Explained with ayahs 4–5
مسائل عدت
جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہوگئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گذاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ کی آیت، اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گذرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاصہ کی بیماری کا، دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو، یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے…
Read the full tafseer →سورة الطَّلَاق 12
یہ ان عورتوں کا حکم ہے جن کو حیض آنا قطعی بند ہوچکا ہو اور کبر سنی کی وجہ سے وہ سن ایاس میں داخل ہوچکی ہوں۔ ان کی عدت اس روز سے شمار ہوگی جس روز انہیں طلاق دی گئی ہو۔ اور تین مہینوں سے مراد تین قمری مہینے ہیں اگر قمری مہینے کے آغاز میں طلاق دی گئی ہو تو بالاتفاق رویت ہلال کے لحاظ سے عدت شمار ہوگی، اور اگر مہینے کے بیچ میں کسی وقت طلاق دی گئی ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک 30 دن کا مہینہ قرار دے کر 3 مہینے پورے کرنے ہوں گے (بدائع الصنائع)۔
رہیں وہ عورتیں جن کے حیض میں کسی نوع کی بےقاعدگی ہو، ان کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں۔
حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر…
Read the full tafseer →وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ۭ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ، اس آیت میں مطلقہ عورتوں کی عدت کی مزید تفصیل ہے جس میں تین قسم کی عورتوں کی عدت کا عام قاعدہ عدت سے جداگانہ حکم مذکور ہے۔
عدت طلاق کے متعلق نواں حکمعدت طلاق عام حالات میں تین حیض پورے ہیں جس کا بیان سورة بقرہ میں ہوچکا ہے لیکن و عورتیں جن کو عمر کی زیادتی یا کسی بیماری وغیرہ کے سبب حیض آنا بند ہوچکا ہو اسی طرح وہ عوتریں جن کو کم عمری کے سبب ابھی تک حیض آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت آیت مذکورہ میں تین حیض…
Read the full tafseer →(والی یسن من المحیضن من نساء کم ان ارتبتم فعد تھن ثلثۃ اشھر والی لم یحض واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ یسرا) (4)۔
(عورتوں کے اختلاف حالات کے سبب سے ان کی عدت میں فرق)۔ اوپر ان عورتوں کی عدت بتائی ہے جن کو حیض آتا ہے اور جن کی عدت کی حد بندی حیض اور طہر سے ہو سکتی ہے۔ اب یہ ان عورتوں کی عدت بتائی جا رہی ہے جو آئسہ ہوچکی ہوں یا ابھی ان کو حیض آیا ہی نہ ہو یا وہ حاملہ ہوں جس کے سبب سے ان کو حیض نہ آ رہا ہو۔ فرمایا کہ جو آئسہ ہوچکی ہوں یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو ان کی عدت تو تین مہینے ہے اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔
(ارباب تاویل کا ایک الجھن اور اس کا حل)۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ 1 یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔
4۔ 2 مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہوجائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہوجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8: سورة بقرہ (2: 228) میں طلاق یافتہ عورتوں کی عدت تین ماہواری بتائی گئی ہے، اس پر بعض حضرات کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ جن عورتوں کی ماہواری بڑی عمر میں پہنچنے پر بند ہوجاتی ہے ان کی عدت کیا ہوگی ؟ اس آیت نے واضح فرمادیا کہ تین ماہواری کے بجائے ان کی عدت تین مہینے ہوگی، اور اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی ماہواری آنی شروع ہی نہیں ہوئی ان کی عدت بھی تین مہینے ہوگی، اور جن عورتوں کو حمل کی حالت میں طلاق دی گئی ہو اس کی عدت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے یا حمل کسی وجہ سے گرجائے، چاہے وہ تین مہینے سے کم مدت میں ہو یا زیادہ مدت میں۔
Read the full tafseer →والئی ............................ لہ اجرا (5) (56 : 4 تا 5) ” اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ ) ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دو رکردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا “۔
ان آیات میں ان عورتوں کی مدت عدت کی تحدید کی گئی ہے جن کو حیض نہیں آتا اور وہ حاملہ…
Read the full tafseer →11 یعنی مطلقہ کی عدت قرآن نے تین حیض بتلائی (کما فی سورة البقرۃ) اگر شبہ رہا ہو کہ جس کو حیض نہیں آیا یا بڑی عمر کے سبب موقوف ہوا، اس کی عدت کیا ہوگی تو بتلا دیا کہ تین مہینے ہیں۔
12 جمہور کے نزدیک حامل کی عدت وضع حمل تک ہے خواہ ایک منٹ کے بعد ہوجائے یا کتنی ہی طویل مدت کے بعد ہو اس میں مطلقہ اور متوفی عنہا زوجہا دونوں کا ایک حکم ہے کما ہو مصرح فی الاحادیث۔
Read the full tafseer →اب آئندہ آیات میں پھر طلاق سے متعلق مسائل کا ذکر ہے :
آیت 4 { وََالّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ } ”اور تمہارے ہاں کی خواتین میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں“
یعنی ایسی عمر رسیدہ خواتین جن کے حیض کا سلسلہ بند ہوچکا ہو۔
{ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ } ”اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی“
ایسی خواتین کے معاملے میں چونکہ تین طہر اور تین حیض کا حساب کرنا ممکن نہیں ‘ اس لیے ان کی عدت کا شمار مہینوں میں کیا جائے گا۔ چناچہ ان کی عدت کی مدت تین ماہ ہوگی۔
{ وََّالّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَط } ”اور ان کی بھی جن کو ابھی حیض آیا ہی نہیں۔“
اگر کسی لڑکی کا کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
15 نکاح نابالغاں :۔ یعنی جو عورتیں اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ انہیں حیض آنا بند ہوچکا ہو یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انہیں عمر کی نسبت سے بڑی دیر کے بعد حیض آتا ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر حیض نہ آئے۔ ایسی سب عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور یہ اس دن سے شروع ہوجائے گا جس دن سے اسے طلاق دی گئی اور تین ماہ قمری شمار ہوں گے، شمسی نہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح جن بڑی عورتوں کو بھی حیض نہ آیا ہو یا اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں کہ ان کا حیض بند…
Read the full tafseer →10۔ قرآن مجید علاوہ اپنی دوسری حیثیتوں کے ایک فقہی وقانونی کتاب کے لحاظ سے بھی ہر طرح جامع ومکمل ہے۔ بشری ضروریات کا کوئی بھی گوشہ، جو ذراسی بھی اہمیت رکھتا ہے، اس سے چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ اور حیرت و عبرت دونوں کی بات ہے کہ اپنی اپنی ناقص کتابیں رکھنے والے دوسرے اہل مذاہب اس کمال اور ہنر کو الٹا نقص اور عیب شمار کررہے ہیں ! (آیت) ” والیء یئسن من المحیض “۔ یہ مایوسی سن کر زیادتی کے باعث بھی ہوسکتی ہے اور مرض سے بھی۔ (آیت) ” ان ارتبتم “۔ یعنی ان کی تعیین عدت کے باب میں اگر تمہیں شبہ ہے۔
11۔ (بسبب کم سنی کے) یہاں یہ بتادیا کہ ان دونوں قسم کی بیویوں کی عدت طلاق کی مدت پورے تین مہینہ ہے۔ ایک فقہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →والی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلٰثۃ اشھر والی لم یحضن و اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن .
” اور تمہاری (مطلقہ) بیبیوں میں جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہوں ‘ اگر تم کو (ان کی عدت کی تعیین میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور (اسی طرح) ان (مطلقہ) عورتوں کی بھی جو (کم عمر ہوں اور کمر عمری کی وجہ سے) جن کو حیض نہ آیا ہو اور حاملہ (مطلقہ و بیوہ) عورتیں تو ان کی عدت وضع حمل ہے۔ “
یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ : یعنی زیادتی عمر کی وجہ سے جن عورتوں کو حیض آنے کی امید نہیں رہی ہو بعض علماء نے پچپن سال اور بعض نے ساٹھ برس حیض سے مایوسی کی (انتہائی) عمر قرار دی ہے۔
اِنِ…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے حیض والی عورتوں کی عدت بیان کردی تو حضرت معاذ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ تو پھر ان عورتوں کی کیا عدت ہے جو حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں۔
تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں ایسی عورتوں کی عدت کے تعین میں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں پھر ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ جن عورتوں کو کم سنی کی وجہ سے حیض نہیں آتا ان کی کیا عدت ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی بھی عدت تین مہینے ہے، پھر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر حاملہ عورتوں کی کیا عدت ہے، تو اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ ان کی عدت ان کے اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور…
Read the full tafseer →1۔ وَالّٰئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ۔۔۔۔:”اتی“”اللاتی“ کی طرح ”التی“ کی جمع ہے ، وہ عورتیں۔ ’ ازتبتم“ ’ ریب“ (شک) میں سے باب افتعال ماضی مطلق معروف جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے ، اصل میں ’ ’ ارتیبتم“ تھا۔ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہیں اور وہ عورتیں جنہیں حیض آیا ہی نہیں ، اگر انہیں دخول کے بعد طلاق ہو تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے ، جب کہ دخولے بغیر طلاق ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ دیکھئے سورة ٔ احزاب (49)۔
2۔ اِنِ ارْتَبْتُمْ (اگر تمہیں شک ہو) کے تین مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اگر تمہیں شک ہو کہ عدت تو حیض سے شمارہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے یا آیا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
اس میں سات مسائل ہیں :
جن کو حیض کا خون نہیں آتا ان کی عدت
مسئلہ نمبر 1 ۔ واتی یئس من المحیض من نسائکم جب طلاق اور رجعت کا امر ان عورتوں کے بارے میں واضح فرما دیا جن کو حیض آتا ہے تو انہوں نے حیض والی عورتوں کی عدت کو پہچان لیا اس میں ان عورتوں کی عدت کو بیان کیا جو خون نہیں دیکھتیں۔ ابو عثمان عمر بن سالم نے کہا : جب سورة بقرہ میں ان عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا جن کو طلاق دی گئی اور جن کا خاوند فوت ہوگیا تھا تو حضرت ابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کہتے ہیں، عورتوں میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں کچھ ذکر نہیں ہوا، وہ چھوٹی عمر کی اور حاملہ عورتیں ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1۔ اسحاق بن راہویہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے عورتوں کی عدت کے بارے میں کہ یقینی طور پر عورتوں کی عدت میں سے ایک مدت ابھی باقی ہے جو قرآن میں ذکر نہیں کی گئی۔ کہ کم عمر اور عمر رسیدہ عورتیں کہ جن سے حیض منقطع ہوگیا ہے اور حمل والی عورتیں کہ ان کا ذکر نہیں کیا گیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سورة النساء میں آیت نازل فرمائی اور وہ یہ ہے آیت والئ یئسن من المحیض (اور تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہیں)…
Read the full tafseer →[وَاڿ: اور وہ عورتیں جو ] [يَىِٕسْنَ : مایوس ہوئیں ] [مِنَ الْمَحِيْضِ : حیض سے ] [مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ : تمہاری عورتوں میں سے ] [ان ارْتَبْتم : (ان کے بارے میں) اگر تم لوگ شک میں ہو ] [فَعِدَّتُهُنَّ : تو (جان لو کہ) ان کی عدّت ] [ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ : تین مہینے ہے ] [وَّاڿ: اور ان کی (بھی) جن کو ] [لَمْ يَحِضْنَ : حیض ہوا ہی نہیں ] [وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ : اور حملوں والیاں ] [اَجَلُهُنَّ : ان کی مدت ہے ] [ان يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ : کہ وہ رکھ دیں اپنا بوجھ (بچہ جَن لیں)] [وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ : اور جو تقوٰی اختیار کرے گا اللہ کا ] [يَجْعَلْ لَهٗ : تو وہ بنا دے گا اس کے لیے ] [مِنْ اَمْرِهٖ…
Read the full tafseer →عدت سے متعلق چند احکام کا بیان، حاملہ، حائضہ، آئسہ کی عدت کے مسائل
ان آیات میں متعدد احکام بیان فرمائے ہیں۔ اولاً تو ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جن کو حیض آنا بند ہوا۔ ان کی عدت تین ماہ ہے۔ دوم وہ عورتیں جن کو حیض آنا شروع نہیں ہوا، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔
پھر ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جن کو حمل ہو ان کا حمل جب بھی ختم ہوجائے (بچہ پیدا ہوجانے سے یا ایسے حمل ساقط ہوجانے سے جس کا کوئی عضو بن گیا تھا) ۔ عدت ختم ہوجائے گی، حمل والی عورتوں کی عدت علی الاطلاق وضع حمل جو بتائی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک اس کا عموم ہر عدت گزارنے والی عورت کو شامل ہے۔ جس کسی عورت کا شوہر کی وفات پر جو چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ذکر احکام بعض مطلقات مع بیان حق سکنی ونفقہ ومسئلہ رضاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والی ٓ ء یئسن من المحیض ...... الی ..... سیجعل اللہ بعد عسریسرا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں طلاق کی عدت اور طلاق واقع کرنے کے بعض احکام بیان فرمائے گئے تھے اور ان امور میں اللہ کے تقوی اور حدود شریعت کی پابندی کے لئے تاکید فرمائی گئی تھی اب ان آیات میں بعض مطلقہ عورتوں کے خصوصی احکام اور ان کے حقوق کا بیان ہے بالخصوص وہ مطلقہ عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا وہ حاملہ ہوں ان کی عدت اور متعلقہ احکام اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے، فرمایا۔
اور جو عورتیں ناامید ہوچکی ہوں حیض سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تم کسی قسم کا شبہ کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6:۔ ” اللائی یئسن “ اس آیت میں عدت کی دو میعادوں کا بیان ہے۔ ایک تین ماہ اور دوم وضع حمل۔ ہر میعاد دو دو قسم کی عورتوں کے لیے ہے۔ پہلی میعاد ان دو عورتوں کے لیے (1) آئسہ یعنی وہ عورت جس کو بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو۔ (2) وہ عورت جس کو ابھی حیض آنا شروع ہی ہوا ہو، خواہ صغیرہ ہو یا مراہقہ یا بالغہ بالسن۔ اسی طرح دوسری میعاد یعنی وضع حمل ان دو عورتوں کے لیے (1) وہ حاملہ جس کو حالت حمل میں طلاق ہوگئی (2) وہ حاملہ جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ ان ارتبتم ای فی مقدار عدتہن۔ واللائی مبتدا ہے اور فعدتہن الخ اس کی خبر ہے یعنی اگر ان کی مقدار عدت میں تمہیں شک ہو اور ” والمطلقات یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت آجائے تو ایسے وقت پر طلاق دو کہ عدت کا عرصہ ٹھیک ٹھیک شمار کیا جاسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت کے مطابق قدرت کے طہر کی حالت میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اگر طلاق رجعی ہے تو تکمیل عدت سے پہلے خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ نیز فرمایا کہ طلاق دیتے وقت اور رجوع کرتے وقت دو عادل گواہ بنالیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ جھگڑے کی صورت میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ نکاح اور طلاق سے متعلق مسائل سورة البقرہ اور سورة الاحزاب میں بیان ہوچکے ہیں اور ان کا کچھ حصہ یہاں بھی بیان ہورہا ہے۔ جن عورتوں کو حیض آتا ہے ان کی عدت بیان ہوچکی ہے کہ…
Read the full tafseer →وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ 0 ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ 0 ۭ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ يُسْرًا 4
يأس
اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ،
( ی ء س ) یأس
( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد) واستیئاس ( استفعال ) دونوں ہم معنی ہیں جیسے ۔ عجب فاستعجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
ترکیب : واللائی موصول یئسن صلہ من نسائکم بیان واللائی ان ارتبتم شرط فعدتہن جو ابہ والمجموع خیر واللائی ‘ واللائی لم یحضن مبتداء والخبر محذوف ای فعدتھن کذالک واولات الاحمال مبتداء اجلہن مبتداء ان یضعن خبرہ والجملۃ خبرا اولات الاحمال ‘ من حیث قال الزمخشری من للتبعیض ای بعض مکان سکنا کم وقال الرازی والکسائی زائدۃ وقال ابوالبقاء والحوفی لابتداء الغایۃ من وجدکم الوجد بضم الواو و الفتح والکسر ومعناہ من سعتکم وطاقتکم وھوبدل من حیث واتمرواقال الکسائی معناہ تشاور وابدلیل قولہ تعالیٰ ان الملاء یاتمرون بک وقال مقاتل المعنی لیتراض الاب واللام علی اجرمسمیٰ ۔
تفسیر : واحصوالعدّۃ کہ ان کو عدت کے لیے طلاق دو…
Read the full tafseer →وَالِّٰـٔیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰـثَۃُ اَشْھُرٍ لا وَّلِّٰـٔیْ لَمْ یَحِضْنَ ط وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا۔ (الطلاق : 4)
(اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان کا ہے جن کو ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے۔ تو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کردے گا۔ )
اختلافِ حالات کے باعث عورتوں کی عدت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ حیض سے ناامید اعورتوں کی عدت کا ذکر۔
1۔ آسیہ یعنی وہ عورت جو عمررسیدہ ہونے کی و جہ سے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہو۔ طلاق ہونے کی صورت میں اس کی عدت تین قمری مہینے ہوگی۔ اس کے بارے میں ” اِنِ ا رْتَبْتُمْفَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ اَشْہُرٍ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا معنٰی ہے کہ اگر تمہیں شک ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہوگی۔ ان الفاظ سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ شاید جس عورت کا حیض بند ہوچکا ہو اسے طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں، یہ استدلال ٹھیک نہیں ہے بلکہ اسے بھی عدت گزارنی چاہیے۔
2۔ جو عورت بلوغت کی عمر کو…
Read the full tafseer →عدت ِآئسہ :
4 : وَالّٰئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآ ئِکُمْ (اور تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہوں) روایت میں ہے کہ بعض لوگوں نے کہا ہمیں حیض والی عورتوں کی عدت تو معلوم ہوگئی۔ جو عورتیں حیض والی نہیں ہیں ان کی عدت کیا ہے ؟ تو یہ آیت اتری اِنِ ارْتَبْتُمْ (اگر تم کو شبہ ہو) اگر ان کا حکم مشکل ہوجائے اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ کس طرح عدت گزاریں تو فَعِدَّ تُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ (ان کی عدت تین ماہ ہے) یعنی ان کا حکم یہی ہے۔ ایک قول یہ ہے : اگر تمہیں بالغات کے دم حیض کے ناامیدی کی عمر تک پہنچ جانے میں شک ہو (اور اس کا اندازہ ساٹھ سال اور پچپن سال سے کیا گیا…
Read the full tafseer →3 ۔” ویرزقہ من حیث لایحتسب “ جو بکریاں ہانکیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس نے بکریاں اور دوسرا سامان حاصل کیا پھر اپنے والد کے پاس آیا تو اس کے والد نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ (علیہ السلام) کو اقعہ سنایا اور سول پوچھا کہ کیا جو ان کا بیٹا لایا ہے۔ اس کا کھانا ان کے لئے حلال ہے ؟
تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا “ وہ یہ کہ وہ جانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے اور ربیع بن خیثم (رح) فرماتے ہیں ” یجعل لہ مخرجا “ ہر اس چیز سے جو لوگوں پر تنگ ہو اور ابوالعالیہ (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ 5۔ مستدرک 2 ؎ حاکم مسند اسحاق بن راہویہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی صحیح سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة بقر میں یہ حکم نازل ہوا کہ طلاق والی عورتوں کی عدت کی مدت تین حیض ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ کم عمر یا حاملہ ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہوجانے سے جن عورتوں کے حیض کی عادت جاتی رہتی ہے اس طرح کی عورتوں کی عدت کی مدت کا کچھ حکم قرآن شریف سے نہیں معلوم ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اب سورة بقر اور اس سورة کی آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب کے ملانے سے عدت کے مسئلہ کا حاصل یہ ہوا کہ ایسی طلاق…
Read the full tafseer →چونکہ اللہ تبارک وتعالی نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق عورتوں کی عدت کے لیے ہے اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ ) وہ عورتیں جنہیں حیض آتا تھا پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ( ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ ) تین مہینے ہے۔ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ( وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ۭ ) یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے رہی وہ عورتیں جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیسہ اور صغیرہ کی عدت کا بیان
قول باری ہے (واللائی یئسن من المحیض من نساء کم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھرو ا للائی لم یحضن اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ اس میں جن عورتوں کا ذکر ہے ان کے لئے شک کے بغیر ایاس ثابت کردیا جائے اور قول باری (ان ارتبتم) سے ایاس کے متعلق شک مراد لینا درست نہیں ہے کیونکہ جن عورتوں کا ایاس ثابت ہوگیا ہے ان کا حکم آیت کی ابتداء میں اللہ نے ثابت کردیا ہے۔ اس سے…
Read the full tafseer →[ 17] آئسہ عورتوں کی عدت کا ذکر وبیان۔ اوپر ان عورتوں کی عدت کا حکم بیان فرمایا جا رہا ہے جن کو حیض نہ آتا ہو چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو ان کے بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے جن کو اسی بناء پر آسی کہا جاتا ہے سو اوپر ان عورتوں کی عدت بتائی گئی ہے جن کو حیض آتا ہے اور جن کی عدت کی حد بندی حیض اور طہر سے ہوسکتی ہے اب یہ ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی جا رہی ہے جن کو حیض نہ آتا ہو یا اس وجہ سے کہ ان کو ان کے برھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو جس کو آئسہ کہا جاتا ہے جس کا ذکر یہاں فرمایا جا رہا ہے اور یا اس کی صغر سنی کی بناء پر اس کو ابھی حیض آیا ہی نہیں جیسا کہ اس کے بعد آگے آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
کچھ مزید حدود طلاق کے بارے میں
تشریح : اسلام کیونکہ عالمگیر مذہب ہے اس لیے اس کے احکامات بھی بڑی وسعت رکھتے ہیں۔ ان آیات میں بندے کی سہولت کے لیے ایسی عورتوں کی عدت کا تعین کیا گیا ہے جو یا تو اتنی بوڑھی ہوں کہ ماہواری کی عمر سے اوپر چلی گئی ہوں کیونکہ قدرت نے عورت کا جسمانی نظام ایسے بنایا ہے کہ ایک خاص عمر تک وہ ماہواری کے مراحل سے گزرتی ہے پھر عمر کا زیادہ ہوجانا ماہواری کے بند ہوجانے کا سبب بنتا ہے۔ تو ایسی عورتوں کے لیے بھی عدت کا وقت تین مہینے ہے اور کچھ ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو کسی بیماری کی وجہ سے یا پھر لڑکی اتنی کم عمر ہو کہ ماہواری شروع ہی نہ ہوئی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی عدت بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کی عدت کیا ہے۔3 ۃ یعنی عام عورت کی عدت اگرچہ تین حیض ہے لیکن جس عورت کا حیض بڑھاپے کی وجہ سے موقف ہوگیا ہو یا اس کمسنی کی وجہ سے ابھی حفیض آنا شروع نہیں ہوا اس کی عدت تین ماہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ عدت طلاق کی صورت میں ہے شوہر کے مرجانے کی صورت میں ہر عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔ (بشرطیکہ حاملہ نہ ہو) سورة بقرہ آیت 234)14 مراد احاملہ عورتیں ہیں چاہے انہیں طلاق ہو یا انکے شوہر کا انتقال ہو۔
1 چاہے ایک منٹ کے بعد اور چاہے کتنی ہی طویل مدت کے بعد یہ چیز آیت کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور صحیح احادیث میں بھی اس کی تصریح۔ شوکانی)
Read the full tafseer →(65:4) الئی۔ اسم موصول، التی کی جمع (وہ سب عورتیں) جو ۔ جنہوں نے۔
یئسن : ماضی جمع مؤنث غائب یاس (باب سمع) مصدر۔ یئس ماضی واحد مذکر غائب ۔ بئس مضارع واحد مذکر غائب ی و س مادہ مایود ہونا۔ ناامید ہونا۔ یئس (جو) ناامید ہوگئی ہوں۔
المحیض۔ اسم ظرف زمان (وت حیض) ظرف مکان (مقام حیض) مصدر۔ (حیض آنا) یا بمعنی حیض۔ وہ فاسد خون کو مخصوص زمانہ اور مخصوص حالت میں تندرست جوان غیر حاملہ عورت کے رحم سے نکلتا ہے۔ محاض بھی مصدر ہے اس سے افعال باب ضرب سے آتے ہیں۔
من نسائکم : من تبعیضیہ ہے نسائکم مضاف مجاف الیہ ۔ تمہاری عورتوں میں سے بعض۔
ان ارتبتم جملہ شرط۔ ان شرطیہ۔ ارتبتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ارتیاب (افعال)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول :
مستدرک ، حاکم اسحاق بن راہو، یہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی صحیح سند سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة بقر میں یہ حکم نازل ہوا، کہ طلاق والی عورت کی عدت کی مدت تین حیض ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ عمریاحاملہ ہونے کے سبب سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا، یا بڑی عمر ہوجانے سے جن عورتوں کو حیض کی عادت جاتی رہتی ہے اس کی طرح عورتوں کی عدت کی مدت کایارسول اللہ کیا حکم ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اب سورة بقرہ اور اس سورة کی آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب کے ملانے سے عدت کے مسئلہ کا حاصل یہ ہوا کہ ایسی طلاق والی عورت جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[8] یہ مایوسی سن کی زیادتی کے باعث بھی ہوسکتی ہے اور مرض سے بھی۔
[9] بہ سبب کم سنی کے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کم سنی یا قبل بلوغ بھی بالکل جائز ہے کیونکہ جب طلاق قبل بلوغ ہوسکتی ہے تو ظاہر ہے کہ نکاح طلاق سے قبل ہی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(4) اور اگر تم کو اپنی ان مطلقہ عورتوں کی عدت کے بارے میں شبہ ہو جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے حیض کے آنے سے مایوس ہوچکی ہوں اور ناامید ہوگئی ہوں تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان عورتوں کی عدت تین مہینے ہے جن کو حیض آنا ابھی شروع نہیں ہوا اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے اور اس کے ہر کام میں آسانی کردیا کرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تین حیض عدت فرمائی اگر شبہ رہا ہو کہ جس حیض نہیں آیا بڑی عمر کے سبب موقوف ہوا اس کی عدت کیا ہوگی تو بتادئے تین مہینے۔
کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ خواہ کامل ہو یا ناقص بشرطیکہ کوئی عضو بن گیا ہو گو ایک انگلی ہی سہی۔
Read the full tafseer →حیض سے مایوس عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جن کو حیض نہیں آتا
4 ؎ زیر نظر آیت میں ہمارے مفسرین نے بہت لمبا کلام کیا ہے اور وہ بحث کرتے کرتے دور سے دور نکل گئے ہیں ۔ آئسہ کیا ہے ؟ یاس کس مدت عمر سے شروع ہوتا ہے۔ آئسہ مدخولہ کا کیا حکم ہے ؟ آئسہ غیر مدخولہ کی کیا صورت ہے اگر کسی عورت کو حیض آنا بند ہوچکا ہو لیکن وہ کسی عارضی یعنی بیماری کے باعث ہو اگر حیض رک گیا ہو لیکن وہ مستحائضہ ہو کبھی حیض آئے اور کبھی نہ آئے یعنی ان کے دن متعین نہ رہے ہوں اس طرح کے بیسیوں سوال انہوں نے اٹھائے اور ان کے فرضی جواب دیئے۔ اس کے درمیان فقہاء کو کیا کیا پریشانیاں لا حق ہوئیں اور انہوں نے کیا کیا…
Read the full tafseer →Rule [ 9]
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
(And those women from among you who have despaired of [ further ] menstruation, if you are in doubt, their "iddah is three months, as well as of those who have not yet menstruated. As for those having pregnancy, their term [ of "iddah ] is that they give birth to their child…65:4)
This verse deals with additional rules pertaining to the waiting-period of divorced women. It subdivides…
Read the full tafseer →12 This is in respect of the women who no longer menstruation and have reached menopause because of age. Their waiting-period will be reckoned from the day divorce was pronounced on them and three months imply three lunar months. If divorce was pronounced at the commencement of the lunar month. it is agreed that the waiting-period will be reckoned with regard to the sighting of the new moon; and if it was pronounced somewhere in the middle of the month, according to Imam Abu Hanifah, three months will have to be completed reckoning each month of 30 days. (Badai' as-Sami) .
As for the women…
Read the full tafseer →