Ayahs 64:1–2یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل اولہیت بےپیاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد وثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اقتدار تمام تر اللہ کا ہے اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں، حمدوثنا کا صرف وہی مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیا کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احخام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں، اس کی قدرت سب کو شامل ہے موجودات میں سے کوئی چیز کی قدرت سے باہر نہیں اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا، ان میں مومن اور کافر بنائے، پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ کی قضا وقدر سے ہے یہی اس کی مشیت ہے اس نے ان کو قدرت ارارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر ونہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں اس کا اختیار رکھتے ہیں (وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
Ayah 64:3اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا چناچہ فرمایا (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔ یعنی تمام اجرام ارضی وفل کی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں (بالحق) حق کے ساتھ۔ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض وغایت کے لیے جو اللہ تعالیٰ کو مقصود ہے۔ ( وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۚ ) اور اس نے تمہاری صورت گری کی اور تمہاری بہترین صورتیں بنائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ التین 4) ۔ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت دلکش دکھائی دیتا ہے۔ (وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ) یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہ۔ پس وہ تمہیں تمہارے ایمان اور کفر کی جزاوسزا دے گا تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمہیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
Ayah 64:4پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے (وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ) یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمہارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
Ayah 64:5جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا پس اللہ نے انہیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھایا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا۔ (وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) اور آخڑت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
Ayah 64:6بنا بریں اللہ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا (ذٰلِكَ ) یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے اس سبب سے ہے (بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ) کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے مگر انہوں نے ناگواری سے منہ پھیرلیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور کہنے لگے ( اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا) کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے ؟ یعنی انہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انہیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا (قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشرمثلکم۔۔۔ تا۔۔ من عبادہ۔ ابراہیم 11) ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم بھی تمہاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نواز دیتا ہے پس انہوں نے اللہ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس طرحوہ شجر وحجر کی عبادت میں مبتلا ہوگئے۔ (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا) پس انہوں نے اللہ کا انکار کیا اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ( وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ ) اور اللہ تعالیٰ ان سے بےنیاز ہے اور وہ ان کی پروا نہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ (وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے وہ اپنے اقوال افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
Ayah 64:7اللہ تبارک وتعالی کفار کے عناد اور ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی (وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ) اور یہ اللہ کے لیے آسنا ہے۔ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قوی ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوجائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ تو وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ونفخ فی الصور فصعق من فی السماوات۔۔۔ تا۔۔۔ ینظرون۔ الزمر 68) اور جب صور پھونکا جائے گا تو وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں بےہوش ہوجائیں گے سوائے اس کے جسے اللہ بےہوش نہ کرنا چاہے۔ پھر اسے دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اسی لمحہ سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayah 64:8چونکہ اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کے انکار کا ذکر کیا جو قیامت کا انکار کرتے ہیں نیز یہ بھی ذکر کیا کہ ان کا یہ انکار اللہ اور اس کی آیات کے ساتھ ان کے کفر کو موجب ہے اس لیے اس نے اس چیز کا حکم دیا جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے اور وہ ہے اللہ اس کے رسول اس کی کتاب پر ایمان، اللہ نے اس کتاب کو نور سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس کی ضد تاریکی ہے جو احکام، قوانین اور اخبار اس کتاب میں ہیں جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے روشنی ہیں جس کے ذریعے سے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں راہ نمائی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ذریعے سے رات کی سیاہ تاریکی میں چلا جاتا ہے کتاب اللہ کی راہ نمائی کے سوا تمام علوم ایسے ہیں جن کے نقصانات ان کے فوائد سے بڑھ کر اور جن کا شر ان کے خیر سے زیادہ ہے بلکہ اس میں کوئی خیر اور کوئی فائدہ ہی نہیں سوائے اس کے جو انبیا ومرسلین کی لائی ہوئی تعلیمات کے موافق ہو اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان، عزم کامل ان احکامات و قوانین پر یقین صادق، اس تصدیق کے مقتضی، یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتے ہیں (وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ پس وہ تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
Ayah 64:9یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو اکٹھا کرکے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہوگا کچھ لوگ اعلی علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالاخانوں اور بلند وبالا منازل میں ہوں گے جو تمام اقسام کی لذا وشہوات پر مشتمل ہوں گی کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم وہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہوگا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انہوں نے آگے بھیجے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کے دوران میں ان کو پیش کیا تھا بنابریں فرمایا (ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۭ ) یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہوگا اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے اور مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔ گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں اللہ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ ) جو کوئی اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہو جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے (وَيَعْمَلْ صَالِحًا) اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ یعنی فرائض ونوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ (وَيُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ) اللہ سے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے جس سے آنکھٰں لذت حاصل کریں گی جس کو ارواح پسند کریں گی جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کیا انتہا ہوگی ( خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 64:10(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ) یعنی جنہوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں انہوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا (اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) وہی اہل دوزخ ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت سختی، بدبختی اور عذاب ہوگا۔
Ayah 64:11اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ) جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے یہ آیت کریمہ جان ومال اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے چناچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ کی قجا وقدر سے ہیں جس کا اللہ کو پہلے سے علم ہے اس پر اس کا قلم جاری ہوچکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہوچکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمے داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کرسکا ؟ اگر اس نے اس ذمے داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا وآخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے پھر جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے تب اس پر راضی ہوا اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو اللہ کے قلب کو ہدیات سے بہرہ مند کردیتا ہے پس وہ مطمئن ہوجاتا ہے تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں جیسا کہ اس شخص کو وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ ہدایت عطا نہیں کرتا مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوزتا ہے اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جزا اور سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کردیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالینے فرمایا (انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ الزمر 10) جو صبر کرنے والے ہیں انکو بےحد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ پر ایمان نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے تو اسے بےیارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے۔ جب بندہ نفس پر بھروسا کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بےصبری کے سوا کچھ نہیں یہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے (وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ ۭ ) اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص وقت میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا۔ پھر ایمان جن لوازم اور واجبات کا تقاضا کرتا ہے اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی بلاشبہ یہی سبب جس کو بندے نے اختیار کیا اس کے اقوال وافعال اس کے تمام احوال اور اس کے علم وعمل میں اللہ کیط رف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے یہ بہترین جزا ہے جو اللہ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اصل ثابت قدمی دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنے کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے چناچہ فرمایا (یثبت اللہ الذین۔۔۔ تا۔۔۔ الاخرۃ۔ ابراہیم۔ 27) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر ہوتے ہیں اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
Ayah 64:12اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ ) اور تم اللہ کی اطاعت کرو ور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نوایہ سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ( فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ ) یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو۔ ( فَاِنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ) تو ہمارے رسول پر تو صرف کھول کر پہنچا دینا ہے۔ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمہیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے تمہاری ہدایت اس رسول کے قبضہ قدرت میں ہے نہ تمہارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمہارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
Ayah 64:13(اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ ) اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ یعنی وہی عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ( وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انہیں پیش آئے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ پر بھروسا کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو جس پر وہ بھروسا کررہا ہے اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
Ayahs 64:14–15یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں دشمن وہ ہوتا ہے جو تمہارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارا وظیفہ (ذمے داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیا یسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعیت ممانعت ہو۔ اللہ نے انکو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضامندی کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور علی قدر محبت پر مشمتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہوجانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔ چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں چناچہ فرمایا (وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اگر تم معف کرو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ لہذا جو کوئی معاف کردے اللہ اس کو معاف کرتا ہے جو کوئی درگزر کرے اللہ اس سے درگزر کرتا ہے جو کوئی ایسے امر میں اللہ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اس پسند ہے اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور اوہ ان کے لیے فائدہ مند ہے تو وہ اللہ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
Ayah 64:16اللہ تعالیٰ تقوے کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اضتناب کرنے کا نام ہے اور اللہ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو اس سے ساقط ہوجاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ انہی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن امور پر عمل کرنے سے عاجز ہے وہ اس سے ساقط ہوجائیں گے جیسا کہ نبی نے فرمایا۔ ترجمہ۔ جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو اس شرعی قاعدے میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (واسمعوا) یعنی الہ جو تمہیں نصیحت کرتا ہے ور اس نے جو احکام تمہارے لیے مشروع کیے ہیں ان کو سنو۔ ان کو جان لو اور اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردو۔ (واطیعوا) اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (وانفقوا) اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ ادا کرو۔ تمہارا یہ فعل (خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ ) دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہوگا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل۔ جو اکثر نفوس کی جبلت ہے نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ( وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ ) جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس کے نفس کے بخل سے بچالیا یعنی اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کردی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے۔ (فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) تو وہ لوگ فلاح پانے والے کیونکہ انہوں نے مطلوب کو پالیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے جس کا بندے کو حکم دیا گیا یا اس سے اس کو روکا گیا ہے کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا جارہا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا وآخرت میں خسارے میں رہا اگر اس کا نفس سختی ہے اللہ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رجا کا طلب گار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے اس فعل کے علم اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ بھی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کررہا ہے اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہوگا۔
Ayah 64:17پھر اللہ تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی چناچہ فرمایا (اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو ۔ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ کی رضا ہو اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرج حسنہ ہے۔ (يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ ) تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا کردے گا۔ یعنی وہ تمہارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ کئ گنا تک کردے گا۔ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کرنے کے سبب سے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں (ان الحسنت یذھبن السیات۔ ھود 114) ۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ (وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌ) اور اللہ نہایت قدردان بہت بردبار ہے۔ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا ارشاد باری تعالیٰ ہے (ولوا یوخذ اللہ الناس۔۔۔ تا۔۔ مسمی۔ فاطر۔ 45) اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا ہے تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انہیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔
(وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ) اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھورے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انہیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے اللہ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
Ayah 64:18(عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ) وہ پوشیدہ اور ظاہر کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں (الْعَزِيْزُ ) جس کے مقابلے میں کوئی غالب آسکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیا پر غالب ہے۔ (الْحَكِيْمُ ) اپنے خلق وامر میں حکمت والا ہے جو تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔