Explained with ayahs 2–3
عائلی قانون
ارشاد ہوتا ہے کہ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہئے کہ دو باتوں میں سے ایک کرلیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر گالی گلوچ دیئے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ۔ (یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں) پھر فرمایا ہے اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو، ابو داؤد اور اور ابن ماجہ…
Read the full tafseer →سورة الطَّلَاق 10
مراد یہ ہے کہ عدت کے دوران میں مطلقہ بیوی کو گھر میں رکھنا، اس کا خرچ برداشت کرنا، اور رخصت کرتے ہوئے اس کو مہر یا متعہ طلاق دے کر رخصت کرنا بلا شبہ آدمی پر مالی بار ڈالتا ہے۔ جس عورت سے آدمی دل برداشتہ ہو کر تعلقات منقطع کرلینے پر آمادہ ہوچکا ہو، اس پر مال خرچ کرنا تو اسے ضرور ناگوار ہوگا۔ اور اگر آدمی تنگ دست بھی ہو تو یہ خرچ اسے اور زیادہ کھلے گا۔ لیکن اللہ سے ڈرنے والے آدمی کو یہ سب کچھ برداشت کرنا چاہیے۔ تمہارا دل تنگ ہو تو ہو، اللہ کا ہاتھ رزق دینے کے لیے تنگ نہیں ہے۔ اس کی ہدایت پر چل کر مال خرچ کرو گے تو وہ ایسے راستوں سے تمہیں رزق دے گا جدھر سے رزق ملنے کا تم گمان…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کرے گا اللہ اس کی مہمات کے لئے کافی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جس طرح چاہے پورا کر کے رہتا ہے اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے اسی کے مطابق سب کام ہوتے ہیں ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ اس کا حق ہے تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسا پرندے جانوروں کو دیتا ہے کہ صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے…
Read the full tafseer →(ویرزقہ من حیث لا یحتسب) یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوسکا۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے کر بیوی کو گھر سے نکال باہر کرنے کا ایک بڑا محرک، خاص طور پر غرباء کے لیے، ان کا معاشی مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ جب ایک عورت کو طلاق دے چھوڑی تو اب اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری مفت میں کیوں اٹھائیں ! ! اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم اللہ کے حدود کے احترام کے لیے یہ بوجھ اٹھائو گے تو وہ تمہیں وہاں سے رزق فراہم کرے گا جہاں سے تم کو گمان بھی نہ ہوگا۔ یہ خیال نہ کرو کہ خدا کی رحمت…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی وہ جو چاہے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔
3۔ 2 تنگیوں کے لئے بھی اور آسانیوں کے لئے بھی۔ یہ دونوں اپنے وقت پر انتہا پذیر ہوجاتے ہیں۔ بعض نے اس سے حیض اور عدت مراد لی ہے۔
Read the full tafseer →7: یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کا کام بنا دیتا ہے، لیکن کام بنانے کی نوعیت اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ خود مقر فرماتا ہے، کیونکہ اس نے ہر چیز کا ایک نپا تلا اندازہ طے فرما رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ومن .................... یحتسب (56 : 3) ” جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو “۔ وہ دنیا اور آخرت کی تنگیوں سے انہیں نکال دے گا۔ اور رزق ایسے ذرائع سے اسے دے گا جدھر کا اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ یہ ایک عام فیصلہ اور دائمی حقیقت ہے۔ لیکن یہاں ان اصولوں کو احکام طلاق پر منطبق کیا جاتا ہے۔ اشارہ یہ ہے کہ ان احکام پر پورا پورا عمل کرو۔ خدا خوفی ایک ایسا ضابطہ ہے جو ایسے معاملات میں سب سے زیادہ کارگر ہے۔ خوف خدا ہی انسان کے لئے ایک اچھا نگراں ہے ورنہ قانونی ضوابط میں سے لوگ اپنے…
Read the full tafseer →9 اللہ کا ڈر دارین کے خزانوں کی کنجی اور تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے اسی سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں، بےقیاس و گمان روزی ملتی ہے گناہ معاف ہوتے ہیں، جنت ہاتھ آتی ہے اجر بڑھتا ہے اور ایک عجیب قلبی سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی سختی، سختی نہیں رہتی، اور تمام پریشانیاں اندر ہی اندر کافور ہوجاتی ہیں ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمام دنیا کے لوگ اس آیت کو پکڑ لیں تو ان کو کافی ہوجائے۔
10 یعنی اللہ پر بھروسہ رکھو، محض اسباب پر تکیہ مت کرو۔ اللہ کی قدرت ان اسباب کی پابند نہیں۔ جو کام اسے کرنا ہو، وہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ اسباب بھی اسی کی مشیت کے تابع ہیں۔ ہاں ہر چیز کا اس کے ہاں ایک…
Read the full tafseer →آیت 3{ وَّیَرْزُقْـہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ } ”اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔“
اس دنیا میں رہتے ہوئے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ رزق یعنی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا ہے۔ اس لیے جب کوئی اللہ کا بندہ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فرمانِ الٰہی : { اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } الانعام کو اپنا نصب العین بنانا چاہتا ہے تو اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہ اندیشہ بنتا ہے کہ ضروریاتِ زندگی کیسے پوری ہوں گی ؟ چناچہ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اہل ِ ایمان کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اے میرے بندو ! تمہارا رازق…
Read the full tafseer →12 اس مقام پر رزق کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کرسکتا ہے، کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے۔ مگر عورت صاحب جائیداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے۔ تو خاوند اس کو چھوڑنے پر ہی آمادہ نہیں ہوتا۔ مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوتا ہے۔ لہذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکائے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہئے جو اللہ کا حکم ہو۔ تنگدستی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتے…
Read the full tafseer →8۔ آیت میں صاف اس کی تعلیم ہے کہ دشواریوں اور تنگیوں سے نکلنے کی کنجی تقوی الہی ہے۔ (آیت) ” یجعل لہ مخرجا “۔ یعنی اسے ہر قسم کی مشکلات سے نجات دلا دیتا ہے۔ (آیت) ” ویرزقہ من حیث لا یحتس “۔ قرآن مجید کی جن چند آیتوں کی صداقت وحقانیت پر، اپنے ذاتی تجربہ ومشاہدہ کی بناء پر بےاختیار وجد کرنے کو جی چاہتا ہے، ان میں ایک یہ آیت بھی ہے، واقعہ یہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے ایسے راستوں اور وسیلوں سے کھلاتا، پلاتا، آمدنیاں دلاتا ہے ادھر ان کا وہم و گمان بھی نہیں جاسکتا تھا۔ اپنے اور دوسروں کیلئے روز مرہ اس کے مشاہدے ہوتے رہتے ہیں، بلکہ (آیت) ” ومن یتق اللہ کی قید کے بغیر بھی ! تقوی کے بغیر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →لا یحتسب .
اور اس کو اس جگہ سے رزق بھی پہنچا دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ “
ومن یتوکل ... شیء قدرا .
” اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ اس (کی تسہیل مہمات) کے لیے کافی ہے اور اللہ اپنا کام (جس طرح چاہے) پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ (اپنے علم میں) مقرر کر رکھا ہے۔ “
فَھُوَ حَسْبُہٗ : یعنی اس کے تمام فکر آگیں امور کے لیے اللہ کافی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے اگر تم لوگ اللہ پر ایسا بھروسہ کرلو جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے (یعنی کامل بھروسہ کرلو) تو اللہ تم کو اس طرح رزق عطا فرمائے گا جس طرح پرندوں کو دیتا…
Read the full tafseer →اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا یہ آیت حضرت عوف بن مالک اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ دشمن نے ان کے لڑکے کو قید کرلیا تھا پھر بعد میں وہ بہت سے اونٹ لے کر واپس آئے، اور جو شخص رزق میں بھی اللہ تعالیٰ پر توکل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے۔
سختی اور نیکی میں اپنا حکم پورا کر کے رہتا ہے سختی ہو یا فراخی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شے کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے کہ اس پر آکر وہ چیز پوری ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →1۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ : مفسر عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں :”اس مقام پر رزق کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے ، بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کرسکتا ہے کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوسکتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے مگر عورت صاحب جائیداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے تو خاوند اس کی چھوڑنے ہی پر آمادہ نہیں ہوتا ، مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوا ہے ، لہٰذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکاتے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ کا حکم ہو ،…
Read the full tafseer →ویرزقہ من حیث لایحتسب اللہ تعالیٰ اسے ثواب عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان تک نہ تھا یعنی جو اسے دیا ہے اس میں برکت رکھ دے گا۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : جو اتباع سنت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اللہ تعالیٰ بدعتیوں کی عقوبت سے اسے محفوظ رکھے گا اور ایسے طریقہ سے جنت عطا فرما دے گا جہاں سے اس کا گمان تک نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو رزق میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اللہ تعالیٰ کفایت کے ساتھ اس کے لئے کوئی راہ پیدا فرما دے گا۔ عمر بن عثمان صوفی نے کہا : جو حدود پر رک گیا، معاصی سے اجتناب کرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے حرام سے حلال کی طرف، تنگی سے وسعت کی طرف اور جہنم سے جنت کی طرف نکالے گا اور اسے…
Read the full tafseer →84۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے۔ سے مراد ہے کہ وہ متوکل نہیں ہے جو کہتا ہے کہ میری حاجت پوری کی جائے گی جس کسی نے اللہ پر توکل کیا اس کے لیے یہ نہیں ہے اور اس کی تمام مشکلات اور مہمات میں اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہوگا اور دور فرمادے گا اس سے ہر اس چیز کو جس کو وہ ناپسند کرتا ہے اور اس کی ہر حاجت پوری فرمادے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے اس شخص کو جس نے توکل کیا اس شخص پر جس نے توکل نہیں کیا یہ کہ اس کے گناہوں کو مٹا دے گا اور اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس…
Read the full tafseer →[وَّيَرْزُقْهُ : اور وہ روزی دے گا اس کو ] [مِنْ حَيْثُ : وہاں سے جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا ] [لَا يَحْتَسِبُ : اور جو بھروسہ کرے گا اللہ پر ] [وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ : اور جو بھروسہ کرے گا اللہ پر ] [فَهُوَ حَسْبُهٗ : تو وہ کافی ہوگا اس کو ] [ان اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [بَالِغُ اَمْرِهٖ : اپنے کام کا پہنچنے والا (پورا کرنے والا) ہے ] [قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ : بنادیا ہے اللہ نے ] [لِكُلِ شَيْءٍ : ہر چیز کے لیے ] [قَدْرًا : ایک اندازہ ]
Read the full tafseer →﴿ وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ﴾ (اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق ملنے کا خیال بھی نہ ہو) اس میں مومن بندوں کے لیے بہت بڑی تعلیم ہے جو شخص فرمانبرداری کرے گا نیک اعمال میں لگے گا گناہوں سے بچے گا اور احکام شرعیہ پر عمل کرے گا (خواہ طلاق یا رجعت سے متعلق ہوں جن کا یہاں ذکر ہے۔ خواہ زندگی کے دوسرے شعبوں سے متعلق) ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی ہے۔
تقویٰ مومن بندوں کے لیے دنیا و آخرت میں فلاح کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ والوں سے دو وعدے کیے ہیں اول یہ کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی مخرج یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ نکال دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
احکام طلاق وعدت نفیقہ وسکنی وتاکید تقوی وتنبیہ برتجاوز از حدود خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء ....... الی ....... لکل شیء قدرا “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں عقائد و ایمانیات کا ذکر تھا، اللہ رب العزت کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور اس کی ذات وصفات کا مختلف اسلوبوں سے تعارف کرایا گیا جس کے ساتھ کچھ احکام عبادات سے بھی متعلق بیان کیئے گئے تو اب اس سورت میں معاملات ومعاشرت کے بعض اہم اصول و احکام ذکر فرمائے جارہے ہیں، اور اس میں شبہ نہیں کہ خاندانی منازعت اور جھگڑے بسا اوقات طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح کی خصومت اور جھگڑے انسان کے دین اور ایمان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4:۔ ” فاذا بلغن “ ای قاربن انقضاء العدۃ (قرطبی) جب ان کی عدت اختتام کے قریب ہو، تو اب بھی موقعہ ہے سوچ سمجھ کر آخری فیصلہ کرلو۔ اگر رجوع کر کے اسے اپنے پاس رکھنا چاہو تو رکھ لو، مگر مقصد حسن معاشرت ہو نہ کہ اسے ایذاء دینا۔ اگر رجوع کرنے کا ارادہ نہ ہو تو بھی اسے اچھے برتاؤ کے ساتھ عدت گذارنے کا موقع دو ، تاکہ انقضاء عدت کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہا چاہے نکاح کرلے۔ اس وقت جو بھی فیصلہ کرلو رجعت کا یا فرقت کا، دو قابل اعتماد آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لو اور ان کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردو تاکہ تمہارا فیصلہ شک و ریب سے بالا تر ہوجائے اور بعد میں نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔ ” واقیامو الشہادۃ للہ “ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ربط آیات :
پچھلی آیت میں اللہ نے طلاق کا قانون بیان فرمایا کہ اگر عورت کو طلاق دینا ہی پڑے تو پھر ایسے صحیح وقت پر طلاق دو کہ عدت کی موت ٹھیک ٹھیک شمار ہوسکے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق طہر کی حالت میں دینی چاہیے ، تاکہ تین حیض کا وقفہ واضح طور پر معلوم کیا جاسکے۔ پھر فرمایا کہ دوران مدت عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ البتہ اگر عورت کسی بےحیائی کے کام کی مرتکب ہو یا کوئی دوسرا معقول عذر ہو ، تو پھر اسے گھر سے نکالا جاسکتا ہے ، فرمایا یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ، ان کی پاسداری کرو ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی بہتر صورت پیدا کردے۔
رجوع یا جدائی…
Read the full tafseer →وَّيَرْزُقْہُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ فَہُوَحَسْبُہٗ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ 0 ۭ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا 3
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم،
( ر ز ق) الرزق
وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ترکیب : فاذا شرط فامسکوا وفارقوا جواب الشرط واشہدوا واقیموا جملۃ مستانفۃ ذلکم مبتداء یوعظ فعل مجھول من موصولۃ مع صلۃ مفعول مالم یسم فاعلہ والمجموع خبرہ ومن شرطیہ یجعل ویرزقہ جو ابہ وکذا من یتوکل حسبہ المصدر بمعنی الفاعل بالغ امرہ قویٔ بتنوین بالغ ونصب امرہ وقریٔ بالاضافہ وقریٰ بتنوین بالغ ورفع امرہ لانہ فاعل بالغ اوعلی ان امرہ مبتداء مؤخرہ بالغ خبرمقدم وقریٔ بالغا بالنصب علی الحال ویکون خبران قولہ قدجعل۔
تفسیر : اسلام نے نہ عیسوی مذہب کی طرح طلاق کا جواز صرف زبان پر منحصر کر کے دائرہ معیشت کو تنگ کیا اور نہ یہود کی طرح ادنیٰ ادنیٰ بات پر طلاق روا رکھ کر ہمدردی انسانی پر دھبہ لگایا۔ اس عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْـکُمْ وَاَقِیْمُوالشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ط ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ 5 ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ط قَدْجَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ئٍ قَدْرًا۔ (الطلاق : 2، 3)
(پس جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو اور یا بھلے طریقے سے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : عدّت کے دوران میاں بیوی کی آپس میں صلح نہ ہو تو انہیں اچھے طریقے سے ایک دوسرے سے الگ ہوجانا چاہیے۔
بیوی کو کسی اہم وجہ کے بغیر طلاق دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں طلاق دینے سے پہلے میاں بیوی اور ان کے لواحقین کو کچھ اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر طلاق دینا ناگزیر ہوجائے تو اس کا طویل طریقہ کار متعین کیا ہے تاکہ جہاں تک ہوسکے صورت حال کو طلاق تک پہنچنے سے روکاجائے۔ اگر بالفرض نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو حکم ہے کہ جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کو پہنچ جائیں تو طلاق رجعی کی صورت میں انہیں اچھے طریقے سے رکھنا ہے یا پھر…
Read the full tafseer →3 : وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ( اور اس کو ایسی جگہ سے رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں) ایسے طریق سے کہ جس کا اس دل میں گمان بھی نہیں ہوتا) یہ بھی درست ہے کہ اس آیت کو ذلکم یوعظ بہٖ کے ساتھ بطور استطراد لایاجائے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کا راستہ مقرر کردیں گے اور اس کو دنیاوآخرت کے غموم سے چھٹکارا ملے گا نبی اکرم ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی اور فرمایا دنیا کے شبھادت اور غمرات موت اور قیامت کے دن کی سختیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ (رواہ الثعلبی والواحدی۔ حاشیہ کشاف) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ایک ایسی آیت معلوم ہے۔ کہ اگر…
Read the full tafseer →2 ۔” فاذا بلغن اجلھن “ یعنی ان کی عدت پوری ہونے کے قریب ہوجائے۔ ” فامسکوھن “ یعنی ان سے رجوع کرلو۔ ” بمعروف اور فارقوھن بمعروف “ یعنی ان کو چھوڑ دو حتیٰ کہ ان کی عدت ختم ہوجائے۔ پھر وہ تم سے جدا ہوجائیں۔ ” واشھدواذوی عدل منکم “ رجوع یا فراق پر۔ رجوع پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے۔
” واقیموالشھادۃ للہ “ اے گواہو ! ” ذلکم یوعظ بہ من کا یو من باللہ والیوم الآخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا “ عکرمہ ، شعبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں اور جو اللہ سے ڈرے پس سنت کے مطابق طلاق دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کا ذریعہ بنادے گا اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ نے فرمایا ہے۔ یہ عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 3۔ سورة بقر میں صحیح روایتوں کے حوالہ سے گزر چکا ہے کہ بعض لوگ عدت کے ختم ہونے کے قریب طلاق سے رجوع کرکے برائے نام میل جول کرلیتے تھے اور عورتوں کے ستانے کے لئے ایک عرصہ تک یہی سلسلہ جاری رہتا تھا سورة بقر میں بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس عادت سے روکا اور یہاں بھی فرمایا کہ عدت کے ختم ہونے کے قریب یا تو دو گواہوں کی گواہی سے ہمیشہ کے لئے میل جول کرکے حسن سلوک سے اس کو قائم رکھا جائے یا عدت گزرجانے کے بعد بغیر کسی بد زبانی اور سختی کے اس عورت کو چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ دوسرا نکاح کہیں اور کرلے۔ غرض عورتوں کے ستانے کا طریقہ جو بعض لوگوں نے نکال رکھا ہے وہ بالکل بند کردیا جائے میل جول کے لئے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ ) اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ( وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ) جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ پر توکل کرتا ہے یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ بھروسا کرتا ہے (فھو حسبہ) تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے جس میں اس نے اس پر بھروسا کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قول باری ہے (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اوفار قوھن بمعروف ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجائو)
اس سے مراد یہ ہے کہ جب عدت کے اختتام کا وقت قریب آجائے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ جب عدت کی مدت حقیقت میں گزر جائے کیونکہ عدت گزر جانے کی منزل پر پہنچ جانے کی صورت میں رجوع کرلینے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اللہ تعالیٰ نے مدخولہ بیوی کی طلاق کا ابتداء میں جو ذکر کیا ہے وہ رجوع کرلینے کے ذکر کے ساتھ مقرون ہے چناچہ ارشاد ہے (لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا) یعنی یہ کہ شوہر کی رائے بدل جائے اور بیوی کو…
Read the full tafseer →[ 14] تقوی و پرہیزگاری پر رزق بےگماں کی بشارت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو وہ روزی وہاں سے دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا روایات میں وارد ہے کہ حضرت عوف بن مالک الاشجعی ؓ نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ دشمن ان کے بیٹے سالم کو پکڑ کرلے گئے ہیں جس سے ان کی اہلیہ یعنی سلام کی والدہ کا برا حال ہو رہا ہے نیز انہوں نے نبی کی خدمت میں اپنے اس فقر وفاقہ کی بھی شکایت کی جس سے وہ اس وقت دو چار تھے اس پر نبی نے ان کو اسی ہدایت وتعلیم کی راہنمائی فرمائی جو کہ اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم دونوں میاں بیوی تقوی کو لازم پکڑو صبر سے کام لو اور لا حول ولا قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
طلاق کی خاص حدود
تشریح : حدیث میں آتا ہے، اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو،۔ (ابو داؤ)
اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اسی طرح طلاق کی اجازت اور پھر اس کے لیے حدودو قوانین ایسے بہترین اور انسانی سوسائٹی کی اصلاح کے عین مطابق ہیں کہ انسان فورا سمجھ جاتا ہے کہ یہ اس باہمی نظام کی کڑیوں کو درست کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو میاں بیوی کی مضبوط زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ زنجیر نظام کائنات کو درست رکھنے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ پورے معاشرے کی اصلاح گھر سے ہی تو شروع ہوتی ہے۔ اس لیے گھر کا ماحول صحت مند، پر سکون اور منظم ہونا چاہیے۔ اگر اس کی ترتیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →ف 8 اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ شعبی اور ضماک کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جو شخص مسنون طریقہ سے طلاق دیتا ہے اللہ تعالیٰمدت میں رجوع کے لئے اس پر راستہ کھول دیتا ہے یا مصیبت میں صبر پر دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ اول کلبی کا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ حرام کاموں سے بچنے کا راستہ نکال دیتا ہے وغیرہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ان تمام اقوال کو شامل ہے۔ (شوکانی)9 حضرت عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰپر صحیح بھروسا کرو تو وہ تمہیں پرندوں کی طرح روزی دے جو صبح کو خالی پیٹ نکالتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر پلٹتے ہیں۔ (ترمذی)10 ینی کوئی…
Read the full tafseer →(65:3) ویرزقہ من حیث لا یحتسب : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور یہ بھی جواب شرط ہے۔ وہ اس کو رزق دیتا ہے (اس میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب من یتق اللہ میں من کی طرف راجع ہے) من حرف جار اور حیث (بمعنی جہاں۔ جس جگہ) اسم ظرف مکان مبنی برضمہ ہے۔
من حیث ایسی جگہ سے، جہاں سے ۔ لایحتسب مضارع منفی مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ واحد مذکر غائب احتساب (افتعال) مصدر۔ (جہاں سے ) وہ گمان بھی نہیں کرتا۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ ” میں کہتا ہوں کہ :۔ رفتار آیت حضرت عوف کے قصہ کے موافق ہے اور سیاق عبارت کے مناسب حکم عام ہے۔ (یعنی مودر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 1) یعنی طلاق رجعی میں جب عدت ختم ہونے کو آئے تو تم کو دو باتوں میں ایک کا اختیار ہے ۔ (1) یاعدت ختم ہونے سے پہلے عورت کو دستور کے موافق رجعت کرکے اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور دل میں پھر دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو (2) یاعدت منقفی ہونے پر معقول طریقہ سے مہر وغیرہ انکے حق ادا کرکے ان سے جدائی کرلو، اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ، مطلب یہ ہے کہ رکھنا ہوتب اور الگ کرنا ہو تب ہر حالت میں آدمیت اور شرافت کا برتاؤ کرو، یہ بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو اور خواہ مخواہ تطویل عدت کے لیے رجعت کرلیاکرو، یا رکھنے کی صورت میں اسے ایذا پہنچاؤ، اور طعن وتشنیع کرو، پس ان کو پریشانی میں مت ڈالو، خواہ…
Read the full tafseer →[5] جس عورت سے آدمی دل برداشتہ ہو کر تعلقات منقطع کرلینے پر آمادہ ہوچکا ہو اس پر مال خرچ کرنا تو اسے ضرور ناگوار ہوگا۔ اور اگر آدمی تنگ دست بھی ہو تو یہ خرچ اسے اور زیادہ کھلے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو یہ سب برداشت کرنا چاہئے۔ اگر آدمی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام کی پابندی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی میں کشادگی عطا کرے گا۔
[6] یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں۔
[7] یعنی اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ ہے۔ اسی کے مطابق وہ ظہور پذیر ہوتی ہے اس لئے اگر کسی چیز کے حاصل ہونے میں کچھ دیر ہو تو آدمی کو گھبرانا نہیں چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(3) اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کو خیال بھی نہیں ہوتا اور جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرلیتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کررکھا ہے۔
میاں بیوی کے تعلقات میں چونکہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا بڑا دخل ہے کیونکہ اس کے بغیر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا امکان ہے اس لئے تقوے کی تاکید کرتے ہوئے اوپر فرمایا تھا کہ پرہیزگاروں کے لئے مخلصی اور کشائش کی راہ نکال دی جاتی ہے۔
اب فرمایا رزق رسانی بھی بیگمان ہوتی ہے اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے…
Read the full tafseer →ف 4۔ اگر ضرر و نفع و رزق اخروی لیا جاوے تب تو یہ معنی ہوں گے کہ عذاب سے نجات دے گا، اور جنت کا رزق دے گا اور اگر ضرر و نفع دنیوی مراد ہے تو اس کے تحقق کی دو صورتیں ہیں، ایک حسا کہ اکثری ہے کہ وہ بلا ٹل جاوے اور رزق وغیرہ کی فراخی ہوجاوے، دوسرے بطنا کہ کلی ہے کہ اس بلا پر صبر ہوجاوے کہ یہ بھی حکما مثل رزق حسی کے ہے اثر سکون و طمانینت میں اور اس کو لا یحتسب کہنا بایں معنی ہوگا کہ ظاہرا تو سکون نفس کا طریقہ فراخی رزق ہے قناعت سے سکون من حیث لا یحتسب ہے۔
5۔ یعنی اپنی کفایت کا اثر خاص اصلاح مہمات ظاہر فرماتا ہے۔
6۔ آگے پھر عود ہے احکام کی طرف۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ڈرنے والوں کو اس طرح رزق عطا کرتا ہے کہ ان کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتا
3 ؎ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور حدود اللہ کی پابندی کرتے ہیں خصوصاً جن باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے عقل و فکر سے کام لینے کی تاکید کی ہے وہاں دیانت و امانت کے ساتھ عقل و فکر سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری اور ان کو بجا لانے کے ان کے دل میں کبھی اس بات کی سوچ ہی نہیں آتی کہ ایسا کریں گے تو ہم کو یہاں اتنی بچت آئے گی اور ہمیں یہ فائدہ پہنچے گا وہ اپنا نفع و نقصان اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ سمجھتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ کام کیے جاتے ہیں اور نتیجہ اس کے سپرد کرتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا whoever places his trust in Allah, He is sufficient for him. Surely Allah is to accomplish His purpose. Allah has set a measure for everything....65:3) ۔ In this verse Allah promises those who put their trust in Him that He shall suffice for them against all odds, because Allah will execute His decisions that He made for them, in whatever way He wills and chooses. Allah set a measure for all things. It is in accordance…
Read the full tafseer →8 These words clearly show that the instructions given above are in the nature of advice and not law. If a matt pronounces divorce against the approved method as explained above, or fails to reckon the waiting-period accurately. or expels the wife from the house without a good reason, or returns to her at the end of the waiting-period only to harass her, or sends her away after a quarrel, or fails to call the men to witness the divorce, reconciliation, or separation, if will not affect the legal effects of divorce or reconciliation or separation at all. However, his acting against Allah's…
Read the full tafseer →