At-Taghaabun 64:18

At-Taghaabun · from ayah 18

64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟۠عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Knower of the unseen and the witnessed, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:18

حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے، زبردست اور دانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه پوشیده اور ﻇاہر کا جاننے واﻻ ہے زبردست حکمت واﻻ (ہے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ہر بھید کا اور ہر کھلی ہوئی چیز کا جاننے والا ہے، بڑے اقتدار کا، بڑی حکمت کا مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت والا حکمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے، بڑے غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، وہ زبردست ہے اور دانا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جاننے والا ہے غائب و حاضر کا عزیز و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ایک برابر) جاننے والا نہاں وعیاں کا بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا

— مولانا اسحاق مدنی

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا وہ بہت زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پوشیدہ اور ظاہر کا جا ننے والا غالب اور حکمت والا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows that which is beyond the ken of perception as well as that which can be perceived. He is the Most Mighty, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Knower of the Unseen and the seen, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

the Knower of the Unseen and the seen, the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

All-Knower of the unseen and seen, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Knower of the Invisible and the Visible, the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Knower of the unseen and the witnessed, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

He knows the unseen and the seen. He is the Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

The Knower of the unseen and the seen, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Knower of the unseen and the seen, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Knower of what is open, Exalted in Might, Full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

اللہ کی یاد اور دولت ارشاد ہوتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے، جس سے پہلے تنبیہ ہوچکی ہے کہ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کردیں اگر ایسا ہوگیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو، بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کرچکے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة التَّغَابُن 33 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 267۔ المائدہ، حاشیہ 32۔ جلد پنجم، الحدید، حاشیہ 16۔ سورة التَّغَابُن 34 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، فاطر، حواشی 52۔ 59۔ الشوریٰ ، حاشیہ 42۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ”یعنی تقویٰ اختیار کرو مقدور بھر“ جب آیت اتقواللہ حق تقاتہ نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ ”اللہ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ کا حق ہے“ تو صحابہ کرام پر بہت بھاری اور شاق ہوا کہ اللہ کے حق کے مطابق تقویٰ کس کے بس میں ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت اور مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دی، تقویٰ بھی اپنی طاقت کے مطابق واجب ہے، مقصد یہ ہے کہ حصول تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کرلے تو اس سے اللہ کا حق ادا ہوجائے گا (روح ملخصاً) تمت سورة التغابن وللہ احمد

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(علیم الغیب والشھادۃ العزیز العلیم) (18) یعنی اللہ تعالیٰ تمام غائب و حاضر کا جاننے والا بھی ہے اور ساتھ ہی عزیز و حکیم بھی ہے۔ اس کی رضا جوئی کے لیے تم جو قربانی بھی کرو گے وہ اس سے مخفی نہیں رہے گی اور یہ بھی اطمینان رکھو کہ اگر تم اس کا ساتھ دو گے تو وہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والے کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی (فلہ الحمد وبیدہ التوفیق)۔۔۔ رحمان آباد۔۔۔ 13۔ اپریل 1978؁ء۔۔ 4 جمال الاول 1398؁ھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ 17۔ 2 یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ 17۔ 3 وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

6: اللہ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت انسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت انسان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دکھاوا مقصود نہ ہو، نیک کاموں میں خرچ کرنے کو سورة بقرہ : 224، سورة مائدہ : 12، اور سورة مزمل : 73، میں بھی قرض حسن سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اس سورت کا خاتمہ ایک ایسی صفت الٰہی پر ہوتا ہے کہ جس سے ہمارے دل کے اندر خوف وتقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ علم الغیب ........................ الحکیم (46 : 81) ” اللہ حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے “۔ اس کے علم کے سامنے سب کچھ کھلا ہے۔ اس کی سلطنت کے سامنے سب کچھ جھکا ہوا ہے۔ وہ اپنی حکمت سے اس پوری کائنات کی تدبیر کررہا ہے۔ یوں کہ لوگ زندہ ہیں اور یوں رہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کی مکمل حکومت ان پر نافذ ہے۔ ہر حاضر اور غائب کو اس کا دست قدرت چلارہا ہے۔ جب یہ تصور قلب مومن میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے خلوص اور اطاعت کرتے جاتا ہے۔ اور اللہ کے احکام کی اطاعت نہایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اسی کو ظاہری اعمال اور باطنی نیتوں کی خبر ہے اپنی زبردست قوت اور حکمت سے اس کے مناسب بدلہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”جاننے والا ہے چھپے اور کھلے سب کا ‘ وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ غائب و حاضر ‘ چھپے اور کھلے سب کا جاننے والا ہے۔ اس میں ایک جانب تقویٰ ‘ اطاعت اور انفاق پر کاربند رہنے والے اہل ِایمان کے لیے بشارت اور یقین دہانی مضمر ہے کہ وہ مطمئن رہیں کہ ان کی کوئی نیکی ضائع جانے والی نہیں ہے اور دوسری طرف اعراض و انکار کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ تمہاری کوئی حرکت اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کامل غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔ اس لیے کہ وہ ”العزیز“ ہے۔ اور اگر وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

26 تشریح کے لئے سورة الحدید کی آیت نمبر 11 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 27 قدردانی کی بات یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی کچھ مال اس کی راہ میں خرچ کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور اس کا تحمل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے پر فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو معاف بھی کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی سزا میں تخفیف بھی کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ ان سب صفات الہی کا اثبات بھی، پچھلے موقعوں کی طرح، جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ کے رد میں ہے۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ سب کچھ اس پر روشن۔ یہ نہیں کہ خفیف جزئیات اس کی نگاہوں سے مخفی رہ جائیں، یا یہ کہ اس کے سامنے کوئی جھوٹا عذر چل سکے (آیت) ” العزیز۔ وہی سب پر غالب وحاکم۔ یہ نہیں کہ ” کرم “ (قانون مکافات) وغیرہ کی کوئی دفعہ اس کے ارادہ ومشیت پر بھی غالب آجائے، (آیت) ” الحکیم “۔ اس کا ہر ہر فیصلہ حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ کہیں کہ کبھی اس پر سہو، نسیان، غفلت طاری ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–18

شان نزول یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی) اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علم الغیب والشھادۃ العزیز الحکیم . ” اور بڑا بردبار ہے اور ظاہر و پوشیدہ (اعمال کو) جاننے والا ‘ بڑا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ “ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ : یعنی اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ‘ جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور جو چیز لوگوں کے علم سے پوشیدہ ہے ‘ اللہ سب کو جانتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو چیز اس وقت موجود ہے اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیز پہلے ہوچکی یا آئندہ ہونے والی ہے سب سے خدا واقف ہے۔ اَلْعَزِیْز : ہر شے پر غالب جس کی قدرت بھی کامل ہے اور علم بھی ہمہ گیر۔ الحمد اللہ سورة تغابن کی تفسیر ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدر دان ہے کہ تمہارے صدقات کو قبول فرما کر بڑھاتا ہے یا یہ کہ معمولی سا صدقہ قبول کرکے اجر عظیم عطا فرماتا ہے اور جو شخص اپنے صدقہ پر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کی فوری گرفت نہیں فرماتا۔ اور صدقہ دینے والوں کے دلوں میں جو احسان اور خوف پوشیدہ ہے اور وہ جو صدقات دیتے ہیں وہ ان سب باتوں سے بخوبی واقف ہے اور جو شخص صدقہ دے کر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ : یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والدہ واولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے ، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی ، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادۃ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے ، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

علم الغیب والشھادۃ جو غائب ہے اور جو حاضر ہے اس کو جاننے والا ہے العزیز وہ غالب و قاہر ہے یہ صفات افعال میں سے ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (1) (الزمر) اس اللہ کی جانب سے جو قادر محکم ہے تمام اشیاء کا خالق ہے۔ خطابی نے کہا : بعض اوقات یہ لفظ نفاست قدر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی میں کہا جاتا ہے۔ عزیعز اس تعبیر کی بنا پر عزیز کا معنی اسے بھی شامل ہوتا ہے کہ اس کے ہم پلہ کوئی چیز نہیں اور اس کی مثل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ الحکیم وہ اپنی مخلوق کی تدبیر میں حکیم ہے۔ ابن انباری نے کہا : حکیم سے مراد اشیا کو پیدا کرنے میں محکم ہے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

17۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے سے قرضہ طلب کیا تو اس نے مجھے قرضہ دینے سے انکار کردیا۔ اور میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا اور وہ نہیں جانتا۔ اور کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانہ تو میں ہوں۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم ویغفرلکم اگر تم اللہ کو اچھا قرضہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اس کو دگناکردے گا۔ 18۔ عبد بن حمید نے ابوحیان سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی سائل کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ کون اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : (وہ) غائب اور موجودہ کا جاننے والا ہے ] [الْعَزِيْزُ : بالادست ہے ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ ﴾ (وہ غیب اور شہادۃ کا جاننے والا ہے) ﴿ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (رح) 0018﴾ (وہ زبردست ہے حکمت والا ہے) ۔ وھذا آخر تفسیر سورة التغابن بفضل اللہ الملیک العلام و الحمدللہ علی التمام والصلوٰة علی البدر التمام وعلی الہ و اصحابہ البررة الکرام

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” عالم الغیب “ وہ عالم غیب و شہادت ہے، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ دلوں کے اخلاص کو بخوبی جانتا ہے اس لیے ہر شخص کو اس کے اخلاص کے مطابق اس کے عمل کی جزا دے گا وہ قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا مالک ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ سورة تغابن میں آیات توحید 1 ۔ یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض۔ الایۃ۔ نفی شرک ہر قسم 2 ۔ خلق السموات والارض بالحق۔ تا۔ واللہ علیہم بذات الصدور۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ اللہ لا الہ الا ھو۔ نفی شرک ہر قسم۔ سورة تغابن ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ نے توحید اور ایمان کی بات بیان فرمائی۔ پھر نبوت و رسالت کے معترضین کو جواب دیا اور جزائے عمل کا ذکر کیا۔ فرمایا قیامت یوم التغابن یعنی ہار جیت کے دن واقع ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ نور پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے تکلیف آنے کا فلسفہ بیان فرمایا کہ یہ منجانب اللہ آتی ہے لہٰذا اس میں جزع فزع نہیں کرنا چاہیے آگے فرمایا کہ بہت سے لوگوں کے حق میں ان کے بیوی بچے ان کے دشمن بن جاتے ہیں لہٰذا ان سے محتاط رہنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے مال اور اولاد کے متعلق فرمایا کہ یہ آزمائش کا ذریعہ ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 18 ۧ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَـکُمْ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ط وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (التغابن : 17، 18) (اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بہت حلم والا ہے۔ جاننے والا ہے غائب و حاضر کا، سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ ) قرضِ حَسن کی فضیلت اوپر کی آیت میں مال کے خرچ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہاں اسی خرچ کی ایک شاخ جس کا مرتبہ سب سے بلند ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پہلی آیت میں جس انفاق کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق ہر قسم کے انفاق سے ہے۔ خواہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : مال کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا رہے صدقہ کرنا ” اللہ “ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ اوپر کی دو آیات میں ایمان والوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت میں صدقہ کرنے والوں کو یہ فرما کر تسلی اور ترغیب دی ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ صدقہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو گے۔ وہ تمہارے صدقہ کو دوگنا تگنا کرے گا اور اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والوں کا بڑا ہی قدر دان اور بردبار ہے۔ وہ تمہارے ظاہری اور باطنی حالات کو جانتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہونے کے ساتھ بڑاحکیم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : عٰلِمُ الْغَیْبِ (وہ ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے) دلوں کے جو راز چھپے ہوتے ہیں۔ وہ ان کو بھی جانتا ہے۔ وَالشَّہَادَۃِ (اور جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اس کو بھی جانتا ہے) ۔ یعنی جو ظاہری مصائب و حوادث دنیا میں پھیلے ہیں ان سے بھی واقف ہے۔ الْعَزِیـْزُ (وہ زبردست ہے) سخاوت و معروف کے اظہار سے عزت دینے والا ہے۔ الْحَکِیْمُ (اور حکمت والا ہے) غیوب کے حالات اور اطلاعات دینے میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–18

14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ) وہ پوشیدہ اور ظاہر کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں (الْعَزِيْزُ ) جس کے مقابلے میں کوئی غالب آسکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیا پر غالب ہے۔ (الْحَكِيْمُ ) اپنے خلق وامر میں حکمت والا ہے جو تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

34 ۔ قرض حسن سے مقصود و مراد ؟ اور اس کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ کو قرض دو گے قرض حسن تو وہ کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا، اور قرض حسن سے مراد یہ ہے کہ مال بھی ستھرا اور پاکیزہ ہو، اور ارادہ و نیت بھی صحیح اور درست ہو، اور اس کا اصل مقصود اللہ کی رضا و خوشنودی ہو، قرآن حکیم میں قرض کا لفظ عام طور پر جہاد ہی کے انفاق کے لیے آیا ہے، اور اس لفظ میں بڑی بلاغت ہے، جو اہل علم اور اصحاب ذوق سلیم سے مخفی نہیں سورة مزمل میں ارشاد فرمایا گیا وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل 20 پ 29) اور قائم کرو تم نماز اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مومن کے لیے آخرت کا زادراہ تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اطاعت رسول ﷺ ۔ لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی اسے ظاہری اعمال اور پوشیدہ نیتوں کی خبر ہے۔ اپنی زبردست قوت اور حکمت سے اس کے مطابق بدلہ دے گا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:18) علم الغیب والشھادۃ۔ یعنی اس کے علم سے کوئی شے مخفی نہیں۔ جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور جو چیز لوگوں کے علم سے پوشیدہ ہے اللہ سب کو جانتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ :۔ جو چیز اس وقت موجود ہے اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیز پہلے ہوچکی یا آئندہ ہونے والی ہے۔ سب سے خدا تعالیٰ واقف ہے۔ العزیز۔ ہر شے پر غالب ، جس کی قدرت بھی کامل ہے اور علم بھی ہمہ گیر۔ عزۃ سے فعیل کو وزن پر نمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الحکیم : حکمۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حکمت والا اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کیونکہ اصل حکمت اسی کی حکمت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

مال اور اولاد آزمائش۔ (ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–18

حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) ہرچھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قرض دینے والوں کو نیت کو خوب جانتا ہے جو عمل ظاہری ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے بڑا زبردست اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ تم تفسیر سورہو التغابن

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہر غیب و حاضر کو جانتا ہے ، وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے 18 ؎ غیب ہم انسانوں کی نسبت سے کہا گیا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے غیب کی کوئی بحث ہی نہیں ۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے جس چیز کو اللہ تعالیٰ کے غیب جاننے سے موسوم کیا جاتا ہے وہ محض ہم انسانوں ہی کے باعث کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے لیے غیب ہے اور اس لیے ہم اس کو غیب کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زمانو مکان ، جمع واحد اور تثنیہ ، حاضر و غائب کی ساری قیدیوں سے آزاد ہے اور کوئی اس کو جس نام سے بھی بلاتا اور پکارتا ہے وہ پکارنے والے کی ہر پکار سے واقف حال ہے۔ کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (So, observe taqwa [ total obedience to Allah in awe of Him ] as far as you can…64:16). When the verse اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ (…Observe taqwa as is His due…3:102] was revealed, the blessed Companions felt it very difficult, because it was impossible for anyone to observe taqwa of Allah ‘as is due to Him’. On that occasion, the present verse was revealed which clarified that no imposition is made on man more than he can bear. Taqwa too must be observed as far as it is possible for man to observe. If a person tries to obey Allah’ s due. [ Ruh –…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

33 For explanation, see E.N. 267 of Al-Baqarah, E.N. 33 of Al Ma'idah, E,N. 16 of Al-Hadid. 34 For explanation, see E.N.'s 52, 59 of Fatir; E.N.42 of Ash-Shura.

Read the full tafseer →