اولاً تو نبی ﷺ شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفضہ کو طلاق دی وہ اپنے میکے آگئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ سے فرمایا گیا کہ ان سے رجوع کرلو وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں، یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفضہ ؓ کو طلاق دی پھر رجوع کرلیا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں…
Read the full tafseer →سورة الطَّلَاق 1
1۔ یعنی تم لوگ طلاق دینے کے معاملہ میں یہ جلد بازی نہ کیا کرو کہ جونہی میاں بیوی میں کوئی جھگڑا ہوا، فوراً ہی غصّے میں آکر طلاق دے ڈالی، اور نکاح کا جھٹکا اس طرح کیا کہ رجوع کی گنجائش بھی نہ چھوڑی۔ بلکہ جب تمہیں بیویوں کو طلاق دینا ہو تو ان کی عدت کے لیے دیا کرو۔ عدت کے لیے طلاق دینے کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد بھی ہیں
ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ عدت کا آغاز کرنے کے لیے طلاق دو ، یا بالفاظ دیگر اس وقت طلاق دو جس سے ان کی عدت شروع ہوتی ہو۔ یہ بات سورة بقرہ آیت 228 میں بتائی جا چکی ہے کہ جس مدخولہ عورت کو حیض آتا ہو اس کی عدت طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض آنا ہے۔ اس حکم کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے پیغمبر (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم لوگ (ایسی) عورتوں کو طلاق دینے لگو (جب کے ساتھ خلوت ہوچکی ہے کیونکہ عدت کا حکم ایسی عورتوں سے متعلق ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدة) تو ان کو (زمانہ) عدت (یعنی حیض) سے پہلے (یعنی طہر میں) طلاق دو (اور یہ احادیث صحاح سے ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ ہو جس میں طلاق دینا ہے) اور (طلاق دینے کے بعد) تم عدت کو یاد رکھو (یعنی مرد و عورت سب یاد رکھیں، لیکن خطاب میں تخصیص صیغہ مذکر کی اشارہ اس طرف ہے کہ عورتوں میں غفلت غالب ہوتی ہے تو مردوں کو بھی اس کا اہتمام رکھنا چاہئے، کما فی المدارک) اور اللہ سے…
Read the full tafseer →الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدۃ و اتقوا اللہ ربکم لاتخزجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وتلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدیث بعد ذلک امرا) (1)۔
(نبی ﷺ سے خطاب کی اہمیت)۔ تمہید میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہاں نبی ﷺ سے خطاب شخصا ً نہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثت سے ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو خطاب کرنے کے بعد معاً (طلقتم) ہیں ضمیر خطاب جمع کی آگئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہاں جو احکام دیے جا رہے ہیں وہ ہیں تو تمام مسلمانوں کے لیے البتہ نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ احکام دینے سے ان کی…
Read the full tafseer →1۔ 1 نبی ﷺ سے خطاب آپ کے شرف و مرتب کی وجہ سے ہے، ورنہ حکم تو امت کو دیا جا رہا ہے۔ یا آپ ہی کو بطور خاص خطاب ہے۔ اور جمع کا صیغہ بطور تعظیم کے ہے اور امت کے لیے آپ کا اسوہ ہی کافی ہے۔ طَلَّقْتُمْ کا مطلب ہے جب طلاق دینے کا پختہ ارادہ کرلو۔
1۔ 2 اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے لعدتھن میں لام توقیت کے لیے ہے۔ یعنی لاول یا لاستقبال عدتھن (عدت کے آغاز میں طلاق دو۔ یعنی جب عورت حیض سے پاک ہوجائے تو اس سے ہم بستری کے بغیر طلاق دو حالت طہر میں اسکی عدت کا آغاز ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے حیض کی حالت میں یا طہر میں ہم بستری کرنے کے بعد طلاق دینا غلط طریقہ ہے اسکو فقہا طلاق بدعی سے اور پہلے صحیح…
Read the full tafseer →1: جب میاں بیوی میں طلاق کے ذریعے علیحدگی ہوجائے تو عورت کو دوسرا نکاح کرنے کے لئے کچھ مدت انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے، اس مدت کو عدت کہا جاتا ہے، سورة بقرہ (2: 228) میں گزرچکا ہے کہ جن عورتوں کو طلاق ہوگئی ہو، ان کی عدت یہ ہے کہ طلاق کے بعد ان کو تین ماہواریاں آجائیں، اب اس آیت میں طلاق دینے والوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر انہیں طلاق دینی ہو تو وہ ایسے وقت طلاق دیں کہ عدت شروع ہونے والی ہو، حضور اکرم ﷺ نے اس کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ ایسے وقت طلاق نہ دی جائے جب بیوی کو ماہواری آرہی ہو، بلکہ ایسے طہر یعنی پاکی کی حالت میں طلاق دی جائے جس میں بیوی سے جماع بھی نہ کیا ہو، اس حکم میں دو مصلحتیں…
Read the full tafseer →یہ پہلا مرحلہ ہے اور یہ پہلا حکم ہے کہ خطاب تو صرف حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن حکم تمام مومنین کے لئے ہے۔ کیونکہ خطاب۔
یایھا النبی (56 : 1) سے ہے اور حکم یوں شروع ہوتا ہے :
اذا ............ النسائ (56 : 1) ” جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو “۔ معلوم ہوا کہ اس حکم کی خدا کے نزدیک بہت بڑی اہمیت ہے اور اس لئے یہ تاثر دیا گیا کہ اسے نہایت سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ اہم حکم ہے۔ اللہ اپنے نبی کو خصوصی طور پر خطاب فرماتا ہے کہ یہ حکم لیجئے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یہ ایک نفسیاتی انداز ہے اور نہایت ہی اونچے درجے کا اہتمام کا۔
اذا طلقتم ................ لعدتھن (56 : 1) ” جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی…
Read the full tafseer →10 نبی کو مخاطب بنا کر یہ ساری امت سے خطاب ہے۔ یعنی جب کوئی شخص (کسی ضرورت اور مجبوری سے) اپنی عورت کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو چاہیے کہ عدت پر طلاق دے۔ سورة " بقرہ " میں آچکا کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہیں (کما ہو مذہب الحنفیہ) لہذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیے تاکہ سارا حیض گنتی میں آئے اگر فرض کیجیے حالت حیض میں طلاق دے گا تو دو حال سے خالی نہیں۔ جس حیض میں طلاق دی ہے اس کو عدت میں شمار کریں گے یا نہ کریں گے۔ پہلی صورت میں ایقاع طلاق سے پہلے جس قدر وقت حیض کا گزر چکا وہ عدت میں سے کم ہوجائے گا۔ اور پورے تین حیض عدت کے باقی رہیں گے۔ اور دوسری صورت میں جب موجودہ حیض کے علاوہ تین…
Read the full tafseer →آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ } ”اے نبی ﷺ ! جب آپ لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا پورا لحاظ رکھو۔“
نوٹ کیجیے ! حضور ﷺ کو صیغہ واحد میں مخاطب کرنے کے بعد فوراً جمع کا صیغہ طَلَّقْتُمْ آگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ خود حضور ﷺ کی ذات سے نہیں ‘ عام اہل ایمان سے متعلق ہے اور آپ ﷺ کو اہل ایمان کے نمائندہ ‘ معلم اور ہادی کی حیثیت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ عدت کے حساب سے طلاق دینے اور عدت کا لحاظ رکھنے کے بہت سے پہلو ہیں۔ مجموعی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نازک اور حساس…
Read the full tafseer →1 عورتوں کی عدت کی کمی بیشی کی مختلف صورتیں :۔ طلاق اور عدت کے بہت سے احکام سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں۔ اور کچھ سورة احزاب میں بھی مذکور ہیں۔ اور ان کی تکمیل سورة طلاق میں مذکور احکام سے ہوئی۔ لہذا سابقہ احکام پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں عورتوں کی حالت مختلف اور ان کی عدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ لہذا پہلے عدت کی وضاحت کی جاتی ہے :
1۔ بیوہ غیرحاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (2: 239)
2۔ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ (65: 4) جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے :
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت ابوہریرہ ؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا : ایک…
Read the full tafseer →1۔ بلاشمار عدت سے قبل، حالت طہر میں عدت کی معیاد تین حیض ہیں۔ (جیسا کہ سورة البقرۃ کے حاشیوں میں صاف کہا جاچکا ہے) حیض سے قبل طلاق دینے میں مصلحت یہ ہے کہ پورے تین حیض شمار میں آجائیں گے اور حساب میں کچھ گڑبڑ نہ ہوگا۔ ورنہ اگر دوران حیض میں طلاق دی تو لامحالہ یا تو اس حیض کا کچھ حصہ چھوڑنا پڑے گا، اور یا اسے ملانا پڑے گا، دونوں صورتوں میں عدت کی اصل میعاد (تین حیض) سے کچھ نہ کچھ کمی یا زیادتی ضرور کرنی پڑے گی ، (آیت) ” یایھا النبی “۔ خطاب براہ راست رسول اللہ ﷺ سے ہونے کی حکمت بعض علماء نے یہ لکھی ہے کہ افراد امت تو تبعا اس میں شامل ہو ہی جائیں گے، اور صالحین وشرفاء کو اس میں عار بھی نہ آئے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک…
Read the full tafseer →یایھا النبی ... العدۃ .
” اے پیغمبر ! (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینے لگو تو (زمانہ) عدت میں (یعنی حیض سے پہلے طہر کی حالت میں) طلاق دو اور عدت کی گنتی یاد رکھو۔ “
رسول اللہ ﷺ پیشوائے امت تھے ‘ اس لیے امت کو نداء نہیں کی گئی ‘ صرف آپ ﷺ کو نداء کی گئی۔ آپ ﷺ کو نداء کرنا ساریامتکو نداء کرنا ہی ہے لیکن حکم طلاق کے مخاطب سب امت والے بھی ہیں اور پیشوائے امت ﷺ بھی ‘ یا یوں کہا جائے کہ کلام تو صرف رسول اللہ ﷺ سے ہی ہے ‘ آپ ﷺ ہی مخاطب ہیں لیکن حکم عام ہے ‘ سب کو شامل ہے یا یوں کہا جائے کہ کلام مجاز پر مبنی ہے ‘ اصل مطلب اس طرح تھا : اے نبی ! اپنی امت سے کہہ دیجئے کہ جب تم…
Read the full tafseer →نبی اکرم آپ اپنے متبعین سے فرما دیجیے کہ جب تم مدخول بہا عورتوں کو طلاق دینے لوگ تو ان کو ایسی پاکی کے زمانہ میں طلاق دو جس پاکی میں ان کے ساتھ صحبت نہ کی ہو اور پھر اس کے بعد تم ان کی عدت کو یاد رکھو کہ وہ تین حیض سے پاک ہو کر غسل کرلیں۔
اور اللہ سے ڈرو یعنی سنت کے خلاف ایام حیض میں ان کو طلاق مت دو اور یہ کہ جن عورتوں کو تم نے طلاق دے دی ہے عدت کے زمانہ میں ان کے رہنے کے گھروں سے ان کو مت نکالو اور نہ وہ عورتیں خود نکلیں جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔
مگر یہ کہ وہ خود کھلی نافرمانی کریں یہ کہ عدت میں گھر سے نکل جائیں کہ ان کا عدت کے زمانہ میں نکلنا اور نکالنا دونوں گناہ ہیں۔
یا یہ مطلب کہ وہ…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّھَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ۔۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے ”یایھا النبی“ کے ساتھ صرف نبی ﷺ کو خطاب کیا ، پھر ”اذا طلقتم“ میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ ﷺ اور آپ کی امت دونوں مشرک ہیں ، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے ”اذا طلقتم“ فرمایا ، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے ، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے ، اے فلاں ! تم ایسا کرو ، یعنی تم اور تمہاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی ! جب تم لوگ طلاق دو ، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔
2۔”اذا طلقتم“ (جب تم…
Read the full tafseer →اس میں چودہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا النبی اذا طلقتم النساء خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے جمع کے لفظ کے ساتھ خطاب تعظیم اور تفحیم کے لئے ہے۔ سنن ابن ماجہ میں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ کو طلاق دی تو وہ اپنے اہل میں آگئیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ آپ ﷺ سے کہا گیا : اس سے رجوع کرلیں کیونکہ وہ بڑی عبادت گزار اور روزے رکھنے والی ہے جنت میں بھی یہ آپ کی بیویوں میں سے ہے (1) ، ماوردی، قشیری اور ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے (2) ۔ قشیری نے یہ زائد ذکر کیا ہے ان کے اپنے گھر والوں کی طرف جانے کے بارے میں اللہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ ؓ کو طلاق دی اور وہ اپنے گھروالوں کے پاس آگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن۔ اے نبی ﷺ آپ لوگوں سے کہہ دیجیے جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینے لگو تو زمانہ عدت میں یعنی حیض سے پہلے طہر کی حالت میں طلاق دو ۔ آپ سے کہا گیا کہ ان سے رجوع فرمالیں کیونکہ وہ روزہ رکھنے والی اور راتوں کو قیام کرنے والی ہے اور بلاشبہ وہ جنت میں آپ کی بیویوں میں سے ہے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ کہ شاید اس طلاق کے بعد اللہ کوئی نئی بات تیرے دل میں…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ : اے نبی (آپ کہہ دیجئے کہ)] [اِذَا طَلَّقْتم النِّسَاۗءَ : جب کبھی تم لوگ طلاق دو (اپنی) عورتوں کو ] [فَطَلِقُوْهُنَّ : تو طلاق دو ان کو ] [لِعِدَّتِ هِنَّ : ان کی مدت (تک) کے لیے ] [وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ : اور پورا شمار کرو مدت کو ] [وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ : اور تقوٰی اختیار کرو اللہ کا جو تمہارا رب ہے ] [لَا تُخْرِجوهُنَّ : اور تم لوگ مت نکالو ان کو ] [مِنْۢ بُيُوْتِ هِنَّ : ان کے گھروں سے ] [وَلَا يَخْرُجْنَ : اور چاہیے کہ وہ (بھی) نہ نکلیں ] [اِلَّآ ان يَاْتِيْنَ : سوائے اس کے کہ وہ کریں ] [بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ : کوئی کھلی بےحیائی (کا کام)] [وَتِلْكَ…
Read the full tafseer →طلاق اور عدت کے مسائل، حدود اللہ کی نگہداشت کا حكم
یہاں سے سورة الطّلاق شروع ہے اس کے پہلے رکوع میں طلاق اور عدت کے مسائل بتائے ہیں درمیان میں دیگر فوائد بھی مذکور ہیں چونکہ اس میں عورتوں سے متعلقہ احکام مذکور ہیں اس لیے اس کا دوسرا نام سورة النساء القصریٰ بھی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسے اس نام سے موسوم کیا۔
اصل بات تو یہی ہے کہ جب مرد عورت کا آپس میں شرعی نکاح ہوجائے تو آخر زندگی تک میل محبت کے ساتھ زندگی گزار دیں، لیکن بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ طبیعتیں نہیں ملتی ہیں اور کچھ ایسے اسباب بن جاتے ہیں کہ علیحدگی اختیار کرنی پڑجاتی ہے لہٰذا شریعت اسلامیہ میں طلاق کو بھی مشروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
احکام طلاق وعدت نفیقہ وسکنی وتاکید تقوی وتنبیہ برتجاوز از حدود خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء ....... الی ....... لکل شیء قدرا “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں عقائد و ایمانیات کا ذکر تھا، اللہ رب العزت کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور اس کی ذات وصفات کا مختلف اسلوبوں سے تعارف کرایا گیا جس کے ساتھ کچھ احکام عبادات سے بھی متعلق بیان کیئے گئے تو اب اس سورت میں معاملات ومعاشرت کے بعض اہم اصول و احکام ذکر فرمائے جارہے ہیں، اور اس میں شبہ نہیں کہ خاندانی منازعت اور جھگڑے بسا اوقات طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح کی خصومت اور جھگڑے انسان کے دین اور ایمان کو…
Read the full tafseer →2:۔ ” یا ایہا النبی “ مطلقہ کے لیے عدت کا اثبات۔ نداء سے آنحضرت ﷺ کو مختص کیا گیا، لیکن حکم کا خطاب ساری امت سے فرمایا کیونکہ آپ امت کے امام ہیں یا اصل عبارت اس طرح ہے۔ ” یا ایہا النبی قل لامتک اذا طلقتم۔ الایۃ “ (روح) ۔ حنفیہ اور شافعیہ کا اس پر تو اتفاق ہے کہ طلاق طہر کی حالت میں دینی چاہئے، التہ اس میں ان کا اختلاف ہے کہ عدت کا شمار حیض سے ہوگا یا طہر سے۔ حنفیہ کے نزدیک عدت تین حیض ہے اور شافعیہ کے نزدیک تین طہر۔ اسی اختلاف کی بنا پر لعدتہن میں لام کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ شافعیہ کے نزدیک لام توقیت کے لیے ہے ای فی وقت عدتہن اور حنفیہ کے نزدیک لام بمعنی قبل ہے۔ ای قبل عدتہم لیکن حضرت شیخ قدس…
Read the full tafseer →نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الطلاق ہے کیونکہ اس میں طلاق کے بعض احکام مذکور ہیں۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی بارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة 147 الفاظ اور 1170 حروف پر مشتمل ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق اس سورة کو سورة الطلاق القصریٰ یعنی چھوٹی سورة طلاق کہا گیا ہے کیونکہ عاملی قوانین زیادہ تر سورة بقرہ میں نازل ہوئے ہیں اور یہ سورة اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة میں زیادہ تر مسلمانوں کے اجتماعی معاملات بیان ہوئے ۔ بنیادی عقائد میں مسئلہ توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا اور پھر انفاق فی سبیل اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ 0 ۚ وَاتَّقُوا اللہَ رَبَّكُمْ 0 ۚ لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِہِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَـيِّنَۃٍ 0 ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ 0 ۭ لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللہَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا 1
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي…
Read the full tafseer →ترکیب : اذاطلقتم شرط والمراد اذا اردتم تطلیقھن علی تنزیل المقبل علی الامر المشارف لہ منزلۃ الشارع فیہ کقولہ (علیہ السلام) من قتل قتیلا فلہ سلبہ ومنہ الماشی الیٰ الصلوٰۃ والمنتظر لھا فی حکم المصلی (کشاف) فطلقوھن لعدتھن الجملۃ جواب الشرط والجارفی لعد تھن متعلق بطلقوا ای مستقبلات لعد تھن کقولک اتیتہ لیلۃ بقیت من المحرم ای مستقبلا لھا والمراد ان یطلقن فی طھرلم یجامعن فیہ ثم یخلین حتی تنقضی عدتھن الا استثناء من قولہ لاتخرجوھن۔
تفسیر : (ربط) اس سے پہلی سورة کے اخیر میں فرمایا تھا کہ من ازواجکم واولادکم عدوالکم فاحذروھم کہ بعض اولاد اور بیویاں تمہاری دشمن ہیں ان سے بچو۔ اور بعض مواقع پر پورا بچنا…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ ج وَاتَّـقُواللّٰہَ رَبَّـکُمْ ج لاَ تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ م بُیُوْتِھِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَعَدَّحُدُوْدَاللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط لاَ تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔ (الطلاق : 1)
(اے نبی ! (مسلمانوں سے کہیں) کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو ، تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو ، اور عدت کا شمار رکھو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے، انھیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورة التغابن کے اختتام میں مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں اور اولاد ان کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی مرد کو ایسی بیوی کے ساتھ واسطہ پڑے اور وہ اس سے جان چھڑانا چاہئے تو وہ اسے طلاق دے کر جان چھڑا سکتا ہے۔ اسی لیے اس سورت کے آغاز میں طلاق کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔
اے نبی ﷺ ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور ان کی عدت شمار کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہار رب ہے۔ مطلقہ عورتوں کو ان کی عدت کے دور ان ان کے گھروں سے نہ نکالو مگر اس صورت میں کہ وہ واضح بےحیائی کا ارتکاب کریں، یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کا خیال رکھو۔ جس نے اللہ کی…
Read the full tafseer →ارادئہ طلاق مراد ہے :
1 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ (اے پیغمبر ﷺ (آپ لوگوں کو کہہ دیجئے) کہ جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو۔ تو (زمانہ) عدت میں (طہر کی حالت میں) طلاق دو اور عدت کی گنتی یاد رکھو) نداء میں نبی اکرم ﷺ کو خاص کیا گیا۔ اور خطاب عام امت کو کیا گیا کیونکہ نبی اکرم ﷺ امت کے پیشوا اور مقتدا ہیں۔ جیسا کہ قوم کے ریئس کو کہا جاتا ہے۔ یا فلان افعلوا کذا۔ اس سے مقصود اس کے تقدم کو ظاہر کرنا اور اس کی سرداری کو معتبر قرار دینا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنی قوم کا نمونہ ہے۔ پس وہ اکیلا ہی پوری قوم کے حکم میں ہے اور…
Read the full tafseer →سورة الطلاق
مدنی ہے اور اس کی بارہ 12 آیات ہیں
Read the full tafseer →1۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو شروع سورة میں اپنے رسول کو مخاطب کیا اور پھر طلاق کا مسئلہ جب بتایا تو امت کے لوگوں کو بھی اس میں شریک کرلیا تاکہ اس مسئلہ کا حکم سب امت کے لوگوں سے متعلق ہوجائے۔ فطلقوھن لعدتھن کا یہ مطلب ہے کہ عورتوں کو اگر طلاق دی جائے تو وقت مقررہ پر دی جائے بےوقت نہ دی جائے۔ مسند امام صحیح 1 ؎ مسلم اور سنن اربعہ میں عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے طلاق کے وقت مقررہ کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ طلاق ایسے طہر کے دنوں میں دی جائے جس طہر میں عورت سے صحبت نہ کی گئی ہو۔ اس طلاق کو سنی کہتے ہیں اور جو طلاق اس وقت مقررہ میں نہ ہو اس کو بدعی کہتے ہیں اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ ) اے نبی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ پس، تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجہ طلاق تلاش کرو جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ( فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ) انہیں ان کی عدت کے آغاز کے وقت میں طلاق دو ۔ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے ظاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے، پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت…
Read the full tafseer →نبی کو خطاب دراصل امت کو خطاب ہے
قول باری ہے (یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن، اے نبی ﷺ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں خطاب کی تخصیص حضور ﷺ کے ساتھ کی گئی ہے اس کے کئی وجوہ محتمل ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ مخاطبین کے اس علم پر اکتفا کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر جو حکم سنایا جارہا ہے اس کے مخاطب وہ بھی ہیں کیونکہ انہیں حضور ﷺ کی پیروی کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس قاعدے سے صرف وہی احکام مستثنیٰ ہیں جو حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں۔
آیت کی ابتداء حضور ﷺ کے ساتھ خطاب کی تخصیص سے ہوئی پھر خطاب کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ…
Read the full tafseer →[ 1] خطاب پیغمبر (علیہ السلام) سے اور مراد امت۔ سو ارشاد میں نداء خطاب پیغمبر سے ہے علیہ الصلوھ والسلام لیکن اس سے اور مراد پوری امت ہے یعنی اس میں نداء کو تو پیغمبر کے ساتھ خاص فرمایا گیا ہے مگر خطاب عام امت سے ہے کیونکہ پیغمبر امت کے مقتداء و پیشوا اور ان کے وکیل ہیں سو آپ سے یہ خطاب تعظیم و تکریم کے طور پر اور اس اعتبار سے ہے کہ آپ اپنی امت کے وکیل ہیں ﷺ اور مراد اس سے پوری امت ہے کیونکہ جو احکام ارشاد فرمائے جارہے ہیں وہ تمام مسلمانوں اور پوری امت کے لیے ہیں اسی لے آگے صیغے جمع کے لائے گئے ہیں سو تقدیر عبارت یوں ہوگی، ایھا النبی قل للمومنین من امتک۔ یعنی اے پیغمبر آپ اپنی امت اہل ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
طلاق کی خاص حدود
تشریح : حدیث میں آتا ہے، اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو،۔ (ابو داؤ)
اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اسی طرح طلاق کی اجازت اور پھر اس کے لیے حدودو قوانین ایسے بہترین اور انسانی سوسائٹی کی اصلاح کے عین مطابق ہیں کہ انسان فورا سمجھ جاتا ہے کہ یہ اس باہمی نظام کی کڑیوں کو درست کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو میاں بیوی کی مضبوط زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ زنجیر نظام کائنات کو درست رکھنے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ پورے معاشرے کی اصلاح گھر سے ہی تو شروع ہوتی ہے۔ اس لیے گھر کا ماحول صحت مند، پر سکون اور منظم ہونا چاہیے۔ اگر اس کی ترتیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
اے نبی اگر مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دے تو ان کی عدت پر طلاق دیں اور عدت شمار کی جائے اور اللہ کی عظمت پیش نظر رہے کہ طلاق کے معاملہ میں کوئی دوسرے پر زیادتی نہ کرے دوران عدت انہیں گھروں سے نہ نکالاجائے اور نہ وہ خود ہی گھر کو چھوڑ دیں تاآنکہ کسی سے بہت بڑی کوتاہی ہو یعنی وہ گھر چھوڑ دے یا زبان درازی کرتی ہو وغیرہ اور یاد رہے یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان میں جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے گویا اپنے آپ پر ظلم کیا کہ وہ نہیں جانتا شایدا للہ طلاق کے بعد بھی صلح کی صورت پیدا فرمادے اور جب وہ اپنی عدت پوری کرچکی اور آخری فیصلہ کا وقت آجائے تو یا تو شرعی…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی طہر کی حالت میں جس میں صحبت نہ کی ہو۔ یہ تشریح خود آنحضرت نے فرمائی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ آنحضرت سخت خفا ہوئے اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر طلاق دینا چاہیت ہو تو اس اطہر کے بعد اگلے طہر میں دے سکتے ہو یہی وہ عدت ہے جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (شوکانی) احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حیض کے دنوں میں عورت کو طلاق تو ممنوع ہے ہاں اگر طلاق دے دی جائے تو نافذ ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے تمام راویوں نے بالاتفاق یہی روایت کیا ہے۔ (دار قطنی 427)2 یعنی وہ وقت یاد رکھو جب طلاق…
Read the full tafseer →(65:1) یایھا النبی اذا طلقتم النسائ : یایھا النبی میں صرف نبی کریم ﷺ کو نداء کی گئی ہے لیکن چونکہ آپ پیشوا، امت ہیں اس لئے آپ کو نداء کرنا ساری امت کو نداء کرنا ہے گویا حکم طلاق کے مخاطب صرف آپ ہی نہیں ہیں بلکہ آپ کے ساتھ ساری امر کو بھی خطاب ہے جیسا کہ طلقتم میں صیغہ جمع مذکر حاضر ظاہر کرتا ہے۔
اذا ظرف زمان ہے شرطیہ آیا ہے :۔ طقلتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تطلیق (تفعیل) مصدر۔ جب طلاق دو ۔ طلاق دینے سے مراد طلاق دینے کا ارادہ کرنا ہے ارادہ فعل کی تعبیر فعل سے کی : جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ واذا قرات القران فاستعذ باللہ (16:98) یعنی جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
طلقوا۔ تم طلاق دے دو ۔ احصوا۔ شمار کرو۔ گنو۔ فاحشۃ۔ بےحیائی کرنے والی۔ یتعد۔ حد سے بڑھنا ہے۔ لا تدری۔ تجھے معلوم نہیں۔ لعل۔ شاید کہ۔ امید کہ۔ یحدث۔ وہ پیدا کردے گا۔ بلغن۔ وہ پہنچ گئیں۔ امسکوا۔ روک لو۔ فارقوا۔ تم چھوڑدو۔ جدا کردو۔ اشھدوا۔ تم گواہ کرو۔ ذوی عدل۔ دو معتبر آدمی۔ یوعظ۔ نصیحت کی گئی ہے۔ مخرجا۔ نکلنے کی جگہ۔ لا یحتسب۔ گمان نہ جائے گا۔ التی۔ وہ عورتیں ۔ وہ مونث۔ یئسن۔ مایوس ہوچکیں۔ المحیض۔ حیض۔ ماہوار۔ ارتبتم۔ تم شک میں پڑگئے۔ ثلثۃ الشھر۔ تین مہینے۔ لم یحضن۔ حیض (خون) نہیں آیا۔ اولات الاحمال۔ حمل والی عورتیں۔ ان یضعن۔ کہ کہ وہ جن دیں۔ یسرا۔ آسانی۔ یعظم۔ وہ بڑا کردے گا۔…
Read the full tafseer →طلاق اور اس کی اقسام اور احکام۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنی بی بی کو عورتوں کے ایام مخصوصہ میں طلاق دی تھی ، سرور دوعالم نے انہیں حکم دیا کہ رجعت کریں پھر اگر طلاق دینا چاہیں تو طہر یعنی پاکی کے زمانہ میں طلاق دیں اس آیت میں عورتوں سے مدخول بہاعورتیں ہیں (جو اپنے شوہروں کے پاس گئی ہوں ) صغیرہ، حاملہ اور آئسہ نہ ہوں ، آئسہ وہ عورت ہے جس کے ایام بڑھاپے کی وجہ سے بند ہوگئے ہوں ان کا وقت نہ رہا ہو۔
مسئلہ : غیر مدخول بہا پر عدت نہیں ہے باقی تین قسم کی عورتیں جن کا ذکر ہوا انہیں ایام نہیں ہوتے تو ان کی عدت حیض سے شمار نہ ہوگی۔
مسئلہ : غیرمدخول بہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] سورة بقرہ میں آچکا ہے کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہے (آیت 228 صفحہ 68) ۔ لہذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیے تاکہ سارا حیض گنتی میں آئے۔ نیز حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔
[2] یعنی اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے مقرر کئے ہوئے حدود کی پابندی اس غصہ کے باوجود کرتے رہو جو تمہارے اندر بیوی کے خلاف پیدا ہوچکا ہے۔ اگر حدود کو توڑو گے تو اللہ کی پکڑ اور اس کے قہروغضب سے تمہیں کوئی نہ بچا سکے گا۔
[3] یعنی مطلقہ خود بھی گھر سے نہ نکلے کیونکہ عورت کو عدت شوہر کے گھر پوری کرنی لازمی ہے۔ یہ اس لئے کہ ممکن ہے عدت کے دوران میاں بیوی میں باہم موافقت کی کوئی صورت نکل آئے۔
[4] یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اسلامی نظام ازواج
1: اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے معاشرتی گتھیوں کو بوجہ احسن سلجھایا ہے ۔ اور نظام ازدواجی کو کامل ترین اور معقول ترین صورت میں پیش کیا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے نکاح میں ۔ اگر تائید مقصود نہ ہو ۔ اور غرض عارضی لذت اندوزی ہو ۔ تو وہ زنا ہے ۔ اور قانو ناًبالکل جائز نہیں ۔ چناچہ قرآن حکیم اور شرعیت اسلامیہ کی توقعات کا یک شادی شدہ انسان سے یہ ہیں ۔ کہ وہ حتی الامکان اس رشتہ کو آخر تک نبھائے گا ۔ مگر یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کہ ہر شخص ہر حالت میں فطرت کی طرف سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی اس میں اور اس کی بیوی میں اختلاف پیدا نہ ہو جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جن کے ممسلک میں…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر خطاب ہے نبی کریم ﷺ کو مگر امت اس میں سامل ہے یعنی اے مسلمانو ! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرلو تو ان کی عدت کا خیال اور لحاظ رکھتے ہوئے طلاق دو اور طلاق دینے کے بعد تم عدت کو شمار کرتے رہو اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے اور تم مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ عورتیں خود بھی نہ نکلیں۔
مگر ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کسی کھلی ہوئی بےخیائی کا ارتکاب کرلیں اور یہ احکام اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود ہیں جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کرد حدود سے تجاوز کیا اور اس کی مقرر کردہ حدود سے جو شخص آگے بڑھا تو بلاشبہ اس شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا اس کی خبر…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی مثلا مرتکب بدکاری یا سرقہ کی ہو تو سزا کے لئے نکالی جاویں، یا بقول بعض علماء زبان درازی اور ہر وقت کا رنج و تکرار رکھتی ہوں تو ان کو نکال دینا جائز ہے۔
Read the full tafseer →طلاق اور عدت کے مسائل بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی مخاطب کرنے کی حکمت
1 ؎ (طلاق) طلاق ، جدائی ، رخصت کرنا ، چھوڑ دینا ، نکاح کی قید سے عورت کے باہر آنے کو طلاق کہتے ہیں ۔ یہ مصدر ہے ، اس کا فعل باب نصر اور کرم دونوں سے آتا ہے ۔ نیز ” طلاق “ بمعنی تطیق ( چھوڑ دینے) کا اسم ہو کر بھی مستعمل ہے۔ طلاق کے معنی لغت میں قید سے رہا کرنے اور چھوڑ دینے کے ہیں اور شرع میں ملک نکاح کے زائل کرنے کو کہتے ہیں ۔ طلاق بدعت یہ ہے کہ عورت کی تین طلاقیں ایک ہی حکم کے ساتھ دی جائیں یا تینوں ایک ہی طہر میں دی جائیں ۔ طلاق سنت یہ ہے کہ مرد عورت کو تین طلاقیں تین طہر میں دے۔ طلاق حسن یہ ہے کہ مرد عورت کو ایسے طہر میں…
Read the full tafseer →The Status of Marriage and Divorce in Shari’ ah: The Wise Legal Framework
In Ma’ ariful Qur’ an, Volume [ 1], p 573, in Surah Al-Baqarah, full details of the subject under similar heading are given. The gist of the matter is that marriage and divorce in any given religion is not like a mutual transaction or contract similar to transactions in buying and selling or in loans and repayments, which the contracting parties may conclude as they wish. In all ages there has always been a consensus among followers of all religions that these contracts have a special sacred nature, for above ordinary…
Read the full tafseer →1 That is, "O believers, you should not make undue haste in the Matter of pronouncing divorce: your minor family quarrels should not so incite you that you should pronounce the final divorce in a fit of anger and there teremains no chance for reconciliation. However When you have to divorce your wives, you should divorce them for their prescribed waiting-period." Pronouncing divorce for the waiting period has two meanings and both arc implied here:
First. That "you should divorce them at a them when their waiting-period can begin. " This thing has already been prescribed in Al-Baqarah: 228…
Read the full tafseer →