Explained with ayahs 6–7
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گذر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے، یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ حضرت فتادہ فرماتے ہیں اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کو نہ اسے دے دے، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کرچلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لئے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ وہ ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کردیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کرلی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر طلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الطَّلَاق 16
اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ مطلّقہ کو اگر رجعی طلاق دی گئی ہو تو شوہر پر اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اور اس امر پر بہی اتفاق ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو، تو خو اہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو یا قطعی طور پرا لگ کردینے والی بہر حال اس کے وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار شو ہر ہوگا۔ اس کے بعد اختلاف اس امر میں ہوا ہے کہ آیا غیر حاملہ مطلّقہ مبتُوتہ (یعنی جسے قطعی طور پرا لگ کردینے والی طلاق دی گئی ہو) سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے ؟ یا صرف سکونت کا حق رکہتی ہے ؟ یا دونوں میں سے کسی کی بھی حق دار نہیں ہے ؟
ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →آگے پھر مطلقہ عورتوں کی عدت اور ان کے نفقہ کا بیان اور عام عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید ہے اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ اس آیت کا تعلق اس پہلے حکم سے ہے جو اوپر آ چکا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ اس آیت میں اس کا ایجابی پہلو ذکر کیا گیا کہ ان کو عدت پوری ہونے تک اپنی وسعت وقدرت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم خود رہتے ہو اسی مکان کے کسی حصہ میں رکھو۔ اگر مطلقہ بطلاق رجعی ہے جب تو باہم کسی پردہ کی بھی ضرورت نہیں، ہاں اگر طلاق بائن دی ہے یا تین طلاق دے دی ہیں تو اب رشتہ نکاح ٹوٹ چکا ہے اس کو…
Read the full tafseer →(اسکنر من من حیث سکنتم من وجد کم ولا تضاروھن لتضقوا علیھن وان کن اولت حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن عملھن فان ارضعن لکر فاتوھن اجورھن واتمروا بینکم بمعروف وان تعا سرتو فسترضع لہ اخری) (6)۔
(زمانہ عدت میں عورتوں کے ساتھ رکھنے کا طریقہ)۔ فرمایا کہ زمانہ عدت میں ان عورتوں کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے ان کی خودداری مجروح ہو بلکہ تمہاری آمدنی کے لحاظ سے رہائش کا جو معیار تمہارا ہو وہی معیار رہائش ان کے لیے بھی مہیا کرو اور اس دوران میں کسی پہلو سے ان کو تنگ کرنے کی تدبیریں نہ اختیار کرو کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبورہو جائیں۔ (وجد) کے معنی یافت کے…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی مطلقہ رجعیہ کو۔ اس لیے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے تو رہائش اور نفقہ ضروری ہی نہیں۔ اپنی طاقت کے مطابق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مکان فراخ ہو اور اس میں متعدد کمرے ہوں تو ایک کمرہ اس کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ بصورت دیگر اپنا کمرہ اس کے لیے خالی کردے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ قریب رہ کر عدت گزارے گی تو شاید خاوند کا دل پسیج جائے اور رجوع کرنے کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہوجائے خاص طور پر اگر بچے بھی ہوں تو پھر رغبت اور رجوع کا قوی امکان ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے اس حکم کے فوائد سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے ساتھ ہی جس طرح عورت کو فوراً چھوت…
Read the full tafseer →9: مرد کو یہ نہ سوچنا چاہیے کہ اب بیوی کو رخصت کرنا ہی ہے، اس لئے اسے ستاکر رخصت کروں، اس کے بجائے اس کے گھر میں رہنے کے دوران اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے، اور اسی آیت سے حنفی حضرات نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ مطلقہ چاہے رجعی ہو یا بائنہ عدت کے دوران اس کا نفقہ شوہر کے ذمے واجب ہے کیونکہ نفقہ نہ دینا ستانے کا ہی ایک طریقہ ہے، جس سے اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے۔
10: عام حالت میں تو عدت تین مہینے کے قریب قریب پوری ہوجاتی ہے ؛ لیکن چونکہ حمل کی مدت اس سے لمبی بھی ہوسکتی ہے، اس لئے اس حالت کا خاص طور پر ذکر فرما کر حکم دیا گیا ہے کہ نفقہ بچے کی پیدائش تک جاری رہے گا، چاہے اس میں کتنی دیر…
Read the full tafseer →اسکنوھن من ....................................
یہ آخری بیان ہے جس میں گھروں میں رہائش کے مسئلے کو لیا گیا ہے اور عدت کے دوران نفقہ کے مسئلہ کو لیا گیا ہے جو بھی عدت کی مدت قرار پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس قسم کی رہائش بھی ہو ، خاوند کو چاہئے کہ وہ بیوی کو فراہم کرے۔ جس طرح کی رہائش میں وہ خود رہتا ہے اور جس قدر وہ اپنی مالی پوزیشن کے مطابق فراہم کرسکتا ہے ۔ باہم برتاﺅ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو۔ نہ مکان میں تنگی کی جائے ، نہ عزت میں کمی کی جائے ، اور نہ دوسرے معاملات میں مثلاً گفتگو وغیرہ میں۔ حاملہ عورتوں کے نفقے کو مخصوص طور پر ذکر کیا گیا حالانکہ ہر قسم کی عدت گزارنے والی عورتوں کے لئے…
Read the full tafseer →1 مرد کے ذمہ ضروری ہے کہ مطلقہ کو عدت تک رہنے کے لیے مکان دے (اس کو سکنیٰ کہتے ہیں) اور جب سکنیٰ واجب ہے تو نفقہ بھی اس کے ذمہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ عورت اتنے دنوں تک اسی کی وجہ سے مکان میں مقید و محبوس رہے گی۔ قرآن کریم کے الفاظ (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ) 65 ۔ الطلاق :6) میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، کہ اس کو اپنے مقدور اور حیثیت کے موافق اپنے گھر میں رکھو۔ ظاہر ہے کہ مقدور کے موافق رکھنا اس کو بھی متضمن ہے کہ اس کے کھانے کپڑے کا مناسب بندوبست کرے۔ چناچہ مصحف ابن مسعود میں یہ آیت اس طرح تھی۔…
Read the full tafseer →آیت 6{ اَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ } ”اور ان عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق“
پہلی آیت میں واضح حکم آچکا ہے : { لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْم بُـیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ } کہ طلاق کے بعد انہیں فوری طور پر گھر سے مت نکالو اور نہ ہی وہ از خود نکلیں۔ اسی حوالے سے اس آیت میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ عدت کے دوران مطلقہ خاتون کو بدستور ویسی ہی رہائش فراہم کی جائے جیسی کہ تمہارے اپنے استعمال میں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اسے گھر سے تو نہ نکالو لیکن کسی ملازمہ کی کو ٹھڑی میں ڈال دو۔
{ وَلَا تُضَآرُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنَّ } ”اور انہیں کوئی…
Read the full tafseer →18 عدت کے دوران رہائش اور نان ونقہ خاوند کے ذمہ ہے :۔ مطلقہ عورت کی عدت کے دوران اس کی رہائش اور اس کی خوراک و پوشاک کا سارا خرچ طلاق دینے والے مرد کے ذمہ ہے۔ اس قطعی اصل سے استثناء کی ایک مثال دور نبوی میں ملتی ہے۔ وہ قصہ یہ تھا کہ فاطمہ بنت قیس کے خاوند عمرو بن حفص نے جب اپنی بیوی کو تیسری طلاق دی تو اس وقت وہ خود شام کے علاقے میں تھے۔ فاطمہ بنت قیس آپ کے پاس آئی اور انہیں یہ معاملہ بتایا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی عدت ام شریک کے گھر میں گزارے، پھر فرمایا : یہ عورت (ام شریک) ایسی ہے جس کے ہاں میرے صحابہ اکثر آتے جاتے ہیں لہذا تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو۔ کیونکہ وہ اندھا آدمی ہے تو…
Read the full tafseer →15۔ مثلا کوئی ایسی بات کرنا کہ وہ پریشان ہو کر گھر چھوڑ دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ عزم افتراق، بلکہ خود افتراق کے بھی معا بعد شریعت کا حکم ہے کہ عدت بھر سابق بیوی کا اعزاز واکرام برقرار رکھا جائے ،۔ (آیت) ” اسکنوھن “ یعنی ان مطلقہ بیویوں کو زمانہ عدت بھررہنے کا مکان دو ، عام اس سے کہ طلاق رجعی یا بائن ہوچکی ہو۔ وجب ذلک للجمیع من البائن والرجعی (جصاص) (آیت) ” من حیث سکنتم من وجدکم “۔ مطلقہ کی سکونت کا مکان (عدت بھر کے لیے) شوہر کی حیثیت و مرتبہ کے لائق ہونا چاہیے۔
16۔ (خواہ وہ وضع حمل تین مہینہ کے اندر ہی ہوجائے، یا اس سے بہت زیادہ مدت لے) عام مطلقہ بیوی اگر حاملہ ہے تو اس میعاد عدت وہی وضع حمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن .
” تم ان (مطلقہ) عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو ‘ جہاں تم رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کیلئے (اسکے بارے میں) تکلیف مت پہنچاؤ اور اگر وہ (مطلقہ) عورتیں حمل والیاں ہوں تو وضع حمل تک ان کو (کھانے ‘ پینے کا) خرچ دو ۔ “
اَسْکِنُوْھُنَّ : اس جملہ کا ربط لا تخرجوھن سے ہے۔ ھن کی ضمیر مطلقہ عورتوں کی طرف راجع ہے ‘ جن کا ذکر شروع سورت میں آیا ہے۔ مطلقات رجعیہ ہوں یا بائنہ ‘ آزاد ہوں یا باندیاں ‘ نابالغ ہوں یا جوان یا سن ایاس کو پہنچی ہوئی۔ سب کے لیے یہی حکم ہے۔
مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ : من…
Read the full tafseer →پھر سابقہ بیان کی طرف اللہ تعالیٰ رجوع فرماتے ہیں کہ ان مطلقہ عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق نان نفقہ اور رہائش دو اور ان کو تنگ کرنے کے لیے نان نفقہ اور رہائش کے بارے میں تکلیف مت پہنچاؤ۔
اور اگر وہ مطلقہ عورتیں حمل والیاں ہیں تو وضع حمل تک خاوند ان کو کھانے پینے کا خرچ دیں اور اگر وہ مائیں تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو اس پر ان کو مقررہ اجرت دو اور میاں بیوی باہم ارضاع کے نفقہ پر مشورہ کرلیا کریں نہ بالکل اسراف ہی کریں اور نہ بالکل ہی کمی کردیں اور اگر نفقہ میں کشمکش ہو اور ماں بچہ کو دودھ پلانے پر راضی نہ ہو تو اجرت پر بچہ کو کسی اور سے دودھ پلوا دو۔
Read the full tafseer →1۔ اَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ : اس میں ان عورتوں کا حکم بیان فرمایا ہے جنہیں پہلی یا دوسری طلاق دی گئی ہو۔ پہلے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ عدت پوری ہونے تک انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں ، اب اسی کی تفصیل ہے۔”من حیث سکنتم“ میں ”من“ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی جہاں تم رہتے ہو اس کے کسی حصے میں انہیں بھی رہنے کے لیے جگہ دو۔”من وجدکم“ اپنی وسعت کے مطابق ، یعنی مکان ذاتی ہے یا کرائے کا یا خیمہ وغیرہ ہے، جہاں رہتے ہو وہیں انہیں رکھو۔ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بیان فرمایا ہے کہ اتنی مدت ایک جگہ رہنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ دوبارہ…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
عدت کے دوران عورت کی رہائش، نفقہ اور کسوہ کے احکام
مسئلہ نمبر 1 ۔ اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے : وہ خاوند خود وہاں سے نکل جائے اور اسے اس گھر میں چھوڑ دے (1) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اسکنوھن اگر مرد نے اس کے ساتھ رہنا ہوتا تو یہ ارشاد نہ فرماتا۔ اسکنوھن ابن نافع نے کہا : امام مالک نے اللہ تعالیٰ کے فرمان اسکنوھن من حیث سکنتم کے بارے میں کہا : مراد وہ مطلقہ عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے جدا ہوگئیں اب خاوندوں کو ان سے رجوع کا حق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ حاملہ ہوں۔ انہیں رہائش کا حق ہے، نفقہ اور کسوہ کا حق نہیں کیونکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اسکنوہن من حیث سکنتم من وجدکم۔ تم ان مطلقہ عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو سے مراد ہے اگر تو نہ پائے اس کے لیے کوئی مکان مگر اپنے گھر کے ایک جانب میں تو اسی میں اس کو ٹھہرادو۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت من حیث سکنتم من وجدکم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اپنی وسعت کے مطابق ان کو رہنے کی جگہ دو ۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من حیث سکنتم من وجدکم سے مراد ہے اپنی وسعت کے مطابق آیت ولا تضاروہن لتضیقوا علیہن۔ اور ان کو تنگ کرنے کے لیے ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ یعنی رہائش کے…
Read the full tafseer →[اَسْكِنُوْهُنَّ : تم لوگ سکونت دو ان خواتین کو ] [مِنْ حَيْثُ سَكَنْتم : وہاں جہاں تم نے سکونت اختیار کی ] [مِّنْ وُّجْدِكُمْ : اپنی صلاحیت میں سے ] [وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ : اور تکلیف مت دو ان کو ] [لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْ هِنَّ : تاکہ تم لوگ تنگی کرو ان پر ] [وَان كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ : اور اگر وہ ہوں حمل والیاں ] [فَانفِقُوْا عَلَيْ هِنَّ : تو تم لوگ خرچ کرو ان پر ] [حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ : یہاں تک کہ وہ جَنیں اپنا بچہ ] [فَان اَرْضَعْنَ لَكُمْ : پھر اگر وہ دودھ پلائیں (بچے کو) تمہارے لیے ] [فَاٰتُوْهُنَّ اُجورَهُنَّ : تو تم لوگ دو ان کو ان کی اجرتیں ] [وَاْتمرُوْا بَيْنَكُمْ…
Read the full tafseer →تیسرا حکم یہ فرمایا ﴿ اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ﴾ کہ ان عدت گزارنے والی عورتوں کو وہیں ٹھہراؤ، جہاں تم ٹھہرے ہوئے ہو اپنی استطاعت کے مطابق۔
چوتھا حکم یہ فرمایا ﴿ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ﴾ (اور تم ان کو ضرر نہ پہنچاؤ تاکہ انہیں تنگی میں ڈال دو اور وہ تمہارے گھر سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں) ۔
پانچواں حکم یہ فرمایا کہ حمل والی عورتوں پر حمل وضع ہونے تک خرچ کرو۔
مطلقہ عورتوں کے اخراجات کے مسائل
ان احکام کی توضیح اور تفسیر یہ ہے کہ عدت والی عورتوں کی پانچ قسمیں ہیں : (1) رجعی طلاق دی ہوئی ہو۔ (2) طلاق بائن یا مغلظ دی گئی ہو اور عورت حمل والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ذکر احکام بعض مطلقات مع بیان حق سکنی ونفقہ ومسئلہ رضاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والی ٓ ء یئسن من المحیض ...... الی ..... سیجعل اللہ بعد عسریسرا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں طلاق کی عدت اور طلاق واقع کرنے کے بعض احکام بیان فرمائے گئے تھے اور ان امور میں اللہ کے تقوی اور حدود شریعت کی پابندی کے لئے تاکید فرمائی گئی تھی اب ان آیات میں بعض مطلقہ عورتوں کے خصوصی احکام اور ان کے حقوق کا بیان ہے بالخصوص وہ مطلقہ عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا وہ حاملہ ہوں ان کی عدت اور متعلقہ احکام اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے، فرمایا۔
اور جو عورتیں ناامید ہوچکی ہوں حیض سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تم کسی قسم کا شبہ کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8:۔ ” اسکنوھن “ معتدہ کے لیے انقضاء عدت تک رہائش کا انتظام خاوند کے ذمہ ہے۔ خاوند اپنی مالی حیثیت کے مطابق رہائش کا انتظام کرے اور اس پر لازم ہے کہ اسے تنگ نہ کرے اور تکلیف نہ دے تاکہ وہ مکان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ معتدہ رجعیہ ہو یا بائنہ اس کا نفقہ بھی خاوند کے ذمہ اور سکنی بھی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ثوری رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ” وان کن اولات حمل “ اگر معتدہ حامل ہو تو اسے خرچ بھی دو ۔ شرط کا مفہوم مخالف حتجت نہیں۔ اس کے علاوہ شرط کا فائدہ یہ ہے کہ وہم ہوسکتا تھا کہ حاملہ کے لیے نفقہ نہ ہو، کیونکہ بعض اوقات مدت حمل بہت طویل ہوتی ہے، تو حاملہ کے لیے نفقہ ثابت ہوگیا تو غیر حاملہ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
پہلے مطلقہ عورتوں کی قسمیں اور ان کی مختلف عدت کا بیان ہوا کیونکہ مطلقہ عورتوں کے لئے نکاح ثانی سے پہلے مقررہ عدت گزارنا ضروری ہے۔ اس میں اللہ نے بہت سی مصلحتیں رکھی ہیں ۔ اس میں نکاح کا حق بھی ہے اور نسب کا بھی ، نیز اس میں اولاد کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ چناچہ بعض عورتوں کی عدت تین حیض ہے اور بعض کی تین ماہ البتہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ بیوہ ہونے والی عورت اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی ورنہ چار ماہ اور دس دن پورے کرنا ہوں گے۔ اگر نکاح کے بعد عورت سے مقاربت نہیں ہوئی اور طلاق واقع ہوگئی ہے تو ایسی عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جب چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔
دوران…
Read the full tafseer →اَسْكِنُوْہُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْہُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْہِنَّ 0 ۭ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْہِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ 0 ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ 0 ۚ وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ 0 ۚ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗٓ اُخْرٰى 6 ۭ
سكن
السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔
تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّـقُوْا عَلَیْھِنَّ ط وَاِنْ کُنَّ اُوْلاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ج فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ج وَاْتَمِرُوْا بَیْنَـکُمْ بِمَعْرُوْفٍ ج وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَـہٗٓ اُخْرٰی۔ لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَمَنْ قُدِرَعَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّـآ اٰ تٰـہُ اللّٰہُ ط لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ مَـآ اٰ تٰـھَا ط سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۔ (الطلاق : 6، 7)
(اور انھیں سکونت دو جہاں تم رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : مطلقہ اور بیوہ عورت کی عدت کے دوران نان نفقہ کی ذمہ داری کا ذکر۔
اسی سورت کی پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو عدّت کے دوران ان کے گھروں سے نکالنا جائز نہیں جو شخص بلاوجہ انہیں ان کے گھروں سے نکالے گا وہ اللہ کی حدود کو توڑنے کی وجہ سے ظالم ٹھہرے گا۔ اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کی عدت کے دوران ان کے خاوند اپنے پاس رکھیں اور انہیں پریشان کرنے کے لیے کسی قسم کی تکلیف نہ دیں۔ اگر وہ حمل سے ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ان کے اخراجات اٹھانا ان کے خاوندوں کی ذمہ داری ہوگی اگر وہ تمہارے کہنے سے اپنے بچے کو دودھ پلائیں تو پھر انہیں نان ونفقہ…
Read the full tafseer →وضاحت ِتقویٰ :
6 : مسئلہ : پھر تقویٰ کی وضاحت فرمائی گویا من یتق اللّٰہکا حکم سن کر سوال کیا گیا کہ ہم تقویٰ پر معتدات کے سلسلہ میں کس طرح چلیں تو فرمایا۔ اَسْکِنُوْ ھُنَّ (تم ان کو رہنے کا مکان دو ) اس اس طرح یعنی حیثیت کے مطابق۔ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ (جہاں تم رہتے ہو) یہ من تبعیضیہ ہے۔ اور جس کی بعضیت بیان کی گئی وہ محذوف ہے اے مکان ای اسکنوھن مکانا من حیث سکنتم یعنی اپنی رہائش گاہ کا کوئی حصہ، مِّنْ وُّ جْدِ کُمْ (اپنی وسعت کے موافق )
نحو : یہ من حیث سکنتم کا عطف بیان ہے۔ اور اس کی تفسیر ہے گویا اس طرح کہا گیا اسکنوھن مکانا من مسکنکم مما تطیقونہ۔ الوجدؔ وسعت و طاقت کو کہتے ہیں۔
قراءت :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 ۔” اسکنوھن “ یعنی اپنی طلاق شدہ بیویوں کو۔ ” من حیث سکنتم “ من صلہ ہے یعنی ان کو وہاں رہائش دو جہاں تم رہائش رکھتے ہو۔ ” من وجدکم “ تمہاری گنجائش و طاقت کے مطابق۔ یعنی اگر مال دار ہو تو اس پر خرچ اور رہائش میں وسعت دو اور اگر فقیر ہو تو اس کی طاقت کے مطابق۔ ” ولا تضاروھن “ تم ان کو تکلیف نہ دو ۔” لتضیقوا علیھن “ اس کے مساکن کو کہ وہ نکل جائیں۔” وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن “ پس وہ اپنی عدت سے نکل جائیں۔
معتدہ رجعیہ کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے
رجعی عدت گزارنے والی خاوند پر خرچ اور رہائش کا حق رکھتی ہے جب تک عدت میں ہو اور سکنی سے ہماری مراد رہائش کا خرچ ہے۔ پس اگر وہ گھر جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 7۔ جس طلاق میں عدت کے اندر خاوند پھر اپنی بی بی کو بغیر نکاح جدید کے رکھ سکے اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں اور طلاق بائن کی صورت میں یا اگر تین طلاق پوری ہوگئیں اور بغیر کسی دوسرے اجنبی شخص کے نکاح کرنے کے یہ طلاق دینے والا پہلا خاوند اس عورت کو نہیں رکھ سکتا تو ان دونوں کو قطعی کہتے ہیں طلاق رجعی کی عدت میں طلاق والی عورت کو نان و نفقہ رہنے کا مکان دینے پر سلف کا اتفاق ہے مگر طلاق قطعی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اب تک اختلاف چلا آتا ہے کہ عدت کے زمانے میں طلاق والی عورت کو کھانا اور رہنے کا مکان دینا جو خاوند کے ذمہ ہے وہ فقط طلاق رجعی میں ہے یا طلاق رجعی اور قطعی دونوں میں ہے اس اختلاف کے…
Read the full tafseer →پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کو گھروں سے نکلانے سے روکا ہے اور اس مقام پر اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمای اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان دونوں کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ (وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ ۭ ) یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول وفعل کے ذریعے سے اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہعدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آکر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔
آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے…
Read the full tafseer →طلاق یافتہ عورت کے لئے سکونت مہیا کرنے کا بیان
قول باری ہے (اسکنوھن من حیث سکنتم من وجد کم ولا تضارو ھن لتضیقوا علیھن، ان کو (زمانہ عدت) میں اس جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو جیسی کچھ بھی جگہ تم کو میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ان کو نہ ستائو) تاآخر آیت۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ فقہاء امصار اور اہل عراق، امام مالک اور امام شافعی سب کا اس پر اتفاق ہے کہ طلاق بائن پانے والی عورت کے لئے بھی سکونت مہیا کرنا واجب ہے جبکہ قاضی ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ صرف طلاق رجعی پانے والی عورت کے لئے سکونت مہیا کرنا واجب ہے۔ طلاق بائن پانے والی کے لئے کوئی سکونت نہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (فطلقوھن…
Read the full tafseer →[ 23] معتدہ کے حق سکنی کا ذکر وبیان۔ سو اس سے زمانہ عدت میں عورت کو مسکن یعنی مکان دینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو تم وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔ سو اس میں اپنی طاقت کے مطابق برتاؤ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے لفظ وجد مثلثلہ الفاء ہے یعنی اس کے پہلے حرف پر فتحہ ضمہ اور کسرہ تینوں حرکات درست ہیں اور اس کے معنی طاقت اور گنجائش کے آتے ہیں پس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ تم لوگ اپنی مطلقہ عورتوں کو اپنی گنجائش کے مطابق نفقہ وسکنی دینے کے پابند ہو کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر کسی کو کسی امر کا پابند نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بار میں ایک قاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
غصے میں بھی حسن سلوک کا خیال رکھو
تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی پاکیزگی، حسن سلوک عورت مرد اور بچے، یعنی خاندان کی بہتری اور سکون کے لیے بہترین حدود بتا دی گئی ہیں۔ جو بتا رہی ہیں کہ شریعت اسلامیہ انسان کی ہدایت و رہنمائی کا کیسا کامل ضابطہ حیات ہے۔ شریعت اسلامیہ۔ کتاب و سنت پر مبنی ہے جو ہر ہر لحاظ سے ہر بندے کے لیے تمام مشکلات کا بہترین اور آسان حل دیتا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں عورت مرد بچے، یعنی خاندان کی حفاظت اور بہتری کے لیے اتنے آسان جامع اور خوبصورت اعتدال پر مبنی قانون وضع نہیں کیے جیسے قرآن پاک اور سنت رسول نے ہمیں دیے ہیں۔ عورت کو اس کا صحیح مقام دیا ہے تاکہ وہ پوری خوشی روا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 2 یعنی عدت گزرنے تک نہیں خچ اور رہنے کے لئے مکان دو مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں رجعی لاق دی جائے۔ رہی وہ عورت جسے تین طلاقیں مل چکی ہوں تو اسے نہ خرچ دینا ضروری ہے اور نہ رہنے کے لئے مکان فاطمہ بنت قیس کی حدیث میں آنحضرت نے یہ تصریح کردی ہے کہ سکنی اور نفقہ اس عورت کے لئے ہے جسے رجی طلاق دی گی ہو اور جب تین طلاقیں دے دی گئی ہوں تو اس کے لئے کوئی نفقہ و سکنی نہیں ہے۔ وقدم ابن کثیر3 یعنی سکوتن اور خرچ کے معاملہ میں ان پر تنگی نہ کرو۔4 مطلقہ حاملہ عورت کے لئے تا وضع حمل نفقہ اور سکنی کے واجب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے بشرطیکہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور تین طلاق ہونے کی صورت میں بھی اکثر…
Read the full tafseer →(65:6) اسکنوھن۔ فعل امر حاضر اسکان (افعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ان کو رہنے بسنے دو ۔ ان کو ٹھہراؤ۔ ان کو سکونت مہیا کرو۔ سکون اصل تو حرکت نہ ہونے کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال رہنے بسنے میں بھی ہوتا ہے۔
من حیث : حیث جہاں ، جس جگہ۔ ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے۔ من یا تو تبعیضیہ ہے یعنی اپنے رہنے والے بعض مکانوں میں ان کو بھی ٹھہراؤ۔ یا من زائدہ ہے۔ جہاں تم سکونت رکھتے ہو ان کو بھی وہاں ٹھیراؤ۔ سکونت دو ۔ ان کو رکھو۔ بساؤ۔
سکنتم : جہاں تم ضود سکونت پذیر ہو۔
من وجدکم اپنی طاقت کے مطابق، اپنے مقدور کے موافق وجدکم مضاف مضاف الیہ۔ وجد۔ طاقت، وسعت، وجد سے مالی حالت یا مقدور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →(ف 1) مکان کے دینے میں ایسی تنگی نہ کرے کہ ان کے شریک مسکن کرکے یا اور کوئی ایسی ایذادے کہ وہ تنگ آکرنکلنے پر مجبور ہوجائیں۔
(ف 2) حمل کی مدت کبھی طویل ہوجاتی ہے اور اس کو خصوصیت سے بتلادیا کہ خواہ کتنی ہی طویل ہو وضع حمل تک اس کو نفقہ دینا ہوگا یہ نہیں کہ مثلا تین مہینے نفقہ دے کر بند کرلو۔
مسئلہ : نفقہ جیسا حاملہ کو دینا واجب ہے ایسا ہی غیرحاملہ کو بھی ، خواہ اس کو طلاق رجعی دی ہو یا بائن۔
احکام رضاعت (دودھ پلانا)
(ف 3) بچہ پیدا ہوجانے کے بعدیہ عورت بالکل اجنبی ہوجائے گی اور اس لیے اگر عورت تمہاری خاطر بچہ کو دودھ پلائے تو جو اجرت کسی دوسری انا کو دیتے وہ اس کو دی جائے اور معقول طریقہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[10] بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں، باپ کے ذمے ہے کہ اجرت دے کر پلوائے کیونکہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں تو ایسی حالت میں ماں کے لئے اجرت لینا جائز نہیں۔ بعد عدت جائز ہے نیز غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دودھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ ہاں اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت سے دودھ پلوانا درست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(6) تم ان مطلقہ عورتوں کے رہنے کو اپنی بساط اور مقدور کے موافق مکان دو جہاں تم آپ رہتے ہو یعنی اسی مکان کا ایک حصہ اور اگر عورت مطلقہ بائنہ ہو تو ایک عورت کو بھی اس کے ساتھ رکھو جو بطور نگراں ہو اور ان مطلقہ عورتوں کو تنگ کرنے کی غرض سے تکلیف نہ پہنچائو اور اگر وہ عورتیں حمل والی ہوں تو ان کا خرچ اٹھاتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنے حمل کو وضع کردیں اور پیٹ کے بچے کو جن لیں پھر اگر وہ تمہاری خاطر سے بچے کو دودھ پلائیں اور اگر وہ عورتیں تمہارے کہنے سے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو دودھ پلانے کی اجرت دو اور آپس میں مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو اور اگر تم آپس میں دشواری پیدا کرو گے اور روضد کرو گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2۔ یعنی عدت میں سکنی بھی مطلقہ کا واجب ہے، البتہ طلاق بائن میں ایک مکان میں خلوت کے ساتھ دونوں کا رہنا جائز نہیں بلکہ حائل ہونا ضرور ہے۔
3۔ یعنی نہ تو عورت اس قدر زیادہ مانگے کہ مرد کو دوسری انا ڈھونڈنی پڑے اور نہ مرد اس قدر کم دینا چاہئے کہ عورت کا کام نہ چل سکے بلکہ حتی الامکان دونوں اس کا خیال رکھیں کہ ماں ہی دودھ پلاوے کہ بچہ کی اس میں زیادہ مصلحت ہے۔
Read the full tafseer →طلاق اور عدت کے ضمنی سوالات اور ان کے فیصلہ کن جوابات
6 ؎ طلاق کی اقسام بہت ہیں لیکن ان میں سے بعض طلاق کو رجعی کہا جاتا ہے اور بعض مغلظہ یا قطعی ۔ طلاق کی بعض اقسام میں رجوع کیا جاسکتا ہے اور بعض میں نہیں ۔ قرآن کریم نے ان ساری طلاقوں میں سے کسی طلاق کا نام نہیں لیا اور کوئی تخصیص نہیں کی چونکہ پیچھے فی نفسہٖ طلاق کا ذکر ہوتا چلا آ رہا تھا لہٰذا زیر نظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” جن عورتوں کو تم نے طلاق دی ہے ان کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کا گھر دو جہاں تم خود رہتے ہو “ اب علمائے اسلام ، مفتیان اسلام اور مفسرین قرآن کریم نے اس میں بہت بحث کی ہے کہ وہ کون سی طلاق ہے جس میں سکنٰی اور…
Read the full tafseer →The next verses deal with further rules about the waiting period and maintenance of the divorced women and their other rights.
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ (Provide to them [ the divorced women ] residence where you reside according to your means...65:6) This injunction is related to Rule [ 3] above which states that divorced women must not be expelled from their homes. This verse states the positive aspect of the injunction, in that the husbands, according to their means, should let their divorced wives live in some…
Read the full tafseer →16 The jurists are agreed that if the woman has been divorced revocable, the husband is responsible for her lodging and maintenance; they are also agreed that if the woman is pregnant, the husband will bear the responsibility of her lodging and maintenance till child-birth whether she has been divorced revocable or irrevocably. However, the difference of opinion has arisen about whether the non-pregnant woman who has been divorced irrevocably is entitled to both lodging and maintenance, or only to lodging, or to neither. One group says that she is entitled to both lodging and maintenance.…
Read the full tafseer →