At-Taghaabun 64:10

At-Taghaabun · from ayah 10

64:10

وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟۠وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل ذوزخ ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But the ones who disbelieved and denied Our verses - those are the companions of the Fire, abiding eternally therein; and wretched is the destination.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:10

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل ذوزخ ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی (سب) جہنمی ہیں (جو) جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وه بہت برا ٹھکانا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہوگا، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا وہ دوزخ والے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ آگ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں، اور کیا ہی برا انجام،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں (جو) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ آگ والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہنے والے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلا یا وہی لوگ دوزخ والے ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ نہایت برا ٹھکانہ ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے برعکس جنہوں نے (زندگی بھر) کفر ہی کیا ہوگا اور انہوں نے جھٹلایا ہوگا ہماری آیتوں کو تو ایسے لوگ دوزخی ہوں گے جس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ کافر رہے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تھے یہ لوگ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانہ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جنہوں نے انکار کیا اور تکذیب کی ہماری آیات کی وہی ہوں گے جہنمی وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who disbelieved and gave the lie to Our Signs: they shall be the inmates of the Fire, and will abide in it. That is a woeful resort!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who disbelieve and reject Our signs, they are the people of the Fire. And it is an evil place to return.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who disbelieve and reject Our signs, they are the people of the Fire. And it is an evil place to return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who disbelieved and denied Our Ayat, they will be the dwellers of the Fire, to dwell therein forever. And worst indeed is that destination

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who disbelieve and deny Our revelations, such are owners of the Fire; they will abide therein - a hapless journey's end!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But the ones who disbelieved and denied Our verses - those are the companions of the Fire, abiding eternally therein; and wretched is the destination.

— Saheeh International

As for those who have disbelieved and rejected Our revelations, they will dwell forever in hell fire, a terrible fate.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who disbelieve and reject Our communications, they are the inmates of the fire, to abide therein and evil is the resort.

— Muhammad Habib Shakir

And they who disbelieve and belie Our Signs! those shall be fellows of the Fire, as abiders therein; a hapless destination.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who reject Faith and treat Our Signs as falsehoods, they will be Companions of the Fire, to dwell therein for aye: and evil is that Goal.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–10

منکرین قیامت مشرکین و ملحدین اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں، یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے، پہلی آیت تو سورة یونس میں ہے (ترجمہ) یعنی یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے ؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، دوسری آیت سورة سبا میں ہے۔ (ترجمہ) کافر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّغَابُن 22 یہ الفاظ خود کفر کے مفہوم کو واضح کردیتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات کو اللہ کی آیات نہ ماننا، اور ان حقائق کو تسلیم نہ کرنا جو ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں، اور ان احکام کی پیروی سے انکار کردینا جو ان میں ارشاد ہوئے ہیں، یہی کفر ہے اور اس کے نتائج وہ ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

قیامت کو یوم تغابن کہنے کی وجہ (آیت) يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ”جس روز تم کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا جمع کرنے کے دن میں، یہ دن ہوگا تغابن کا یعنی خسارہ کا“ یوم الجمع اور یوم التغابن دونوں قیامت کے نام ہیں، یوم الجمع ہونا اس دن کا تو ظاہر ہے کہ تمام مخلوق اولین و آخرین کو اس روز حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لئے جمع کیا جائے گا اور یوم التغابن اس لئے کہ تغابن غبن سے مشتق ہے جس کے معنی خسارے اور نقصان کے ہیں، مالی نقصان اور خسارہ کو بھی غبن کہا جاتا ہے اور رائے اور عقل کے نقصان کو بھی، امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ مالی خسارے کے لئے یہ لفظ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–10

(یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن ومن یومن باللہ ویعمل صالحا یکفرعنہ سیاتہ وید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولیک اصحب النار خلدین فیھا وبئس المصیر) (9، 10)۔ (سلامتی کی راہ)۔ یعنی بجائے اس کے اپنے کو اس مغالطے میں مبتلا رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ سلامتی اس بات میں ہے کہ اس دن کو برابر یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کیے جانے کے دن کے لیے اکٹھا کرے گا یعنی اس دن کے لیے اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں طے شدہ ہے، جس کے دلائل آفاق وانفس میں موجود ہیں، جس کی شہادت تمام نبیوں اور رسولوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

9۔ 1 قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ 9۔ 2 یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

1: قرآن کریم نے یہاں تغابن کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان یا حسرت میں مبتلا کریں، قیامت کے دن کو تغابن کا دن اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن جو لوگ جنت میں جائیں گے دوزخی لوگ انہیں دیکھ کر حسرت کریں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں ان جنتیوں جیسے عمل کئے ہوتے تو آج ہم بھی جنت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے، حضرت شاہ عبدالقادر صاحب ؒ نے اس کا ترجمہ ہار جیت کا دن کیا ہے، جو مفہوم کو اختصار کے ساتھ واضح کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

یوم یجمعکم ........................ التغابن (46 : 9) ” جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا “۔ یوم الجمع تو اس لئے ہوگا کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔ اور تمام ملائکہ کو بھی اس دن حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔ انسانی تصور کے قریب کرنے کے لئے حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے۔ اور میں وہ کچھ سن رہا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ آسمان بوجھ کی وجہ سے چڑ چڑایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ کیونکہ آسمان میں چار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

8 دنیا میں کوئی مصیبت اور سختی اللہ کی مشیت و ارادہ کے بدون نہیں پہنچتی۔ مومن کو جب اس بات کا یقین ہے تو اس پر غمگین اور بددل ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بہر صوت مالک حقیقی کے فیصلہ پر راضی رہنا چاہیے اور یوں کہنا چاہیے نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی اس طرح اللہ تعالیٰ مومن کے دل کو صبر و تسلیم کی راہ بتلا دیتا ہے۔ جس کے بعد عرفان و ایقان کی عجیب و غریب راہیں کھلتی ہیں۔ اور باطنی ترقیات اور قلبی کیفیات کا دروازہ مفتوح ہوتا ہے۔ 9 یعنی جو تکلیف و مصیبت اس نے بھیجی عین علم و حکمت سے بھیجی، اور وہی جانتا ہے کہ کون تم میں سے واقعی صبر و استقامت اور تسلیم و رضا کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط } ”اور جنہوں نے انکار کیا اور تکذیب کی ہماری آیات کی وہی ہوں گے جہنمی ‘ وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں۔“ { وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔ } ”اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔“ گزشتہ دس آیات میں ایمانیاتِ ثلاثہ ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت کی بہترین اور جامع ترین تعبیر بیان ہوئی ہے اور پھر ایمان کے لیے زوردار دعوت دی گئی ہے۔ اس طرح کہ جس موضوع کا بیان مفصل ہے اس کے لیے دعوت مختصراً دی گئی ہے اور جو موضوع مختصر طور پر بیان ہوا ہے اس کی دعوت نسبتاً مفصل انداز میں آئی ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور ایمان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

17 تغابن کی لغوی تشریح اور مفہوم :۔ تغابن۔ غبن معروف لفظ ہے بمعنی چوری چھپے کسی دوسرے کا حق مار لینا، اور تغابن بمعنی چوری چھپے ایک دوسرے کے حقوق، خواہ ان کا تعلق مال و دولت سے ہو یا دوسرے حقوق سے مارنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دنیا میں جو تغابن ہوتا ہے اور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ یہ حقیقی نہیں بلکہ اس کے نتائج اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً زید نے بکر کا حق غصب کیا تو یہاں دنیا میں اس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ زید فائدہ میں رہا اور بکر خسارے میں رہا۔ لیکن قیامت کے دن جب زید سے بکر کا غبن کیا ہوا حق زید کو واپس دلایا جائے گا تو بکر فائدے میں رہے گا اور زید خسارے میں رہے گا۔ گویا آخرت میں فائدے اور خسارے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

10۔ (بشری ضروریاتوجذبات کا کونسا جزئیہ اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟ ) (آیت) ” ما ..... اللہ “۔ اس خیال کا استحضار مصیبت زدوں کے لیے کتنی بڑی تسلی وتسکین کا باعث اور جادۂ تسلیم و رضاء پر قائم رکھنے میں کتنا زیادہ معین ہوسکتا ہے ! (آیت) ” باذن اللہ “۔ اذن سے مراد اس سیاق میں حکم تکوینی ہے، جو مرضی الہی کو مستلزم نہیں۔ اے بعلمہ وتقدیرہ ومشیۃ (مدارک) قال ابن عباس ؓ بعلمہ وقضاۂ (کبیر) (آیت) ” ومن .. قلبہ “۔ ایمان باللہ میں تاثیر ہی یہ ہے وہ قبل کو تسلیم و رضاء کا راستہ دکھاتا رہے۔ جس کا درجہ ایمان جتنا زیادہ مستحکم وبلند، اسی قدر ہجوم مصائب کے وقت سکون قلب بھی اس کو زیادہ نصیب، چیز تجربہ کی ہے، جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–10

یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن قیامت کو ” یوم الجمع “ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے، اور اس دن کو یوم التغابن، خسارہ کا یا ہار جیت کا دن، اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک گروہ نقصان میں اور ایک گروہ فائدے میں رہے گا یا ایک گروہ جیت جائے گا اور دوسرا گروہ ہار جائے گا، اہل حق باطل پر، اہل ایمان اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر سبقت لے جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں ان گھروں کے بھی مالک بن جائیں گے جو جہنمیوں کے لئے تھے اگر وہ ایمان لاتے، اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کی ہوگی یہ کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین کفروا و کذبوا بایتنا اولئک اصحاب النار خلدین فیھا و بئس المصیر . ” اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا وہ دوزخی ہیں ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانا ہے۔ “ (جزا و سزا کی) دونوں آیات ‘ تغابن کی تفصیل میں ہیں یا یوم الجمع میں جو سب کو جمع کیا جائے گا اس کی اصل غرض و مقصد کا اظہار اور دونوں فریقوں کے الگ الگ نتیجہ کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہوگا اور حضور اور قرآن حکیم کی تکذیب کی ہوگی مثلا کفار مکہ یہ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ دوزخ برا ٹھکانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَآ : یہ اس دن کی ہار والوں کے حصے کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیاتنا سے مراد قرآن ہے۔ جب مومنوں کے لئے جو کچھ ہے اس کا ذکر کیا تو جو کچھ کافروں کے لئے ہے اس کا بھی ذکر کیا جس طرح کئی مواقع پر پہ لے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

8۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یجمعکم لیوم الجمع۔ یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا سے مراد ہے قیامت کا دن اور وہ یوم التغابن (ہار جیت کا دن ہے) کہ اس میں اہل جنت نے اہل دوزخ کو نقصان پہنچایا۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ سے مراد ہے کہ اہل جنت نے اہل دوزخ و نقصان پہنچایا۔ 11۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک یوم التغابن سے مراد ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ كَفَرُوْا : اور جنھوں نے انکار کیا ] [وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ : اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ] [اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَارِ : وہ لوگ آگ والے ہیں ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] [وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور بہت بری ہے (وہ) لوٹنے کی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر کافروں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ (الآیۃ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

9:۔ ” یوم یجمعکم “ ظرف لتنبئون سے متعلق ہے (روح) یا اس کا متعلق محذوف ہے ای یتغابنون بقرینہ ذلک یوم التغابن قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی اس دن تم خسارے میں رہو گے اور افسوس کروگے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کی۔ ” ومن یومن باللہ “ مومنین صالحین کے لیے بشارت اخرویہ ہے، فرمایا جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں، اللہ ان کے گناہ معاف فرمائیگا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان میں رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔ ” والذین کفروا و کذبوا بایاتنا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جن لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–10

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ 10 ۧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

ترکیب : زعم یتعدی الی المفعولین کالعلم ان مخففۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف ای انھم لن یبعثوا فان المخففتہ مع اسمھا وخبرھاقامت مقام المفعولین۔ قل بلی الخ لا یجاب النفی وربی قسم لتبعثن جواب القسم ثم لتنبؤن الخ جملہ مستقلۃ داخلہ تحت الامروارادۃ لتاکید ما افادہ کلمۃ بلی من اثبات البعث فامنوا الفاء فصیحۃ تدل علی شرط حذف لظہورہ ای اذاکان الامرکذا فامنوا واللہ الخ والجملۃ تذییلی مقرر لماقبلہ من الامر یوم قال النحاس الناصب فیہ لتنبئن فیوم ظرفہ وقیل خبروقیل محذوف ھواذکر وقیل اول علیہ الکلام ای تتفاوتون یوم یجمعکم خلدین فیہا ابدا حال مقدرۃ وفیہ مراعاۃ معنی من والذین الموصول وصلۃ مبتداً اولئک الخ الجملۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ وَیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَـآ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (التغابن : 9، 10) (اس دن کو یاد رکھو جب اللہ تم کو جمع کرے گا، جمع ہونے کے دن، وہی ہے ہار جیت کا دن، جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور جس نے صالح عمل کیے اللہ تعالیٰ اس سے اس کی برائیاں جھاڑ دے گا اور اس کو ایسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے اور وہی لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لیے قیامت برپا کرے گا۔ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر مشتمل ہوگا اور اس میں کئی مراحل آئیں گے، نامعلوم ! ایک مرحلہ دنیا کے کتنے سالوں پر محیط ہوگا۔ قیامت کے مختلف مراحل کی وجہ سے اس کے مختلف نام ہیں، قرآن مجید ہر مرحلہ کا نام لے کر اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہاں قیامت کے ابتدائی اور آخری مرحلے کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں لوگوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے اعمال کے مطابق انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اس وجہ سے قیامت کے دن کو ” یَوْمَ الْجَمْعِ “ کا نام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ( اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا۔ اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا۔ وہ دوزخی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانہ ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” یو م یجمعکم لیوم الجمع “ یعنی قیامت کے دن اس میں آسمانوں اور زمینوں والوں کو جمع کریں گے۔ ” ذلک یوم التغابن “ یہ بات تفاعل ہے غبن سے اور وہ حصہ کا فوت ہوجانا ہے اور مراد پس مغبون وہ شخص جو اپنے گھر والوں اور جنت میں منازل سے غبن کیا گیا۔ پس اس دن ہر کافر کا غبن ظاہر ہوجائے گا، ایمان کو چھوڑنے کی وجہ سے اور ہر مومن کا غبن اس کی نیکیوں میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے۔ ” ومن یومن باللہ ویعمل صالحا یکفر عنہ سیئاتہ ویدخلہ جنات تجری من تحتھا الانھار “ اہل مدینہ اور اہل شام نے نکفر پڑھا ہے۔ ” وندخلہ “ اور سورة الطلاق میں ” ندخلہ “ نون کے ساتھ ان میں اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” خالدین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–10

7۔ 10۔ جو لوگ حشر کے منکر ہیں قرآن شریف میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قائل کیا ہے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے جو تمام جہان کو پیدا کیا ہے وہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ہر انسان کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے۔ دوسری دفعہ اس کا کرنا بالکل نہایت آسان ہوجاتا ہے پھر کونسی عقل سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں کہیں یہ فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عقل دی ہے وہ جو کام کرتا ہے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ وہ خدا جس نے عقل کو سب عقل مندوں کو پیدا کیا اس کے کام کو یہ لوگ بےفائدہ اور عبث کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ جزا سزا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ) یعنی جنہوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں انہوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا (اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) وہی اہل دوزخ ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت سختی، بدبختی اور عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دائمی دوزخ، والعیاذ باللہ : سو اس سے جنتیوں کے مقابلے میں دوزخیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و تکذیب کا نتیجہ و انجام دوزخ کا دائمی عذاب ہے، والعیاذ باللہ۔ سو دولت ایمان اور نور ہدایت سے محروم لوگوں کو اگر روئے زمین کی ساری دولت بھی دنیا کی عارضی، محدود اور فانی زندگی میں مل جائے، تب بھی ان کو کیا ملا، وہ بہرحال ناکام اور سراسر ناکام ہیں، کہ ان کا آخری انجام یہ ہونا ہے اور انہوں نے دوزخ میں جلنے کے اس دائمی عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کفر و انکار والوں کو اس دنیا میں جتنی بھی چھوٹ اور ڈھیل مل جائے ان کا انجام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–10

منکرین اور ان کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔ قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 1 یعنی اس کے ارداہ اور مشیت سے آتی ہے کیونکہ اس کے ارادہ مشیت کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوسکتی … کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو دین سچا ہوتا تو ان پر دنیا کی مصیبتیں کیوں آتیں ؟ ] شوکانی)2 یعنی اسے صبر و استقامت کی توفیق دے گا اور گھبرا کر کفر و ناشکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے گا کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ مجھ پر یہ مصیبت میرے پروردگار نے بھیجی ہے کہ میرے ایمان کا امتحان لے اور اگر میں امتحان میں کامیاب رہا تو میری نیکیاں زیاندہ اور میری برائیاں کم کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:10) والذین کفروا او کذبو بایتنا۔ موصول اور صلہ مل کر مبتدائ۔ اولئک ۔۔ الخ سارا جملہ اس کی خبر ہے۔ اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اس آگ میں ہمیشہ رہا کریں گے اور (وہ) برا ٹھکانہ ہے۔ ” جزاو سزاء کی دونوں آیات (64:9-10) تغابن کی تفصیل ہیں۔ یا۔ یوم الجمع میں جو سب کو جمع کیا جائے گا اس کی اصل غرض و مقصد کا اظہار اور دونوں فریقوں کے الگ الگ نتیجہ کا بیان ہے “۔ (تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

(ف 2) کافروں نے یہ گمان پکای اور خیال کیا کہ وہ مرکرخاک ہوجائیں گے پھر نہ اٹھیں گے مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی نہ پائیں گے اے محبوب تم فرماؤ کہ اے لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سب مرے پیچھے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ہر بات کی اچھائی براء کی جو دنیا می کی ہوگی تم کو خبر دی جائے گی اور اس کا بدلہ ملے گا تم اس کو کوئی امرمحال سمجھتے ہو، یہ ساراکارخانہ بعد فنا پھر اٹھا کر کھڑا کردیناخدا کے نزدیک بہت ہی آسان امر ہے ، پس اللہ ورسول پر ایمان لاؤ بعثت بعد الموت کی تصدیق کرو اس کی چمکتی ہوئی نور کی روشی کو جس کو ہم نے بذریعہ جبرائیل محمد پر اتارا یعنی قرآن شریف۔ اے لوگو ! اللہ کو ان سب باتوں کا علم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[4] جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہوں نے اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے۔ جس کو دنیا کا عیش و آرام حاصل ہوگیا وہ سمجھ بیٹھے کہ اس نے بازی جیت لی اور جس کو نہیں حاصل ہوا اسے ناکام و نامراد سمجھ لیا حالانکہ یہ دنیا دارالانعام نہیں دارالامتحان ہے۔ دارالانعام تو آخرت ہے جس میں بازی وہ لوگ جیتیں گے جو اس دنیا میں ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے اگرچہ اس دنیا کی متاع میں سے انہیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی ہو اور وہ لوگ وہاں بالکل محروم و نامراد ہوں گے جو ایمان و عمل صالح سے محروم اٹھیں گے اگرچہ دنیا میں انہیں قارون کے خزانے حاصل رہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–10

قرآن حکیم کو نور سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ کتاب اپنے مطالب کی وضاحت میں بمنزلہ روشنی کے ہے ۔ اس میں کوئی الجھن نہیں ۔ اور نہ کسی عقیدہ کو تشتہ دلائل رکھا گیا ہے ۔ اس کی ہر بات بجائے خوذپ کی تلی اور مدلل ہے ۔ اس لئے ان تمام لوگوں کو جو ضیاء بصیرت اور یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دعوت ہے ایمان کی ۔ کہ وہ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنائیں ۔ اور پھر دیکھیں ۔ کہ کیونکر قطب و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حل لغات :۔ نبوء ۔ خبر غنی حمید ۔ یعنی اس کی بےنیازی ایسی ہیں جو بےپروائی اور تغافل کے مترادف ہو ۔ بلکہ وہ ان معنوں میں بےنیاز ہے ۔ کہ کائنات میں کسی چیز کی احتیاج نہیں رکھتا ہے ۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اورجن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور کفر کے مرتکب رہے ہوں گے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہوگی تو یہ لوگ اہل جہنم ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہ جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ پہلی آیت میں مسلمانوں کے نفع کا اظہار تھا اور اسکی آیت میں منکرین اور مکذبین کے نقصان کا اظہار فرمایا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

ف 1۔ یعنی سود و زیان کے ظاہر ہونے کا مطلب یہ کہ مسلمانوں کا نفع اور کافروں کا نقصان اس روز عملا ظاہر ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافر اور مکذبین قرآن آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جو بہت بری جگہ ہے 10 ؎ رسول اللہ ﷺ پر اور آپ ﷺ پر اتاری گئی کتاب پر جو لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اگر وہ اسی طرح ڈٹے رہے اور اسی حال میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اتنی نصیحتوں کے باوجود اپنے کفر پر اڑے ہی رہے اور قرآن کریم کی تکذیب قولی اور عملی پر قائم رہے تو ان کا انجام درد ناک عذاب ہے۔ ہم آج ہی بتا رہے ہیں تاکہ وہ کان کھول کر سن لیں اور آگ کا نام سن کر مذاق کرنے والے اچھی طرح جان لیں کہ وہ بہت ہی بری جگہ ہے پھر کر جانے والوں کی اور اس سے بری جگہ کوئی اور نہیں ہے۔ آج اس دنیا کی ہو ہوا میں مست اگر نہیں سمجھناں چاہتے تو بہر حال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ([ Be mindful of ] the day when He will gather you for the Day of Gathering. That will be the Day of loss and gain…64:9) ‘The Day of Gathering’ and ‘the Day of Loss and gain’ are both the names of the Day of Judgment. The reason why that day is called ‘The Day of Gathering’ is quite obvious. On that day all creations, the earlier generation as well as the later generations, will be brought together to give account of their deeds and for reward and punishment. The reason for calling the day a ‘The Day of Loss and Gain’ is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 These words by themselves make manifest the meaning of unbelief(Kufr) . Unbelief is nothing but denying the verse of Allah's Book to be Divine Revelation rejecting the truths expressed therein and refusing to follow and obey the commandments given in them; its results are those being mentioned below.

Read the full tafseer →