Ayahs 64:1–6ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے اپنی اولاد اور بیوی کی بدسلوکی اور زیادتی آنحضرت ﷺ سے بیان کی تھی۔ عطاء بن یسار بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں اور ابن حبان نے ضعفاء میں اور طبرانی و ابن مردویہ وابن عساکر نے روایت کی ہے کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کی پیشانی پر اس سورة کی پانچ آیتیں 1 ؎ اول کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں یہ روایت صحیح نہیں۔
مناسبت اس سورة کو اول سورة منافقون سے یہ ہے کہ اس میں منافقوں کی مذمت تھی اس میں صادقون کی مدح و خوبی ہے اور یہ بھی ہے کہ اس سورة کی اخیر میں یہ تھا کہ تمہارے مال و اولاد تمہیں یادالٰہی سے غافل نہ کریں جو سراسر خسران ہے اور موت کا ہر وقت کھٹکا ہے پھر اس وقت مہلت نیکی کرنے کی نہیں ملے گی۔ اس مضمون پُر ہدایت کی اس سورة میں تاکید فرماتا ہے کہ ان کی یاد کچھ تم پر موقوف نہیں بلکہ یسبح للہ مافی السمٰوات ومافی الارض کہ آسمان و زمین کے رہنے والے اس کی ہر وقت تسبیح و تقدیس کیا کرتے ہیں اور وہ اسی کے لائق بھی ہے (ا) اس لیے کہ لہ الملک ولہ الحمد۔ بادشاہت اور ستائش اسی کو ہے بادشاہت حقیقی کے تو کیا کہنے ہیں۔ مجازی پادشاہت جس کو حاصل ہوتی ہے سب اسی کی طرف جھکتے ہیں اسی کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ ہر ایک رعیت اسی کی طرف دوڑتی ہے۔ پھر جبکہ بادشاہ میں صفات حمیدہ بھی ہوں (جن کی طرف لہ الحمد میں اشارہ ہے کس لیے کہ حمد کسی نہ کسی ذاتی یا صفاتی خوبی پر ہوا کرتی ہے اور اسی لیے اس جملہ کو بعد میں ذکر کیا) تو اور بھی مرغوب و محمود ہوتا ہے چہ جائیکہ بادشاہ حقیقی اور اس میں تمام خوبیاں بھی ہوں۔ غصہ کا دھیما جواد کریم آنکھوں میں بےانتہا مروت جب کوئی سامنے جا کر عذر آور ہو معاف کر دے اور پھر (2) وھوعلی کل شیء قدیر۔ ہر چیز پر قادر بھی ہو بھلا کرنے پر بھی مضرت پہنچانے پر بھی جیسا کہ وہ صاحب نعمت وجود ہے ویسا ہی صاحب ہیبت و جبروت بھی ہے۔ ہر بادشاہ ہر بات پر قادر نہیں ہوتا لیکن وہ ہر بات پر قادر ہے اس لیے اور بھی ہر ایک مخلوق اسی کی تسبیح و تہلیل کر رہی ہے غیرذوی العقول کی صرف حالت امکانیہ و صورت احتیاجیہ ہی زبان حال سے پکار پکار کہہ رہی ہے سبوح قدوس لک الملک ولک الحمد۔ اور ذوی العقول میں سے ایماندار تو زبان سے بھی ثناخواں ہیں خصوصاً ملائکہ جو بڑی جاں نثار رعیت ہے ہمہ وقت اسی میں رہتے ہیں۔ پھر اے انسان ! تو کیوں غافل اور مہلت چند روزہ میں دنیاوی لذات و شہوات میں شاغل ہے۔
اس کے بعد پھر حضرت انسان کی طرف خطاب کر کے اپنے انعام و افضال سابقہ ولاحقہ یاد دلا کر تسبیح و تقدیس پر آمادہ کرتا ہے (اور نبوت کا یہ فرض منصبی ہے) فقال ھوالذی خلقکم کہ اللہ جس کی ہمہ وقت تسبیح و تقدیس آسمانوں اور زمین میں ہو رہی ہے وہ ہے کہ جس نے تم کو بھی پیدا کیا اس لیے وہ لائق ہے کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرو مگر تمہاری یہ حالت ہے فمنکم کافرومنکم مومن کہ تم میں سے کافروناشکر ہیں نہ اللہ کو جانتے ہیں نہ مانتے ہیں تسبیح و تقدیس کیسی بجائے اس کے غیرمعبودوں کی طرف رجوع ہیں اور بعض مومن ہیں اسی کی پرستش کرتے ہیں، اسی کو مانتے ہیں۔ اس دنیا میں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ضرور سزاء وجزا دے گا۔ واللہ بماتعملون بصیر۔
بندہ کاسب ہے نہ کہ خالق : اہل سنت کے نزدیک بندہ اور اس کے جملہ افعال و کفر و ایمان ‘ نیکی بدی اللہ کے مخلوق ہیں۔ بدلیل قولہ تعالیٰ واللہ خلقکم وماتعملون چونکہ بندہ کاسب ہے اس لیے اس کے اعمال کی جزاء و سزا اس کو ملتی ہے اور کا سب و خالق میں فرق ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں خدائے پاک کفروغیر قبائح کا خالق نہیں کیونکہ یہ اس کی تقدیس میں فرق ڈالتا ہے اس لیے اس آیت کو معتزلہ نے یوں بیان کیا کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا، بعد میں ازخود کچھ کافر کچھ مومن ہوگئے۔ سنی مفسروں نے کہا نہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا، پھر کیونکر پیدا کیا کہ کچھ کافر پیدا کئے کچھ مومن۔ اس آیت کے معنی عطاء و حسین بن فضیل وغیرہ کے نزدیک یہی ہیں کہ تم میں سے کچھ کافر کچھ مومن بن گئے۔ اور یہی سیاق کلام کے مناسب ہے۔ اہل سنت کا استدلال کچھ اس پر موقوف نہیں۔
ا ؎ پیشانی پر ان آیتوں کے لکھے ہونے سے یہ مراد نہیں کہ سیاہی اور قلم سے نسخ خط میں لکھی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ یہ مراد کہ ہر بچہ ہنوز زنگ جہالت و بت پرستی سے عاری ہوتا ہے۔ اب تک اس کی وہی اصل فطرت ہوتی ہے اس کا چہرہ بزمان حال کہہ رہا ہے کہ آسمانوں اور زمین والے اسی کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں الخ الغرض یہ ایک استعارہ ہے اس کی حالت اصلیہ سے جس کو بلفظ کتابت تعبیر کیا ہے۔ سبحان اللہ کیا راز حقیقت رسول کریم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ کچھ تمہیں کو پیدا نہیں کیا بلکہ خلق السمٰوات والارض۔ آسمانوں اور زمین کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ یہ نہیں کہ حرکات فلکیہ اور کواکب کی تاثیرات سے حوادث ظہور کرتے ہیں اور اچھی بری صورتیں بھی تاثیرات فلکیہ سے ہوتی ہیں حتٰی کہ سعادت و نحوست بھی انہیں سے ہے جیسا کہ بہت حکماء اور عرب و یونان و ہند وغیرہ لوگوں کا خیال تھا ان کا رد کرتا ہے۔ وصور کم فاحسن صورکم کہ تمہاری صورتیں بھی اسی کے یدقدرت نے بنائیں۔ پھر دیکھو کیا عمدہ نقشہ کھینچا، ناک کی جگہ کان اور منہ کی جگہ شانے ہوتے تو کیا ہی بدنما معلوم ہوتا۔ یہ اور بات ہے کہ انسانوں میں بھی تفاوت ہے، کوئی خوبصورت، کوئی اس کے لحاظ سے بدصورت 1 ؎ مگر بدصورت بھی مناسبت و اعتدال فطری کے لحاظ سے خوبصورت ہے۔ اس کی شکل کو طبعی مناسبت و اعتدال کے خلاف تصور کر کے دیکھو تو کیسا برا معلوم ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کر کے آزاد نہیں کرد یا کہ آیندہ اس سے کوئی سروکار نہیں رہا بلکہ والیہ المصیر اسی کی طرف پھر کر جانا ہے۔ دنیا میں بھی جب اسباب منقطع ہوجاتے ہیں بندہ اسی کی طرف پھر کرجاتا ہے۔ پھر وہی سوجھتا ہے اس کے بعد اپنے وصف علم کا ثبوت کرتا ہے۔ فقال یعلم ما فی السمٰوات الخ کہ آسمانوں اور زمین کی اور تمہارے دل کی مخفی باتیں جانتا ہے۔ اس میں تنبیہ ہے منافقوں پر کہ دل میں کفرونفاق رکھ کر خدا سے کہاں چھپاؤ گے ؟ یہ تمام امور اس بات کی دلیل ہیں کہ وہی تسبیح و تقدیس کے لائق ہے اور جو کوئی احسان فراموشی کر کے خدا تعالیٰ سے سرکشی کرتا ہے تو وہ دنیا میں بھی گردن مروڑ دیتا ہے اس لیے پہلے برباد شدہ قوموں کے حالات کی طرف اجمالاً اشارہ فرماتا ہے۔ الم یاتکم الخ کہ تمہیں پہلے لوگوں کی خبر نہیں معلوم ہوئی کہ دنیا میں بھی انہوں نے اپنے کردار کا مزہ چکھا اور آخرت میں عذاب الیم کے حوالے ہوئے اور یہ کیوں ہوا کہ اس لیے ان کے پاس رسول نشانیاں اور معجزے لے کر آئے تو وہ منکر ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی آدمی ہم بھی ان میں کیا فوقیت ہے جو یہ ہم کو ہدایت کرنے آئے ہیں (یعنی رسول بشر نہیں ہونا چاہیے مگر خدا حجر ہوجائے تو مضائقہ نہیں) منہ موڑ لیا اور نخوت وتکبر سے بےپروائی کی پھر تو اللہ نے ان سے بےپروائی کی۔ چاہتا تو ان کو راہ راست پر لاتا ‘ ان کے دلوں کو روشن کرتا مگر متکبر سے وہ بھی متکبرانہ پیش آیا کرتا ہے اور اس کو خاک میں جلد ملایا کرتا ہے اسے کسی کی کچھ پروا بھی نہیں۔ 2 ؎
1 ؎ آیات میں الفاظ کی ترتیب و تقدیم و تاخیر میں جو کچھ اسرار ہیں ان کے بیان کے لیے دفتر چاہیے اور کس خوبی کے ساتھ مسئلہ توحید اور اثبات ذات وصفات علیم بذات الصدور تک بیان فرمایا ہے اور الم یاتکم الخ سے مسئلہ نبوت شروع کیا متکبرین نبوت کا شبہ اور ان کی سرتابی اور اس کا انجام بد بھی نہایت پر اثر الفاظ میں کس اختصار کے ساتھ بیان فرمایا اور بندہ کو عبادت و خلوص اور نیک رائی پر الیہ البصر وعلیم بذات الصدور وسبح للہ ما فی السموات الخ جملوں میں کیا آمادہ کیا۔ زمانہ گزشتہ کی عبرتناک اجمالی تاریخ بھی بیان فرمادی۔ یہ ہی اعجاز قرآنی 12
2 ؎ کس لیے کہ خوبصورتی بد صورتی اضافی بات ہے ایک خوبصورت ہے مگر اس کی نسبت جو اس سے بھی بڑھ کر ہے بد صورت کہلاتا ہے اور اسی لیے کہتے ہیں حسن کی انتہا نہیں اور یہی مال بد صورتی کا ہے ایک صورت اپنے سے زیادہ بد صورت کی نسبت خوبصورت خیال کیا جاتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 64:7–10ترکیب : زعم یتعدی الی المفعولین کالعلم ان مخففۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف ای انھم لن یبعثوا فان المخففتہ مع اسمھا وخبرھاقامت مقام المفعولین۔ قل بلی الخ لا یجاب النفی وربی قسم لتبعثن جواب القسم ثم لتنبؤن الخ جملہ مستقلۃ داخلہ تحت الامروارادۃ لتاکید ما افادہ کلمۃ بلی من اثبات البعث فامنوا الفاء فصیحۃ تدل علی شرط حذف لظہورہ ای اذاکان الامرکذا فامنوا واللہ الخ والجملۃ تذییلی مقرر لماقبلہ من الامر یوم قال النحاس الناصب فیہ لتنبئن فیوم ظرفہ وقیل خبروقیل محذوف ھواذکر وقیل اول علیہ الکلام ای تتفاوتون یوم یجمعکم خلدین فیہا ابدا حال مقدرۃ وفیہ مراعاۃ معنی من والذین الموصول وصلۃ مبتداً اولئک الخ الجملۃ خبرہ و بئس الخ بیان لکیفۃ التغابن۔
تفسیر … ذکر معاد : مسئلہ توحید و نبوت کے بعد مسئلہ معاد کو بیان فرماتا ہے تاکہ بیان پورا ہوجائے۔ فقال زعم الذین کفروا الخ کہ کافروں کو گمان ہے مر کر اٹھائے نہ جائیں گے کیونکہ وہ حشر کے منکر تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مر کر خاک ہوگئے گویا روح بھی مرگئی۔ بارِدیگر زندہ ہونا اور حساب و کتاب کیسا ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل اے محمد ﷺ کہہ دیجئے بلی کیوں نہیں۔ قیامت ہوگی، اٹھائے جاؤ گے، پھر قسم کھا کر بلٰی کی تاکید کرتا ہے۔ وربی لتبعثن اے محمد ﷺ کہہ دے مجھے اپنے رب کی قسم ضرور زندہ کر کے قبروں سے اٹھائے جاؤ گے۔ ثم لنتبئون بماعملتم۔ پھر تم کو بتایا جائے گا کہ تم کیا کرتے تھے۔ یعنی نیک و بد کاروں کی جزاء و سزا ہوگی۔ مکہ بلکہ عرب اور دیگر ممالیک کے باشندے یہ سمجھے ہوئے تھے کہ مر کر پھر جینا نہیں۔ ہاں اعمال کی جزاء و سزا اگر ہے تو اسی زندگی میں ہے برے کام کئے، کسی کو ستایا، بیمار ہوگیا یا اولاد مرگئی یا مال کا نقصان ہوگیا اور اچھے کام کئے تو تندرستی ‘ مال و اولاد کی ترقی و عزت و آبرو حاصل ہوگی یا دوسرے جنم میں برائی بھلائی ظاہر ہوگی۔ بعض کا یہ خیال تھا کہ یہ سزاء و جزا بھی کسی کے ہاتھ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے تو وہ قائل نہ تھے۔ دہریے کہتے تھے کہ طبیعت اجسام ہی مدبر ہے جس کو آج کل نیچر کہتے ہیں۔ پس اگر خدا بھی کچھ ان کے اعتقاد میں تھا تو وہی نیچر جیسا بےاختیار کہ عالم میں خلاف قانون نیچر کچھ نہیں کرسکتا۔ جیسا کسی کل کا محرک کہ اب ہلانے کے بعد اس کو کچھ اختیار نہیں۔ آریہ دھرم کا ایشر یعنی خدا بھی اسی کے قریب ہے اس لیے وہ لوگ شہوت پرستی، جفاکاری، عیاری وغیرہ افعال قبیحہ کی مضرت کا کچھ زیادہ اندیشہ نہیں کرتے تھے اور افعال کا حسن و قبح بھی انہیں کے خیالات و رسم و عادات پر منحصر تھا۔ مخلوق خدا پر رحم کرنا، نفع پہنچانا، بڑوں کی تعظیم، محسن کی شکرگزاری کو وہ بھی نیکی سمجھتے تھے اور اس کے برخلاف کو بدی اور اس قدر سمجھنے میں ان کا خیال غلط نہ تھا مگر اور بہت سے بد اور بیہودہ کام تھے جن کو وہ یا تو بد اور بیہودہ ہی نہیں سمجھتے تھے یا اس کے برعکس عبادت جانتے تھے۔ جیسا کہ بت پرستی، شراب خوری، عیاری، کھیل کود، گانا بجانا، ناچناکودنا، شادی غمی کے بیہودہ مصارف اولاد کا قتل کرنا وغیرہ اسی طرح بہت سے نیک کاموں کو بد یا عبث سمجھتے تھے۔ ان سب باتوں کے فیصلے کے لیے بھی الہام و نبوت کی ضرورت تھی اور پھر دارآخرت اور وہاں ان اعمال کی جزاء وسزا دوسری زندگی میں پانا وغیرہ امور بیان کرنا بھی الہام ہی کا کام تھا۔ اس لیے مسئلہ نبوت کے بعد مسئلہ حشر شروع کیا اور ان جملہ امور کی طرف ثم لتنبون بماعملتم میں اشارہ کردیا اور اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا، وذالک علی اللہ یسیر۔ کہ باردگر زندہ کرنا اللہ کو آسان ہے کچھ مشکل نہیں۔ پھر جب یہ ہے تو فامنوا باللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا۔ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر کہ جس کو ہم نے نازل کیا ایمان لاؤ تاکہ تم کو اس جہان کی خوبی حاصل ہو اور وہ کس دن حاصل ہوگی یوم یجمعکم لیوم الجمع کہ جس دن وہ تم سب کو جمع کرے گا۔ جمع کرنے کے دن یعنی قیامت میں ذلک یوم التغابن وہ دن خسارے کا ہے کس لیے کہ دنیا میں جن کاموں کو عمربھر محنت اٹھا کر نیکی سمجھ کر کیا تھا آج عدالتِ آسمانی میں وہی سزا اور ناراضگی کے سبب ہوگئے۔ محنت برباد گناہ لازم ہوگئے۔ اسی خسارے کو ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔ ھل انئبکم بالاخسرین اعمالا الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسنون صنعا کہ کہو تو میں تم کو سب سے زیادہ نقصان پانے والوں کو بتائوں ؟ کہ جن کی دنیا کی کوشش بیکار گئی اور وہ سمجھتے رہے کہ ہم اچھا کر رہے ہیں۔ اس دن سینکڑوں خیالات اور ہزاروں غلط مذاہب کا فساد معلوم ہوجائے گا۔ پھر اس سے بڑھ کر کیا خسارہ اور غبن ہوگا۔ (والتغابن تفاعل من الغبن فی المجازاۃ والتجارات کبیر) (اور اسی تغابن کے لفظ کی وجہ سے اس سورة کا نام تغابن ہوگیا) ۔
ایمان کے ساتھ نیک کام بھی ہونے چاہییں : پھر اس دن کام آنے والی چیزیں بیان فرماتا ہے۔ ومن یؤمن باللہ ویعمل صالحا کہ جو دنیا میں اللہ پر ایمان لایا۔ اس کو حضرت رسول کریم ﷺ کے فرمانے کے موافق ویسا ہی جانا اور یقین کیا اور اس کے ساتھ نیک کام بھی کئے۔ نیک وہی کام ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہیں جن کی رسول ﷺ نے خبر دی اور عقل سلیم نے بعض کی تصدیق کی۔ خالی ایمان بغیر نیک کاموں کے درخت بےبرگ و بےثمر ہے۔ یعقوب حواری اپنے خط میں یہی کہتا ہے اور اعمال کی بڑی تاکید کرتا ہے۔ مگر پولوس اعمال صالحہ کو بیکار ہی نہیں بلکہ ملعون ہونے کا سبب کہتا ہے۔ پھر عیسائیوں نے پولوس ہی کی بات کو مزہ دار سمجھ کر مانا۔ معاذاللہ ! جس مذہب میں اعمال کوئی چیز نہ ہوں صرف ایمان کافی سمجھا جائے ان کی بدکاری ‘ ظلم و عیاری جس قدر ہو کم ہے جس کی نظیر عیسائی ممالیک ہیں۔ جہاں شراب و زنا کی انتہا نہیں۔ پھر اس ایمان اور اعمال صالحہ کا کیا نتیجہ ہوگا۔ یکفرعنہ سیئاتہ شفاعت و کفارہ میں فرق ہے (1) پہلی بات یہ ہوگی کہ اس کے گناہ اس سے مٹا دے گا، بشریت سے گناہ بھی ہوگئے ہیں تو ان کے لیے کفارہ اسی کے اعمال صالحہ اور ایمان ہے نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔ اور یہ سمجھ میں بھی آتا ہے کس لیے کہ دل سے خلوص و محبت رکھ کر اطاعت کرنے والے غلام کے قصور معاف ہونے کا سبب اگر ہے تو اسی کا خلوص و اطاعت ہے نہ کوئی اور۔ ہاں اس خلوص و اطاعت پر نظر کر کے شاہی منشا دیکھ کر اور کوئی مقرب سفارش کرسکتا ہے۔ یہاں سے شفاعت و کفارہ کا فرق بھی معلوم ہوگیا۔ گناہوں کو مٹا دینا فرمایا بخشنا نہیں کہا۔ اس میں یہ سر ہے کہ گویا سرے سے گناہوں کا وجود ہی اس کے نامہ اعمال میں نہ رہے گا۔ وہ وفتر دھو یا جائے گا اور بخشنے میں یہ ہوتا ہے کہ گناہ تو ہیں مٹے نہیں مگر ان کی سزا سے درگزر کیا گیا بلکہ ایسے مخلصین کے وہ قصور کہ جن کے بعد وہ گریہ وزاری کر کے معافی مانگتے ہیں، نیکیاں کرتے ہیں۔ کماقال اولئک یبدل اللہ سیئاتہم حسنات۔ اور کتاب یسعیاہ کے اول باب 18 درس میں بھی یہی مضمون ہے۔
(2) ویدخلہ جنت تجری من تحتہا الانہار خالدین فیہا ابدا۔ کہ اس کو صاف کرنے کے بعد ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے کہ جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ رہا کریں گے نہ وہاں سے کبھی باہر کئے جائیں گے نہ موت و بیماری دیکھیں گے۔ وہ باغ اس جہان کے باغ نہیں بلکہ دوسرے جہان کے جہاں مرتے ہی آدمی جاتا ہے وہاں نہ غم ہے نہ کوئی اندیشہ ہے ہمیشہ سرور و فرحت ہے۔ وہ وذلک الفوز العظیم اور یہ بڑی مراد کا پانا ہے۔ اس سے زیادہ اور کون سی مراد اور کامیابی ہوگی۔ اس کے بعد فریق مخالف کا حال بیان فرماتا ہے۔ والذین کفروا اور جنہوں نے کفر کیا یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو نہ مانا یہ ایمان کے مقابلہ میں کیا۔ وکذبوا بآیاتنا۔ اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہ اعمال صالحہ کے بدلے میں کیا۔ آیات سے عام مراد ہے خواہ آیات الہامیہ یعنی کتاب اللہ کے مطالب اور جملے ہوں خواہ اس کی قدرت ویکتائی کے وہ دلائل جو شب و روزبندہ کے سامنے آتے اور یہ ان سے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور یہی جھٹلانا ہے۔ ان کی اس جہان میں کیا حالت ہوگی۔ اولئک اصحاب النار یہ آگ والے ہوں گے یعنی جہنم کی آگ میں جلا کریں گے۔ خالدین فیہا۔ ہمیشہ رہا کریں گے۔ وبئس المصیر۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے پھر اس دن سے زیادہ کون سا دن حسرت اور تغابن کا ہوگا کہ ایک فریق عزت و شادمانی کے ساتھ حیات ابدی پا کر شادمانی کے تخت پر بٹھایا جاتا ہے اور دوسرا فریق ابدی قیدخانہ میں ڈالا جاتا ہے جہاں سوائے رونے پیٹنے چیخنے چلانے کے کوئی آرام نہیں۔
Ayahs 64:11–12ترکیب : من شرطیۃ یہدقلبہ جوابہ۔ قلبہ بالنصب والرفع فالرفع علی الفاعلیۃ والنصب علی انہ مفعول لیہد مثل سفہ نفسہ فان تولیتم شرط فانما والجملۃ جو ابہ وعلی اللہ متعلق بیتوکل قدم للتخصیص۔ عدواً بالنصب علی انہ اسم ان وخبرہ من ازواجکم واولاد کم۔
تفسیر : ابھی فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والے نیک کام کرنے والے فائزالمرام اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اس پر خیال گزرتا ہے کہ بہت سے ایمانداروں، نیکوں کو ہم مصائب میں مبتلا دیکھتے ہیں، پھر وہ کامیابی کہاں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے : ما اصاب من مصیبۃ الاباذن اللہ۔ کہ کوئی مصیبت (بیماری، تنگدستی، اقارب کی موت، دشمنوں کا غلبہ، مال و جاہ کا زوال یا اس میں کوئی فرق وغیرہ) بغیر حکم الٰہی انسان پر نہیں پڑتی۔ اذن اللہ کے معنی ابن عباس ؓ نے امر اللہ کے بیان فرمائے یعنی اس کی تقدیر و مشیت غرض یہ کہ اس میں کوئی مصلحت ہوتی ہے یا اس کے بعد کوئی سامان عمدہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے جس کو یہ نعمت موجودہ حائل تھی یا مومن کا تعلق قلبی اس چیز سے اٹھانا مقصود ہوتا ہے یا اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجر دینا مقصود ہوتا ہے۔ یا اس کی غفلت و معصیت کا تازیانہ ہوتا ہے کہ جلد ہوشیار ہوجائے۔ اس سے فائزالمزام ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ دنیا کا فوزمراد نہیں بلکہ آخرت کا۔ ومن یؤمن باللہ یہدقلبہ اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے وہ اس مصیبت کے زمرے سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ مومن جان جاتا ہے کہ یہ مصیبت میری فلاں گناہ یا غفلت کی سزا دنیا ہی میں مجھے دے دی، عقبیٰ کے عذاب سے پاک کردیا۔ اور یہ بھی جان جاتا ہے کہ میرا کیا تھا اس نے دیا تھا اسی نے لے لیا ہے اب جزع و فزع گلہ و شکایت کیا ؟ اس لیے مصیبت کے وقت مومن اناللہ واناالیہ راجعون کہتا ہے کہ ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کے پاس جانے والے ہیں۔ اور بہت سی حکمتیں ہیں جن کی طرف واللہ بکل شیئٍ علیم میں اشارہ کرتا ہے۔
ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھنے لگا کہ سب سے افضل کون سا کام ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے عرض کیا اس سے آسان بتائے۔ آپ نے فرمایا تو اللہ کو کسی کام میں جو تیرے لیے فیصلہ کرے متہم نہ کر۔ ایمان باللہ اور نور معرفت کے دو رستے ہیں نعمت کا شکر اور مصیبت پر صبر۔ انسان جس طرح حصول نعمت کے لیے بجا اور بےجا کوششیں کر کے اپنے وقار وقرار کو برباد کرتا ہے اسی طرح دفع مضرت کے لیے بھی پہلے سے پہلے ہزاروں تدابیر عمل میں لاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا بیٹا بیمار پڑا تو پھر علاج وغیرہ جائز تدابیر کے سوا کوئی ناجائز اور خلاف عقل طریقہ بھی نہیں چھوڑا۔ رمال، جفار اڑنگ بڑنگ کرنے والے ملاں سیانے جادوگر بھتنی والے برہمن کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ پھر خلاف عقل جو کچھ وہ کہتے ہیں عمل میں لا رہا ہے۔ گدھوں کو گھنگنیاں کھلاتا ہے، چورا ہے پر چراغ جلاتا ہے، کھانا پکا کر رکھتا ہے، چیل کو ئوں کو گوشت کھلا رہا ہے۔ مقابر حضرات اولیائِ کرام سے التجائیں ہو رہی ہیں، عرضیاں لکھ لکھ کر لٹکائی جا رہی ہیں اور کیا کیا خرافات کر رہا ہے۔ دیوانہ بنا ہوا ہے۔ نہ دن کو چین نہ رات کو خواب۔ کھانا پینا کیسا مگر ہوتا وہی ہے جو مقدر ہوچکا ہے۔ پھر جس کو یہ یقین کامل ہوجائے کہ ما اصاب من مصیبۃ الاباذن اللہ وہ کس اطمینان کے ساتھ اپنے خدائے ذوالجلال کی طرف ملتجی ہے اور مصیبت واقع ہوجانے کے بعد دل ٹھہرا ہوا ہے کہ یوں ہی مقدر الٰہی تھا۔ یہ ہائے وائے شوروفغاں ہیچ۔ یہ باتیں تیرہ سو برس ہوئے عرب کے وحشیوں کو نبوت نے تعلیم کی تھیں جن پر ان کا پورا عمل تھا۔ آج ترقی یافتہ اور مہذب قومیں ان سے حصہ لینے کا قصد کر رہی ہیں۔ واہ اسلام آپ کی کیا کیا برکات ہیں جن سے ہم قدیمی مسلمان محروم رہے جاتے ہیں۔ ان جملہ امور کی پابندی مذہب اسلام کا ایک عمدہ رکن ہے اس لیے فرمایا ہے واطیعواللہ واطیعوا الرسول کہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو اور کسی دوسرے طریقے پر نہ چلو۔ فان تولیتم 1 ؎ فانما علی رسولنا البلاغ المبین اگر تم نہ مانو گے تو تمہارا ہی نقصان ہے۔ ہمارے رسول پر کوئی الزام نہیں کس لیے کہ اس کا کام تو صرف کھول کر حکم پہنچا دینا ہے۔
؎ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خلافت معاملہ میں عمر و ابوبکر ؓ کے لحاظ یا خوف کے سبب علی ؓ کی خلافت کو صاف بیان نہ کیا تھا تو ان کو مان لینا چاہیے کہ خلافت علی کوئی آسمانی نہ حکم تھا ورنہ ضرور بلاغ مبین کرتے بلکہ انتظامی بات تھی جس کو لوگوں کی رائے اور مصلحت وقت پر چھوڑنا مناسب جانا۔
اور یہ بھی جان لو کہ اللہ لا الہ الا ھو اللہ بھی وہ ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ پھر اس سے سرتابی اور عدول حکمی کر کے جاؤ گے کہاں اور کرو گے کیا ؟ بعض احادیث قدسیہ میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو میری بھیجی مصیبتوں پر صبر نہ کرے اور میری دی ہوئی روزی پر قناعت نہ کرے تو وہ میرے آسمان کے تلے سے نکل جائے۔ میری زمین پر نہ رہے اور کوئی خدا تلاش کرے۔ کس قدر توکل کی تاکید ہے اس لیے فرمایا ہے۔ وعلی اللہ فلیتو کل المؤمنون۔ اور اللہ پر نہ کسی اور پر) ایماندار بھروسہ رکھا کرتے ہیں۔ ایمان کی یہی شان ہے کہ ہر کام میں اس کا اللہ پر بھروسہ ہو اور اسباب کو صرف اسباب ہی سمجھے اور جانے کہ کبھی اسباب ہوتے ہیں اور کام نہیں ہوتا اور اسباب ہی پورے ہونے نہیں دیتا، اسباب بناتے اور بگاڑتے اس کو دیر ہی کیا لگتی ہے ؟ یہی اعتقاد عرب کے غریب اور بیکس مسلمانوں کا رہبر تھا جو وہ قیصروکسریٰ جیسے قہار بادشاہوں پر غالب آئے۔ یہی وہ شراب ہے کہ جس کو پی کر تیس مسلمانوں نے جنگ یرموک میں تیس ہزار سپاہ مخالف سے بڑی جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ یہی اعتقاد آدمی کو قومی کاموں میں محنت اور صرف کرنے پر آمادہ کردیتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ توکل اور تعطل میں فرق ہے اسباب کو ترک کر کے بیٹھنا تعطل ہے نہ کہ توکل۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ تدابیر جستہ عمل میں لاتے تھے۔ ہمارے احدی اور سست لوگوں نے جو کاہلی اور عیاشی کے سبب نکمے بنے پڑے رہتے ہیں اس بیہودہ صفت کا نام توکل رکھا ہے۔ یہ ہرگز توکل نہیں جس میں یہ صفت توکل نہیں مومن 1 ؎ کامل نہیں۔ ایمان کامل کا مزہ اسے نصیب نہیں۔ رسمی اسلام کچھ کام نہیں آتا، حقیقی ایمان و اسلام حاصل ہونا چاہیے۔ توکل ترک کر کے بیقرارانہ کوششوں کی طرف اکثر انسان کی اولاد اور بیوی مجبور کیا کرتی ہے۔ ان کی خواہشیں اور خانگی مصارف توکل چھڑا دیتے ہیں، نیک کاموں سے روک دیتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ ان کے بیجا تعلق کے رشتہ کو قطع کرتا ہے۔ فقال یا ایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوًالکم کہ اے ایمان والو ! تمہاری اولاد اور بیویوں میں سے تمہارے دشمن بھی ہیں۔ مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ یہ آدمی کو معصیت اور قطع رحم پر ابھارتے ہیں۔ ہرچند نہیں کرنا چاہتا مگر پھر کرنا ہی پڑتا ہے۔ میاں نہیں چاہتا کہ شادی میں رنڈیاں نچوائے، بھانڈ کو بلائے، دولت اڑائے مگر بیوی صاحبہ کے حکم سے مجبور ہے اور صدہا خرافات میں مبتلا کرتے ہیں بیٹا مصر ہے کہ میری شادی میں ناچ ہو، باوا کرتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے کسی نے اس آیت کے معنی پوچھے، فرمایا، مکہ میں کچھ لوگ اسلام لائے تھے وہ ہجرت کرنا چاہتے تھے، ان کے بال بچے اور بیویوں نے نہ چھوڑا، رونے لگے، چمٹ گئے۔ ایسا ہی ترمذی و ابن جریر نے نقل کیا ہے۔ فرماتا ہے فاحذورھم کہ ان سے بچو نہ یہ کہ قتل کرو، مارو پیٹو اور دلی رنجش جو خلاف کرنے میں بیوی بچوں سے پیدا ہوجاتی ہے اس کی نسبت فرماتا ہے۔ وان نعفوا الخ اگر تم معاف کرو درگزر 2 ؎ کرو، بخش دو تو بہتر ہے اللہ غفور رحیم ہے۔ انما اموالکم واولادکم فتنۃ۔ مال اور اولاد آزمائش کی جگہ ہے۔ ان میں مسلمانوں کو اللہ سے غافل نہ ہونا چاہیے اور نہ ان کے سبب برے کام کرنے چاہییں، نہ مکارم اخلاق اور حسنات باقیات سے رکنا چاہیے۔ یہ دنیا کے جھگڑے ہیں، ان میں بقدر ضرورت مصروف ہونا چاہیے۔ کس لیے کہ جانا دوسرے جہان میں ہے یہ تو رستہ میں شب باشی کے سامان ہیں۔ واللہ عندہ اجر عظیم۔ اجر عظیم جس کو حیات جاودانی کہنا چاہیے اللہ کے پاس ہی مرنے کے بعد ملے گی۔ ان من کے لفظ میں اشارہ ہے کہ سب اولاد اور بیویاں ایسی نہیں بلکہ بعض دین و دنیا میں معین و محب انصار و مددگار بھی ہوتے ہیں۔
Ayahs 64:13–141 ؎ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون کا مخالف مفہوم یہی ہے کہ مومن توکل کرتے ہیں نہ کہ کافر پھر جس میں توکل نہیں گویا وہ کافر ہے۔ 12 منہ
Ayah 64:152 ؎ مصائب برداشت کا ذکر تھا بیوی اور اولاد کا دشمن اور بد خواہ ہوجانا بھی مرد کے لیے بڑی مصیبت ہے اس لیے اس کے بعد اس کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ رخت و گزشت کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی بتادیا کہ یہ فتنہ اور اجر عظیم اللہ اللہ کے پاس ہے۔ 12 منہ
Ayah 64:16ترکیب : خیرا منصوب مضمر دل علیہ اتقوا کانہ قال ائتوافی الانفاق خیر لانفسکم وقد موا خبر الھا ھذا قول سیبویہ۔ وعند الکسائی والفراء ھو نعت الصدر محذوف ای انفاقا خیرا و قال ابو عبیدہ ھو خبر یکن مقدرۃ فی جواب الامر وقال الکوفیون منصوب علی الحال وقیل ھو مفعول بہ لا نفقوا ومن شرط فاولئک الجملہ جو ابہ ان تقرضوا شرط یضاعفہ جو ابہ ولذاصار مجزوما ویغفر معطوف علیہ عالم الغیب الرفع علی انہ خبر بعد خبر۔ العزیز موصوف الحکیم صفتہ وکلاھما خبر مبتد واحد ھما مبتداء والاخر خبر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا تمہارے مال و اولاد فتنہ ہیں اور اجر عظم اللہ کے پاس ہے اور انسان پھر انسان ہے اس فتنہ میں پڑ ہی جاتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے خیر اگر تم مال و اولاد کے سبب معاصی میں مبتلا بھی ہوجاؤ تو فاتقوا اللہ ما استطعتم واسمعوا واطیعوا۔ تو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم سنو اور سن کر مانو۔ یہ کفارہ زن و فرزند کی محبت بےجا کا ہے اور مال کی محبت کا یہ کفارہ ہے کہ وانفقوا خیر لانفسکم اس کو اپنی بھلائی کے لیے خرچ 1 ؎ کرو کس کے لیے کہ جو دے لو گے وہ تمہارے ساتھ چلے گا جس کا اجر یقینا ملے گا جو چھوڑ گئے وہ تمہارے پاس سے جاتا رہا۔
یا یوں کہو کہ اجر عظم جو اللہ کے پاس ہے اس کے حاصل کرنے کے طریقے بتلاتا ہے۔ (1) اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے یہ قوت نظریہ کی تکمیل ہے (2) سنو اور عمل کو۔ یہ قوت عملیہ کی تکمیل ہے مگر دونوں بدنی عبادت ہیں۔ (3) اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ مالی عبادت ہی خرچ کرنا عام ہے زکوٰۃ ہو یا صدقات نافلہ ہوں اقارب و یتامٰی وغیرہ و مسافرین وغیرہ اس کے مستحق پہلے کئی بار بتلا چکا ہے اس لیے اس کا ذکر نہیں کیا۔ قتادہ و ربیع بن انس و سدّی وابن زید وغیرہ علماء فرماتے ہیں کہ یہ آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم ناسخ ہے اس آیت کی۔ اتقوا اللہ حق تقاتہ کو اللہ سے ڈر جیسا کہ ڈرنا چاہیے۔ ابن ابی حاتم نے رسی کی تائید میں ایک روایت کی ہے کہ جب فاتقوا اللہ حق تقانہ نازل ہوئی تو لوگوں نے اعمال کی سخت مشقت اختیار کی یہاں تک کہ نماز میں کھڑے رہنے سے پائوں سوج سوج گئے تب اللہ نے مسلمانوں پر تخفیف کرنے کے یے یہ آیت فاتقوا اللہ ما استطعتم نازل ہوئی کہ جہاں تک طاقت ہو وہاں تک ڈرو۔ مگر ابن عباس ؓ وغیرہ علماء فرماتے ہیں یہ ناسخ نہیں دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں کس لیے کہ حق تقاتہ کے یہ معنی نہیں کہ اپنی طاقت سے زیادہ ڈر کیونکہ خدا تعالیٰ بندے کو اس کی طاقت سے زیادہ کوئی حکم نہیں دیتا بلکہ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ جہاں تک طاقت ہو اور یہی ڈرنے کا حق بھی ہے۔ ابن عطا فرماتے ہیں کہ ما استطعتم اس کے لیے ہے جو اللہ سے ثواب پر راضی ہو اور جو راضی نہ ہو تو اس پر وہی حکم حق تقاتہ ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ خرچ کرنا ان کا کام ہے جو لالچی اور حریص نہیں اور حرص سے بچے ہوئے ہیں وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب بھی ہیں (شح بخل اور لالچ یہ عام ہے مال کا ہو ‘ جاہ کا ہو ‘ عورت کا ہو) انسان کے اوصاف رذیلہ میں سے یہ بھی ایک ایسی بری خصلت ہے کہ عزت سے محروم کرتی ہے اور نیک کاموں سے روکتی ہے بری باتوں چوری ‘ قتل ‘ غضب ‘ جھوٹ بولنے ‘ بد عہدی کرنے پر ابھارتی ہے عصمت پارسائی کو کھول دیتی ہے۔
پھر اللہ کی را ہمیں صرف کرنے کو قرض دینا فرما کر اطمینان دلاتا ہے اور اس کے فوائد ظاہر کرتا ہے۔ (1) یضاعفہ لکم اس کا دو چند ثواب دے گا یہاں تک کہ ایک کے ساتھ سو تک ملیں گے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس مال کو بڑھا دے گا۔ تجربہ ہے کہ سخی کے مال میں برکت ہوتی ہے۔ (2) تم کو بخش دے گا اور اللہ قدر دان ہے حلیم بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا پھر بندے کے اجر کو ضائع کرنے میں کیونکر جلدی کرے گا مگر صدقہ میں نیت اور خلوص پر مدار ہے اس لیے قرض حسن فرمایا تھا اس کی طرف عالم الغیب والشہادۃ میں اشارہ کرتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کہنے سے کہ اللہ کو قرض 1 ؎ دو یہ نہ سمجھو کہ وہ عاجز ہے بلکہ العزیز زبردست اور قادر ہے یوں نہ دو گے تو وہ برباد بھی کرسکتا ہے الحکیم اس دینے میں تمہارے لیے صدہا حکمتیں ہیں۔
1 ؎ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر صبح فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک کہتا ہے کہ الٰہی دینے والے کو عوض دے دوسرا کہتا ہے بخیل کو برباد کر (متفق علیہ) نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ فرماتا ہے اے ابن آدم تجھے دیا جائے گا (متفق علیہ) نبی ﷺ نے فرمایا ظلم سے بچو کہ وہ قیامت کے دن ظلمات ہے اور لالچ سے بچو کیونکہ پہلے تم سے جو ہلاک ہوئے اس لالچ سے ہوئے اس نے ان خون کرنے اور حرام چیزوں کے حلال کرنے پر آمادہ کیا تھا (رواہ مسلم) نبی ﷺ نے فرمایا صدقہ غضب الٰہی کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ بخیل بری موت مرتا ہے ادنیٰ بات یہ ہے کہ مرتے وقت مال و اسباب کی جدائی کا ایسا رنج ہوتا ہے کہ اللہ کو بھی بھول جاتا ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 64:17–181 ؎ قرض حسن یعنی اچھا ہو مال اور خلوص نیت سے۔ 12 منہ