64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 64:1–6

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہی اس کی سلطنت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا سو تم میں بعض کافر ہیں اور بعض مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور مزین کو حق کے ساتھ اور تمہاری صورتیں بنادیں، سو اچھی بنائیں، اس کی طرف لوٹ جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ سب اعمال کو جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینے کی باتوں کو جاننے والا ہے

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان کافروں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے، سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بیشک ان کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے معجزات لائے گے، سو انہوں نے کہا کیا ہمیں آدمی ہدایت دیں گے، سو انہوں نے کفر اختیار کیا اور اعراض کیا، اور اللہ نے بےنیازی کا معاملہ کیا اور اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا مستحق ہے

1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت ہو ؟ تو وہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ ملنے والا ہوتا ہے۔ اور ابوذر ؓ نے سورة تغابن کے شروع میں سے پانچ آیتیں پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول تک۔ آیت وصورکم فاحسن صورکم، والیہ المصیر۔ اور تمہاری صورتیں بنائی اور اچھی صورتیں بنائیں او اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ موت کے وقت تقدیر غالب آنا 3۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ مومن پیدا ہوتا ہے اور ایمان کی حالت میں زندگی گزارتا ہے اور ایمان کی حالت میں فوت ہوجاتا ہے اور ایک بندہ کافر پیدا ہوتا ہے۔ اور کفر کی حالت میں مرجاتا ہے اور ایک بندہ ایک زمانے تک بدبختی کے عمل کرتا ہے۔ پھر اس کو موت پالیتی ہے اس حالت میں جس کے ساتھ وہ لکھا ہوتا ہے۔ اور وہ بدبختی کی حالت میں ہی مرجاتا ہے ایک اور بندہ کچھ وقت تک بدبختی کے عمل کرتا ہے پھر اسے اس کے مطابق موت آجاتی ہے جو اس کے لیے لکھا ہوتا ہے اور وہ سعادت مند ہو کر مرجاتا ہے۔
Ayahs 64:7–8

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کافروں نے یہ خیال کیا کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے آپ فرمادیجیے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی کہ تم ضرور ضرور اٹھائے جاؤ گے اور تمہیں ضرور ضرور تمہارے اعمال سے باخبر کیا جائے گا اور یہ اللہ پر آسان ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

1۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ سے اللہ کے اس قول ” زعموا “ کے بارے میں سنا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس سے مراد ہے آدمی کی سواری کتنی بری ہے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کا ناپسند فرمایا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کو ناپسند فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت زعم الذین کفروا کی وجہ سے۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ہانی بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ان دو لفظوں ” زعموا اور سوف “ کے بارے میں مجھ سے وعدہ کر، کہ یہ تیری گفتگو میں نہیں ہوں گے۔ 5۔ ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت زعم جھوٹ کی کنیت ہے۔ 6۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ آیت زعم جھوٹ کی کنیت ہے۔ 7۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے روایت کیا کہ آیت ” زعموا “ جھوٹ کا ساتھی ہے۔
Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن تم کو جمع ہونے کے دن میں جمع فرمائے گا یہ دن ہے جس میں لوگ نقصان میں پڑیں گے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

8۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یجمعکم لیوم الجمع۔ یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا سے مراد ہے قیامت کا دن اور وہ یوم التغابن (ہار جیت کا دن ہے) کہ اس میں اہل جنت نے اہل دوزخ کو نقصان پہنچایا۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ سے مراد ہے کہ اہل جنت نے اہل دوزخ و نقصان پہنچایا۔ 11۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک یوم التغابن سے مراد ہے کہ جنت والوں نے دوزخ والوں کو نقصان پہنچایا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 64:11–12

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے اور جو بھی کوئی شخص اللہ پر ایمان لائے وہ اس کے قلب کو ہدایت دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور فرمانبرداری کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی سو اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول پر پہنچادینا ہے واضح طور پر

ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ، ومن یومن باللہ یہد قلبہ۔ اور کوئی مصیبت بغیر حکم خدا کے نہیں آتی اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ تعلایٰ اس کے دل کو صبر ورضا کی راہ دکھا دیتا ہے سے مراد ہے وہ آدمی جس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے اور اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ 13۔ سعید بن منصور نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو آدمی کو پہنچتی ہیں اور وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں تو وہ ان کو اسی کے سپرد کردیتا ہے اور راضی ہوجاتا ہے۔ 14۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یومن باللہ یہد قلبہ سے مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یقین کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اور وہ جانتا ہے کہ جو مصیبت اس کو پہنچی ہے وہ اس سے خطا نہیں ہوسکتی تھی اور جو اس سے خطا ہوگئی وہ اس کو پہنچ نہیں سکتی تھی۔ 15۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ومن یومن باللہ یہد قلبہ کے بارے میں روایت کیا وہ آدمی جس کو ایمان نصیب ہوا کہ جس کے ذریعہ وہی اللہ کو پہچانتا ہے تو وہ ہدایت یافتہ دل والا ہوتا ہے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی ہی اور اللہ پر بھروسہ کریں مومن بندے

16۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والوں کا شمار (یعنی نشانی) جس دن وہ اپنی قبروں سے اٹھیں گے آیت اللہ لا الہ الا ہو وعلیٰ فلیتوکل المومنون ہوگی۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے تمہارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش سو بلاشبہ اللہ غفور ہے، رحیم ہے

17۔ فریابی وعبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم۔ اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دین کے دشمن ہیں۔ سو ان سے ہوشیار رہو۔ اہل مکہ سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ اسلام لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کے پاس آنے کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور ان کی اولاد نے ان کو روک دیا کہ وہ ان کو چھوڑ کر جائیں پھر جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں سمجھ حاصل کرچکے ہیں۔ تو انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کو یعنی اپنے گھروالوں اور اولاد کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہالذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم۔ وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اللہ غفور رحیم۔ اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دین کی دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کردو گے اور درگذر کروگے اور بخش دو گے تو اللہ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ عفو و درگذر سے کام لینا 18۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی ہجرت کا ارادہ کرتا تھا۔ تو اس کی اس کی بیوی اور اس کی اولاد اس کو روک لیتے تھے۔ اور وہ کہتا تھا اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے اور تمہیں جمع کردیا۔ دار الہجرۃ میں تو ضرور تمہارے ساتھ ایسا اور ایسا کروں گا۔ (یعنی تم کو سزا دوں گا) تو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو دار الہجرۃ میں جمع کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا آیت وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا۔ اور اگر تم معاف کردو گے اور درگذر کرو گے اور بخش دو گے تو اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم۔ سے مراد ہے کہ بعض ان میں سے وہ ہیں جو اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور نہ ہی برائی سے روکتے ہیں۔ تو آدمی کی دشمنی کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اس کا ساتھی اطاعت کا حکم دیت ہے اور نہ معصیت سے روکتا ہے اور وہ روکتے تھے جہاد سے اور رسول اللہ کی طرف ہجرت کرنے سے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

یہی بات ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما اموالکم واولادکم فتنۃ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے۔ یعنی آزمائش۔ آیت واللہ عندہ اجر عظیم۔ اور اللہ کے پاس بڑا اجر بھی ہے۔ یعنی جنت۔ 2۔ ابن المنذر نے والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا تم میں سے ہرگز کوئی یوں نہ کہے اے اللہ ! میں آپ سے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے مگر وہ فتنہ پر مشتمل ہے (یعنی وہ کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت انما اموالکم واولادکم فتنۃ) لیکن جو شخص پناہ مانگے تو اس کو چاہیے وہ فتنہ کی گمراہیوں سے پناہ مانگے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابن الضحیٰ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اور وہ حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اے اللہ میں فتنہ یا فتنوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔ عمر ؓ نعہ نے فرمایا کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو مال اور اولاد نہ دے۔ جو بھی تم میں سے فتنوں سے پناہ مانگے تو اس کو چاہیے کہ اس کی گمراہیوں سے پناہ مانگے۔ 4۔ ابن مردویہ نے کعب بن عیاض ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر امت کے لیے ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ 5۔ ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ ہر امت کے لیے ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ 6۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ 7۔ وکیع نے الغرر میں محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ نے ایک آدمی سے فرمایا تو فتنہ کو پسند کرتا ہے اس نے کہا ہاں ! جب ابن عمر ؓ نے دیکھا کہ اس کے ذہن میں کچھ داخل نہیں ہوا تو فرمایا تو مال اور اولاد سے محبت کرتا ہے (یہی فتنہ ہے) 8۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ والحاکم وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت حسن اور حسین ؓ سامنے آئے سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے ہوئے چل رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے ترے اور ان میں سے ایک کو ایک جانب میں اٹھایا اور دوسرے کو دوسری جانب اٹھایا۔ پھر منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا آیت انما اموالکم واولادکم فتنہ۔ کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے۔ جب میں نے ان دونوں لڑکوں کو چلتے ہوئے اور گرتے پڑتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہیں کرسکا اور اپنی بات کو ختم کر کے ان کی طرف اتر آیا۔ اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے 9۔ ابن مردوی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ حسین بن علی ؓ باہر نکلے جو کپڑا ان پر تھا۔ وہ ان کے پاؤں کے نیچے آیا۔ اور وہ گرپڑے اور رونے لگے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے اترے جب لوگوں نے دیکھا تو حسین ؓ کی طرف دوڑے۔ تاکہ وہ آپ کو لے لیں اور بعض بعض سے ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں آئے۔ یعنی آپ نے ان کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ شیطان کو غارت کرے بلاشبہ اولاد آزمائش ہے اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نہیں جانتا کہ میں اپنے منبر سے اترا ہوں۔ 10۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ھضرت حسن یا حضرت حسین ؓ سے کے رونے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا اولاد آزمائش ہے۔ میں اس کے لیے کھڑا ہوا اور میں سمجھا بھی نہیں کہ میں کس لیے کھڑا ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو جہاں تمہاری طاقت ہے اور بات سنو اور فرمانبرداری کرو اور اچھے مال کو اپنی جانوں کے لیے خرچ کرو۔ اور جو شخص اپنے نفس کی کنجوسی سے بچادیا گیا سو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں

11۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت اتقوا اللہ حق تقٰتہ (آل عمران آیت 102) اللہ سے ڈرو جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا تو صحابہ کرام ؓ پر یہ عمل کرنا سخت ہوگیا۔ وہ عبادت کرنے کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کی ٹانگیں سوج گئیں اور ان کی پیشانیوں پر پھوڑے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر تخفیف کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم اللہ سے ڈرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو تو اس آیت نے پہلی والی آیت کے حکم کو منسوخ کردیا۔ 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاتقوا اللہ ماستطعتم سے مراد ہے کہ اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ 13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا فاتقوا اللہ ماستطعتم یعنی یہ رخصت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا آیت اتقواللہ حق تقتہ (اس کے ڈر کا جتنا حق ہے اس سے ڈرو) اور اس کے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے تخفیف فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے رخصت نازل فرمائی اور فرمایا آیت فاتقوا اللہ ماستطعتم واسمعوا واطیعوا تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام کو سنو اور مانو یعنی اے ابن آدم اللہ کے احکام کو سنو اور اطاعت کرو جہاں تک تم سے ہوسکے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے اللہ کے احکام سننے اور اطاعت پر بیعت کی جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ 14۔ ابن سعد واحمد وابوداوئد نے ھکم بن حزن الکلفی ؓ سے روایت کیا کہ ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کوئی دن ٹھہرے رہے اس دوران ہم ایک جمعہ کی نماز میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ آپ ایک کمان پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ کی حمد بیان کی۔ اور اس کی تعریف بیان کی پاکیزہ ہلکے اور مبارک کلمات کے ساتھ۔ پھر فرمایا اے لوگو ! بیشک تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ ہر اس کام کی جس کا تم کو حکم دیا گیا سو تم سیدھے رہو اور خوش رہو۔ 15۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون اور جو لوگ نفسانی حرص سے محفوظ رہے وہی آخرت میں کامیاب ہوں گے یعنی نفقہ میں کنجوسی نہ کی۔ بخل وحرص سے پناہ مانگنا 16۔ عبد بن حمید نے حبیب بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں عرفہ کے دن ابن عمر ؓ سے ملا اور میں نے ارادہ کیا کہ آپ کی سیرت کی اقتدا کروں اور ان کی بات کو سنوں۔ سو میں نے اکثر آپ کو یہ دعا مانگتے سنا۔ اے اللہ میں آپ سے فحش بخل سے پناہ مانگتا ہوں یہاں تک کہ وہ عرفہ سے واپس لوٹ آئے۔ اور مزدلفہ میں رات گذاری۔ میں نے پھر اسی طرح ان کو کہتے ہوئے سنا پھر جب میں نے ان سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا اے عبداللہ ! میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں آپ کی سیرت کی اقتدا کروں گا۔ لیکن میں نے آپ کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنا : کہ آپ فحش بخل سے پناہ مانگتے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا میں اعلی اور افضل کچھ نہیں چاہتا بس یہی چاہتا ہوں کہ میں مفلحین میں سے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون۔ اور جو آدمی اپنے دل کی کنجوسی سے بچالیا گیا تو یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
Ayahs 64:17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض دو اچھا قرض تو وہ تمہیں اس کو بڑھا کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمادے گا اور اللہ قدر دان ہے بردبار ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

غیب اور شہادۃ کا جاننے والا ہے، عزیز ہے، حکیم ہے

17۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے سے قرضہ طلب کیا تو اس نے مجھے قرضہ دینے سے انکار کردیا۔ اور میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا اور وہ نہیں جانتا۔ اور کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانہ تو میں ہوں۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم ویغفرلکم اگر تم اللہ کو اچھا قرضہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اس کو دگناکردے گا۔ 18۔ عبد بن حمید نے ابوحیان سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی سائل کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ کون اللہ تعالیٰ کو اچھا قرضہ دے گا تو یہ کہتے سبحان اللہ والحمد للہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا اچھا قرضہ ہے۔