Explained with ayahs 7–10
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں، یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے، پہلی آیت تو سورة یونس میں ہے (ترجمہ) یعنی یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے ؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، دوسری آیت سورة سبا میں ہے۔ (ترجمہ) کافر…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 19
اجتماع کے دن سے مراد قیامت، اور سب کو اکٹھا کرنے سے مراد ہے تمام ان انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کرنا جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہوں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں جگہ جگہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة ہود میں فرمایا ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسْ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ، " وہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب انسان جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا " (آیت 103)۔ اور سورة واقعہ میں فرمایا قُلْ اِنَّ الْاَ وَّ لِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ الیٰ مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ، " ان سے کہو کہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قیامت کو یوم تغابن کہنے کی وجہ
(آیت) يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ”جس روز تم کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا جمع کرنے کے دن میں، یہ دن ہوگا تغابن کا یعنی خسارہ کا“ یوم الجمع اور یوم التغابن دونوں قیامت کے نام ہیں، یوم الجمع ہونا اس دن کا تو ظاہر ہے کہ تمام مخلوق اولین و آخرین کو اس روز حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لئے جمع کیا جائے گا اور یوم التغابن اس لئے کہ تغابن غبن سے مشتق ہے جس کے معنی خسارے اور نقصان کے ہیں، مالی نقصان اور خسارہ کو بھی غبن کہا جاتا ہے اور رائے اور عقل کے نقصان کو بھی، امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ مالی خسارے کے لئے یہ لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن ومن یومن باللہ ویعمل صالحا یکفرعنہ سیاتہ وید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولیک اصحب النار خلدین فیھا وبئس المصیر) (9، 10)۔
(سلامتی کی راہ)۔ یعنی بجائے اس کے اپنے کو اس مغالطے میں مبتلا رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ سلامتی اس بات میں ہے کہ اس دن کو برابر یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کیے جانے کے دن کے لیے اکٹھا کرے گا یعنی اس دن کے لیے اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں طے شدہ ہے، جس کے دلائل آفاق وانفس میں موجود ہیں، جس کی شہادت تمام نبیوں اور رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔
9۔ 2 یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1: قرآن کریم نے یہاں تغابن کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان یا حسرت میں مبتلا کریں، قیامت کے دن کو تغابن کا دن اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن جو لوگ جنت میں جائیں گے دوزخی لوگ انہیں دیکھ کر حسرت کریں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں ان جنتیوں جیسے عمل کئے ہوتے تو آج ہم بھی جنت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے، حضرت شاہ عبدالقادر صاحب ؒ نے اس کا ترجمہ ہار جیت کا دن کیا ہے، جو مفہوم کو اختصار کے ساتھ واضح کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یوم یجمعکم ........................ التغابن (46 : 9) ” جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا “۔ یوم الجمع تو اس لئے ہوگا کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔ اور تمام ملائکہ کو بھی اس دن حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔ انسانی تصور کے قریب کرنے کے لئے حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے۔ اور میں وہ کچھ سن رہا ہوں جو تم نہیں سن سکتے۔ آسمان بوجھ کی وجہ سے چڑ چڑایا اور اس کا حق ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ کیونکہ آسمان میں چار…
Read the full tafseer →5 یعنی اس دن دوزخی ہاریں گے اور جنتی جیتیں گے۔ ہارنا یہ ہی کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو بےموقع خرچ کر کے رأس المال بھی کھو بیٹھے اور جیتنا یہ کہ ایک ایک کے ہزاروں پائے آگے اسی کی کچھ تفصیل ہے۔
6 یعنی جو تقصیرات ہوئی ہیں ایمان اور نیک کاموں کی برکت سے معاف کردی جائیں گی۔
7 جو جنت میں پہنچ گیا سب مرادیں مل گئیں۔ اللہ کی رضا اور دیدار کا مقام بھی وہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّـغَابُنِ } ”جس دن کہ وہ تمہیں جمع کرے گا جمع ہونے کے دن کے لیے ‘ وہی ہے ہار اور جیت کے فیصلے کا دن۔“
اصل جیت بھی اس دن کی جیت ہے اور اصل ہار بھی اس دن کی ہار ہے۔ اس کے مقابلے میں دنیا کی ہار یا جیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ دنیا کی ہار جیت تو کسی ڈرامے کے کرداروں کی ہار جیت کی طرح ہے ‘ جس کا متعلقہ کردار کی حقیقی زندگی سے کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا۔۔۔۔ اب آگے وضاحت کی جا رہی ہے کہ قیامت کے دن کی جیت کس کے حصے میں آئے گی اور اس دن کی ہار کس کے گلے کا ہار بنے گی۔
{ وَمَنْ یُّـؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا } ”اور جو کوئی ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
17 تغابن کی لغوی تشریح اور مفہوم :۔ تغابن۔ غبن معروف لفظ ہے بمعنی چوری چھپے کسی دوسرے کا حق مار لینا، اور تغابن بمعنی چوری چھپے ایک دوسرے کے حقوق، خواہ ان کا تعلق مال و دولت سے ہو یا دوسرے حقوق سے مارنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دنیا میں جو تغابن ہوتا ہے اور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ یہ حقیقی نہیں بلکہ اس کے نتائج اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً زید نے بکر کا حق غصب کیا تو یہاں دنیا میں اس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ زید فائدہ میں رہا اور بکر خسارے میں رہا۔ لیکن قیامت کے دن جب زید سے بکر کا غبن کیا ہوا حق زید کو واپس دلایا جائے گا تو بکر فائدے میں رہے گا اور زید خسارے میں رہے گا۔ گویا آخرت میں فائدے اور خسارے کے…
Read the full tafseer →9۔ (جس کے سامنے دنیا کی بڑی سی بڑی ممکن کامیابی بھی ہیچ محض ہے) (آیت) ” ذلک یوم التغابن “۔ یعنی وہ دن کافر ومنکر کی حسرت و زیاں کا ہوگا، اور مومن کی راحت ومسرت کا۔ (آیت) ” ومن ..... سیاتہ “۔ آیت ان خارجی اور نیم خارجی گروہوں کے مزید رد میں ہے، جو معصیت کو ایمان کے منافی سمجھتے ہیں، مومن سے اگر گناہ سرزد ہی نہ ہوں، تو یہ کفارہ کا ہے کا ہوگا ؟ اور قرآن مجید مومنین کے کفارہ معاصی کا بار بار اثبات ہی کیوں کررہا ہے ؟ (آیت) ” ویعمل ..... سیاتہ “۔ قرآن مجید کی یہ بار بار بشارت کہ نیکیاں گناہوں کے محو کرنے میں وہ کام دیں گی، جو پنسل کی تحریر کے حق میں ربڑ کرتی ہے۔ ہم عاصیاں امت کے لئے کتنی بڑی بشارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن قیامت کو ” یوم الجمع “ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے، اور اس دن کو یوم التغابن، خسارہ کا یا ہار جیت کا دن، اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک گروہ نقصان میں اور ایک گروہ فائدے میں رہے گا یا ایک گروہ جیت جائے گا اور دوسرا گروہ ہار جائے گا، اہل حق باطل پر، اہل ایمان اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر سبقت لے جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں ان گھروں کے بھی مالک بن جائیں گے جو جہنمیوں کے لئے تھے اگر وہ ایمان لاتے، اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کی ہوگی یہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن .
” یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا ‘ وہ دن گھاٹا دینے کا ہے۔ “
یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ : یعنی یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو جمع کریگا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو بدلہ دیگا ‘ اس روز جب کہ تم کو جمع کریگا۔
لِیَوْمِ الْجَمْعِ : یوم الجمع سے مراد ہے روز قیامت ‘ جب ملائکہ اور سارے جن و انس اگلے پچھلے سب اس روز جمع ہوں گے۔ لیوم الجمع میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یوم الجمع میں ‘ جو حساب فہمی اور سزا و جزا ہوگی ‘ اس میں سب کو جمع کیا جائے گا۔
ذٰلِکَ : وُ ہ دن۔
التَّغَابُنِ : یہ بات تفاعل کا مصدر ہے لفظی ترجمہ ہے باہم ایک کا دوسرے کو گھاٹا دینا…
Read the full tafseer →قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا اسی روز کافر اپنی جان و مال و اولاد اور جنت سے گھاٹے میں رہے گا اور مومن وارث ہوجائے گا یا یہ کہ مومن کافر کو اس کے اہل و عیال کے بارے میں نقصان پہنچائے گا یا یہ کہ کافر اپنی جان کو جنت نہ ملنے سے نقصان پہنچائے گا اور مومن اس کا وارث ہوگا اور مظلوم ظالم کی نیکیاں لے کر اور اپنی برائیاں اس پر ڈال کر ظالم کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اللہ پر اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہو اور نیک اعمال کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو توحید کے ذریعے سے معاف کردے گا اور ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے چاروں طرف نہریں…
Read the full tafseer →1۔ یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ : یہ ”لتبعثن ثم لتنبون“ کا ظرف ہے ، قیامت کے دن ”یوم الجمع“ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن تمام پہلے اور پچھلے ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ (دیکھئے ہود : 103۔ صافات : 49، 50۔ شوریٰ : 7۔ مرسلات : 38)”یوم الجمع“ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دن انسان کے جسم کی ہر ہڈی اور ہر ذرہ جو منتشر ہوچکا ہوگا جمع کردیا جائے گا ، جیسا کہ فرمایا :(اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ) (القیامہ : 3)”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے“۔
2۔ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ :”غبن“ (ن) ”فلانا فی البیع“ بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1۔ یوم یجمعکم الیوم الجمع یوم میں عالم لتنبون ہے یا خبیر ہے کیونکہ اس میں وعید کا معنی موجود ہے۔ گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے گا جس دن تمہیں جمع کرے گا یا اذکر فعل جو مضمر ہے وہ اس میں عامل ہے۔ غبن کا معنی نقص ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، غبنہ غبنا جب کم قیمت کے ساتھ وہ کوئی چیز لے عام قرأت یجمعکم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واللہ بما تعملون خبیر۔ (الحدید) اس کے بارے میں خبر دی اور اللہ تعالیٰ کا نام پہلے ذکر کیا ہے اس لیء خبیر اس کے مناسب ہے۔
نصر ابن ابی اسحاق، حجدری، یعقوب اور سلام نے نجمعکم پڑھا۔ یہ قراء والنور الذی انزلنا کی موافقت کا اعتبار کرتے ہیں۔ یوم الجمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یجمعکم لیوم الجمع۔ یاد کرو اس دن کو جب اللہ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا سے مراد ہے قیامت کا دن اور وہ یوم التغابن (ہار جیت کا دن ہے) کہ اس میں اہل جنت نے اہل دوزخ کو نقصان پہنچایا۔
9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یوم التغابن “ سے مراد ہے کہ اہل جنت نے اہل دوزخ و نقصان پہنچایا۔
11۔ فریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک یوم التغابن سے مراد ہے کہ…
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ : جس دن وہ جمع کرے گا تم لوگوں کو ] [لِيَوْمِ الْجَمْعِ : جمع کیے جانے کے دن کے لیے ] [ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ : وہ نفع نقصان (کے ظہور) کا دن ہوگا ] [وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ : اور ایمان لائے گا اللہ پر ] [وَيَعْمَلْ صَالِحًا : اور عمل کرے گا نیک ] [يُّكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ : تو وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیوں کو ] [وَيُدْخِلْهُ : اور وہ داخل کرے گا اس کو ] [جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہوں گی جن کے دامن میں نہریں ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ : ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] [اَبَدًا : ہمیشہ ہمیش ] [ذٰلِكَ…
Read the full tafseer →نویں اور دسویں آیت میں روز قیامت کی حاضری کی خبر دی اور مومنین اور کافرین کا انجام بتایا فرمایا ﴿ يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ﴾ (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تمہیں جمع فرمائے گا اور یہ جمع کرنے کا دن نقصان میں پڑنے کا دن ہوگا) ہر ایک کو اپنے اپنے وقت پر مختلف ایام میں موت آئی۔ قیامت کا دن یوم الجمع ہے اس میں زندہ ہو کر سب جمع ہوں گے۔
قیامت کا دن یوم التغابن ہے :
اس یوم الجمع کو یوم التغابن بھی فرمایا ہے یہ لفظ غبن سے لیا گیا ہے، غبن نقصان کو کہتے ہیں قیامت کے دن سب کا خسارہ ظاہر ہوجائے گا، کافر کا خسارہ تو ظاہر ہی ہے کہ جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
تنبیہ برفکر آخرت وترغیب ایمان وعمل صالح ونصیحت برائے صبر و استقامت واطاعت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم یجمعکم لیوم الجمع ....... الی ....... العزیز الحکیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان نافرمانوں پر وعیدتھی جو اللہ کے پیغمبر پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی وبغاوت کرتے رہے اور اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے قیامت اور جزاء وسزا کے امور سے جب آگاہ کیا تو ایسے نافرمان اور گستاخ اور باتوں کا انکار و تمسخر کرنے لگے ان مضامین کے بعد اب ان آیات حق تعالیٰ شانہ نے قیامت کے احوال بیان فرمائے اور یہ کہ منکرین کا روز قیامت کیا حشر ہوگا اور اہل ایمان کیسی کیسی نعمتوں اور اللہ کی عنایتوں سے سرفراز ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9:۔ ” یوم یجمعکم “ ظرف لتنبئون سے متعلق ہے (روح) یا اس کا متعلق محذوف ہے ای یتغابنون بقرینہ ذلک یوم التغابن قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی اس دن تم خسارے میں رہو گے اور افسوس کروگے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کی۔ ” ومن یومن باللہ “ مومنین صالحین کے لیے بشارت اخرویہ ہے، فرمایا جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں، اللہ ان کے گناہ معاف فرمائیگا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان میں رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔ ” والذین کفروا و کذبوا بایاتنا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ 0 ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللہِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّكَفِّرْ عَنْہُ سَـيِّاٰتِہٖ وَيُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا 0 ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 9
جمع
الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ،
( ج م ع ) الجمع
کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ترکیب : زعم یتعدی الی المفعولین کالعلم ان مخففۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف ای انھم لن یبعثوا فان المخففتہ مع اسمھا وخبرھاقامت مقام المفعولین۔ قل بلی الخ لا یجاب النفی وربی قسم لتبعثن جواب القسم ثم لتنبؤن الخ جملہ مستقلۃ داخلہ تحت الامروارادۃ لتاکید ما افادہ کلمۃ بلی من اثبات البعث فامنوا الفاء فصیحۃ تدل علی شرط حذف لظہورہ ای اذاکان الامرکذا فامنوا واللہ الخ والجملۃ تذییلی مقرر لماقبلہ من الامر یوم قال النحاس الناصب فیہ لتنبئن فیوم ظرفہ وقیل خبروقیل محذوف ھواذکر وقیل اول علیہ الکلام ای تتفاوتون یوم یجمعکم خلدین فیہا ابدا حال مقدرۃ وفیہ مراعاۃ معنی من والذین الموصول وصلۃ مبتداً اولئک الخ الجملۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ وَیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَـآ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (التغابن : 9، 10)
(اس دن کو یاد رکھو جب اللہ تم کو جمع کرے گا، جمع ہونے کے دن، وہی ہے ہار جیت کا دن، جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور جس نے صالح عمل کیے اللہ تعالیٰ اس سے اس کی برائیاں جھاڑ دے گا اور اس کو ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے اور وہی لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لیے قیامت برپا کرے گا۔
قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر مشتمل ہوگا اور اس میں کئی مراحل آئیں گے، نامعلوم ! ایک مرحلہ دنیا کے کتنے سالوں پر محیط ہوگا۔ قیامت کے مختلف مراحل کی وجہ سے اس کے مختلف نام ہیں، قرآن مجید ہر مرحلہ کا نام لے کر اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہاں قیامت کے ابتدائی اور آخری مرحلے کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں لوگوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے اعمال کے مطابق انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اس وجہ سے قیامت کے دن کو ” یَوْمَ الْجَمْعِ “ کا نام…
Read the full tafseer →یوم تغابن :
9 : یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ (اور یاد کرو اس دن کو جب اللہ تعالیٰ تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا)
نحو : یومؔ منصوب لتنبؤن کی وجہ سے ہے۔ نمبر 2۔ اذکر محذوف کی وجہ سے لِیَوْمِ الْجَمْعِ (جس میں اولین و آخرین سب جمع ہونگے) ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ (وہ دن گھاٹا دینے کا ہے) یہ لفظ بطور استعارہ تغابن القوم فی التجارۃ سے لیا گیا ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ غبن کریں۔ قیامت کے دن سعداء اشقیاء کے مقام پر اتر آئے وہ مقامات جن کو وہ کم درجہ سمجھتے تھے اگر وہ سعداء ہوتے۔ اور بدبخت سعداء کی جگہ اتر آئے۔ وہ مقامات کہ جن کو وہ کم درجہ خیال کرتے۔ اگر وہ اشقیاء ہوتے جیسا کہ…
Read the full tafseer →8 ۔” فآمنوا باللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا “ اور وہ قرآن ہے۔ ” واللہ بما تعملون خبیر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ جو لوگ حشر کے منکر ہیں قرآن شریف میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قائل کیا ہے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے جو تمام جہان کو پیدا کیا ہے وہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ہر انسان کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے۔ دوسری دفعہ اس کا کرنا بالکل نہایت آسان ہوجاتا ہے پھر کونسی عقل سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں کہیں یہ فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عقل دی ہے وہ جو کام کرتا ہے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ وہ خدا جس نے عقل کو سب عقل مندوں کو پیدا کیا اس کے کام کو یہ لوگ بےفائدہ اور عبث کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ جزا سزا کا…
Read the full tafseer →یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو اکٹھا کرکے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہوگا کچھ لوگ اعلی علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالاخانوں اور بلند وبالا منازل میں ہوں گے جو تمام اقسام کی لذا وشہوات پر مشتمل ہوں گی کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم وہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہوگا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انہوں نے آگے بھیجے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کے دوران میں ان کو پیش کیا تھا بنابریں فرمایا (ذٰلِكَ يَوْمُ…
Read the full tafseer →18 ۔ ہار جیت کے فیصلے کے دن کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دن ہوگا ہار جیت کے فیصلے کا دن، پس اس دنیا میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے جو طرح طرح کے دعویدار ہیں ان سب کے دعوؤں کی قلعی اس دن پوری طرح کھل جائے گی کہ وہ دن مشاہدات اور کشف حقائق کا دن ہوگا، سب پردے اس دن اٹھا دیئے جائیں گے، اور ہر چیز اپنی اصل شکل و صورت میں سامنے آجائے گی اور ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں کیا تھا اور کہاں کھڑا تھا، سو اس دن یہ سب امور پوری طرح کھل کر سامنے آجائیں گے، کہ دنیا میں راہ حق و ہدایت پر کون تھا اور گمراہی پر کون ؟ اور اب ہمیشہ کی اور سدا بہار کامیابی کس لیے ہے ؟ اور ناکامی کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →۔7 یعنی اس روز کافر ہاریں گے اور مومن جیتیں گے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” ہ رآدمی کا ایک گھر ہے جنت میں ایک دوزخ میں، بہشت والوں نے اپنے بھی گھر لئے اور دوزخیوں کے بھی، دوزخی ہارے اور بہشتی جیتے (موضح)8 یعنی انہیں معاف فرما دے گا۔
Read the full tafseer →(64:9) یوم یجمعکم یوم فعل مقدرہ (اذکر) کا مفعول ہے۔ یاد کرو وہ دن جب وہ تم کو اکٹھا کرے گا۔
یوم الجمع۔ لام تعلیل کے لئے ہے یوم الجمع مضاف مضاف الیہ جمع یجمع (باب فتح) کا مصدر ہے۔ جمع ہونے کا دن۔ جمع کرنے کا دن۔ اکٹھا کرنے کا دن ۔ مراد اس سے روز قیامت ہے جب ملائکہ اور جن و انس اگلے پچھلے سب محاسبہ اور جزا و سزا کے لئے اکٹھے ہوں گے۔
ذلک ای ذلک الیوم یہ دن۔ یوم التغابن۔ یوم تغابن ہوگا۔ روز قیامت کو یوم تغابن کہا گیا ہے۔
تغابن۔ غ ب ن مادہ سے ثلاثی مجرد کے ابواب غبن یغبن باہمی معاملہ میں پوشیدہ طور پر اپنے ساتھی کو کسی غیر محسوس طریقے سے کاروبار میں یا باہمی معاملہ میں نقصان پہنچایا) ۔
اسی مادہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 2) کافروں نے یہ گمان پکای اور خیال کیا کہ وہ مرکرخاک ہوجائیں گے پھر نہ اٹھیں گے مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی نہ پائیں گے اے محبوب تم فرماؤ کہ اے لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سب مرے پیچھے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ہر بات کی اچھائی براء کی جو دنیا می کی ہوگی تم کو خبر دی جائے گی اور اس کا بدلہ ملے گا تم اس کو کوئی امرمحال سمجھتے ہو، یہ ساراکارخانہ بعد فنا پھر اٹھا کر کھڑا کردیناخدا کے نزدیک بہت ہی آسان امر ہے ، پس اللہ ورسول پر ایمان لاؤ بعثت بعد الموت کی تصدیق کرو اس کی چمکتی ہوئی نور کی روشی کو جس کو ہم نے بذریعہ جبرائیل محمد پر اتارا یعنی قرآن شریف۔ اے لوگو ! اللہ کو ان سب باتوں کا علم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[4] جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہوں نے اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے۔ جس کو دنیا کا عیش و آرام حاصل ہوگیا وہ سمجھ بیٹھے کہ اس نے بازی جیت لی اور جس کو نہیں حاصل ہوا اسے ناکام و نامراد سمجھ لیا حالانکہ یہ دنیا دارالانعام نہیں دارالامتحان ہے۔ دارالانعام تو آخرت ہے جس میں بازی وہ لوگ جیتیں گے جو اس دنیا میں ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے اگرچہ اس دنیا کی متاع میں سے انہیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی ہو اور وہ لوگ وہاں بالکل محروم و نامراد ہوں گے جو ایمان و عمل صالح سے محروم اٹھیں گے اگرچہ دنیا میں انہیں قارون کے خزانے حاصل رہے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
قرآن حکیم کو نور سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ کتاب اپنے مطالب کی وضاحت میں بمنزلہ روشنی کے ہے ۔ اس میں کوئی الجھن نہیں ۔ اور نہ کسی عقیدہ کو تشتہ دلائل رکھا گیا ہے ۔ اس کی ہر بات بجائے خوذپ کی تلی اور مدلل ہے ۔ اس لئے ان تمام لوگوں کو جو ضیاء بصیرت اور یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دعوت ہے ایمان کی ۔ کہ وہ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنائیں ۔ اور پھر دیکھیں ۔ کہ کیونکر قطب و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے ۔
حل لغات :۔ نبوء ۔ خبر غنی حمید ۔ یعنی اس کی بےنیازی ایسی ہیں جو بےپروائی اور تغافل کے مترادف ہو ۔ بلکہ وہ ان معنوں میں بےنیاز ہے ۔ کہ کائنات میں کسی چیز کی احتیاج نہیں رکھتا ہے ۔ اور یہ…
Read the full tafseer →(9) اس دن کو یاد کرو جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن میں اللہ تعالیٰ جمع کرے گا یہ دن نفع نقصان کے ظاہر ہونے اور ہار جیت کا دن ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوگا اور نیک کام کرتا رہا ہوگا اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی مراد ملنی اور یہی بہت بڑ ی کامیابی ہے۔
تغابن ہار جیت کا دن سودوزیاں کے ظاہر ہونے کا دن۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دن ہار جیت کا یہ کہ ہر آدمی کا ایک گھر ہے بہشت میں ایک دوزخ میں بہشت والوں نے اپنے گھر لئے اور دوزخیوں کے بھی دوزخی ہارے بہشتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 1۔ یعنی سود و زیان کے ظاہر ہونے کا مطلب یہ کہ مسلمانوں کا نفع اور کافروں کا نقصان اس روز عملا ظاہر ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →تم سب کو جمع کرلیا جائے گا اور ایمان لانے کے بعد اچھے عمل کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے
9 ؎ جو دن تمام انسانوں کے اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وہی دن ہے جس کو قیامت کا دن یا ( یوم الحشر) اور ( یوم العبث) کہا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کے بہت سے نام آئے ہیں ( یوم الجمع) کے الفاظ اس جگہ ہیں ۔ اکٹھے ہونے یا اکٹھے کیے جانے کا دن اس کو کہا گیا ہے کیونکہ ابتدائے آفرنیش سے قیام قیامت تک کے سارے انسان وہاں جمع ہوں گے تاکہ ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور اس جگہ اس کا ایک نام ( یوم التغابن) بھی بیان ہوا ہے۔ ( تغابن) کا اصل غ ب ن ہے یعنی غبن دینا ، غبن ظاہر کرنا ، ہار جیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ([ Be mindful of ] the day when He will gather you for the Day of Gathering. That will be the Day of loss and gain…64:9) ‘The Day of Gathering’ and ‘the Day of Loss and gain’ are both the names of the Day of Judgment. The reason why that day is called ‘The Day of Gathering’ is quite obvious. On that day all creations, the earlier generation as well as the later generations, will be brought together to give account of their deeds and for reward and punishment. The reason for calling the day a ‘The Day of Loss and Gain’ is…
Read the full tafseer →19 "The Day of Gathering": the Resurrection, when all human beings horn in the world from the beginning of creation till the Last Day will be gathered together simultaneously. This theme has been fully explained in the Qur'an at several places; e.g. in Surah Hud it has been said: "That will b: the Day when all the people shall gather together and will witness everything that will happen there." (v 103) And in Surah Al-Waqi'ah: "Say to them; Surely, the former and the latter, all shall be gathered together one day, the hour of which has already been appointed." (v. 50) .
20 The word…
Read the full tafseer →