Explained with ayahs 11–13
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی
سورة حدید میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے رضا بہ قضا کے سوا لب نہ ہلائے تو اللہ تعالٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 23
اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے۔ اس سلسلہ کلام کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ مسلمانوں کے لیے سخت مصائب کا زمانہ تھا۔ مکہ سے برسوں ظلم سہنے کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آگئے تھے۔ اور مدینے میں جن حق پر ستوں نے ان کو پناہ دی تھی ان پر دہری مصیبت آ پڑی تھی۔ ایک طرف انہیں سینکڑوں مہاجرین کو سہارا دینا جو عرب کے مختلف حصوں سے ان کی طرف چلے آ رہے تھے، اور دوسری طرف پورے عرب کے اعدائے اسلام ان کے درپے آزاد ہوگئے تھے۔
سورة التَّغَابُن 24
یہ مضمون سورة الحدید، آیات 22۔ 23 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں حواشی نمبر 39 تا 42 میں ہم اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
خلاصہ تفسیر
(جس طرح کفر آخرت کی فلاح سے کلیتہً مانع ہے، اسی طرح اموال و اولاد اور بیوی وغیرہ میں مشغول ہو کر خدائے تعالیٰ کے احکام میں کوتاہی کرنا بھی ایک درجہ میں فلاح آخرت سے مانع ہے اس لئے مصیبت میں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ) کوئی مصیبت بدون خدا کے حکم کے نہیں آتی (اور یہ سمجھ کر صبر و رضا اختیار کرنا چاہئے) اور جو شخص اللہ پر (پورا) ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو (صبر و رضا کی) راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے (کہ کس نے صبر و رضا اختیار کیا اور کس نے نہیں کیا اور ہر ایک کو حسب حکمت جزاء و سزا دیتا ہے) اور (خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر امر میں جس میں مصائب بھی داخل ہیں) اللہ…
Read the full tafseer →(ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم) (11)۔
(ایک وسوسہ کا علاج)۔ یہ اس دغدغہ کو دور فرمایا ہے جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے، فرمایا کہ اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے اس وسوسہ کو کوئی اہمیت نہ دو کہ کل کو کوئی مشکل پیش آگئی تو کیا ہوگا ! کوئی مصیبت بھی بندوں پر اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی ایسے شخص کے لیے ممکن نہیں ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔ تو بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کرے گا وہ اس کے لیے کسی ایسی آزمائش کا…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں (فتح القدیر)
11۔ 2 یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے پس وہ صبر اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
2: یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے، اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس تصور کے نتیجے میں ایمان والوں کو ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوتی اور انہیں صبر کی توفیق مل جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ما اصاب ........................ علیم (46 : 11) ” کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو ، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے “۔ اس پیرگراف میں چونکہ لوگوں کو ایمان کی طرف بلایا گیا تھا ، اس لئے اس کے ساتھ اس حقیقت کا ذکر بھی مناسب سمجھا گیا کیونکہ یہ ایمان کے متعلق امور میں سے ہے کہ انسان ہر چیز کو اللہ کی طرف لوٹا دے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ خیروشر اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ ایمان کی تفصیلات ہیں اور ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ عملی زندگی میں اس عقیدے کے سوا ایمانی شعور کا تصور نہیں ہوسکتا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ آیات کے نزول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8 دنیا میں کوئی مصیبت اور سختی اللہ کی مشیت و ارادہ کے بدون نہیں پہنچتی۔ مومن کو جب اس بات کا یقین ہے تو اس پر غمگین اور بددل ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بہر صوت مالک حقیقی کے فیصلہ پر راضی رہنا چاہیے اور یوں کہنا چاہیے نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی اس طرح اللہ تعالیٰ مومن کے دل کو صبر و تسلیم کی راہ بتلا دیتا ہے۔ جس کے بعد عرفان و ایقان کی عجیب و غریب راہیں کھلتی ہیں۔ اور باطنی ترقیات اور قلبی کیفیات کا دروازہ مفتوح ہوتا ہے۔
9 یعنی جو تکلیف و مصیبت اس نے بھیجی عین علم و حکمت سے بھیجی، اور وہی جانتا ہے کہ کون تم میں سے واقعی صبر و استقامت اور تسلیم و رضا کی…
Read the full tafseer →؎ دوسرے رکوع کی پہلی پانچ آیات میں ثمراتِ ایمانی کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلا ثمرہ یہ ہے :
آیت 1 1{ مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے اذن سے۔“
{ وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَہْدِ قَلْبَہٗ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ } ”اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے ‘ وہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“
ایمان حقیقی کی بدولت انسان کے دل کی گہرائیوں میں یہ یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ایک پتا ّتک جنبش نہیں کرسکتا۔ اس لیے اگر اس پر کوئی مصیبت بھی آجاتی ہے تو اس کا دل مطمئن رہتا ہے کہ یہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
18 اس آیت میں ان دنیادار لوگوں کے اس نظریہ کی تردید کی گئی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو اس قدر مصائب میں کیوں گھرے ہوتے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ کوئی مصیبت کسی کے لانے سے نہیں آتی۔ بلکہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور اسی کے اذن سے آتی ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مصیبتوں کے ذریعہ آزمائش سے مقصود تمہارے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ تاکہ منافقین کھل کر سامنے آجائیں۔ اور تم ان سے محتاط رہنے لگو۔ ان کے علاوہ کئی حکمتیں قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔
خ مصائب کی تین قسمیں :۔ واضح رہے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو لوگوں کے اپنے اعمال کے نتیجہ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ (بشری ضروریاتوجذبات کا کونسا جزئیہ اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟ ) (آیت) ” ما ..... اللہ “۔ اس خیال کا استحضار مصیبت زدوں کے لیے کتنی بڑی تسلی وتسکین کا باعث اور جادۂ تسلیم و رضاء پر قائم رکھنے میں کتنا زیادہ معین ہوسکتا ہے ! (آیت) ” باذن اللہ “۔ اذن سے مراد اس سیاق میں حکم تکوینی ہے، جو مرضی الہی کو مستلزم نہیں۔ اے بعلمہ وتقدیرہ ومشیۃ (مدارک) قال ابن عباس ؓ بعلمہ وقضاۂ (کبیر) (آیت) ” ومن .. قلبہ “۔ ایمان باللہ میں تاثیر ہی یہ ہے وہ قبل کو تسلیم و رضاء کا راستہ دکھاتا رہے۔ جس کا درجہ ایمان جتنا زیادہ مستحکم وبلند، اسی قدر ہجوم مصائب کے وقت سکون قلب بھی اس کو زیادہ نصیب، چیز تجربہ کی ہے، جو…
Read the full tafseer →ترجمہ : کوئی مصیبت قضاء الٰہی کے بغیر نہیں پہنچ سکتی جو اللہ پر اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ مصیبت تقدیر الٰہی ہی سے آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اس مصیبت پر صبر کی ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر شئے کا جاننے والا ہے (اے لوگو ! ) اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو ہمارے رسولوں پر تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے، اللہ معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں، اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہو کہ خیر سے پیچھے رہنے میں ان کی بات نہ مانو، مثلاً جہاد و ہجرت (وغیرہ میں) آیت کے نزول…
Read the full tafseer →ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم .
” اور کوئی مصیبت بغیر حکم خدا کے نہیں آتی اور جو شخص اللہ پر (پورا) ایمان لاتا ہے اللہ اس کے دل کو (صبر و رضا کی) راہ دکھا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ “
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ : یعنی کسی شخص کو کسی طرح کی کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے ‘ اذن سے مراد ہے تقدیر خداوندی اور ارادۂ الٰہی۔
وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِ اللہ ِ : یعنی جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آتی ہے وہ بغیر اذن خدا کے نہیں آتی اور یقین رکھتا ہے کہ آنے والی مصیبت چوکتی اور ٹلتی نہیں اور نہ آنے…
Read the full tafseer →تمہاری جانوں مالوں اور گھروں کو کوئی مصیبت بغیر اللہ کے حکم کے نہیں آتی اور جو یہ سمجھے کہ مصیبت اللہ کی جانب سے ہے تو وہ اپنے قلب کو صبر و رضا کی راہ دکھا دیتا ہے یا یہ کہ جب اس کو کوئی نعمت ملے تو شکر کرے اور جب آزمایا جائے تو صبر کرے اور جب ظلم کیا جائے تو معاف کرے اور جس وقت کوئی پریشانی لاحق ہوئی تو انا للہ پڑھے، تو ایسا شخص اپنے دل کو اللہ کی راہ دکھا دیتا ہے اور تمہیں جو مصیبت وغیرہ پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →1۔ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید کی آیت (22) کی تفسیر۔
2۔ اِلَّا بِاِذْنِ اللہ ِ : اس سے پہلی آیات میں اللہ کی توحید ، رسولوں کی رسالت اور قیامت کا بیان تھا ، اس آیت میں تقدیر پر ایمان کا بیان ہے جس سے آدمی کے دل میں تکلیفیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایمان والوں کے لیے تسلی اور کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ ایمان والوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ فرمایا جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے مقدر ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں مومن و کافر سب پر آتی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر…
Read the full tafseer →ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ اذن سے مراد ارادہ اور قضا ہے۔ فراء نے کہا : مراد اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفار نے کہا : جس پر مسلمان ہیں اگر یہ حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں مصائب سے محفوظ رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا کہ نفس، مال، قول یا فعل میں جب بھی مصیبت واقع ہوتی ہے وہ بےچینی اور غم کا تقاضا کرتی ہے یا ایسے عقاب کا تقاضا کرتی ہے جو جلدی واقع ہونے والا ہوتا ہے یا دیر سے واقع ہونے والا ہوتا ہے تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضا سے ہوتا ہے۔
ومن یومن باللہ جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ، ومن یومن باللہ یہد قلبہ۔ اور کوئی مصیبت بغیر حکم خدا کے نہیں آتی اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ تعلایٰ اس کے دل کو صبر ورضا کی راہ دکھا دیتا ہے سے مراد ہے وہ آدمی جس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے اور اس سے راضی ہوجاتا ہے۔
13۔ سعید بن منصور نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو آدمی کو پہنچتی ہیں اور وہ جانتا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →[مَآ اَصَابَ : نہیں آ لگتی ] [مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی بھی آ لگنے والی (مصیبت)] [اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کی اجازت سے ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر ] [يَهْدِ قَلْبَهٗ : تو وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو ] [وَاللّٰهُ بِكُلِ شَيْءٍ عَلِيْمٌ: اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 11 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مصائب کے وقت جو چیز انسان کو راہ راست پر قائم رکھتی ہے اور اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتی، وہ صرف ایمان باللہ ہے۔ جس کے دل میں ایمان نہ ہو وہ آفات کو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتا ہے، یا دنیوی طاقتوں کو ان کے لانے اور روکنے میں مؤثر مانتا ہے، یا انھیں ایسی…
Read the full tafseer →جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے
یہ سورة التغابن کے دوسرے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے یہ آیات متعدد مواعظ اور نصائح پر مشتمل ہیں پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچ جائے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور جو تکلیف پہنچ جائے اس پر صبر کرے۔ سنن ابن ماجہ صفحہ 9 میں ہے : (ان ما اصابک لم یکن لیخطئك وان ما اخطاک لم یکن لیصیبک) (یعنی یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تمہیں جو تکلیف پہنچ گئی وہ خطا کرنے والی نہ تھی اور جو تکلیف نہیں پہنچی وہ پہنچنے والی ہی نہ تھی)
لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرو اور اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…
Read the full tafseer →10:۔ ” ما اصاب من مصیبۃ “ مسلمانوں کے لیے تسلیہ ہے۔ اگر کفار و مشرکین کے ہاتھوں تمہیں تکلیفیں پہنچیں تو اس سے گھبرانا نہیں، یہ سب بطور آزمائش اللہ کی جانب سے ہے اس لیے اللہ پر بھروسہ کرو اور ایمان پر ثابت قدم رہو، اللہ تمہارے دلوں میں عزم و اثبات کا جذبہ پیدا فرمائے گا اور تمہیں مصائب و آلام پر صبر کرنے کی توفیق دے گا وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور مومنوں کے دلوں کا حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس لیے مصیبت کے وقت ان کے دلوں کو تقویت پہنچاتا اور برداشت کی طاقت عطا فرماتا ہے، مومن پر جب مصیبت آتی ہے تو وہ اسے من جانب اللہ سمجھ کر سر تسلیم خم کردیتا اور راضی برضا ہوجاتا ہے (یہد قلبہ) عند اصابتہا للصبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
مصیبت باذن اللہ :
گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللہِ يَہْدِ قَلْبَہٗ 0 ۭ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 11
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ترکیب : من شرطیۃ یہدقلبہ جوابہ۔ قلبہ بالنصب والرفع فالرفع علی الفاعلیۃ والنصب علی انہ مفعول لیہد مثل سفہ نفسہ فان تولیتم شرط فانما والجملۃ جو ابہ وعلی اللہ متعلق بیتوکل قدم للتخصیص۔ عدواً بالنصب علی انہ اسم ان وخبرہ من ازواجکم واولاد کم۔
تفسیر : ابھی فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والے نیک کام کرنے والے فائزالمرام اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اس پر خیال گزرتا ہے کہ بہت سے ایمانداروں، نیکوں کو ہم مصائب میں مبتلا دیکھتے ہیں، پھر وہ کامیابی کہاں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے : ما اصاب من مصیبۃ الاباذن اللہ۔ کہ کوئی مصیبت (بیماری، تنگدستی، اقارب کی موت، دشمنوں کا غلبہ، مال و جاہ کا زوال یا اس میں کوئی فرق…
Read the full tafseer →مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (التغابن : 11)
(کوئی مصیبت کبھی نہیں پہنچتی، مگر اللہ کے اذن سے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کی رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ )
مصائب میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت
یوں تو کسی بھی بڑے مقصد اور کسی بھی صداقت کے لیے اقدام کرنے والا مصائب سے ضرور دوچار ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی بڑا کام محنت اور مشقت اٹھائے بغیر اور موانع کا سامنا کیے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ بالخصوص جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت مسلمان سخت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا میں ایمانداروں کو پہنچنے والی تکالیف کی حقیقت اور اس میں راہنمائی۔
پچھلی آیت میں قیامت کے دن کو ہار جیت کا دن قرار دیا گیا ہے۔ ہارنے والے کفار، مشرکین اور منافقین ہوں گے جو دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہر قسم کے نقصان کو سے برداشت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ انہیں جو مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے۔ جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رضا کی خاطر مصائب برداشت کرے ایک وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کی راہنمائی کرتا ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →تکلیف اس کی تقدیر و مشیت ہے :
1 1 : مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ (اور کوئی مصیبت بغیر حکم اللہ تعالیٰ کے نہیں آتی) مصیبۃؔ سے مراد سختی، مرض، موت اہل و عیال نمبر 2۔ ایسی شئی جو غم پہنچائے۔ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ یعنی اس کے علم اور اس کی تقدیر اور مشیت سے۔ یہ گویا اس کی طرف سے مصیبت کو اجازت ہے کہ وہ بندے کو پہنچے۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر (پورا) ایمان لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو صبر ورضا کی راہ دکھا دیتا ہے۔ کہ وہ مصیبت کے وقت اس کی بارگاہ میں رجوع کر کے انا للہ وانا الیہ راجعون کہتا ہے۔ (البقرہ : 156) نمبر 2۔ دل اور سینے کو کھول دیتا ہے جس…
Read the full tafseer →10 ۔” والذین کفروا وکذبوا بآیاتنا اولئک اصحاب النار خالدین فیھا وبئس المصیر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 13۔ اوپر اللہ اور اللہ کے رسول اور قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 5 ؎ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار بننے کے لئے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضرور ہے ایک تو یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا برحق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا آیت اور حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مثلاً آدمی کو کوئی…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ) جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے یہ آیت کریمہ جان ومال اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے چناچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ کی قجا وقدر سے ہیں جس کا اللہ کو پہلے سے علم ہے اس پر اس کا قلم جاری ہوچکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہوچکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمے داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کرسکا ؟ اگر اس نے اس ذمے داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا وآخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے پھر جب…
Read the full tafseer →22 ۔ ہر مشکل و مصیبت اللہ تعالیٰ ہی کے اذن کے تابع، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور حکم کے تابع ہوتی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ ہی کے اذن سے " خواہ وہ کسی کی موت کی شکل میں ہو، یا جان و مال کے نقصان، یا کسی صدمہ و بیماری وغیرہ کی کسی اور صورت میں کہ نکرہ تحت النفی کا یہ عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس خدشہ و دغدغہ کو دور فرما دیا گیا جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے آخرت کے لیے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
مومن کے لیے آخرت کا زادراہ
تشریح : یہ آیات انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کا ایک چھوٹا سا منشور ہے آئین ہے جو ہم انسانوں کے لیے آسانیاں اور سکون مہیا کرتا ہے۔ یہی فرق ہے کافر کی زندگی اور مسلمان کی زندگی میں مثال کے طور پر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک چھوٹا سا حصہ ان کی آپ بیتی میں سے بتاتی ہوں یہ انہوں نے آزادی سے 12 سال پہلے 1935 ء میں جیل میں قید ہونے کے دوران لکھی تھی۔ ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہوگیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کرسکتا، کتاب زندگی کے اگلے اوراق سر بمہر ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
آیات 11 تا 18۔
اسرار ومعارف۔
سب راحتوں کا مدار قلب پر ہے۔
انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کی اجازت اور حکم سے آتی ہے کہ اسی کی بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق نتائج برآمد ہوتے ہیں ہاں مگر جسے ایمان نصیب ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب کرتا ہے یعنی اس کا قلب مطمئن رہتا ہے اور مصیبت میں بھی اسے اللہ کی رحمت کا بھروسہ ہوتا ہے کہ تمام راحتوں کا مدار قلب پر ہے اور بندہ مومن کا قلب پرسکون ہوتا ہے جبکہ منافق اور کافر کو سوائے بےقراری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اطاعت رسول ﷺ ۔
لہذا اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کروجس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول اللہ کی اطاعت کرو یادر ہے کہ عقیدہ عبادت اور نظام حیات سب میں رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 1 یعنی اس کے ارداہ اور مشیت سے آتی ہے کیونکہ اس کے ارادہ مشیت کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوسکتی … کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو دین سچا ہوتا تو ان پر دنیا کی مصیبتیں کیوں آتیں ؟ ] شوکانی)2 یعنی اسے صبر و استقامت کی توفیق دے گا اور گھبرا کر کفر و ناشکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے گا کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ مجھ پر یہ مصیبت میرے پروردگار نے بھیجی ہے کہ میرے ایمان کا امتحان لے اور اگر میں امتحان میں کامیاب رہا تو میری نیکیاں زیاندہ اور میری برائیاں کم کر دے گا۔
Read the full tafseer →(64:11) ما اصاب من مصیبۃ۔ ما نافیہ ہے اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ من تبیضیہ مصیبۃ اسم فاعل واحد مؤنث اصابۃ (افعال) مصدر سے بمعنی پہنچنا مصیبۃ پہنچنے والی۔ تکلیف۔ مسیبت، نہیں پہنچتی کوئی مصیبت۔
ومن یؤمن باللہ یھد قلبہ واؤ عاطفہ، من موصولہ، شرطیہ۔ یھد قلبہ جملہ جواب شرط ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے (اللہ) اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ۔ یعنی اس کے دل کو صبر و رضا کی راہ دکھا دیتا ہے۔ یھد مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔
واللہ بکل شیء علیم۔ واؤ عاطفہ۔ اللہ مبتداء علیم اس کی خبر۔ بکل شیء ب حرف جار۔ کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
اجزائے ایمان اور مصیبت کے وقت صبر کرنے کا اجر۔
(ف 1) اوپر اللہ اور اللہ کے رسول و قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم فرما کر ان آیتوں میں تقدیر الٰہی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی، اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا، ایماندار بننے کے لیے چار باتوں پر ہر آدمی کو ایمان لانا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کا وحدہ لاشریک ہے۔ دوسرے یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور جو دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں لایا ہوں وہ سب برحق ہیں، تیسرے یہ کہ مرنے کے بعد قیامت کا آنا حق ہے۔ چوتھے تقدیر الٰہی کا دل میں پورا اعتقاد رکھنا، آیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[5] اور اللہ کا حکم بہرحال کسی نہ کسی مصلحت کی بناء پر ہوتا ہے جسے انسان نہ جانتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →مرد مسلمان کا شیوہ
1: اسلام دلوں میں اس عقیدہ کی نشو ونما چاہتا ہے ۔ کہ مرد مسلمان مصائب اور مشکلات میں دماغی توازن کو نہ کھو بیٹھے ۔ پوری جمعیت کے ساتھ اپنے نصب العین کی تکمیل میں مصروف رہے ۔ اور یہ سمجھے ۔ کہ جس قدر تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ۔ وہ سب اللہ کے فیصلہ اور علم کے مطابق ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی وجہ سے عزائم میں استحکام اور ارادوں میں مضبوطی پیدا ہوجائے ۔ نیز طمانیت قلب کا وہ درجہ حاصل ہوجائے ۔ جہاں دلوں میں تزلزل پیدا نہیں ہوتا ۔ یھد قلبہ سے غالبا ۔ یہی مقام تسکین مزہ ہے ۔ مسئلہ تقدیر کا یہ وہ ہمت آفرین پہلو ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلمان زندگی کی دشوار گزار منزلوں میں بھی مایوس نہیں ہوتا ۔…
Read the full tafseer →(11) اور کوئی مصیبت نہیں آئی اور کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچتی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلبکو صحیح راہ دکھاتا ہے اور اس کے دل کی صحیح رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں راہ بتادے صبر کی۔
خلاصہ : یہ کہ کوئی تکلیف یا سختی بغیر اذن الٰہی کی نہیں آتی۔ طبعاً انسان مصیبت سے گھبراتا اور جزع فزع کرتا ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور کامل مومن ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو صبر ورضا کا راستہ بتادیتا ہے یعنی صبرورضا کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور یہ سمجھ کر صبر و رضا اختیار کرنا چاہئے۔
3۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے صبر اختیار کیا اور کس نے نہیں کیا، اور ہر ایک کو حسب حکمت جزاء و سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →ہر آنے والی مصیبت اللہ کے اذن سے آتی ہے اور ایمان ہدایت قلبی کا نام
11 ؎ ( اصاب) کی اصل ص و ب ہے ۔ اس کے معنی میں وہ پہنچا ، وہ آ پڑا ۔ اس نے پا لای ۔ اصابۃ سے جس کے معنی پا لینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ما اصاب) نہیں پہنچتی ۔ وہ لوگ جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ان کے راستے کا سب سے بڑا خطرہ اور سب سے بڑا پتھر جو ہر وقت ان کے راستے میں موجود ہوتا ہے اور کبھی بھی ان کے راستے سے وہ نہیں ہٹتا اور ہر وقت مزاحم ہوتا رہتا ہے اس کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب انسان اس بات پر ایمان لے آئے کہ جو کچھ ہوگا اللہ کے حکم سے ہوگا اور جو ہوا وہ اللہ ہی کے حکم سے ہوا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
Commentary
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ (And no calamity befalls [ one ], but with the leave of Allah. And whoever believes in Allah, He guides his heart…64:11) In other words, it is a reality that not even a particle can move without the Divine will. Without the will of Allah no one can harm or benefit anyone. If a person does not believe in Allah and the Divine destination, he would not have any means of comforting himself when a calamity befalls him. He receives it with despair, and gropes for means of alleviating it. A…
Read the full tafseer →23 The discourse now turns to the believers. While reading this passage one should keep in mind the fact that at the time when these verses were revealed. Muslims were passing through great hardships After years of persecution at Makkah they had left their home and emigrated to Madinah, where the sincere Muslims who had given them refuge had been doubly burdened. On the one hand, they had to support and sustain hundreds of the emigrants who were coming to them from different parts of Arabia; on the other they had become the target of the persecution and enmity of the enemies of Islam of…
Read the full tafseer →