64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsسراج البیان

Ayahs 64:1–5

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتا ہے اسی کی سلطنت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی تم میں مومن اور جو تم کرتے ہو ۔ اللہ دیکھتا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کو ٹھیک پیدا کیا اور تمہاری صورتیں کھنچیں سو (کیا) اچھی صورتیں بنائیں ۔ اور اسی کی طرف پھرجانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسے جانتا ہے اور جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو ۔ اسے معلوم ہے اور اللہ دل کی باتوں کو جانتا ہے

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر تھے پھر انہوں نے اپنے کام کا وبال (سزا بدلا) چکھا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے ؟

سورة التغابن تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔ معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت کی پستی !
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تھے سو وہ کہتے تھے کہ کیا آدمی ہمیں راہ دکھائیں گے ؟ سو کافر ہوگئے ۔ اور منہ موڑا اور اللہ نے بےپروائی کی ۔ اور اللہ نے بےپرواہ تعریف کیا گیا ہے

یہ عجیب بات ہے ۔ کہ کفار کے نزدیک معیار نبوت تو ہمیشہ ضرورت سے زیادہ بلند رہا ۔ اور معیار الوہیت ہمیشہ پست یعنی انبیاء کا تو انہوں نے اس بناء پر انکار کیا ۔ کہ وہ فوق البشر قوتوں اور استعدادوں کے جھکے نہیں ہیں ۔ وہ کیوں بشری تقاضوں کے سامنے جھکتے ہیں ۔ مگر خدا کے متعلق ان کی عقل نے یہی فیصلہ کیا ہے ۔ کہ وہ کوئی بڑی چیز نہیں ۔ انہوں نے بتوں پر قناعت کرلی ۔ درختوں اور پودوں کو مقدس مان لیا جو دریاؤں اور پہاڑوں کو معبود قرار دے لیا ۔ سانپوں اور اژداھوں کو خدا سمجھا ۔ اور زمین کے ہر بلند اور رفیع حصہ کو خلعت لاہوت سے نوازا ۔ یعنی یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے ۔ کہ انسان کو اس عہدہ پر فائز نہیں ہونا چاہیے ۔ بلکہ اس منصف کا استحقاق وہ لوگ رکھتے ہیں ۔ جن میں الوہیت متجسد ہو ۔ تمہیں بھوک محسوس ہوتی ہو ۔ اور نہ پیاس ۔ جو اس عالم کے قوانین فطرت سے کیا قلم آزادہوں ۔ خدائی کے متعلق انکازاوایہ نگاہ یہ ہے ۔ ہر خوفناک چیز اور ہر مرغوب کن شخصیت بلکہ ہر وہ چیز جس میں کچھ عجیب وقدرت ہے ۔ بلاریب خدا ہے ۔ غور فرمائیے ان دونوں باتوں میں کتنا تضاد ہے ۔ بہرحال کہنا یہ ہے ۔ کہ سابقہ کفار نے بھی اللہ کے فرستادوں کا انکار محض اس بنا پر کردیا تھا ۔ کہ وہ بھی الوہیت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے ۔ اور کبھی دھوکہ نہیں دیتے تھے ۔ وہ صاف کہتے تھے ہم بشر ہیں ۔ ہم انسان ہیں ۔ ہم میں فضیلت یہ ہے ۔ کہ اللہ نے ہم کو اس خدمت کے لئے منتخب فرمالیا ہے ۔ اور ہم اس کی طرف سے مامور ہیں ۔ کہ تمہاری اصلاح کریں ۔ اور تمہیں منکرات کے ارتکاب سے روک دیں ۔ وہ کہتے ۔ کہ ہم ایک اپنے ایسے انسان کو اپنے سے بہتر نہیں سمجھ سکتے ۔ اور پیغمبر نہیں قرار دے سکتے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھکرانے کی وجہ سے عذاب آیا ۔ اور ان کے کبرونخوت کو ایک دم فنا کرکے رکھ دیا گیا ۔ ان نادانوں نے اتنا نہ سمجھا ۔ کہ وہ شخصیت جو کسوت انسانی میں نہیں ہے ۔ جس کی ضروریات اور تقاضے ہماری فطرت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے ۔ وہ ہماری راہما کیونکر ہوسکتی ہے ۔ ہمیں تو ایسے قائد کی ضرورت ہے ۔ جو فطرتاً ہماری مشکلات کا سامنا کرے ۔ ان کو محسوس کرے اور پھر اپنے حس عمل سے ہمارے لئے احساسات کا کیا علم ہوسکتا ہے ۔ پھر یہ کس طرح ہماری زمام قیادت اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں ۔ حل لغات : ۔ لہ الملک ۔ بادشاہت ۔ اسی کی سلطنت ہے تعلمون ۔ اعلان سے ہے وسورکم ۔ اور صورتیں بنائیں
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کافروں نے گمان کیا ۔ کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے ۔ تو کہہ کیوں نہیں مجھے اپنے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ۔ پھر تمہیں جتایا جائے گا جو تم کرتے تھے ۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے

کفار مکہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی ۔ کہ ہم کیونکر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ محض دھمکی ہے ۔ اور اس میں حقیقت کا کوئی شائبہ نہیں ۔ اس آیت میں اس خیال کی تردید فرمائی ہے ۔ اور یہ بتایا ہے ۔ کہ بعثت کا عقیدہ بالکل درست اور صحیح ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ وہ زندگی کو ختم نہ ہونے دے بلکہ آگے بڑھائے ۔ اور مکافات عمل کا یہ رسول یہ چاہتا ہے ۔ کہ ایک عالم ایسا تسلیم کیا جائے ۔ جہاں ظالم کو سزا ملے اور مظلوم کی دادرسی کی جائے گی ۔
Ayahs 64:8–10

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کے نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ اور جو تم کرتے ہو ۔ اللہ اس سے خبردار ہے

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں اکٹھا کرنے کے دن اکٹھا کریگا ۔ یہی ہار جیت کا دن ہوگا ۔ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے گا اور اچھے کام کرے گا ۔ اس کے گناہ خدا اس سے دور کریگا ۔ اور اسے باغوں میں داخل کریگا ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ یہی بڑی مراد ملنی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ وہی دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور وہ بری جگہ ہے

قرآن حکیم کو نور سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ کتاب اپنے مطالب کی وضاحت میں بمنزلہ روشنی کے ہے ۔ اس میں کوئی الجھن نہیں ۔ اور نہ کسی عقیدہ کو تشتہ دلائل رکھا گیا ہے ۔ اس کی ہر بات بجائے خوذپ کی تلی اور مدلل ہے ۔ اس لئے ان تمام لوگوں کو جو ضیاء بصیرت اور یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دعوت ہے ایمان کی ۔ کہ وہ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنائیں ۔ اور پھر دیکھیں ۔ کہ کیونکر قطب و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حل لغات :۔ نبوء ۔ خبر غنی حمید ۔ یعنی اس کی بےنیازی ایسی ہیں جو بےپروائی اور تغافل کے مترادف ہو ۔ بلکہ وہ ان معنوں میں بےنیاز ہے ۔ کہ کائنات میں کسی چیز کی احتیاج نہیں رکھتا ہے ۔ اور یہ بےنیازی قابل ستائیش ہے ۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

بغیر خدا کے حکم کے کوئی مصیبت نہیں آتی ۔ اور جو اللہ پر ایمان لائے گا ۔ اللہ اس کے دل کو راہ (ف 1) دکھائے گا ۔ اور اللہ کو ہر شئے معلوم ہے

مرد مسلمان کا شیوہ 1: اسلام دلوں میں اس عقیدہ کی نشو ونما چاہتا ہے ۔ کہ مرد مسلمان مصائب اور مشکلات میں دماغی توازن کو نہ کھو بیٹھے ۔ پوری جمعیت کے ساتھ اپنے نصب العین کی تکمیل میں مصروف رہے ۔ اور یہ سمجھے ۔ کہ جس قدر تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ۔ وہ سب اللہ کے فیصلہ اور علم کے مطابق ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی وجہ سے عزائم میں استحکام اور ارادوں میں مضبوطی پیدا ہوجائے ۔ نیز طمانیت قلب کا وہ درجہ حاصل ہوجائے ۔ جہاں دلوں میں تزلزل پیدا نہیں ہوتا ۔ یھد قلبہ سے غالبا ۔ یہی مقام تسکین مزہ ہے ۔ مسئلہ تقدیر کا یہ وہ ہمت آفرین پہلو ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلمان زندگی کی دشوار گزار منزلوں میں بھی مایوس نہیں ہوتا ۔ اور برابر تگ ودو اور سعی میں مصروف رہتا ہے ۔ ایک پہلو وہ ہے ۔ جس کو ہمارے جین اور ہماری بزدلی نے پیدا کیا ہے ۔ اور جو درحقیقت دور تنزل کا طبعی اقتضا ہے ۔ اور وہ یہ کہ جو کچھ ہوتا ہے ۔ وہ خدا کے علم اور فیصلہ کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس لئے سرے سے عزم اور محنت کی ضرورت ہی نہیں ۔ یہ فلسفہ تقدیر وہ ہے ۔ جس کو ہماری غلامانہ ذہنیت کے ایجاد کیا ہے ۔ ورنہ یہ کھلی حقیقت ہے ۔ کہ جب زندگی میں مصائب اور مشکلات کا ہونا ناگریز ہے ۔ تو پھر گھبرانے اور مخبوط الحواس ہوجانے کے معنے ۔ اسلام کہتا ہے ۔ تم بہرحال اپنے فرائض ادا کرو ۔ اور اس سے قطعاً سروکار نہ رکھو کہ قوانین فطرت کا کیا تقاضا ہے ۔ ایک وہ شخص جس نے طے کرلیا ہے ۔ کہ وہ بہرنہج اللہ کی فرمانبرداری کرے گا ۔ اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ السلام کو اپنا راہنما قرار دے گا ۔ اور جب جھکے گا ۔ ایک خدا کے سامنے آپ جانتے ہیں ۔ اس اقرار اور اس عقیدے کے ساتھ یہ شخص کفر و انکار کے سمندر میں کتنی طغیانی پیدا کردیتا ہے ؟ اور اپنی مخالف قوتوں کو کتنا متحرک بنادیتا ہے ؟ اس کے صاف اور واضح معنی ہیں کہ وہ ساری طاغوتی قوتوں سے لڑنے کے لئے آمادہ ہے ۔ اس صورت حالات سے ظاہر ہے ۔ کہ سوائے توکل اور صبر کے کوئی چیزگزند اور نقصان سے نہیں بچا سکتی ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ۔ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون ۔ حل لغات :۔ یوم التغابن ۔ خسارے کا دن بمعنے روز قیامت ۔
Ayahs 64:12–13

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور حکم مانو اللہ کا اور حکم (ف 1) مانو رسول کا ۔ پھر اگر تم منہ موڑو تو ہمارے رسول کا ذمہ صرف کھول کر پہنچا دینا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور چاہیے کہ مومن اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں

حاشیہ صفحہ ھذا 1: اسلام کے نزدیک اصل شئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے ۔ اور اس کے بعد جتنے رشتے اور حلائق ہیں ۔ ان کی حیثیت محض ثانوی ہے ۔ اس لئے وہ یہ نہیں چاہتا ۔ کہ کنسی جذبات یا پدرانہ تعلق خاطر ۔ خدمت اسلام کے سلسلہ میں حائل ہو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بیوی کے حقوق اور بچوں کے خیالات کی رعایت اسی وقت ضروری ہے ۔ جبکہ ان کے مقصود اعطاء کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا کرنا ہو ۔ اور جب یہ پاؤں کی زنجیریں اور گردن کا طوق بن جائیں ۔ تو اس وقت ان کی حیثیت دشمنوں کی سی ہے ۔ جن سے تمہیں ہوشیار اور محتاط رہنا چاہیے ۔ حل لغات :۔ فلیتوکل ۔ توکل سے ہے ۔ جس کے معنے اللہ کو اپنا وکیل اور چارہ ساز سمجھنے کے ہیں من الم جکم واولایکم ۔ من یہاں تعیفیہ ہے یعنی خاوند کے لئے اپنی نیک بیوی اور نیک اولاد زیادہ اولعالعزمی اور ثبات قدمی کا باعث ہوتی ہے فائدۃ ۔ عقاب ۔ دیوانگی ۔ مراد حیا ابتلاء ۔ آزمائش کی چیز
Ayahs 64:14–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہاری دشمن ہیں سو تم ان سے بچتے رہو ۔ اور جو معاف کرو ۔ اور درگزر کرو اور بخش دو ۔ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور اولاد صرف فتنہ (یعنی آزمائش ہیں) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرو (ف 1) اور سنو اور مانو اور خرچ کرو تمہارے لئے اچھا ہے اور جو کوئی اپنے جی کی (ناجائز اور ممنوع) لالچ سے بچایا گیا ۔ سو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو تو وہ اس کو تمہارے لئے دوچند کردیگا اور تمہیں بخش دیگا ۔ اور اللہ قدر دن تحمل والا ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

چھپے اور کھلے کا جاننے والا غالب حکمت والا ہے

حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔