Explained with ayahs 14–18
اللہ کی یاد اور دولت
ارشاد ہوتا ہے کہ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے، جس سے پہلے تنبیہ ہوچکی ہے کہ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کردیں اگر ایسا ہوگیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو، بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کرچکے…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 29
اس آیت کے دو مفہوم ہیں۔ ایک مفہوم کے لحاظ سے اس کا اطلاق ان بہت سی مشکلات پر ہوتا ہے جو خدا کی راہ پر چلنے میں بکثرت اہل ایمان مردوں کو اپنی بیویوں سے اور عورتوں کو اپنے شوہروں سے اور والدین کو اپنی اولاد سے پیش آتی ہیں۔ دنیا میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرد کو ایسی بیوی اور ایک عورت کو ایسا شوہر ملے جو ایمان اور راست روی میں پوری طرح ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہوں، اور پھر دونوں کو اولاد بھی ایسی میسر ہو جو عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔ ورنہ بالعموم ہوتا یہ ہے کہ شوہر اگر نیک اور ایماندار ہے تو بیوی اور اولاد اسے ایسی ملتی ہے…
Read the full tafseer →(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ ”یعنی اے مسلمانو ! تمہاری بعض بیبیاں اور اولاد تمہارے دشمن ہیں، ان کے شر سے بچتے رہو“۔
ترمذی و حاکم وغیرہ نے بسند صحیح حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ہجرت مدینہ کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل اسلام ہوئے اور ارادہ کیا کہ ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں مگر ان کے اہل و عیال نے ان کو نہ چھوڑا کہ ہجرت کر کے چلے جائیں (روح)
(اور یہ زمانہ وہ تھا کہ مکہ سے ہجرت کرنا ہر مسلمان پر فرض تھا) قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں ایسی بیوی اور اولاد…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولاد کم عدوا لکم فاحذروھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم) (14)۔
(ایک بہت بڑی آزمائش سے آگاہی)۔ یہ ان آزمائشوں میں سے ایک بہت بڑی آزمائش سے متنبہ فرمایا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقوق و فرائض اور اس کی راہ میں انفاق جان و مال سے روکنے والی بنتی ہیں، یعنی بیوی بچوں کی محبت یہ محبت ہے تو ایک فطری چیز لیکن ساتھ ہی یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اس محبت میں اور خدا کی محبت میں بسا اوقات تصادم ہوتا ہے۔ اگر آدمی کا علم و ایمان پختہ نہ ہو تو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس پر بیوی بچوں کا مفاد اور ان کی محبت اس قدر غالب آجائے کہ وہ خدا کی محبت کو…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔
14۔ 2 یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو، بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ ان کے پیچھ لگ کر اپنی عاقبت خراب کرلو۔
14۔ 3 اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکہ میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آگئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کرلی…
Read the full tafseer →3: جو بیوی بچے انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اکسائیں وہ انسان کے دشمن ہیں۔ البتہ اگر وہ اپنے اس عمل سے توبہ کریں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے، اور درگذر سے کام لے کر ان سے اچھا سلوک کیا جائے۔
Read the full tafseer →ان آیات کے بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ پہلی آیت کے بارے میں ان سے کسی نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ مکہ کے کچھ لوگ تھے جو اسلام لے آئے تھے۔ انہوں نے ارادہ کرلیا کہ وہ ہجرت کرکے رسول اللہ کے پاس آجائیں ، لیکن ان کی بیویوں اور ان کی اولاد نے ، اس سے انکار کردیا۔ اور ان کو نہ چھوڑا۔ پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ تعلیم دین کے میدان میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ تو انہوں نے ارادہ کرلیا کہ ان بیویوں اور اولاد کو سزا دیں۔ اللہ نے یہ آیات نازل کی :
وان تعفوا ........................ غفور رحیم (46 : 41) ” اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ…
Read the full tafseer →1 بہت مرتبہ آدمی بیوی بچوں کی محبت اور فکر میں پھنس کر اللہ کو اور اس کے احکام کو بھلا دیتا ہے۔ ان تعلقات کے پیچھے کتنی برائیوں کا ارتکاب کرتا اور کتنی بھلائیوں سے محروم رہتا ہے۔ بیوی اور اولاد کی فرمائشیں اور رضا جوئی اسے کسی وقت دم نہیں لینے دیتی۔ اس چکر میں پڑ کر آخرت سے غافل ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے جو اہل و عیال اتنے بڑے خسارے اور نقصان کا سبب بنیں۔ وہ حقیقتہً اس کے دوست نہیں کہلا سکتے بلکہ بدترین دشمن ہیں۔ جن کی دشمنی کا احساس بھی بسا اوقات انسان کو نہیں ہوتا۔ اسی لیے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ ان دشمنوں سے ہوشیار رہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے سے بچو جس کا نتیجہ ان کی دنیا سنوارنے کی خاطر…
Read the full tafseer →آیت 14{ یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّــکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ } ”اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ‘ سو ان سے بچ کر رہو۔“
یہ بہت مشکل اور نازک معاملہ ہے۔ گزشتہ سورت میں رسول اللہ ﷺ کو منافقین کی عداوت سے بھی انہی الفاظ میں خبردار کیا گیا تھا : { ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ } المنٰفقُون : 4 کہ یہ لوگ تمہارے دشمن ہیں ‘ ان سے بچ کر رہیے ! جس طرح منافقین کی دشمنی تمہارے لیے نقصان دہ ہے ‘ اسی طرح تمہارے بیوی بچوں کی محبت بھی تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نقصان بیشک کسی کی دشمنی کی وجہ سے ہو یا…
Read the full tafseer →21 بیوی اور اولاد کس صورت میں انسان کی دشمن ہوتی ہے :۔ یعنی ساری بیویاں یا ساری اولاد تمہاری دشمن نہیں بلکہ بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہاری دشمن ہے۔ اور یہی وہ رشتے ہیں جو انسان کے بہت قریبی اور اسے بہت عزیز ہوتے ہیں۔ یہ اگر اللہ کے فرمانبردار ہوں گے تو تمہارے دوست اور نافرمان ہوں گے تو تمہارے دشمن ہیں۔ گویا ان سے بھی تمہاری محبت اور دوستی کی اصل بنیاد اللہ کی فرمانبرداری ہونی چاہئے۔ انہیں کی وجہ سے لوگ کسب حرام اور دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے بعض مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کی جرأت نہیں کر رہے تھے۔ انہیں کی ہمدردیاں اگر کفار کے ساتھ ہوں تو تمہارے لئے کئی طرح کی مصیبتوں اور…
Read the full tafseer →13۔ (کہیں تو انکی محبت طبعی میں غلو کے باعث معاصی میں مبتلا نہ ہونے لگو) یعنی بعض اوقات بیوی بچوں کی محبت مفرط ہی غلط راستہ پر ڈال دیتی ہے اور انسان ان کی پر معصیت فرمائشوں کی تعمیل میں لگ جاتا ہے، سو ایسے بیوی بچوں سے ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اوپر مصیبتوں کا ذکر تھا کہ وہ کہیں تمہیں راہ تسلیم ورضا سے ڈگانہ دیں۔ اب نعمتوں کا ذکر ہے کہ کہیں ان میں پڑکر احکام خداوندی کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ اور اس سلسلہ میں صراحت کے ساتھ ذکر صرف بیوی بچوں کا کیا ہے کہ حقیقۃ یہی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اور انسان کو طبعی کشش بھی انہیں کی جانب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مومن ومسلم کا کام ہر حال اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
شان نزول
یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی)
اور…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوا لکم فاحذروھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم .
” اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیبیاں اور اولاد تمہارے (دین کی) دشمن ہیں۔ سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کر دو گے اور درگزر کرو گے اور بخش دو گے تو (اللہ تم کو معاف کر دے گا) اللہ بہت بخشنے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔ “
اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ : یعنی تمہارے اہل و عیال حقیقت میں تمہارے دشمن ہیں کیونکہ اللہ کی فرمانبرداری سے روکتے ہیں اور باز رکھتے ہیں۔
فَاحْذَرُوْھُمْ : تم ان سے احتیاط رکھو ‘ ان کے شر سے بےفکر نہ ہو ‘ ان کا کہا نہ مانو کہ ان کی وجہ سے ہجرت چھوڑ بیٹھو۔
ترمذی اور حاکم نے…
Read the full tafseer →اے ایمان والو تمہاری بیبیاں اور اولاد جو کہ مکہ مکرمہ میں ہیں اگر وہ تمہیں جہاد اور ہجرت سے روکیں تو وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان سے ہوشیار رہو۔
اور اگر وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے آجائیں تو تم ان کو معاف کردو اور ان پر کوئی گرفت نہ کرو۔
شان نزول : اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ (الخ)
امام ترمذی اور حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ان مکہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مشرف باسلام ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی بیبیوں اور اولاد کو مدینہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے آنے سے انکار کیا جب یہ حضرات حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں کو دیکھا انہوں نے دین…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ۔۔۔۔:”عدوا“ ”فعول“ کا وزن ہے : واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے :”فاحذروھم“ سے ظاہر ہے کہ یہاں جمع کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ”من ازواجکم“ میں ”من“ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی بعض بیویاں اور اولادیں دشمن ہوتی ہیں سب نہیں ، بلکہ بعض دین میں مدد گار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہوتی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے ، اب ایک ایسی چیز سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا جو عموماً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور وہ آدمی کی بیوی اور اس کی اولاد ہے۔…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا ان من آزواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت مدینہ طیبہ میں حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی بیوی اور اولاد کی جفا کی شکایت کی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ طبری نے عطا بن یسار سے روایت نقل کی ہے کہ سورة تغابن پوری کی پوری مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی مگر یہ آیات حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئیں (1) ۔ وہ اہل و اولاد والے تھے۔ جب حضرت مالک جہاد پر جانے کا ارادہ کرتے تو یہ روتے اور انہیں نرم کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ کہتے : آپ ہمیں کس کے حوالے کرکے جا رہے ہیں ؟ تو…
Read the full tafseer →17۔ فریابی وعبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروہم۔ اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دین کے دشمن ہیں۔ سو ان سے ہوشیار رہو۔ اہل مکہ سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ اسلام لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کے پاس آنے کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور ان کی اولاد نے ان کو روک دیا کہ وہ ان کو چھوڑ کر جائیں پھر جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں سمجھ حاصل کرچکے ہیں۔ تو انہوں نے ارادہ کیا…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [ان مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ : یقینا تمہارے جوڑوں میں سے اور تمہاری اولادوں میں سے ] [عَدُوًّا لَكُمْ : کچھ دشمن ہیں تمہارے (ایمان) کے لیے ] [فَاحْذَرُوْهُمْ : پس تم لوگ محتاط رہو ان سے ] [وَان تَعْفُوْا : اور اگر تم لوگ درگزر کرو ] [وَتَصْفَحُوْا : اور نظر انداز کرو ] [وَتَغْفِرُوْا : اور معاف کرو ] [فَان اللّٰهَ : تو بیشک الہ (بھی)] [غَفُوْرٌ: بےانتہا معاف کرنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوت۔ 3: آیت۔ 14 ۔ میں ایک بہت بڑی آزمائش سے متنبہ فرمایا ہے۔ یہ بیوی بچوں کی محبت ہے۔ یہ محبت ہے تو ایک فطری چیز…
Read the full tafseer →بعض ازواج اور اولاد تمہارے دشمن ہیں :
چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ تمہاری بیویوں اور اولاد میں ایسے (بھی) ہیں جو تمہارے دشمن ہیں لہٰذا تم ان سے ہوشیار رہو۔ فطری اور طبعی طور پر انسان کو نکاح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب نکاح ہوجاتا ہے تو اولاد بھی ہوتی ہے۔ میاں بیوی کی آپس میں محبت ہوتی ہے اور اولاد سے محبت ہونا امر طبعی ہے، اسلام نے بھی ان محبتوں کو باقی رکھا ہے لیکن اس کے لئے ایک حد بندی بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حق سب پر مقدم ہے، بیوی ہو یا شوہر بیٹا ہو یا بیٹی ہر ایک سے اتنی ہی محبت کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے اسلامی احکام پر چلنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ شریعت اسلامیہ کے مطابق چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…
Read the full tafseer →13:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مسئلہ توحید کی تفصیل کے بعد مسلمانوں کو جماعتی نظم و نسق قائم رکھنے اور باہم اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین فرمائی تاکہ وہ دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں۔ اولاد اور بیویوں کے دشمن ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حقیقت ہی میں تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہاری دشمن ہے اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ بعض بیویا یا اواد کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے انسان محرمات و معاصی کے ارتکاب پر مجبور ہوجاتا ہے۔ وقد یحملونھم علی السعی فی اکتساب الحرام وارتکاب الاثام لمنفعۃ انفسہم (روح ج 28 ص 126) دوسری مطلب یہ کہ اولاد و ازواج بعض دفعہ دوسروں سے دشمنی کا باعث بن جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
مصیبت باذن اللہ :
گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ 0 ۚ وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 14
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
[ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
1 ؎ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون کا مخالف مفہوم یہی ہے کہ مومن توکل کرتے ہیں نہ کہ کافر پھر جس میں توکل نہیں گویا وہ کافر ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّـکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ ج وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (التغابن : 14)
(اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تو ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ غفورورحیم ہے۔ )
ایک بڑی آزمائش سے آگاہی
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بعض صحابہ کو ایسے حالات درپیش تھے کہ انھوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور بچوں نے منت سماجت یا رودھو کر انھیں ارادے کی تکمیل سے روک دیا۔ ایک صحابی کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : اس فرمان سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہوا اور پھر فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اللہ کی عبادت اور اس پر بھروسہ کرنے کے معاملے میں جو چیز آدمی کے راستے میں سب سے پہلے رکاوٹ بنتی ہے وہ بیوی، اولاد اور مال کی محبت ہے بسا اوقات یہ محبت اپنے آپ کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ثابت ہوتی ہے ایسی محبت سے احتیاط برتنے کا حکم ہے۔ جس کے لیے ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور اولاد بھی تمہارے دشمن ہوتے ہیں اور تمہارے مال تمہارے لیے آزمائش ہیں جن سے تمہیں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت…
Read the full tafseer →بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں :
14 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِ کُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ (اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دشمن ہیں) یعنی بیویوں میں سے بعض بیویاں اپنے خاوندوں کی نافرمانی کر تیں اور ان سے جھگڑا کرتی ہیں۔ اور اسی طرح بعض اولادیں اپنے والدین سے دشمنی کرتی اور ان کی نافرمانی کرتی ہیں۔ فَاحْذَرُوْھُمْ (پس تم ان سے ہوشیارر ہو) ھمؔ کی ضمیر عدواؔ یا ازواج یا اولاد تمام کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہوا جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بھی دشمن سے خالی نہیں۔ پس تم ان سے احتیاط برتو۔ اور انکے شرور اور گمراہ کن باتوں پر اعتبار نہ کرو۔
وَاِنْ…
Read the full tafseer →13 ۔” اللہ لا الہ الا ھو وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
14۔ 18۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کو ترمذی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور رونا پیٹنا شروع کردیا جس سے وہ صحابہ جلدی ہجرت نہ کرسکے کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت نہ کرسکے۔ کچھ دنوں کے بعد جب وہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا کہ جو صحابہ ان سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ کو آگئے تھے وہ آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں دشمن وہ ہوتا ہے جو تمہارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارا وظیفہ (ذمے داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیا یسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعیت ممانعت ہو۔ اللہ نے انکو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضامندی کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور علی قدر محبت پر…
Read the full tafseer →28 ۔ بیوی بچوں میں سے کچھ انسان کے دشمن، والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا ایمان والو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولادوں میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں، یعنی جو تمہیں دین حق اور اس کے تقاضوں سے روکتے اور باز رکھتے ہیں، حالانکہ دین اور اس کی تعلیمات مقدسہ کی راہ دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کی راہ ہے، اور اس سے محرومی درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہاں پر " من ازواجکم وا اولادکم " فرمایا گیا ہے، یعنی کلمہ من کے ساتھ من کے سا کلمہ تبعیض سے معلوم ہوا کہ سب بیویاں بچے دشمن نہیں ہوتے، بلکہ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں اور وہ وہی ہوتے ہیں جو انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
مومن کے لیے آخرت کا زادراہ
تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔
انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اطاعت رسول ﷺ ۔
لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…
Read the full tafseer →ف 7 بعض اوقات آدمی بیوی بچوں کی محبت میں پھنس کر اللہ و رسول کے احکام کو بھلا دیتا ہے اور اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو اہل و عیال اس تباہی کا باعث نہیں ان سے بڑھ کر آدمی کا کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰنے فرمایا کہ ایسے دشمنوں سے ہوشیار ہو ایسا نہ ہو کہ تم ان کی محبت میں پڑ کر اپنی آخرت تباہ کرلو۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوچکے تھے اور ہجرت کر کے مدینہ آنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے بیوی بچوں نے انہیں ہجرت کرنے سے باز رکھا پھر جب وہ آخر کار ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ آنحضرت کی صحبت میں رہ کر دین کا خوب علم…
Read the full tafseer →(64:14) ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم : ان حرف تحقیق اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے خبر کی تاکید و تحقیق مزید کے لئے آتا ہے۔ عدوا بالنصب اسم ان ۔ اور من ازواجکم واولادکم اس کی خبر (تفسیر حقانی) من تبعیضیہ ہے ان میں سے بعض۔
ترجمہ ہوگا :۔ مسلمانو ! تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں۔
فاحذروھم :سببیہ احذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حذر (باب سمع) مصدر۔ کسی خوف کی بات سے ڈرنا۔ بچنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب پس تم ان سے بچو۔ (یعنی ان کا کہا نہ مانو کہ ان کی وجہ سے ہجرت چھوڑ بیٹھو) ۔
وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا۔ واؤ عاطفہ۔ ان شرطیہ۔ تعفوا اصل میں تعفون تھا۔ مضارع کا صیغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
مال اور اولاد آزمائش۔
(ف 1) شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد فتح مکہ سے پہلے کچھ مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی بچوں نے ان کو ہجرت سے روکا اور کہا کہ ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے تم چلے جاؤ گے تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے یہ بات ان پر اثر کرگئی اور وہ ٹھہرگئے کچھ دنوں کے بعد جب انہوں نے اصحاب رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ دین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے تو ان کو اس کا بڑا پچھتاوا ہوا اور اس پچھتاوے کے غصہ میں ان لوگوں نے چاہا کہ اپنی بی بی بچوں کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش آویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
[6] آدمی اکثر بیوی بچوں کی محبت اور فکر میں پھنس کر اللہ اور اس کے احکام کو بھلا دیتا ہے اور ان تعلقات کے پیچھے کئی برائیوں کا ارتکاب کرتا اور کتنی بھلائیوں سے محروم رہتا ہے۔ بیوی اور اولاد یہ چاہتی ہے کہ وہ ان کے لئے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ کر ہر طریقے سے انہیں عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل و عیال جو آدمی کے دین کی بربادی اور آخرت میں اس کے خسارے کا سبب بنیں وہ حقیقتاً اس کے دوست نہیں کہلا سکتے بلکہ بدترین دشمن ہیں جن کی دشمنی کا احساس بھی بسا اوقات انسان کو نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دشمنوں سے ہوشیار رہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے سے بچو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
حضور ﷺ نے جب مدینہ کا رخ کیا ۔ اور مسلمانوں کو دعوت دی ۔ کہ وہ بھی مکہ کو چھوڑ کر مدینے چلے آئیں ۔ اس وقت بعض دون ہمت لوگوں کے لئے بیوی بچے اور مال و دولت کی محبت قندثابت ہوئی ۔ اور وہ محض ان حلائق کی وجہ سے فرمان رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرسکے ۔ بار بار قرآن کی آیات میں ان کو متنبہ کیا گیا ۔ کہ اسلام تم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ صرف یہ ہے کہ استمعواؤ واطیحوا وہ یہ نہیں جانتا کہ تمہارے کیا کیا عذر اور بہانے ہیں ۔
Read the full tafseer →(14) اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں میں سے بعض بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں لہٰذا ان سے ہوشیار ہو اور تم ان کا کہنا ماننے سے بچتے رہو اور اگر تم ان سے معذرت کرنے پر ان کو معاف کردو اور ان سے درگزر کرو اور ان کو بخش دو تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی بعض ازواج اور بعض اولاد مانع عن الخیر ہوتی ہے اس سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرمائی جیسا کہ بعض لوگوں کی بیویاں اور اولاد ہجرت کرنے سے مانع ہوتی تھیں یا جہاد میں جاتے وقت سمجھاتی تھیں کہ تم چلے جائو گے تو ہماری خبر گیری کون کرے گا اور ہم تباہ ہوجائیں گے اس لئے ان کو ہوشیاء فرمایا کہ ایسی بیویوں کا اور…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی جیسا مصیبت میں تم کو صبر و رضا کا حکم کیا گیا ہے تاکہ وہ مانع عن الاخرة نہ ہو، اسی نعمت کے بارے میں تم کو عدم انہماک کا حکم کیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی مانع عن الآخرت نہ ہو۔
8۔ اس میں ترغیب ہے عفو کی اور یہ بعض اوقات واجب ہے جبکہ عقوبت سے احتمال غالب بےباکی کا ہو، اور بعض اوقات مندوب ہے۔
Read the full tafseer →اہل ایمان کی رہنمائی کے لیے اس کے حقیقی دشمنوں سے اس کو آگاہ کیا جا رہا ہے
14 ؎ اللہ کی راہ چلنے والے مسافر کو راستے کے خطروں سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ تیرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ بھی کہ اگر تم لوگوں نے ان بڑی بڑی رکاوٹوں کا خیال رکھا تو تمہارا راستہ آسانی سے کٹ جائے گا اور تم یقینا منزل مقصود تک پہنچ جائو گے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح دشمن خطرہ کا باعث ہوتے ہیں بالکل اسی طرح دوست بھی اللہ تعالیٰ کی راہ پر چلنے والوں کے لیے خطرہ کا باعث ہو سکتے ہیں ۔ پھر دشمنوں سے بچتا تو انسان کی فطرت میں ہے اس لیے ان کا خیال تو ہر حال رہتا ہے لیکن دوستوں کی طرف…
Read the full tafseer →يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ( O those who believe, among your wives and your children there are some enemies for you, so beware of them…4:14). Tirmidhi, Hakim and others have recorded, with authentic chain of transmitters, on the authority of Sayyidna Ibn ‘Abbas ؓ ، that this verse was revealed regarding those Muslims who embraced Islam in Makkah after the migration of the Holy Prophet ﷺ to Madinah. They intended to migrate to Madinah and join the Holy Prophet ﷺ ، but their wives and children refused to allow them. […
Read the full tafseer →29 This verse has two meanings. According to the first meaning, ii applies to most of those difficulties, which are encountered by many believing men from their wives and the women from their husbands and the parents from their children in following the way of God. It seldom so happens in the world that a man has a wife and a wife a husband, who are full companions and helpers of each other in the matter of faith and righteousness, and that both may also have such children as may be the comfort of their eyes as regards faith and deeds, morals and conduct. Hut generally it so happens that if…
Read the full tafseer →