At-Talaaq 65:5

At-Talaaq · from ayah 5

65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ ؕ— وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَیُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا ۟ذٰ لِكَ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا‏

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is the command of Allah, which He has sent down to you; and whoever fears Allah - He will remove for him his misdeeds and make great for him his reward.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah At-Talaaq

All translations of 65:5

یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تم پر اتارا ہے، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس نے تمہاری طرف اتارا، اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کی برائیاں اتار دے گا اور اسے بڑا ثواب دے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اللہ کا امر ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اُس کے چھوٹے گناہوں کو اس (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیتا ہے اور اَجر و ثواب کو اُس کے لئے بڑا کر دیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اللہ کا حکم ہے جسے اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے بڑا اجر دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کی برائیاں دور کردیتا ہے اور اسے بڑا اجر دیتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کرے دے گا اور اس کے اجر کو بڑھائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے اتارا ہے تمہاری طرف (اے لوگو !) اور جو کوئی ڈرتا رہے گا اللہ سے تو اللہ دور فرما دے گا اس سے اس کی برائیوں کو اور (مزید یہ کہ) وہ اس کو عطا فرمائے گا بہت بڑا اجر

— مولانا اسحاق مدنی

یہ حکم ہے اللہ کا جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو کوئی اللہ سے تقوی اختیار کرے گا اللہ اس کے گناہ اس سے دور کردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے نازل کردیا ہے تمہاری طرف۔ اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا وہ اس کی برائیوں کو اس سے دور فرما دے گا اور اسے بہت بڑا اجرو ثواب عطا کرے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اللہ کے حکم ہیں جو اس نے تم پر نازل کیے ہیں اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا،

— محترمہ رفعت اعجاز

This is the commandment of Allah that He has revealed to you. Whoever fears Allah, He will expunge his evil deeds and will richly reward him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is the command of Allah that He has sent down to you. And whoever fears Allah, He will write off his evil deeds, and will give him a huge reward.

— Muhammad Taqi Usmani

This is the command of Allah that He has sent down to you. And whoever fears Allah, He will write off his evil deeds, and will give him a huge reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is the command of Allah, which He has sent down to you; and whosoever has Taqwa of Allah, He will expiate from him his sins, and will increase his reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is the commandment of Allah which He revealeth unto you. And whoso keepeth his duty to Allah, He will remit from him his evil deeds and magnify reward for him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is the command of Allah, which He has sent down to you; and whoever fears Allah - He will remove for him his misdeeds and make great for him his reward.

— Saheeh International

This is the command of God which He has revealed to you. God will expiate the evil deeds of those who fear Him and will increase their rewards.

— Muhammad Sarwar

That is the command of Allah which He has revealed to you, and whoever is careful of (his duty to) Allah, He will remove from him his evil and give him a big reward.

— Muhammad Habib Shakir

That is the commandment of Allah which He hath sent down Unto you. And whosoever feareth Allah, He Will expiate his misdeeds from him, and will magnify for him his hire.

— Abdul Majid Daryabadi

That is the Command of Allah, which He has sent down to you: and if any one fears Allah, He will remove his ills, from him, and will enlarge his reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 65:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–5

مسائل عدت جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہوگئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گذاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ کی آیت، اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گذرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاصہ کی بیماری کا، دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو، یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطَّلَاق 15 یہ اگرچہ ایک عمومی نصیحت ہے جس کا اطلاق انسانی زندگی کے تمام حالات پر ہوتا ہے، لیکن اس خاص سیاق وسباق میں اسے ارشاد فرمانے کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ اوپر جو احکام بیان کیے گئے ہیں، ان سے خواہ تمہارے اوپر کتنی ہی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑتا ہو، بہر حال خدا سے ڈرتے ہوئے ان کی پیروی کرو، اللہ تمہارے کام آسان کرے گا، تمہارے گناہ معاف کے گا اور تمہیں بڑا اجر دے گا۔ ظاہر ہے کہ جن مطلقہ عورتوں کی عدت تین مہینے مقرر کی گئی ہے ان کا زمانہ عدت ان عورتوں کی بہ نسبت طویل تر ہوگا جن کی عدت تین حیض مقرر کی گئی ہے۔ اور حاملہ عورت کا زمانہ عدت تو اس سے بھی کئی مہینے زیادہ ہوسکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد پھر طلاق وع عدت کے احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید ہے ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗٓ اِلَيْكم (یہ حکم ہے اللہ کا جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کے بعد پھر تقویٰ کی ایک اور فضیلت کا بیان ہے ۭ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَـيِّاٰتِهٖ وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا یعنی جو شخص اللہ سے ڈرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور اس کا اجر بڑھا دیں گے۔ تقویٰ کی پانچ برکات۔ آیات مذکورہ میں جو تقویٰ کے فضائل و برکات کا بیان آیا اس کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ متقی کے لئے دنیا و آخرت کے مصائب و مشکلات سے نجات کا راستہ نکال دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

۔ (ذلک امرا اللہ انزلہ الیکم ومن یتق اللہ یکفر عنہ سبیاتہ و یعظم لہ اجراء) (5) یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری طرف اتارے ہیں تو ان کو نہ گراں سمجھو، نہ ان کو حقیر جانو اور نہ یہ گمان کرو کہ وہ تم پر احکام اتار کر خود بےتعلق ہوجائے گا بلکہ وہ تمہاری مدد کرے گا اگر تم ان کو اٹھائو گے اور سزا بھی دے گا اگر ان کو پھینکنے کی کوشش کرو گے۔ (ومن یتق اللہ یکفرعنہ سیاتہ و یعظم لہ اجرا) یہ تسلی دی کہ اللہ کے جو بندے اپنی حد تک حدود الٰہی کو قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ کرے گا۔ چھوٹی موٹی غلطیاں اور کو تاہیاں جو ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–5

4۔ 1 یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔ 4۔ 2 مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہوجائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہوجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

8: سورة بقرہ (2: 228) میں طلاق یافتہ عورتوں کی عدت تین ماہواری بتائی گئی ہے، اس پر بعض حضرات کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ جن عورتوں کی ماہواری بڑی عمر میں پہنچنے پر بند ہوجاتی ہے ان کی عدت کیا ہوگی ؟ اس آیت نے واضح فرمادیا کہ تین ماہواری کے بجائے ان کی عدت تین مہینے ہوگی، اور اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی ماہواری آنی شروع ہی نہیں ہوئی ان کی عدت بھی تین مہینے ہوگی، اور جن عورتوں کو حمل کی حالت میں طلاق دی گئی ہو اس کی عدت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے یا حمل کسی وجہ سے گرجائے، چاہے وہ تین مہینے سے کم مدت میں ہو یا زیادہ مدت میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک .................... الیکم (56 : 5) ” یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے “۔ یہ ایک دوسرا احساس ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ ذرا سنجیدہ ہوجاﺅ۔ یہ حکم اللہ کا ہے ۔ یہ اللہ نے اتارا ہے ان لوگوں پر جو مومن ہیں۔ لہٰذا اس کی تعمیل تقاضائے ایمان ہے۔ اور اس حکم کی تعمیل کا تعلق اللہ سے ہے۔ دوبارہ لوگوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جس پر اس سورت میں بہت زور دیا گیا ہے حالانکہ یہ احکام کی سورت ہے۔ ومن یتقق ................ اجرا (56 : 5) ” اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دو رکردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا “۔ پہلی بات یہ تھی کہ اللہ سہولیات پیدا کردے گا اور اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 جملہ کے بعد اتقاء اور اللہ کے ڈر کا مضمون مختلف پیرایوں میں دہرایا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا بار بار متنبہ ہو کہ عورتوں کے معاملات میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَـیْکُمْ } ”یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے نازل کردیا ہے تمہاری طرف۔“ یعنی اس حکم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری لے لی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو کوئی میرا تقویٰ اختیار کرے گا میں اس کے معاملات میں ضرور آسانیاں پیدا فرمائوں گا۔ { وَمَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یُـکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ } ”اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا وہ اس کی برائیوں کو اس سے دور فرما دے گا“ اس حکم کا تعلق خصوصی طور پر آخرت سے ہے۔ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والے شخص کے دنیوی معاملات میں بھی آسانیاں پیدا کردی جائیں گی اور آخرت کے احتساب کے حوالے سے بھی اس کے نامہ اعمال کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

15 نکاح نابالغاں :۔ یعنی جو عورتیں اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ انہیں حیض آنا بند ہوچکا ہو یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انہیں عمر کی نسبت سے بڑی دیر کے بعد حیض آتا ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر حیض نہ آئے۔ ایسی سب عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور یہ اس دن سے شروع ہوجائے گا جس دن سے اسے طلاق دی گئی اور تین ماہ قمری شمار ہوں گے، شمسی نہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح جن بڑی عورتوں کو بھی حیض نہ آیا ہو یا اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ ان کا حیض بند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ گویا اس طرح وہ نفیاواثباتا دونوں طرح مزے میں رہے گا۔ ایک طرف سلب مضرت (آیت) ” یکفر عنہ سیاتہ “۔ دوسری طرف جلط منفعت (آیت) ” یعظم لہ اجرا “۔ ذلک “۔ یعنی جو اوپر مذکور ہوچکا۔ اشارۃ الی ماذکر من الاحکام (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یتق اللہ .... اجرًا . ” اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا ‘ اللہ اسکے ہر کام میں آسانی کر دیگا یہ (جو کچھ مذکور ہوا) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو شخص (ان سارے معاملات میں) اللہ سے ڈرے گا ‘ اللہ اسکے گناہ دور کردیگا اور اسکو بڑا اجر دیگا۔ “ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ : یعنی جو شخص احکام خداوندی (کی تکمیل اور پابندی) میں اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ اللہ اس کے لیے امور دنیا و آخرت آسان کردیتا ہے اور اس کو بھلائی اور خیر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ ذٰلِکَ : یعنی مذکورہ احکام۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ...... یعنی جو شخص احکام خداوندی (کی تکمیل اور پابندی) میں اللہ سے ڈرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ احکام خداوندی ہیں جو اس نے تمہارے سامنے قرآن کریم میں بیان کردیے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ دور کردے گا اور جنت میں اس کو بڑا اجر دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ذٰلِکَ اَمْرُ اللہ ِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَیْکُمْ : اس میں طلاق اور عدت کے احکام کی اہمیت بیان کرنا مقصود ہے۔ 2۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ۔۔۔۔: اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے پانچ فائدے بیان فرمائے ہیں، سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا ، دوسرا یہ کہ اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان نہیں ہوگا ، تیسرا یہ کہ اس کے لیے اس کے معاملات میں آسانی پیدا فرما دے گا ، چوتھا یہ کہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور پانچواں یہ کہ اسے اجر عظیم عطاء فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

اس میں سات مسائل ہیں : جن کو حیض کا خون نہیں آتا ان کی عدت مسئلہ نمبر 1 ۔ واتی یئس من المحیض من نسائکم جب طلاق اور رجعت کا امر ان عورتوں کے بارے میں واضح فرما دیا جن کو حیض آتا ہے تو انہوں نے حیض والی عورتوں کی عدت کو پہچان لیا اس میں ان عورتوں کی عدت کو بیان کیا جو خون نہیں دیکھتیں۔ ابو عثمان عمر بن سالم نے کہا : جب سورة بقرہ میں ان عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا جن کو طلاق دی گئی اور جن کا خاوند فوت ہوگیا تھا تو حضرت ابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کہتے ہیں، عورتوں میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں کچھ ذکر نہیں ہوا، وہ چھوٹی عمر کی اور حاملہ عورتیں ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وائی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

1۔ اسحاق بن راہویہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے عورتوں کی عدت کے بارے میں کہ یقینی طور پر عورتوں کی عدت میں سے ایک مدت ابھی باقی ہے جو قرآن میں ذکر نہیں کی گئی۔ کہ کم عمر اور عمر رسیدہ عورتیں کہ جن سے حیض منقطع ہوگیا ہے اور حمل والی عورتیں کہ ان کا ذکر نہیں کیا گیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سورة النساء میں آیت نازل فرمائی اور وہ یہ ہے آیت والئ یئسن من المحیض (اور تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہیں)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا حکم ہے ] [انزَلَهٗٓ اِلَيْكُمْ : اس نے اتارا اس (حکم) کو تمہاری طرف ] [وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ : اور جو تقوٰی اختیار کرے گا اللہ کا ] [يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ : تو وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیوں کو ] [وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا : اور وہ عظیم کرے گا اس کے لیے اجر کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَيْكُمْ 1ؕ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ ﴿وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ وَ يُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا 005﴾ اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ اس رکوع میں تین بار تقویٰ کی فضیلت بیان فرمائی ہے پہلے تو یہ فرمایا جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو، پھر فرمایا جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے کاموں میں آسانی فرما دے گا، پھر فرمایا جو شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

ذکر احکام بعض مطلقات مع بیان حق سکنی ونفقہ ومسئلہ رضاعت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والی ٓ ء یئسن من المحیض ...... الی ..... سیجعل اللہ بعد عسریسرا “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں طلاق کی عدت اور طلاق واقع کرنے کے بعض احکام بیان فرمائے گئے تھے اور ان امور میں اللہ کے تقوی اور حدود شریعت کی پابندی کے لئے تاکید فرمائی گئی تھی اب ان آیات میں بعض مطلقہ عورتوں کے خصوصی احکام اور ان کے حقوق کا بیان ہے بالخصوص وہ مطلقہ عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا وہ حاملہ ہوں ان کی عدت اور متعلقہ احکام اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے، فرمایا۔ اور جو عورتیں ناامید ہوچکی ہوں حیض سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تم کسی قسم کا شبہ کرو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

6:۔ ” اللائی یئسن “ اس آیت میں عدت کی دو میعادوں کا بیان ہے۔ ایک تین ماہ اور دوم وضع حمل۔ ہر میعاد دو دو قسم کی عورتوں کے لیے ہے۔ پہلی میعاد ان دو عورتوں کے لیے (1) آئسہ یعنی وہ عورت جس کو بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو۔ (2) وہ عورت جس کو ابھی حیض آنا شروع ہی ہوا ہو، خواہ صغیرہ ہو یا مراہقہ یا بالغہ بالسن۔ اسی طرح دوسری میعاد یعنی وضع حمل ان دو عورتوں کے لیے (1) وہ حاملہ جس کو حالت حمل میں طلاق ہوگئی (2) وہ حاملہ جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ ان ارتبتم ای فی مقدار عدتہن۔ واللائی مبتدا ہے اور فعدتہن الخ اس کی خبر ہے یعنی اگر ان کی مقدار عدت میں تمہیں شک ہو اور ” والمطلقات یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–5

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت آجائے تو ایسے وقت پر طلاق دو کہ عدت کا عرصہ ٹھیک ٹھیک شمار کیا جاسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت کے مطابق قدرت کے طہر کی حالت میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اگر طلاق رجعی ہے تو تکمیل عدت سے پہلے خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ نیز فرمایا کہ طلاق دیتے وقت اور رجوع کرتے وقت دو عادل گواہ بنالیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ جھگڑے کی صورت میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ نکاح اور طلاق سے متعلق مسائل سورة البقرہ اور سورة الاحزاب میں بیان ہوچکے ہیں اور ان کا کچھ حصہ یہاں بھی بیان ہورہا ہے۔ جن عورتوں کو حیض آتا ہے ان کی عدت بیان ہوچکی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ اَمْرُ اللہِ اَنْزَلَہٗٓ اِلَيْكُمْ۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَّقِ اللہَ يُكَفِّرْ عَنْہُ سَـيِّاٰتِہٖ وَيُعْظِمْ لَہٗٓ اَجْرًا۝ 5 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–11

ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔ تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ اَمْرُاللّٰہِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَیْکُمْ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّـاٰ تِہٖ وَیُعْظِمْ لَـہٗٓ اَجْرًا۔ (الطلاق : 5) (یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا، اور اس کے اجر کو بڑھا دے گا۔ ) اوپر کے مضمون کی مزید تاکید اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اسی مضمون کی مزید تاکید ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری طرف نازل کیے ہیں۔ تم اس کے بندے ہو اور وہ تمہارا معبود اور آقا ہے۔ اسے بجا طور پر یہ حق حاصل ہے کہ تمہاری اصلاح کے لیے جن احکام کو مناسب سمجھے وہ تم پر نازل کردے۔ دیکھنا انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ حیض سے ناامید اعورتوں کی عدت کا ذکر۔ 1۔ آسیہ یعنی وہ عورت جو عمررسیدہ ہونے کی و جہ سے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہو۔ طلاق ہونے کی صورت میں اس کی عدت تین قمری مہینے ہوگی۔ اس کے بارے میں ” اِنِ ا رْتَبْتُمْفَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ اَشْہُرٍ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا معنٰی ہے کہ اگر تمہیں شک ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہوگی۔ ان الفاظ سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ شاید جس عورت کا حیض بند ہوچکا ہو اسے طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں، یہ استدلال ٹھیک نہیں ہے بلکہ اسے بھی عدت گزارنی چاہیے۔ 2۔ جو عورت بلوغت کی عمر کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے) جو ان معتدات کے سلسلہ میں معلوم ہوا۔ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ (جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے) لوح محفوظ سے۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے) ان پر عمل کے سلسلہ میں جو اس نے احکامات اتارے اور اس پر لازم آنے والے حقوق کی نگہبانی کی۔ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا (وہ اس کے گناہوں کو دور کردیں گے۔ اور اس کو بڑا اجر دے گا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” والاتی یئسن من المحیض من نساء کم “ پس ان کو حیض آنے کی امید نہیں ہے۔ ” ان ارتبتم “ یعنی تمہیں شک ہو۔ پس تم نہ جانو کہ ان کی عدت کیا ہے ” فعدتھن ثلاثۃ اشھر “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جب نازل ہوئی۔ ” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروئ “ تو خلاد بن نعمان بن قیس انشاری نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) جس کو حیض نہیں آتا ان کی عدت کیا ہے ؟ اور جس کو ابھی تک حیض نہیں آیا اور حاملہ کی عدت کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” والاتی یئسن من المحیض من نساء کم “ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے بیٹھ گئی ہیں۔ ” ان ارتبتم “ تم ان کے حکم میں شک کرو۔ ” عفدتھن ثلاثہ اشھر والائی لم یحضن “ یعنی وہ چھوٹی لڑکیاں جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–5

4۔ 5۔ مستدرک 2 ؎ حاکم مسند اسحاق بن راہویہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی صحیح سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة بقر میں یہ حکم نازل ہوا کہ طلاق والی عورتوں کی عدت کی مدت تین حیض ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ کم عمر یا حاملہ ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہوجانے سے جن عورتوں کے حیض کی عادت جاتی رہتی ہے اس طرح کی عورتوں کی عدت کی مدت کا کچھ حکم قرآن شریف سے نہیں معلوم ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اب سورة بقر اور اس سورة کی آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب کے ملانے سے عدت کے مسئلہ کا حاصل یہ ہوا کہ ایسی طلاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذٰلِكَ ) یہ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے۔ (اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗٓ اِلَيْكُمْ ۭ ) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ تاکہ تم اس پر چلو اسے اپنے راہ نما بناؤ ور اس کی تعظیم کرو۔ اور جو الللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا یعنی محذر اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیسہ اور صغیرہ کی عدت کا بیان قول باری ہے (واللائی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھرو ا للائی لم یحضن اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ اس میں جن عورتوں کا ذکر ہے ان کے لئے شک کے بغیر ایاس ثابت کردیا جائے اور قول باری (ان ارتبتم) سے ایاس کے متعلق شک مراد لینا درست نہیں ہے کیونکہ جن عورتوں کا ایاس ثابت ہوگیا ہے ان کا حکم آیت کی ابتداء میں اللہ نے ثابت کردیا ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 21] احکام الہی کی عظمت شان کا ذکر وبیان۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ کے اوامر وارشادات کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے احکام ہیں اس لیے ان کا کوئی متبادل ممکن نہیں ہوسکتا پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ کبھی ان احکام کو دنیاوی احکام پر قیاس نہ کرنا کہ یہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے نازل فرمودہ احکام ہیں جو تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کے ضامن وکفیل ہیں پس سچے دل سے ان کو مان کر ان پر عمل کرنا کہ اسی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت سرخروئی ہے سو اس سے اللہ کے اوامر ارشادات کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرت حق جل مجدہ کے اتارے ہوئے احکام ہیں جو کہ اس ساری کائنات کا خالق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–5

کچھ مزید حدود طلاق کے بارے میں تشریح : اسلام کیونکہ عالمگیر مذہب ہے اس لیے اس کے احکامات بھی بڑی وسعت رکھتے ہیں۔ ان آیات میں بندے کی سہولت کے لیے ایسی عورتوں کی عدت کا تعین کیا گیا ہے جو یا تو اتنی بوڑھی ہوں کہ ماہواری کی عمر سے اوپر چلی گئی ہوں کیونکہ قدرت نے عورت کا جسمانی نظام ایسے بنایا ہے کہ ایک خاص عمر تک وہ ماہواری کے مراحل سے گزرتی ہے پھر عمر کا زیادہ ہوجانا ماہواری کے بند ہوجانے کا سبب بنتا ہے۔ تو ایسی عورتوں کے لیے بھی عدت کا وقت تین مہینے ہے اور کچھ ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو کسی بیماری کی وجہ سے یا پھر لڑکی اتنی کم عمر ہو کہ ماہواری شروع ہی نہ ہوئی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی عدت بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

آیات 1 تا 7۔ اسرار ومعارف۔ اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 2 یعنی عدت گزرنے تک نہیں خچ اور رہنے کے لئے مکان دو مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں رجعی لاق دی جائے۔ رہی وہ عورت جسے تین طلاقیں مل چکی ہوں تو اسے نہ خرچ دینا ضروری ہے اور نہ رہنے کے لئے مکان فاطمہ بنت قیس کی حدیث میں آنحضرت نے یہ تصریح کردی ہے کہ سکنی اور نفقہ اس عورت کے لئے ہے جسے رجی طلاق دی گی ہو اور جب تین طلاقیں دے دی گئی ہوں تو اس کے لئے کوئی نفقہ و سکنی نہیں ہے۔ وقدم ابن کثیر3 یعنی سکوتن اور خرچ کے معاملہ میں ان پر تنگی نہ کرو۔4 مطلقہ حاملہ عورت کے لئے تا وضع حمل نفقہ اور سکنی کے واجب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے بشرطیکہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور تین طلاق ہونے کی صورت میں بھی اکثر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(65:5) ذلک : اسم اشارہ واحد مذکر، بمعنی احکام متذکرہ بالا۔ امر اللہ : مضاف مضاف الیہ مل کر مشار الیہ ، یہ جو کچھ عدت اور اس کی تفصیل کے متعلق اوپر مذکور ہوا ہے یہ اللہ کا حکم ہے۔ انزلہ : انزل میں فاعل اللہ ہے ہ ضمیر امر کی طرف راجع ہے جو اس نے (تمہاری طرف) نازل کیا ہے۔ ومن یتق اللہ۔ جملہ شرطیہ ہے (ملاحظہ ہو آیت نمبر 4 متذکرہ الصدر) ۔ یکفر عنہ سیئاتہ جملہ شرط ہے یکفر مضارع مجزوم واحد مذکر تکفیر (تفعیل) مصدر۔ وہ دور کر دے گا۔ وہ زائل کر دے گا۔ سیئاتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی برائیوں کو، اس کے گناہوں کو۔ ویعظم لہ اجرا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے یہ بھی شرط جواب میں ہے۔ یعظم مضارع مجزوم (بوجہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن۔ طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

طلاق کے بارے میں احکام کا ذکر۔ (ف 1) مسئلہ ۔ طلاق دی ہوئی عورت کو تاعدت رہنے کے لیے اپنے حسب حیثیت مکان دینا شوہر پر واجب ہے اور اس زمانہ میں نفقہ دینا بھی واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[8] یہ مایوسی سن کی زیادتی کے باعث بھی ہوسکتی ہے اور مرض سے بھی۔ [9] بہ سبب کم سنی کے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کم سنی یا قبل بلوغ بھی بالکل جائز ہے کیونکہ جب طلاق قبل بلوغ ہوسکتی ہے تو ظاہر ہے کہ نکاح طلاق سے قبل ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

اسلامی نظام ازواج 1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) یہ مذکورہ مضمون اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری جانب بھیجا ہے اور تمہارے لئے نازل فرمایا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور تقویٰ کی راہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اور اس کی برائیاں اس سے دور کردے گا اور اس کو برڑا ثواب عنایت کرے گا اور بڑا اجر دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو تمہاری ہدایت اور تمہارے منافع کے لئے اس کے نازل فرمائی ہیں چونکہ میاں بیوی کے تعلقات ہیں اور ان کے پورا کرنے کے لئے جانشین کو اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے ڈرانے کی ضرورت ہے اس لئے پھر تقوے کا ذکر فرمایا اور فرمایا اگر ڈرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو بڑی مضرتوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 1۔ خواہ کامل ہو یا ناقص بشرطیکہ کوئی عضو بن گیا ہو گو ایک انگلی ہی سہی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ اللہ کا حکم نازل کیا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں 5 ؎ گزشتہ آیات کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور حدود اللہ کی حفاظت کی تاکید کی جا رہی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری آسانی کے لیے نازل کیے ہیں اور خصوصاً عورتوں پر جو زیادتیاں روا رکھی گئی تھیں ان کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان اللہ کی بندیوں پر رحم کرتے ہوئے ان کو ظلم و زیادتی کا نشانہ نہ بنائو اور جو سہولتیں اللہ نے فریقین کے لیے رکھی ہیں ان کو مشکلات میں مت بدلو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں سے در گزر کرتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آسانیاں پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then the verse emphasises strict adherence to the above laws pertaining to divorce and waiting-period, thus: ذَٰلِكَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ (This is the command of Allah that He has sent down to you...5) After this, the verse again draws attention to another virtue of taqwa. وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يُكَفِّرْ‌ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرً‌ا (Arid whoever fears Allah, He will write off his evil deeds, and will give him a huge reward...65:5) Five Blessings of taqwa The merits and blessings of taqwa mentioned in the above verses may be summarised in five things: [ 1]…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 Although this is a general exhortation which applies to aII matters and conditions of human life, yet in this particular context the object is to warn the Muslims to follow the Commands mentioned above in fear of God, no matter what responsibilities they may have to shoulder in consequence thereof, for as a reward for this AIIah will remove their ills and will forgive their sins and will enhance their rewards in the Hereafter. Obviously, the waiting-period of the divorced woman whose term has been prescribed as three months, will be longer than that of the woman whose term has been…

Read the full tafseer →