Explained with ayahs 7–10
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں، یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے، پہلی آیت تو سورة یونس میں ہے (ترجمہ) یعنی یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے ؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، دوسری آیت سورة سبا میں ہے۔ (ترجمہ) کافر…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 18
یعنی جب یہ واقعہ ہے اور پوری انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ قوموں کی تباہی کا اصل موجب ان کا رسولوں کی بات نہ ماننا اور آخرت کا انکار کرنا تھا، تو اسی غلط روش پر چل کر اپنی شامت بلانے پر اصرار نہ کرو اور اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کی پیش کردہ ہدایت پر ایمان لے آؤ۔ یہاں سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ روشنی سے مراد قرآن ہے۔ جس طرح روشنی خود نمایاں ہوتی ہے اور گردو پیش کی ان تمام چیزوں کو نمایاں کردیتی ہے جو پہلے تاریکی میں چھپی ہوئی تھیں، اسی طرح قرآن ایک ایسا چراغ ہے جس کا بر حق ہونا بجائے خود روشن ہے، اور اس کی روشنی میں انسان ہر اس مسئلے کو سمجھ سکتا…
Read the full tafseer →(آیت) فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالنُّوْرِ الَّذِيْٓ اَنْزَلْنَا (تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے) نور سے مراد اس جگہ قرآن ہے، کیونکہ نور کی حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو بھی ظاہر و روشن کر دے، قرآن کا اپنے اعجاز کی وجہ سے خود روشن اور ظاہر ہونا کھلی بات ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے اور ناراض ہونے کے اسباب اور احکام و شرائع اور تمام حقائق عالم آخرت جن کے جاننے کے انسان کو ضرورت ہے وہ روشن ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(فامنواباللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا واللہ بما تعملون خیبر) (8)۔
(دعوت ایمان جاندار تنبیہ)۔ یہ باندار تنبیہ دعوت ایمان ہے۔ یعنی اس قسم کے بہانے پیدا کر کے رسول کی تکذیب نہ کرو بلکہ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لائو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے۔ روشنی سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کے لیے نازل فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو روشنی ہل کتاب کو ہدایت و ضلالت میں امتیاز کے لیے عطاء فرمائی تھی وہ انہوں نے جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے، ضائع کردی تھی، جس کے سبب سے ان کے لیے حق و باطل میں امتیاز ناممکن…
Read the full tafseer →8۔ 1 آپ ﷺ کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے، جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔
Read the full tafseer →ان تاکیدوں کی روشنی میں ان کو دعوت دی جاتی ہے ، کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاﺅ اور اللہ نے رسول پر جو تعلیمات اتاری ہیں ان کو تسلیم کرو ، وہ تو نئی روشنی ہے۔ یہ قرآن دراصل علم کی روشنی ہے ، اور قرآن جو دین و شریعت پیش کرتا ہے ، وہ بھی روشنی ہے۔ یہ تعلیم اپنی حقیقت میں نور ہیں ، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ نور السموات والارض ہے۔ پھر یہ تعلیمات اپنے آثار کے اعتبار سے بھی نور ہیں۔ اور اپنی ذات کے لحاظ سے بھی نور ہیں۔ اس روشنی میں انسان اپنی حقیقت پالیتا ہے اور اس جہاں کے حقائق کو اس کائنات کے حقائق سے دیکھتا ہے۔
دعوت ایمان دینے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا سب کچھ اللہ پر ظاہر ہے۔ اس…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن کریم پر۔
4 یعنی ایمان کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 8 { فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ } ”پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر“
یہاں آیت کے آغاز کی ”ف“ بہت اہم ہے۔ گویا گزشتہ چار آیات کے مضمون کا ربط اگلی تین آیات کے مضمون کے ساتھ اس ”ف“ سے قائم ہو رہا ہے۔
{ وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَاط } ”اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔“
{ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ } ”اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“
اس آیت میں اللہ ‘ رسول ﷺ اور آخرت سے متعلق تینوں ”ایمانیات“ کا ذکر آگیا ہے۔ اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر تو واضح ہے لیکن آخرت کا ذکر آیت کے آخری حصے { وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ} میں اشارتاً ہوا ہے۔ ظاہر ہے…
Read the full tafseer →16 یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کی روشنی میں تم اقوام سابقہ کے حالات سے باخبر ہوتے ہو جن کو ٹھیک طور پر معلوم کرنے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ پھر وہ تمہارے موجودہ حالات میں تمہاری پوری رہنمائی کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے لئے تمہیں ایسی ہدایات دیتا ہے، جس سے تم فتنہ و فساد اور بدامنی کی پریشان کن زندگی سے بچ کر امن وامان کی اور اطمینان کی زندگی گزار سکو، پھر وہ تمہیں تمہارے مرنے کے بعد کے حالات سے بھی پوری طرح خبردار کر رہا ہے۔ حالانکہ ان باتوں پر اطلاع پانے کے لئے کوئی ذریعہ علم نہ تھا اور نہ ہی عقل انسانی کی ایسے حالات معلوم کرنے تک رسائی ہوسکتی ہے۔ لہذا اس روشنی کی قدر کرو اور اسے…
Read the full tafseer →8۔ کوئی عمل نگاق، کوئی عمل کفر اس کی نگاہ سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” والنور الذی انزلنا “۔ مراد قرآن کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…
Read the full tafseer →فامنوا .... تعملون خبیر .
” تو اللہ اور اسکے رسول پر اور اس نور (کتاب) پر جو ہم نے نازل کیا ‘ ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اس سے باخبر ہے۔ “
فَاٰمِنُوْا .... یعنی جب حشر اور قبروں سے اٹھایا جانا ضروری اور یقینی ہے تو ایمان لاؤ۔
وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا : النور سے مراد ہے قرآن مجید۔ قرآن کا اعجاز ظاہر ہے پس اسی معجز ہونے کی وجہ سے یہ خود ظاہر ہے (جیسے نور خود ظاہر ہوتا ہے) اور قوانین و ضوابط اور احکام و اخبار کو ظاہر بھی کر رہا ہے اس لیے مظہر بھی ہے (جیسے روشنی دوسری چیزوں کو ظاہر کردیتی ہے۔ لہٰذا روشنی کی طرح قرآن ظاہر اور مظہر ہے) ۔
بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ :…
Read the full tafseer →اے اہل مکہ ! رسول اکرم بعث بعد الموت کے متعلق جو کچھ تم سے بیان کرتے ہیں تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کتاب پر بھی جو ہم نے بذریعہ جبریل امین محمد پر نازل کی ہے۔
Read the full tafseer →1۔ فَاٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا : اس ”فائ“ کو فصیحہ کہتے ہیں ، کیونکہ وہ اس شرط کا اظہار کر رہی ہوتی ہے جو وہاں مقدر ہے ، یعنی جب تم یہ سب کچھ جان چکے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جو ہم نے نازل کیا ہے ، یعنی دل اور زبان سے انہیں سچا مان کر ان کے احکام کی پیروی کرو۔ ”النور“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے ، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ روشن ہوتا ہے ، اس میں قرآن و سنت دونوں شامل ہیں۔ دیکھئے سورة ٔ شوریٰ (52) کی تفسیر۔
2۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : خیبر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارے اعمال کی…
Read the full tafseer →قیامت کی پہچان کرانے کے بعد انہیں ایمان کا حکم دیا۔ نور سے مراد قرآن ہے۔ یہ ایسا نور ہے جس کے ذریعے گمراہی کی تاریکی سے ہدیا دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ سے اللہ کے اس قول ” زعموا “ کے بارے میں سنا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس سے مراد ہے آدمی کی سواری کتنی بری ہے۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کا ناپسند فرمایا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کو ناپسند فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت زعم الذین کفروا کی وجہ سے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ہانی بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ان…
Read the full tafseer →[فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : پس تم لوگ ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر ] [وَالنُّوْرِ الَّذِيٓ انزَلْنَا : اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ] [وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم لوگ کرتے ہو ] [خَبِيْرٌ: باخبر ہے ]
Read the full tafseer →ایمان اور نور کی دعوت :
آٹھویں آیت میں ایمان کی دعوت دی۔ ﴿ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا 1ؕ﴾ سو تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور ایمان لاؤ اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا یعنی قرآن حکیم۔
﴿وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ008﴾ اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →8:۔ ” فامنوا باللہ “ یہ گذشتہ بیان پر متفرع ہے۔ جب دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ سے ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار اور سب کا کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے نیز معلوم ہوگیا کہ توحید کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں بھی بدترین حشر ہوگا اور آخرت میں بھی، لہذا تم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے رسول (علیہ السلام) پر ایمان لے آؤ اور اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور جو کفر و شرک اور جاہلیت کے اندھیروں میں سراپا نور ہدایت ہے اگر یہ خطاب مومنوں سے ہے، تو مطلب یہ ہوگا کہ ایمان پر قائم رہو۔ اور اللہ کے احکام کی پوری پوری اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…
Read the full tafseer →فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِيْٓ اَنْزَلْنَا 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 8
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ترکیب : زعم یتعدی الی المفعولین کالعلم ان مخففۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف ای انھم لن یبعثوا فان المخففتہ مع اسمھا وخبرھاقامت مقام المفعولین۔ قل بلی الخ لا یجاب النفی وربی قسم لتبعثن جواب القسم ثم لتنبؤن الخ جملہ مستقلۃ داخلہ تحت الامروارادۃ لتاکید ما افادہ کلمۃ بلی من اثبات البعث فامنوا الفاء فصیحۃ تدل علی شرط حذف لظہورہ ای اذاکان الامرکذا فامنوا واللہ الخ والجملۃ تذییلی مقرر لماقبلہ من الامر یوم قال النحاس الناصب فیہ لتنبئن فیوم ظرفہ وقیل خبروقیل محذوف ھواذکر وقیل اول علیہ الکلام ای تتفاوتون یوم یجمعکم خلدین فیہا ابدا حال مقدرۃ وفیہ مراعاۃ معنی من والذین الموصول وصلۃ مبتداً اولئک الخ الجملۃ…
Read the full tafseer →فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِالَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (التغابن : 8)
(پس ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے باخبر ہے۔ )
تنبیہ کے انداز میں دعوت
جب دلائل سے یہ بات ثابت ہوگئی اور انسانی تاریخ سے بھی اس کی صداقت مبرہن ہوگئی تو پھر اگر تمہیں اپنے تباہی منظور نہیں اور اپنی عاقبت کو برباد نہیں کرنا چاہتے تو پھر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر ایمان لائو جو ہم نے نازل کیا ہے۔ نور سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : ہلاک ہونے والی اقوام کا ایک اور سنگین جرم۔
انسان جب آخرت کی جوابدہی کے عقیدے کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ شتر بےمہار بن جاتا ہے جس بنا پر وہ بڑے بڑے حقائق کو ٹھکرا دیتا ہے جن حقائق کو انسان ٹھکراتا ہے ان میں آخرت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جب انسان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں اور وہ مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتی ہیں تو پھر اس کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے دوبارہ زندہ ہونے کے درجنوں دلائل دیئے ہیں حتی کہ یہاں تک فرمایا کہ اے نبی ! انہیں فرمادیں !
” کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے…
Read the full tafseer →8 : فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (پس تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو) ۔ رسول سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا (اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا) یعنی نور سے قرآن مراد ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ پس اس سے راہنمائی لی جاتی ہے جیسا روشنی سے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے) پس امور کا دھیان کرو۔
Read the full tafseer →7 ۔” زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل “ اے محمد ﷺ ۔ ” بلی وربی لتبعثن ثم لتنبئون بما عملتم وذلک علی اللہ یسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ جو لوگ حشر کے منکر ہیں قرآن شریف میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قائل کیا ہے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے جو تمام جہان کو پیدا کیا ہے وہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ہر انسان کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے۔ دوسری دفعہ اس کا کرنا بالکل نہایت آسان ہوجاتا ہے پھر کونسی عقل سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں کہیں یہ فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عقل دی ہے وہ جو کام کرتا ہے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ وہ خدا جس نے عقل کو سب عقل مندوں کو پیدا کیا اس کے کام کو یہ لوگ بےفائدہ اور عبث کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ جزا سزا کا…
Read the full tafseer →چونکہ اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کے انکار کا ذکر کیا جو قیامت کا انکار کرتے ہیں نیز یہ بھی ذکر کیا کہ ان کا یہ انکار اللہ اور اس کی آیات کے ساتھ ان کے کفر کو موجب ہے اس لیے اس نے اس چیز کا حکم دیا جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے اور وہ ہے اللہ اس کے رسول اس کی کتاب پر ایمان، اللہ نے اس کتاب کو نور سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس کی ضد تاریکی ہے جو احکام، قوانین اور اخبار اس کتاب میں ہیں جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے روشنی ہیں جس کے ذریعے سے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں راہ نمائی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ذریعے سے رات کی سیاہ تاریکی میں چلا جاتا ہے کتاب اللہ کی راہ نمائی کے سوا تمام علوم ایسے ہیں جن…
Read the full tafseer →16 ۔ دلائل قدرت کا نتیجہ و تقاضا، ایمان باللہ : سو اس لیے ان دلائل کے نتیجے اور تقاضے کے طور پر ایمان باللہ کی دعوت دی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پس تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کے نور پر، جس کو ہم نے اتارا ہے۔ یعنی قرآن حکیم پر جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ دکھاتا ہے، اور جو کہ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثل نور ہے کہ اس کے سامنے سورج اور چاند وغیرہ کے تمام نور ہیچ اور بےمعنی ہیں اور جو کہ حق اور حقیقت کی راہوں کو روشن کرتا ہے اور یہ وہ ایک نور عظیم ہے جس سے حق اور باطل کے درمیان فرق و امتیاز پوری طرح واضح ہوجاتا ہے، پس تم لوگ اس کی قدر کرو کہ یہ وہ نعمت عظمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →ف 6 قرآن کو نور (روشنی) اس لئے فرمایا گیا کہ اس کے ذریعہ آدمی کو کفر و ضلالت کے اندھیروں میں حق کی طرف رہنمائی ملتی ہے
Read the full tafseer →(64:8) فامنوا :شرط محذوف کی طرف دلالت کر رہا ہے۔ ای اذا کان الامر کذلک۔ یعنی جب حشر اور قبروں سے اٹھایا جانا اور اعمال کا محاسبہ ضروری اور یقینی ہے۔ فامنوا تو ایمان لاؤ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر یمن مادہ۔ تم ایمان لاؤ۔
النور : ای القران۔
واللہ بما تعملون خبیر : جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ ایمان باللہ وایمان بالرسول وایمان بالقرآن کے متعلق حکم کی تعمیل میں جو تم کرتے ہو۔ اللہ تمہارے ان اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 2) کافروں نے یہ گمان پکای اور خیال کیا کہ وہ مرکرخاک ہوجائیں گے پھر نہ اٹھیں گے مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی نہ پائیں گے اے محبوب تم فرماؤ کہ اے لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سب مرے پیچھے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ہر بات کی اچھائی براء کی جو دنیا می کی ہوگی تم کو خبر دی جائے گی اور اس کا بدلہ ملے گا تم اس کو کوئی امرمحال سمجھتے ہو، یہ ساراکارخانہ بعد فنا پھر اٹھا کر کھڑا کردیناخدا کے نزدیک بہت ہی آسان امر ہے ، پس اللہ ورسول پر ایمان لاؤ بعثت بعد الموت کی تصدیق کرو اس کی چمکتی ہوئی نور کی روشی کو جس کو ہم نے بذریعہ جبرائیل محمد پر اتارا یعنی قرآن شریف۔ اے لوگو ! اللہ کو ان سب باتوں کا علم اور…
Read the full tafseer →[3] یعنی قرآن مجید پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
قرآن حکیم کو نور سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ کتاب اپنے مطالب کی وضاحت میں بمنزلہ روشنی کے ہے ۔ اس میں کوئی الجھن نہیں ۔ اور نہ کسی عقیدہ کو تشتہ دلائل رکھا گیا ہے ۔ اس کی ہر بات بجائے خوذپ کی تلی اور مدلل ہے ۔ اس لئے ان تمام لوگوں کو جو ضیاء بصیرت اور یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دعوت ہے ایمان کی ۔ کہ وہ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنائیں ۔ اور پھر دیکھیں ۔ کہ کیونکر قطب و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے ۔
حل لغات :۔ نبوء ۔ خبر غنی حمید ۔ یعنی اس کی بےنیازی ایسی ہیں جو بےپروائی اور تغافل کے مترادف ہو ۔ بلکہ وہ ان معنوں میں بےنیاز ہے ۔ کہ کائنات میں کسی چیز کی احتیاج نہیں رکھتا ہے ۔ اور یہ…
Read the full tafseer →(8) لہٰذا جب دوسری زندگی آنے والی ہے اور جزا وسزا کا دن آنے والا ہے تو تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے یعنی قرآن پر ایمان لے آئو اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے اور تمہارے سب اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ یعنی جب دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا اور پیغمبر نے قسم کھا کر یہ بات کہہ دی کہ قیامت آنے والی ہے اور بعثت ہونے والی ہے تو اب تمہارے لئے اس کے سوا اور کیا چارہ کار ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن حکیم پر جو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے ایمان لے آئو اور اس بات کو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 5۔ یعنی اس کو نہ کسی کی معصیت سے ضرر اور نہ کسی کی طاعت سے نفع ہے، خود مطیع و عاصی ہی کا نفع و ضرر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لائو اور اس نور کو قبول کرو جو ہم نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیا
8 ؎ یہ تلقین ہے ان لوگوں کے لیے جو ابھی زندہ وجاوید موجود ہیں اور اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے بلکہ ان کا وقت ابھی آنے والا ہے۔ ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جو چلے گئے وہ تو چلے ہی گئے اور وہ یقینا اپنے انجام کو بھی پہنچ گئے اور تم جو لوگ ابھی زندہ ہو کچھ تو خیال کرو کہ تم کس طرح غفلت میں پڑے ہو۔ اٹھو اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر سچے دل کے ساتھ ایمان لائو اور اس روشنی کو تسیم کرو جو ہم نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم ۔ یہ بات اس لیے اس جگہ ذکر کی گئی کہ قرآن کریم میں بار بار…
Read the full tafseer →فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا (So, believe in Allah and His Messenger, and in the light We have sent down…64:8). The word Nur [ light ] in this context refers to the Qur’ an. ‘Light’ fulfils two functions: In the first place it is itself luminous and in the second place it makes other things luminous and bright. The Qur’ an, on account of its miraculous nature, is itself luminous, and it illuminates what pleases or displeases Allah, the sacred laws, injunctions and commands, and the realities of the Hereafter, which human being ought to know.
Read the full tafseer →18 That is, "When this is the truth and the whole human history testifies that the real cause of the destruction of the nations has been their disbelieving the Messengers and their denial of the Hereafter, then they should not insist on meeting the same doom by following their example, but should believe in the guidance presented by AIlah and His Messenger and the Qur'an." Here, as the context itself shows, by "the Light that We have sent down", is mant the Qur'an Just as light itself is clearly seen and reveals everything that was hidden in darkness around it, so is the Qur'an a Light whose…
Read the full tafseer →