64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

یسبح للہ مافی السموات وما فی الارض . ” اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ “ (تسبیح کرنے کا کیا مطلب ہے اور ما کا لفظ جو بےعقل چیزوں کے لیے آتا ہے اس جگہ کیوں استعمال کیا گیا) اس کی تشریح سابق میں گزر چکی ہے۔ لہ الملک ولہ الحمد . ” اسی کی بادشاہت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے۔ “ لہ ٗ کو دونوں جگہ پہلے ذکر کیا گیا ‘ یہ تقدیم مفید حصر ہے (یعنی اللہ ہی کا ملک ہے اور اللہ ہی کے لیے ہر تعریف ہے) ۔ وھو علی کل شی قدیر . ” اور وہ ہر شے پر قابو رکھتا ہے۔ “ قدرت خداوندی کی نسبت ہر ممکن سے برابر ہے اس لیے (بغیر کسی عاجزی اور ترجیح کے) وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

ھو الذیی خلقکم .... بصیر . ” وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے (اسکے باوجود) تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن اور اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ “ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ.... یعنی اللہ نے تم کو پیدا کیا ‘ اس کے بعد تم میں سے کچھ لوگ کافر ہوگئے اور کچھ لوگ مؤمن۔ فَمِنْکُمْ : میں فَ تعقیب پر دلالت کر رہی ہے (یعنی پیدائش کے بعد کچھ لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کچھ ایماندار ہوئے) جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : وَ اللہ ُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ وَ مِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ.... (یعنی پیدا ہونے کے بعد کچھ جانور پیٹ کے بل چلتے ہیں اور کچھ ٹانگوں پر . الخ) وَ اللہ ُ بِمَا تَعمَلُوْنَ : یعنی ایمان اور کفر ‘ فرمانبرداری اور نافرمانی ‘ بہرحال تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسکو دیکھتا ہے ‘ تم کو اسکا بدلہ دیگا۔ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ایمان و کفر بتقدیر خداوندی نہیں ‘ نہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ‘ بلکہ ان کا خالق خود بندہ ہے۔ یہ استدلال غلط ہے تمام چیزیں ازل میں مقدر ہوچکی ہیں ‘ اللہ نے فرمایا : کُلَّ شَیْ ءٍ خَلَقْنٰہَ بِقَدَرٍ ۔ بندوں کے افعال و اعمال بھی اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں لیکن اس میں کسی قدر بندوں کے اختیار کو دخل ہے اسی لیے بندے کو کا سب کہا جاتا ہے اور اس کے افعال پر ثواب و عذاب مرتب ہے۔ صحابہ اور تابعین وغیرہم کا اسی پر اجماع و اتفاق ہے۔ یہی قول صحیح ہے اس کے خلاف آیات کی تاویل کرنی جائز نہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ تُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ : (مؤمنوں کے راستہ سے جو ہٹا ‘ اللہ اس کو دوزخ میں ڈال دے گا) ۔ حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے۔ فرشہ عرض کرتا ہے : اے رب (اب) نطفہ ہے (اب) بستہ خون کا لوتھڑا ہے (اب) بوٹی ہے (ان مراحل سے گزرنے کے بعد) جب اللہ اس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے : اے رب ! کیا یہ نر ہے یا مادہ ‘ نیک بخت ہے یا بدبخت ‘ اس کا رزق کیا ہے ‘ اس کی مدت زندگی کیا ہے ؟ یہ سب کچھ ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔ (رواہ البخاری) صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی مرفوع روایت بھی اسی طرح آئی ہے جس کے آخر میں اتنا اور بھی ہے کہ قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے بعض لوگ اہل جنت جیسے عمل (ساری عمر) کرتے رہتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ لکھا ہوا آگے آتا ہے اور وہ جہنم میں چلے جاتے ہیں۔ مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دی ہیں اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس مضمون کی حدیثیں بکثرت آئی ہیں۔ اس آیت کی : تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ نے آدمیوں کو مؤمن اور کافر پیدا کیا ہے پھر جیسا پیدا کیا ہے ویسا ہی مومن و کافر (دنیوی زندگی میں) ان کو کردیتا ہے یعنی بعض آدمیوں کے لیے کفر مقدر کردیا ‘ بعض کے لیے ایمان ‘ جن کے لیے تقدیر کفر کی جاتی ہے ان کا رخ انہی اعمال کی طرف کردیتا ہے جو کفر پر آمادہ کرنے والے ہوتے ہیں اور جن کے لیے ایمان مقدر کیا جاتا ہے ان کو انہی اعمال کی توفیق دیتا ہے جو ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی وساطت سے حضرت ابی بن کعب کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خضر ( علیہ السلام) نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا اس کی سرشت ہی کفر پر تھی۔ اللہ نے (حضرت نوح کی بددعا نقل کی ہے اور) فرمایا : وَلَا یِلِدُوْا الاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا : (یہ کافر ایسے ہی بچے پیدا کریں گے جو بدکار ‘ کافر ہوں گے) ۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں۔ اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

خلق السموات والارض بالحق و صورکم فاحسن صورکم ولیہ المصیر . ” اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائیں ‘ سو اچھی صورتیں بنائیں اور اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ “ بِالْحَقِّ : یعنی کامل حکمت کے ساتھ پیدا کیا کہ یہ ساری کائنات ایک صانع حکیم کی ہستی اور وحدانیت کی نشاندہی کر رہی ہے۔ وَصَوَّرَکُمْ : اور اے لوگو ! اللہ نے تمہارے نقشے بنائے۔ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ : اور تمام حیوانوں سے زیادہ خوب صورت تمہارے نقشے بنائے ‘ ظاہر میں بھی (کہ دیکھنے میں سب سے اچھے دکھائی دیتے ہو) اور باطنی طور پر بھی (تمام جہان سے زیادہ علم ‘ عقل اور معرفت کے حامل ہو) ۔ وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ : اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے اس لیے خصائل مذمومہ اور برے اعمال کو اختیار کر کے اپنی صلاحیت کو ضائع نہ کرو ورنہ (دوسری زندگی میں) تم کو بدترین صورتوں پر اٹھایا جائے گا۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

یعلم ما فی السموت ... الصدور . ” وہ اس سے بھی واقف ہے جو زمین اور آسمان میں ہے اور سب چیزوں کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو اور وہ دلوں تک کی بات کو جاننے والا ہے۔ “ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ : یعنی اللہ تمہارے اسرار اور ان خیالات سے واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پوشیدہ ہوتے ہیں ‘ جو چیز معلوم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے خواہ وہ کلی ہو یا جزئی 1 ؂ اللہ اس کو جانتا ہے کیونکہ ہر چیز سے اس کی نسبت (یعنی تخلیقی تعلق و نسبت) .......... 1 ؂ حکماء مشائیہ کہتے ہیں کہ واجب الوجود کے علم کا تعلق کلیات سے ہے ‘ جزئیات سے نہیں ہے ‘ وہ جزئیات کو نہیں جانتا اگر جانتا ہے تو من حیث الکلی تشخصات و تعنیات مادیہ کا اسکو علم نہیں ‘ اس خیال کی تردید حضرت مفسر (رح) نے کردی اور صراحت کردی کہ کلی ہو یا جزئی جو بھی معلوم ہونے کی صلاحیت و قابلیت رکھتی ہے ‘ اللہ اس کو جانتا ہے۔ (مترجم) ایک جیسی ہے۔ قدرت کا ذکر علم سے پہلے اس لیے کیا کہ کائنات اپنے خالق پر براہ راست دلالت کرتی ہے اور کائنات کا استحکام تخلیقی اور ہر حکمت بناوٹ اللہ کے علم کی دلیل ہے۔ علم کا دوبارہ ذکر درحقیقت مکرر وعید ہے ‘ ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی نافرمانی کرتے اور خلاف رضا عمل کرتے ہیں۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے

الم یاتکم .... عذاب الیم . ” کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی ‘ جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا پھر انہوں نے اپنے اعمال کا وبال (دُنیا میں بھی) چکھا اور (اس کے علاوہ آخرت میں بھی) ان کے لیے عذاب دردناک ہے۔ “ اَلَمْ یَاْ تِکُمْ : یعنی اے کافرو ! کیا تم کو پہلے کافروں کے حالات (اور عذاب و سزا) کی خبر نہیں پہنچی۔ سابق کافروں سے مراد ہیں قوم نوح ‘ قوم ثمود ‘ قوم عاد اور اصحاب الایکہ (بن والے) وغیرہ۔ وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ انہوں نے دنیا میں ہی اپنے کفر کے ضرر کا مزہ چکھ لیا۔ وبال کا اصل مفہوم ہے ثقل ‘ بار ‘ طعام و بیل (ثقیل کھانا) مطر دبیل (بھاری بارش) ۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : یعنی آخرت میں ان کے لیے عذاب الیم ہوگا۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے (ان کو) نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی۔ اور خدا بےپروا (اور) سزاوار حمد (وثنا) ہے

ذلک بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینت فقالو ابشر یھدوننا ز فکفروا و تولوا استغنی اللہ واللہ غنی حمید . ” یہ اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں کے پاس ان کے پیغمبر دلائلِ واضحہ لے کر آئے تو ان لوگوں نے (ان رسولوں کی نسبت) کہا کیا آدمی ہم کو ہدایت کریں گے ‘ غرض انہوں نے کفر کیا اور روگردانی کی اور خدا نے بھی ان کی کچھ پروا نہیں کی اور اللہ (سب سے) بےنیاز ‘ ستودہ صفات ہے۔ “ ذٰلِکَ : یہ دنیا اور آخرت کا عذاب۔ اَلْبَیِّنٰتِ : معجزات اور واضح دلائل۔ اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا : اسم جنس ہے ‘ ایک پر بھی اور زیادہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس جگہ جمع مراد ہے۔ اس لیے یھدون بصیغہ جمع ذکر کیا۔ ابشرٌ میں استفہام انکاری ہے ‘ ان لوگوں نے پیغمبروں کی ہدایت کا انکار کیا اور تعجب سے کہا : کیا آدمی خدا کے پیغمبر ہوسکتے ہیں اور ہم کو خدا کی طرف پہنچنے کی ہدایت کرسکتے ہیں۔ وَ تَوَلَّوْا : اور واضح دلائل و آیات سے روگرداں ہوگئے۔ وَاسْتَغْنَی اللہ : اور اللہ ان کی طاعت سے کیا ‘ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ پیغمبروں کو بھیجنا تو اس کی مہربانی اور احسان ہے اور جو شخص خود اپنے ضرر پر راضی ہو ‘ وہ قابل نظر نہیں ہوتا (پس اللہ بھی ان کی طرف سے بےپروا ہوگیا) ۔ وَ اللہ ُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ : اور اللہ ہر چیز سے بےنیاز اور بذات خود فی نفسہٖ سزاوارِستائش ہے۔ اسکو کسی کی تعریف کی حاجت نہیں۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی و ربی لتبعثن ثم لتنبون بما عملتم و ذلک علی اللہ یسیر . ” یہ کافر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ‘ آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں (مجھے) اپنے رب کی قسم تم لوگ ضرور (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے پھر (دنیوی زندگی میں) جو کچھ تم نے کیا ہوگا ‘ اس سے تم کو آگاہ کیا جائے گا ( اور اس کے مطابق تم کو سزا و جزا دی جائے گی) اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ “ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی مکہ کے رہنے والے کافر۔ زعم کا معنی ہے علم کا دعویٰ ۔ بِمَا عَمِلْتُمْ : تم نے جو کچھ کیا ہوگا خیر ہو یا شر ‘ یعنی تم سے حساب فہمی کی جائے گی اور تم کو تمہارے اعمال سے باخبر کیا جائے گا۔ وَ ذٰلِکَ : یعنی یہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا اور محاسبہ کرنا۔ یَسِیْرٌ : آسان ہے کیونکہ اللہ کی قدرت کامل ہے اور جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ محال نہیں ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

فامنوا .... تعملون خبیر . ” تو اللہ اور اسکے رسول پر اور اس نور (کتاب) پر جو ہم نے نازل کیا ‘ ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اس سے باخبر ہے۔ “ فَاٰمِنُوْا .... یعنی جب حشر اور قبروں سے اٹھایا جانا ضروری اور یقینی ہے تو ایمان لاؤ۔ وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا : النور سے مراد ہے قرآن مجید۔ قرآن کا اعجاز ظاہر ہے پس اسی معجز ہونے کی وجہ سے یہ خود ظاہر ہے (جیسے نور خود ظاہر ہوتا ہے) اور قوانین و ضوابط اور احکام و اخبار کو ظاہر بھی کر رہا ہے اس لیے مظہر بھی ہے (جیسے روشنی دوسری چیزوں کو ظاہر کردیتی ہے۔ لہٰذا روشنی کی طرح قرآن ظاہر اور مظہر ہے) ۔ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے یعنی اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن . ” یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا ‘ وہ دن گھاٹا دینے کا ہے۔ “ یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ : یعنی یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو جمع کریگا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو بدلہ دیگا ‘ اس روز جب کہ تم کو جمع کریگا۔ لِیَوْمِ الْجَمْعِ : یوم الجمع سے مراد ہے روز قیامت ‘ جب ملائکہ اور سارے جن و انس اگلے پچھلے سب اس روز جمع ہوں گے۔ لیوم الجمع میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یوم الجمع میں ‘ جو حساب فہمی اور سزا و جزا ہوگی ‘ اس میں سب کو جمع کیا جائے گا۔ ذٰلِکَ : وُ ہ دن۔ التَّغَابُنِ : یہ بات تفاعل کا مصدر ہے لفظی ترجمہ ہے باہم ایک کا دوسرے کو گھاٹا دینا ‘ نقصان پہنچانا) خوش نصیب (مؤمن) ان مکانوں میں فروکش ہوں گے جو جنت میں بدبختوں کے لیے (بشرط ایمان وصلاح) مقرر کیے گئے تھے۔ جس شخص نے کسی کی حق تلفی کی ہوگی اس کی نیکیاں (بقدر ظلم) مظلوم کو دے دی جاے گی۔ (یوم التغابن) تغا بن ‘ تجار سے مستعار ہے (یعنی تاجر باہم تجارت میں جس طرح نفع و نقصان سے دو چار ہوتے ہیں ‘ اسی طرح قیامت کے دن خوش نصیب و بدنصیب اور ظالم و مظلوم باہم نفع و نقصان پہنچائیں گے۔ التغابن میں الف لام عہدی ہے یعنی حقیقی تغابن کا دن ‘ دنیوی تغابن کا نہیں۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روا یت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ مؤمن (جنت کے اندر) اپنے مکانوں کے بھی مالک ہوں گے اور بدنصیب کافروں کے مکانوں کے بھی وارث ہوں گے ‘ کافروں کے یہ مکان جنت کے اندر وہی ہوں گے کہ اگر وہ بدنصیب اللہ کی اطاعت کرتے تو یہ مکان ان کو عطا کیے جاتے۔ سعید بن منصور ‘ ابن ماجہ ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے (البعث میں صحیح سند سے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کے (آخرت میں) دو گھر ہوں گے۔ ایک جنت میں ‘ دوسرا دوزخ میں۔ جب کوئی مر کر دوزخ میں چلا جائے گا تو اس کے جنت والے مکان کے مالک اہل جنت ہوں جائیں گے۔ آیت : اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ کا یہی مطلب ہے۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ جب بندہ کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تو اس شخص یعنی محمد ﷺ کی بابت کیا کہتا تھا ؟ مؤمن جواب دیتا ہے ‘ میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ‘ اس سے کہا جاتا ہے دوزخ کے اندر اپنا مقام دیکھ ‘ اللہ نے اس مقام کے بجائے جنت کے اندر تجھے مقام عنایت فرما دیا۔ (الحدیث) ابن ماجہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص وارث کی میراث سے بھاگتا ہے (یعنی وارث کو اس کا میراثی حصہ نہیں دیتا ‘ اللہ جنت والی میراث اس کی کاٹ دیتا ہے۔ مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ ؓ سے) فرمایا : کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہمارے اندر تو مفلس وہی ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ بھی نہ ہو اور سامان بھی نہ ہو ‘ فرمایا : میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے روز نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ (یعنی ساری نیکیاں) لے کر آئے گا ‘ لیکن (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہوگی ‘ کسی پر زنا کی تہمت لگائی ہوگی ‘ کسی کا مال (ناجائز طور پر) کھایا ہوگا ‘ کسی کا خون بہایا ہوگا ‘ کسی کو مارا ہوگا ‘ چناچہ کسی کو اس کی یہ نیکیاں (ظلم کے بدلہ میں) دلوائی جائیں گی ‘ کسی کو وہ نیکیاں ‘ پھر اگر اداء حقوق سے اس کی نیکیاں کم پڑیں گی تو حق دار کے گناہ لے کر اس (حق تلفی کرنے والے) پر ڈال دیئے جائیں گے ‘ پھر اس (ظالم) کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ جس کسی پر اس کے بھائی کا کوئی حق ہو تو اس کو چاہیے کہ دنیا میں ہی اپنے آپ کو اس حق سے آزاد کرلے کیونکہ وہاں (آخرت میں) نہ درہم ہوں گے نہ دینار۔ اگر اس کے نیک اعمال ہوں گے تو بقدر حق (یعنی جتنا اس پر کسی کا حق ہوگا اتنی مقدار میں) اس کے نیک عمل لے لیے جائیں گے (اور حق دار کو دے دیئے جائیں گے) اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو طالب حق کے کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث میں طبرانی کے نزدیک یہ الفاظ آئے ہیں ‘ وہاں نہ دانگ ملیں گے نہ قیراط بلکہ اس کی (یعنی ظالم کی) نیکیاں لے کر اس کو جس پر ظلم کیا ہوگا ‘ دے دی جائیں گی اور مظلوم کے گناہ ظالم پر لاد دیئے جائیں گے۔ ومن یومن باللہ و یعمل صالحا یکفر عنہ سیاتہ و یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خالدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم . ” اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا اور نیک کام کرتا ہوگا ‘ اللہ اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی (اور) جن کے اندر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہیں گے ‘ یہ بڑی ہی کامیابی ہے۔ “ ذٰلِکَ : یعنی یہ ایمان اور عمل صالح کا مجموعہ بڑی کامیابی ہے کیونکہ اسی سے دفع مضرت اور حصول منفعت وابستہ ہے (گناہوں کا معاف ہونا اور جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہونا ایمان و عمل صالح کے مجموعہ پر موقوف ہے) ۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل ذوزخ ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

والذین کفروا و کذبوا بایتنا اولئک اصحاب النار خلدین فیھا و بئس المصیر . ” اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا وہ دوزخی ہیں ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانا ہے۔ “ (جزا و سزا کی) دونوں آیات ‘ تغابن کی تفصیل میں ہیں یا یوم الجمع میں جو سب کو جمع کیا جائے گا اس کی اصل غرض و مقصد کا اظہار اور دونوں فریقوں کے الگ الگ نتیجہ کا بیان ہے۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے

ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم . ” اور کوئی مصیبت بغیر حکم خدا کے نہیں آتی اور جو شخص اللہ پر (پورا) ایمان لاتا ہے اللہ اس کے دل کو (صبر و رضا کی) راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ “ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ : یعنی کسی شخص کو کسی طرح کی کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے ‘ اذن سے مراد ہے تقدیر خداوندی اور ارادۂ الٰہی۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِ اللہ ِ : یعنی جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آتی ہے وہ بغیر اذن خدا کے نہیں آتی اور یقین رکھتا ہے کہ آنے والی مصیبت چوکتی اور ٹلتی نہیں اور نہ آنے والی آتی نہیں۔ یَھْدِ قَلْبَہٗ : یعنی اللہ اس کو صبر اور تسلیم و رضا کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ ابن دیلمی کا بیان ہے کہ میں حضرت ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ شبہ پیدا ہوگیا ہے اب آپ کوئی حدیث بیان فرما دیجئے تاکہ اللہ میرے دل سے شبہ کو دور کر دے۔ حضرت ابی نے فرمایا : اگر اللہ تمام آسمان والوں اور زمین کے باشندوں کو عذاب دے تو دے سکتا ہے اور وہ ظالم نہیں قرار پائے گا اور اگر ان پر اپنی رحمت کرے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہوگی اور اگر کوہ احد کے برابر سونا تم راہ خدا میں خرچ کرو گے تو جب تک تمہارا ایمان تقدیر پر نہ ہوگا ‘ اللہ قبول نہیں فرمائے گا ‘ جان رکھو کہ جو کچھ تم کو ملنے والا ہے ‘ وہ تم سے چوکے گا نہیں اور جو ملنے والا نہیں وہ ملے گا نہیں ‘ اگر اس عقیدے کے خلاف (دوسرے مخالف عقیدے پر) تم مرجاؤ گے تو تم دوزخ میں جاؤ گے۔ اس کے بعد میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جا کر یہی دریافت کیا ‘ حضرت عبداللہ نے بھی (حضرت ابی بن کعب کے جواب کی طرح) یہی جواب دیا ‘ پھر میں حضرت حذیفہ بن یمان کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا ‘ پھر میں حضرت زید بن ثابت کی خدمت میں گیا (اور یہی سوال کیا) تو آپ نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث اسی طرح سنائی۔ (رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ) وَ اللہ ُ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمٌ : اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یہاں تک کہ دلوں کو اور ان کے احوال کو بھی جانتا ہے۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلغ المبین . ” اور (ہر امر میں) اللہ کے حکم پر چلو اور رسول کی اطاعت کرو ‘ پھر اگر تم روگردانی کرو گے تو (یاد رکھو کہ) ہمارے رسول ﷺ کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ “ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ : یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے تم روگردانی کرو گے۔ فَاِنْ میں فَ سببیہ ہے۔ ایمان و اطاعت کے امر کا پہنچنا روگردانی کا سبب ہے۔ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا ..... یعنی تمہاری روگردانی ہمارے رسول کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی کیونکہ ان کا فریضہ صرف تبلیغ حکم ہے جب وہ حکم پہنچا چکے تو اپنا فرض ادا کرچکے ‘ روگردانی کا ضرر تم پر ہی پڑے گا۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

اللہ لا الہ ... المومنون . ” وہی اللہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ “ اَﷲُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ : یہ جملہ حکم ایمان و اطاعت کی علت ہے (اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو ‘ اس لیے کہ وہی اللہ ہے اس کے سوا قابل عبادت کوئی نہیں) ۔ وَعَلَی اللہ : اس کا تعلق فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ سے ہے۔ علی اللہ کی تقدیم مفید حصر ہے۔ اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ جب خیر و شر سب ہی کچھ بتقدیر الٰہی ہوتا ہے تو بھروسہ اور توکل بھی اللہ ہی پر ہونا ضروری ہے۔ ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مکہ کے رہنے والے کچھ مرد مسلمان ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا ‘ لیکن ان کے اہل و عیال نے ان کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ان کے اہل و عیال نے کہا : ہم نے تمہارے مسلمان ہونے پر تو صبر کرلیا لیکن اب تمہاری جدائی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ بیوی ‘ بچوں کی یہ التجاء مسلمانوں نے مان لی اور ہجرت کا ارادہ ترک کردیا ‘ اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوا لکم فاحذروھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم . ” اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیبیاں اور اولاد تمہارے (دین کی) دشمن ہیں۔ سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کر دو گے اور درگزر کرو گے اور بخش دو گے تو (اللہ تم کو معاف کر دے گا) اللہ بہت بخشنے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔ “ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ : یعنی تمہارے اہل و عیال حقیقت میں تمہارے دشمن ہیں کیونکہ اللہ کی فرمانبرداری سے روکتے ہیں اور باز رکھتے ہیں۔ فَاحْذَرُوْھُمْ : تم ان سے احتیاط رکھو ‘ ان کے شر سے بےفکر نہ ہو ‘ ان کا کہا نہ مانو کہ ان کی وجہ سے ہجرت چھوڑ بیٹھو۔ ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب وہ لوگ مدینہ میں پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے تو انہوں نے دیکھا کہ (ان سے پہلے ہجرت کر کے آنے والے) کچھ لوگ دینی مسائل سیکھ چکے ہیں۔ یہ دیکھ کر (ان کو اپنے اہل و عیال پر غصہ آیا ‘ انہوں نے ارادہ کیا کہ اہل و عیال کو سزا دیں کیونکہ بیوی ‘ بچوں نے ہی ان کو ہجرت کرنے سے روک رکھا تھا ‘ اس پر آیت : وَاِنْ تَعْفُوْا ..... نازل ہوئی۔ یعنی اگر تم ان کا قصور معاف کر دو گے اور ان سے درگزر کرو گے اور ان کی خطا بخش دو گے تو اللہ بھی تم کو معاف فرمائے گا اور تم پر مہربانی کرے گا کیونکہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ ابن جریر نے عطاء بن یسار کا قول نقل کیا ہے کہ سوائے آیات : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ.... کے باقی تمام سورة تغابن مکہ میں نازل ہوئی ‘ یہ آیات ضرور (مدینہ میں) حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئیں ‘ حضرت عوف بن مالک عیالدار آدمی تھے ‘ آپ جب بھی جہاد پر جانے کا ارادہ کرتے تھے ‘ بیوی ‘ بچے ان کے سامنے روتے اور ان کے دل میں رقت پیدا کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ہم کو کس پر چھوڑ کر جا رہے ہیں ‘ اس طرح ان کے دل میں نرمی آجاتی تھی اور وہ جہاد سے رک جاتے تھے۔ انہی کے متعلق ان آیات کا آخر سورت تک مدینہ میں نزول ہوا۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے

انما اموالکم و اولادکم فتنۃ واللہ عندہ اجر عظیم . ” تمہارے مال اور اولاد بس تمہاری ایک آزمائش کی چیز ہے (جو شخص ان میں پھنسنے کے باوجود اللہ کو یاد رکھے گا) اس کے لیے ‘ اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ “ اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ.... یعنی تمہارا مال اور اولاد اللہ کی طرف سے تمہارا امتحان اور جانچ ہے ‘ جو شخص باوجود موانع اور عوائق کے اور بندوں کے حقوق ادا کرے گا ‘ اللہ اس کو برابر کا درجہ عطا فرمائے گا اور اس متقی سے اس کا مرتبہ بہت زیادہ ہوگا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہے لیکن اس کے لیے اداء حقوق سے روکنے والا نہ کوئی رشتہ اور تعلق ہو نہ کوئی اور مانع ہو ‘ اسی بناء پر اہل سنت کا خیال ہے کہ خواص بشر یعنی انبیاء کا درجہ بڑے مرتبہ کے فرشتوں سے بھی اونچا ہے اور عام اولیاء و صلحاء عام ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ ملائکہ کے اندر تو اطاعت سے روکنے والا کوئی جذبہ ہی نہیں ہے ‘ ان کی سرشت ہر مادی قوّت سے خالی ہے اور اولیاء و صلحاء کے اندر موانع اور عوائق موجود ہیں جو اللہ کی اطاعت اور اداء حقوق سے روکتے ہیں ‘ پر وہ ان سفلی جذبات پر غالب آتے ہیں لیکن اگر مال و اولاد کسی کو اللہ کی اطاعت اور بندوں کے حقوق ادا کرنے سے روک دے اور وہ اللہ کی نافرمانی اور ارتکاب ممنوعات کو اختیار کرلے تو یہی انسان اسفل السافلین میں جاگرتا ہے۔ وَ اللہ ُ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ : یعنی اجر عظیم اللہ کے پاس ہے۔ تم اللہ سے اجر عظیم کے طلبگار بنو اور مال و اولاد کی محبت سے بڑھ کر اور اس کو چھوڑ کر اجر عظیم کی اللہ سے طلب کرو۔ فائدہ تمام اہل و عیال تو ذکر خدا سے غافل نہیں کرتے ‘ اس لیے عداوت اہل و عیال کے اظہار کے موقع پر اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَ اَوْلاَدِکُمْ فرمایا (یعنی من تبعیضیَّہ ذکر کیا ‘ مطلب یہ ہے کہ بعض اہل و عیال تمہارے دشمن ہیں ‘ لیکن آزمائش و کسوٹی تو تمام اہل و عیال ہیں ‘ اس میں کسی کا استثناء نہیں) اس لیے بغیر مِن کے اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ : فرمایا (یعنی تمام اموال و اولاد خواہ ذکر خدا سے غافل بنائیں یا نہ بنائیں ‘ بہرحال امتحان سب ہی ہیں ‘ دل کا میلان تو ان کی طرف سب ہی کا ہوتا ہے) حضرت بریدہ کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے جس کا ذکر ہم نے سورة جمعہ میں کردیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت حسن اور حضرت حسین کو لڑکھڑاتے قدموں سے آتے دیکھا (اور گر پڑنے کا اندیشہ ہوا) تو منبر سے اتر کر فوراً جا کر دونوں صاحبزادوں کو اٹھا لیا اور فرمایا : اللہ نے سچ ارشاد فرمایا ہے : اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت : اتَّقُوا اللہ حَقَّ تُقَاتِہٖ نازل ہوئی تو لوگوں کے لیے اس حکم پر عمل کرنا سخت دشوار ہوگیا (کیونکہ حق تقویٰ تک پہنچنا تو بہت ہی دشوار ہے) راتوں کو نماز میں قیام اتنا طویل کرتے کہ کونچیں سوجھ جاتیں اور کثرت سجود سے پیشانیاں زخمی ہونے لگیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کے لیے حکم سابق میں تخفیف کردی گئی۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہوسکے خدا سے ڈرو اور (اس کے احکام کو) سنو اور (اس کے) فرمانبردار رہو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور جو شخص طبعیت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں

فاتقو اللہ ما استطعتم واسمعوا واطیعوا او انفقوا خیر الا نفسکم ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون . ” تو جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور (اس کے احکام کو) سنو اور مانو اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور جو لوگ نفسانی حرص سے محفوظ رہے وہی (آخرت میں) فلاح یاب ہوں گے۔ “ فَاتَّقُوا : میں فَ سببیہ ہے کیونکہ ایمان سبب تقویٰ ہے یعنی اپنی پوری کوشش اور طاقت تقویٰ رکھنے کے لیے صرف کر دو ۔ وَاسْمَعُوْا : اور اس کی نصیحتوں کو سنو۔ وَاَطِیْعُوا : اور اس کے احکام پر چلو۔ وَاَنْفِقُوْا : اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کرو۔ خَیْرًا لَّکُمْ : یعنی وہ نیک کام کرو جو تمہارے لیے مال و اولاد سے بڑھ کر ہیں یا خیر سے مراد ہے مال جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحْدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَا نِ الْوَصِیَّۃُ ۔ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ.... اس آیت کی تشریح سورة حشر میں گزر چکی ہے۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے

ان تفرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم و یغفرلکم واللہ شکور رحلیم اور اگر تم اللہ کو اچھی طرح (خلوص کے ساتھ) قرض دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھاتا چلا جائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ‘ اللہ بڑا قدر دان ہے (کہ نیک اعمال کا کئی گنا اجر دیتا ہے) اِنْ تُقْرِضُوا اللہ : اللہ کو قرض دینے کے معنی ہیں اللہ کے بندوں کو قرض دینا اور قرض دینے کا مطلب ہے اللہ کی راہ میں بامید ثواب خرچ کرنا۔ قَرْضًا حَسَنًا : یعنی خلوص قلب کے ساتھ ‘ بخوشی خاطر بغیر دکھاوٹ اور طلب شہرت کے دینا ‘ جس سے لینے والے پر نہ احسان رکھا جائے نہ اس کو دکھ دیا جائے۔ یُضٰعِفْہُ لَکُمْ : یعنی دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بلکہ اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ چاہے گا ‘ اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْحَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِأَۃُ حَبَّۃٍ وَ اللہ ُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللہ ُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ وَیَغْفِرْلَکُمْ : اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی برکت سے تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ وَ اللہ ُ شَکُوْرٌ : اور اللہ قدر دان ہے یعنی تھوڑے کے بدلہ میں بہت دینے والا ہے۔ حَلِیْمٌ : یعنی سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا ‘ فوراً سزا نہیں دیتا۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے

علم الغیب والشھادۃ العزیز الحکیم . ” اور بڑا بردبار ہے اور ظاہر و پوشیدہ (اعمال کو) جاننے والا ‘ بڑا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ “ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ : یعنی اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ‘ جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور جو چیز لوگوں کے علم سے پوشیدہ ہے ‘ اللہ سب کو جانتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو چیز اس وقت موجود ہے اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیز پہلے ہوچکی یا آئندہ ہونے والی ہے سب سے خدا واقف ہے۔ اَلْعَزِیْز : ہر شے پر غالب جس کی قدرت بھی کامل ہے اور علم بھی ہمہ گیر۔ الحمد اللہ سورة تغابن کی تفسیر ختم ہوئی