Explained with ayahs 14–18
اللہ کی یاد اور دولت
ارشاد ہوتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے، جس سے پہلے تنبیہ ہوچکی ہے کہ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کردیں اگر ایسا ہوگیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو، بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کرچکے…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 31
قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے اِتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ ، " اللہ سے ایسا ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے " (آل اعمران 102)۔ دوسری جگہ فرمایا لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْساً اِلَّا وُسْعَھَا، " اللہ کسی متنفس کو اس کی استطاعت سے زیادہ کا مکلف قرار نہیں دیتا " (البقرہ۔ 286)۔ اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ " جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو "۔ ان تینوں آیتوں کو ملا کر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت وہ معیار ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے جس تک پہنچنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری آیت یہ اصولی بات ہمیں بتاتی ہے کہ کسی شخص سے بھی اس کی استطاعت سے زیادہ کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ”یعنی تقویٰ اختیار کرو مقدور بھر“ جب آیت اتقواللہ حق تقاتہ نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ ”اللہ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ کا حق ہے“ تو صحابہ کرام پر بہت بھاری اور شاق ہوا کہ اللہ کے حق کے مطابق تقویٰ کس کے بس میں ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت اور مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دی، تقویٰ بھی اپنی طاقت کے مطابق واجب ہے، مقصد یہ ہے کہ حصول تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کرلے تو اس سے اللہ کا حق ادا ہوجائے گا (روح ملخصاً)
تمت سورة التغابن وللہ احمد
Read the full tafseer →فاتقوا اللہ ما استطعتم واسمعموا واطیعوا وانفقوا خیر الا نفسکم ومن یوق شح نفسہ فاولیک ھو المفلحون) (16)۔
(فلاح کی راہ)۔ یہ اس سلسلہ کی آخرت نصیحت ہے کہ اللہ سے برابر ڈرتے رہو کہ شیطان تمہیں کسی فتنہ میں نہ ڈالنے پائے۔ یہ ڈرنا تاحد امکان ہو۔ تمہارے امکان میں جس حد تک ہے اگر اس حد تک تم اللہ سے ڈرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ شیطان کو تم پر قابو پانے نہیں دے گا ورنہ مال و اولاد کے کسی فتنہ میں پڑ کر تم اللہ کی راہ سے اتنے دور ہو جائو گے کہ تمہارے لیے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔
(واسمعوا واطیعو وانفقوا خیر لا نفسکم) یہ وہی اوپر والی بات مثبت انداز میں فرمائی کہ اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →16۔ 1 یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لئے کہ صرف سن لینا بےفائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔
Read the full tafseer →5: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ واضح فرمادیا ہے کہ انسان کو جو تقوی کا حکم دیا گیا ہے، وہ اس کی استطاعت کے مطابق ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا گیا، یہی مضمون سورة بقرہ : 223، 286 سورة انعام : 152، سورة اعراف : 42 سورة مومنون : 63 میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →اب اہل ایمان کو ان کی طاقت اور استطاعت کے مطابق ، اللہ سے ڈرنے اور سمع و اطاعت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
فاتقوا .................... واطیعوا (46 : 61) ” لہٰذاجہاں تک تمہارے بس میں ہو ، اللہ سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو “۔ یہ شرط کہ ” جہاں تک تمہارے بس میں ہو “۔ یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر بہت بڑا رحم وکرم ہے۔ اللہ کو علم ہے کہ بندے کے اندر کتنی طاقت ہے۔ کس قدر تقویٰ اور اطاعت وہ کرسکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس کی تعمیل اس حد تک کرو جس حد تک تمہارے بس میں ہو۔ لیکن میں جس بات سے منع کردوں تو پوری طرح رک جاﺅ“۔ اطاعت امر کی تو حدود نہیں اس لئے…
Read the full tafseer →4 یعنی اللہ سے ڈر کر جہاں تک ہو سکے اس جانچ میں ثابت قدم رہو اور اس کی بات سنو اور مانو۔
5 یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تمہارا ہی بھلا ہوگا۔
6 یعنی مراد کو وہ ہی شخص پہنچتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے دل کے لالچ سے بچا دے۔ اور حرص و بخل سے محفوظ رکھے۔
Read the full tafseer →اس سورة مبارکہ کی آخری تین آیات ایمان کے عملی تقاضوں کو بالفعل ادا کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔
آیت 16{ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا } ”پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی حد ِامکان تک ‘ اور سنو اور اطاعت کرو“
گویا ایمان باللہ کا عملی تقاضا یہ ہے کہ انسان میں اللہ کا تقویٰ پیدا ہوجائے ‘ اور تقویٰ بھی تھوڑا بہت نہیں ‘ بلکہ امکانی حد تک ‘ جتنا اس کے حد ِاستطاعت میں ہے۔۔۔۔ - البتہ کسی انسان میں کتنی استطاعت و استعداد اور وسعت و طاقت ہے جس کے مطابق وہ مکلف اور جواب دہ ہے ‘ اس کا صحیح شعور و ادراک بسا اوقات اسے خود نہیں ہوتا اور وہ اپنے آپ کو دین کے عملی تقاضوں کے ضمن…
Read the full tafseer →24 مؤاخذہ صرف اس حد تک ہوگا جہاں تک انسان کا اختیار ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ انسان گناہوں سے اجتناب اور اوامر کی تکمیل میں اسی حد تک مکلف ہے جس قدر اس کی استطاعت ہے اسی مضمون کو سورة بقرہ میں یوں بیان فرمایا۔ (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا 286 ) 2 ۔ البقرة :286) یعنی جس مقام پر انسان مجبور ہوجائے وہاں اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ مواخذہ صرف اس صورت میں ہے کہ جہاں انسان استطاعت رکھنے کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔ رہی یہ بات کہ انسان اپنے متعلق کوئی غلط اندازہ قائم کرلے۔ مثلاً وہ یہ فرض کرلے کہ فلاں کلام میری استطاعت سے باہر ہے۔ حالانکہ وہ اسکی استطاعت میں ہو۔ تو ایسی بات پر…
Read the full tafseer →16۔ اور اپنے حق میں بھلائی یہی کہ تعمیل احکام الہی میں خرچ کرتے رہو۔ (آیت) ” فاتقوا اللہ ماستطعتم “۔ تقوی الہی کے حکم کے ساتھ اسی (آیت) ” ماستطعتم “ کی قید نے تعمیل حکم ہم ضعیف وناتواں بندوں کے لیے بہت آسان کردی، ورنہ ظاہر ہے کہ جو حق تقوی الہی کا ہے، وہ کون ادا کرسکتا ہے۔ صوفیہ محققین نے (آیت) ” ماستطعتم “۔ سے یہ استنباط کیا ہے کہ سلوک واصلاح نفس میں تدریجی اقدام کافی ہے۔ (آیت) ” واسمعوا واطیعوا “۔ یعنی احکام الہی سنتے رہو، اور ان کی اطاعت کرتے رہو۔
17۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) لفظ فلاح بہت ہی وسیع وجامع ہے، عاجل وآجل، مادی وروحانی، انفرادی واجتماعی ہر قسم کی بھلائیاں اس کے اندر آگئیں، ملاحظہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
شان نزول
یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی)
اور…
Read the full tafseer →فاتقو اللہ ما استطعتم واسمعوا واطیعوا او انفقوا خیر الا نفسکم ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون .
” تو جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور (اس کے احکام کو) سنو اور مانو اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور جو لوگ نفسانی حرص سے محفوظ رہے وہی (آخرت میں) فلاح یاب ہوں گے۔ “
فَاتَّقُوا : میں فَ سببیہ ہے کیونکہ ایمان سبب تقویٰ ہے یعنی اپنی پوری کوشش اور طاقت تقویٰ رکھنے کے لیے صرف کر دو ۔
وَاسْمَعُوْا : اور اس کی نصیحتوں کو سنو۔
وَاَطِیْعُوا : اور اس کے احکام پر چلو۔
وَاَنْفِقُوْا : اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کرو۔
خَیْرًا لَّکُمْ : یعنی وہ نیک…
Read the full tafseer →تو جہاں تک ہوسکے اللہ تعالیٰ کی اعت کرو اور اس کے احکام کو سنو اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول جو تمہیں حکم دے اس کو مانو اور اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خیرات کرو یہ خیرات کرنا تمہارے لیے مال کے روکنے سے بہتر ہوگا۔
اور جو شخص نفسانی حرص سے محفوظ رہا یا یہ کہ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو ایسے ہی لوگ غصہ اور ناراضگی سے بچنے والے ہیں۔
شان نزول : فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (الخ)
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت اتَّقُوا اللّٰهَ حق تقاتہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر عمل کرنا شاق ہوگیا، چناچہ وہ نفلوں میں اس قدر کھڑے ہوتے کہ ان کے قدموں پر سوج آجاتی…
Read the full tafseer →1۔ فَاتَّقُوا اللہ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔۔۔۔۔۔: مال و اولاد کے فتنے سے بچنے کے لیے چند چیزوں کی تاکید فرمائی ، جن میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حسب استطاعت تقویٰ ہے ، پھر سمع و طاعت اور آخر میں فتنہ بننے والے اس مال کو خرچ کرنا ہے اور اس میں بخل سے گریز کرنا ہے۔
2۔ مَا اسْتَطَعْتُمْ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے لیے اللہ کے احکام پر اتنا عمل ہی فرض ہے جتنی اس میں طاقت ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لَا یُکَلِّفُ اللہ ُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) (البقرہ : 286)”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق“۔ جہاں آدمی بےبس ہوجائے وہاں مؤاخذہ نہیں۔ (دیکھئے بقرہ : 173۔ انعام : 19 ، نحل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اہل تاویل کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت اس آیت اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے لئے ناسخ ہے۔ ان میں قتادہ، ربیع بن انس، سدی اور ابن زید ہیں۔ طبری نے ذکر کیا ہے : مجھے یونس بن عبدالاعلی نے اور انہیں ابن دہب نے انہیں ابن زید نے خبر دی کہ یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے ارشاد سے شدید امر آیا صحابہ نے کہا : اس کی قدر کون پہچان سکتا ہے یا کوئی اس تک پہنچ سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پہچان لیا کہ یہ امر ان پر شدید ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر منسوخ کردیا اور اس آیت کے بدلے دوسری آیت لایا، وہ یہ آیت ہے فاتقوا اللہ ما…
Read the full tafseer →11۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت اتقوا اللہ حق تقٰتہ (آل عمران آیت 102) اللہ سے ڈرو جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا تو صحابہ کرام ؓ پر یہ عمل کرنا سخت ہوگیا۔ وہ عبادت کرنے کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کی ٹانگیں سوج گئیں اور ان کی پیشانیوں پر پھوڑے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر تخفیف کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم اللہ سے ڈرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو تو اس آیت نے پہلی والی آیت کے حکم کو منسوخ کردیا۔
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاتقوا اللہ ماستطعتم سے مراد ہے کہ اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے…
Read the full tafseer →[فَاتَّقُوا اللّٰهَ : پس تم لوگ تقوٰی اختیار کرو اللہ کا ] [مَا : اتنا جو ] [اسْتَطَعْتم : تم صلاحیت رکھتے ہو ] [وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَانفِقُوْا : اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ] [خَيْرًا لِانفُسِكُمْ : بھلائی ہوتے ہوئے تمہاری اپنی جانوں کے لیے ] [وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس کو بچا لیا گیا ] [شُحَّ نَفْسِهٖ : اس کے جی کے لالچ سے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : تو وہ لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →تقویٰ اور انفاق فی سبیل اللہ کا حکم :
چھٹی نصیحت یہ ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ (اللہ سے ڈرو جہاں تک تم سے ہو سکے) ﴿ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِيْعُوْا﴾ (اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات سنو اور فرما نبرداری کرو) ﴿ وَ اَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ﴾ (اور اپنی جانوں کے لئے اچھا مال خرچ کرو) ۔ یہ نصیحت کئی نصیحتوں پر شامل ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے جو احکام بھیجے ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کی جائے جہاں تک ہوسکتا ہو ہر عمل کو پورا کریں۔ فرائض واجبات پورے کریں اور گناہوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم ایسا نہیں دیا جو عمل کرنے والوں کے بس سے باہر ہو، ہاں بعض اعمال نفس پر شاق گزرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14:۔ ” انما انموالکم “ یہ مال و اولاد تو آزمائش کے لیے ہے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون ان کی محبت کو مال و اولاد کی محبت پر ترجیح دے گا اللہ کے یہاں اس کیلئے بڑا اجر وثواب ہے۔ ” فاتقوا اللہ ما استطعتم “ لہذا جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام بغور سنو اور ان کو بجا لاؤ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہت بتر ہے۔ ” خیرا “ یا فعل ناقص مقدر کی خبر ہے یا فعل امر مقدر کا مفعول یا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای یکن خیرا۔ او قصدوا خیرا۔ او انفقوا انفاقا خیرا (روح، بیضاوی) ۔ ” ومن یوق شح نفسہ “ اور جو لوگ اللہ کی توفیق سے بخل اور کنجوسی کی بیماری سے بچا لیے گئے اور جنہیں اللہ کی راہ میں مال خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ نے توحید اور ایمان کی بات بیان فرمائی۔ پھر نبوت و رسالت کے معترضین کو جواب دیا اور جزائے عمل کا ذکر کیا۔ فرمایا قیامت یوم التغابن یعنی ہار جیت کے دن واقع ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ نور پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے تکلیف آنے کا فلسفہ بیان فرمایا کہ یہ منجانب اللہ آتی ہے لہٰذا اس میں جزع فزع نہیں کرنا چاہیے آگے فرمایا کہ بہت سے لوگوں کے حق میں ان کے بیوی بچے ان کے دشمن بن جاتے ہیں لہٰذا ان سے محتاط رہنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے مال اور اولاد کے متعلق فرمایا کہ یہ آزمائش کا ذریعہ ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ 0 ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 16
تَّقْوَى
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […
Read the full tafseer →ترکیب : خیرا منصوب مضمر دل علیہ اتقوا کانہ قال ائتوافی الانفاق خیر لانفسکم وقد موا خبر الھا ھذا قول سیبویہ۔ وعند الکسائی والفراء ھو نعت الصدر محذوف ای انفاقا خیرا و قال ابو عبیدہ ھو خبر یکن مقدرۃ فی جواب الامر وقال الکوفیون منصوب علی الحال وقیل ھو مفعول بہ لا نفقوا ومن شرط فاولئک الجملہ جو ابہ ان تقرضوا شرط یضاعفہ جو ابہ ولذاصار مجزوما ویغفر معطوف علیہ عالم الغیب الرفع علی انہ خبر بعد خبر۔ العزیز موصوف الحکیم صفتہ وکلاھما خبر مبتد واحد ھما مبتداء والاخر خبر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا تمہارے مال و اولاد فتنہ ہیں اور اجر عظم اللہ کے پاس ہے اور انسان پھر انسان ہے اس فتنہ میں پڑ ہی جاتا ہے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّـاَنْفُسِکُمْ ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (التغابن : 16)
(پس اللہ سے ڈرتے رہو جتنی تمہاری استطاعت ہے، اور سنو اور مانو، اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جنھیں نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ )
مال و اولاد کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا طریقہ
مال اور اولاد کی آزمائش میں سرخرو ہونے کے لیے طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اس پر عمل کرو تو اللہ تعالیٰ اس آزمائش میں کامیابی سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیوی، اولاد اور مال کی آزمائش سے سو فیصد بچنا آسان کام نہیں اس لیے ارشاد ہوا کہ اپنی طاقت کے مطابق اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے حکم کی پیروی کرو۔
” اللہ “ کے بیشمار احسانات میں سے یہ بھی اس کا عظیم ترین احسان ہے کہ اس نے اپنے بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ اس کا ارشاد ہے کہ لوگو ! اللہ نے جو تمہیں صلاحیت اور استعداد عطا فرمائی ہے۔ اس کے مطابق اس کا حکم مانو اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو اور اس کی راہ میں مال خرچ کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے جو لوگ بخل سے بچا لیے گئے وہی کامیاب ہوں گے۔
(عَنْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ؓ یَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُول…
Read the full tafseer →حق تعالیٰ کی تفسیر :
16 : فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ (تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو) تمہاری ہمت اور وسعت کے مطابق۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حق تقاتہٖ کی تفسیر ہے۔ وَاسْمَعُوْا (اور سنو) جو تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ وَاَطِیْعُوْا (اور مانو) جس کا تمہیں حکم دیا جائے۔ اور جس سے منع کیا جائے۔ وَاَنْفِقُوْا (اور تم خرچ کرو) ان مقامات پر جہاں خرچ کرنا تم پر لازم ہوا۔ خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ (یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا)
زیادہ صحیح قول یہ ہے :
اس کی تقدیرکلام اس طرح ہے۔ ائتواخیرًا لا نفسکم وافعلوا ما ھو خیر لھا تم اپنے نفوس کو بھلائی پہنچائو اور وہ کروجو تمہارے نفوس کیلئے بہت بہتر ہو۔…
Read the full tafseer →15 ۔” انما اموالکم واولادکم فتنۃ “ آزمائش و امتحان اور آخرت سے روکنا ہے کہ اس کے سبب انسان بڑے گناہوں اور حق کو روکنے اور حرام کھانے میں واقع ہوجاتا ہے۔ ” واللہ عندہ اجر عظیم “ ان میں سے بعض نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ذکر کیا تو اس میں ” من تبعیض “ کا داخل کردیا۔ پھر فرمایا ” ان من ازواجکم واولادکم عدوالکم “ اس لئے کہ سارے گھر والے اور اولاد دشمن نہیں ہیں اور اپنے قول ” انما اموالکم واولاد کم فتنۃ “ میں من کو ذکر نہیں کیا۔ اس لئے کہ یہ فتنہ اور دل کے مشغول ہونے سے خالی نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ” اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ “ کیونکہ تم میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ تقوے کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اضتناب کرنے کا نام ہے اور اللہ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو اس سے ساقط ہوجاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ انہی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن امور پر عمل کرنے سے عاجز ہے وہ اس سے ساقط ہوجائیں گے جیسا کہ نبی نے فرمایا۔ ترجمہ۔ جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو اس شرعی قاعدے میں اتنی زیادہ فروع داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
30 ۔ مال و اولاد سامان ابتلاء و آزمائش، والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاددیں تو محض آزمائش کا سامان ہیں کہ کون ان کی محبت میں گرفتار ہو کر آخرت اور اپنے انجام کو بھلوتا ہے اور کون ان کے تقاضوں کے باوجود راہ حق و صواب پر ثابت قدم رہتا ہے۔ " فثبت اللھم اقدامنا علی صراطک المستقیم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین "۔ سو اگر تم لوگوں نے ان کی محبت کو اللہ اور اس کے دین کی محبت پر غالب اور مقدم رکھا والعیاذ باللہ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اس ابتلاء و آزمائش میں ناکام ہوگئے، اور اس کے برعکس اگر تم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
مومن کے لیے آخرت کا زادراہ
تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔
انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اطاعت رسول ﷺ ۔
لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 9 یعنی اپنی حلال کی کمائی میں سے خوشدلی کے ساتھ اس کی راہ میں خرچ کروں گے۔10 اور قدانی یہ ہے کہ تھوڑے عمل پر بہت ثواب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(64:16) فاتقوا اللہ میںسببیہ ہے۔ یعنی اوپر جو آیات 14-15 میں ازواج و اولاد و دنیاوی معاملات بیان ہوئے ہیں ان سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔
ما استطعتم : ما موصولہ استطعتم : اس کا صلہ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استطاعۃ (افتعال) مصدر تم سے ہوسکے۔۔ تم کرسکو۔ ما استطعتم جو تم سے ہو سکے ، جو تم کرسکو۔ جہاں تک تم سے ہوسکے۔ جہاں تک تم کرسکو۔
ترجمہ ہوگا :۔ پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ ڈرتے رہو۔
واسمعوا۔ واؤ عاطفہ اسمعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ سمع باب سمع مصدر اور (اس کا حکم) سنو۔
واطیعوا۔ واؤ عاطفہ اطیعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
مال اور اولاد آزمائش۔
(ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
[6] آدمی اکثر بیوی بچوں کی محبت اور فکر میں پھنس کر اللہ اور اس کے احکام کو بھلا دیتا ہے اور ان تعلقات کے پیچھے کئی برائیوں کا ارتکاب کرتا اور کتنی بھلائیوں سے محروم رہتا ہے۔ بیوی اور اولاد یہ چاہتی ہے کہ وہ ان کے لئے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ کر ہر طریقے سے انہیں عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل و عیال جو آدمی کے دین کی بربادی اور آخرت میں اس کے خسارے کا سبب بنیں وہ حقیقتاً اس کے دوست نہیں کہلا سکتے بلکہ بدترین دشمن ہیں جن کی دشمنی کا احساس بھی بسا اوقات انسان کو نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دشمنوں سے ہوشیار رہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے سے بچو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔
Read the full tafseer →(16) پس جس قدر تم ڈر سکتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم سنو اور اس کی فرمانبرداری کرو اور خیرات کرتے رہو یہ خیرات کرتے رہنا تمہارے لئے بہتر ہے اور جو کوئی اپنے نفسانی بخل وحرص سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ فلاں پانے والے ہیں اور مراد کو پہنچنے والے۔
سورہ آل عمران میں فرمایا اتقواللہ حق تقتہ یعنی اللہ تعالیٰ سے اتنا درو جو ڈرنے کا حق ہے لوگوں پر یہ بات شاق ہوئی کہ ڈرنے کا حق کون ادا کرسکتا ہے۔
یہاں ارشاد ہوا جس قدر ڈر سکتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی استطاعت سے باہر اگر کوئی چیز ہو تو اس کا مطالبہ نہیں ہے یا وہ درجہ تجا مقربین کا اور یہ حکم ہے ابرار کا اور اس کے نصائح اور مواعظ سنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 10۔ غالبا اس کی تخصیص اس لئے ہے کہ یہ نفس پر زیادہ شاق ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تمہاری استطاعت ہے سنو اور مانو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے
16 ؎ اللہ سے ڈرو اور اتنا ڈرو جتنی تمہاری استطاعت ہے اس لیے کہ سارے انسانوں میں ایک جیسی استطاعت نہیں ہوتی اس لیے سب کو نہ تو برابر ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ سب برابر ڈر سکتے ہیں ۔ اس زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا حالانکہ سورة آل عمران کی آیت 125 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اللہ سے ڈرنے کا حق ہے “ اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور جن لوگوں نے ان دونوں باتوں میں فرق سمجھا ہے اور پھر اس فرق کو اپنی طرف سے نکالنے کی کوشش کی ہے ہمارے خیال میں ان کی تفہیم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (So, observe taqwa [ total obedience to Allah in awe of Him ] as far as you can…64:16). When the verse اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ (…Observe taqwa as is His due…3:102] was revealed, the blessed Companions felt it very difficult, because it was impossible for anyone to observe taqwa of Allah ‘as is due to Him’. On that occasion, the present verse was revealed which clarified that no imposition is made on man more than he can bear. Taqwa too must be observed as far as it is possible for man to observe. If a person tries to obey Allah’ s due. [ Ruh –…
Read the full tafseer →31 At another place in the Qur'an it has been said: "Fear Allah as He should actually be feared." (Al-'Imran: 102) . At still another place: °Allah dces not burden any one with a responsibility heavier than he can bear." (AI-Baqarah: 286) And here: "Fear Allah as far as you can." When these three verses are read together it appears that the first verse sets an ideal which every believer should try to attain. The second verse lays down the principle that no one has been required to exert himself. beyond his power and ability, for in Allah's Religion one has been made responsible only for what…
Read the full tafseer →