Explained with ayahs 6–7
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گذر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے، یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ حضرت فتادہ فرماتے ہیں اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کو نہ اسے دے دے، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کرچلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لئے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ وہ ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کردیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کرلی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر طلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الطَّلَاق 16
اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ مطلّقہ کو اگر رجعی طلاق دی گئی ہو تو شوہر پر اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اور اس امر پر بہی اتفاق ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو، تو خو اہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو یا قطعی طور پرا لگ کردینے والی بہر حال اس کے وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار شو ہر ہوگا۔ اس کے بعد اختلاف اس امر میں ہوا ہے کہ آیا غیر حاملہ مطلّقہ مبتُوتہ (یعنی جسے قطعی طور پرا لگ کردینے والی طلاق دی گئی ہو) سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے ؟ یا صرف سکونت کا حق رکہتی ہے ؟ یا دونوں میں سے کسی کی بھی حق دار نہیں ہے ؟
ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →(آیت) لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰه یعنی خرچ کرے وسعت والا آدمی اپنی وسعت کے مطابق اور جس شخص پر رزق تنگ ہو وہ اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کے نفقہ میں بیوی کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ شوہر کی حالت کے مطباق نفقہ دینا واجب ہوگا۔ اگر شوہر مالدار ہے تو امیرانہ نفقہ دینا واجب ہے اگرچہ بیوی مالدار نہ ہو بلکہ تندگست فقیر ہو، اور اگر شوہر غریب ہے تو تو غریبانہ نفقہ اس کے مقدور کے مطابق واجب ہوگا اگرچہ بیوی مالدار ہو۔ امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے بعض دوسرے فقہاء کے اقوال اس کے خلاف…
Read the full tafseer →(لینفق ذوسعۃ من سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا سیجعل اللہ بعدی عسر یسرا) (7)۔
(خرچ کا معیار)۔ یہ خرچ کا معیار بتا دیا کہ کشادہ حال کو اپنی کشادہ حالی کے معیار پر خرچ کرنا پڑے گا اور تنگ حال کو اپنی آمدنی کے مطابق۔ نہ کشادہ حال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے معیار زندگی سے ان کو فرد تر حال میں رکھے اور نہ غریب پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر ذمہ داری اس کی حیثیت کے اعتبار سے ڈالی ہے۔
(غریبوں کو اطمینان دہانی)۔ (سیجعل اللہ بعد عسر یسرا) یہ غریبوں کو برسر موقع تسلی دی ہے کہ اگر وہ اپنی حالت پر قانع و صابر اور تنگ حالی کے…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال ودولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعۃ کی خدمت ضروری ہے۔
7۔ 2 یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہو۔
7۔ 3 اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایات کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ) 2۔ البقرۃ :233) نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
12: شوہر پر بیوی بچوں کو جو نفقہ واجب ہوتا ہے، وہ اس کی اپنی مالی حیثیت کے مطابق واجب ہوتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد نفقہ کے اصول کا تعین کردیا جاتا ہے۔ اسمیں ایک دوسرے کو سہولت دینا ہے ، تعاون اور عدل و احسان سے کام لینا ہے۔ اس میں سختی اور ہٹ دھرمی جائز نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے وسعت دی ہے تو وہ وسعت کے مطابق خرچ کرے ، سکونت اور معیشت دونوں میں اور رضاعت کی اجرت میں اور جس کی مالی حالت اچھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے کہ اس سے محدود اجرت لی جائے۔ کیونکہ اللہ کسی سے اسی قدر مطالبہ کرتا ہے جس قدر اسے اللہ نے دیا ہے اور کوئی شخص بھی اپنے مال وسائل سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ دولت تو وہی ہے جو اللہ کسی کو دیتا ہے۔
لایکلف ............................ ما اتھا (56 : 7) ” اللہ نے جس کو جتنا دیا…
Read the full tafseer →6 یعنی بچہ کی تربیت کا خرچ باپ پر ہے۔ وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق اور کم حیثیت کو اپنی حیثیت کے مناسب خرچ کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو زیادہ فراخی نصیب نہ ہو محض نپی تلی روزی اللہ نے دی ہو، وہ اسی میں سے اپنی گنجائش کے موافق خرچ کیا کرے۔ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جب تنگی کی حالت میں اس کے حکم کے موافق خرچ کرو گے، وہ تنگی کو فراخی اور آسانی سے بدل دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 7{ لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ } ”چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق۔“
{ وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّـآ اٰتٰـٹہُ اللّٰہُ } ”اور جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہے وہ خرچ کرے اس میں سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔“
{ لَا یُـکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَـآ اٰتٰٹہَاط } ”اللہ کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جو اس نے اسے دے رکھا ہے۔“
یعنی عدت کے دوران مطلقہ کی رہائش ‘ حمل کے دوران اس کا نان نفقہ ‘ رضاعت کی اجرت وغیرہ کے معیار کا انحصار مرد کی مالی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر کشادگی ہے تو مطلقہ پر بھی اسے اسی انداز سے خرچ کرنا چاہیے اور…
Read the full tafseer →22 اس آیت میں دوبارہ اس سلسلہ میں فیاضی سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہر باپ اپنی مقدور کے مطابق ماں کو دودھ پلانے کی اجرت ادا کرے۔ خواہ وہ مالدار ہے یا تنگدست اور اگر تنگدست ہے تو بھی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دینے میں بخل سے کام نہ لے۔ اگر وہ بخل سے کام نہ لے گا تو اللہ اس کی تنگی کو دور فرما دے گا۔ اور اس کے لیے رزق کی راہیں کھول دے گا۔
Read the full tafseer →19۔ اولاد پر خرچ کرنا بہت مرتبہ انسان کو اپنے حب مال کی بناء پر گراں گزرتا ہے یہاں تک کہ بعض جاہلی اور ” مہذب قوموں “ نے اولاد پر خرچ کرنے کے مقابلہ میں اولاد کو قتل کر ڈالنا تک گوارا کرلیا ہے ، (آیت) ” ولاتقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “۔ قرآن مجید اس شجر خبیث کی جڑ بار بار کاٹتا ہے۔ (آیت) ” لینفق ..... اللہ “۔ یعنی جو امیر ہیں وہ اپنی امارت کے لائق، اور جو غریب ہیں وہ اپنی بساط کے موافق، اولاد کی رضاعت وپرورش پر خرچ کرنے سے دریغ نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →لینفق ذوسعۃ من سعنہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا سیجعل اللہ بعد عسر یسرا .
وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق (بچہ پر) خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے (بیوی ‘ بچہ پر) خرچ کرے۔ خدائے تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے ‘ اللہ جلدی تنگی کے بعد فراغت بھی دے دے گا۔ “
مِّنْ سَعَتِہٖ : یعنی اپنی وسعت کے موافق۔
مسئلہ غیر مطلقہ بیبیوں کا اور مطلقہ کا نفقہ (اور عدت کا خرچ) کتنا ہونا چاہیے ؟ کیا شرعاً اس کی کوئی مقدار معین ہے یا اس کی کمی بیشی زوجین کے حال پر موقوف ہے یا صرف مرد کی…
Read the full tafseer →وسعت والے باپ کو اپنی وسعت کے مطابق بطہ پر خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اس کو جتنا اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے رضاعت وغیرہ کے نفقہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا کہ اس کو دیا ہے اللہ تعالیٰ اس نفقہ میں تنگی کے بعد فراغت بھی دے دے گا تنگ دست کو اللہ کے دینے پر نظر رکھنی چاہیے۔
Read the full tafseer →1۔ لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ نفقہ میں بیوی کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ خاوند کی حالت کے مطابق نفقہ واجب ہوگا۔ اگر خاوند وسعت والا اور مال دار ہے تو اس کے مطابق خرچ کرے گا اور اگر وہ تنگدست ہے تو اللہ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس میں سے اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرے۔
2۔ سَیَجْعَلُ اللہ ُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا : اس میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو خاوند حسب مقدور وہ خرچے پورے کرتے ہیں جو انکے ذمے ہیں اور ان میں بخل نہیں کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی کو کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا فرما دے گا۔”سیجعل“ میں ”سین“ استقبال کے علاوہ تاکید کا…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
نفقہ میں وسعت کا خیال رکھنا
مسئلہ نمبر 1 ۔ لینفق یعنی خاوند اپنی بیوی اور چھوٹی اولاد پر اپنی وسعت کے مطابق یہاں تک کہ جب اس کے پاس فراوانی ہو تو ان پر وافر خرچ کرے۔ جو آدمی فقیر ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ نفقہ کا اندازہ لگایا جائے گا جیسی خرچ کرنے والے کی حالت ہوگی اور جس قدر اس بیوی اور بچے کی ضرورت ہوگی ان کی زندگی کے معمول کے مطابق قیاس کرلیا جائے گا۔ مفتی بیوی اور بچے کی ضرورت کو ملاحظہ کرے گا، پھر خاوند اور والد کی حالت کو دیکھے گا، اگر اس کی حالت اسے برداشت کرتی ہو تو وہ اسے نافذ کر دے گا۔ اگر خرچ کرنے والے کی حالت جس پر خرچ کیا جانا ہے، اس کی حاجت سے کم…
Read the full tafseer →10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لینفق ذو سعۃ من سعتہ، ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ۔ وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق اپنے بچہ پر خرچ کرنچاہیے۔ اور جس کی آمدنی کم ہو تو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا دیا ہے اس میں سے بیوی بچہ پر خرچ کرے الایۃ۔ علی ؓ نے فرمایا کہ مطلقہ عورت کے لیے نفقہ ہوگا جب وہ بچے کو دودھ پلائے۔
11۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن قدر علیہ رزقہ اور جس کے رزق کی تنگی کی گئی۔ یعنی آدمی جس پر رزق تنگ کردیا گیا آیت فلینق مما تہ اللہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے بیوی بچوں پر خرچ کرے۔ یعنی جتنا اللہ نے اس کو دیا ہے آیت لایکلف اللہ…
Read the full tafseer →[لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ : چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا ] [مِّنْ سَعَتِهٖ : اپنی وسعت میں سے ] [وَمَنْ : اور وہ ] [قُدِرَ عَلَيْهِ : کیا گیا جس پر ] [رِزْقُهٗ : اس کے رزق کو ] [فَلْيُنْفِقْ مِمَآ : تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو ] [اٰتٰىهُ اللّٰهُ : دیا اس کو اللہ نے ] [لَا يُكَلِفُ اللّٰهُ نَفْسًا : ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ کسی جان پر ] [اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا : سوائے اس کے جو اس نے دیا اس کو ] [سَيَجْعَلُ اللّٰهُ : بنا دے گا اللہ ] [بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا : تنگی کے بعد آسانی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ہر صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے :
﴿ لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ 1ؕ﴾ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ ﴿ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور جس کے رزق میں تنگی ہو تو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دے رکھا ہے) یعنی پیسہ والا آدمی بچہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور تنگ دست آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔
﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا 1ؕ﴾ (اور اللہ کسی جان کو اس سے زیادہ خرچ کرنے کا مکلف نہیں بناتا مگر جتنا اس کو دیا ہے) ۔
اللہ تنگی کے بعد آسانی فرما دے گا :
﴿ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ذکر احکام بعض مطلقات مع بیان حق سکنی ونفقہ ومسئلہ رضاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والی ٓ ء یئسن من المحیض ...... الی ..... سیجعل اللہ بعد عسریسرا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں طلاق کی عدت اور طلاق واقع کرنے کے بعض احکام بیان فرمائے گئے تھے اور ان امور میں اللہ کے تقوی اور حدود شریعت کی پابندی کے لئے تاکید فرمائی گئی تھی اب ان آیات میں بعض مطلقہ عورتوں کے خصوصی احکام اور ان کے حقوق کا بیان ہے بالخصوص وہ مطلقہ عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا وہ حاملہ ہوں ان کی عدت اور متعلقہ احکام اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے، فرمایا۔
اور جو عورتیں ناامید ہوچکی ہوں حیض سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تم کسی قسم کا شبہ کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8:۔ ” اسکنوھن “ معتدہ کے لیے انقضاء عدت تک رہائش کا انتظام خاوند کے ذمہ ہے۔ خاوند اپنی مالی حیثیت کے مطابق رہائش کا انتظام کرے اور اس پر لازم ہے کہ اسے تنگ نہ کرے اور تکلیف نہ دے تاکہ وہ مکان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ معتدہ رجعیہ ہو یا بائنہ اس کا نفقہ بھی خاوند کے ذمہ اور سکنی بھی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ثوری رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ” وان کن اولات حمل “ اگر معتدہ حامل ہو تو اسے خرچ بھی دو ۔ شرط کا مفہوم مخالف حتجت نہیں۔ اس کے علاوہ شرط کا فائدہ یہ ہے کہ وہم ہوسکتا تھا کہ حاملہ کے لیے نفقہ نہ ہو، کیونکہ بعض اوقات مدت حمل بہت طویل ہوتی ہے، تو حاملہ کے لیے نفقہ ثابت ہوگیا تو غیر حاملہ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
پہلے مطلقہ عورتوں کی قسمیں اور ان کی مختلف عدت کا بیان ہوا کیونکہ مطلقہ عورتوں کے لئے نکاح ثانی سے پہلے مقررہ عدت گزارنا ضروری ہے۔ اس میں اللہ نے بہت سی مصلحتیں رکھی ہیں ۔ اس میں نکاح کا حق بھی ہے اور نسب کا بھی ، نیز اس میں اولاد کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ چناچہ بعض عورتوں کی عدت تین حیض ہے اور بعض کی تین ماہ البتہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ بیوہ ہونے والی عورت اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی ورنہ چار ماہ اور دس دن پورے کرنا ہوں گے۔ اگر نکاح کے بعد عورت سے مقاربت نہیں ہوئی اور طلاق واقع ہوگئی ہے تو ایسی عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جب چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔
دوران…
Read the full tafseer →لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ 0 ۭ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْہِ رِزْقُہٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىہُ اللہُ 0 ۭ لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰىہَا 0 ۭ سَيَجْعَلُ اللہُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا 7 ۧ
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔
تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّـقُوْا عَلَیْھِنَّ ط وَاِنْ کُنَّ اُوْلاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ج فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ج وَاْتَمِرُوْا بَیْنَـکُمْ بِمَعْرُوْفٍ ج وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَـہٗٓ اُخْرٰی۔ لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَمَنْ قُدِرَعَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّـآ اٰ تٰـہُ اللّٰہُ ط لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ مَـآ اٰ تٰـھَا ط سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۔ (الطلاق : 6، 7)
(اور انھیں سکونت دو جہاں تم رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : مطلقہ اور بیوہ عورت کی عدت کے دوران نان نفقہ کی ذمہ داری کا ذکر۔
اسی سورت کی پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو عدّت کے دوران ان کے گھروں سے نکالنا جائز نہیں جو شخص بلاوجہ انہیں ان کے گھروں سے نکالے گا وہ اللہ کی حدود کو توڑنے کی وجہ سے ظالم ٹھہرے گا۔ اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کی عدت کے دوران ان کے خاوند اپنے پاس رکھیں اور انہیں پریشان کرنے کے لیے کسی قسم کی تکلیف نہ دیں۔ اگر وہ حمل سے ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ان کے اخراجات اٹھانا ان کے خاوندوں کی ذمہ داری ہوگی اگر وہ تمہارے کہنے سے اپنے بچے کو دودھ پلائیں تو پھر انہیں نان ونفقہ…
Read the full tafseer →خرچہ خشیت کے مطابق :
7 : لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰـہُ اللّٰہُ ( وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو۔ اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا اس کو دیا ہے۔ اس میں سے خرچ کرے) تنگ دست وسعت والا ہر ایک اپنی حیثیت کا لحاظ کر کے خرچ کریں اور اس خرچ سے مراد وہ نفعات واجبہ ہیں جو مطلقات و مرضعات کو دینے کا شرع نے حکم دیا ہے۔ قدر علیہ ؔ رزقہ تنگی والا ہونا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو خوراک کی حد تک دیا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰھَا ( اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 ۔” اسکنوھن “ یعنی اپنی طلاق شدہ بیویوں کو۔ ” من حیث سکنتم “ من صلہ ہے یعنی ان کو وہاں رہائش دو جہاں تم رہائش رکھتے ہو۔ ” من وجدکم “ تمہاری گنجائش و طاقت کے مطابق۔ یعنی اگر مال دار ہو تو اس پر خرچ اور رہائش میں وسعت دو اور اگر فقیر ہو تو اس کی طاقت کے مطابق۔ ” ولا تضاروھن “ تم ان کو تکلیف نہ دو ۔” لتضیقوا علیھن “ اس کے مساکن کو کہ وہ نکل جائیں۔” وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن “ پس وہ اپنی عدت سے نکل جائیں۔
معتدہ رجعیہ کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے
رجعی عدت گزارنے والی خاوند پر خرچ اور رہائش کا حق رکھتی ہے جب تک عدت میں ہو اور سکنی سے ہماری مراد رہائش کا خرچ ہے۔ پس اگر وہ گھر جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 7۔ جس طلاق میں عدت کے اندر خاوند پھر اپنی بی بی کو بغیر نکاح جدید کے رکھ سکے اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں اور طلاق بائن کی صورت میں یا اگر تین طلاق پوری ہوگئیں اور بغیر کسی دوسرے اجنبی شخص کے نکاح کرنے کے یہ طلاق دینے والا پہلا خاوند اس عورت کو نہیں رکھ سکتا تو ان دونوں کو قطعی کہتے ہیں طلاق رجعی کی عدت میں طلاق والی عورت کو نان و نفقہ رہنے کا مکان دینے پر سلف کا اتفاق ہے مگر طلاق قطعی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اب تک اختلاف چلا آتا ہے کہ عدت کے زمانے میں طلاق والی عورت کو کھانا اور رہنے کا مکان دینا جو خاوند کے ذمہ ہے وہ فقط طلاق رجعی میں ہے یا طلاق رجعی اور قطعی دونوں میں ہے اس اختلاف کے…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نان نفقہ مقرر فرمایا ہے چناچہ فرمایا (لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ ) وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے وہ اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقرا خرچ کرتے ہیں ( وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ ) اور جسے کا اس کا رزق نپا تلے ملے۔ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ( فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ ۭ ) تو وہ اسی رزق میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اس کو عطا کیا ہے۔ ( لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا ۭ ) اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
قول باری ہے (لینفق ذوسعۃ من سعتہ، خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے) آیت کی اس بات پر دلالت ہے کہ شوہر پر نفقہ اس کی مالی حیثیت اور گنجائش کے مطابق فرض ہوگا۔ نیز یہ کہ تنگدست پر فرض ہونے والا نفقہ خوشحال پر فرض ہونے والے نفقہ سے کم ہوگا۔
قول باری ہے (ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ جس شخص کو رزق میں تنگی ملی ہو وہ اس مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ یعنی…واللہ اعلم…وہ اس حالت میں خوشحال آدمی جیسا نفقہ دینے کا مکلف نہیں ہے بلکہ اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[ 29] انفاق میں ہر ایک کی حیثیت کا اعتبار : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، سبحان الہ۔ کیسا عمدہ ستھرا پاکیزہ اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ایک جامع اصول و ضابطہ ہے، جو کتنی کتنی جگہ کام دے سکتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے انسان کتنی الجھنوں کتنے اور کیسے کیسے جھنجٹوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے، کہ اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑھ کر نہ کوئی بوجھ اٹھائے اور نہ کسی پر کوئی بوجھ ڈالا جائے، بہرکیف اس ضمن میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ خوشحال اور کشادہ دست انسان اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے، اور تنگ دسدت اپنی حیثیت کے مطابق، ہر ایک اپنے معیار کے مطابق معاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
غصے میں بھی حسن سلوک کا خیال رکھو
تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی پاکیزگی، حسن سلوک عورت مرد اور بچے، یعنی خاندان کی بہتری اور سکون کے لیے بہترین حدود بتا دی گئی ہیں۔ جو بتا رہی ہیں کہ شریعت اسلامیہ انسان کی ہدایت و رہنمائی کا کیسا کامل ضابطہ حیات ہے۔ شریعت اسلامیہ۔ کتاب و سنت پر مبنی ہے جو ہر ہر لحاظ سے ہر بندے کے لیے تمام مشکلات کا بہترین اور آسان حل دیتا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں عورت مرد بچے، یعنی خاندان کی حفاظت اور بہتری کے لیے اتنے آسان جامع اور خوبصورت اعتدال پر مبنی قانون وضع نہیں کیے جیسے قرآن پاک اور سنت رسول نے ہمیں دیے ہیں۔ عورت کو اس کا صحیح مقام دیا ہے تاکہ وہ پوری خوشی روا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →ف 7 اگر اختلاف ہو تو قاضی اسلامی عدالت اس کا فیصلہ کر دے گا کہ خاوند کی آمدنی اور حیثیت کے لحاظ سے دودھ پلانے کا کیا خرچ دلایا جائے ؟ (وحیدی)8 اگر اختلاف ہو تو قاضی (اسلامی عدالت) اس کا فیصلہ کر دے گا کہ خاوند کی آمدنی اور حیثیت کے لحاظ سے دودھ پلانے کا کیا خرچہ دلایا جائے ؟ (وحیدی)9 یہ اللہ تعالیٰ کی طر سے وعدہ ہے کہ جو شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے گا اسے تنگی کے بعد فراغت نصیب ہوگی۔
Read the full tafseer →(65:7) لینفق۔ فعل امر واحد مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ چاہیے کہ وہ ایک مرد خرچ کرے۔
ذوسعۃ۔ مضاف مجاف الیہ۔ صاحب وسعت۔ صاحب طاقت، صاحب مال ۔ خوش حال۔
من سعتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی وسعت ، اس کی طاقت ، من حرف جار سعتہ مجرور۔ اپنی وسعت کے مطابق۔ اپنی گنجائش کے مطابق۔ ترجمہ ہوگا :۔ چاہیے کہ خرچ کرے صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق۔ (یعنی اگر وہ صاحب مال ہے تو اسے کھلے دل سے بچے پر خرچ کرنا چاہیے۔
ومن قدر علیہ رزقہ۔ اور جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا۔ جملہ شرط ہے ۔ قدر علی (اللہ کا کسی پر) رزق تنگ کرنا۔ قدر (باب ضرب و نصر) مصدر۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واما اذا ما ابتلہفقدر علیہ رزقہ (89:16) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی بچہ کی تربیت کا خرچ باپ پر ہے مقدور والے کو اپنے مقدور کے مناسب خرچ کرنا چاہیے، اگر کسی شخص کو زیادہ فراخی نصیب نہ ہو محض نپی تلی روزی اللہ نے دی ہو وہ اسی میں سے اپنی گنجائش کے موافق خرچ کیا کرے ، اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جب تنگی کی حالت میں اس کے حکم کے موافق خرچ کرو گے وہ تنگی اور سختی کو فراخی اور آسانی سے بدل دے گا انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(7) صاحب وسعت اور صاحب کشائش کو اپنی وسعت و کشائش کے موافق خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کی روزی تنگ کی گئی ہو اور اس کو نپی تلی روزی ملتی ہو تو اللہ نے جو کچھ اس کو دیا ہے اس کو اس میں سے اپنی گنجائش کے موافق خرچ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنا اس کو دیا ہے تنگدستی کے بعد عنقریب اللہ تعالیٰ کچھ آسانی پیدا کردے گا۔
معنی ظاہر ہیں کہ دولت مند اپنی دولت کے موافق نان نفقہ اور بچے کی دودھ پلائی وغیرہ خرچ کرے اور جو تنگدست ہو تو وہ اپنی بساط میں سے خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر کسی کو دیا ہے اسی قدر اس کو مکلف بھی بنایا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2۔ یعنی عدت میں سکنی بھی مطلقہ کا واجب ہے، البتہ طلاق بائن میں ایک مکان میں خلوت کے ساتھ دونوں کا رہنا جائز نہیں بلکہ حائل ہونا ضرور ہے۔
3۔ یعنی نہ تو عورت اس قدر زیادہ مانگے کہ مرد کو دوسری انا ڈھونڈنی پڑے اور نہ مرد اس قدر کم دینا چاہئے کہ عورت کا کام نہ چل سکے بلکہ حتی الامکان دونوں اس کا خیال رکھیں کہ ماں ہی دودھ پلاوے کہ بچہ کی اس میں زیادہ مصلحت ہے۔
Read the full tafseer →یہ خرچ کرنا صاحب وسعت اور صاحب تنگی دونوں کی حالت کے پیش نظر مناسب ہوگا
7 ؎ معاشرہ کے اندر تمام لوگ ایک جیسے حالات نہیں رکھتے بعض کو اللہ نے بہت مال دیا ہوتا ہے اور وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ بھی کرتے ہیں اور بعض تنگ دست ہوتے ہیں ان کی گھریلو گزر بسر میں اتنی وسعت نہیں ہوتی اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہئے اور جس کے رزق میں تنگی ہو اس کو چاہیے کہ جتنا اس کو اللہ نے دیا ہے اس میں سے اپنی حیثیت کے مطابق بچہ کی نگہداشت پر خرچ کرے “ یہ بات بطور نصیحت کی جا رہی ہے اور اس نصیحت کے مطابق قاضی یا جج کو حق ہے کہ اگر فیصلہ اس کے پاس چلا جائے تو وہ اس بات…
Read the full tafseer →Rule [ 15]: Quantum of Divorcee's Maintenance
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ (A man of vast means should spend according to his vast means. And anyone whose sustenance is limited should spend from whatever Allah has given to him...65:7) In other words, in determining the quantum of the divorced wife's maintenance the financial position of the husband will be taken into account. If the husband is wealthy, he should spend on his divorcee according to his affluence; and if he is indigent, he should spend according to his…
Read the full tafseer →17 There is complete consensus that whether the woman has been divorced revocably or irrevocably, her husband is responsible for her lodging and maintenance till child-birth if she is pregnant. However, a difference of opinion has arisen in case the husband of the pregnant woman may have died, irrespective of whether he may have died alter pronouncing the divorce, or May not have pronounced any divorce and the woman may have been widowed during pregnancy this regard, the jurists have expressed the following views:
(1) Hadrat 'Ali and Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud hold that she has an obligatory…
Read the full tafseer →