64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة التغابن سورة نمبر 64 کل رکوع 2 آیات 18 الفاظ و کلمات 247 حروف 1122 مقام نزول مدینہ منورہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں مال اور اولاد عطا کیے ہیں مگر یہ ایک آزمائش بھی ہیں یعنی اگر تم نے اپنے مال صحیح جگہ خرچ کیے اور اپنی اولاد کو گناہوں سے بچانے کی ممکن حد تک کوشش کی تو پھر یہ مال اور اولاد تمہارے لئے جنت میں جانے کا سبب بن جائیں گے اور اگر ان کا غلط استعمال ہوا تو یقینا ان کی وجہ سے جہنم کی آگ کو بھگتنا پڑے گا۔ یہ ایک کڑی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو تم اللہ پر اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس نور (قرآن مجید) پر ایمان لاؤ جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے ۔ فرمایا کہ قیامت کا دن ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگا۔ یقینا اس دن وہی جیتیں گے جو اللہ و رسول اور اس کے کلام پر ایمان لائیں گے لیکن وہ لوگ جو اس دن ان چیزوں سے خالی ہوں گے وہ ہارے ہوئے بدنصیب لوگ ہوں گے۔ ٭زمین وآسمان کی ہر چیز اللہ کی حمدو ثنا کر رہی ہے جو بادشاہ ہے ، کاینات کی تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت و طاقت رکھتا ہے۔ اسی نے پیدا کیا۔ پھر کوئی مومن ہے اور کوئی کافر ہے۔ اللہ ہر اس بات سے واقف ہے جسے تم کرتے ہو۔ وہی زمین و آسمان کا خالق برحق ہے۔ اسی نے تمہاری خوبصورت اور اچھی شکل و صورت بنائی ہے اور تمہیں اسی اللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ اسے ہر اس بات کا علم ہے جو کھلی ہوئی یا چھپی ہوئی ہے وہ تو دلوں کے اندر کے حالات تک سے واقف ہے۔ ٭فرمایا تم سے پہلے بہت سی قومیں گزری ہیں جنہوں نے اپنے کفر و انکار کی وجہ سے اپنی بدعملیوں کا مزہ چکھا اور وہ دردناک عذاب کا شکار ہوئیں۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ کے رسول تو ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر انہوں نے ان کی قدر نہ کی اور حقارت سے کہا کہ کیا ہم جیسا ایک آدمی ہی ہمیں راستہ دکھائے گا ؟ انہوں نے جب منہ پھیرا تو اس اللہ نے جو اپنی ذات میں بےنیاز ہے اور ہر تعریف و توصیف کا حق دار ہے اس نے بھی ان سے منہ پھیرلیا ہے۔ ٭ وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم مرجانے کے بعد دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے کہہ دیجئے کہ میرے رب کی قسم تم دوبارہ پیدا کیے جائو گے۔ وہاں تمہیں وہ تمام باتیں بتا دی جائیں گی جو تم دنیا میں کرکے آئے ہو اور یہ بات اللہ کے لئے قطعاً مشکل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بہت آسان ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ پر اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس نور (قرآن مجید) پر ایمان لے آئو جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ جب تمہیں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا تو یہ دن ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگا۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے بھلے کام کیے ہوں گے ہم ان کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کر کے ایسی حسین جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اہل جنت ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ان کی زبردست کامیابی ہوگی۔ لیکن جن بد نصیبوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر و انکار کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کو ایسی جہنم میں ڈالا جائے گا جو بدترین جگہ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ دنیا میں جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ ان حالات میں جو بھی ثابت قدم رہے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا اللہ اس کے دل کو ہدایت عطا فرمائے گا۔ اگر اس نے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی تو وہ کامیاب ہوگا۔ لیکن اگر اس نے منہ پھیرا تو ہمارے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ ہر بات کو نہایت وضاحت سے کھول کھول کر بیان کردے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اہل ایمان اسی اللہ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو۔ اگر تم نے معافی اور درگزر سے کام لیا تو یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اللہ بہت مغفرت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ٭فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے لئے ایک آزمائش ہیں۔ اجر عظیم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کی اطاعت و فرمانبردار کرتے رہے اور کھلے دل سے اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہے تو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے کیونکہ جو شخص بھی دل کی تنگی یعنی کنجوسی اور بخل سے بچ گیا وہی کامیاب و بامراد ہے۔ ٭فرمایا کہ اگر تم نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے قرض حسنہ دیا تو اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر تمہیں دے گا۔ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا کیونکہ اللہ اچھے بندوں کے ذرا سے عمل کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ بہت برداشت کرنے والا ہے۔ جو چیز سامنے ہے یا پوشیدہ ہے وہ ہر بات سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ساری قوتوں کا مالک ہے اور ہر بات کی حکمت کو جاننے والا ہے۔

Ayahs 64:1–18

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اسی کی سلطنت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن ہیں۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ اسی نے تمہاری صورتیں شکلیں بنائی ہیں اور خوب بنائی ہیں۔ اور اسی کی طرف تمہارا ٹھکانا ہے۔

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو (اس کی ) ہر چیز کا علم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ دلوں کے حال کا جاننے والا ہے۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا اور انہیں دردناک عذاب ہونے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ کہ کیا ایک بشر ہماری رہنمائی کرے گا ؟ انہوں نے انکار کی اور منہ پھیرلیا۔ اور اللہ نے بھی ان کی پرواہ نہ کی (کیونکہ) اللہ اپنی ذات میں بےنیاز اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

ان کافروں کا گمان یہ تھا کہ وہ ہرگز دوبارہ اٹھائے نہ جائیں گے۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں۔ میرے رب کی قسم تم ضرور دوبارہ پیدا کئے جائو گے۔ پھر تمہیں بتا دیا جائے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔ اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) تم اللہ پر اس کے رسول پر اور اس نور ( قرآن کریم) پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا ہے۔ اور اللہ ان تمام کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

اس دن جب وہ تمہیں جمع ہونے والے دن جمع کرے گا یہی دن تغابن (نفع اور نقصان اور ہارجیت کا دن) ہوگا۔ اور جو اللہ پر ایمان لایا اور اس نے عمل صالح کیا تو اس کے گناہ اس سے دور کردئیے جائیں گے۔ اور اس کا ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو یہ جہنم والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جب تک اللہ کا حکم نہ ہو کوئی مصیبت نہیں آیا کرتی۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ اس کے لقب کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم نے (اس سے) منہ پھیراتو ( یاد رکھو) ہمارے رسول ﷺ کی ذمہ داری (صاف صاف کھول کر احکامات کو) پہنچا دینا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں۔ تم ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر ( وہ غلطی کرنے کے بعد اس کا اقرار کرلیں تو) ان کو معاف کردو اور در گذر کرد اور بخش دو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش ہیں اور اجر عظیم تو اللہ کے پاس ہے۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

لہٰذا تم تے جتنا ممکن ہو اللہ سے ڈرو۔ اس کا حکم سنو۔ فرماں برداری کرو۔ اور خرچ کرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور جو لوگ بخل اور کنجوسی (جیسی بری عادت سے) بچا لئے گئے وہ لوگ فلاں پانے والے ہیں۔

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو اللہ اس کے اجر کو خوب بڑھا دے گا۔ اور تمہاری خطائیں معاف کردے گا۔ وہ اللہ بڑا قدردان اور بہت برداشت کرنے والا ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

وہ ہر چھپے ہوئے اور کھلے ہوئے کا جاننے والا ہے وہ زبردست ہے اور حکمت و دانائی والا ہے۔

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی کا اندازہ کرنا شمکل ہے۔ لیکن یہ ہارنے اور جیتنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر و شرک، فسق و فجور اور اللہ کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑا ہوگا وہ دنیا کے اعتبار سے کتنے ہی کامیاب کیوں نہ ہوں وہ آخرت کی حقیقی زندگی میں ناکام ترین لوگ ہوں گے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری، نیکی، تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی کو اختیار کیا ہوگا وہ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کتنے ہی غریب و مفلس اور ناکام کیوں نہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب و بامراد ہوں گے۔ سورة ٔ تغابن کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ایک مربتہ پھر یاد دلایا ہے کہ کائنات کی سلطنت و حکومت اس بادشاہ (اللہ) کے لئے ہے جو تمام تعریفوں اور خوبیوں کا مالک ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت چھائی ہوئی ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ ہر وقت اس کی حمدو ثنا کر رہا ہے۔ اسی نے انسان کو بھی پیدا کیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی جاتی لیکن انسان کا ناشکرا پن یہ ہے کہ دنیا کے معمولی سے کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اسی کو حقیقی زندگی سمجھتا ہے اور اللہ کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ اللہ نے اس کائنات کے نظام کو بنا کر اس میں انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اللہ کو آدمی کے دل کا حال تک معلوم ہے اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے پیغمبروں کو بھیجا۔ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت کی اور ان کا کہا مانا وہ تو کامیاب رہے لیکن جنہوں نے ان کا نکار کیا اور اطاعت سے منہ موڑا۔ اللہ نے ان کو اس طرح تہس نہس کردیا کہ ان کے خوبصورت مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہو کر قصے کہانیاں بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ان کے برے اعمال کی وجہ سے تباہ و برباد کیا گیا۔ وہ اور کائنات کے جتنے لوگ مرچکے ہیں یا مریں گے اللہ ان سب کو دوبارہ پیدا کرکے ان سے زندگی کا حساب کتاب لے گا۔ فرمایا کہ لوگو ! تم اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ پر اور ان کے ساتھ جو نور ہدایت یعنی قرآن کریم نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لائو۔ کیونکہ ہار جیت کے فیصلے کا دن بہت قریب ہے۔ جس میں ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو نجات اور گناہوں سے معافی ہوگی اور ان کو ایسی جنتوں کا دن بہت قریب ہے۔ جس میں ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کی نجات اور گناہوں سے معافی ہوگی اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ کامیاب ترین لوگ ہوں گے لیکن جنہوں نے کفر و انکار کیا ہوگا تو ان کو ایسی جہنم میں ڈال دیا جائے گا جو ایک بدترین ٹھکانا اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہوگی۔ یہ ہے وہ ہار جیت کامیدان جس میں خوش قسمت اور بدقسمت لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔