Explained with ayahs 14–18
اللہ کی یاد اور دولت
ارشاد ہوتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے، جس سے پہلے تنبیہ ہوچکی ہے کہ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کردیں اگر ایسا ہوگیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو، بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کرچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة التَّغَابُن 33
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 267۔ المائدہ، حاشیہ 32۔ جلد پنجم، الحدید، حاشیہ 16۔
سورة التَّغَابُن 34
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، فاطر، حواشی 52۔ 59۔ الشوریٰ ، حاشیہ 42۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ”یعنی تقویٰ اختیار کرو مقدور بھر“ جب آیت اتقواللہ حق تقاتہ نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ ”اللہ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ کا حق ہے“ تو صحابہ کرام پر بہت بھاری اور شاق ہوا کہ اللہ کے حق کے مطابق تقویٰ کس کے بس میں ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت اور مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دی، تقویٰ بھی اپنی طاقت کے مطابق واجب ہے، مقصد یہ ہے کہ حصول تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کرلے تو اس سے اللہ کا حق ادا ہوجائے گا (روح ملخصاً)
تمت سورة التغابن وللہ احمد
Read the full tafseer →(ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یصعفہ لکم و یغفرلکم واللہ شکورحلیم) (17)
(فرض حسن کا موقع و محل اور اس کی حقیقت)۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اوپر جس انفاق کا حکم ہے وہ اللہ کی راہ میں ہر قسم کے انفاق کے لیے ہے خواہ اس کا تعلق صدقات و زکوٰۃ سے ہو یا جہاد سے۔ اس آیت میں خاص طور پر جہاد کے لیے اتفاق کی تاکید ہے۔ قرآن میں لفظ قرض عام طور پر جہاد ہی کے انفاق کے لیے آتا ہے اور اس لفظ کے استعمال میں جو اپیل اور بلاغت ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ سورة مزمل میں فرمایا ہے۔
(وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا) (المزمل : 73، 20) (اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔
17۔ 2 یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔
17۔ 3 وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
6: اللہ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت انسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت انسان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دکھاوا مقصود نہ ہو، نیک کاموں میں خرچ کرنے کو سورة بقرہ : 224، سورة مائدہ : 12، اور سورة مزمل : 73، میں بھی قرض حسن سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →ان تقرضوا .................... حلیم (46 : 71) ” اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کردے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا ، اللہ بڑا قدردان اور بردبار ہے “۔ اللہ بہت ہی برکت والا اور عظیم ہے۔ کتنا بڑا کریم ہے ، کتنا بڑا ہے۔ وہ بندے کو پیدا کرتا ہے ، اسے رزق دیتا ہے ، پھر اس سے قرضہ مانگتا ہے قرض حسن۔ پھر صرف قرض ہی نہیں لوٹاتا بلکہ اسے کئی گناکرکے لوٹاتا ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ نہایت ہی حلم سے معاملہ کرتا ہے۔ اللہ اور اپنے غلام کا شکر ، یا اللہ یہ تیرا ہی کام ہے ! اور ایک عظیم انعام ہے !
اللہ ہمیں اپنے صفات سے آگاہ کرتا ہے کہ ہم اپنے…
Read the full tafseer →7 یعنی اللہ کی راہ میں اخلاص اور نیک نیتی سے طیب مال خرچ کرو تو اللہ اس سے کہیں زیادہ دے گا اور تمہاری کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا۔ اس طرح کا مضمون پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ وہیں ہم نے پوری تقریر کی ہے۔
8 قدردانی کی بات یہ ہے کہ تھوڑے عمل پر بہت سا ثواب دیتا ہے، اور تحمل یہ کہ گناہ دیکھ کر فوراً عذاب نہیں بھیجتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو بالکل معاف اور بہتیروں کی سزا میں تخفیف کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17{ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَــکُمْ وَیَغْفِرْ لَـکُمْ } ”اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔“
{ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ } ”اور اللہ شکور یعنی قدر دان بھی ہے اور حلیم یعنی بردبار بھی۔“
وہ ایسا شکور ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور حلیم ایسا ہے کہ اس کے بار بار ترغیب دلانے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کچھ نہیں دیتا وہ فوری طور پر اس کی گردن نہیں ناپتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
26 تشریح کے لئے سورة الحدید کی آیت نمبر 11 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
27 قدردانی کی بات یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی کچھ مال اس کی راہ میں خرچ کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور اس کا تحمل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے پر فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو معاف بھی کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی سزا میں تخفیف بھی کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →18۔ لفظ قرض پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “۔ یعنی اخلاص قلب کے ساتھ قرض دے گا۔ (آیت) ” ان تقرضو اللہ “۔ اللہ کو قرض دینا یہی ہے کہ دولت اس کے بتائے ہوئے موقعوں پر اس کے احکام کے مطابق خرچ کی جائے۔ اسے لفظ قرض سے تعبیر کرنا حکم کی اہمیت کے اظہار اور تاکید وترغیب کے لیے ہے۔ (آیت) ” واللہ شکور حلیم “۔ وہ قدر داں ایسا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے بھی عمل صالح کو قبول کرلیتا ہے، اور بردبار ایسا کہ بڑی سے بڑی نافرمانیوں پر بھی گرفت فی الفور نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
شان نزول
یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی)
اور…
Read the full tafseer →ان تفرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم و یغفرلکم واللہ شکور رحلیم
اور اگر تم اللہ کو اچھی طرح (خلوص کے ساتھ) قرض دو گے تو وہ اس کو تمہارے
لیے بڑھاتا چلا جائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ‘ اللہ بڑا قدر دان ہے (کہ نیک اعمال کا کئی گنا اجر دیتا ہے)
اِنْ تُقْرِضُوا اللہ : اللہ کو قرض دینے کے معنی ہیں اللہ کے بندوں کو قرض دینا اور قرض دینے کا مطلب ہے اللہ کی راہ میں بامید ثواب خرچ کرنا۔
قَرْضًا حَسَنًا : یعنی خلوص قلب کے ساتھ ‘ بخوشی خاطر بغیر دکھاوٹ اور طلب شہرت کے دینا ‘ جس سے لینے والے پر نہ احسان رکھا جائے نہ اس کو دکھ دیا جائے۔
یُضٰعِفْہُ لَکُمْ : یعنی دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بلکہ اس سے…
Read the full tafseer →اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خلوص کے ساتھ خیرات کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھاتا چلا جائے گا اور اس صدقہ کی وجہ سے تمہارے گناہ معاف کرے گا۔
Read the full tafseer →1۔ اِنْ تُقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (245) کی تفسیر۔
2۔ وَ اللہ ُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ : اللہ ”شکور“ (بڑا قدر دان) ہے کہ تھوڑا سا خرچ کرنے پر اسے بےحساب بڑھاتا ہے اور گناہ بھی بخشتا ہے اور ”حلیم“ (بےحد بر باد) ہے کہ بڑی بڑی غلطیوں پر بھی فوراً نہیں پکڑتا ، بلکہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں ازواج و اولاد کے ساتھ معاملے میں ’ شکر و حلم“ اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میاں بیوی اور والدہ اولاد دونوں ایک دوسرے کے معمولی حسن سلوک کی بھی قدر کریں اور ایک دوسرے کی کوتاہیوں پر برد باری سے کام لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اہل تاویل کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت اس آیت اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے لئے ناسخ ہے۔ ان میں قتادہ، ربیع بن انس، سدی اور ابن زید ہیں۔ طبری نے ذکر کیا ہے : مجھے یونس بن عبدالاعلی نے اور انہیں ابن دہب نے انہیں ابن زید نے خبر دی کہ یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے ارشاد سے شدید امر آیا صحابہ نے کہا : اس کی قدر کون پہچان سکتا ہے یا کوئی اس تک پہنچ سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پہچان لیا کہ یہ امر ان پر شدید ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر منسوخ کردیا اور اس آیت کے بدلے دوسری آیت لایا، وہ یہ آیت ہے فاتقوا اللہ ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے سے قرضہ طلب کیا تو اس نے مجھے قرضہ دینے سے انکار کردیا۔ اور میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا اور وہ نہیں جانتا۔ اور کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانہ تو میں ہوں۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم ویغفرلکم اگر تم اللہ کو اچھا قرضہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اس کو دگناکردے گا۔
18۔ عبد بن حمید نے ابوحیان سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی سائل کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ کون اللہ…
Read the full tafseer →[ان تُقْرِضُوا اللّٰهَ : اگر تم لوگ قرض دو اللہ کو ] [قَرْضًا حَسَنًا : جیسے خوبصورت قرض دینے کا حق ہے ] [يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ : تو وہ ضرب دے گا اس کو تمہارے لیے ] [وَيَغْفِرْ لَكُمْ : اور وہ بخش دے گا تم کو ] [وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ: اور اللہ انتہائی قدردان ہے ] [حَلِيْمٌ: ہمیسہ تحمل کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ کو قرض حسن دیدو وہ بڑھا چڑھا کر دے گا اور مغفرت فرما دے گا :
﴿ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ﴾ (اگر تم اللہ کو فرض دے دو گے اچھا قرض (جس میں اخلاص ہو اور خوش دلی سے ان کاموں میں خرچ کردیا جائے جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے یا مستحب قرار دیا ہے) اللہ تعالیٰ اس پر چند در چند اضافہ کر کے اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا) سب بند اللہ کے ہیں اور سارے اموال بھی اللہ ہی کے ہیں اس نے کرم فرمایا کہ اس کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اس کا نام قرض رکھ دیا پھر اس پر چند در چند ثواب دینے کا وعدہ فرما لیا۔ یہ مضمون سورة البقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…
Read the full tafseer →15:۔ ” ان تقرضوا اللہ “ آخر میں انفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اور سورة منافقون میں امر انفاق سے بطور ترقی فرمایا کہ تم اللہ کو قرض دیدو وہ تمہیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر وثواب عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال ضائع نہیں گا۔ کیونکہ یہ تم اس ذات بابرکات کو دو گے جو قدر شناس اور تھوڑی سی قربانی کا زیادہ بدلہ دینے والی ہے یعطی الجزیل بمقابلۃ النزل القلیل (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ نے توحید اور ایمان کی بات بیان فرمائی۔ پھر نبوت و رسالت کے معترضین کو جواب دیا اور جزائے عمل کا ذکر کیا۔ فرمایا قیامت یوم التغابن یعنی ہار جیت کے دن واقع ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ نور پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے تکلیف آنے کا فلسفہ بیان فرمایا کہ یہ منجانب اللہ آتی ہے لہٰذا اس میں جزع فزع نہیں کرنا چاہیے آگے فرمایا کہ بہت سے لوگوں کے حق میں ان کے بیوی بچے ان کے دشمن بن جاتے ہیں لہٰذا ان سے محتاط رہنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے مال اور اولاد کے متعلق فرمایا کہ یہ آزمائش کا ذریعہ ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اِنْ تُقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا يُّضٰعِفْہُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌ 17 ۙ
قرض
القَرْضُ : ضرب من القطع، وسمّي قطع المکان وتجاوزه قَرْضاً ، كما سمّي قطعا . قال : وَإِذا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 17] ، أي : تجوزهم وتدعهم إلى أحد الجانبین، وسمّي ما يدفع إلى الإنسان من المال بشرط ردّ بدله قَرْضاً ، قال : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً [ البقرة/ 245] ، وسمّي المفاوضة في الشّعر مُقَارَضَةً ، والقَرِيضُ للشّعر، مستعار استعارة النّسج والحوک .
( ق ر ض ) القرض
( کرتا ) یہ قطع کی ایک قسم ہے پھر جس طرح کسی جگہ سے گزر نے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1 ؎ قرض حسن یعنی اچھا ہو مال اور خلوص نیت سے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَـکُمْ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ط وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (التغابن : 17، 18)
(اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بہت حلم والا ہے۔ جاننے والا ہے غائب و حاضر کا، سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ )
قرضِ حَسن کی فضیلت
اوپر کی آیت میں مال کے خرچ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہاں اسی خرچ کی ایک شاخ جس کا مرتبہ سب سے بلند ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پہلی آیت میں جس انفاق کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق ہر قسم کے انفاق سے ہے۔ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : مال کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا رہے صدقہ کرنا ” اللہ “ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔
اوپر کی دو آیات میں ایمان والوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت میں صدقہ کرنے والوں کو یہ فرما کر تسلی اور ترغیب دی ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ صدقہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو گے۔ وہ تمہارے صدقہ کو دوگنا تگنا کرے گا اور اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والوں کا بڑا ہی قدر دان اور بردبار ہے۔ وہ تمہارے ظاہری اور باطنی حالات کو جانتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہونے کے ساتھ بڑاحکیم…
Read the full tafseer →17 : اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (اگر تم اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دوگے) قرض حسنؔ سے نیت واخلاص کے ساتھ دینا۔ قرضؔ کا تذکرہ استدعاء میں لطف پیدا کرنے کیلئے ہے ( یہ ہم ایسے لوٹا دیں گے جیسے قرض لازم سمجھ کر لوٹایا جاتا ہے۔ ورنہ آقا اور غلام میں قرض ہی کیا اور یہاں تو خالق و مخلوق ہیں) یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ (وہ اس کو تمہارے لئے بڑھاتا چلاجائے گا) ایک کے بدلہ میں دس یا سات سو گنا سے جتنا چاہے گا بڑھا دے گا۔ وَیغْفِرْ لَکُمْ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ (اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے) کہ قلیل کو قبول کر کے بہت کثیرو جزیل عنایت فرماتا ہے۔ حَلِیْمٌ (بڑا بردبار ہے) بخیل کے…
Read the full tafseer →16 ۔” فاتقوا اللہ مااستطعتم “ یعنی تم طاقت رکھو۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے قول ” اتقوا اللہ حق تقاتہ “ کے لئے ناسخ ہے۔ ” واسمعوا واطیعوا “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ” وانفقوا خیرالانفسکم “ یعنی تم اپنے مالوں سے خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ” ومن یوق شح نفسہ “ حق کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے مال سے عطاء کرے۔ ” فاولئک ھم المفلحون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی چناچہ فرمایا (اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو ۔ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ کی رضا ہو اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرج حسنہ ہے۔ (يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ ) تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا کردے گا۔ یعنی وہ تمہارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ کئ گنا تک کردے گا۔ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کرنے کے سبب سے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
34 ۔ قرض حسن سے مقصود و مراد ؟ اور اس کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ کو قرض دو گے قرض حسن تو وہ کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا، اور قرض حسن سے مراد یہ ہے کہ مال بھی ستھرا اور پاکیزہ ہو، اور ارادہ و نیت بھی صحیح اور درست ہو، اور اس کا اصل مقصود اللہ کی رضا و خوشنودی ہو، قرآن حکیم میں قرض کا لفظ عام طور پر جہاد ہی کے انفاق کے لیے آیا ہے، اور اس لفظ میں بڑی بلاغت ہے، جو اہل علم اور اصحاب ذوق سلیم سے مخفی نہیں سورة مزمل میں ارشاد فرمایا گیا وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل 20 پ 29) اور قائم کرو تم نماز اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
مومن کے لیے آخرت کا زادراہ
تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔
انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اطاعت رسول ﷺ ۔
لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 9 یعنی اپنی حلال کی کمائی میں سے خوشدلی کے ساتھ اس کی راہ میں خرچ کروں گے۔10 اور قدانی یہ ہے کہ تھوڑے عمل پر بہت ثواب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(64:17) ان تفرضوا اللہ : جملہ شرط ہے ان شرطیہ۔ اگر : تقرضوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اقراض (افعال) مصدر ۔ بمعنی قرض دینا۔ اللہ مفعول فعل تقرضوا کا یہ اصل میں تقرضون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ اگر تم اللہ کو قرض دو ۔
قرضا حسنا : قرضا مفعول مطلق۔ موصوف حسنا صفت، قرضا کی بمعنی اچھا عمدہ۔ خوب۔ ہر لحاظ سے پسندیدہ۔
یضعفہ لکم۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یضعف مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب کا مرجع قرضا ہے۔ وہ اس کو بڑھا دے گا۔ دگنا کر دے گا۔ وہ اس کو بڑھا کر دے گا۔ لکم تم کو، تمہارے لئے
یعنی دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک۔ بلکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
مال اور اولاد آزمائش۔
(ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 81 صفحہ 1330۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔
Read the full tafseer →(17) اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دو گے تو اللہ تعالیٰ اس قرض کو تمہارے لئے بڑھاتا رہے گا یعنی اس کے اجر کو زیادہ کرتا رہے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بڑے تحمل والا ہے۔ قرض حسنہ کو ہم سورة حدید میں بیان کرچکے ہیں قرض حسنہ خلوص اور خوش دلی کے ساتھ دینا اور دینے پر احسان نہ رکھنا۔ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اجر کو دنیا اور آخرت میں بڑھاتا رہے گا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا تم کو بخش دے گا یعنی تمہارے گناہ بخش دے گا اللہ تعالیٰ شکور یعنی قدر دان ہے کہ عمل صالح کو قبول کرتا ہے اور تھوڑی چیز کو بڑھاتا ہے حلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 10۔ غالبا اس کی تخصیص اس لئے ہے کہ یہ نفس پر زیادہ شاق ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کو قرض دو وہ کئی گنا بنا کر واپس تم کو ادا کرے گا ، تمہارے گناہوں کو بھی معاف فرمائے گا
17 ؎ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا ضروریات دین سے ہے جیسا کہ پیچھے سے ذکر ہوتا چلا آیا ہے اور یہ بات بھی بار بار ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال اللہ کے ذمہ قرض خیال کرو جس کا واپس دیا جانا بہت ضروری ہے اور بلا شبہ تم کو اس کا عوض واپس ملے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ جس نے گندم دی اس کو اس سے کئی گنا زیادہ کر کے گندم دے دی جائے گی اور جس نے اللہ کی راہ میں کوئی جانور دیا ہو اس کو جانور ملیں گے۔ نہیں یہ مطلب نہیں ہے بلکہ مفہوم اس کا اجر ملنے سے ہے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (So, observe taqwa [ total obedience to Allah in awe of Him ] as far as you can…64:16). When the verse اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ (…Observe taqwa as is His due…3:102] was revealed, the blessed Companions felt it very difficult, because it was impossible for anyone to observe taqwa of Allah ‘as is due to Him’. On that occasion, the present verse was revealed which clarified that no imposition is made on man more than he can bear. Taqwa too must be observed as far as it is possible for man to observe. If a person tries to obey Allah’ s due. [ Ruh –…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
33 For explanation, see E.N. 267 of Al-Baqarah, E.N. 33 of Al Ma'idah, E,N. 16 of Al-Hadid.
34 For explanation, see E.N.'s 52, 59 of Fatir; E.N.42 of Ash-Shura.
Read the full tafseer →