64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 64:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ اس کی سلطنت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا سو تم میں بعض کافر ہیں اور بعض مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے،

آسمان و زمین کی کائنات اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہے، تم میں بعض کافر اور بعض مومن ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے یہاں سے سورة التغابن شروع ہو رہی ہے یہ لفظ ” غبن “ سے لیا گیا ہے۔ غبن نقصان کو کہتے ہیں آخرت میں جو نقصان ہوگا اس سورت کے پہلے رکوع کے ختم کے قریب اس کو تغابن اور یوم آخرت کو یوم التغابن سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے یہ سورة ، سورة التغابن کے نام سے معروف ہے اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تنز یہہ بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں زبان قال یا زبان حال سے سب تسبیح میں مشغول ہیں، پھر فرمایا ﴿ لَهُ الْمُلْكُ ﴾ (اسی کے لئے ملک ہے) ساری مخلوق اسی کی ملکیت ہے ﴿ وَ لَهُ الْحَمْدُ ﴾ (اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں) اس کے تصرفات اور اختیارات میں کسی کو کوئی دخل نہیں اور وہ اپنے تمام تصرفات میں محمود ہے۔ ﴿وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ001﴾ (اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔ وہ جو بھی کرنا چاہے کرسکتا ہے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ پھر دوسری اور تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت بیان فرمائی، فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ ﴾ (اللہ تعالیٰ وہ جس نے تمہیں پیدا کیا سو تم میں سے بعض کافر ہوئے اور بعض مومن ہوئے) اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیا سمجھ دے دی قوت فکریہ عطا فرمادی، انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا کتابیں نازل فرمائیں، ہدایت پوری طرح سامنے آگئی۔ اس کے باوجود جسے کفر اختیار کرنا تھا وہ کفر پر اڑا رہا، اور جنہیں مومن ہونا تھا، انہوں نے ایمان اختیار کرلیا۔ ﴿ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ002﴾ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے) ۔ وہ اہل ایمان کے اعمال اور اہل کفر کے کام ان سب کو وہ دیکھتا ہے سب کے اعمال سے باخبر ہے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزاء یا سزادے گا عمل کے عموم میں اعمال قلبیہ اور افعال جوارح سب داخل ہیں۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو حق کیساتھ اور تمہاری صورتیں بنادیں سو اچھی بنائیں اسی کی طرف لوٹ جانا ہے،

اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو حکمت سے پیدا فرمایا اور تمہاری اچھی صورتیں بنائیں : ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق (یعنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا ﴿ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ 1ۚ﴾ اللہ تعالیٰ نے تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری اچھی صورتیں بنائیں۔ اس میں انسانوں پر امتنان فرمایا اور اپنے ایک احسان عظیم کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے ماؤں کے رحموں میں تمہاری صورتیں بنا دیں اور اچھی صورتیں بنائیں ہاتھ، پاؤں آنکھ ناک قد وقامت کے اعتبار سے جو اعضاء انسانی میں تناسب ہے اور ساتھ ہی حسن و جمال ہے۔ ان سب کو دیکھ کر انسانوں کو اپنے خالق کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ صورت اور شکل کے اعتبار سے جو انسان کی برتری ہے اسے انسان ہی سمجھتا ہے۔ زمین پر جو دوسری چیزیں رہتی اور بستی ہیں ان میں سے کوئی چیز کتنی بھی خوبصورت ہو اور کوئی انسان کتنا بھی بدصورت ہو وہ کبھی بھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ اس کی انسانی صورت سلب کرلی جائے اور وہ غیر انسانی صورت میں منتقل کردیا جائے۔ ﴿وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ 003 ﴾ (اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) وہی خالق ہے اور وہی مصور ہے اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ لہٰذا انسانوں کو اسی کی طرف متوجہ رہنا لازم ہے اسی کی عبادت کریں اور اس کا شکر ادا کریں اور اس کی یاد میں لگے رہیں۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ سب اعمال کو جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ مافی السموت ومافی الارض اور مافی الصدور کو جانتا ہے : چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا ﴿ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (الآیۃ) (اور وہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں) ۔ ﴿ وَ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ﴾ (اور وہ تمہارے سب اقوال اور اعمال کو جانتا ہے جنہیں تم چھپاتے ہو اور جنہیں تم ظاہر کرتے ہو) ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 004﴾ (اور وہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے) ۔ یعنی اس کا علم اقوال اور افعال تک ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے بندے جو کچھ سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں اگرچہ ادنی وسوسہ ہو اسے اس سب کا بھی علم ہے۔ ظاہر ہے ایسی ذات جلیل الصفات پر ایمان لانا اور اس کے احکام پر چلنا لازم ہے اور یہ مراقبہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا خالق اور مالک سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان کافروں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے سو انہوں نے اپنے اعمال کا و بال چکھ لیا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے،

گزشتہ اقوام سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین : پانچویں اور چھٹی آیت میں مخاطبین قرآن کو گزشتہ اقوام کی بدحالی کا انجام بتایا جس میں یہ سمجھایا کہ اگر تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی برا انجام ہوگا، ارشاد فرمایا ﴿ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ﴾ (کیا تمہارے پاس ان کافروں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے) ﴿ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ﴾ (سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا) یہ تو دنیا میں ہوا ﴿ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ005﴾ اور (آخرت میں) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بیشک ان کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے معجزات لائے تھے سو انہوں نے کہا کیا ہمیں آدمی ہدایت دیں گے سو انہوں نے کفر اختیار کیا اور اعراض کیا اور اللہ نے بےنیازی کا معاملہ کیا، اور اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا مستحق ہے۔

امم سابقہ کی گمراہی کا سبب : پھر ان لوگوں کے کفر پر جمے رہنے کا سبب بتایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ ﴾ (الآیۃ) یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے ان لوگوں نے ان کی دعوت پر ایمان نہ لانے کا یہ حیلہ نکالا اور یہ بہانہ تراشا کہ یہ تو آدمی ہے اور ہم بھی آدمی ہیں بھلا آدمی، آدمی کو کیا ہدایت دے گا۔ اس جاہلانہ بات کو اٹھایا اور کفر پر جمے رہے اور حق سے اعراض کیا اور اللہ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ انجام کار وہ دنیا و آخرت میں سزا کے مستحق ہوئے۔ ﴿وَ اللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ006﴾ (اور اللہ بےنیاز ہے) کوئی بھی ایمان نہ لائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں، وہ ستودہ صاف ہے ہمیشہ سے حمد وثناء کا مستحق ہے۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کافروں نے یہ خیال کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائینگے آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی کہ تم ضرور ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں ضرور ضرور تمہارے اعمال سے باخبر کیا جائے گا، اور یہ اللہ پر آسان ہے

منکرین قیامت کا باطل خیال : ساتویں آیت میں منکرین قیامت کا تذکرہ فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا 1ؕ﴾ (الآیہ) (جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے یہ جھوٹا خیال کیا کہ وہ ہرگز دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے) ۔ ﴿قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ 1ؕ﴾ (اے محمد آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی تم ضرور ضرور اٹھائے جاؤ گے اور ضرور ضرور اپنے اعمال سے باخبر كئے جاؤ گے) ﴿ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ007﴾ (اور یہ قبروں سے اٹھانا اور اعمال کا جتانا اللہ کے لئے آسان ہے) کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ یہ دشوار کام ہے یہ کیسے ہوگا۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے،

ایمان اور نور کی دعوت : آٹھویں آیت میں ایمان کی دعوت دی۔ ﴿ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا 1ؕ﴾ سو تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور ایمان لاؤ اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا یعنی قرآن حکیم۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ008﴾ اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن تم کو جمع ہونے کے دن میں جمع فرمائے گا، یہ دن ہے جس میں لوگ نقصان میں پڑیں گے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ بڑی کامیابی ہے

نویں اور دسویں آیت میں روز قیامت کی حاضری کی خبر دی اور مومنین اور کافرین کا انجام بتایا فرمایا ﴿ يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ﴾ (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تمہیں جمع فرمائے گا اور یہ جمع کرنے کا دن نقصان میں پڑنے کا دن ہوگا) ہر ایک کو اپنے اپنے وقت پر مختلف ایام میں موت آئی۔ قیامت کا دن یوم الجمع ہے اس میں زندہ ہو کر سب جمع ہوں گے۔ قیامت کا دن یوم التغابن ہے : اس یوم الجمع کو یوم التغابن بھی فرمایا ہے یہ لفظ غبن سے لیا گیا ہے، غبن نقصان کو کہتے ہیں قیامت کے دن سب کا خسارہ ظاہر ہوجائے گا، کافر کا خسارہ تو ظاہر ہی ہے کہ جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا اور مومنین کا خسارہ یہ ہوگا کہ جتنی بھی نعمتیں مل جائیں انہیں یہ حسرت رہ جائے گی کہ ہائے ہائے اور اچھے اعمال کرلیتے تو اور زیادہ نعمتیں مل جاتیں۔ قال صاحب معالم التنزیل : ( فیظھر یومئذ غبن کل کافر بترکہ الایمان و غبن کل مومن بتقصیرہ فی الاحسان) (صفحہ 353: ج 4) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص کو بھی موت آئے گی وہ (موت کے بعد) نادم ہوگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! اس کو کیا ندامت ہوگی ؟ فرمایا اگر وہ اچھے عمل کرنے والا تھا تو اسے یہ ندامت ہوگی کہ کاش اور زیادہ نیکیاں کرلیتا تو اچھا ہوتا اور جس نے برے کام كئے تھے اسے یہ ندامت ہوگی کہ کاش نافرمانیوں سے باز آجاتا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 484) حضرت محمد بن ابی عمیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی بندہ پیدائش کے دن سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی فرما نبرداری کے طور سجدہ ہی میں پڑا رہے تو قیامت کے دن اپنے اس عمل کو بہت ذراسا سمجھے گا اور اس کی آرزو ہوگی کہ اسے دنیا کی طرف واپس کردیا جائے تاکہ اور زیادہ اجرو ثواب کی کمائی کرلے۔ (رواہ احمد کمافی المشکوۃ صفحہ 452، و ذکرہ المنذری فی الترغیب صفحہ 397: ج 4 وعزا الی احمد ثم قال ورواتہ رواۃ الصحیح) بعض علماء نے تغابن کو باب تفاعل ہونے کی وجہ سے شرکت فی الفاعلیت پر محمول کیا ہے لیکن ایسی کوئی صورت واضح نہ ہوئی جس سے معلوم ہو سکے کہ کافر مومنین کو وہاں کوئی نقصان پہنچادیں گے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : اخرج عبدبن حمید عن ابن عباس و مجاھد وقتادة انھم قالوا یوم یغبن فیہ اھل الجنة و اھل النار فالتفاعل لیس فیہ علی ظاھرہ کمافی التواضع والتحامل لوقوعہ من جانب واحد واختیر للمبالغة والی ھذا ذھب الواحدی۔ اہل ایمان کو بشارت اور کافروں کی شقاوت : اس کے بعد اہل ایمان کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ باللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا ﴾ (الآیۃ) (اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ بڑی کامیابی ہے) ۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

پھر کافروں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ (الآیۃ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے) ۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے اور جو بھی کوئی شخص اللہ پر ایمان لائے وہ اس کے قلب کو ہدایت دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے،

جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے یہ سورة التغابن کے دوسرے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے یہ آیات متعدد مواعظ اور نصائح پر مشتمل ہیں پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچ جائے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور جو تکلیف پہنچ جائے اس پر صبر کرے۔ سنن ابن ماجہ صفحہ 9 میں ہے : (ان ما اصابک لم یکن لیخطئك وان ما اخطاک لم یکن لیصیبک) (یعنی یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تمہیں جو تکلیف پہنچ گئی وہ خطا کرنے والی نہ تھی اور جو تکلیف نہیں پہنچی وہ پہنچنے والی ہی نہ تھی) لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرو اور اس پر راضی رہو، پھر فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ باللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ 1ؕ﴾ (اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے) جس کی وجہ سے سراپار ضاء و تسلیم بن جاتا ہے تکلیف پر صبر کرتا ہے اور اس کا ثواب لیتا ہے اور ﴿اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ پڑھ کر مزید ثواب عظیم کا مستحق ہوجاتا ہے۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ0011﴾ (اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) اسے صابروں کا بھی پتہ ہے اور بےصبروں کا بھی علم ہے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزادے گا۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور فرما نبرداری کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی سو اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول پر پہنچا دینا ہے واضح طور پر،

اللہ اور رسول ﷺ کی فرما نبرداری اور توکل اختیار کرنے کا حکم دوسری نصیحت یہ فرمائی ﴿ وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ﴾ (اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (اس میں بندوں کا اپنا ہی بھلا ہے) اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا اگر کوئی شخص روگردانی کرے تو اللہ کے رسول پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اسی کہ واضح طور پر قیغام پہنچادے) جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی برا کرے گا۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ ہے کوئی معبود نہیں مگر وہ ہی، اور اللہ ہی پر بھروسہ کریں مومن بندے،

تیسری نصیحت فرماتے ہوئے اول توحید کی تلقین فرمائی اور فرمایا ﴿اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ 1ؕ﴾ (اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) پھر توکل کا حکم فرمایا۔ ﴿ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 0013﴾ اور مومنین اللہ ہی پر توکل کریں۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو سو بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے

بعض ازواج اور اولاد تمہارے دشمن ہیں : چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ تمہاری بیویوں اور اولاد میں ایسے (بھی) ہیں جو تمہارے دشمن ہیں لہٰذا تم ان سے ہوشیار رہو۔ فطری اور طبعی طور پر انسان کو نکاح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب نکاح ہوجاتا ہے تو اولاد بھی ہوتی ہے۔ میاں بیوی کی آپس میں محبت ہوتی ہے اور اولاد سے محبت ہونا امر طبعی ہے، اسلام نے بھی ان محبتوں کو باقی رکھا ہے لیکن اس کے لئے ایک حد بندی بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حق سب پر مقدم ہے، بیوی ہو یا شوہر بیٹا ہو یا بیٹی ہر ایک سے اتنی ہی محبت کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے اسلامی احکام پر چلنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ شریعت اسلامیہ کے مطابق چلتے رہیں۔ معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مکہ معظمہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے جب انہوں نے مدینہ منورہ کے لئے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی ازواج اور اولاد نے انہیں ہجرت سے روک دیا اور یوں کہا کہ ہم نے تمہارے مسلمان ہونے پر صبر کرلیا لیکن تمہاری جدائی پر صبر نہیں کرسکتے ان کی یہ بات سن کر انہوں نے ہجرت کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس پر آیت کریمہ : ﴿ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ 1ۚ ﴾ نازل ہوئی اور دوسرا سبب نزول یہ لکھا کہ حضرت عوف بن مالک الاشجعی ؓ بال بچہ دار تھے وہ جب جہاد کے لئے جانے کا ارادہ کرتے تو یہ لوگ رونے لگتے اور یوں کہتے کہ آپ ہمیں کس پر چھوڑے جارہے ہیں ؟ یہ سن کر انہیں ترس آجاتا تھا اور جہاد کی شرکت سے رہ جاتے تھے اس پر آیت بالا نازل ہوئی جس میں یہ بتادیا کہ بیوی بچے تمہیں نیک کام کرنے سے روکتے ہیں ان کی طرف سے ہوشیار رہو اور ان کی بات نہ مانو، دونوں روایتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ لفظ ازواج جمع ہے زوج کی، یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لئے بولا جاتا ہے لہٰذا آیت کریمہ کے عموم الفاظ سے معلوم ہوگیا کہ ہر شخص اس کا اہتمام کرے بیوی ہو یا شوہر آپس میں ایک دوسرے کی وجہ سے یا اولاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نافرمان نہ ہوجائیں۔ بیوی بچوں کی محبت میں اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالیں : بیوی اور شوہر اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلیں اور اولاد کو بھی اسی پر چلائیں، اللہ کی نافرمانی نہ شوہر کرے نہ بیوی کرے اور نہ اولاد کو کرنے دیں، اگر ازواج اور اولاد سے اتنی محبت کی کہ اللہ کے فرائض اور واجبات چھوٹنے لگے تو ان لوگوں کی محبت خود اپنے حق میں دشمن بن جائے گی پھر اس دشمنی کا مظاہرہ میدان حشر میں ہوگا ان کی وجہ سے جو گناہ كئے ان پر مواخذہ اور عذاب ہوگا۔ یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ بیوی بچوں کے لئے كمائے اور انہیں کھلائے پلائے لیکن اس میں حلال و حرام کا خیال نہ رکھے۔ حرام کمانے کا بھی گناہ اپنے سرلے اور حرام کھانے اور کھلانے کا بھی اور ان کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا ہوجائے۔ دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ بیوی بچوں کی خواہش اور ضد کی وجہ سے گناہ کرلیتے ہیں سود پر قرض بھی لیتے ہیں دوسروں کے اموال میں خیانت بھی کرلیتے ہیں فضول خرچی بھی کرتے ہیں ہر تقریب میں بیوی کو نیا جوڑا پہنانے کے لئے ادھار بھی لیتے ہیں اور رشوت لے کر بھی گھر والوں کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اور ان سب کا وبال اپنے سرلیتے ہیں، بیوی بچوں کو اس سے بحث نہیں کہ ہمارے ذمہ دار کا آخرت میں کیا بنے گا۔ انہیں تو اپنے نفس کے تقاضے پورے کرنا ہے، اگر اللہ کے قانون کو نہ دیکھا اور بیوی بچوں کی فرمائشیں پوری کردیں جن میں گناہوں کا ارتکاب کیا، پھر قیامت کے دن عذاب میں مبتلا ہوئے تو یہ کہاں کی سمجھداری ہے اس وقت یہ بیوی بچے دشمن نظر آئیں گے اور یہ سمجھ میں آجائے گا کہ انہوں نے میرے ساتھ دشمنوں والا برتاؤ کیا یہ مجھے نصیحت کر کے اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنے کی تاکید کرتے اور حرام چیزوں سے اور حرام کاموں سے روکتے انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی خواہشوں کو پورا کرنے میں مجھے رگڑ دیا اور مجھے حرام کاموں میں لگا دیا : (قال صاحب الروح قال غیر واحد ان عداوتھم من حیث انھم یحولون بینھم و بین الطاعات والامور النافعة لھم فی آخر تھم وقد یحملونھم علی السعی فی اکتساب الحرام و ارتکاب الاثم لمنفعة انفسھم ) ۔ یہ بیوی بچوں کی عام حالت ہے اور بہت سے اولاد اور ازدواج ایسے بھی ہوتے ہیں جو خیر کی دعوت دیتے ہیں اور خیر پر چلاتے ہیں اس لئے ﴿ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ ﴾ فرمایا کہ تمہارے ازواج اور اولاد میں سے تمہارے دشمن (بھی) ہیں تو تم ان سے ہوشیار رہو۔ یہ نہیں فرمایا کہ سب ہی اولاد اور ازواج دشمن ہیں۔ معاف اور درگزر کرنے کی تلقین : ﴿وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ0014﴾ اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو سو اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔ بعض مرتبہ بیویوں کی اور اولاد کی فرمائشیں ایسی ہوتی ہیں کہ کبھی تو نفس کو فرمائش ہی ناگوار گزرتی ہے اور کبھی ان کو پورا کرنے کا موقع نہیں ہوتا ایسی صورت میں بھی طبیعت کونا گواری ہوتی ہے ارشاد فرمایا کہ اگر تم انہیں معاف کردو اور درگزر کردو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے مہربان ہے تم ان کو معاف کردو گے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے گناہ معاف کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اللہ غفور ہے رحیم ہے اس کی مغفرت اور رحمت کے امید وار رہو۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے

اموال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں : پانچویں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ1ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ0015﴾ (بات یہی ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے) ۔ اس میں یہ تنبیہ فرمائی کہ تمہارے اموال تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔ یعنی آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ مال کمانے اور مال خرچ کرنے میں اور اولاد کی پرورش کرنے میں اور ان کے ساتھ رہنے سہنے میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوجائے اور مال کی تحصیل اور اولاد کی محبت اور دیکھ بھال کو ہی زندگی کا مشغلہ نہ بنالیا جائے اللہ کے پاس اجر عظیم ہے اس کے لئے محنت اور کوشش میں لگنا ایمان کا اہم تقاضا ہے۔ اس آیت کے ہم معنی سورة الانفال کے تیسرے رکوع میں بھی ایک آیت گزر چکی ہے وہاں ہم نے اموال اور اولاد کے فتنہ ہونے کی تشریح کردی ہے۔ (دیکھو انوارا لبیان جلد اول)
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو جہاں تک تمہاری طاقت ہے اور بات سنو اور فرما نبرداری کرو اور اچھے مال کو اپنی جانوں کے لئے خرچ کرو۔ اور جو شخص اپنے نفس کی کنجوسی سے بچا دیا گیا سو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں،

تقویٰ اور انفاق فی سبیل اللہ کا حکم : چھٹی نصیحت یہ ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ (اللہ سے ڈرو جہاں تک تم سے ہو سکے) ﴿ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِيْعُوْا﴾ (اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات سنو اور فرما نبرداری کرو) ﴿ وَ اَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ﴾ (اور اپنی جانوں کے لئے اچھا مال خرچ کرو) ۔ یہ نصیحت کئی نصیحتوں پر شامل ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے جو احکام بھیجے ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کی جائے جہاں تک ہوسکتا ہو ہر عمل کو پورا کریں۔ فرائض واجبات پورے کریں اور گناہوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم ایسا نہیں دیا جو عمل کرنے والوں کے بس سے باہر ہو، ہاں بعض اعمال نفس پر شاق گزرتے ہیں ہمت کر کے اور نفس کو قابو میں کر کے اللہ تعالیٰ کی فرما نبرداری میں لگے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو سنیں اور فرمانبرداری کریں۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے کاموں میں مال خرچ کریں یہاں اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو کچھ خرچ کرے گا وہ اپنے ہی کام آئے گا اس میں اپنی جانوں کا بھلا ہوگا۔ بخل سے پرہیز کرنے والے کامیاب ہیں : ﴿ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 0016﴾ (اور جو شخص اپنے نفس کی کنجوس سے بچالیا گیا سو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں) یہ مضمون سورة الحشر کے پہلے رکوع کے ختم کے قریب گزر چکا ہے۔ وہاں تفسیر اور تشریح دیکھ لی جائے۔ (انوارا لبیان جلد اول)
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض دو اچھا قرض دو تو وہ تمہیں اس کو بڑھا کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اور اللہ قدرد ان ہے بردبار ہے،

اللہ کو قرض حسن دیدو وہ بڑھا چڑھا کر دے گا اور مغفرت فرما دے گا : ﴿ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ﴾ (اگر تم اللہ کو فرض دے دو گے اچھا قرض (جس میں اخلاص ہو اور خوش دلی سے ان کاموں میں خرچ کردیا جائے جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے یا مستحب قرار دیا ہے) اللہ تعالیٰ اس پر چند در چند اضافہ کر کے اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا) سب بند اللہ کے ہیں اور سارے اموال بھی اللہ ہی کے ہیں اس نے کرم فرمایا کہ اس کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اس کا نام قرض رکھ دیا پھر اس پر چند در چند ثواب دینے کا وعدہ فرما لیا۔ یہ مضمون سورة البقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ (دیکھو انوارا لبیان جلد اول) ﴿وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌۙ0017﴾ (اور اللہ شکور ہے یعنی قدرد ان ہے) تھوڑے عمل اور تھوڑے مال کے عوض بہت زیادہ دیتا ہے اور حلیم یعنی بردبار ہے گناہوں کی سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا اور بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

غیب اور شہادۃ کا جاننے والا ہے۔ عزیز ہے حکیم ہے۔

﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ ﴾ (وہ غیب اور شہادۃ کا جاننے والا ہے) ﴿ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (رح) 0018﴾ (وہ زبردست ہے حکمت والا ہے) ۔ وھذا آخر تفسیر سورة التغابن بفضل اللہ الملیک العلام و الحمدللہ علی التمام والصلوٰة علی البدر التمام وعلی الہ و اصحابہ البررة الکرام