64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsانوار البیان

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لا متناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(64:1) یسبح للہ ما فی السموت والارض۔ (ملاحظہ ہو 57:1 ، 62:1) اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ لہ الملک ولہ الحمد : الملک بادشاہت۔ الحمد (ال استغراق کا ہے یعنی ہر قسم کی تعریف) تعریف۔ لہ میں لام تملک کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے ۔ لہ دونوں جگہ ذکر کیا گیا۔ یہ تقدیم مفید حصر ہے۔ یعنی اللہ ہی کے لئے ہر تعریف ہے اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر : جملہ ھذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ یا لہ کی ضمیر واحد مذکر سے حال ہے۔ درآں حالیکہ وہ ہر شے پر قادر ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسکو دیکھتا ہے۔

(64:2) ھوالذی خلقکم : جملہ مستانفہ ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ فمنکم کافر :تعقیب کا ہے۔ یعنی پیدائش کے بعد کچھ لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ ومنکم مؤمن : خلق کی تشریح اور تفصیل ہے۔ کافر مبتداء منکم من تبعیضیہ ہے کم ضمیر ضمر مذکر حاضر۔ خبر۔ اسی طرح ومنکم مومن اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ مومن مبتداء منکم خبر۔ خدا نے تم کو سب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا پھر ان صلاحیتوں کو غلط یا صحیح انداز سے استعمال کرکے تم میں سے کئی کافر ہوگئے اور کئی مومن بن گئے۔ واللہ بما تعملون بصیر : اللہ مبتداء بصیر خبر، بما تعلمون متعلق خبر، اور اللہ تعالیٰ (خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

(64:3) بالحق : حق کے ساتھ ۔ بہمہ وجوہ ٹھیک ٹھاک۔ صورکم : فعل ماضی واحد مذکر غائب تصویر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی صورت بنانا کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تمہاری صورت کھینچی، اس نے تمہاری شکل بنائی۔ فاحسن صورکمتعقیب کا ہے احسن ماضی واحد مذکر غائب اس نے اچھا بنایا۔ احسان (افعال) مصدر۔ صورکم : مضاف مضاف الیہ۔ صور جمع ہے صورۃ کی، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ۔ پھر اس نے تمہاری صورتوں کو اچھا بنایا۔ المصیر : اسم ظرف مکان صیر (باب ضرب) مصدر۔ لوٹنے کی جگہ۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

(64:4) ما تسرون : ما موصولہ۔ تسرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر۔ جو تم پوشیدہ رکھتے ہو، جو تم چھپاتے ہو وما تعلنون۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ تعلنون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اعلان (افعال) مصدر۔ اعلان کرنا۔ آشکارا کرنا ، ظاہر کرنا۔ واللہ علیہم بذات الصدور : اللہ مبتداء ، باقی جملہ اس کی خبر۔ یہ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ اور اللہ کی صفات جو اوپر مذکور ہوئیں۔ ان کی تائید میں آیا ہے۔ علیہم، علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے (خوب جاننے والا۔ علماء جمع۔ ب حرف جار ہے۔ ذات الصدور۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ متعلق خبر۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ یعلم ماتسرون : یعنی اللہ تمہارے اسرار اور ان خیالات سے واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جو چیز معلوم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے خواہ وہ کلی ہو یا جزائی اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ کیونکہ ہر چیز سے اس کی نسبت (یعنی تخلیقی تعلق و نسبت) ایک جیسی ہے۔ قدرت کا علم سے پہلے ذکر اس لئے کیا کہ کائنات اپنے خالق پر براہ راست دلالت کرتی ہے اور کائنات کا استحکام تخلیقی اور ہر حکمت بناوٹ اللہ کے علم کی دلیل ہے۔ علم کا دوبارہ ذکر در حقیقت مکرر و عید ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی نافرمانی اور خلاف رضا عمل کرتے ہیں۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔

(64:5) الم یاتکم : ا ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ لم یاتی مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی آنا۔ آجانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ خطاب کفار مکہ یا تمام اہل مکہ سے ہے۔ کیا تمہارے پاس نہیں آئی۔ (اے اہل مکہ یا اے کفار مکہ) ۔ نبو اسم مرفوع۔ خبر۔ اطلاع۔ مضاف۔ الذین کفروا اسم موصول و صلہ جنہوں نے کفر کیا۔ من قبل : ای من قبلکم تم سے پہلے ۔ متعلق صلہ۔ اسم موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ نبؤ کا۔ کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جنہوں نے تم سے قبل کفر اختیار کیا (مثل قوم نوح وقوم ہود (علیہ السلام) ، قوم صالح (علیہ السلام) وغیرہ) فذاقوا :ترتیب کا ہے یعنی وہ خبر یہ ہے کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والا انجام بھی انہوں نے چکھ لیا۔ ذاقوا ماضی جمع مذکر غائب ذوق (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے چکھا۔ انہوں نے چکھ لیا۔ وبال امرھم : امرھم مضاف ، مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ وبال مضاف کا مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل ذاقوا کا۔ وبال کسی کام کا انجام بد۔ وہ بوجھ اور سختی جو کسی کام کے انجام کے طور پر مرتب ہو۔ الوبیل۔ وہ طعام جو معدہ پر گراں گزرے۔ الوابل وہ بارش جو موٹی موٹی بوندوں والی ہو۔ پس چکھ لیا انہوں نے اپنے فعل کے انجام کا ضرر (اس دنیا میں ) ولہم عذاب الیہم : اور (آخرت میں) ان کے لئے ہے دردناک عذاب عذاب الیم موصوف و صفت۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

(64:6) ذلک یعنی عذاب جو انہوں نے اس دنیا میں بھگتا اور عذاب جو وہ آخرت میں بھگتیں گے۔ بانہ : ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ ذالک بانہ بیشک یہ (عذاب دنیا و عذاب آخرت) اس سبب سے ہے۔ کانت تاتیہم۔ ماضی استمراری صیغہ واحد مؤنث غائب (بمعنی جمع مذکر) ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان کے پاس آئے تھے یا آیا کرتے تھے رسلہم مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل فعل کانت تاتی کا۔ ان کے رسول۔ ان کے پیغمبران، یعنی خدا کے ارسال کردہ پیغمبر جو ان کی طرف بھیجے جاتے تھے۔ بالبینت : ب تعدیہ کے لئے ہے البینت معجزات وواضح دلائل۔ واضح اور روشن دلائل لے کر آتے تھے۔ فقالوا :عاطفہ۔ اس کا عطف کانت تاتیہم پر ہے۔ تو یہ (لوگ) کہتے ۔ یا ۔ تو انہوں نے کہا۔ ابشر یھدوننا (یہ ان کا مقولہ ہے) ہمزہ استفہامیہ۔ استفہامیہ ۔ بشر مبتدائ۔ یھدوننا اس کی خبر۔ یھدون مضارع جمع مذکر غائب ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ کیا آدمی ہم کو ہدایت کریں گے۔ فکفروا :ترتیب کا ہے۔ نتیجہ انہوں نے انکار کیا (اپنے پیغمبروں کا) وتولوا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور انہوں نے منہ موڑ لیا۔ روگردانی کی۔ تولوا ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر ۔ بمعنی منہ موڑنا۔ پشت پھیرنا ۔ واستغنی اللہ یہ جملہ ، جملہ ماقبل کا معطوف ہے استغنی ماضی واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر۔ اس نے بےپرواہی کی، یعنی اللہ نے ان کے ایمان اور ان کی طاعت سے بےپرواہی کا اظہار فرمایا۔ واللہ غنی حمید : جملہ معترضہ تذییلی ہے صفت مذکورہ ماقبل کی تائید کے لئے آیا ہے۔ اللہ مبتدائ۔ غنی خبر اول حمید خبرثانی۔ غنی غناء سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد مذکر ہے۔ مالدار۔ بےنیاز، بےپرواہ۔ غیر محتاج۔ اللہ تعالیٰ کا اسم صفت ہے۔ حمید بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول۔ ای محمود، جو اپنی ذات میں ہی مستحق حمد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

(64:7) زعم ماضی واحد مذکر غائب زعم (باب نصر) مصدر۔ زعم اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن مجید میں یہ لفظ ہمیشہ اسی موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہو چناچہ فرمایا۔ زعم الذین کفروا (64:7 آیت ہذا) کفاریہ زعم کرتے ہیں اور بل زعمتم (18:48) مگر تم یہ خیال کرتے ہو۔ اور اسی مادہ (زع م) سے زعامۃ سے ب کا صلہ کے ساتھ بمعنی مال وغیرہ کا ضامن بننا بھی ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وانا بہ زعم (12:72) اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ ان لن یبعثوا : ان مخففہ ہے ان سے۔ بےشک۔ لن یبعثوا مضارع منفی مجہول تاکید یہ لن۔ ان کو (ہرگز موت کے بعد دوبارہ زندہ کرکے) اٹھایا نہیں جائے گا۔ بعث (باب فتح) مصدر سے۔ قل : ای قل لہم یارسول اللہ ﷺ ۔ بلی وربی لتبعثن : بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے۔ (1) ایک تو نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسا کہ آیت زیر غور میں ہے۔ زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (کافروں کا خیال ہے یا وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہرگز وہ نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہو۔ جیسے :۔ (1) استفہام حقیقی جیسے الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں) اور جواب میں کہا جاوے بلی۔ (2) استفہام توبیخی، جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:403) کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں بلکہ ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ (3) یا استفہام تقریری ہو۔ جیسے الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں ! (تو ہی ہے) ہم گواہ ہیں (نیز ملاحظہ ہو 3:76) وربی : واؤ حرف جر ہے لیکن یہاں بطور واؤ قسم مستعمل ہے۔ یہ صرف اسم ظاہر پر آتا ہے۔ جیسے واللہ (خدا کی قسم) والتین (قسم ہے انجیر کی) ۔ ربی مضاف مضاف الیہ۔ میرا رب وربی (مجھے) اپنے رب کی قسم۔ فائدہ : بعث بعد الموت پر قرآن مجید میں رب کی قسم تین دفعہ کھائی گئی ہے :۔ (1) آیت ہذا : قل بلی وربی (64:7) (2) ویستبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق ۔ (10:53) اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ (3) وقال الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم (34:3) اور کافر کہتے ہیں کہ قیامت (کی گھڑی) ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو ! کیوں نہیں (آئے گی) میرے رب کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ لتبعثن مضارع مجہول بلام تاکید و نون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ بعث (باب فتح) مصدر بمعنی بیدار کرنا۔ زندہ کرنا۔ مردہ کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھانا۔ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ۔ یہ جواب قسم ہے۔ (وربی کے جواب میں) ثم لتنبؤن : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔ ازاں بعد۔ لتنبئون مضارع مجہول بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ صیغہ جمع حاضر۔ تمہیں بتایا جائے گا۔ تمہیں خبر دی جائے گی۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر۔ بمعنی آگاہ کرنا ۔ خبر دینا۔ بتلانا۔ یعنی تمہارے اعمال کا محاسبہ ہوگا اور ان پر جزا و سزا ملے گی۔ یہ جملہ بعث بعد الموت کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ وذلک علی اللہ یسیر : واؤ عاطفہ ، ذلک : یعنی یہ دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا اور اعمال کا محاسبہ کرنا۔ یسیر : صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ ی س ر مادہ۔ آسان ۔ سہل، ذلک مبتدائ۔ یسیر اس کی خبر۔ علی اللہ متعلق خبر۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاو۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

(64:8) فامنوا :شرط محذوف کی طرف دلالت کر رہا ہے۔ ای اذا کان الامر کذلک۔ یعنی جب حشر اور قبروں سے اٹھایا جانا اور اعمال کا محاسبہ ضروری اور یقینی ہے۔ فامنوا تو ایمان لاؤ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر یمن مادہ۔ تم ایمان لاؤ۔ النور : ای القران۔ واللہ بما تعملون خبیر : جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ ایمان باللہ وایمان بالرسول وایمان بالقرآن کے متعلق حکم کی تعمیل میں جو تم کرتے ہو۔ اللہ تمہارے ان اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

(64:9) یوم یجمعکم یوم فعل مقدرہ (اذکر) کا مفعول ہے۔ یاد کرو وہ دن جب وہ تم کو اکٹھا کرے گا۔ یوم الجمع۔ لام تعلیل کے لئے ہے یوم الجمع مضاف مضاف الیہ جمع یجمع (باب فتح) کا مصدر ہے۔ جمع ہونے کا دن۔ جمع کرنے کا دن۔ اکٹھا کرنے کا دن ۔ مراد اس سے روز قیامت ہے جب ملائکہ اور جن و انس اگلے پچھلے سب محاسبہ اور جزا و سزا کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ ذلک ای ذلک الیوم یہ دن۔ یوم التغابن۔ یوم تغابن ہوگا۔ روز قیامت کو یوم تغابن کہا گیا ہے۔ تغابن۔ غ ب ن مادہ سے ثلاثی مجرد کے ابواب غبن یغبن باہمی معاملہ میں پوشیدہ طور پر اپنے ساتھی کو کسی غیر محسوس طریقے سے کاروبار میں یا باہمی معاملہ میں نقصان پہنچایا) ۔ اسی مادہ سے ابواب ثلاثی مزید فیہ میں تغابن (تفاعل) سے جس کے خواص میں سے ایک خاصیت اشتراک ہے یعنی کسی کام کے کرنے میں دو یا دو سے زیادہ اشخاص موجود ہوں۔ جس میں ہر ایک بطور فاعل بھی شامل ہو اور بطور مفعول بھی۔ اس صورت میں تغابن کا مطلب ہوگا :۔ دو یا دو سے زیادہ اشخاص کا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا۔ متہی الارب میں اسے یوں بیان کیا ہے :۔ درزیاں افگندن بعض مر بعض را۔ اور یوم تغابن کے متعلق لکھتے ہیں :۔ ” روز قیامت است بداں سبب کہ اہل جنت اہل دوزخ را درزیاں وغبن اندازند “۔ اور غیاث اللغات میں ہے :۔ ” یک دیگررا درزیاں افگندن “۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں :۔ یوم التغابن سو دوزیاں والا دن ۔ تفہیم القرآن میں لکھا ہے :۔ ” تغابن : بعض لوگوں کا بعض لوگوں کے ساتھ غبن والا معاملہ کرنا ۔ ایک شخص کا دوسرے شخص کو نقصان پہنچانا۔ اور دوسرے کا اس کے ہاتھوں نقصان اٹھانا۔ یا ایک کا حصہ دوسرے کو مل جانا اور اس کا اپنے حصہ سے محروم رہ جانا۔ یا تجارت میں ایک فریق کا خسارہ اٹھانا اور دوسرے فریق کا نفع اٹھا لیجانا۔ یا کچھ لوگوں کا کچھ لوگوں کے مقابلہ میں ضعیف الرائے ہونا۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ وھو مستعار من تغابن القوم فی التجارۃ وھو ان یغبن بعضھم بعضا لنزول السعداء منازل الاشتیاء التی کانوا ینزلونھا لوکانوا سعدا ونزول الاشقیاء منازل السعداء التی کانوا ینزلونھا لو کانوا اشقیاء ۔ کما ورد فی الحدیث۔ ترجمہ : ۔ اور یہ محاورہ ” تغابن القوم فی التجارۃ “ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں بعض لوگوں کا بعض لوگوں سے تجارت میں غبن کا معاملہ کرنا۔ نیکو کا ردوں کا بدکاروں کی جگہیں لے لینا جو بدکاروں کو ملتیں اگر وہ نیک ہوتے اور بدکاروں کا نیکو کاروں کی جگہیں لے لینا جو نیکو کاروں کے نصب میں ہوتی اگر وہ بدکار ہوتے۔ حدیث شریف میں ایسا ہی آیا ہے۔ ان ہی معانی میں صاحب ” ایسر التفاسیر “ لکھتے ہیں :۔ ” ذلک یوم التغابن : ای یغبن المؤمنون الکفرین باخذھم منازل الکفار فی الجنۃ واخذ الکفار منازل المؤمنین فی النار۔ مومن لوگ کفار سے غبن کا معاملہ کریں گے جنت میں واقع ان کی جگہیں لے کر اور اہل کفار دوزخ میں واقع مؤمنین کی جگہیں لے کر “۔ ومن یؤمن باللہ۔ واؤ عاطفہ من شرطیہ یؤمن مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط، صیغہ واحد مذکر گا ئب۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا۔ جملہ شرطیہ ۔ ویعمل صالحا : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے واؤ عاطفہ یعمل مضارع مجزوم بوجہ شرط ۔ واحد مذکر غائب صالحا سے قبل عمالا محذوف ہے ای ویعمل عملا صالحا : عملا مفعول مطلق صالحا اس کی صفت بمعنی نیک، صالح اور جو نیک کام کریگا۔ یکفرعن۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ واحد مذکر غائب تکفیر (تفعیل) مصدر جن کے صلہ کے ساتھ (خدا) اس کے گناہ معاف کردیگا۔ سیئاتہ مضاف مجاف الیہ مل کر مفعول یکفرعنہ کا۔ سیئات جمع سیئۃ کی ۔ گناہ ۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع من موصولہ شرطیہ ہے۔ اس کے گناہ ۔ یدخلہ مضارع واحد مذکر غائب ادخال (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس کو داخل کرے گا۔ تحتھا : مضاف مضاف الیہ ۔ اس کے نیچے۔ مراد جنتوں کے نیچے، باغوں کے نیچے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنت ہے خلدین فیہا ابدا : جمہ حالیہ ہے جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب، خلود (باب نصر) مصدر سے۔ فیہا ای فی الجنۃ۔ ابدا ظرف زمان ہے جو مستقبل میں نفی و اثبات کی تاکید کے لئے آتا ہے مثلاً لا افعلہ ابدا میں اس کو ہرگز نہیں کروں گا۔ ذلک ای ما زکر من تکفیر السیئات وادخال الجنۃ۔ گناہوں کی بخشش اور جنت میں داخلہ کے متعلق جو مذکور ہوا ہے الفوز العظیم : موصوف و صفت۔ بڑی کامیابی۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

(64:10) والذین کفروا او کذبو بایتنا۔ موصول اور صلہ مل کر مبتدائ۔ اولئک ۔۔ الخ سارا جملہ اس کی خبر ہے۔ اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اس آگ میں ہمیشہ رہا کریں گے اور (وہ) برا ٹھکانہ ہے۔ ” جزاو سزاء کی دونوں آیات (64:9-10) تغابن کی تفصیل ہیں۔ یا۔ یوم الجمع میں جو سب کو جمع کیا جائے گا اس کی اصل غرض و مقصد کا اظہار اور دونوں فریقوں کے الگ الگ نتیجہ کا بیان ہے “۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔

(64:11) ما اصاب من مصیبۃ۔ ما نافیہ ہے اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ من تبیضیہ مصیبۃ اسم فاعل واحد مؤنث اصابۃ (افعال) مصدر سے بمعنی پہنچنا مصیبۃ پہنچنے والی۔ تکلیف۔ مسیبت، نہیں پہنچتی کوئی مصیبت۔ ومن یؤمن باللہ یھد قلبہ واؤ عاطفہ، من موصولہ، شرطیہ۔ یھد قلبہ جملہ جواب شرط ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے (اللہ) اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ۔ یعنی اس کے دل کو صبر و رضا کی راہ دکھا دیتا ہے۔ یھد مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ واللہ بکل شیء علیم۔ واؤ عاطفہ۔ اللہ مبتداء علیم اس کی خبر۔ بکل شیء ب حرف جار۔ کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق خبر۔ اور اللہ ہر بات کو جانتا ہے۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔

(64:12) فان تولیتم : جملہ شرطیہ ہےسببیہ ہے (ایمان و اطاعت کے امر کا پہنچنا روگردانی کا سبب ہے۔ ان شرطہ ۔ بمعنی اگر۔ تولیتم ماضی جمع مذکر حاضر تولی (تفعل) مصدر۔ بمعنی منہ پھیرنا۔ پھرجانا۔ روگردانی کرنا۔ اگر تم نے منہ موڑا۔ اگر تم پھرگئے۔ فانما علی رسولنا البلاغ المبین۔جواب شرط کے لئے ہے اور سابقہ جملہ کا جواب شرط ہے۔ البلغ المبین۔ موصوف و صفت، البلغ پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ مصدر ہے اور قرآن مجید میں یہ لفظ بمعنی تبلیغ آیا ہے۔ المبین ابانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بمعنی ظاہر کرنے والا۔ البلغ المبین۔ وہ تبلیغ جو تمام امور کو مفصل طور پر صاف صاف بیان کر دے۔ جملہ شرطیہ کے بعد جواب کی علت محذوف ہے۔ ای فلابأس علیہ۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ اگر تم نے (اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت سے) روگردانی کی۔ تو اس کا (اللہ کے رسول پر) کوئی ضرر نہیں ۔ کیونکہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف تبلیغ مبین تھی (جو وہ بطریق احسن فرض ادا کرچکے) ۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

(64:13) اللہ لا الہ الا ھو : یہ جملہ حکم ایمان و اطاعت کی علت ہے۔ (اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس لئے کہ) وہی اللہ ہے اس کے سوا قابل عبادت کوئی نہیں) ۔ فلیتوکل : امر کا صیغہ مذکر غائب توکل (تفعل) مصدر۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کرے (یہاں جمع کے صیغہ کے معنی میں آیا ہے۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن لوگ۔ علی اللہ کا تعلق فلیتوکل المؤمنون سے ہے۔ تقدیم حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ خاص اللہ پر ہی مومن لوگوں کو بھروسہ کرنا چاہے فائدہ : ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ اہل مکہ میں سے کچھ مرد مسلمان ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن ان کے اہل و عیال نے ان کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم نے تمہارے مسلمان ہونے کا صبر کرلیا لیکن اب تمہاری جدائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ بیوی بچوں کی اس التجاء کو انہوں نے مان لیا اور ہجرت کا ارادہ ترک کردیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

(64:14) ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم : ان حرف تحقیق اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے خبر کی تاکید و تحقیق مزید کے لئے آتا ہے۔ عدوا بالنصب اسم ان ۔ اور من ازواجکم واولادکم اس کی خبر (تفسیر حقانی) من تبعیضیہ ہے ان میں سے بعض۔ ترجمہ ہوگا :۔ مسلمانو ! تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں۔ فاحذروھم :سببیہ احذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حذر (باب سمع) مصدر۔ کسی خوف کی بات سے ڈرنا۔ بچنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب پس تم ان سے بچو۔ (یعنی ان کا کہا نہ مانو کہ ان کی وجہ سے ہجرت چھوڑ بیٹھو) ۔ وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا۔ واؤ عاطفہ۔ ان شرطیہ۔ تعفوا اصل میں تعفون تھا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ عفو (باب نصر) مصدر۔ بمعنی معاف کرنا۔ درگزر کرنا ۔ اور گار تم معاف کردو ، درگزر کرو۔ تصفحوا اصل میں تصفحون تھا ان شرطیہ کے عمل سے نون اعرابی حذف ہوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ صفح (باب فتح) مصدر۔ تم درگزر کرو۔ تغفروا اصل میں تغفرون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی کرگیا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے غفر (باب ضرب) مصدر۔ تم بخشو۔ تم معاف کردو۔ یہ جملہ شرط ہے اس کے بعد جواب شرط محذوف ہے۔ علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں کہ :۔ اس کے بعد کا جملہ فان اللہ غفور رحیم ہی جواب کے قائم مقام ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمائے گا جو تم ان (اپنے ازواج و اولاد) کے ساتھ کروگے۔ اور تم پر اپنا فضل کرے گا۔ کیونکہ وہ عزوجل بڑا غفور اور رحیم ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں کہ :۔ ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ جب وہ لوگ مدینہ پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ (ان سے پہلے ہجرت کرکے آنے والے) کچھ لوگ دینی مسائل سیکھ چکے ہیں ۔ یہ دیکھ کو ان کو اپنے اہل و عیال پر غصہ آیا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے اہل و عیال کو سزا دیں۔ کیونکہ بیوی بچوں ہی نے ان کو ہجرت سے روک رکھا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :۔ وان تعفوا و تصفحوا ۔۔ الخ۔ یعنی اگر تم ان کا قصور معاف کردو گے اور ان سے درگزر کروگے اور ان کی خطا بخش دوگے تو اللہ بھی تم کو معاف فرمائے گا۔ اور تم پر مہربانی کرے گا کیونکہ اللہ ہی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔

(64:15) انما : بیشک ، تحقیق۔ سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے ۔ جو کہ حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ اموالکم (مضاف مضاف الیہ) تمہارے مال۔ واولادکم : (مضاف مضاف الیہ) تماری اولادیں۔ اسم ان۔ فتنۃ۔ اس کی خبر۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولادیں (تمہارے لئے) آزمائش ہیں ۔ الفتن کے دراصل معنی سونے کو آگ میں ڈالنے اور گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اس لحاظ سے کسی کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے یوم ھم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ اور آزمائش اور امتحان لینے کے معنی میں بھی آیا ہے مثلاً وفتناک فتونا (20:40) اور ہم نے تمہاری کئی بار آزمائش کی) ۔ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو مفردات القرآن ، امام راغب۔ واللہ عندہ اجر عظیم۔ اس سے قبل عبارت محذوف ہے، یعنی اس آزمائش کے باوجود جس نے اللہ کی محبت اور اس کی اطاعت کو دنیاوی اموال و اولاد پر ترجیح دی اس کے لئے اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ ای واللہ عندہ اجر عظیم لمن اثر محبۃ اللہ تعالیٰ وطاعتہ علی محبۃ الاموال والاولاد (روح المعانی) فائدہ : آیت 14 میں اہل و عیال کی عداوت کے اظہار کے موقعہ پر ان من ازواجکم واولادکم فرمایا یعنی من تبعیضیہ ذکر کیا کہ تمہاری ازواج اور اولاد میں سے بعض (سارے نہیں) تمہارے دشمن ہیں لیکن دنیاوی مال و اولاد کو سب کو بلا استثناء باعث فتنہ فرمایا۔ کیونکہ یہ سب آزمائش ہیں۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

(64:16) فاتقوا اللہ میںسببیہ ہے۔ یعنی اوپر جو آیات 14-15 میں ازواج و اولاد و دنیاوی معاملات بیان ہوئے ہیں ان سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔ ما استطعتم : ما موصولہ استطعتم : اس کا صلہ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استطاعۃ (افتعال) مصدر تم سے ہوسکے۔۔ تم کرسکو۔ ما استطعتم جو تم سے ہو سکے ، جو تم کرسکو۔ جہاں تک تم سے ہوسکے۔ جہاں تک تم کرسکو۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ ڈرتے رہو۔ واسمعوا۔ واؤ عاطفہ اسمعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ سمع باب سمع مصدر اور (اس کا حکم) سنو۔ واطیعوا۔ واؤ عاطفہ اطیعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر اور (اس کی ) اطاعت کرو۔ وانفقوا۔ واؤ عاطفہ انفقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ خیرا لانفسکم اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) اگر خیرا اور لانفسکم ایک ساتھ پڑھے جاویں تو اس صورت میں یہ جملہ اوامر متذکرہ بالا کے جواب میں کان مدرہ کی خبر ہے ترجمہ ہوگا :۔ پس جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔ اور (اس کے احکام کو) سنو (اور بجالاؤ) اور (اس کی) اطاعت کرو۔ اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ (2) خیرا مصدر محذوف کی صفت بھی ہوسکتی ہے ای انفقوا انفاقا خیرا۔ اس صورت میں انفاقا مفعول مطلق اور خیرا اس کی صفت ہوگی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اچھا خرچ (یعنی اپنی قیمتی شے خرچ کرو یا دل کھول کر خرچ کرو) ۔ (3) خیرا بمعنی مالا بھی ہوسکتا ہے ۔ اس صورت میں یہ انفقوا کا مفعول بہ ہوگا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (اس کی راہ میں اپنا قیمتی مال) خرچ کرو۔ خیر بمعنی مال اور جگہ بھی آیا ہے مثلاً وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال کی سخت محبت کرنے والا ہے۔ نوٹ : نمبر ایک والی صورت زیادہ راجح ہے۔ ومن یوق شح نفسہ جملہ شرط ہے۔ من موصولہ یوق اس کا صلہ یوق تھا بوجہ شرط یوق ہوا۔ بمعنی بچایا گیا۔ بچا لیا گیا۔ شح : امام راغب لکھتے ہیں کہ :۔ شح وہ بخل ہے جس میں حرص ہو اور عادت بن گیا ہو۔ خود غرضی۔ یہ مصدر ہے اور اس کا فعل باب ضرب۔ نصر، علم تینوں سے آتا ہے۔ یہاں مضاف ہے اور نفسہ مضاف مضاف الیہ مل کر اس کا مضاف الیہ ہے۔ اور جو شخص اپنے طبعی بخل سے بچا لیا گیا۔ فاولئک ہم المفلحون : جملہ جواب شرط ہےجواب شرط ہے۔ اولئک اسم اشارہ بعید۔ جمع مذکر۔ وہی لوگ۔ المفلحون : اسم فاعل جمع مذکر۔ افلاح (افعال) مصدر۔ فلاح پانے والے۔ کامیاب لوگ۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دو چند دیگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔

(64:17) ان تفرضوا اللہ : جملہ شرط ہے ان شرطیہ۔ اگر : تقرضوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اقراض (افعال) مصدر ۔ بمعنی قرض دینا۔ اللہ مفعول فعل تقرضوا کا یہ اصل میں تقرضون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ اگر تم اللہ کو قرض دو ۔ قرضا حسنا : قرضا مفعول مطلق۔ موصوف حسنا صفت، قرضا کی بمعنی اچھا عمدہ۔ خوب۔ ہر لحاظ سے پسندیدہ۔ یضعفہ لکم۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یضعف مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب کا مرجع قرضا ہے۔ وہ اس کو بڑھا دے گا۔ دگنا کر دے گا۔ وہ اس کو بڑھا کر دے گا۔ لکم تم کو، تمہارے لئے یعنی دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ چاہے گا اجر عطا فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماۃ حبۃ واللہ یضعف لمن یشاء واللہ واسع علیہم (2:261) جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک میں سودانے ہوں ۔ اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے اور وہ بڑی ہی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔ ویغفرلکم اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واللہ شکور حلیم : اور اللہ شکور اور حلیم ہے۔ شکور : وہ بندہ جو اطاعت الٰہی اور اس کی عبادت کی بجا آوری کے ذریعے جو کہ اس پر مقرر کی گئی ہے حق تعالیٰ کی شکر گزاری میں خوب کوشاں ہو۔ اور شکور کا جب اللہ تعالیٰ کی صفات میں استعمال ہوگا تو اس کے معنی بڑے قدردان یعنی تھوڑے کام پر بہت بڑا ثواب دینے والے کے ہوں گے۔ شکور : شکر یشکر کا مصدر ہے شکر و شکر ان بھی مصدر ہے۔ حلیم : حلم سے (باب کرم) مصدر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حلم بمعنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنا۔ یعنی برد باری اور تحمل کرنا۔ حلیم : سزا دینے میں جلدی نہ کرنے والا۔ بردبار۔ تحمل والا۔ باوقار۔ یہ اللہ کے اسماء حسنی میں ہے ہے۔ کیونکہ اصل حلم اس کا ہے۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے۔

(64:18) علم الغیب والشھادۃ۔ یعنی اس کے علم سے کوئی شے مخفی نہیں۔ جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور جو چیز لوگوں کے علم سے پوشیدہ ہے اللہ سب کو جانتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ :۔ جو چیز اس وقت موجود ہے اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیز پہلے ہوچکی یا آئندہ ہونے والی ہے۔ سب سے خدا تعالیٰ واقف ہے۔ العزیز۔ ہر شے پر غالب ، جس کی قدرت بھی کامل ہے اور علم بھی ہمہ گیر۔ عزۃ سے فعیل کو وزن پر نمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الحکیم : حکمۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حکمت والا اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کیونکہ اصل حکمت اسی کی حکمت ہے۔