At-Taghaabun 64:12

At-Taghaabun · from ayah 12

64:12

وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ— فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۟وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ‌ۚ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ

اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And obey Allah and obey the Messenger; but if you turn away - then upon Our Messenger is only [the duty of] clear notification.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:12

اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی طاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اللہ کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔ پھر اگر تم نے منہ موڑا تو ہمارے رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم منہ پھیرو تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے رُوگردانی کی تو (یاد رکھو) ہمارے رسول ﷺ کے ذمّہ صرف واضح طور پر (احکام کو) پہنچا دینا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پس اگر تم پھر جاؤ تو ہمارے رسول کے ذمے تو صرف کھلم کھلا پہنچا دینا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم سرتابی کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم اعراض کرو گے تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور فرمانبرداری کرو تم سب لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی پھر اگر تم نے روگردانی ہی کی تو ہمارے رسول (کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ان) کے ذمے تو بس پہنچا دینا ہے کھول کر

— مولانا اسحاق مدنی

تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی پھر اگر تم نے روگردانی کی تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی۔ پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Obey Allah and obey the Messenger. But if you turn away from obedience, (then know that) Our Messenger has no other duty than to clearly convey the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Obey Allah, and obey the Messenger. But if you turn away, then Our Messenger has only to convey the message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani

Obey Allah, and obey the Messenger. But if you turn away, then Our Messenger has only to convey the message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Obey Allah, and obey the Messenger; but if you turn away, then the duty of Our Messenger is only to convey clearly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Obey Allah and obey His messenger; but if ye turn away, then the duty of Our messenger is only to convey (the message) plainly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And obey Allah and obey the Messenger; but if you turn away - then upon Our Messenger is only [the duty of] clear notification.

— Saheeh International

Obey God and the Messenger, but if you turn away, know that the only duty of Our Messenger is to clearly preach.

— Muhammad Sarwar

And obey Allah and obey the Apostle, but if you turn back, then upon Our Apostle devolves only the clear delivery (of the message).

— Muhammad Habib Shakir

Obey Allah and obey the apostlle; then if ye turn away, on Our apostle is only the preaching manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

So obey Allah, and obey His Messenger: but if ye turn back, the duty of Our Messenger is but to proclaim (the Message) clearly and openly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–13

وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی سورة حدید میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے رضا بہ قضا کے سوا لب نہ ہلائے تو اللہ تعالٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّغَابُن 27 سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اچھے حالات ہوں یا برے حالات، ہر حال میں اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ لیکن اگر مصائب کے ہجوم سے گھبرا کر تم اطاعت سے منہ موڑ گئے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری تھی کہ راہ راست تم کو ٹھیک ٹھیک بتادے، سو اس کا حق رسول نے ادا کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

خلاصہ تفسیر (جس طرح کفر آخرت کی فلاح سے کلیتہً مانع ہے، اسی طرح اموال و اولاد اور بیوی وغیرہ میں مشغول ہو کر خدائے تعالیٰ کے احکام میں کوتاہی کرنا بھی ایک درجہ میں فلاح آخرت سے مانع ہے اس لئے مصیبت میں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ) کوئی مصیبت بدون خدا کے حکم کے نہیں آتی (اور یہ سمجھ کر صبر و رضا اختیار کرنا چاہئے) اور جو شخص اللہ پر (پورا) ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو (صبر و رضا کی) راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے (کہ کس نے صبر و رضا اختیار کیا اور کس نے نہیں کیا اور ہر ایک کو حسب حکمت جزاء و سزا دیتا ہے) اور (خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر امر میں جس میں مصائب بھی داخل ہیں) اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(واطیعو اللہ فاطیعو الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلغ المبین) (12)۔ یعنی غلط قسم کے اندیشوں اور اوہام میں منبلا ہو کر اللہ و رسول کی اطاعت سے جی نہ چرائو ورنہ یاد رکھو کہ رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایت تم کو واضح طور پر پہنچا دے۔ یہ فرض اس نے ادا کرو یا تو وہ اللہ کے ہاں بری الذمہ ہوا۔ تمہارے ایمان کی بابت اس سے پرسش نہیں ہوگی بلکہ تم سے پرسش ہوگی کہ تم نے اس کی دعوت کیوں قبول نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–13

2: یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے، اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس تصور کے نتیجے میں ایمان والوں کو ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوتی اور انہیں صبر کی توفیق مل جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آگے دعوت ایمان کے سلسلے میں ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ واطیعواللہ .................... المبین (46 : 21) ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ اس سے قبل ان کو لوگوں کا انجام بتایاجاچکا ہے جو منہ موڑتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول کا کام تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے بات پہنچادی تو وہ اپنے فریضے سے سبکدوش ہوگیا۔ اور اس طرح لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور اب لوگ اس معصیت اور منہ موڑنے کے انجام کا انتظار کریں جو انہیں ابھی ابھی سنا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی نرمی و سختی اور تکلیف و راحت، غرض ہر حالت میں اللہ و رسول کا حکم مانو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو خود تمہارا نقصان ہے۔ رسول سب نیک و بد سمجھا کر اپنا فرض ادا کرچکا۔ اللہ کو تمہاری اطاعت و معصیت سے کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ } ”اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی۔“ { فَاِنْ تَوَلَّــیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ۔ } ”پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔“ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے احکام لوگوں تک پہنچا کر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ ان احکام کے بارے میں اب ہر کوئی خود جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے مقابلے میں اب کسی انسان کی دلیل بازی نہیں چلے گی۔ جیسے سود کی حرمت کا حکم سن کر بعض لوگوں نے کہا تھا : { اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7} کہ کاروبار کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

18 اس آیت میں ان دنیادار لوگوں کے اس نظریہ کی تردید کی گئی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو اس قدر مصائب میں کیوں گھرے ہوتے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ کوئی مصیبت کسی کے لانے سے نہیں آتی۔ بلکہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور اسی کے اذن سے آتی ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مصیبتوں کے ذریعہ آزمائش سے مقصود تمہارے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ تاکہ منافقین کھل کر سامنے آجائیں۔ اور تم ان سے محتاط رہنے لگو۔ ان کے علاوہ کئی حکمتیں قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ خ مصائب کی تین قسمیں :۔ واضح رہے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو لوگوں کے اپنے اعمال کے نتیجہ یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (اور وہ فریضہ تبلیغ سے ادا ہوچکے) (آیت) ” واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ اطاعت حق تعالیٰ کی تو براہ راست اور اصالۃ مقصود ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی اس کے نائب معصوم کی حیثیت سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

واطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلاغ المبین یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو ہمارے رسول ﷺ کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام تو صرف تبلیغ ہے، امام زہری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ ہے، اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلغ المبین . ” اور (ہر امر میں) اللہ کے حکم پر چلو اور رسول کی اطاعت کرو ‘ پھر اگر تم روگردانی کرو گے تو (یاد رکھو کہ) ہمارے رسول ﷺ کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ “ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ : یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے تم روگردانی کرو گے۔ فَاِنْ میں فَ سببیہ ہے۔ ایمان و اطاعت کے امر کا پہنچنا روگردانی کا سبب ہے۔ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا ..... یعنی تمہاری روگردانی ہمارے رسول کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی کیونکہ ان کا فریضہ صرف تبلیغ حکم ہے جب وہ حکم پہنچا چکے تو اپنا فرض ادا کرچکے ‘ روگردانی کا ضرر تم پر ہی پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

فرائض میں اللہ تعالیٰ کی، سنن میں رسول کی یا یہ کہ توحید میں اللہ کی اور قبولیت میں رسول کی اطاعت کرو سو اگر تم ان دونوں کی اطاعت سے اعراض کرو گے تو محمد کے ذمہ تو منصب رسالت کو صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ وَ اَطِیْعُوا اللہ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ : سلسلہ کلام کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مصیبت آنے پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ موڑو ، بلکہ تمام حالات میں ، اچھے ہوں یا برے ، اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ ”اطیعوا“ کو ”الرسول“ کے ساتھ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم مستقل شریعت ہے اسی طرح رسول کا حکم بھی مستقل شریعت ہے ، دونوں میں سے کسی کی مخالفت کی گنجائش نہیں۔ دوسرے لوگ جن کا حکم مانا جاتا ہے وہ یہ مقام نہیں رکھتے ، ان کا وہی حکم مانا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس نکتے کی وضاحت سورة ٔ نساء کی آیت (59) :(وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

مصائب کو اپنے اوپر ہلکا جانو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے آپ کو مشغول رکھو اور سنت پر عمل کرنے میں اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اللہ کے رسول کے ذمہ تو صرف پیغام حق پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے سوا کوئی خالق نہیں اس پر بھروسہ کرو۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ، ومن یومن باللہ یہد قلبہ۔ اور کوئی مصیبت بغیر حکم خدا کے نہیں آتی اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ تعلایٰ اس کے دل کو صبر ورضا کی راہ دکھا دیتا ہے سے مراد ہے وہ آدمی جس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے اور اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ 13۔ سعید بن منصور نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو آدمی کو پہنچتی ہیں اور وہ جانتا ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ : اور تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی ] [وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : اور تم لوگ اطاعت کرو ان رسول کی ] [فَان تَوَلَّيْتم : پھر اگر تم لوگوں نے منہ موڑا ] [فَانمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا : تو ہمارے رسول پر تو بس ] [الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : واضح طور پر پہنچا دینا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ اور رسول ﷺ کی فرما نبرداری اور توکل اختیار کرنے کا حکم دوسری نصیحت یہ فرمائی ﴿ وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ﴾ (اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (اس میں بندوں کا اپنا ہی بھلا ہے) اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا اگر کوئی شخص روگردانی کرے تو اللہ کے رسول پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اسی کہ واضح طور پر قیغام پہنچادے) جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی برا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” واطیعوا اللہ “ ترغیب الی الاطاعۃ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اس سے ہماری پیغمبر ﷺ کا تو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ آپ کے ذمہ تو ہے تبلیغ جس کا آپ نے حق ادا کردیا بلکہ اس سے تم اپنے دین و دنیا ہی کا نقصان کرو گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

مصیبت باذن اللہ : گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ۝ 0 ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝ 12 طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–12

ترکیب : من شرطیۃ یہدقلبہ جوابہ۔ قلبہ بالنصب والرفع فالرفع علی الفاعلیۃ والنصب علی انہ مفعول لیہد مثل سفہ نفسہ فان تولیتم شرط فانما والجملۃ جو ابہ وعلی اللہ متعلق بیتوکل قدم للتخصیص۔ عدواً بالنصب علی انہ اسم ان وخبرہ من ازواجکم واولاد کم۔ تفسیر : ابھی فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والے نیک کام کرنے والے فائزالمرام اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اس پر خیال گزرتا ہے کہ بہت سے ایمانداروں، نیکوں کو ہم مصائب میں مبتلا دیکھتے ہیں، پھر وہ کامیابی کہاں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے : ما اصاب من مصیبۃ الاباذن اللہ۔ کہ کوئی مصیبت (بیماری، تنگدستی، اقارب کی موت، دشمنوں کا غلبہ، مال و جاہ کا زوال یا اس میں کوئی فرق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (التغابن : 12) (اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ ) حالات کچھ بھی ہوں محض اندیشوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ پھیرو، اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ جس طرح آدمی جیتے جی کھانا پینا نہیں چھوڑتا، سانس لینا نہیں چھوڑتا اور زندگی کے لوازمات میں سے کسی لازم کو ترک نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت دراصل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ عسر اور یسر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ مومن ہو یا نافرمان، کافر ہو یا مسلمان، امیر ہو یا غریب ہر کسی کی زندگی نشیب و فراز، سُکھ اور دکھ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نافرمانوں کے مقابلے میں ایمانداروں کی زندگی قدرے مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ ایماندار شخص اللہ اور اس کے رسول کا پابند ہوتا ہے جس وجہ سے دنیا میں وہ فوائد اور آسائشیں حاصل نہیں کرسکتا جو نافرمان حاصل کرلیتے ہیں۔ مصیبت ہو یا راحت، مشکل ہو یا آسانی، نفع ہو یا نقصان ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اور (ہر امر میں) اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم روگردانی کرو گے) اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے۔ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ یعنی اس پر تبلیغ لازم ہے۔ اور وہ انہوں نے کردی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” مااصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ “ اس کے ارادے اور قضاء کے ساتھ۔ ” ومن یومن باللہ “ پھر تصدیق کرے کہ اس کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ ہے۔ ” یھدقلبہ “ اس کو یقین کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ وہ جان لے کہ جو کچھ اس کو پہنچا ہے اس سے چوکنے والا نہیں تھا اور جو اس سے ہٹ گیا وہ اس کو پہنچنے والا نہیں تھا۔ پس وہ اس کی قضاء پر سر جھکا دیتا ہے۔ ” واللہ بکل شیء علیم “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–13

11۔ 13۔ اوپر اللہ اور اللہ کے رسول اور قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 5 ؎ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار بننے کے لئے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضرور ہے ایک تو یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا برحق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا آیت اور حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مثلاً آدمی کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ ) اور تم اللہ کی اطاعت کرو ور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نوایہ سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ( فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ ) یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو۔ ( فَاِنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ) تو ہمارے رسول پر تو صرف کھول کر پہنچا دینا ہے۔ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمہیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت مطلقہ کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو اللہ اور اس کے رسول کی، پھر اگر تم لوگ اس سے پھرگئے تو اس میں رسول کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ ہمارے رسول کے ذمے تو پہنچا دینا ہے اور بس "۔ یعنی پہنچا دینا ہے پیغام حق کو اور وہ آپ ﷺ بتمام و کمال کرچکے " صلوات اللہ وسلامہ علیہ " سو تبلیغ حق کے بعد ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی، اس سے آگے اس حق کو منوانا اور قبول کروا لینا نہ آپ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ کے بس میں ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب، سو جس نے مانا اس کے اپنے ہی بھلے کا سامان کیا اور جس نے نہ مانا اس نے اپنا ہی نقصان کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مومن کے لیے آخرت کا زادراہ تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–18

آیات 11 تا 18۔ اسرار ومعارف۔ سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اطاعت رسول ﷺ ۔ لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی وہ جو مصیبت یا تکلیف بھیجتا ہے ہمیں علم و حکمت کی بنا پر بھیجتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کون واقعی صبر و استقامت کی راہ اتخیار کر کے اپنے درجات بلند کریگا اور کون بےصبری اور ناشکری کا مظاہرہ کر کے اپنی بدبختی میں اضافہ کرے گا۔4 یعنی مصیبت کے وقت بےصبری اور نا شکری کا مظاہرہ نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اللہ و رسول کی اطاعت میں مشغول کر کے اپنی تکلیف کے احساس کو کم کرو اور اللہ کے ہاں اجر کے مستحق ہو۔5 سو اس نے پہنچا دیا اگر تم اسے نہ مانو گے تو اپنی ہی عاقبت خراب کرو گے۔ پیغمبر ﷺ کو ہرگز کوئی الزام نہ دے سکو گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:12) فان تولیتم : جملہ شرطیہ ہےسببیہ ہے (ایمان و اطاعت کے امر کا پہنچنا روگردانی کا سبب ہے۔ ان شرطہ ۔ بمعنی اگر۔ تولیتم ماضی جمع مذکر حاضر تولی (تفعل) مصدر۔ بمعنی منہ پھیرنا۔ پھرجانا۔ روگردانی کرنا۔ اگر تم نے منہ موڑا۔ اگر تم پھرگئے۔ فانما علی رسولنا البلاغ المبین۔جواب شرط کے لئے ہے اور سابقہ جملہ کا جواب شرط ہے۔ البلغ المبین۔ موصوف و صفت، البلغ پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ مصدر ہے اور قرآن مجید میں یہ لفظ بمعنی تبلیغ آیا ہے۔ المبین ابانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بمعنی ظاہر کرنے والا۔ البلغ المبین۔ وہ تبلیغ جو تمام امور کو مفصل طور پر صاف صاف بیان کر دے۔ جملہ شرطیہ کے بعد جواب کی علت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

اجزائے ایمان اور مصیبت کے وقت صبر کرنے کا اجر۔ (ف 1) اوپر اللہ اور اللہ کے رسول و قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی، اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا، ایماندار بننے کے لیے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کا وحدہ لاشریک ہے۔ دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں، تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا حق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا، آیت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–13

[5] اور اللہ کا حکم بہرحال کسی نہ کسی مصلحت کی بناء پر ہوتا ہے جسے انسان نہ جانتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–13

حاشیہ صفحہ ھذا 1: اسلام کے نزدیک اصل شئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے ۔ اور اس کے بعد جتنے رشتے اور حلائق ہیں ۔ ان کی حیثیت محض ثانوی ہے ۔ اس لئے وہ یہ نہیں چاہتا ۔ کہ کنسی جذبات یا پدرانہ تعلق خاطر ۔ خدمت اسلام کے سلسلہ میں حائل ہو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بیوی کے حقوق اور بچوں کے خیالات کی رعایت اسی وقت ضروری ہے ۔ جبکہ ان کے مقصود اعطاء کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا کرنا ہو ۔ اور جب یہ پاؤں کی زنجیریں اور گردن کا طوق بن جائیں ۔ تو اس وقت ان کی حیثیت دشمنوں کی سی ہے ۔ جن سے تمہیں ہوشیار اور محتاط رہنا چاہیے ۔ حل لغات :۔ فلیتوکل ۔ توکل سے ہے ۔ جس کے معنے اللہ کو اپنا وکیل اور چارہ ساز سمجھنے کے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرو اور رسول ﷺ کا کہا مانو اور اطاعت کرو پس اگر تم روگردانی کرو گے اور منہ موڑو گے تو سوائے اس کے نہیں کہ ہمارے رسول کے ذمہ صاف صاف پہنچادینا ہے۔ یعنی ہر دکھ سکھ کی حالت میں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری ہے اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو اللہ اور رسول کو کوئی ضرر نہیں رسول کا کام صرف کھول کر پہنچادینا ہے وہ کام اپنا کرچکا اب اگر نافرمانی کرو گے تو تم کو ہی نقصان پہنچے گا رسول اللہ ﷺ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ چونکہ وہ اس فریضہ تبلیغ کو باحسن وجوہ ادا کرچکے پس ان کا تو کوئی ضرر نہیں تمہارا ہی ضرر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اگر پھر جائو گے تو ہمارے رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے 12 ؎ دکھ ہو یا سکھ ، خوشی ہو یا غمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کو اپنے اوپر لازم رکھو اور خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ دنیا کی کسی چیز میں ثبات نہیں ہے بلکہ ہرچیز عارضی ہے یہاں تک کہ انسان کی زندگی جس کو وہ ہرچیز پر عزیز رکھتا ہے وہ بھی عارضی چیز ہے لیکن اگر تم پھرگئے اور خوشی و آرام کے دنوں میں اس کو بھلا دیا یا غم واندوہ کی تاریک راتوں میں اس کی رحمت سے مایوس ہو کر دل ہار بیٹھے اور بےراہ روی اختیار کرلی تو اس کا نقصان بھی تم ہی کو ہوگا ، کیوں ؟ اس لیے کہ جو نہی تم نے ایسا کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

Commentary مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ (And no calamity befalls [ one ], but with the leave of Allah. And whoever believes in Allah, He guides his heart…64:11) In other words, it is a reality that not even a particle can move without the Divine will. Without the will of Allah no one can harm or benefit anyone. If a person does not believe in Allah and the Divine destination, he would not have any means of comforting himself when a calamity befalls him. He receives it with despair, and gropes for means of alleviating it. A…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 In view of the context, it means: "Whatever the circumstances. good or bad. you should remain steadfast to obedience to Allah and His Messenger. But if under the pressure of hardships you turned away from obedience, you would only harm your own selves. The only responsibility of Our Messenger was to guide you to the right path, which the Messenger has fulfilled in the best way possible. "

Read the full tafseer →