Explained with ayahs 2–3
عائلی قانون
ارشاد ہوتا ہے کہ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہئے کہ دو باتوں میں سے ایک کرلیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر گالی گلوچ دیئے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ۔ (یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں) پھر فرمایا ہے اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو، ابو داؤد اور اور ابن ماجہ…
Read the full tafseer →سورة الطَّلَاق 6
6۔ یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے فیصلہ کرلو کہ آیا عورت کو اپنی زوجیت میں رکھنا ہے یا نہیں۔ رکھنا ہو تو نباہنے کی غرض سے رکھو، اس غرض سے نہ رکھو کہ اس کو ستانے کے لیے رجوع کرلو اور پھر طلاق دے کر اس کی عدت لمبی کرتے رہو۔ اور اگر رخصت کرنا ہو تو شریف آدمیوں کی طرح کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر رخصت کرو، مہر یا اس کا کوئی حصہ باقی ہو تو ادا کردو، اور حسب توفیق کچھ نہ کچھ متعہ طلاق کے طور پر دو ، جیسا کہ سورة بقرہ آیت 241 میں ارشاد ہوا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 86)۔
سورة الطَّلَاق 7
ابن عباس کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →(آیت) فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْف، اجلھن میں لفظ اجل بمعنے عدت ہے اور بلوغ اجل سے مراد عدت کا اختتام کے قریب ہونا ہے۔
طلاق کے متعلق پانچواں حکم اس آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب مطلقہ بیوی کی عدت ختم کے قریب پہنچے تو اب نکاح سے نکل جانے کا وقت آ گیا اس وقت تک وقتی تاثرات اور غم و غصہ کی کیفیت بھی ختم ہوجانی چاہئے اس وقت پھر سنجیدگی کے ساتھ غور کرلو کہ نکاح رکھنا بہتر ہے ای اس کا بالکل منقطع کردینا اگر نکاح میں رکھنے کی رائے ہوجائے تو اس کو روک لو جس کی مسنون صورت اگلی آیت کے اشارہ اور حدیث کے ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ زبان سے کہہ دو…
Read the full tafseer →(فاذا بلغن ابلھن فامسکرھن بمعروف اد فار تو من بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم واقیمو الشھادۃ للہ۔ ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شی قدرا) (2، 3)۔
(مرد کو اپنا حق عورت کی ضرر رسانی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے)۔ فرمایا کہ جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں یعنی تیسرے طہر میں داخل ہوجائیں تب ان کے رکھنے یا الگ کردینے کا آخری فیصلہ کرو۔ اگر ان کو رکھنا ہو تو دستور کے مطابق رکھو جس طرح ایک خدا ترس مسلمان اپنی بیوی کو رکھتا ہے اور جدا کردینے ہی کا فیصلہ ہو تو یہ بھی شریفوں کے…
Read the full tafseer →2۔ 1 مطلقہ مد خولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کرلو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کردو۔
2۔ 2 اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کرلو۔ یہ امر وجوب کے لئے نہیں، استحباب کے لئے ہے، یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔
2۔ 3 یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔
2۔ 4 یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے
Read the full tafseer →4: یہ اس صورت کا تذکرہ ہورہا ہے جب شوہر نے طلاق رجعی دی ہو، اس صورت میں جب عدت پوری ہونے سے پہلے شوہر کو فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا وہ طلاق سے رجوع کرکے بیوی سے ازدواجی تعلق بحال کرنا چاہتا ہے یا اب بھی علیحدگی ہی مناسب سمجھتا ہے، دونوں صورتوں میں اسے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ جو کام بھی کرے بھلے طریقے سے کرے، اگر نکاح کا رشتہ باقی رکھنا ہے تو طلاق سے رجوع کرلے اور آئندہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اگر علیحدگی چاہتا ہے تب بھی شریفانہ انداز میں بھل منسی کے ساتھ بیوی کو رخصت کرے۔
5: رجوع کی صورت میں ترغیب دی گئی ہے کہ دوگواہوں کی موجودگی میں شوہر یہ کہے کہ میں نے طلاق سے رجوع کرلیا، عدل والے…
Read the full tafseer →فاذا بلغن ............................ قدرا (56 : 3) (56 : 2۔ 3) ”” اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو اور ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو ، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہوجاﺅ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے…
Read the full tafseer →4 یعنی طلاق رجعی میں جب عدت ختم ہونے کو آئے تو تم کو دو باتوں میں ایک کا اختیار ہے۔ یا عدت ختم ہونے سے پہلے عورت کو دستور کے موافق رجعت کر کے اپنے نکاح میں رہنے دو یا عدت منقضی ہونے پر معقول طریقہ سے اس کو جدا کردو۔ مطلب یہ ہے کہ رکھنا ہو تب اور الگ کرنا ہو تب، ہر حالت میں آدمیت اور شریعت کا برتاؤ کرو۔ یہ بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو اور خواہ مخواہ تطویل عدت کے لیے رجعت کرلیا کرو۔ یاد رکھنے کی صورت میں اسے ایذاء پہنچاؤ اور طعن وتشنیع کرو۔
5 یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے اگر نکاح میں رکھنا چاہے تو رجعت پر وہ گواہ کرے تاکہ لوگوں میں متہم نہ ہو۔
6 یہ گواہوں کو ہدایت ہے کہ شہادت کے…
Read the full tafseer →آیت 2 { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ } ”پھر جب وہ اپنی عدت کی میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو اپنے نکاح میں روک رکھو معروف طریقے سے ‘ یا جدا کردو معروف طریقے سے“
یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت پوری ہوجانے سے پہلے مرد کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر تو وہ رجوع کرنا چاہتا ہے تو شریعت کے طے کردہ طریقے سے رجوع کرلے اور اگر اس نے طلاق ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر بھلے طریقے سے عورت کو گھر سے رخصت کر دے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسے ستانے کی غرض سے روکے رکھے۔
{ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ } ”اور اپنے میں سے دو معتبر…
Read the full tafseer →6 نئی صورت سے مراد مصالحت، رضا مندی اور رجوع کی وہ راہیں ہیں جو طلاق کے بعد فریقین کو ہوش میں آنے اور طلاق کے نقصانات پر غور کرنے کے بعد درست نظر آنے لگتی ہیں۔
7 دور جاہلیت میں طلاق کے سلسلہ میں عورتوں کی حالت زار :۔ یعنی تمہارے ہی گھر میں تمہاری مطلقہ بیوی کی عدت ختم ہونے کو آئے، تو تمہارے سامنے دو راستے ہیں ایک یہ کہ بہرحال تم انہیں چھوڑنا ہی چاہتے ہو ایسی صورت میں ان کے سب حقوق انہیں ادا کرو اور علاوہ ازیں ان سے فیاضانہ سلوک کرتے ہوئے کچھ مزید بھی اپنی استطاعت کے مطابق دے دو ۔ جاتے جاتے اس پر کوئی الزام تراشی نہ کرو نہ اسے کسی طرح کا دکھ پہنچاؤ۔ بلکہ اپنی زندگی کے ساتھی کو شکر رنجیوں کے…
Read the full tafseer →6۔ مطلب یہ ہوا کہ انہیں طلاق ہی دینا ہو، تو ہر نشیب و فراز خوب سوچ سمجھ کر تین مہینہ کی لمبی مہلت لے کر دو ، اور انہیں شریفانہ طور پر عزت کے ساتھ رخصت کردو، ورنہ پھر طلاق رجعی سے رجوع کرکے انہیں عزت و شرافت کے ساتھ اپنی بیوی بنے رہنے دو ۔ یہ نہ ہو کہ محض ستانے کئے لیے انہیں قید نکاح میں معلق رکھو۔ غرض یہ کہ علیحدگی ہو تو، اور یکجائی بدستور رہے تو دونوں صورتوں میں عزت و شرافت کا سر رشتہ کسی طرح بھی ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ (آیت) ” ھن “۔ یہ ضمیر جمع مؤنث جہاں جہاں آئی ہے، اس سے مراد وہی بیویاں ہیں۔ جنہیں طلاق صرف رجعی ہوئی ہے۔ اور رجوع کی گنجائش ابھی باقی ہے۔
7۔ (اور اسی میں ایمان بالرسول بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادۃ اللہ ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخرۃ .
” پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ جائیں تو تم (یا تو) قاعدے کے موافق (اپنے نکاح میں) روک لو یا قاعدہ کے موافق ان کو چھوڑ دو اور اپنے آپس کے آدمیوں میں سے دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لو (اے گواہو ! اگر شہادت کے لیے تم کو طلب کیا جائے تو) ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے شہادت دے دو ‘ اس مضمون سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ “
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ..... یعنی مطلقات رجعیہ ختم عدت کے قریب پہنچ جائیں۔ بَلَغْنَ اور…
Read the full tafseer →جب وہ مطلقہ عورتیں تیسرے حیض کے بند ہونے کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو عدت گزرنے سے پہلے ان سے رجوع کرو اور حسن سلوک ان کے ساتھ کرو یا ان کو قاعدہ کے موافق چھوڑ دو کہ ان کی عدت کو لمبا نہ کرو اور ان کا حق ادا کرو اور اس مراجعت یا طلاق پر دو آزاد پسندیدہ عادل مسلمان آدمیوں کو گواہ کرلو اور پھر حکام کے سامنے تم ٹھیک حق کے واسطے گواہی دو۔
ان تمام باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو اور کہا گیا ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک یہ آیات رسول اکرم کی شان میں نازل ہوئی ہیں جبکہ آپ نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی۔
اور آپ کے صحابہ کرام میں سے ان چھ آدمیوں کے…
Read the full tafseer →1۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ : یعنی جب انکی عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے ، کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو رجوع ہو نہیں سکتا۔
2۔ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ۔۔۔۔: یعنی جب عورتوں کی عدت ختم ہونے کے بعد ہو ، صرف اتنی باقی ہو جس میں ان سے رجوع ہوسکتا ہو اتو انہیں معروف (اچھے طریقے) کے ساتھ روک لو یا معروف کے ساتھ ان سے جدا ہوجاؤ ، معروف کے ساتھ روکنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہنے کی نیت سے ان سے رجوع کر کے حسب سابق بیوی بنا کر رکھ لو اور اس رجوع پر گواہ بناؤ اور معروف طریقے سے جدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے رجوع نہ کرو بلکہ انہیں ان…
Read the full tafseer →فاذا بلغن اجلھن جب وہ عدت کے ختم ہونے کے قریب پہنچ جائیں (1) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن (البقرۃ : 231) یعنی عدت کے ختم ہونے کے قریب پہنچ جائیں فامسکوھن بمعروف، معروف طریقہ سے مراجعت ہے۔ مقصد تکلیف دینے کے لئے رجوع کرنا نہ ہو کہ عدت کو طویل کیا جائے بلکہ مقصود دلچسپی ہو جس طرح سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اوفارقوھن بمعروف انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی عدت ختم ہوجائے تو وہ اپنی ذاتوں کے مالک بن جائیں۔ فاذا بلغن اجلھن میں ایسی دلیل موجود ہے جو اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ عدت کے ختم ہونے میں قول عورت کا معتبر ہوگا جب وہ اس کا دعویٰ کرے جیسا کہ ہم نے سورة…
Read the full tafseer →نکاح و طلاق میں گواہ بنانا
49۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ نکاح کرنا طلاق دینا اور رجوع کرنا گواہوں کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں۔
50۔ عبدالرزاق نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عمران بن حصین ؓ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے طلاق دی اور گواہ نہیں بنائے اور پھر رجوع کیا گواہ نہیں بنائے۔ عمرا ؓ نے فرمایا اس نے بہت برا کیا اس نے طلاق میں بدعت کا ارتکاب کیا اور اس نے سنت کے خلاف رجوع کیا اس کو چاہیے تھا کہ اپنی طلاق پر اور اپنے رجوع پر گواہ بناتا اب اسے چاہیے کہ اللہ سے استغفار کرے۔
51۔ سعید بن منصور وعبد بن منصور وعبد بن حمید نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[فَاِذَا بَلَغْنَ : پھر جب وہ خواتین پہنچ جائیں ] [اَجَلَهُنَّ : اپنی مدت کو ] [فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ : تو تم لوگ تھامے رہو ان کو بھلائی کے ساتھ ] [اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ : اور قائم کرو گواہی کو اللہ کے لیے ] [وَّاَشْهِدُوْا : یہ ہے، وہ نصیحت کرتا ہے جس کے ذریعہ ] [ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ : اس کو جو ہے (کہ)] [وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ للّٰهِ : وہ ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخری دن پر ] [ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ : یہ ہے، وہ نصیحت کرتا ہے جس کے ذریعہ ] [مَنْ كَان : اس کو جو ہے (کہ)] [يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : وہ ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخری دن پر ] [وَمَنْ…
Read the full tafseer →طلاق رجعی کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو تو مطلقہ کو روک لو یا خوبصورتی کے ساتھ اچھے طریقے پر چھوڑ دو
﴿فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ (جب مطلقہ عورتوں کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو تو انہیں خوبی کے ساتھ روک لو) یعنی رجوع کرلو۔ ﴿ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ﴾ (یا انہیں خوبی کے ساتھ جدا کر دو ) ایسا نہ کرو کہ انہیں دکھ تکلیف دینے کے لیے بار بار طلاق دیتے رہو اور رجوع کرتے رہو۔ یہ مضمون سورة البقرہ میں بھی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا : ﴿ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا﴾ (اور انہیں نہ روکو یعنی ایسا نہ کرو کہ انہیں ضرر پہنچانے یا دکھ دینے کی وجہ سے روک کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
احکام طلاق وعدت نفیقہ وسکنی وتاکید تقوی وتنبیہ برتجاوز از حدود خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء ....... الی ....... لکل شیء قدرا “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں عقائد و ایمانیات کا ذکر تھا، اللہ رب العزت کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور اس کی ذات وصفات کا مختلف اسلوبوں سے تعارف کرایا گیا جس کے ساتھ کچھ احکام عبادات سے بھی متعلق بیان کیئے گئے تو اب اس سورت میں معاملات ومعاشرت کے بعض اہم اصول و احکام ذکر فرمائے جارہے ہیں، اور اس میں شبہ نہیں کہ خاندانی منازعت اور جھگڑے بسا اوقات طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح کی خصومت اور جھگڑے انسان کے دین اور ایمان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4:۔ ” فاذا بلغن “ ای قاربن انقضاء العدۃ (قرطبی) جب ان کی عدت اختتام کے قریب ہو، تو اب بھی موقعہ ہے سوچ سمجھ کر آخری فیصلہ کرلو۔ اگر رجوع کر کے اسے اپنے پاس رکھنا چاہو تو رکھ لو، مگر مقصد حسن معاشرت ہو نہ کہ اسے ایذاء دینا۔ اگر رجوع کرنے کا ارادہ نہ ہو تو بھی اسے اچھے برتاؤ کے ساتھ عدت گذارنے کا موقع دو ، تاکہ انقضاء عدت کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہا چاہے نکاح کرلے۔ اس وقت جو بھی فیصلہ کرلو رجعت کا یا فرقت کا، دو قابل اعتماد آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لو اور ان کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردو تاکہ تمہارا فیصلہ شک و ریب سے بالا تر ہوجائے اور بعد میں نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔ ” واقیامو الشہادۃ للہ “ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ربط آیات :
پچھلی آیت میں اللہ نے طلاق کا قانون بیان فرمایا کہ اگر عورت کو طلاق دینا ہی پڑے تو پھر ایسے صحیح وقت پر طلاق دو کہ عدت کی موت ٹھیک ٹھیک شمار ہوسکے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق طہر کی حالت میں دینی چاہیے ، تاکہ تین حیض کا وقفہ واضح طور پر معلوم کیا جاسکے۔ پھر فرمایا کہ دوران مدت عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ البتہ اگر عورت کسی بےحیائی کے کام کی مرتکب ہو یا کوئی دوسرا معقول عذر ہو ، تو پھر اسے گھر سے نکالا جاسکتا ہے ، فرمایا یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ، ان کی پاسداری کرو ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی بہتر صورت پیدا کردے۔
رجوع یا جدائی…
Read the full tafseer →فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِكُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلہِ 0 ۭ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِہٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ 0ۥۭ وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا 2 ۙ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ترکیب : فاذا شرط فامسکوا وفارقوا جواب الشرط واشہدوا واقیموا جملۃ مستانفۃ ذلکم مبتداء یوعظ فعل مجھول من موصولۃ مع صلۃ مفعول مالم یسم فاعلہ والمجموع خبرہ ومن شرطیہ یجعل ویرزقہ جو ابہ وکذا من یتوکل حسبہ المصدر بمعنی الفاعل بالغ امرہ قویٔ بتنوین بالغ ونصب امرہ وقریٔ بالاضافہ وقریٰ بتنوین بالغ ورفع امرہ لانہ فاعل بالغ اوعلی ان امرہ مبتداء مؤخرہ بالغ خبرمقدم وقریٔ بالغا بالنصب علی الحال ویکون خبران قولہ قدجعل۔
تفسیر : اسلام نے نہ عیسوی مذہب کی طرح طلاق کا جواز صرف زبان پر منحصر کر کے دائرہ معیشت کو تنگ کیا اور نہ یہود کی طرح ادنیٰ ادنیٰ بات پر طلاق روا رکھ کر ہمدردی انسانی پر دھبہ لگایا۔ اس عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْـکُمْ وَاَقِیْمُوالشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ط ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ 5 ط وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ط قَدْجَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ئٍ قَدْرًا۔ (الطلاق : 2، 3)
(پس جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو اور یا بھلے طریقے سے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : عدّت کے دوران میاں بیوی کی آپس میں صلح نہ ہو تو انہیں اچھے طریقے سے ایک دوسرے سے الگ ہوجانا چاہیے۔
بیوی کو کسی اہم وجہ کے بغیر طلاق دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں طلاق دینے سے پہلے میاں بیوی اور ان کے لواحقین کو کچھ اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر طلاق دینا ناگزیر ہوجائے تو اس کا طویل طریقہ کار متعین کیا ہے تاکہ جہاں تک ہوسکے صورت حال کو طلاق تک پہنچنے سے روکاجائے۔ اگر بالفرض نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو حکم ہے کہ جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کو پہنچ جائیں تو طلاق رجعی کی صورت میں انہیں اچھے طریقے سے رکھنا ہے یا پھر…
Read the full tafseer →2 : فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ (پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ جائے) عدت کے اختتام کے قریب پہنچ جائیں۔ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِ قُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ (تو تم قاعدے کے موافق ان کو (اپنے نکاح) میں روک لو یا قاعدہ کے موافق ان کو چھوڑدو) مطلب یہ ہے تمہیں اختیار ہے اگر تم رجوع کرنا چاہو۔ اور روکنا قاعدہ اور احسان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اگر رجعت نہیں چاہتے مفارقت چاہتے ہو تو وہ ضرار سے بچی ہوئی ہونی چاہیے ضرارؔ یہ ہے کہ عورت سے عدت کے اختتام پر رجوع کرے پھر اس کو اسلئے طلاق دے تاکہ اس کی عدت طویل ہو اور اس کو تکلیف پہنچے۔ وَّ اَشْھِدُوْا (اور تم گواہ بنا لو) رجوع و فرقت…
Read the full tafseer →آیات 1
حالت حیض میں طلاق کا حکم
1 ۔” یایھا النبی اذاطلقتم النسائ “ نبی کریم ﷺ کو ندا دی ہے۔ پھر اپنی امت کو خطاب کیا ہے اس لئے کہ وہ سردار مقدم ہیں۔ پس سب کا خطاب آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے اور کہا گیا ہے اس کا مجاز ” یایھا النبی قل لامتک اذا طلقتم النسآئ “ ہے۔ یعنی جب تم ان کو طلاق دینے کا ارادہ کرو جیسے اللہ کا فرمان ہے۔ ” فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ “ یعنی جب تو قرات کا ارادہ کرے۔ ” فطلقوھن لعدتھن “ یعنی اس طہر میں جس کو وہ اپنی عدت میں شمار کرلیں اور ابن عباس اور ابن عمر ؓ دنوں نے پڑھا۔ ” فطلقوھن فی قبل عدتھن “ یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 3۔ سورة بقر میں صحیح روایتوں کے حوالہ سے گزر چکا ہے کہ بعض لوگ عدت کے ختم ہونے کے قریب طلاق سے رجوع کرکے برائے نام میل جول کرلیتے تھے اور عورتوں کے ستانے کے لئے ایک عرصہ تک یہی سلسلہ جاری رہتا تھا سورة بقر میں بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس عادت سے روکا اور یہاں بھی فرمایا کہ عدت کے ختم ہونے کے قریب یا تو دو گواہوں کی گواہی سے ہمیشہ کے لئے میل جول کرکے حسن سلوک سے اس کو قائم رکھا جائے یا عدت گزرجانے کے بعد بغیر کسی بد زبانی اور سختی کے اس عورت کو چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ دوسرا نکاح کہیں اور کرلے۔ غرض عورتوں کے ستانے کا طریقہ جو بعض لوگوں نے نکال رکھا ہے وہ بالکل بند کردیا جائے میل جول کے لئے…
Read the full tafseer →(فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ ) یعنی جب طلاق یافتہ عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انہوں نے عدت پوری کرلی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یاجدا کردینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ( فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ (اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) یا دستور کے مطابق انہیں الگ کردو۔ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں خوئی محذور امر نہ ہو باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ (وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ ) اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قول باری ہے (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اوفار قوھن بمعروف ، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجائو)
اس سے مراد یہ ہے کہ جب عدت کے اختتام کا وقت قریب آجائے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ جب عدت کی مدت حقیقت میں گزر جائے کیونکہ عدت گزر جانے کی منزل پر پہنچ جانے کی صورت میں رجوع کرلینے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اللہ تعالیٰ نے مدخولہ بیوی کی طلاق کا ابتداء میں جو ذکر کیا ہے وہ رجوع کرلینے کے ذکر کے ساتھ مقرون ہے چناچہ ارشاد ہے (لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا) یعنی یہ کہ شوہر کی رائے بدل جائے اور بیوی کو…
Read the full tafseer →[ 8] امساک بالمعروف کی ہدایت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب عورتیں اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو پھر یا تو تم ان کو روک لو دستور کے مطابق یعنی اس رجوع اور امساک سے تمہارا مقصد ان کو باقاعدہ بیوی بنا کر رکھنا ہو نہ کہ محض پھنسانا اور تطویل عدت کے ذریعے ان کو تنگ اور پریشان کرنا بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب وہ تیسرے طہر میں داخل ہوجائیں تو اب تمہیں ان کے بارے میں اختیار ہے کہ یا تو تم انکو الگ کردینے کا فیصلہ کرلو یا ان کو اپنی زوجیت میں رکنے کا لیکن جو بھی کرو معروف یعنی دستور کے مطابق کرو جس طرحا یک خدا ترس مسلمان اپنی بیوی کو رکھتا ہے تکلیف دینا یا ایذا پہنچانا درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
طلاق کی خاص حدود
تشریح : حدیث میں آتا ہے، اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو،۔ (ابو داؤ)
اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اسی طرح طلاق کی اجازت اور پھر اس کے لیے حدودو قوانین ایسے بہترین اور انسانی سوسائٹی کی اصلاح کے عین مطابق ہیں کہ انسان فورا سمجھ جاتا ہے کہ یہ اس باہمی نظام کی کڑیوں کو درست کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو میاں بیوی کی مضبوط زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ زنجیر نظام کائنات کو درست رکھنے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ پورے معاشرے کی اصلاح گھر سے ہی تو شروع ہوتی ہے۔ اس لیے گھر کا ماحول صحت مند، پر سکون اور منظم ہونا چاہیے۔ اگر اس کی ترتیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →ف 6 مطلب یہ ہے کہ طلاق دو یا رجوع کرو بہرحال ان سے شرافت کا برتائو اور محض تنگ کرنے کی نیت سے رجوع نہ کرو۔7 مسند عبدالرزاق میں ہے کہ کسی نے حضرت عمران بن حصین سے کہا :” ایک شخص نے طلاق دی پھر رجوع کیا اور گواہ نہیں کیا۔ “ فرمایا :” اس نے برا کیا اس نے بدعث کے طریقہ سے طلاق دی اور غیر مضمون طریقہ سے رجوع کیا۔ اسے چاہیے کہ طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ کرے اور اللہ سے استغفار کرے۔ بعض کے نزدیک یہ حکم استحباب پر محمول ہے تاکہ تہمت سے بچا جائے اور بعض نے کہا ہے کہ رجوع پر گواہ مقرر کرلینے واجب ہیں اور چھوڑنے پر مستحب امام شافعی اور احمد کا یہی مذہب ہے شوکانی
Read the full tafseer →(65:2) فاذا بلغن اجلہن جملہ شرط ہےتعقیب کا ہے۔ اذا ظرف زمان ہے اور شرطیہ آیا ہے۔
بلغن ماضی کا صیغہ جمع مؤنث غائب۔ بلوغ وبلاغ (باب نصر) مصدر بمعنی پہنچنا۔ اجلہن مضاف مجاف الیہ مل بلغن کا مفعول۔ پھر جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں ۔ یعنی جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں۔ بلغن اور اجلہن کی ضمیریں ان مطلقات کی طرف راجع ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو۔
فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف : جواب شرط۔ امسکوھن فعل امر جمع مذکر حاضر۔ امساک (افعال) مصدر۔ بمعنی روکنا۔ روک لینا۔ رکھ لینا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب ۔ او بمعنی یا خواہ وغیرہ حرف عطف ہے۔ فارقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ مفارقۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی جدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 1) یعنی طلاق رجعی میں جب عدت ختم ہونے کو آئے تو تم کو دو باتوں میں ایک کا اختیار ہے ۔ (1) یاعدت ختم ہونے سے پہلے عورت کو دستور کے موافق رجعت کرکے اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور دل میں پھر دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو (2) یاعدت منقفی ہونے پر معقول طریقہ سے مہر وغیرہ انکے حق ادا کرکے ان سے جدائی کرلو، اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ، مطلب یہ ہے کہ رکھنا ہوتب اور الگ کرنا ہو تب ہر حالت میں آدمیت اور شرافت کا برتاؤ کرو، یہ بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو اور خواہ مخواہ تطویل عدت کے لیے رجعت کرلیاکرو، یا رکھنے کی صورت میں اسے ایذا پہنچاؤ، اور طعن وتشنیع کرو، پس ان کو پریشانی میں مت ڈالو، خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] سورة بقرہ میں آچکا ہے کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہے (آیت 228 صفحہ 68) ۔ لہذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیے تاکہ سارا حیض گنتی میں آئے۔ نیز حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔
[2] یعنی اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے مقرر کئے ہوئے حدود کی پابندی اس غصہ کے باوجود کرتے رہو جو تمہارے اندر بیوی کے خلاف پیدا ہوچکا ہے۔ اگر حدود کو توڑو گے تو اللہ کی پکڑ اور اس کے قہروغضب سے تمہیں کوئی نہ بچا سکے گا۔
[3] یعنی مطلقہ خود بھی گھر سے نہ نکلے کیونکہ عورت کو عدت شوہر کے گھر پوری کرنی لازمی ہے۔ یہ اس لئے کہ ممکن ہے عدت کے دوران میاں بیوی میں باہم موافقت کی کوئی صورت نکل آئے۔
[4] یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(2) پھر جب وہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو دستور شرعی کے موافق یا تو ان کو رجوع کرکے روک لو شا شرعی قاعدے کے موافق ان کو جدا کردو اور بہرحال اپنے میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلیا کرو اور خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ٹھیک اور سیدھی گواہی دو اس مضمون مذکور سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مخلصی اور کشائش کے لئے کوئی نہ کوئی صورت پیدا کردیتا ہے اور کوئی صورت نکال دیتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب تین حیض جو مطلقہ عورت کی عدت ہے پوری ہونے لگے تو دو باتوں میں سے جو پسندیدہ ہو وہ کرلو، یعنی…
Read the full tafseer →ف 2۔ مطلب یہ کہ تیسری بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو مگر تطویل مدت کے لئے رجعت کرلو۔
3۔ مطلب یہ کہ ایمان دار ہی نصائح سے منتفع ہوتے ہیں، اور یوں تو نصائح سب کے لئے عام ہیں۔
Read the full tafseer →عورتیں اگر میعاد کو پہنچ رہی ہیں تو ان کو روک لو یا فارغ کر و
2 ؎ اس دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کی وضاحت کی جا رہی ہے جو پیچھے سے چلا آ رہا ہے کہ خاوند کی طرف سے ایک طلاق دی گئی ہے یا دوسری تو چونکہ اس رجوع کرنے کا حق ہے اس لیے اس کو کہا جا رہا ہے کہ جب عدت گزرنے کو ہے اگر اس کو آباد کرنے کا ارادہ ہوچکا ہے تو مدت گزرنے سے قبل رجوع کرلو ورنہ قوت گزرنے کے ساتھ ہی اس کو الگ کر دو لیکن فارغ ہی کرنا ہے تو معروف طریقہ کے ساتھ اور معروف طریقہ یہی ہے کہ عورت کا حق مہر اس کو ادا کردیا جائے جو سرو سامان اس کو میکے سے ملا تھا وہ واپس کردیا جائے اور مزید بھی دی گئی کوئی چیز اس کے پاس رہنے دی جائے تو یہ…
Read the full tafseer →Rule [ 5]
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ (So, when they [ the divorced women ] have [ almost ] reached their term, then either retain them with fairness, or part with them with fairness…65:2). The word ajal means ‘term of ‘iddah and ‘reaching the term’ means ‘nearing the end of the ‘iddah’. The fifth rule laid down by this verse is that when a divorced woman’ s term of ‘iddah is approaching the end, the time has almost come for a absolute termination of the marriage. By now the temporary impulse or momentary fit of anger should have dissipated, and it is the time…
Read the full tafseer →6 That is, "In case you have pronounced one or two revocable divorces, you should take a decision before the expiry of the waiting-period whether you would keep the wife in wedlock or send her away. If you decide to keep her, then you should keep her with honour and dignity and not with a view to torntenting and harassing her and getting another opportunity to prolong her waiting-period by divorcing her once again; and if you decide to part with her, then you should part with her gracefully, without indulging in any quarrel or vilification; if you still owe her the dower, or a part of it, pay…
Read the full tafseer →