Ayah 64:11 ۔ کائنات ساری اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے، اسی کی بادشاہی، اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کائنات ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول و منہمک ہے، اور اس میں انسان کے لیے آنکھیں کھولنے والا ایک عظیم الشان درس عبرت و بصیرت پایا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول و منہمک رہے کہ اسی میں اس کا بھلا اور بہتری ہے دنیا و اکرت دونوں میں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی پاکی بیان کرتی ہے آسمان و زمین کی ہر چیز ماضی و حال میں بھی اور مستقبل و مآل میں بھی، اسی لیے کہیں " سبح " ماضی کا استعمال فرمایا گیا اور کہیں " یسبح " مضارع کا، پس اصل حمد و ثنا ہر جگہ اور ہر حال میں اسی کو سزاوار ہے سبحانہ وتعالی۔ سو وہ پاک ہے ہر نقص و عیب اور ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے اور کائنات کی تسبیح زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے، اور زبان قال سے بھی، اور اس میں انسان ضعیف البنیان کے لیے یہ درس بھی ہے کہ وہ بھی اس رب حمید کی حمد و ثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول و منہمک رہے، اس میں اس کے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ بھی ہے، اور اس کائنات سے ہم آہنگی بھی جو کہ آگے کئی طرح کی سعادتوں کا ذریعہ و وسیلہ بنتی ہے کہ وہی وحدہ لا شریک اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے، اس میں اسی کی بادشاہی اور حکومت ہے، جو ہر تعریف کا حق دار ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے، اور وہی ہے جس نے پیدا فرمایا تم سب کو اے لوگو، محض اپنے فضل وکرم اور اپنی بےپایاں قدرت و حکمت سے اور خلق و وجود ہی تمام نعمتوں کی اصل اساس ہے کہ بقیہ تمام نعمتیں اسی نعمت وجود کی توابع اور اسی پر متضرع ہیں، اور جب خلق ایجاد کی اس نعمت میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی کے اعتماد کے لیے تنہا وہی وحدہ لاشریک کافی ہے، اس لیے دل کا بھروہ ہمیشہ اسی پر رکھا جائے، اور دست دعا وسوال بھی ہمیشہ اسی کے آگے پھیلایا جائے کہ وہی ہے سب کا حاجت روا اور مشکل کشا، سبحانہ وتعالی فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 64:22 ۔ بندوں کی تقسیم دو گروہوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے پیدا فرمایا تم سب کو پھر تم سے کچھ کافر ہیں، اور کچھ مومن اور وہ پوری طرح دیکھتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو، سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں جماعتیں اصل میں دو اور صرف دو ہی ہیں، ایک ایمان والوں کی، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں، اور دوسری کفر والوں کی کہ کفر خواہ کسی بھی شکل کا ہو وہ بہرحال کفر ہی ہے، اور اہل کفر خواہ وہ کسی بھی قوم قبیلے اور رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب بہرحال کفار اور ایک ہی گروہ اور جماعت ہیں، بہرکیف آسمان و زمین کی تو ہر چیز اس کی تسبیح میں مصروف ہے اور اس کا تقاضا تھا کہ انسان بھی اس خالق ومالک کی تسبیح سے سرشار و رطب اللسان رہے۔ لیکن انسان کو اس نے ارادہ و اختیار کی آزادی سے نوازا ہے، جس سے کچھ تو ایمان لائے اور اس طرح وہ سعادت دارین کے اہل اور مستحق ٹھہرے، اور کچھ نے کفر کی راہ کو اپنایا جس سے وہ دوزخ کے حقدار بنے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ اللہ ان تمام کاموں کو دیکھ رہا ہے جو تم سب کر رہے ہو اے لوگو۔ اور ان کا بھگتان تم سب کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور اپنے کیے کرائے کا جواب تم لوگوں کو بہرحال دینا ہوگا، جو کہ تقاضا ہے اس کی شان عدل کا۔
Ayah 64:33 ۔ سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، سو کوئی شا ہے یا نہ چاہے، مانہ یا نہ مانے، اس کو بہرحال وہاں پہنچنا اور حاضر ہونا ہوگا تاکہ وہاں پہنچ کر وہ اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوسکیں، سو جس وحدہ لاشریک نے عظیم مقصد کے تحت اس کائنات کو پیدا فرمایا، اور جس اہتمام سے اس نے انسان کو وجود بخشا اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ہر کوئی اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دے اور اس کا صلہ وبدلہ پائے ورنہ یہ سارا اہتمام بیکار ہو کر رہ جائے گا۔ جو اس خالق حکیم کے تقاضائے حکمت کے خلاف ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
Ayah 64:44 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ سب کچھ جو تم لوگ چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ اپنے ظاہر و باطن کا معاملہ درست رکھنے کی فکر و کوشش میں لگے رہا کرو، کہ یہی اصل اور اساس ہے دارین کی فوز و فلاح کی، اللہ توفیق بخشے آمین ثم آمین۔ پس جن لوگوں نے کفر و انکار سے کام لیا اور حق کو جھٹلایا وہ آخر کار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، سو کفر و انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال برا اور نہایت ہولناک ہے، تاریخ اس کی گواہ ہے، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی اس تذکیر و یاد دہانی میں بندوں کے لیے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس طرف توجہ کرتے ہیں اور دل و دماغ کی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
5 ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے چھپے رازوں کو بھی جانتا ہے، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے تو پھر اس سے تمہاری کوئی حالت اور کوئی کیفیت بھلا کس طرح چھپی رہ سکتی ہے ؟ سبحانہ و تعالی۔ اس لیے ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرو، وباللہ التوفیق۔ افسوس کہ جس خالق ومالک کے کمال علم اور احاطہ علم وقدرت کی شان یہ ہے کہ وہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کو اس طرح اور ایک برابر اور پوری طرح جانتا ہے اور جو دلوں کے چھپے بھیدوں اور مخفی رازوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ ہے، آج کا جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک اس کو دنیاوی حاکموں اور بادشاہوں وغیرہ پر قیاس کر کے اس کے لیے طرح طرح کے شرکیہ عقائد گھڑتا ہے اور وہ صاف کہتا ہے اور اس کی تبلیغ و تلقین کرتا ہے کہ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے، وہ ہماری سنتا نہیں، اور ان کی رد نہیں کرتا، اور یہی وہ مشرکانہ فلسفہ ہے جو مشرکین عرب اپنے کفر و شرک کے جواز اور اپنے خود ساختہ اور من گھڑت خداؤں کے بارے میں بھگارا کرتے تھے، اور ان کے اس مشرکانہ فلسفے کی تصریح خود قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس طرح فرمائی گئی " ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی " یعنی ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم ان کی پوجا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں، والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف،
Ayah 64:56 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور تخصیص و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے اپس اے لوگو پہلے منکروں کی خبر نہیں پہنچی ؟ یعنی جیسے قوم نوح، قوم ھود اور قوم صالح وغیرہ کی کہ وہ لوگ اپنے کفر اور انکار اور بغاوت و سرکشی کے نتیجے میں آخر کار کس انجام سے دو چار ہوئے ؟ سو کفر و انکار اور تکذیب حق کا آخری انجام اور نتیجہ بہرحال تباہی اور ہولناک تباہی ہے، پس اس پر ملنے والی مہلت اور ڈھیل سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے تاریخ سے درس عبرت و بصیرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، کہ تاریخ کو صرف معلومات میں اضافے کے لیے نہیں دیکھو، بلکہ اس پر نگاہ عبرت و بصیرت ڈال کر اس سے درس عبرت لو کہ کون تھے یہ لوگ ؟ اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے ؟ کیا جرم اور بگاڑ تھا ان کا ؟ اور کس کے نتیجے اور انجام سے دو چار ہوئے یہ ؟ اور کیوں ؟ اور کیا درس ہے ہمارے لیے ان لوگوں کے اس انجام میں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو تاریخ سے درس عبرت لینا ہی اسل اور اہم مقصود ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
7 ۔ کفر و انکار کا مآل و انجام نکالو عذاب، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار چکھنا اور بھگتنا پڑا ان لوگوں کو نتیجہ و انجام اور وبال و نکال اپنے کیے کرائے کا، یعنی آخرت سے پہلے اسی دنیا میں کہ وہ لوگ کس طرح پتھروں کی ہولناک بارش، تباہ کن سیلابوں، اور زمینی زلزلوں، اور قسما قسم کے دوسرے عذابوں سے ہلاکت و تباہی کے دائمی گھاٹ پر اتر گئے، اور ان کا ہمیشہ ہمیش کے لیے صفایا ہوگیا اور وہ اس طرح مٹ مٹا گئے اور ان کو اس طرح تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا کہ اب اوراق اور بطون کتب میں ان کی داستانہائے عبرت اور قصہ ہائے پارینہ کے سوا خارج میں ان کا کوئی نام و نشان تک باقی نہیں، سوائے ان کی ان عمارتوں کے کھنڈرات کے جن پر ان کو بڑا فخر و ناز ہوا کرتا تھ اور جو دنیا والوں کو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو، سو اس آیت کریمہ میں پایا جانے والا یہ استفہام تنبیہ و تفریع کے لیے ہے جس سے مخاطبوں کو جھنجھوڑا جارہا ہے کہ وہ اپنی کافرانہ اور باغیانہ روش سے باز آجائیں، ورنہ جو حشر کل کے ان منکروں کا ہوا ہے وہ ان کا بھی ہوسکتا ہے، کہ اللہ کا قانون سب کے لیے ایک اور بےلاگ ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اس طرح کے غور و فکر سے انسان کے دل و دماغ سے غفلت کے پردے بنتے ہیں، اس کی آنکھیں کھلتی ہیں، اور ان کے لیے راہ حق روشن ہوتی ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
8 ۔ منکروں کے لیے اصل عذاب آخرت ہی میں ہوگا۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ آخرت میں ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے، یعنی اس طرح کے دنیاوی عذابوں سے ان لوگوں کا آخرت کا عذاب ٹل نہیں کیا، بلکہ وہ بدستور باقی رہا اور جو کہ اتنا سخت اور اس قدر ہولناک و دردناک عذاب ہے کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر و مثال بھی ممکن نہیں، " ولعذاب الاخرۃ اشق والعیاذ باللہ العظیم " سو جب ماضی کی ان منکر اور سرکش و باغی قوموں کے یہ عبرتناک مناظر تمہارے سامنے موجود ہیں اور تم ان کے آثار و نشانات کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، پھر تم لوگ اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ خالق ومالک مطلق ایک دن ایسا بھی لائے جس میں وہ ساری دنیا کا انصاف کرے، اور اس طرح اس کے کامل عدل اور کامل رحمت کا ظہور ہو۔ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ ملے اور اس کائنات کے مقصد وجود و تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث و بیکار ہو کر رہ جائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم کی شان عدل و حکمت کے خلاف ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اصل فکر آخرت ہی کرنی چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 64:69 ۔ حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب باعث ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ یعنی ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کا یہ سلسلہ اس لیے ہوا کہ جب ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل کے ساتھ آئے تو انہوں نے ان کی بشریت کی بنا پر ان کو جھٹلا دیا، حالانکہ ان دلائل کے ذریعے نور حق و ہدایت کو ان کے لیے پوری طرح واضح اور آشکار کردیا گیا تھا مگر انہوں نے اپنے عناد و استکبار کی بناء پر پھر بھی نہ مانا اور اس طرح دائمی شقاوت و بدبختی ان پر چپک کر اور چسپاں ہو کر رہ گئی، والعیاذ باللہ۔ سو اپنی سرکشی اور اپنے استکبار کی بناء پر ان لوگوں نے حق کو مان کر نہ دیا، اور کہا کہ کیا ہم جیسے بشر ہی ہم کو ہدایت دیں گے، ہم ہی جیسے انسانوں کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجنے کو ہم کیسے مان سکتے ہیں ؟ سو اس طرح وہ حق کا انکار کر کے دائمی خسارے میں مبتلا ہو کر رہے، اور اپنی اس تکذیب و انکار کے باعث اور اس کے نتیجے اور انجام میں وہ لوگ ایسے ہولناک انجام سے دو چار ہوئے اور ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) اور ان کے لائے ہوئے پیغام حق و ہدایت کی تکذیب و انکار کا نتیجہ و انجام دائمی ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، و سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
10 ۔ بشریت انبیاء کی بناء پر حق کا انکار، والعیا ذباللہ : سو ان لوگوں نے حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی بشریت پر تعجب کیا اور اس بناء پر انہوں نے ان کا انکار کیا جس کے نتیجے میں آخر کار یہ لوگ ہلاکت کے ہولناک گڑھے میں جا گرے، اور ہمیشہ کے لیے " فی النار والسقر " ہوگئے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا کہ کیا بشر ہم کو ہدایت دیں گے ؟ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بشر ہمارے لیے ہادی و رسول ہو کر آئے، اور ہم اس کی پیروی کریں، کیونکہ وہ لوگ نبوت اور بشریت کے درمیان منافات اور تضاد سمجھتے تھے کہ جو نبی و رسول ہوگا وہ انسان اور بشر نہیں ہوسکتا، اور جو انسان اور بشر ہوگا وہ نبی و رسول نہیں ہوسکتا، اور یہی غلط فہمی آج کے اہل زیغ و ضلال کو بھی بدستور لگی ہوئی ہے، سو ان کا کہنا اور مانا بھی یہی ہے کہ نبی بشر نہیں ہوتا، فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان کھلے کافروں نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کدیا، اور آج کے یہ اعجوبہ پرست لوگ ان کی نبوت و رسالت کو ماننے کا دعوی کر کے ان کی بشریت کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں بشرت اور نبوت و رسالت یہ دونوں صفتیں جمع ہوتی ہیں اور بیک وقت جمع ہوتی ہیں، یعنی یہ کہ حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) بیک وقت بشر اور انسان بھی ہوتے ہیں اور نبی و رسول بھی، اس لیے کلمہ شہادت میں عبدہ و رسولہ، فرما کر دونوں کے یکجا ہونے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، پھر یہاں پر کفار کی کوڑھ مغزی اور مت ماری کا یہ پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے بےجان اور بےحس و حرکت بتوں، مورتیوں اور پتھروں کو تو اپنا خدا اور معبود تک مان لیا، اور ان کے آگے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کی ذلت تک کو قبول اور بسر و چشم قبول کرلیا، اور اس میں ان لوگوں کو کوئی قباحت نہیں آئی، لیکن حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی قدسی صفت ہستیوں کو یہ لوگ اللہ کا نبی اور رسول ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے کا کہ اس کے بعد انسان کی مت ایسی مار کر رکھ دی جاتی ہے کہ وہ ذلت و خواری کے طرح طرح کے گڑھوں میں گرتا اور جابجا کی ٹھوکریں کھاتا جاتا ہے، اور نور حق کو ماننے اپنانے سے اندھا بہرا بن کر طرح طرح کے ہولناک اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جا گرتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان منکروں اور سرکشوں نے پیغمبروں کے بشریت کی بناء پر ان کی دعوت حق کو جھٹلایا، اور ان کی رسالت کا انکار کدیا، اور اس طرح وہ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جاگرے، سو انکار و تکذیب حق محرومیوں کی محرومی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال و سوء وانحراف،
11 ۔ پیغام حق ہدایت سے اغراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضھ فرما دیا گیا کہ پیغام حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام بڑا ہولناک اور دائمی ہلاکت و تباہی ہوتا ہے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ جب ان لوگوں نے حضرات انبیاء و رسول (علیہم السلام) کی بشریت طاہری کی بنا پر اس کے پیغام حق و ہدایت کا انکار کیا اور ان سے منہ موڑ لیا تو اللہ نے بھی بےنیازی کا معاملہ فرما کر کہ وہ ہے ہی غنی و بےنیاز، اس نے " نولہ ما تولی " کے مصداق ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جس کا نتیجہ و انجام یہ ہوا کہ آخرکار یہ لوگ دوزخ کا ایندھن بن گئے جو کہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے، جیسا کہ اس نے اپنے اس قانون مجازات کا دوسرے مقام پر خود اعلان فرمایا ہے، " و نصلہ جھنم و ساءت مصیر " اور وہ وحدہ لاشریک تو ہے ہی غنی و بےنیاز ہر کسی سے اور ہر طرح سے اور بےنیازی وکبریائی تو ہے ہی اسی کی شان سبحانہ وتعالی۔ اور اس کی سنت اور اس کا دستور یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو حق و ہدایت کی دولت سے سرفراز کرنے کے لیے پورا اہتمام فرماتا ہے، لیکن جو لوگ اس کے جواب میں بےقدری اور ناشکری سے کام لیتے ہیں تو وہ ان کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اس بےقدری اور ناشکری کا تنیجہ خود بھگتیں سو پیغام حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام دائمی محرومی ہلاکت اور ہولناک خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
12 ۔ اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تو ہے ہی بےنیاز ہر تعریف کا حقدار سو وہ کسی سے اور ہر طرح سے غنی و بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے، کہ اس کون و مکان میں جو بھی کوئی خوبی و کمال کہیں بھی موجود ہے وہ سب اسی وحدہ لا شریک کی طرف سے ہے، اس لیے ہر تعریف کے لائق حقیقت میں وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اللہ تعالیٰ کو جو لوگوں کی ہدایت مطلوب ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس میں اس کا کوئی نفع اور فائدہ ہے، نہیں وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے، وہ تو ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود کامل ہے، وہ جو ہدایت کا انتظام کرتا ہے تو خود لوگوں ہی کے بھلے اور فائدے کے لیے کرتا ہے کہ ان کی صلاح اسی میں ہے، لیکن جب وہ قدر نہیں کرتے تو وہ اس کو زبردستی لوگوں کے اوپر نہیں لادتا، سو وہ چونکہ غنی اور بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم، حکیم و کریم، اور رؤف وحمید بھی ہے اس لیے وہ اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اس طرح انتظام فرماتا ہے تاکہ اس کے بندے دائمی ہلاکت و تباہی سے بچ جائیں۔ سبحانہ وتعالی، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر اعتبار سے اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین
Ayah 64:713 ۔ اثبات قیامت قطعیت کے ساتھ : سو انکار قیامت سے متعلق منکرین کے زعم باطل کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ہاں قسم ہے میرے رب کی تم لوگوں کو ضرور بالضرور اٹھایا جائے گا، یعنی جب حضرت خالق جلد مجدہ نے تمہیں اس کائنات کی سب سے اشرف و اعلی اور سب کی مخدوم ومطاع مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے اور تمہیں عقل و فکر کے بےمثال جوہر سے نوازا ہے تو پھر یہ کس طرح اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری پیدائش بےمقصد اور تمہارا وجود عبث و بےکار ہو ؟ اور یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز تو بامقصد ہو، مگر اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان بےمقصد ہو ؟ اور یہ یونہی بےمقصد زندگی گزار کر کیڑے مکوڑوں کی طرح مر گل کر ختم ہوجائے گا ؟ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ (المومنون 115، 116 پ 18) یعنی " کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور کیا تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹایا جائے گا ؟ سو بڑا ہی بلند وبالا ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جو کہ رب ہے عرش کریم کا "۔ سبحانہ وتعالی۔ سو منکرین قیامت نے " لن یبعثوا " کے کلمات تاکید کے ذریعے جس زور اور قوت کے ساتھ بعث بعد الموت کا انکار کیا تھا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر زور و قوت کے ساتھ اس کے اثبات کا ذکر فرمایا گیا ہے، پھر " بلی و ربی " کی اس قسم کے اندر دو عظیم الشان پہلو پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ رب کائنات کی ربوبیت کی جو شانیں اس کائنات کے گوشے گوشے میں پائی جاتی ہیں وہ اس بات کو واجب کرتی ہیں کہ حضرت خالق جل مجدہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں فرمائے گا، کہ یہ اس کی شان ربوبیت اور عدل و حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے، اور دوسرا پہلو اس میں اس تاکید کا یہ ہے کہ یہ پیغمبر ہی کی شان ہے اور ہوسکتی ہے کہ وہ جو ثبوت قیامت کے بارے میں اس طرح قسم کھا کر اعلان کرے، کیونکہ اس بات علم قطعی پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ فلسفی کی بات جو محض عقلی دلائل پر مبنی ہوتی ہے وہ ہوسکتا ہے اور ہونا چاہیے، کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکتی، اس لیے پیغمبر کی زبان سے " قسمیہ " الفاظ میں کہلوایا گیا کہ قیامت کی وہ گھڑی بہرحال اور قطعی طور پر آکر رہے گی اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل دونوں کا، اور حضرت خالق حکیم کے عدل و انصاف کا اور انسان کا دنیا و آخرت دونوں میں، اللہ تعالیٰ قیامت کے اس یوم حساب کے لیے تیاری کی توفیق بخشے اور اس یوم عظیم میں کامیابی سے سرشار سرفراز فرمائے، آمین ثم آمین، اللہ تعالیٰ اس یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
14 ۔ روز قیامت کی جوابدہی کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگوں کو خبر کردی جائے گی تمہارے ان تمام کاموں کی جو تم لوگوں نے زندگی بھر کیے ہوں گے، یعنی صرف اٹھنا ہی نہیں ہوگا بلکہ اٹھنے کے بعد اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور پورا بدلہ بھی پانا ہوگا، کیونکہ رب کی شان ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ نیکوں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہ فرمائے، بلکہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کا پورا پورا صلہ و بدلہ دے اور بدکاروں کو ان کی برائی کی قرار واقعی سزا دے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں اور یہ قیام قیامت کے بغیر ممکن نہیں، لہذا قیامت کا قائم ہونا عقل و نقل ہر اعتبار سے ضروری ہے، ورنہ زمین و آسمان کے اس کارخانہ ہست و بود کی تخلیق اور اس کا وجود عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا جو اس خالق حکیم کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالی، اللہ تعالیٰ اس یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے اور اس کے لیے تیاری کرنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
15 ۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے : کہ اس کی قدرت کی کوئی حد نہیں اس کی شان " علی کل شیء قدیر " کی شان ہے کیس بھی امر کے لیے اس کا صرف ارادہ چاہیئے اور بس، کہ اس کی شان کن فیکون کی ہے، سبحانہ وتعالی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یس 82 پ 23) یعنی اس کی شان یہ ہے کہ جب اس کو کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے صرف اتنا فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ کام ہوچکا ہوتا ہے، سو اس کے لیے سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں جمع کردینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہاں پر اسباب و وسائل کی ضرورت و احتیاج کا کوئی سوال نہیں، بلکہ صرف ارادہ و اشارہ کی دیر ہوتی ہے، محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس سے یہ سب کے سب نکل کر میدان حشر میں موجود ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ (النازعات 13، 14 پ 30) سو وہ غیر محدود علم اور غیر محدود قدرت کا مالک ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس جو لوگ اللہ پاک سبحانہ کی قدرت کو اپنے اوپر قیامت کر کے بعث بعد الموت کے اس کام کو ناممکن سمجھتے ہیں وہ اس ان کا اپنا قصور ہے کہ مخلوق میں سے کسی کے لیے ایسا کرنا واقعی بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ ان کا علم بھی ناقصد و محدود اور ان کی قدرت میں ناقص و محدود، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا نہایت آسان ہے کہ اس کا علم بھی کامل و لامحدد اور اس کی قدرت بھی کامل و لامحدود ہے، سبحانہ و تعالی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس یوم حساب میں کامیابی و سرخروئی نصیب فرمائے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر قائم رکھے اور ہر قسم کے زیغ و ضلال اور غفلت و لاپرواہی سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین یا من بیدہ ملکوت کل شی قدیر وھو یجیر ولا علیہ ،
Ayah 64:816 ۔ دلائل قدرت کا نتیجہ و تقاضا، ایمان باللہ : سو اس لیے ان دلائل کے نتیجے اور تقاضے کے طور پر ایمان باللہ کی دعوت دی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پس تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کے نور پر، جس کو ہم نے اتارا ہے۔ یعنی قرآن حکیم پر جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ دکھاتا ہے، اور جو کہ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثل نور ہے کہ اس کے سامنے سورج اور چاند وغیرہ کے تمام نور ہیچ اور بےمعنی ہیں اور جو کہ حق اور حقیقت کی راہوں کو روشن کرتا ہے اور یہ وہ ایک نور عظیم ہے جس سے حق اور باطل کے درمیان فرق و امتیاز پوری طرح واضح ہوجاتا ہے، پس تم لوگ اس کی قدر کرو کہ یہ وہ نعمت عظمی ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور اس پر ایمان اور اس کی اتباع اور قدر دانی انسان کو دارین کی سعادت و سرخوئی سے ہمکنار و سرفراز کرنے کے لیے شاہ کلید ہے، جبکہ اس سے اعراض و روگردانی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " فامنو " کی فاء تفریع سے یہ درس دیا گیا کہ جب عقل و نقل کے ان دلائل سے حق پوری طرح واضح ہوگیا تو اس کے نتیجے میں اور اس کے لازمی تقاضے کے طور پر تم لوگ صدق دل سے ایمان لے آؤ اللہ پر اس کے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے اتارا ہے، جو کہ سعادت دارین کی راہوں کو روشن اور واضح کرنے والا عظیم الشان اور بےمثال نور ہے، اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ۔ پس تم لوگ صدق دل سے اس پر ایمان لے آؤ کہ یہی تقاضائے عقل و نقل ہے اور اسی میں تمہارا بھلا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
17 ۔ اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو، اسی کے مطابق وہ تمہیں جزا و سزا سے نوازے گا، پس اس کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھنے کی ہمیشہ فکر و کوشش کرتے رہا کرو، اور کبھی تم کہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ جو کچھ تم لوگ کرتے ہو وہ اس سے بیخبر ہے، بلکہ جو کچھ بھی تم لوگ کرتے وہ سب اس کے علم میں ہے، اور ایک دن وہ سب کچھ تمہارے سامنے آجائے گا، سو اس ارشاد میں نیکوکاروں کے لیے تبشیر و تحضیض ہے کہ ایسے لوگ مطمئن رہیں کہ ان کا کوئی عمل ضائع نہیں جائے گا، اس لیے وہ کسب خیرات میں اور آگے بڑھیں، وباللہ التوفیق۔ اور دوسری اس میں بدکاروں کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے کہ وہ اپنی بدکاری سے باز آجائیں اور اپنی غلط روی کو ترک کر کے راہ حق و ہدایت پر آجائیں قبل اس سے کہ فرصت عمر ان کے ہاتھ سے نکل جائے، اور پھر ہمیشہ کے لیے کف افسوس ملنا پڑے، اور یہی ہے خساروں کا خسارہ، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، و سوء و انحراف بکل حال من الاحوال،
Ayah 64:918 ۔ ہار جیت کے فیصلے کے دن کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دن ہوگا ہار جیت کے فیصلے کا دن، پس اس دنیا میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے جو طرح طرح کے دعویدار ہیں ان سب کے دعوؤں کی قلعی اس دن پوری طرح کھل جائے گی کہ وہ دن مشاہدات اور کشف حقائق کا دن ہوگا، سب پردے اس دن اٹھا دیئے جائیں گے، اور ہر چیز اپنی اصل شکل و صورت میں سامنے آجائے گی اور ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں کیا تھا اور کہاں کھڑا تھا، سو اس دن یہ سب امور پوری طرح کھل کر سامنے آجائیں گے، کہ دنیا میں راہ حق و ہدایت پر کون تھا اور گمراہی پر کون ؟ اور اب ہمیشہ کی اور سدا بہار کامیابی کس لیے ہے ؟ اور ناکامی کس کے لیے ؟ اللھم اجعلنا من الفائزین۔ سو اس ارشاد سے منکرین کی اس بنیادی اور تباہ کن غلط فہمی کا ازالہ فرما دیا گیا جو اس دنیاوی زندگی کو ہی ہار جیت کا میدان سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا اور ماننا ہے کہ جس کو اس دنیاوی زندگی کی رفاہتیں مل گئیں وہ کامیاب ہوگیا اور اس کو سب کچھ مل گیا اور اس بنا پر وہ اس دنیا ہی کے لیے جتیے اور اسی کے لیے مرتے ہیں، اور آخرت اور اس کے تقاضوں کو انہوں نے فراموش کر رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہار جیت کے فیصلے کی جگہ یہ دنیا نہیں آخرت ہے۔ دنیا تو دار الامتحان اور دار العمل ہے، نہ کہ دار الانعام اور دار الجزاء، کہ وہ تو بہرحال آخرت ہی ہے، وہیں ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
19 ۔ ایمان والوں کے لیے عظیم الشان جنتوں کی بشارت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا رب ان کو داخل فرمائے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، اور وہ جنتیں اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان ہوں گی کہ ان کی عظمت شان کا یہاں پر اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا کہ وہاں پر وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ انسان کے دل میں اس کا گزر ہوا، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین۔ پس صحت و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ انسان حساب و کتاب اور سزا و جزا کے اس عظیم الشان اور ہولناک دن کو ہمیشہ یاد رکھے اور اس کے لیے تیاری میں لگا رہے، کہ یہ فرصت حیات جو آج میسر ہے پھر ملنے والی نہیں اور اس یوم حساب نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے، اور یہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے، وہ اگر نہ آئے تو اس کائنات کا وجود عبث و بیکار بن کر رہ جاتا ہے، جو اس خالق حکیم کی حکمت کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہے، اور اس سلسلے میں یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ جنت اور اس کی نعیم مقیم سے سرفرازی کسی حسب و نسب وغیرہ کی بنا پر نہیں، بلکہ اپنے ایمان اور عمل صالح کی بناء پر ہی نصیب ہوگی، خواہ وہ کوئی بھی اور کہیں کا بھی ہو، کسی بھی نسل اور نسب سے تعلق رکھتا ہو، اور کوئی بھی زبان بولتا ہو، پس اصل چیز ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہی ہے، اسی پر آخرت کی حقیقی اور ابدی سعادت اور فائز المرامی کا دارومدار ہے، پس اسی چیز کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔
20 ۔ اصل اور حقیقی کامیابی نعیم جنت سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے بڑی کامیابی جو کہ اصل حقیقی اور ابدی و سدا بہار کامیابی ہے نہ کہ دنیا کی وہ عارضی اور وقتی کامیابیاں جن کو بناء دنیا بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے ہیں اور انہی کے لیے وہ جیتے اور انہی کے لیے مرتے ہیں، سو عقل مندی کا تقاضا ہے کہ آخرت کی اس کامیابی کو ہی اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنایا جائے، لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (الصافات 61 پ 23) اور ذلک الفوز العظیم۔ کا اسلوب حصر کا اسلوب ہے، سو دنیا والے خواہ کچھ بھی سمجھتے اور کہتے مانتے ہوں، اصل اور حقیقی کامیابی بہرحال یہی ہے جو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ملے گی، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یہ اگر مل گئی تو سب کچھ مل گیا اگر دچہ دنیا میں نان جویں بھی میسر نہ آئی ہو، ورنہ سراسر ناکامی ہے اگرچہ دنیا بھر کی دولت ہی کیوں نہ مل گئی ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اصل کامیابی جنت اور اس کی نعیم مقیم سے سرفرازی ہی کی کامیابی ہے، جو ہر لحاظ سے کامل بھی ہے اور دائمی و ابدی بھی، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 64:1021 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دائمی دوزخ، والعیاذ باللہ : سو اس سے جنتیوں کے مقابلے میں دوزخیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و تکذیب کا نتیجہ و انجام دوزخ کا دائمی عذاب ہے، والعیاذ باللہ۔ سو دولت ایمان اور نور ہدایت سے محروم لوگوں کو اگر روئے زمین کی ساری دولت بھی دنیا کی عارضی، محدود اور فانی زندگی میں مل جائے، تب بھی ان کو کیا ملا، وہ بہرحال ناکام اور سراسر ناکام ہیں، کہ ان کا آخری انجام یہ ہونا ہے اور انہوں نے دوزخ میں جلنے کے اس دائمی عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کفر و انکار والوں کو اس دنیا میں جتنی بھی چھوٹ اور ڈھیل مل جائے ان کا انجام بہرحال بہت برا ہے کہ انہوں نے بالآخر دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے دو چار ہونا ہے اور اس میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے، اور وہاں پر انہوں نے وہ بدترین زندگی گزارنی ہے جو " لایموت فیھا ولا یحی " کا مصداق ہوگی، یعنی نہ وہ جینا ہوگا نہ مرنا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے، اور ہر قسم کے شرور و فتن سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 64:1122 ۔ ہر مشکل و مصیبت اللہ تعالیٰ ہی کے اذن کے تابع، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور حکم کے تابع ہوتی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ ہی کے اذن سے " خواہ وہ کسی کی موت کی شکل میں ہو، یا جان و مال کے نقصان، یا کسی صدمہ و بیماری وغیرہ کی کسی اور صورت میں کہ نکرہ تحت النفی کا یہ عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس خدشہ و دغدغہ کو دور فرما دیا گیا جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے آخرت کے لیے کوئی قربانی دی تو ہمیں فلاں اور فلاں قسم کی مصیبت و مشکل پیش آسکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے ایسے کسی وسوسے کو اہمیت نہ دو کہ کل کوئی مصیبت پیش آگئی تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ جس مصیبت نے آنا ہوا وہ بہرحال آکر رہے گی، اور جس نے نہیں آنا وہ کبھی نہیں آئے گی، تو پھر اس طرح کے مخاوف اور خطرات سے ڈرنے کی کیا ضرورت ؟ سو اس سے ایسے خدشات و خطرات کا ازالہ فرما دیا گیا پس اس سے انسان کو سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوجاتی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ بہرکیف یہاں واضح طور پر ارشاد فرما دیا گیا کہ نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم و اذن سے، کہ اس وحدہ لاشریک کی پیدا فرمودہ اس کائنات میں حکم و تصرف بہرحال اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے اور جب سب کچھ اسی کے اذن و حکم کے تابع ہے تو پھر تم ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کیا کرو، زندگی کے مصائب میں گھبرانے کی بجائے اسباب کے درجہ میں اپنی طرف سے پوری محبت کرو، پھر نتائج اسی کے حوالے کر کے اسی کے سہارے و اعتماد پر جینے کی خو کو اپناؤ اور ہمیشہ اس سے امن و عافیت اور خیر و برکت کی دعا درخواست کرتے رہا کرو، اور اسی کے حکم و قضا پر راضی رہا کرو، جل وعلا شانہ۔ اللہ توفیق بخشے آمین۔ سو ایمان والوں کو اس بات پر مطمئن رہنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے حکم کی تعمیل میں کریں گے وہ ان کے لیے کسی ایسی آزمائش کا سبب نہیں بنے گا جو ان کی قوت برداشت سے باہر ہو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قوتوں اور صلاحیتوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے وہ کسی پر اس کی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، جیسا کہ اس بارے میں اس کا صاف اور صریح ارشاد موجود ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ 286 پ 3) یعنی اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، سبحانہ وتعالی، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، جل جلالہ، وعم نوالہ، وعز سلطانہ۔
23 ۔ نور ایمان، ہدایت قلب کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس میں ایمان والوں کے لیے ایک مژدہ جانفزا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا اللہ اس کے دل کو ہدایت سے نوازے گا، جس سے اس کو زندگی کے ہر موقع اور ہر موڑ پر راہنمائی ملے گی اور اس کو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہوگی، کہ دل سلطنت جسم کا حاکم و فرماں روا ہے جب اس کو ہدایت اور نور حق کی روشنی مل گئی تو باقی سب کام خود بنتے جائیں گے، سو ایسے شخص کو ہر فیصلہ کن موقع و مقام پر صحیح راہ کو اپنانے کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے، اور نعمت اور مصیبت کی ہر حالت اس کے لیے خیر ہی خیر بن جاتی ہے، اللہ پاک اپنے کرم سے ہم کو ایسا ہی پیکر صدق و صفا بننا نصیب فرمائے آمین۔ سو اس ارشاد عالی میں اللہ کی راہ میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والوں کو تسلی دی گئی ہے اور ان کو اس مژدہ جانفزا سے نوازا گیا کہ اگر تم لوگ اپنے ایمان و یقین میں پختہ کار ہوگئے تو اللہ تمہارے دلوں کی راہنمائی فرمائے گا، اور ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں راہ حق میں پیش آنے والی کسی ابتلاء و آزمائش سے تمہارا حوصلہ پست نہیں ہوگا، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان اور انقلاب آفرین دولت ہے کہ اس کے بعد مومن صادق کے لیے کسی خسارہ و ناکامی کا کوئی سوال ہی نہیں، بلکہ اس کے بعد اس کی ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے، اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال والتمام نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
24 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ پس وہ ہر کسی کے ساتھ وہی معاملہ فرماتا ہے اور فرمائے گا جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا ہے، اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور نہ کسی کی ہے نہ ہوسکتی ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس تم ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور درست رکھنے کی فکر و کوشش کیا کرو، خاص کر اپنے باطن اور اپنی نیتوں کے اعتبار سے کہ اساس و بنیاد ہر صلاح کی یہی ہے اور اجر وثواب اور بخشش و عطا کا مدارو انحصار اسی پر ہے، اللہ توفیق نصیب فرمائے آمین۔ سو اس ارشاد میں اہل کفر و باطل کے لیے تہدید و تذکیر بھی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ سے مخفی نہیں، بلکہ سب کچھ پوری طرح اس کے علم میں ہے، سو ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور دوسری طرف اس میں اہل ایمان کے لیے تسکین و تسلی کا سامان بھی ہے کہ تم لوگ راہ حق میں جو قربانیاں دے رہے ہو وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، وہ تم لوگوں کو ان کے اجر وثواب سے نوازے گا، اور کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا، اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (التوبہ 120 پ 11) پس تم ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرو، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayah 64:1225 ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت مطلقہ کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو اللہ اور اس کے رسول کی، پھر اگر تم لوگ اس سے پھرگئے تو اس میں رسول کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ ہمارے رسول کے ذمے تو پہنچا دینا ہے اور بس "۔ یعنی پہنچا دینا ہے پیغام حق کو اور وہ آپ ﷺ بتمام و کمال کرچکے " صلوات اللہ وسلامہ علیہ " سو تبلیغ حق کے بعد ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی، اس سے آگے اس حق کو منوانا اور قبول کروا لینا نہ آپ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ کے بس میں ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب، سو جس نے مانا اس کے اپنے ہی بھلے کا سامان کیا اور جس نے نہ مانا اس نے اپنا ہی نقصان کیا والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو تم لوگوں نے اگر پیغام حق کو قبول نہ کیا اے منکرو، تو رسول کے ذمہ نہ اس کی کوئی ذمہ داری ہے اور نہ ہی ان سے اس بارہ کوئی پوچھ ہوگی، سو اس میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مطلقہ کا حکم و ارشاد فرمایا گیا یعنی بغیر کسی شرط و قید کے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مطلقہ ہی مطلوب ہے کہ یہی دین حق کی اساس و بنیاد ہے، اور یہی عقل و نقل کا تقاضا ہے اور اسی میں بندہ مومن کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا و آخرت دونوں میں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
26 ۔ پیغمبر کا کام پیغام حق و ہدایت کو پہنچا دینا اور بس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے رسول کے ذمے نہیں مگر پیغام حق کو پہنچا دینا کھول کر، یعنی حق اور حقیقت کو اور اس طور پر کہ اس سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح نکھر کر اور واضح ہو کر سامنے آجائے، اور وہ آپ ﷺ کرچکے، اور پوری طرح کرچکے، فجزاہ اللہ خیر ما جوزی بہ نبی عن امتہ۔ اور اس کے بعد نہ ماننے والوں پر حجت قائم ہوگئی۔ پس جو حق کو مانے گا وہ حجت پر اور روشن دلیل پر قائم ہوگا اور اس کا راستہ سیدھا اور صاف ہوگا جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا واحد راستہ ہے اور اس کے برعکس جو انکار کرے گا وہ جاننے بوجھنے کے بعد ہلاک ہوگا، جس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی، سو پیغ٘بر کا کام اور ان کی ذمہ داری پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر حق کو حق منوالینا اور لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا نہ ان کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ ان کے بس میں ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سو ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالی، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین، جل جلالہ، وعم نوالہ، عز سلطانہ عز برھانہ،
Ayah 64:1327 ۔ ایمان کا تقاضا کہ بھرسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہو : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حصر و قصر کے اسلوب انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اسی وحدہ لاشریک پر دل کا بھروسے رکھیں کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو خالق کل بھی ہے اور مالک کل بھی، قادر مطلق بھی اور کارساز و مختار کل بھی، جل شانہ وعز برھانہ، پس دل کا اعتماد و بھروسہ ہمیشہ اسی پر اور صرف اسی وحدہ لاشریک پر ہونا چاہیے کہ جب معبود برحق اور اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصر وہی وحدہ لا شریک ہے تو پھر نفع و نقصان کے سب اختیارات بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ سبحانہ وتعالی۔ تو پھر ایسے میں بھروسہ اور اعتماد کے لائق اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالی، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 64:1428 ۔ بیوی بچوں میں سے کچھ انسان کے دشمن، والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا ایمان والو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولادوں میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں، یعنی جو تمہیں دین حق اور اس کے تقاضوں سے روکتے اور باز رکھتے ہیں، حالانکہ دین اور اس کی تعلیمات مقدسہ کی راہ دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کی راہ ہے، اور اس سے محرومی درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہاں پر " من ازواجکم وا اولادکم " فرمایا گیا ہے، یعنی کلمہ من کے ساتھ من کے سا کلمہ تبعیض سے معلوم ہوا کہ سب بیویاں بچے دشمن نہیں ہوتے، بلکہ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں اور وہ وہی ہوتے ہیں جو انسان کے لیے راہ حق و ہدایت سے محرومی کا باعث بنیں، والعیاذ باللہ۔ ورنہ جو بیویاں اور بچے انسان کے لیے راہ حق و صواب میں استقامت و ثابت قدمی میں ممدو و معاون بنیں وہ تو معین و مددگار اور اللہ پاک کی عظیم الشان نعمت ہیں، " ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قرۃ اعین و اجلعنا للمتقین اماما، آمین یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے راہ حق میں پیش آنے والی آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش سے متنبہ فرما دیا گیا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقوق و فرائض کی ادائیگی اور راہ حق میں جان و مال کے انفاق سے روکنے والی بنتی ہے، اور وہ ہے بیوی بچوں کی حد سے بڑھی ہوئی محبت، سو اس سے متنبہ اور آگاہ فرما دیا گیا ہے تاکہ انسان اس سے بچے اور محتاط رہے اور ان کی محبت کو دل پر غالب و مسلط نہ ہونے دے، اور راہ حق و ہدایت میں رکاوٹ نہ بننے دے، کیونکہ اگر خدانخواستہ ان کی محبت غالب آکر راہ حق میں رکاوٹ بن گئی تو یہ بڑے ہی سخت خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، اور ہر طرح کے شرور و فتن سے ہمیشہ اور ہر طرح سے محفوظ رکھے۔
29 ۔ بیوی بچوں کے ساتھ عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ عفو و درگزر سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ پس ان کے ساتھ تمہارا بخشش و مہربانی والا معاملہ تمہارے لیے اس غفور و رحیم کی رحمت و بخشش کا ذریع بن جائے گا، جیسا کہ صادق مصدوق حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد ہے کہ تم زمین والوں پر (اور خاص کر اپنے ماتحتوں پر) رحم کرو عرش والا تم پر رحم فرمائے گا ( ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء) سو ان کے سلسلہ میں تم لوگ اس بات کا تو خیال رکھو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے روکنے والے نہ بنیں لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھو کہ یہ چیز قطع تعلق اور باہمی مفارقت کی حد تک نہ پہنچنے پائے، اس لیے اس سلسلہ میں عفو و درگزر اور چشم پوشی سے کام لو، سو اس طرح ارشاد سے بیوی بچوں سے تحذیر و اجتناب کی حدود کا تعین فرما دیا گیا، پس جس کسی کو اس طرح کی کسی آزمائش سے سابقہ پیش آئے اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی فتنے میں پڑنے سے تو بچائے لیکن ساتھ ہی وہ اس کا خیال رکھے کہ یہ بات قطع تعلق اور مفارقت تک نہ پہنچنے پائے، سو ایسا شخص اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی کوشش کرے، لیکن جب تک کفر و ایمان کا کوئی سوال پیدا نہ ہو اس وقت وہ ان سے قطع تعلق نہ کرے بلکہ عفو درگزر ہی کام لے اور صلاح احوال ہی کی کوشش کرتا رہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 64:15–1630 ۔ مال و اولاد سامان ابتلاء و آزمائش، والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاددیں تو محض آزمائش کا سامان ہیں کہ کون ان کی محبت میں گرفتار ہو کر آخرت اور اپنے انجام کو بھلوتا ہے اور کون ان کے تقاضوں کے باوجود راہ حق و صواب پر ثابت قدم رہتا ہے۔ " فثبت اللھم اقدامنا علی صراطک المستقیم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین "۔ سو اگر تم لوگوں نے ان کی محبت کو اللہ اور اس کے دین کی محبت پر غالب اور مقدم رکھا والعیاذ باللہ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اس ابتلاء و آزمائش میں ناکام ہوگئے، اور اس کے برعکس اگر تم نے ان کو اللہ کی محبت کے تابع اور اس کا ذریعہ بنادیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم کامیاب ہوگئے، بلکہ نور علی نور کا مصداق بن گئے، اور اس کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی پکی اطاعت ہے کہ یہ چیز انسان کے لیے دارین سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی شہ کلید ہے اسی لیے یہاں پر آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ چناچہ فرمانبرداروں کے لیے بشارت و خوشخبری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک کے پاس بہت بڑا اجر ہے، اتنا بڑا کہ الفاظ و کلمات کے تنگ دائرے پوری طرح اس کا ادراک و احاطہ بھی نہیں کرسکتے، پس ازواج و اولاد کے تقاضوں میں الجھ کر کہیں تم اس اجر عظیم سے محروم نہ ہوجانا، کہ یہ واقعہ بہت بڑا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آخرت کے اس اجر عظیم کو ہمیشہ اپنے نظر رکھو اور دنیا کے ہر نقصان اور خسارے کی تلافی اسی اجر عظیم سے ہوجائے گی، دنیا اور اس کی ہر حالت تو فانی ہے، اصل اجر وثواب تو آخرت ہی کا اجر وثواب اور وہیں کی کامیابی ہے، پس جو شخص نصیب اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کے تقاضوں کے مال و اولاد کی محبت کے تقاضوں پر فائق اور مقدم رکھیں گے اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
31 ۔ سمع وطاعت سے متعلق ایک اہم اور جامع ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرتے رہو جتنا تم سے ہوسکے، اور سنتے اور مانتے رہو، یعنی دین متین کے احکام و فرامین کو، کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا راز اسی میں اور صرف اسی میں مضمر ہے، بہرکیف اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ سے ڈرتے رہو گے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اپنے امکان کی حد تک تم اس کی مخالفت اور نافرمانی نہیں کرو گے، اور اس کے اوامرو ارشادات کو سنتے اور مانتے رہو گے تو وہ تم پر شیطان کو قابو نہیں پانے دے گا، ورنہ تم مال و اولاد کے کسی فتنے میں پڑ کر اللہ کی راہ سے اتنے دور نکل جاؤ گے کہ تمہارے لیے واپسی کا امکان نہیں رہے گا، والعیاذ باللہ۔ سو تقویٰ و طہارت اور سمع و اطاعت دارین کی سعادت کے حصول کا ذریعہ ہیں، وباللہ التوفیق۔ سو یہ ایک ایسی جامع، پاکیزہ اور عمدہ ہدایت ہے جس میں کوئی محنت ہے نہ مشقت، نہ خرچہ ہے نہ بوجھ، لیکن ہے ایسی انقلاب آفرین اور باعث خیر و برکت کہ زندگی پاکیزہ اور قابل رشک بن جاتی ہے، اور اس سے انسان " فسنیسرہ للیسری " کا مصداق بن کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین واکرم الاکرمین۔