64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 64:1–10

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور سب تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا فرمایا سو تم میں بےبعض کافر ہیں اور بعض ایمان والے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر پیدا فرمایا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں سو کیا خوب صورتیں بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ (سب) جانتا ہے۔ اور جو کچھ چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ، اس کو بھی جانتا ہے اور اللہ دلوں کے رازوں کو جانتا ہے

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے (تم سے) پہلے کفر کیا تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ (دنیا میں) چکھ لیا اور (آخرت میں) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ ان لوگوں کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر آئے تھے تو ان لوگوں نے کہا کیا آدمی ہم کو ہدایت کرے گا۔ غرض انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ نے (بھی ان کی) پرواہ نہ کی۔ اور اللہ (سب سے) بےنیاز (اور) تعریف کے لائق ہیں

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ وہ ہرگز دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے ۔ آپ فرمادیجئے کہ ہاں میرے پروردگار کی قسم تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے پھر جو کچھ تم نے کیا ہے تم کو ضرور بتایا جائے گا اور یہ سب اللہ کے لئے آسان ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر اور اس نور (قرآن) پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل فرمایا ہے۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں کی خبر رکھتے ہیں

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن (اللہ) تم سب کو جمع ہونے کے دن (یعنی قیامت) کے لئے اکٹھا کریں گے (سو) یہی دن ہے سود و زیاں کا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا اور نیک کام کرتا ہوگا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردیں گے اور اس کو ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ، وہ دوزخ کے رہنے والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔ قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب سن شعور کو پہنچتا ہے تو اپنے اختیار سے کفر اختیار کرتا ہے لہذا دوسری قوم میں شمار ہونے لگتا ہے دنیا اقوام وملل میں تقسیم تھی اور ہر کوئی دوسرے سے برسرپیکار تھا کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو بھائی بھائی کردیا۔ رنگ ونسل اور زبان وخاندان کا فرق وقوم کی شناخت نہ رہا نیز فرمایا کہ کفر بھی ملت واحدہ ہے یعنی دنیا میں صرف دوقومیں ہیں ایک مومن اور ایک کافر افسوسک ہ آج دین سے دوری کے باعث مسلمان پھر سے مختلف قوموں اور لسانی وصوبائی طبقوں میں بٹ کر اخوت اسلامی سے محروم ہوئے اور کفار انہیں سازش کرکے آپس میں لڑا رہے ہیں خاندان تو غیر اختیاری ہے کہ آدمی مرضی سے رنگ ونسل نہیں بدل سکتا جبکہ قوم مرضی سے اختیار کرسکتا ہے کہ ایمان لاکر یا انکار کرکے قوم بدل سکتا ہے اور اللہ ہر ایک کے کردار کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے زمین وآسمان کو بالکل درست انداز سے پر کیا یعنی کوئی ذرہ ایسا نہیں کہ اسے کہیں اور ہونا چاہیے تھا اور ہے کسی اور جگہ ایساناحق ہرگز نہیں ورنہ اس طرح خوبصورتی سے اپنا اپنا کام نہ کرپاتے اور پھر اس نے تم انسانوں کو صورت گری کی اور بہت ہی بھلی صورت گری کی بہت ہی درست اعضاء وجوارح اور شکل و صورت کہ انسان اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے اور بھلے برے کی تمیز اور اختیار بھی دیا اس پر عمل کے لیے عقل وفکر اور دست وبازو بخشے مگر یہ سب فضول نہیں اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ تمہیں لوٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر بات کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو اسے بھی جانتا ہے اور جو تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہے بلکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی وا اقف ہے۔ یقینا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے احوال سے بھی واقف ہو جو اپنے کرتوتوں کے باعث تباہ ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور ہدایت کا پیغام لائے مگر انہوں نے نہ مانا کہ یہ تو ہماری طرح کا بشر ہے بھلایہ کس طرح ہماری قیادت کا مستحق ہوا۔ بشر اور نور۔ کفار کا خیال تھا کہ نبی کوئی نوری مخلوق ہو جو کھاتا پیتاسوتاجاگتا نہ ہو اور یہ نہ جان سکے کہ نبی کی بشریت سب طرح کی نوری مخلوق سے افضل تر ہوتی ہے اور خود انسانی اوصاف رکھتا ہے اور اطاعت الٰہی عملا کرکے دکھاتا ہے آج کل بھی مسلمانوں میں نوربشر کا جھگڑا ہے حق یہ کہ نبی نور ہے جو (رح) اللہ تعالیٰ کے بعد تمام طرح کی نوری مخلوق سے افضل ہے اور بشر ہے جس کی مثل کوئی دوسرا نہیں۔ ان لوگوں نے کفر اختیار کیا اور نبی کا لایا ہوا دین نہ عقیدے کے اعتبار سے قبول کیا اور نہ عمل کے۔ عقیدہ وعمل۔ یاد رہے کہ نبی دو باتیں لے کرمبعوث ہوئے اول عقیدہ دوسرے عمل میں پھر دو حصے ہیں عبادات اور نظام حیات سب کا انکار کفر ہے عقیدے کا اقرار اور عبادات پر عمل مگر نظام حیات سے فرار منافقت ہے اور عقیدہ عبادت اور نظام حیات پر عمل اسلام ہے۔ مگر وہ لوگ نبی کی راہ سے منہ موڑ گئے تو یہ ان کی اپنی بھلائی کے لیے تھا اللہ تو بےنیاز ہے اسے کسی کی عبادت اور اطاعت کی احتیاج نہیں ۔ وہ ایسی ذات ہے کہ تمام خوبیاں اسی کو سزوار ہیں۔ کفار کو یہ زعم بھی ہے کہ مرکربات ختم ہوجائے گی اور انہیں دوبارہ زندہ نہ کیا جائے گا فرمادیجئے قسم ہے میرے پروردگار کی یعنی اس کی ربوبیت اس پر گواہ ہے کہ انسان کو پیدا کیا عقل شعور اور اختیار دیا ، نیک وبدواضح کیا اور ربوبیت کا تقاضا ہے کہ اس کا نتیجہ بھی مرتب فرمائے لہذا تم سب کو زندہ بھی کیا جائے گا اور جو عمل دنیا میں کیے ہیں ان سے آگاہ بھی کیا جائے گا اور یہ سب اللہ کے لیے مشکل نہیں کہ روزانہ دیکھتے ہو کتنی طرح کی مخلوق عدم سے وجود میں آرہی ہے جس روز تم سب جمع کیے جاؤ گے وہی دن تو کفار کے لیے اصل خسارے کا دن ہوگا ایمان نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح کی رحمت کے مستحق بھی نہ ہوں گے جبکہ وہ مومن جو دنیا میں نبی کے حکم کے مطابق عمل کرنے میں کوشاں ہے اگر ان سے غلطی بھی ہوگئی تو اللہ معاف فرما کر ایسے حسین باغوں میں جگہ بخشے گا جہاں نہریں جاری ہوں گی اور ہمیشہ بہار ہوگی اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے جن لوگوں نے کفر کیا اور میری آیات کا انکار کیا وہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگ اور وہ بہت بری جگہ ہے۔
Ayahs 64:11–18

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے حکم سے آتی ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتے ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہیں

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) پیغمبر کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمہ تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری اولاد تمہارے (دین کے) دشمن ہیں ، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو یقینا اللہ بخشنے والے ، رحم کرنے والے ہیں

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

بیشک تمہارے مال اور اولاد ایک آزمائی ہیں اور اللہ ہی کے پاس بہت بڑا صلہ ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور (اس کے احکام) سنو اور فرماں برداری کرو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ یہ تمہارے اپنے لئے بہتر ہوگا۔ اور جو شخص اپنے نفس کے لالچ سے محفوظ رہا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دو تو وہ اس کہ تمہارے لئے بڑھاتے چلے جائیں گے اور تمہیں بخش دیں گے اور اللہ قدر شناس (اور) بردبار ہیں

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے ، غالب (اور) حکمت والے

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اطاعت رسول ﷺ ۔ لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے اور یہی اللہ کی اطاعت ہے لیکن اگر عقیدہ بھی مانے عبادت بھی کرے مگر نظام حیات میں اطاعت نہ کرے تو یہ عمل پہلے دونوں میں سے بھی خلوص کو ضائع کردیتا ہے اور صرف رسومات باقی رہ جاتی ہیں اور اگر کوئی اطاعت کی راہ سے ہٹ جائے تو نہ اللہ کو اس کی پرواہ ہے اور نہ رسول اللہ کو کہ رسول اللہ کے ذمہ اللہ کا پیغام اور حکم پہنچادینا ہے جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں کوئی ایسی ہستی ہے ہی نہیں کہ اللہ کی اطاعت چھوڑ کر اس کی غلامی کی جائے اور ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ مومن صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتا ہے اور کسی کے ڈر سے اللہ کی اطاعت نہیں چھوڑتا۔ بیوی بچوں سے درگزر کا سلوک۔ اے ایمان والو ! یہ بیوی بچے بھی اللہ کی نافرمانی کرانے میں سبب بن کر دشمن ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی خاطر ناجائزذرائع سے انسان کمانے لگے یا جہاد پر جانے میں رکاوٹ بن جائیں تو اس بارے میں سخت محتاط رہو یہ نہیں کہ ان پر سختی شروع کردو بلکہ درگزر سے کام لو ، علماء نے یہاں سے اخذ فرمایا ہے کہ بیوی بچوں سے پیارومحبت اور درگزر سے کام لے اس میں اصلاح کی زیادہ امید ہے بہ نسبت سختی اور مارپیٹ کے ۔ لہذا انہیں معاف کردیا کرو اللہ خود بھی معاف فرمانے والا ہے اور رحم کرنے والے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے مال دولت دنیا اور اولاد بہت بڑے امتحان ہیں اور لوگ انہی کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں جبکہ اللہ کی اطاعت پر اس کی بارگاہ سے بہت بڑے اجر اور بہت ہی نیک بدلے نصیب ہوتے ہیں۔ لہذا اپنی استعداد اور ہمت کے مطابق پورے خلوص سے اللہ کی اطاعت کرو اور جو حکم ملے پوری توجہ سے سنو اور اسے بجالاؤ اور اپنی ساری قوتیں تعمل ارشاد میں لگادو یہی تمہارے بھلے کی بات ہے اور جس کو اللہ نے ایسی توفیق اطاعت دی کہ کوئی لالچ اس کا راستہ نہ روک سکے تو ایسے لوگ ہی کامیاب والے ہیں۔ اگر تم اللہ کی رضامندی پہ اپنی قوت صرف کرو تو یہ ایسے ہے جیسے تم اللہ کو قرض دے رہے ہو جو بہت اچھا ہے کہ اس کے بدلے کئی گناہ بڑھا کر اجرعطا فرمائے گا اور انسانی کمزوریوں کے سبب تم سے جو کمی رہ گئی وہ معاف فرمائے گا کہ وہ حقیقی قدر دان ہے اور بہت بردبار ہے ہر چھپی اور ظاہر بات سے واقف ہے وہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔