At-Taghaabun 64:13

At-Taghaabun · from ayah 13

64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ— وَعَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۟اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah - there is no deity except Him. And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:13

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اللہ ہی پر ایمان والے بھروسہ کریں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ (ہی معبود) ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں اور ایمان والے بس اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ جو برحق معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah there is no god but He; in Allah should the believers put all their trust.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is such that there is no god but He. And in Allah alone the believers must place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is such that there is no god but He. And in Allah alone the believers must place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah! La ilaha illa Huwa. And in Allah therefore let the believers put their trust.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah! There is no Allah save Him. In Allah, therefore, let believers put their trust.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah - there is no deity except Him. And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

God is the only Lord and in Him the believers should trust.

— Muhammad Sarwar

Allah, there is no god but He; and upon Allah, then, let the believers rely.

— Muhammad Habib Shakir

Allah! there is no God but He! In Allah, therefore, let the believers put their trust.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah! There is no god but He: and on Allah, therefore, let the Believers put their trust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–13

وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی سورة حدید میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے رضا بہ قضا کے سوا لب نہ ہلائے تو اللہ تعالٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّغَابُن 28 یعنی خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بنا سکے۔ اچھا وقت آسکتا ہے تو اسی کے لائے آسکتا ہے، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدائے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور دنیا میں ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا ہے چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہوگی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

خلاصہ تفسیر (جس طرح کفر آخرت کی فلاح سے کلیتہً مانع ہے، اسی طرح اموال و اولاد اور بیوی وغیرہ میں مشغول ہو کر خدائے تعالیٰ کے احکام میں کوتاہی کرنا بھی ایک درجہ میں فلاح آخرت سے مانع ہے اس لئے مصیبت میں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ) کوئی مصیبت بدون خدا کے حکم کے نہیں آتی (اور یہ سمجھ کر صبر و رضا اختیار کرنا چاہئے) اور جو شخص اللہ پر (پورا) ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو (صبر و رضا کی) راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے (کہ کس نے صبر و رضا اختیار کیا اور کس نے نہیں کیا اور ہر ایک کو حسب حکمت جزاء و سزا دیتا ہے) اور (خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر امر میں جس میں مصائب بھی داخل ہیں) اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(اللہ لا الہ الا ھو و علی اللہ فلیتوکل المومنون) (13) فرمایا کہ آسمان و زمین میں کوئی اور الٰہ نہیں ہے جس سے کسی ضرر کا اندیشہ یا کسی نفع کی توقع ہو۔ صرف اللہ ہی ہے جو نفع یاضرر پہنچا سکتا ہے۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ یہی ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا والتجا کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–13

2: یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے، اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس تصور کے نتیجے میں ایمان والوں کو ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوتی اور انہیں صبر کی توفیق مل جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اللہ لا .................... المومنون (46 : 31) ” اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ توحید کی حقیقت ہی ایمان کی اساس ہے۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو صرف اللہ پر بھروسہ ہو ، صرف اللہ پر بھروسہ کرنا صحیح عقیدہ توحید کے اثرات میں سے ایک اثر ہے جو دل میں موجود ہوتا ہے۔ اس دعوت ایمان سے آگے پھر اہل ایمان کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ گویا یہ آیت پچھلے پیرگراف اور آنے والے کے درمیان پل کا کام دے رہی ہے۔ اب مومنین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ بیویاں ، اولاد اور مال ایک بہت بڑا فتنہ اور آزمائش ہوتے ہیں۔ اور اس آزمائش میں کامیاب وہی ہوسکتا ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی معبود اور مستعان تنہا اسی کی ذات ہے۔ نہ کسی اور کی بندگی نہ کوئی دوسرا بھروسہ کے لائق۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13{ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ہُوَط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ } ”اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔“ اے اہل ایمان ! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ‘ جو کچھ بھی ہوگا وہ اللہ کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ محنت کرو اور اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ اگر تم کوئی کام کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہو ‘ تمہارے پاس تمام وسائل بھی موجود ہیں اور تم حالات کو بھی کلی طور پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 توکل اللہ پر ہی کیوں ؟ اس کائنات میں تصرفات کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور پورے کا پورا اختیار اسی کو ہے۔ دوسرا کوئی اس اختیار میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ لہذا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ صرف اس اللہ پر بھروسہ کیا جائے جس کے قبضہ قدرت میں جملہ اختیارات ہیں۔ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر اسی کا کنٹرول ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر دل سے یقین رکھتا ہے اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اس کا در چھوڑ کر کسی دوسرے کے دروازے پر جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (خواہ وہ مصیبت ان پر محض تکوینی حیثیت سے، بیماری، قحط وغیرہ کے سلسلہ میں آپڑے، خواہ راہ حق پر رہنے کے سلسلہ میں مخالفین ومعاندین کی طرف سے ان پر ستم توڑے جائیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

واطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلاغ المبین یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو ہمارے رسول ﷺ کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام تو صرف تبلیغ ہے، امام زہری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ ہے، اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ لا الہ ... المومنون . ” وہی اللہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ “ اَﷲُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ : یہ جملہ حکم ایمان و اطاعت کی علت ہے (اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو ‘ اس لیے کہ وہی اللہ ہے اس کے سوا قابل عبادت کوئی نہیں) ۔ وَعَلَی اللہ : اس کا تعلق فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ سے ہے۔ علی اللہ کی تقدیم مفید حصر ہے۔ اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ جب خیر و شر سب ہی کچھ بتقدیر الٰہی ہوتا ہے تو بھروسہ اور توکل بھی اللہ ہی پر ہونا ضروری ہے۔ ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مکہ کے رہنے والے کچھ مرد مسلمان ہوگئے اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَﷲُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَط وَعَلَی اللہ ِ۔۔۔۔: یعنی جس طرح تقدیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی مصیبت یا راحت ہے اسی کے حکم سے آتی ہے ، اسی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو ہر عبادت کی مستحق ہے ، اسکے سوا کوئی معبود نہیں ، اس لیے رنج ہو یا راحت ہر حال میں اسی کو پکارو اور اسی پر توکل رکھو ، کیونکہ پکارنا بھی عبادت ہے اور توکل بھی عبادت ہے اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے پاس اس اکیلے پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، کیونکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں رنج یا راحت میں سے کچھ سے ہی نہیں کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

مصائب کو اپنے اوپر ہلکا جانو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے آپ کو مشغول رکھو اور سنت پر عمل کرنے میں اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اللہ کے رسول کے ذمہ تو صرف پیغام حق پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے سوا کوئی خالق نہیں اس پر بھروسہ کرو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

16۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والوں کا شمار (یعنی نشانی) جس دن وہ اپنی قبروں سے اٹھیں گے آیت اللہ لا الہ الا ہو وعلیٰ فلیتوکل المومنون ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ : اللہ (وہ ہے کہ)] [لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّا هُوَ : سوائے اس کے ] [وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر بھی ] [فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ : چاہیے کہ توکل کریں مومن لوگ ] نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیات۔ 11 تا 13 ۔ میں جو ہدایات ہمیں دی گئیں ہیں ان کو اب ایک اور پہلو سے سمجھنا ہے۔ اس کے لیے پہلے ایک اصولی بات سمجھ لیں۔ ہماری زندگی میں کچھ حالات و واقعات ہوتے ہیں جو ہم پر ٹپک پڑتے ہیں۔ ان کے واقع ہونے میں نہ تو ہمارا کوئی عمل دخل ہوتا ہے اور نہ ان پر ہمارا کوئی اختیار ہوتا ہے۔ یہ حالات خوشگوار بھی ہوتے ہیں اور ناگوار بھی۔ دوسری طرف ہماری زندگی میں کچھ اعمال ہوتے ہیں جو ہم کرتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تیسری نصیحت فرماتے ہوئے اول توحید کی تلقین فرمائی اور فرمایا ﴿اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ 1ؕ﴾ (اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) پھر توکل کا حکم فرمایا۔ ﴿ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 0013﴾ اور مومنین اللہ ہی پر توکل کریں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” اللہ لا الہ الا ھو “ اصل مقصود دعوائے توحید کا اعادہ ہے جس کی خاطر انفاق اور جہاد کے احکام نازل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ اور کارساز نہیں اس لیے مومنوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے، مصائب و بلیات میں اسی سے مدد کی امید رکھنا اور مدد کے لیے صرف اسی کو پکارنا چاہیے یہاں تک مضمون توحید کا بیان تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

مصیبت باذن اللہ : گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ 0 ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۝ 13 وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–14

1 ؎ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون کا مخالف مفہوم یہی ہے کہ مومن توکل کرتے ہیں نہ کہ کافر پھر جس میں توکل نہیں گویا وہ کافر ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (التغابن : 13) (اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ) اس کائنات کا معبود بھی وہی ہے اور حاکم حقیقی بھی۔ کائنات کا کوئی گوشہ اس کی حاکمیت سے باہر نہیں۔ مخلوق کو زندگی اسی سے مل رہی ہے اور فیضان بھی اسی کی ربوبیت کا جاری ہے۔ وہی ہر طرح کی قسمتیں بناتا ہے اور وہی راحت و غم سے دوچار کرتا ہے۔ اسی کی قدرت ہے جو اس کی ہر مخلوق پر حاوی ہے۔ یہ وہ اعتقادات ہیں جو ایمان باللہ کے لازمی عناصر ہیں۔ اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اس کے دل میں یہ کبھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ عسر اور یسر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ مومن ہو یا نافرمان، کافر ہو یا مسلمان، امیر ہو یا غریب ہر کسی کی زندگی نشیب و فراز، سُکھ اور دکھ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نافرمانوں کے مقابلے میں ایمانداروں کی زندگی قدرے مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ ایماندار شخص اللہ اور اس کے رسول کا پابند ہوتا ہے جس وجہ سے دنیا میں وہ فوائد اور آسائشیں حاصل نہیں کرسکتا جو نافرمان حاصل کرلیتے ہیں۔ مصیبت ہو یا راحت، مشکل ہو یا آسانی، نفع ہو یا نقصان ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (وہی اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو توکل علی اللہ پر ابھارا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس توکل کے نتیجہ میں تکذیب کرنے اور منہ موڑنے والوں کے خلاف ان کی امداد فرمائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–13

11۔ 13۔ اوپر اللہ اور اللہ کے رسول اور قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 5 ؎ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار بننے کے لئے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضرور ہے ایک تو یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا برحق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا آیت اور حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مثلاً آدمی کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ ) اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ یعنی وہی عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ( وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انہیں پیش آئے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ پر بھروسا کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو جس پر وہ بھروسا کررہا ہے اور بندے کے ایمان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 ۔ ایمان کا تقاضا کہ بھرسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہو : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حصر و قصر کے اسلوب انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اسی وحدہ لاشریک پر دل کا بھروسے رکھیں کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو خالق کل بھی ہے اور مالک کل بھی، قادر مطلق بھی اور کارساز و مختار کل بھی، جل شانہ وعز برھانہ، پس دل کا اعتماد و بھروسہ ہمیشہ اسی پر اور صرف اسی وحدہ لاشریک پر ہونا چاہیے کہ جب معبود برحق اور اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصر وہی وحدہ لا شریک ہے تو پھر نفع و نقصان کے سب اختیارات بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مومن کے لیے آخرت کا زادراہ تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اطاعت رسول ﷺ ۔ لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:13) اللہ لا الہ الا ھو : یہ جملہ حکم ایمان و اطاعت کی علت ہے۔ (اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس لئے کہ) وہی اللہ ہے اس کے سوا قابل عبادت کوئی نہیں) ۔ فلیتوکل : امر کا صیغہ مذکر غائب توکل (تفعل) مصدر۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کرے (یہاں جمع کے صیغہ کے معنی میں آیا ہے۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن لوگ۔ علی اللہ کا تعلق فلیتوکل المؤمنون سے ہے۔ تقدیم حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ خاص اللہ پر ہی مومن لوگوں کو بھروسہ کرنا چاہے فائدہ : ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ اہل مکہ میں سے کچھ مرد مسلمان ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن ان کے اہل و عیال نے ان کو مکہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

اجزائے ایمان اور مصیبت کے وقت صبر کرنے کا اجر۔ (ف 1) اوپر اللہ اور اللہ کے رسول و قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی، اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا، ایماندار بننے کے لیے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کا وحدہ لاشریک ہے۔ دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں، تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا حق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا، آیت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–13

[5] اور اللہ کا حکم بہرحال کسی نہ کسی مصلحت کی بناء پر ہوتا ہے جسے انسان نہ جانتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–13

حاشیہ صفحہ ھذا 1: اسلام کے نزدیک اصل شئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے ۔ اور اس کے بعد جتنے رشتے اور حلائق ہیں ۔ ان کی حیثیت محض ثانوی ہے ۔ اس لئے وہ یہ نہیں چاہتا ۔ کہ کنسی جذبات یا پدرانہ تعلق خاطر ۔ خدمت اسلام کے سلسلہ میں حائل ہو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بیوی کے حقوق اور بچوں کے خیالات کی رعایت اسی وقت ضروری ہے ۔ جبکہ ان کے مقصود اعطاء کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا کرنا ہو ۔ اور جب یہ پاؤں کی زنجیریں اور گردن کا طوق بن جائیں ۔ تو اس وقت ان کی حیثیت دشمنوں کی سی ہے ۔ جن سے تمہیں ہوشیار اور محتاط رہنا چاہیے ۔ حل لغات :۔ فلیتوکل ۔ توکل سے ہے ۔ جس کے معنے اللہ کو اپنا وکیل اور چارہ ساز سمجھنے کے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اللہ تعالیٰ اس بن کسی کی بندگی نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جل شانہ حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھناچاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ پس اسی کو معبود سمجھنا چاہئے۔ 6۔ اس میں ایمان کا مضمون جو کہ اوپر مذکور تھا اور صبر کا مضمون جو کہ بعد میں مذکور تھا دونوں آگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اور ایمان والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے 13 ؎ زیر نظر آیت میں توحید الٰہی کا بیان ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان اور اس ذات پر بھروسہ ہی ایک مومن انسان کا طرہ امتیاز ہے۔ اس جگہ اس کے بیان کی ضرورت یہ تھی کہ اگر انسان کا اس بات پر یقین ہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں ہے جو مجھے اگر دکھ لگا تو اس کو دور کر دے اور اگر وہ حالت خوشی میں ہے تو کوئی اس کو دکھ پہنچا سکے تو وہ جس حالت و حال میں بھی ہوگا مطمئن ہوگا کہ جب میرے خالق ومالک کی رضا یہی ہے کہ میں اس حال میں رہوں تو میں نہ تو جزع فزع کرسکتا ہوں اور نہ ہی اترا کر اپنے آپے سے باہر ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

Commentary مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ (And no calamity befalls [ one ], but with the leave of Allah. And whoever believes in Allah, He guides his heart…64:11) In other words, it is a reality that not even a particle can move without the Divine will. Without the will of Allah no one can harm or benefit anyone. If a person does not believe in Allah and the Divine destination, he would not have any means of comforting himself when a calamity befalls him. He receives it with despair, and gropes for means of alleviating it. A…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 That is, "All Divine powers belong to Allah alone. No one else has any power to make or mar your destiny. He alone cat bring about a good time and He alone can avert a bad time. Therefore, whoever believes sincerely that AIlah is One, has absolutely no other choice than to place his full trust in Him and to continue doing his duty as a believer with the conviction that goodness and well- being only lie in the way that Allah has shown him. If he attains to success in this way, it will only he by Allah's help and leave; there is no other helper. And if he encounters difficulties, hardships,…

Read the full tafseer →