کی پسند پہ چھوڑ دیا تو وہ دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے معاشرہ اور خاندان تباہ ہوگئے اور بےراہ روی نے عزت ووقار کے ساتھ زندگی سے سکون بھی غارت کردیا پھر آخرت میں ان کے لیے ایسے بڑے عذاب ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ، بہرحال وہ اپنے کرتوتوں کے انجام سے دوچار ہوئے اور اس بدکاری کا انجام دنیا سے کئی گنا زیادہ بھیانک اور نقصان دہ ہوگا کہ اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا۔ یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے احکام الٰہی کی پروا نہ کرتے ہوئے سرکشی اختیار کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(65:8) وکاین من قریۃ۔ واؤ عاطفہ۔ کاین بہت بکثرت۔ من تمیز بہت سی بستیاں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 3:146) عتت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ عتو (باب نصر) مصدر۔ ع ت و ، مادہ اس نے سرکشی کی۔ اس نے سرتابی کی۔ اس نے نافرمانی کی ۔ وہ سرتابی میں حد سے گزر گئی یہاں یہ مؤنث کا صیغہ جمع کے معنی میں بستیوں کے لئے آیا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وعتوا عن امررتھم۔ (7:77) اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ ربھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غالب بستیوں کے لئے ہے۔ ورسلہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای وعتت عن امر رسلہ اور اس (خدا) کے رسول کے حکم سے (بھی) سرکشی کی۔ فحاسبنھا :تعلیل کی ہے ۔ بدیں وجہ۔ حاسبنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–12

لغات القرآن۔ کاین۔ کتنے ہی۔ بہت سے۔ عتت۔ نافرمانی کی۔ سرکشی کی۔ حاسبنا۔ ہم نے حساب لیا۔ نکرا۔ برا۔ انوکھا۔ اولی الالباب۔ عقل والے۔ احسن۔ اس نے زیادہ خوبصورت کردیا۔ احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ تشریح : طلاق، عدت ، نان نفقہ، عورت کی رہائش وغیرہ کے احکامات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے یہ وہ احکامات ہیں جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ ان حقوق کے ادا کرنے میں کسی طرح کو کوتاہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اگر اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے ان سے منہ پھیرا گیا تو انہیں اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کے عبرت ناک انجام کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب اللہ نے ان قوموں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–12

نافرمانوں کا انجام۔ (ف 2) اوپر کی آیتوں میں تعمیل طلب چند احکام کا ذکر تھا ان آیتوں میں پچھلی سرکش قوموں کی ہلاکت اور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حال کے لوگوں میں سے بھی جو کوئی احکام الٰہی کی تعمیل نہ کرے گا اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلی سرکش قوموں کا ہوا، اس لیے احکام شریعت کی پوری پابندی رکھو، اگر نافرمانی کرو گے تو یادر ہے کہ کتنی ہی بستیاں اللہ ورسول کی نافرمانی کی پاداش میں تباہ ہوچکی ہیں جس وقت وہ لوگ تکبر کرکے حد سے نکل گئے ہم نے ان کا جائزہ لی اور سختی سے لیا کہ ایک عمل کو بھی معاف نہیں کیا، پھر ان کو ایسی نرالی آفت میں پھنسایا جو آنکھوں نے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

اسلامی نظام ازواج 1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) چونکہ اوپر کی آیتوں میں طلاق کے احکام اور مطلقات کے حقوق بیان فرمائے تھے اس لئے آگے تنبیہہ کے طور پر بعض ایسی بستیوں کا ذکر فرمایا جو حضرت حق تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا حکم نہ ماننے کی وجہ سے تباہ کردی گئیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور بہت بستیوں نے اپنے پروردگار کے حکم اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا اور ان کو ایسی سزا دی جو کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مطلب یہ ہے کہ تکبر کرنے وہ بستیاں حد سے نکل گئیں اور ان کے رہنے والوں نے سرکشی اور سرتابی کی راہ اختیار کی تو ہم نے سخت حساب لیا یعنی ایک گناہ بھی ان کا معاف نہیں کیا اور ایسا عذاب کیا جو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 4۔ مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفریہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا، بلکہ سب پر سزا تجویز کی اور پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی اور اپنے انجام کو پہنچ گئیں 8 ؎ کسی معاشرہ کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق اس معاشرے کے قوانین کے ساتھ ہوتا ہے اگر قوانین اچھے ہیں اور ان کی پابندی کرانے والے پابندی کرانے میں مخلص ہوں اور اس طرح پابندی کرنے والے پابندی کرنے میں بھی اخلاص اور دیانت داری سے کام لیں تو وہ معاشرہ خود بخود درست ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کے بنائے اور بتائے ہوئے قوانین کا ہے جو فی نفسہٖ بہت اچھے قوانین ہیں کیونکہ وہ اسی ذات کی طرف سے نازل کیے گئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ جتنا اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان اور قوم کی ضروریات کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Commentary فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرً‌ا (so We called them to a severe account, and punished them with an evil punishment...65:8). The severe account and evil punishment of nations mentioned in this verse refers to what will happen in the Hereafter. However, the past tense has been employed presumably to indicate the occurrence of these events is as certain as if it has already been materialised. [ Ruh ]. The other possibility is that the hisab or 'account' in this context does not refer to interrogation, but to the determination of punishment, (in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

20 Now, the Muslims are being warned of the fate the would meet I this world and in the Hereafter is they disobeyed the Commands they have been given through the Messenger of AIIah and His Book and the rewards they would receive if they adopted obedience.

Read the full tafseer →