At-Taghaabun 64:15

At-Taghaabun · from ayah 15

64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ؕ— وَاللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ۟اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ ‌ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Your wealth and your children are but a trial, and Allah has with Him a great reward.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:15

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہارے مال اور اوﻻد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہی ہیں، اور اللہ کی بارگاہ میں بہت بڑا اجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں اور جو اللہ ہے اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے ہاں بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے نہیں کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تو محض آزمائش کا سامان ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا عظیم الشان اجر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو بس آزمائش ہی (کی چیزیں) ہیں اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔ اور اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Your possessions and your offspring are nothing but a trial for you. And there awaits a great reward for you with Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your riches and your children are but a trial. As for Allah, with Him is a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani

Your riches and your children are but a trial. As for Allah, with Him is a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Your wealth and your children are only a Fitnah, whereas Allah! With Him is a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Your wealth and your children are only a temptation, whereas Allah! with Him is an immense reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Your wealth and your children are but a trial, and Allah has with Him a great reward.

— Saheeh International

Your property and children are a trial for you, but the reward (which one may receive from God) is great.

— Muhammad Sarwar

Your possessions and your children are only a trial, and Allah it is with Whom is a great reward.

— Muhammad Habib Shakir

Your riches and your children are but a temptation; and Allah! with Him is a mighty hire.

— Abdul Majid Daryabadi

Your riches and your children may be but a trial: but in the Presence of Allah, is the highest, Reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

اللہ کی یاد اور دولت ارشاد ہوتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے، جس سے پہلے تنبیہ ہوچکی ہے کہ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کردیں اگر ایسا ہوگیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو، بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کرچکے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّغَابُن 30 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الانفال، حاشیہ 23۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جسے طبرانی نے حضرت ابو مالک اشعری سے روایت کیا ہے کہ " تیرا اصل دشمن وہ نہیں ہے جسے اگر تو قتل کر دے تو تیرے لیے کامیابی ہے اور وہ تجھے قتل کر دے تو تیرے لیے جنت ہے، بلکہ تیرا اصل دشمن، ہوسکتا ہے کہ تیرا اپنا وہ بچہ ہو جو تیری ہی صلب سے پیدا ہوا ہے، پھر تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا وہ مال ہے جس کا تو مالک ہے "۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اور سورة انفال میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر تم مال اور اولاد کے فتنے سے اپنے آپ کو بچا لے جاؤ اور ان کی محبت پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ، فتنہ کے معنی ابتلاء اور امتحان کے ہیں، مراد آیت کی یہ ہے کہ مال واولاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انسان کی آزمائش کرتا ہے کہ ان کی محبت میں مبتلا ہو کر احکام و فرائض سے غفلت کرتا ہے یا محبت کو اپنی حد میں رکھ کر اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوتا۔ مال و اولاد انسان کے لئے بڑا فتنہ ہیں اکثر گناہوں میں خصوصاً حرام کمائی میں انہیں کی محبت کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز بعض اشخاص کو لایا جائے گا اس کو دیکھ کر لوگ کہیں گے۔ اکل عیالہ حسناتہ ”یعنی اس کی نیکیوں کو اس کے عیال نے کھالیا“ (روح) ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اولاد کے بارے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(انما اموالکم واولاد کم فتنۃ واللہ عندہ اجر عظیم) (15) یہ اس مضمون کی مزید وضاحت ہے۔ فتنۃ کے معنی امتحان و آزمائش کے ہیں۔ فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش کے لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعہ سے تمہارا امتحان کیا ہے کہ تم ان کی محبت میں پھنس کر خدا اور اس کے حقوق کو بھول جاتے ہو یا ان کو خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بناتے ہو۔ اگر پہلی راہ اختیار کرو گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے امتحان میں تم ناکام رہے۔ اللہ کی محبت پر تم نے مال و اولاد کی محبت کو ترجیح دی حالانکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہر چیز سے زیادہ اللہ کو محبوب رکھے۔ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں پس اس آزمائش میں تم اسی وقت سرخرو ہوسکتے ہو جب تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ مال واولاد جہاں اللہ کی نعمت ہیں وہاں انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں اس طرح اللہ دیکھتا ہے کہ کون میرا فرمانبردار ہے اور کون نافرمان۔ 15۔ 2 یعنی اس شخص کے لئے جو مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: آزمائش یہ ہے کہ انسان مال و دولت اور اولاد کی محبت میں منہمک ہو کر اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل تو نہیں ہوتا، اور جو شخص ایسی غفلت سے اپنے آپ کو بچالے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر وثواب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انما ........................ فتنة (46 : 51) ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں “۔ تنبیہ یہ ہے کہ بعض اوقات مال اور اولاد دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ بات انسانی زندگی کی ایک نہایت ہی بڑی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ زندگی کے اندر بعض اوقات روابط اور تعلقات اس قدر متنوع اور مختلف سمتوں سے دامن کش ہوتے ہیں کہ انسان آزمائش میں پڑجاتا ہے۔ ازواج اور اولاد کبھی انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کردیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ایمان کے مشکل ترین تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مثلاً فریضہ جہاد فی سبیل اللہ میں دنیاوی نقصانات اٹھانے پڑتے ہی۔ بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ انسان اور اس کی اولاد اور اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر تم کو جانچتا ہے کہ کون ان فانی اور زائل چیزوں میں پھنس کر آخرت کی باقی و دائم نعمتوں کو فراموش کرتا ہے اور کس نے ان سامانوں کو اپنی آخرت کا ذخیرہ بنایا ہے اور وہاں کے اجر عظیم کو یہاں کے حظوظ و مالوفات پر ترجیح دی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ اِنَّمَآ اَمْوَالُــکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌط } ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔“ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مال و دولت دنیا ‘ یہ رشتہ و پیوند تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں : { زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَـرَۃِ مِـنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِط } آل عمران : 14 ”مزین کردی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی“۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 مال اور اولاد ہر انسان کی آزمائش ہے :۔ یہاں آزمائش کے لئے فتنۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنۃ میں عام طور پر ایسی چیزوں سے آزمائش ہوتی ہے جن سے انسان محبت کرتا ہے اور ان سے اس کا دلی لگاؤ ہوتا ہے اور یہ آزمائش اس طرح آہستہ آہستہ ہوتی ہے کہ دوسرے تو کیا بسا اوقات خودمفتون کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کسی آزمائش میں پڑچکا ہے۔ یہاں بتایا یہ گیا ہے کہ بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ لیکن مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جو ساری کی ساری اور سب انسانوں کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں۔ اور ان چیزوں سے اللہ آزمائش اس طرح کرتا ہے کہ کون ان فانی اور زائل ہونے والی چیزوں میں پھنس کر آخرت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ (اور یہ اجر عظیم ان لوگوں کا حصہ ہے جو ان طبعی نعمتوں کا استعمال صحیح طور پر کرتے ہیں۔ ) (آیت) ” انما .... فتنۃ “۔ یہاں یہ بتادیا کہ مال واولاد کا اگر صحیح استعمال کیا جائے، تو یہ عین عبادت ہے۔ اگر غلط اور بیجا قسم کا کام لیا گیا، تو یہی تمہارے حق میں مصیبت بھی بن جائیں گے، (آیت) ” اموالکم واولادکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد اگر افراد امت کے بجائے امت بحیثیت مجموعی سمجھی جائے، تو آج کل کے ماہرین فن ومبصرین کا یہ بیان پیش نظر رہے کہ فتنہ جنگ کے سب سے بڑے اسباب یہی دو ہیں۔ افراط زر۔ ، وافراط آبادی !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–18

شان نزول یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی) اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما اموالکم و اولادکم فتنۃ واللہ عندہ اجر عظیم . ” تمہارے مال اور اولاد بس تمہاری ایک آزمائش کی چیز ہے (جو شخص ان میں پھنسنے کے باوجود اللہ کو یاد رکھے گا) اس کے لیے ‘ اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ “ اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ.... یعنی تمہارا مال اور اولاد اللہ کی طرف سے تمہارا امتحان اور جانچ ہے ‘ جو شخص باوجود موانع اور عوائق کے اور بندوں کے حقوق ادا کرے گا ‘ اللہ اس کو برابر کا درجہ عطا فرمائے گا اور اس متقی سے اس کا مرتبہ بہت زیادہ ہوگا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہے لیکن اس کے لیے اداء حقوق سے روکنے والا نہ کوئی رشتہ اور تعلق ہو نہ کوئی اور مانع ہو ‘ اسی بناء پر اہل سنت کا خیال ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ تمہارے اموال و اولاد جو کہ مکہ مکرمہ میں ہیں تمہارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے جبکہ ہجرت اور جہاد سے تمہیں روکیں اور جو شخص ان چیزوں کے باوجود ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کرے تو اس کے لیے بڑا اجر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔۔۔۔۔: اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (14) ، انفال (28) ، کہف (46) اور سورة ٔ منافقون (9)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انما اموالک و اولادکم فتنۃ فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان ہے جو تمہیں حرام چیز کے کمانے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر برانگیختہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی معصیت کرتے ہوئے ان کی اطاعت نہ کرو۔ حدیث میں ہے یوتی برجل یوم القیامۃ فیقال اکل عیالہ حسناتہ (1) قیامت کے روز ایک آدمی لایا جائے گا اسے کہا جائے گا : اس کے عیال اس کی نیکیاں کھا گئے ہیں۔ بعض سلف صالحین سے مروی ہے : عیال طاعات کے لئے گھن ہے۔ قتیبی نے کہا : فتنہ کا معنی ہے دلدادہ ہونا یہ جملہ بولا جاتا ہے : فتن الرجل بالمرأۃ مرد عورت کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتنہ کا معنی امتحان ہے اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : لقد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما اموالکم واولادکم فتنۃ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے۔ یعنی آزمائش۔ آیت واللہ عندہ اجر عظیم۔ اور اللہ کے پاس بڑا اجر بھی ہے۔ یعنی جنت۔ 2۔ ابن المنذر نے والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا تم میں سے ہرگز کوئی یوں نہ کہے اے اللہ ! میں آپ سے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے مگر وہ فتنہ پر مشتمل ہے (یعنی وہ کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت انما اموالکم واولادکم فتنۃ) لیکن جو شخص پناہ مانگے تو اس کو چاہیے وہ فتنہ کی گمراہیوں سے پناہ مانگے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ : تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ] [فِتْنَةٌ: ایک آزمائش ہیں ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ (ہے کہ)] [عِنْدَهٗٓ: اس ہی کے پاس ] [اَجْرٌ عَظِيْمٌ: شاندار اجر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اموال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں : پانچویں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ1ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ0015﴾ (بات یہی ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے) ۔ اس میں یہ تنبیہ فرمائی کہ تمہارے اموال تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔ یعنی آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ مال کمانے اور مال خرچ کرنے میں اور اولاد کی پرورش کرنے میں اور ان کے ساتھ رہنے سہنے میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوجائے اور مال کی تحصیل اور اولاد کی محبت اور دیکھ بھال کو ہی زندگی کا مشغلہ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

14:۔ ” انما انموالکم “ یہ مال و اولاد تو آزمائش کے لیے ہے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون ان کی محبت کو مال و اولاد کی محبت پر ترجیح دے گا اللہ کے یہاں اس کیلئے بڑا اجر وثواب ہے۔ ” فاتقوا اللہ ما استطعتم “ لہذا جہاں تک ہوسکے اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام بغور سنو اور ان کو بجا لاؤ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہت بتر ہے۔ ” خیرا “ یا فعل ناقص مقدر کی خبر ہے یا فعل امر مقدر کا مفعول یا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای یکن خیرا۔ او قصدوا خیرا۔ او انفقوا انفاقا خیرا (روح، بیضاوی) ۔ ” ومن یوق شح نفسہ “ اور جو لوگ اللہ کی توفیق سے بخل اور کنجوسی کی بیماری سے بچا لیے گئے اور جنہیں اللہ کی راہ میں مال خرچ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

مصیبت باذن اللہ : گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَۃٌ۝ 0 ۭ وَاللہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۝ 15 ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ مصائب برداشت کا ذکر تھا بیوی اور اولاد کا دشمن اور بد خواہ ہوجانا بھی مرد کے لیے بڑی مصیبت ہے اس لیے اس کے بعد اس کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ رخت و گزشت کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی بتادیا کہ یہ فتنہ اور اجر عظیم اللہ اللہ کے پاس ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلاَ دُکُمْ فِتْنَۃٌ ط وَاللّٰہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌعَظِیْمٌ۔ (التغابن : 15) (بےشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اجرِعظیم ہے۔ ) گزشتہ مضمون کی وضاحت یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت ہے۔ انسان دنیا میں جن چیزوں سے انتہائی محبت کرتا ہے ان میں خوبصورت بیوی کے علاوہ مال اور اولاد بھی ہے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش بنایا ہے۔ وہ یہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ ایک مومن مال اور اولاد کی محبت میں پھنس کر کیا خدا اور رسول کو بھول تو نہیں جاتا اور ان کے احکام کیا ان کی فرمائشوں اور خواہشوں کے نیچے دب تو نہیں جاتے۔ مومنوں کی پہچان یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : اس فرمان سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہوا اور پھر فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اللہ کی عبادت اور اس پر بھروسہ کرنے کے معاملے میں جو چیز آدمی کے راستے میں سب سے پہلے رکاوٹ بنتی ہے وہ بیوی، اولاد اور مال کی محبت ہے بسا اوقات یہ محبت اپنے آپ کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ثابت ہوتی ہے ایسی محبت سے احتیاط برتنے کا حکم ہے۔ جس کے لیے ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور اولاد بھی تمہارے دشمن ہوتے ہیں اور تمہارے مال تمہارے لیے آزمائش ہیں جن سے تمہیں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ (تمہارے اموال اور اولاد ایک آزمائش کی چیز ہے) آزمائش ومشقت ہے کیونکہ وہ گناہ اور سزا میں مبتلا کرتے ہیں۔ اور ان دونوں چیزوں سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں۔ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ ہی کے ہاں اجر عظیم ہے) آخرت میں اور یہ تمہارے دنیاوی فوائد جو اموال و اولاد کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ ان سے بہت بڑھ کر ہے۔ مِنکا نکتہ : یہاں مِنؔ داخل نہیں کیا۔ من اموال یا من اولاد نہیں فرمایا۔ جیسا کہ العداوت کے سلسلہ میں مِنؔ داخل کیا۔ کیونکہ تمام اموال و اولاد ہی آزمائش کا باعث اور دل کو مشغول کرنے والے ہیں۔ البتہ بعض عداوت سے خالی ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اہل مکہ کے چند مرد تھے اسلام لائے اور مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور اولادوں نے ان کو روکا اور کہا ہم نے تمہارے اسلام پر صبر کرلیا ہے لیکن ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تو انہوں نے گھر والوں کی بات مان کر ہجرت چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاحذروھم “ اگر تم ان کی اطاعت کرو اور ہجرت چھوڑ دو ۔ ” وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اللہ غفور رحیم “ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے گھر والوں اور اولاد میں مقیم رہے اور ہجرت نہیں کی۔ پھر جب ہجرت کی تو ان لوگوں کو دیکھا جو ہجرت میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–18

14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں دشمن وہ ہوتا ہے جو تمہارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارا وظیفہ (ذمے داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیا یسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعیت ممانعت ہو۔ اللہ نے انکو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضامندی کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور علی قدر محبت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

30 ۔ مال و اولاد سامان ابتلاء و آزمائش، والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاددیں تو محض آزمائش کا سامان ہیں کہ کون ان کی محبت میں گرفتار ہو کر آخرت اور اپنے انجام کو بھلوتا ہے اور کون ان کے تقاضوں کے باوجود راہ حق و صواب پر ثابت قدم رہتا ہے۔ " فثبت اللھم اقدامنا علی صراطک المستقیم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین "۔ سو اگر تم لوگوں نے ان کی محبت کو اللہ اور اس کے دین کی محبت پر غالب اور مقدم رکھا والعیاذ باللہ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اس ابتلاء و آزمائش میں ناکام ہوگئے، اور اس کے برعکس اگر تم نے ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مومن کے لیے آخرت کا زادراہ تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اطاعت رسول ﷺ ۔ لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰمال و دولت دیکر تمہاری آزمائش کرتا ہے کہ کون اللہ و رسول کے احکام کی اطاعت کرتا ہے اور کون دنیا کی محبت میں مشغول ہو کر اعراض کرتا ہے۔ حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن اور حسین لال کرتے پہنے گرنے پڑتے آپہنچے۔ آنحضرت منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ نے منبر سے اتر کر ان کو اپنے دونوں طرف اٹھا لیا اور فرمایا :” اللہ تعالیٰنے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:15) انما : بیشک ، تحقیق۔ سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے ۔ جو کہ حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ اموالکم (مضاف مضاف الیہ) تمہارے مال۔ واولادکم : (مضاف مضاف الیہ) تماری اولادیں۔ اسم ان۔ فتنۃ۔ اس کی خبر۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولادیں (تمہارے لئے) آزمائش ہیں ۔ الفتن کے دراصل معنی سونے کو آگ میں ڈالنے اور گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اس لحاظ سے کسی کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے یوم ھم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ اور آزمائش اور امتحان لینے کے معنی میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

مال اور اولاد آزمائش۔ (ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–16

[6] آدمی اکثر بیوی بچوں کی محبت اور فکر میں پھنس کر اللہ اور اس کے احکام کو بھلا دیتا ہے اور ان تعلقات کے پیچھے کئی برائیوں کا ارتکاب کرتا اور کتنی بھلائیوں سے محروم رہتا ہے۔ بیوی اور اولاد یہ چاہتی ہے کہ وہ ان کے لئے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ کر ہر طریقے سے انہیں عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل و عیال جو آدمی کے دین کی بربادی اور آخرت میں اس کے خسارے کا سبب بنیں وہ حقیقتاً اس کے دوست نہیں کہلا سکتے بلکہ بدترین دشمن ہیں جن کی دشمنی کا احساس بھی بسا اوقات انسان کو نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دشمنوں سے ہوشیار رہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے سے بچو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–18

حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) سو ائے اسکے نہیں کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے ایک آزمائش کی چیز ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ یعنی جس طرح مصیبت میں صبر کا امتحان ہے اسی طرح اموال واولاد میں بھی شکر کا امتحان ہے یوں تو اس عالم میں ہر چیز ایک دوسرے کے لئے آزمائش ہے۔ وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ۔ سورة فرقان میں فرمایا ہے لیکن ہر نعمت حضرت حق تعالیٰ کی جانب سی آزمائش اور موجب امتحان ہے اس نعمت کا شکر کون ادا کرتا ہے اور ہر نعمت میں منہمک ہوکر آخرت کو کون فراموش کرتا ہے مال اور اولاد یہ دونوں چیزیں دنیاوی نعمتوں میں اہم ہیں اس لئے ان کو فتنہ فرمایا اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔ آگے حسب استطاعت تقوی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 9۔ کہ دیکھیں کون ان میں پڑ کر خدا کے احکام کو بھول جاتا ہے اور کون یاد رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مال و اولا کو آزمائش سمجھو اور انکے فرائض پورے کرتے ہوئے اللہ سے اجر کے طلب گار بنو 15 ؎ مال اور اولاد کی محبت انسان کی محبت میں داخل ہے بلکہ اس کو یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہر حیوان کی فطرت میں اولاد کی محبت موجزن ہے اور انسان تو ایک اشرف المخلوقات ہے اور اس میں مال اور اولاد کی محبت کا ہونا لوازمات زندگی میں سے ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ جب مال و اولاد کی محبت میں ایسا وارفتہ ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں غفلت کرنے لگے اور احکام اسلام کی پابندی میں تساہل برتنے لگے۔ اسلام اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ایک پکے اور سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ( اشد حب اللہ) کا ثبوت فراہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Wealth and Children are a Trial إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (Your riches and your children are but a trial…64:14). The word fitnah means ‘test or trial’. The purport of the verse is to say that Allah tests man by means of his wealth and children as to whether he is so much engrossed in the love of wealth and children as to become heedless of Divine laws and injunctions, or he maintains his love for them within limits and remains heedful of his duties and obligations toward Allah. The truth of the matter is that the love of wealth and children is a great trial for man. He…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 For explanation, sec E.N. 23 of Surah AI-Anfal. Here one should also keep in view the Holy Prophet's saying which Tabarani has related on the authority of Hadrat Abu Malik al-Ash'ari, saying: "Your real enemy is not he whom if you kill there is success for you, and if he kills you, there is Paradise for you; but your real enemy may b your own child who is born of your own loins, or the wealth of which you are the owner." That is why here us well as in Al-Anfal: 28, AIIah says: If you save yourselves from the temptation and allurements of worldly possessions and Children and succeed in…

Read the full tafseer →