Explained with ayahs 7–10
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں، یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے، پہلی آیت تو سورة یونس میں ہے (ترجمہ) یعنی یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے ؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، دوسری آیت سورة سبا میں ہے۔ (ترجمہ) کافر…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 14
یعنی ہر زمانے میں منکرین حق دوسری جس بنیادی گمراہی میں مبتلا رہے ہیں، اور جو بالآخر ان کی تباہی کی موجب ہوئی، وہ یہ تھی۔ اگرچہ کسی منکر آخرت کے پاس نہ پہلے یہ جاننے کا کوئی ذریعہ تھا، نہ آج ہے، نہ کبھی ہوسکتا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ لیکن ان نادانوں نے ہمیشہ بڑے زور کے ساتھ یہی دعویٰ کیا ہے، حالانکہ قطعیت کے ساتھ آخرت کا انکار کردینے کے لیے نہ کوئی عقلی بنیاد موجود ہے نہ علمی بنیاد۔
سورة التَّغَابُن 15
یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی قسم کھا کر لوگوں سے کہو کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔ پہلے سورة یونس میں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(آیت) فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا، لفظ بشر اگرچہ مفرد ہے مگر معنی میں جمع کے ہے، اس لئے یہدون جمع کا لفظ اس کے لئے استعمال فرمایا گیا، بشریت کو نبوت و رسالت کے منافی سمجھنا سبھی کفار کا خیال باطل تھا جس پر قرآن میں جابجا رد کیا گیا ہے، افسوس ہے کہ اب مسلمانوں میں بھی بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی بشریت کے منکر پائے جاتے ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ کدھر جا رہے ہیں، بشر ہونا نہ نبوت کے منافی ہے نہ رسالت کے بلند مقام کے منافی ہے اور نہ رسول کے نور ہونے کے منافی ہے، وہ نور بھی ہیں بشر بھی، ان کے نور کو چراغ اور آفات و ماہتاب کے نور پر قیاس کرنا غلطی ہے۔
Read the full tafseer →۔ (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن ثم لتنبومن بما عملتم و ذلک علی اللہ یسیر) (7)۔
(توڑجواب)۔ یعنی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے اس وجہ سے وہ نبیوں کی دعوت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ (قل بلی و ربی لتبعثن)۔ فرمایا کہ جس زور و تاکید کے ساتھ یہ لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کر رہے ہیں اسی زور و تاکید کے ساتھ، بصید قسم، تم ان کو جواب دو کہ ہاں میرے رب کی قسم، تم ضرور اٹھائے جائو گے !
(سم کے اندر دلیل کا پہلو)۔ اگرچہ اس فقرے میں دلیل کا پہلو نمایاں نہیں ہے، بلکہ دعوے کا جواب بظاہردعوے ہی سے دے دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات منکرین کے بےدلیل دعوے…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی یہ عقیدہ کے قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یہ کافروں کا محض گمان ہے جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔
7۔ 2 قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورة یونس، اور دوسرا مقام سورة سبا ہے۔
7۔ 3 یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا ؟ تاکہ وہاں پر ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔
7۔ 4 یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل نظر آتی ہو، لیکن اللہ…
Read the full tafseer →مشرکین اور کافرین کے اس قول کو کہ ہمیں دوبارہ نہ اٹھایا جائے گا ، آغاز ہی سے زعم باطل کہا اور یہ بتادیا کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا کہ آپ ان سے سخت ترین الفاظ میں کہہ دیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا۔ اور اس تاکید کو اپنے رب کے نام سے حلف اٹھا کر مزید موکد کردیں۔ آخر رسول جب اپنے رب کے نام کی قسم اٹھا کر کوئی بات کرے تو اس سے مزید تاکید اور کیا ہوسکتی ہے۔
قل بلیٰ وربی لتبعثن (46 : 7) ” ان سے کہو میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاﺅ گے “۔ اور نہ صرف یہ کہ اٹھائے جاﺅ گے بلکہ۔
ثم لتنبون بما عملتم (46 : 7) ” پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا ہے “۔ اس میں سے کوئی چیز…
Read the full tafseer →1 رسالت کی طرح بعث بعد الموت کا بھی انکار ہے۔
2 یعنی دوبارہ اٹھانا اور سب کا حساب کردینا اللہ کو کیا مشکل ہے پوری طرح یقین رکھو کہ یہ ضرور ہو کر رہے گا۔ کسی کے انکار کرنے سے وہ آنے والی گھڑی ٹل نہیں سکتی۔ لہذا مناسب ہے کہ انکار چھوڑ کر اس وقت کی فکر کرو۔
Read the full tafseer →آیت 7{ زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } ”کافروں کو یہ زعم ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔“
{ قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَـبَّـؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب کی قسم ہے ‘ تم لازماً اٹھائے جائو گے ‘ پھر تمہیں لازماً جتلایا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں۔“
اس اسلوب میں جو زور اور تاکید ہے انسانی زبان سے اس کا بیان ناممکن ہے ! اللہ کا فرمان ‘ رسول اللہ ﷺ کی قسم اور انتہائی تاکیدی صیغوں کا استعمال ! اس سے بڑھ کر زوردار عبارت بھلا اور کونسی ہوگی۔ حضور ﷺ نے بنوہاشم کو دعوت کے سلسلے…
Read the full tafseer →14 معاد کے انکار پر کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی :۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ علم نہیں ہے۔ جس کی بنیاد پر وہ یقینی طور پر کہہ سکیں کہ دوبارہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعہ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوسکے گا۔ پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ انسان زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور نہ اٹھنے کے دونوں احتمال موجود ہیں۔ لیکن وہ جی اٹھنے کی تردید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتا۔
15 تمہارے اس دعویٰ کے مقابلہ میں، میں اللہ کی طرف سے وحی کے علم کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ تم لوگ میری صداقت کے معترف رہے…
Read the full tafseer →7۔ (آیت) ” بلی وربی “۔ کے ٹکڑے سے مقصود عربی اسلوب بیان کے مطابق تاکید کلام اور وقوع حشر میں قطعیت کا پیدا کرنا ہے، (آیت) ” وذلک علی اللہ یسیر “۔ حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت کا استحضار اگر ذہن میں رہے، تو وقوع حشر میں کوئی استبعاد ذرا سا بھی نہ رہے۔ (آیت) ” زعم الذین کفروا “۔ لفظ زعم سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ منکروں کا یہ قول بلادلیل محض اٹکل اور خیال سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…
Read the full tafseer →زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی و ربی لتبعثن ثم لتنبون بما عملتم و ذلک علی اللہ یسیر . ” یہ کافر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ‘ آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں
(مجھے) اپنے رب کی قسم تم لوگ ضرور (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے پھر (دنیوی زندگی میں) جو کچھ تم نے کیا ہوگا ‘ اس سے تم کو آگاہ کیا جائے گا ( اور اس کے مطابق تم کو سزا و جزا دی جائے گی) اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ “
اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی مکہ کے رہنے والے کافر۔ زعم کا معنی ہے علم کا دعویٰ ۔
بِمَا عَمِلْتُمْ : تم نے جو کچھ کیا ہوگا خیر ہو یا شر ‘ یعنی تم سے حساب فہمی کی جائے گی اور تم کو تمہارے…
Read the full tafseer →کفار مکہ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہیں کیے جائیں گے۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم مرنے کے بعد ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور پھر وہ جو کچھ تم نے دنیا میں نیکی و برائی کی ہے تمہیں سب جتلا دے گا یہ دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔
Read the full tafseer →1۔ زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا :”زعم“ کا لفظ گمان کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ، کسی بات کا دعویٰ کرنے کے معنی میں بھی اور جھوٹ کہنے کے معنی میں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا دعویٰ حرف تاکید ”لن“ کے ساتھ ذکر فرمایا ، مگر یہ دعویٰ کرنے کو زعم قرار دیا۔ گویا ان کا تاکید کے ساتھ کہنا کہ انہیں ہرگز اٹھایا نہیں جائے گا ، سراسر گمان اور جھوٹ ہے۔ گمان اس لیے کہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ علم نہیں جس کی بنیاد پر وہ یقین سے کہہ سکیں کہ دوبا ہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعہ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا ، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ ہوسکتا ہے ، پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے…
Read the full tafseer →کافروں نے یہ گمان کیا کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ زعم سے مراد گمان رکھتے ہوئے کوئی بات کرنا۔ شریح نے کہا، ہر شی کی کنیت ہے اور کذب (جھوٹے) کی کنیت زعموا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عاص بن وائل سہمی اور حضرت خباب کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس کی وضاحت سورة مریم کے آخر میں گزر چکی ہے پھر ہر کافر کو شامل ہوگئی۔ اے محمد چ ﷺ فرما دیجیے : کیوں نہیں تمہیں ضرور تمہاری قبروں سے زندہ کیا جائے گا پھر تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی دفعہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ سے اللہ کے اس قول ” زعموا “ کے بارے میں سنا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس سے مراد ہے آدمی کی سواری کتنی بری ہے۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کا ناپسند فرمایا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” زعموا “ کہنے کو ناپسند فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت زعم الذین کفروا کی وجہ سے۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ہانی بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ان…
Read the full tafseer →[زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوْٓا : یقینی جانا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] [ان لَّنْ يُّبْعَثُوْا : کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ] [قُلْ بَلٰى: آپ کہیے کیوں نہیں ] [وَرَبِيْ : میرے رب کی قسم ] [لَتُبْعَثُنَّ : تم لوگ لازماً اٹھائے جائو گے ] [ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ : پھر تم لوگوں کو لازماً باخبر کیا جائے گا ] [بِمَا عَمِلْتم : اس سے جو تم نے عمل کیا ] [وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ: اور یہ اللہ پر آسان ہے ]
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 7 ۔ میں یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی قسم کھا کر لوگوں سے کہو کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔ پہلے سورة یونس کی آیت۔ 53 ۔…
Read the full tafseer →منکرین قیامت کا باطل خیال :
ساتویں آیت میں منکرین قیامت کا تذکرہ فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا 1ؕ﴾ (الآیہ) (جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے یہ جھوٹا خیال کیا کہ وہ ہرگز دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے) ۔
﴿قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ 1ؕ﴾ (اے محمد آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی تم ضرور ضرور اٹھائے جاؤ گے اور ضرور ضرور اپنے اعمال سے باخبر كئے جاؤ گے) ﴿ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ007﴾ (اور یہ قبروں سے اٹھانا اور اعمال کا جتانا اللہ کے لئے آسان ہے) کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ یہ دشوار کام ہے یہ کیسے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →7:۔ ” زعم الذین کروا “ یہ مشرکین مکہ کے لیے تخویف اخروی اور ان پر شکوی ہے۔ ان مشرکین کا خیال ہے جو سراسر باطل ہے کہ انہیں موت کے بعد دوبارہ ہرگز زندہ نہیں کیا جائے گا۔ ” قل بلی و ربی “ یہ ان کے زعم باطل کا جواب ہے۔ فرمایا آپ ان سے فرما دیں کیوں نہیں ؟ تمہیں یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور تمہیں تمہارے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا۔ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور سب کے اعمال کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…
Read the full tafseer →زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا 0 ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ 0 ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ 7
زعم
الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ترکیب : زعم یتعدی الی المفعولین کالعلم ان مخففۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف ای انھم لن یبعثوا فان المخففتہ مع اسمھا وخبرھاقامت مقام المفعولین۔ قل بلی الخ لا یجاب النفی وربی قسم لتبعثن جواب القسم ثم لتنبؤن الخ جملہ مستقلۃ داخلہ تحت الامروارادۃ لتاکید ما افادہ کلمۃ بلی من اثبات البعث فامنوا الفاء فصیحۃ تدل علی شرط حذف لظہورہ ای اذاکان الامرکذا فامنوا واللہ الخ والجملۃ تذییلی مقرر لماقبلہ من الامر یوم قال النحاس الناصب فیہ لتنبئن فیوم ظرفہ وقیل خبروقیل محذوف ھواذکر وقیل اول علیہ الکلام ای تتفاوتون یوم یجمعکم خلدین فیہا ابدا حال مقدرۃ وفیہ مراعاۃ معنی من والذین الموصول وصلۃ مبتداً اولئک الخ الجملۃ…
Read the full tafseer →زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ط وَذٰلِکَ عَلیَ اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (التغابن : 7)
(منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جائیں گے، کہہ دیجئے ! کیوں نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہوگا اور یہ کام اللہ پر بہت آسان ہے۔ )
مشرکین کے انکار کا جواب انھیں کے لہجے میں
دوسری بڑی کمزوری ہے جس نے منکرینِ حق کو ہدایت سے دور رکھا ہے۔ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ آخرت کا انکار کرتے آئے ہیں حالانکہ ان کے پاس آخرت کے نہ آنے کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : ہلاک ہونے والی اقوام کا ایک اور سنگین جرم۔
انسان جب آخرت کی جوابدہی کے عقیدے کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ شتر بےمہار بن جاتا ہے جس بنا پر وہ بڑے بڑے حقائق کو ٹھکرا دیتا ہے جن حقائق کو انسان ٹھکراتا ہے ان میں آخرت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جب انسان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں اور وہ مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتی ہیں تو پھر اس کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے دوبارہ زندہ ہونے کے درجنوں دلائل دیئے ہیں حتی کہ یہاں تک فرمایا کہ اے نبی ! انہیں فرمادیں !
” کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے…
Read the full tafseer →7 : زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافر یہ دعویٰ کرتے ہیں) کافروں سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔
نحو : الزعم : علم کا دعویٰ اور یہ فعل علم کی طرح متعدی ہوتا ہے۔
کفار کا انکار بعث :
اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا (کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے) ان اپنے مابعد سمیت دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ انہم ان یبعثوا۔ کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ قُلْ بَلٰی (آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں) یہ مابعد لن کے اثبات کیلئے لائے اور جس کا اثبات کیا وہ بعث ہی ہے۔ وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ (مجھے اپنے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جائوگے) ۔ یہاں اخبارکوقسم سے مؤکد کیا گیا ہے۔
سوال : جس چیز کو انہوں نے انکار کیا۔ اسپرقسم…
Read the full tafseer →6 ۔” ذلک “ عذاب۔” بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فقالوا ابشر یھدوننا “ اور ” یھدینا “ نہیں کہا اس لئے کہ ابشراگرچہ اس کا لفظ واحد ہے لیکن یہ جمع کے معنی میں ہے اور یہ اسم جنس ہے اس کے لفظ سے اس کا کوئی واحد نہیں ہے اور اس کا واحد انسان ہے۔
اور اس کا معنی وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے جیسا آدمی ہمیں ہدایت دے گا۔ ” فکفروا وتولوا واستغنی اللہ “ ان کے ایمان سے۔ ” واللہ غنی “ اپنی مخلوق سے۔ ” حمید “ اپنے افعال میں۔ پھر ان کے بعث کا انکار کرنے کی خبر دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ جو لوگ حشر کے منکر ہیں قرآن شریف میں طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قائل کیا ہے کہیں یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے جو تمام جہان کو پیدا کیا ہے وہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ہر انسان کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے۔ دوسری دفعہ اس کا کرنا بالکل نہایت آسان ہوجاتا ہے پھر کونسی عقل سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں کہیں یہ فرمایا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عقل دی ہے وہ جو کام کرتا ہے کسی مصلحت اور فائدہ کے لئے کرتا ہے۔ وہ خدا جس نے عقل کو سب عقل مندوں کو پیدا کیا اس کے کام کو یہ لوگ بےفائدہ اور عبث کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ جزا سزا کا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی کفار کے عناد اور ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی (وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ) اور یہ اللہ کے لیے آسنا ہے۔ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قوی ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوجائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ تو وہ جب کسی…
Read the full tafseer →13 ۔ اثبات قیامت قطعیت کے ساتھ : سو انکار قیامت سے متعلق منکرین کے زعم باطل کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ہاں قسم ہے میرے رب کی تم لوگوں کو ضرور بالضرور اٹھایا جائے گا، یعنی جب حضرت خالق جلد مجدہ نے تمہیں اس کائنات کی سب سے اشرف و اعلی اور سب کی مخدوم ومطاع مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے اور تمہیں عقل و فکر کے بےمثال جوہر سے نوازا ہے تو پھر یہ کس طرح اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری پیدائش بےمقصد اور تمہارا وجود عبث و بےکار ہو ؟ اور یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز تو بامقصد ہو، مگر اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان بےمقصد ہو ؟ اور یہ یونہی بےمقصد زندگی گزار کر کیڑے مکوڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →ف 5 کیونکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی بنسبت آسان تر ہے اور کفار مکہ … جیسا کہ متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس چیز کیقائل تھے کہ انسانوں کو پہلی بار اللہ تعالیٰنے پیدا کیا ہے … یہ تیسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آخرت کے آنے پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے ( سورة یونس) سورة ساء 30)
Read the full tafseer →(64:7) زعم ماضی واحد مذکر غائب زعم (باب نصر) مصدر۔ زعم اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن مجید میں یہ لفظ ہمیشہ اسی موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہو چناچہ فرمایا۔ زعم الذین کفروا (64:7 آیت ہذا) کفاریہ زعم کرتے ہیں اور بل زعمتم (18:48) مگر تم یہ خیال کرتے ہو۔
اور اسی مادہ (زع م) سے زعامۃ سے ب کا صلہ کے ساتھ بمعنی مال وغیرہ کا ضامن بننا بھی ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وانا بہ زعم (12:72) اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔
ان لن یبعثوا : ان مخففہ ہے ان سے۔ بےشک۔ لن یبعثوا مضارع منفی مجہول تاکید یہ لن۔ ان کو (ہرگز موت کے بعد دوبارہ زندہ کرکے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 2) کافروں نے یہ گمان پکای اور خیال کیا کہ وہ مرکرخاک ہوجائیں گے پھر نہ اٹھیں گے مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی نہ پائیں گے اے محبوب تم فرماؤ کہ اے لوگو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سب مرے پیچھے ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ہر بات کی اچھائی براء کی جو دنیا می کی ہوگی تم کو خبر دی جائے گی اور اس کا بدلہ ملے گا تم اس کو کوئی امرمحال سمجھتے ہو، یہ ساراکارخانہ بعد فنا پھر اٹھا کر کھڑا کردیناخدا کے نزدیک بہت ہی آسان امر ہے ، پس اللہ ورسول پر ایمان لاؤ بعثت بعد الموت کی تصدیق کرو اس کی چمکتی ہوئی نور کی روشی کو جس کو ہم نے بذریعہ جبرائیل محمد پر اتارا یعنی قرآن شریف۔ اے لوگو ! اللہ کو ان سب باتوں کا علم اور…
Read the full tafseer →[2] یہاں منکرین کے دعوے کا جواب بظاہر دعوے ہی سے دیا گیا ہے لیکن رب کی قسم میں دلیل کا ایک لطیف پہلو مضمر ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جس کی شان اس کائنات کے ہر گوشے میں نمایاں ہے اس بات کو واجب کرتی ہے کہ وہ نیکوکار اور بدکار دونوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ لازماً وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ دے گا اور بدوں کو بدی کی سزا۔ اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ وہ لوگوں کو مرنے کے بعد اٹھائے، ان کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ کے مخاطب وہ لوگ تھے جو اپنے علم و تجربے کی بناء پر یہ بات جانتے تھے کہ آپ نے کبھی عمر بھر جھوٹ…
Read the full tafseer →کفار مکہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی ۔ کہ ہم کیونکر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ محض دھمکی ہے ۔ اور اس میں حقیقت کا کوئی شائبہ نہیں ۔ اس آیت میں اس خیال کی تردید فرمائی ہے ۔ اور یہ بتایا ہے ۔ کہ بعثت کا عقیدہ بالکل درست اور صحیح ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ وہ زندگی کو ختم نہ ہونے دے بلکہ آگے بڑھائے ۔ اور مکافات عمل کا یہ رسول یہ چاہتا ہے ۔ کہ ایک عالم ایسا تسلیم کیا جائے ۔ جہاں ظالم کو سزا ملے اور مظلوم کی دادرسی کی جائے گی ۔
Read the full tafseer →(7) دین حق کے منکر بڑے زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہرگز دو بار اٹھائے نہ جائیں گے اور دوبارہ زندہ نہ کیے جائیں گے آپ فرمادیجئے کیوں نہیں قسم ہے میرے پروردگار کی تم سب ضرور مرنے کے بعد زندہ کئے جائو گے پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس سب سے تم کو آگاہ کیا جائے گا اور تم کو وہ جتایا جائے گا اور یہ دوبارہ زندہ کرنا اور اعمال کا حساب لینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
یعنی یہ کافر جب آخرت کا ذکر سنتے ہیں تو آخرت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ ہرگز دوبارہ زندہ نہ ہوں گے۔ حضرت حق نے فرمایا اے پیغمبر جس قدر یہ تاکید کے ساتھ کہہ رہے ہیں آپ اس سے بڑھ کر میرے نام کی قسم کھا کر اپنی بات کو ثابت کیجئے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 5۔ یعنی اس کو نہ کسی کی معصیت سے ضرر اور نہ کسی کی طاعت سے نفع ہے، خود مطیع و عاصی ہی کا نفع و ضرر ہے۔
Read the full tafseer →کافروں کا یہ گمان کہ ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا سراسر جھوٹ ہے
7 ؎ کوئی شخص یا قوم زبان سے اقرار کرے کہ قیامت ہے اور آخرت کی زندگی لازم ہے یا اقرار نہ کرے اس وقت دونوں ایک ہی نظریہ کے حامل گنے جاتے ہیں جب اعمال دونوں کے ایک جیسے ہوں اور جب تک اعمال میں فرق واضح نہ ہو یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ اس قوم کا آخرت پر ایمان ہے اور اس قوم کا آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ اس لیے زیر نظر آیت میں دونوں طرح کے لوگوں کو ایک ہی طرح کے شمار کرتے ہوئے بات کی جا رہی ہے اور ان کو کافر کہا جا رہا ہے کہ وہ عملاً انکاری ہیں کہ وہ اپنے کیے گئے اعمال کے اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ غور کیجئے کہ جب ایک قانون بنتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا (…but they said, “ Shall some mortals give us guidance?”…64:6). Though the word basher [ mortal (s)] is singular, but in meaning it is plural. Therefore, the verb يَهْدُونَنَا ‘give us guidance’ is plural. All unbelievers held the notion that prophets and messengers cannot be human beings. The Qur’ an has time and again falsified and refuted this notion of the unbelievers. Alas, there is also a group of Muslims who denies the mortality of the Allah’ s Messenger. They need to think in which direction they are moving. His mortality is not contradictory to his…
Read the full tafseer →14 That is, "This was the second basic error in which the deniers of the Tnrth have been involved in every age, and which has ultimately brought about their ruin. Although no denier of the Hereafter ever had any means of knowing, nor has he today, nor will he have in the future, that there is no life after death, vet these ignorant people have always asserted the same thing, whereas there neither exists any intellectual basis for denying the Hereafter with absolute certainty nor any scientific basis for it.
15 This is the third place where AIIah Almighty has instructed His Prophet to tell the…
Read the full tafseer →