64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی پاکی بیان کرتی ہیں جو کچھ کہ آسمانوں اور جو کچھ کہ زمین میں ہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی (ہر) تعریف ہے، اور وہی ہر شے پر قادر ہے،1۔

1۔ (اور وہی ساری صفات کمال و جمال کا جامع ہے) (آیت) ” یسبح ..... الارض “۔ یہ تسبیح ہر مخلوق کی اس کے مرتبہ وجود کے مطابق ومتناسب ہوگی، کہیں زبان حال سے کہیں زبان قال سے۔ (آیت) ” لہ الملک “۔ حکومت وملکیت صرف اسی ذات پاک کی ہے۔ (آیت) ” ولہ الحمد “۔ محمودیت کی مرکز صرف وہی ذات پاک ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے تم (سب) کو پیدا کیا، سو بعض تم میں سے کافر ہیں اور بعض تم میں سے مومن، اور اللہ تمہارے (سارے) اعمال کو دیکھ رہا ہے،2۔

2۔ اس لیے حشر وجزائے اعمال کے وقت سب یکساں ہوں گے۔ (آیت) ” خلقکم “۔ خطاب عام نوع بشری سے ہے۔ مرتبہ مخلوقیت میں سب یکساں ہیں۔ (آیت) ” ھو الذی خلقکم “۔ اور جب وہ سب کا خالق ہے تو اس کی خالقیت کا عین مقتضا یہ تھا کہ تم سب کے سب اس کے مطیع ہوتے۔ (آیت) ” فمنکم ..... مومن “۔ بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی تفریق صرف مومن و کافر کی ہے۔ ایک طرف چین کے مسلم، مصر کے مسلم، ہند کے مسلم، امریکہ کے مسلم، آسٹریلیا کے مسلم، رنگ کے، نسل کے، زبان کے، وطن کے اختلافات کے باوجود سب کے سب مسلم۔ اور دوسری صف میں ساری دنیا کے کافر۔ بس حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش یا مسلم ومنکر۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا اور تمہارا نقشہ بنایا، سو تمہارا (کیسا) اچھا نقشہ بنایا اور اسی کی طرف (سب کی) واپسی ہے،3۔

3۔ یہاں جتنی صفات الہی بیان ہوئی ہیں، بہت سی آیات قرآنی کی طرح، ان میں سے ہر صفت کا اثبات کسی نہ کسی مشرکانہ گمراہی کی تردید، کسی نہ کسی جاہلی عقیدہ کے ابطال ہی میں ہے۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ آسمان و زمین نہ دیوی، دیوتا ہیں، نہ خود آفریدہ بلکہ حق تعالیٰ کے خلق کیے ہوئے ہیں، جس طرح اور ساری مخلوق ہے، (آیت) ” بالحق “۔ یہ سارا کارخانہ کائنات، جس کی پوری پیمائش کسی بندہ سے نہ آج تک ہوسکی ہے، نہ آئندہ کبھی ہوسکے گی، یوں ہی بلامقصد، محض تماشہ و تفریح کی خاطر وجود میں نہیں لے آیا گیا ہے، بلکہ مخصوص و متعین اعلی مقاصد ہی کے ماتحت ایک حکیم مطلق کے ارادہ وتجویز کے مطابق وجود میں لایا گیا ہے۔ (آیت) ” وصورکم “۔ مادہ وروح، ہیولی اور صورت، سب کا خالق وموجد وہی ہے۔ (آیت) ” فاحسن صورکم “۔ انسان کی خلقت و ترکیب سب بہترین آئین حکمت کے مطابق ہے۔ محض اتفاقی اجتماع عناصر کا نتیجہ نہیں۔ (آیت) ” والیہ المصیر “۔ ہر مخلوق کو اپنی زندگی کی میعاد پوری کرکے واپس بھی اسی کے حضور میں ہونا ہے۔ کسی دیوی دیوتا، ابن اللہ وغیرہ سے سابقہ پڑنا نہیں ہے۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔ اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو تم علانیہ کرتے ہو اور اللہ تو دلوں تک کی بات خوب جاننے والا ہے،4۔

4۔ حاصل یہ کہ اس کی قدرت کی طرح اس کی صفت علم بھی کامل ومکمل ہے، جزئیات وکلیات، غیب وشہادت سب پر یکساں حاوی۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو (تم سے) قبل کفر کرچکے ہیں سو انہوں نے اپنے کرتوت کا وبال چکھا اور ان کے لئے عذاب درد ناک ہے،5۔

5۔ (آخرت میں) یعنی وبال عاجل کے علاوہ، جس کا مشاہدہ ہر شخص اوراق تاریخ کی مدد سے کرسکتا ہے، ان سرکش ونافرمان قوموں کے لیے آخرت کا عذاب آجل بھی ہے۔ (آیت) ” الذین کفروا من قبل “۔ اس میں وہ تمام قومیں آگئیں، جو اسلام سے قبل دنیا میں نمودار ہوئیں، اور خدائی قانون کی مخالفت کر کر کے دنیا سے نابود ہوگئیں۔ (آیت) ” فذاقوا وبال امرھم “۔ یعنی اسی دنیا میں اپنے کفر و طغیان کا مزہ چکھا، اور ہلاک وبرباد ہوکر رہے۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس سبب سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے ہوئے نشان لے کر آئے اس پر وہ بولے کہ کیا انسان ہم کو ہدایت کریں گے ؟ غرض انہوں نے کفر کیا اور اعراض کیا، اور اللہ نے (ان کی کچھ) پرواہ نہ کی، اور اللہ بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے،6۔

6۔ (اس کو نہ کسی کی طاعت سے نفع، نہ کسی کی معصیت سے ضرر) (آیت) ” فقالوا ابشر یھدوننا “۔ وہ لوگ حیرت و انکار کے لہجہ میں بولے کہ بھلا بشر بھی کہیں ہادی ورہنما ہوسکتا ہے ؟ کوئی دیوی دیوتا ہوتا تو خیر ایک بات بھی تھی۔ بشریت کو جاہلی قوموں نے ہمیشہ رہبری و رہنمائی کے منافی سمجھا ہے، اور وہی ذہنیت آج تک چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” واللہ غنی حمید “۔ آیت ان جاہلی قوموں کے رد میں ہے جن کے عقیدہ میں دیوتا بھی اپنے بچاریوں کے درجہ اقرار و انکار، عبودیت واعراض سے متاثر ہوتے رہتے تھے۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ وبال دنیوی و عذاب آخرت دونوں کی جانب ہے۔ اشارۃ الی ماذکر من الوبال الذی ذاقوہ فی الدنیا وما اعدلھم من العذاب فی الاخرۃ (مدارک)
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ (دوبارہ) اٹھائے نہ جائیں گے آپ (ان سے) کہئے ضرور، اور قسم ہے میرے پروردگار کی، تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر جو کچھ تم کرچکے ہو اس کی تمہیں خبر دی جائے گی، اور یہ اللہ پر (بالکل) آسان ہے،7۔

7۔ (آیت) ” بلی وربی “۔ کے ٹکڑے سے مقصود عربی اسلوب بیان کے مطابق تاکید کلام اور وقوع حشر میں قطعیت کا پیدا کرنا ہے، (آیت) ” وذلک علی اللہ یسیر “۔ حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت کا استحضار اگر ذہن میں رہے، تو وقوع حشر میں کوئی استبعاد ذرا سا بھی نہ رہے۔ (آیت) ” زعم الذین کفروا “۔ لفظ زعم سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ منکروں کا یہ قول بلادلیل محض اٹکل اور خیال سے ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو اب اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس نور پر بھی جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے،8۔

8۔ کوئی عمل نگاق، کوئی عمل کفر اس کی نگاہ سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” والنور الذی انزلنا “۔ مراد قرآن کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

وہ دن (یاد رکھو جب) وہ تمہیں اس جمع کرنے والے دن میں جمع کرے گا یہی (دن) ہے نقصان (ونفع) کے ظاہر ہونے کا دن، اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا اور نیک کام کرتا ہوں گا اللہ اس کے گناہ اس سے دور کردے گا اور اسے باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہ بڑی ہی کامیابی ہے،9۔

9۔ (جس کے سامنے دنیا کی بڑی سی بڑی ممکن کامیابی بھی ہیچ محض ہے) (آیت) ” ذلک یوم التغابن “۔ یعنی وہ دن کافر ومنکر کی حسرت و زیاں کا ہوگا، اور مومن کی راحت ومسرت کا۔ (آیت) ” ومن ..... سیاتہ “۔ آیت ان خارجی اور نیم خارجی گروہوں کے مزید رد میں ہے، جو معصیت کو ایمان کے منافی سمجھتے ہیں، مومن سے اگر گناہ سرزد ہی نہ ہوں، تو یہ کفارہ کا ہے کا ہوگا ؟ اور قرآن مجید مومنین کے کفارہ معاصی کا بار بار اثبات ہی کیوں کررہا ہے ؟ (آیت) ” ویعمل ..... سیاتہ “۔ قرآن مجید کی یہ بار بار بشارت کہ نیکیاں گناہوں کے محو کرنے میں وہ کام دیں گی، جو پنسل کی تحریر کے حق میں ربڑ کرتی ہے۔ ہم عاصیاں امت کے لئے کتنی بڑی بشارت ہے !
Ayahs 64:10–11

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر رہے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تھے، یہ لوگ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانہ ہے ،

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت ایسی نہیں آتی جو بجز اللہ کے حکم کے ہو اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اسے راہ دکھا دیتا ہے، اور اللہ پر چیز کو خوب ہی جانتا ہے،10۔

10۔ (بشری ضروریاتوجذبات کا کونسا جزئیہ اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟ ) (آیت) ” ما ..... اللہ “۔ اس خیال کا استحضار مصیبت زدوں کے لیے کتنی بڑی تسلی وتسکین کا باعث اور جادۂ تسلیم و رضاء پر قائم رکھنے میں کتنا زیادہ معین ہوسکتا ہے ! (آیت) ” باذن اللہ “۔ اذن سے مراد اس سیاق میں حکم تکوینی ہے، جو مرضی الہی کو مستلزم نہیں۔ اے بعلمہ وتقدیرہ ومشیۃ (مدارک) قال ابن عباس ؓ بعلمہ وقضاۂ (کبیر) (آیت) ” ومن .. قلبہ “۔ ایمان باللہ میں تاثیر ہی یہ ہے وہ قبل کو تسلیم و رضاء کا راستہ دکھاتا رہے۔ جس کا درجہ ایمان جتنا زیادہ مستحکم وبلند، اسی قدر ہجوم مصائب کے وقت سکون قلب بھی اس کو زیادہ نصیب، چیز تجربہ کی ہے، جو چاہے تجربہ کر دیکھے۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی پھر اگر تم نے روگردانی کی تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے،11۔

11۔ (اور وہ فریضہ تبلیغ سے ادا ہوچکے) (آیت) ” واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ اطاعت حق تعالیٰ کی تو براہ راست اور اصالۃ مقصود ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی اس کے نائب معصوم کی حیثیت سے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، اور ایمان والے بس اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں،12۔

12۔ (خواہ وہ مصیبت ان پر محض تکوینی حیثیت سے، بیماری، قحط وغیرہ کے سلسلہ میں آپڑے، خواہ راہ حق پر رہنے کے سلسلہ میں مخالفین ومعاندین کی طرف سے ان پر ستم توڑے جائیں) ۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد ہی میں سے تمہارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو،13۔ اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرجاؤ اور بخش دو تو اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے،14۔

13۔ (کہیں تو انکی محبت طبعی میں غلو کے باعث معاصی میں مبتلا نہ ہونے لگو) یعنی بعض اوقات بیوی بچوں کی محبت مفرط ہی غلط راستہ پر ڈال دیتی ہے اور انسان ان کی پر معصیت فرمائشوں کی تعمیل میں لگ جاتا ہے، سو ایسے بیوی بچوں سے ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اوپر مصیبتوں کا ذکر تھا کہ وہ کہیں تمہیں راہ تسلیم ورضا سے ڈگانہ دیں۔ اب نعمتوں کا ذکر ہے کہ کہیں ان میں پڑکر احکام خداوندی کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ اور اس سلسلہ میں صراحت کے ساتھ ذکر صرف بیوی بچوں کا کیا ہے کہ حقیقۃ یہی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اور انسان کو طبعی کشش بھی انہیں کی جانب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مومن ومسلم کا کام ہر حال اور ہر کیفیت میں، چاہے وہ مصیبت ہو یا راحت، آفت ہو یا نعمت، یہی ہے کہ اپنے رشتہ عبدیت کو اپنے مالک ومولی کے ساتھ یکساں جوڑے رہے۔ (آیت) ” عدوا “۔ عدو کے معنی بدخواہ کے ہیں، خواہ وہ بدخواہی عمدا ہو یا نادانستہ۔ 14۔ (بس تمہارا معاف کرنا اور رحمت ومہربانی سے کام لینا تو عین اخلاق الہی کی پیروی کرنا ہے) (آیت) ” وان تعفوا “۔ یعنی جب تمہاری بیوی بچے توبہ، ندامت ومعذرت سے کام لینے لگیں، اور تم انہیں معاف کرنے لگے، (آیت) ” وتصفحوا “۔ یعنی نہ سزا دو اور نہ زیادہ مواخذہ وملامت ہی کرو۔ (آیت) ” وتغفروا “۔ یعنی دل اور زبان سے بھی ان کے قصور کو بھلا دو ۔ آیت میں صاف تعلیم مل رہی ہے کہ بیوی بچوں کا رکھ رکھاؤ اگر صحیح اسلامی طریقہ پر نہ کیا گیا تو یہی لوگ جو اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمتیں ہیں، انسان کے دشمن اور بدخواہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ (آیت) ” وان ...... رحیم “۔ اس میں صاف ترغیب ان قصوروار بیوی بچوں کو معاف کردینے اور ان سے درگزر کرنے کی مل رہی ہے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو بس آزمائش ہی (کی چیزیں) ہیں اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے،15۔

15۔ (اور یہ اجر عظیم ان لوگوں کا حصہ ہے جو ان طبعی نعمتوں کا استعمال صحیح طور پر کرتے ہیں۔ ) (آیت) ” انما .... فتنۃ “۔ یہاں یہ بتادیا کہ مال واولاد کا اگر صحیح استعمال کیا جائے، تو یہ عین عبادت ہے۔ اگر غلط اور بیجا قسم کا کام لیا گیا، تو یہی تمہارے حق میں مصیبت بھی بن جائیں گے، (آیت) ” اموالکم واولادکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد اگر افراد امت کے بجائے امت بحیثیت مجموعی سمجھی جائے، تو آج کل کے ماہرین فن ومبصرین کا یہ بیان پیش نظر رہے کہ فتنہ جنگ کے سب سے بڑے اسباب یہی دو ہیں۔ افراط زر۔ ، وافراط آبادی !
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرتے رہو جہاں تک تم سے ہوسکے اور سنتے رہو اور اطاعت کرتے رہو، اور اپنے حق میں بھلائی کے لئے خرچ کرتے رہو،16۔ اور جو کوئی محفوظ رہا حرص نفسانی سے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،17۔

16۔ اور اپنے حق میں بھلائی یہی کہ تعمیل احکام الہی میں خرچ کرتے رہو۔ (آیت) ” فاتقوا اللہ ماستطعتم “۔ تقوی الہی کے حکم کے ساتھ اسی (آیت) ” ماستطعتم “ کی قید نے تعمیل حکم ہم ضعیف وناتواں بندوں کے لیے بہت آسان کردی، ورنہ ظاہر ہے کہ جو حق تقوی الہی کا ہے، وہ کون ادا کرسکتا ہے۔ صوفیہ محققین نے (آیت) ” ماستطعتم “۔ سے یہ استنباط کیا ہے کہ سلوک واصلاح نفس میں تدریجی اقدام کافی ہے۔ (آیت) ” واسمعوا واطیعوا “۔ یعنی احکام الہی سنتے رہو، اور ان کی اطاعت کرتے رہو۔ 17۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) لفظ فلاح بہت ہی وسیع وجامع ہے، عاجل وآجل، مادی وروحانی، انفرادی واجتماعی ہر قسم کی بھلائیاں اس کے اندر آگئیں، ملاحظہ ہو تفسیر البقرۃ، رکوع اول میں (آیت) ” ھم المفلحون “۔ پر حاشیہ ، (آیت) ” ومن ..... نفسہ “۔ یعنی وہ شخص خرچ کے موقعوں پر خوش دلی کے ساتھ خرچ کرتا رہا۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو اچھی طرح قرض دو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے بڑھاتا چلا جائے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدرداں ہے بڑا بردبار ہے،18۔

18۔ لفظ قرض پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “۔ یعنی اخلاص قلب کے ساتھ قرض دے گا۔ (آیت) ” ان تقرضو اللہ “۔ اللہ کو قرض دینا یہی ہے کہ دولت اس کے بتائے ہوئے موقعوں پر اس کے احکام کے مطابق خرچ کی جائے۔ اسے لفظ قرض سے تعبیر کرنا حکم کی اہمیت کے اظہار اور تاکید وترغیب کے لیے ہے۔ (آیت) ” واللہ شکور حلیم “۔ وہ قدر داں ایسا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے بھی عمل صالح کو قبول کرلیتا ہے، اور بردبار ایسا کہ بڑی سے بڑی نافرمانیوں پر بھی گرفت فی الفور نہیں کرتا۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، زبردست ہے، حکمت والا ہے،19۔

19۔ ان سب صفات الہی کا اثبات بھی، پچھلے موقعوں کی طرح، جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ کے رد میں ہے۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ سب کچھ اس پر روشن۔ یہ نہیں کہ خفیف جزئیات اس کی نگاہوں سے مخفی رہ جائیں، یا یہ کہ اس کے سامنے کوئی جھوٹا عذر چل سکے (آیت) ” العزیز۔ وہی سب پر غالب وحاکم۔ یہ نہیں کہ ” کرم “ (قانون مکافات) وغیرہ کی کوئی دفعہ اس کے ارادہ ومشیت پر بھی غالب آجائے، (آیت) ” الحکیم “۔ اس کا ہر ہر فیصلہ حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ کہیں کہ کبھی اس پر سہو، نسیان، غفلت طاری ہوجائے۔