Explained with ayahs 5–6
سابقہ واقعات سے سبق لو
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں ؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی ؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے یہاں بھی اپنے بد افعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل وبراہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 11
اصل میں لفظ بینات استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ بین عربی زبان میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بالکل ظاہر اور واضح ہو، انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ بینات لے کر آتے رہے، یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک تو وہ ایسی صریح علامات اور نشانیاں لے کر آتے تھے جو ان کے مامور من اللہ ہونے کی کھلی کھلی شہادت دیتی تھیں۔ دوسرے، وہ جو بات بھی پیش کرتے تھے نہایت معقول اور روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ تیسرے، ان کی تعلیم میں کوئی ابہام نہ تھا، بلکہ وہ صاف صاف بتاتے تھے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جائز کیا ہے اور ناجائز کیا، کس راہ پر انسان کو چلنا چاہیے اور کس راہ پر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(آیت) فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا، لفظ بشر اگرچہ مفرد ہے مگر معنی میں جمع کے ہے، اس لئے یہدون جمع کا لفظ اس کے لئے استعمال فرمایا گیا، بشریت کو نبوت و رسالت کے منافی سمجھنا سبھی کفار کا خیال باطل تھا جس پر قرآن میں جابجا رد کیا گیا ہے، افسوس ہے کہ اب مسلمانوں میں بھی بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی بشریت کے منکر پائے جاتے ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ کدھر جا رہے ہیں، بشر ہونا نہ نبوت کے منافی ہے نہ رسالت کے بلند مقام کے منافی ہے اور نہ رسول کے نور ہونے کے منافی ہے، وہ نور بھی ہیں بشر بھی، ان کے نور کو چراغ اور آفات و ماہتاب کے نور پر قیاس کرنا غلطی ہے۔
Read the full tafseer →(ذلک بانہ کا نت تاتیھم رسلھم بالبینت فقالوا بشریھد وننا فکروا وتولو واستغنی اللہ واللہ غنی حمید) (6)۔
رسولوں کی تکذیب کے لیے منکرین کا بہانہ)۔ یہ سبب بتایا ہے کہ یہ قومیں کیوں خدا کے عذاب کی گرفت میں آئیں ؟ فرمایا کہ اللہ کے رسول ان کی ہدایت کے لیے نہایت واضح نشانیوں اور دلائل کے ساتھ آئے لیکن یہ اپنی سرکشی کے سبب سے ان کو خاطر میں نہ لائیں۔ انہوں نے یہ بہانہ تراشا کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لیے کوئی رسول بھیجنا ہی ہوتا تو وہ کسی برتر مخلوق کو رسول بنا کر بھیجتا۔ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ؟ کیا ہم ایسے حقیر ہیں کہ ہمارے ہی جیسے انسان ہمیں ہدایت دینے والے بنیں…
Read the full tafseer →6۔ 1 چناچہ اس بنا پر انہوں نے رسولوں کو رسول ما ننے سے اور ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔
6۔ 2 یعنی ان سے اعراض کیا اور جو دعوت وہ پیش کرتے تھے، اس پر انہوں نے غور و تدبر ہی نہیں کیا۔
6۔ 3 یعنی ان کے ایمان اور ان کی عبادت سے۔
6۔ 4 اس کو کسی کی عبادت سے کیا فائدہ اور اس کی عبادت سے انکار کرنے سے کیا نقصان ؟
6 ۔ 5 یا محمود ہے تمام مخلوقات کی طرف سے یعنی ہر مخلوق زبان حال وقال سے اس کی حمد و تعریف میں رطب اللسان ہے۔
Read the full tafseer →ذلک بانہ .................... یھدوننا (46 : 6) ” اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اور یہ وہی اعتراض تھا جو مشرکین مکہ نبی ﷺ پر کرتے تھے۔ یہ بہت ہی گرا پڑا اعتراض ہے اور خالص جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ منصب رسالت کو سمجھے ہی نہیں اور اس بات کو سمجھے ہی نہیں کہ رسول اور رسالت نے انسانوں کے سامنے اللہ کی شریعت اور نظام پیش کرنا ہوتا ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ اس نظام کو ایک بشر اپنے اوپرنافذ کرکے لوگوں کو دکھائے۔ یوں رسول کا بشر ہونا انوکھا نہیں بلکہ ضروری تھا۔ یہ رسول ہی ہوتا ہے جو…
Read the full tafseer →5 یعنی کیا ہم ہی جیسے آدمی ہادی بنا کر بھیجے گئے۔ بھیجنا تھا تو آسمان سے کسی فرشتہ کو بھیجتے گویا ان کے نزدیک بشریت اور رسالت میں منافات تھی۔ اسی لیے انہوں نے کفر اختیار کیا اور رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ (تنبیہ) اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ رسول کو بشر کہنے والا کافر ہے انتہائی جہل و الحاد ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی یہ کہہ دے کہ آیت ان لوگوں کے کفر پر دلالت کر رہی ہے جو رسل بنی آدم کے بشر ہونے کا انکار کریں، تو یہ دعویٰ پہلے دعوے سے زیادہ قوی ہوگا۔
6 یعنی اللہ کو کیا پرواہ تھی۔ انہوں نے منہ موڑ لیا تو اللہ نے ادھر سے نظر رحمت اٹھا لی۔
Read the full tafseer →آیت 6{ ذٰلِکَ بِاَنَّــہٗ کَانَتْ تَّــاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَـیِّنٰتِ } ”یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول آتے رہے واضح نشانیاں لے کر“
{ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَـنَاز فَـکَفَرُوْا وَتَوَلَّـوْا } ”تو انہوں نے کہا کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ پس انہوں نے کفر کیا اور رُخ پھیرلیا“
{ وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ } ”اور اللہ نے بھی ان سے بےنیازی اختیار کی۔ اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز ‘ ستودہ صفات۔“
یعنی ہر قوم کے لوگ صرف اس بنا پر اپنے رسول علیہ السلام کا انکار کرتے رہے کہ یہ تو ہماری طرح کا بشر ہے۔ یہ رسول کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کے اس رویے کی وجہ سے اللہ…
Read the full tafseer →11 یعنی ایسے دلائل جن سے یہ یقین حاصل ہوسکتا تھا کہ یہ رسول فی الواقع اللہ کے فرستادہ ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی تعلیمات کے لئے وہ جو دلائل پیش کرتے تھے وہ نہایت معقول اور واضح ہوتے تھے۔ ان میں کسی قسم کا ابہام یا پیچیدگی نہیں ہوتی تھی۔ اور حق و باطل کی پوری پوری وضاحت ہوجاتی تھی۔
12 انہیں اپنے رسول پر بنیادی اعتراض یہ ہوتا تھا کہ یہ تو ہم جیسا ہی ایک بشر ہے اسے ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں ؟ کوئی فرشتہ ہماری رہنمائی کے لئے نازل ہوتا تب بھی کوئی بات تھی۔ گویا ان کے نزدیک بشریت اور رسالت میں منافات تھی۔ اسی بنا پر انہوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کفر کا راستہ…
Read the full tafseer →6۔ (اس کو نہ کسی کی طاعت سے نفع، نہ کسی کی معصیت سے ضرر) (آیت) ” فقالوا ابشر یھدوننا “۔ وہ لوگ حیرت و انکار کے لہجہ میں بولے کہ بھلا بشر بھی کہیں ہادی ورہنما ہوسکتا ہے ؟ کوئی دیوی دیوتا ہوتا تو خیر ایک بات بھی تھی۔ بشریت کو جاہلی قوموں نے ہمیشہ رہبری و رہنمائی کے منافی سمجھا ہے، اور وہی ذہنیت آج تک چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” واللہ غنی حمید “۔ آیت ان جاہلی قوموں کے رد میں ہے جن کے عقیدہ میں دیوتا بھی اپنے بچاریوں کے درجہ اقرار و انکار، عبودیت واعراض سے متاثر ہوتے رہتے تھے۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ وبال دنیوی و عذاب آخرت دونوں کی جانب ہے۔ اشارۃ الی ماذکر من الوبال الذی ذاقوہ فی الدنیا وما اعدلھم من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…
Read the full tafseer →ذلک بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینت فقالو ابشر یھدوننا ز فکفروا و تولوا استغنی اللہ واللہ غنی حمید . ” یہ اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں کے پاس ان کے پیغمبر دلائلِ واضحہ لے کر آئے تو ان
لوگوں نے (ان رسولوں کی نسبت) کہا کیا آدمی ہم کو ہدایت کریں گے ‘ غرض انہوں نے کفر کیا اور روگردانی کی اور خدا نے بھی ان کی کچھ پروا نہیں کی اور اللہ (سب سے) بےنیاز ‘ ستودہ صفات ہے۔ “
ذٰلِکَ : یہ دنیا اور آخرت کا عذاب۔
اَلْبَیِّنٰتِ : معجزات اور واضح دلائل۔
اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا : اسم جنس ہے ‘ ایک پر بھی اور زیادہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس جگہ جمع مراد ہے۔ اس لیے یھدون بصیغہ جمع ذکر کیا۔ ابشرٌ میں استفہام انکاری…
Read the full tafseer →اور یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ ان کے پاس رسول اوامرو نواہی اور معجزات لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے جیسا آدمی ہمیں توحید کی دعوت دے گا سو انہوں نے کتابوں رسولوں اور معجزات کا انکار کیا اور ان پر ایمان لانے سے اعراض کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی پرواہ نہ کی وہ ان کے ایمان سے بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ :”بانہ“ میں ”ہ“ ضمیر کو ضمیر شان کہا جاتا ہے ، اس کا مقصد اس بات کی اہمیت کا اظار ہوتا ہے جو بعد میں آرہی ہوتی ہے۔ ”بینات“ کا لفظی معنی واضح اور روشن چیزیں ہے۔ رسول جو بینات لے کر آئے ان میں وہ معجزے بھی شامل ہیں جو ان کی رسالت کی واضح دلیل تھے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات اور عقلی دلائل بھی جو بالکل واضح اور روشن تھے ، جنہیں سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں تھی ، ان بینات کو دیکھ اور سن کر ان کے رسول ہونے کا یقین حاصل ہوتا تھا۔
2۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَنَا :”بشر“ اسم جنس ہے جو جمع پر بھی بولا جاتا ہے ، جیسا کہ یہاں…
Read the full tafseer →انہیں یہ عذاب اس وجہ سے آیا کہ انہوں نے ان رسولوں کا انکار کیا جو ان کے پاس واضح دلیل لائے انہوں نے انکار کردیا کہ رسول بشر بھی ہو سکتا ہے بشر مبتداء ہونے کی حیثیت میں مرفوع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فعل مضمر ہے اور اس میں جمع کا معنی ہے اسی وجہ سے یھدوننا ارشاد فرمایا۔ یھدینا نہیں فرمایا۔ بعض اوقات واحد جمع کے معنی میں ہوتا ہے تو وہ اسم جنس ہوتا ہے اس کا واحد انسان ہے لفظوں میں اس کا کوئی واحد نہیں۔ بعض اوقات جمع واحد کے معنی میں آتا ہے جس طرح فرمایا : ماھذا بشراً (یوسف : 31) انہوں نے اس قول ابشر یھدوننا کے ساتھ انکار کیا۔ انہوں نے یہ قول ان کے چھوٹے پن کو ظاہر کرنے کے لئے کیا تھا۔ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ بِانهٗ : یہ بسبب اس حقیقت کے کہ ] [كَانتْ تَّاْتِيْهِمْ : آئے تھے ان کے پاس ] [رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ : ان کے رسول واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [فَقَالُوْٓا : تو وہ کہتے تھے کیا ] [اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا : کچھ بشر ہدایت دیں گے ہم کو ] [فَكَفَرُوْا وَتَوَلَوْا : پھر انھوں نے انکار کیا اور منہ موڑا ] [وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ : اور بےنیازی اختیار کی اللہ نے ] [وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ: اور اللہ ہے (ہی) بےنیاز حمد کیا ہوا ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ یں کافروں کا قول نقل ہوا ہے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے۔ یہ ان کی تباہی کی اولین اور بنیادی وجہ ہے۔ نوع انسانی کو دنیا میں صحیح راہ عمل اس کے بغیر…
Read the full tafseer →امم سابقہ کی گمراہی کا سبب :
پھر ان لوگوں کے کفر پر جمے رہنے کا سبب بتایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ ﴾ (الآیۃ) یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے ان لوگوں نے ان کی دعوت پر ایمان نہ لانے کا یہ حیلہ نکالا اور یہ بہانہ تراشا کہ یہ تو آدمی ہے اور ہم بھی آدمی ہیں بھلا آدمی، آدمی کو کیا ہدایت دے گا۔ اس جاہلانہ بات کو اٹھایا اور کفر پر جمے رہے اور حق سے اعراض کیا اور اللہ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ انجام کار وہ دنیا و آخرت میں سزا کے مستحق ہوئے۔
﴿وَ اللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ006﴾ (اور اللہ بےنیاز ہے) کوئی بھی ایمان نہ لائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں، وہ ستودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6:۔ ” الم یاتکم “ یہ تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے۔ کیا تمہیں ان کافر قوموں کا حال معلوم نہیں جو تم سے پہلے گذرے ہیں انہوں نے توحید کا انکار کیا اور خدا سے بغاوت کی، تو ان کو دنیا ہی میں انواع و اقسام عذاب سے تباہ کر کے کفر و شرک اور انکار و جحود کا مزہ چکھا دیا گیا۔ اور آخرت میں بھی ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ذلک بانہ کانت تاتیہم “ دنیا اور آخرت میں وہ اس سزا کے مستحق کیوں ہوئے ؟ اس لیے کہ ان کے پاس پیغمبر دلائل و برا ہیں لے کر آئے اور ہر اسلوب وانداز سے مسئلہ توحید کو ان پر واضح کیا، مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی اور کہنے لگے کیا بشر ہمارے ہادی بن کر آئے ہیں ؟ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّہٗ كَانَتْ تَّاْتِيْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّہْدُوْنَنَا 0 ۡفَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللہُ 0 ۭ وَاللہُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ 6
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌیَّھْدُوْنَنَا ز فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (التغابن : 6)
(یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ آتے رہے تو انھوں نے کہا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کریں گے ؟ پس انھوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ )
تکذیبِ رسول کے لیے منکرین کا بہانہ
اس آیت کریمہ میں معذب قوموں کی تباہی اور بربادی کی بنیادی وجہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کی ذمہ داری اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق اور بہترین مصّور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ وہ جانتا ہے جو لوگ ظاہر اور خفیہ طور پر کرتے ہیں اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ جو ذات دلوں کی راز اور سب کچھ جانتی ہے اس کی بغاوت کر کے انسان کہاں جاسکتا ہے۔ اس لیے اس نے پہلے نافرمانوں کا انجام بتلا کر دوسروں کو انتباہ کیا ہے کہ اے نافرمان لوگوں کیا تمہیں پہلے لوگوں کے انجام کا علم نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کئی انداز اختیار فرمائے ہیں۔ ان میں ایک انداز یہ اختیار فرمایا کہ لوگوں کو…
Read the full tafseer →6 : ذٰلِکَ (یہ) اس کا مشارٌ الیہ ہے وہ وبال جو ان کو دنیا میں پہنچا اور آخرت میں ان کے لئے تیار کیا گیا۔ بِاَنَّہٗ (اس سبب سے) کہ بات اور حالت یہ ہے۔ کَانَتْ تَّاْتِیْھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (یہ اس سبب سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر دلائل واضحہ لے کر آئے) البَینات سے معجزات مراد ہیں۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا (تو ان لوگوں نے ان کو کہا کیا آدمی ہم کو ہدایت کریں گے) انہوں نے بشر کے لئے رسالت کا انکار کردیا۔ مگر حجرو پتھرکیلئے عبادت کا انکار نہیں کیا۔ فَکَفَرُوْا (غرض انہوں نے کفر کیا) رسولوں کا انکار کردیا۔ وَتَوَلَّوْا (اور روگردانی اختیار کی) ایمان سے منہ موڑ لیا۔ وَّاسْتَغْنَی…
Read the full tafseer →5 ۔” الم یاتکم “ کفار مکہ کو خطاب کیا ہے۔ ” نبا الذین کفروا من قبل “ یعنی گزشتہ امتوں کی۔ ” فذاقوا وبال اھرھم “ یعنی جو ان کو دنیا میں عذاب لاحق ہوا۔ ” ولھم عذاب الیم “ آخرت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 6۔ اوپر حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کے منکروں کو ایک اور طرح قائل کرنے کو فرمایا کہ یہ مکہ کے مشرک لوگ حشر کو اور حشر کے سامان کے لئے نیک کام کرنے کو ان سے کہا جاتا ہے اس کو ہر وقت جھٹلاتے ہیں تو کیا شام کے ملک کی طرف تجارت کے سفر میں ان کو پچھلی قوموں کی کچھ اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں اور ان کو کیا ان لوگوں کو یہ حال معلوم نہیں ہوا کہ جس طرح ان حال کے لوگوں کو حشر کے قائم ہونے اور اس کے لئے سامان کرنے کی نصیحت کرنے کو اللہ کے رسول آئے اسی طرح ان لوگوں کی نصیحت کے لئے بھی اللہ کے رسول ہر ایک زمانے میں آئے تھے اور طرح طرح سے ان کو نصیحت بھی کی لیکن ان لوگوں نے ان عقلی باتوں سے کام…
Read the full tafseer →بنا بریں اللہ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا (ذٰلِكَ ) یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے اس سبب سے ہے (بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ) کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے مگر انہوں نے ناگواری سے منہ پھیرلیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور کہنے لگے ( اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا) کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے ؟ یعنی انہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انہیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا (قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشرمثلکم۔۔۔…
Read the full tafseer →9 ۔ حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب باعث ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ یعنی ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کا یہ سلسلہ اس لیے ہوا کہ جب ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل کے ساتھ آئے تو انہوں نے ان کی بشریت کی بنا پر ان کو جھٹلا دیا، حالانکہ ان دلائل کے ذریعے نور حق و ہدایت کو ان کے لیے پوری طرح واضح اور آشکار کردیا گیا تھا مگر انہوں نے اپنے عناد و استکبار کی بناء پر پھر بھی نہ مانا اور اس طرح دائمی شقاوت و بدبختی ان پر چپک کر اور چسپاں ہو کر رہ گئی، والعیاذ باللہ۔ سو اپنی سرکشی اور اپنے استکبار کی بناء پر ان لوگوں نے حق کو مان کر نہ دیا، اور کہا کہ کیا ہم جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کو اگر ہماری رہنمائی مقصود تھی تو اسے چاہیے تھا کہ آسمان سے فرشتے بھیجتا نہ کہ ہم جیسے یہ آدمی گویا ان کے نزدیک کوئی پیغمبر بشر (آدمی) نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰنے متعدد ٓیات میں اس خیال کے باطل ہونے کے دلائل دیئے۔ دیکھئے سورة ابراہیم 10-10 سورة کہف 110 سورة مومنون 33 سورة شعراء 86 سورة یٰسین 154 یعنی وہ اپنی ذات میں تمام خوبیوں کا مالک ہے اسے کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں ہے جو شخص اس کی عبادت کرتا ہے اپنے بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو شخص اس کی بادت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنا نقصا آپ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(64:6) ذلک یعنی عذاب جو انہوں نے اس دنیا میں بھگتا اور عذاب جو وہ آخرت میں بھگتیں گے۔
بانہ : ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ ذالک بانہ بیشک یہ (عذاب دنیا و عذاب آخرت) اس سبب سے ہے۔ کانت تاتیہم۔ ماضی استمراری صیغہ واحد مؤنث غائب (بمعنی جمع مذکر) ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان کے پاس آئے تھے یا آیا کرتے تھے رسلہم مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل فعل کانت تاتی کا۔ ان کے رسول۔ ان کے پیغمبران، یعنی خدا کے ارسال کردہ پیغمبر جو ان کی طرف بھیجے جاتے تھے۔
بالبینت : ب تعدیہ کے لئے ہے البینت معجزات وواضح دلائل۔ واضح اور روشن دلائل لے کر آتے تھے۔
فقالوا :عاطفہ۔ اس کا عطف کانت تاتیہم پر ہے۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حشر کے منکروں کو قائل کرنے اور اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا ذکر۔
(ف 1) کیا امم ماضیہ وقرون سابقہ کے حالات کہ ان کا کیا حال ہوا تم کو قران میں نہیں پہنچے، جیسے قوم عاد فرعون وغیرہ انہوں نے کفر کیا اور اپنے کفر کا مزہ چھا، وبال بھگتا، سزا پائی دنیا میں عذاب پایا ، ہلاک ہوگئے آخرت میں عذاب الیم دردرساں ملے گا، اے کافرو، اگر تمنے بھی ایسا ہی کیا تو یادر کھنا کہ ایک نہ ایک دن تم کو بھی ان کی سی تباہی کی صورت دیکھنی پڑے گی اور اللہ تعالیٰ تم کو بھی نیست ونابود کردے گا یہ دنیا کی چند روزہ زندگی ہے جو چاہے سو کرلو ایک دن ہمارے دربار میں لوٹ کر آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
[1] بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی فرق صرف مومن و کافر کا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش۔ یہی بات نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے : '' اے لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے، ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ ''
Read the full tafseer →یہ عجیب بات ہے ۔ کہ کفار کے نزدیک معیار نبوت تو ہمیشہ ضرورت سے زیادہ بلند رہا ۔ اور معیار الوہیت ہمیشہ پست یعنی انبیاء کا تو انہوں نے اس بناء پر انکار کیا ۔ کہ وہ فوق البشر قوتوں اور استعدادوں کے جھکے نہیں ہیں ۔ وہ کیوں بشری تقاضوں کے سامنے جھکتے ہیں ۔ مگر خدا کے متعلق ان کی عقل نے یہی فیصلہ کیا ہے ۔ کہ وہ کوئی بڑی چیز نہیں ۔ انہوں نے بتوں پر قناعت کرلی ۔ درختوں اور پودوں کو مقدس مان لیا جو دریاؤں اور پہاڑوں کو معبود قرار دے لیا ۔ سانپوں اور اژداھوں کو خدا سمجھا ۔ اور زمین کے ہر بلند اور رفیع حصہ کو خلعت لاہوت سے نوازا ۔ یعنی یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے ۔ کہ انسان کو اس عہدہ پر فائز نہیں ہونا…
Read the full tafseer →(6) یہ دنیا اور آخرت کا عذاب اس لئے ہے کہ ان پیغمبران کے پاس واضح اور کھلے دلائل لے کر آتے رہے اور یہ لوگ یہی کہتے رہے کہ کیا بشر ہماری رہنمائی کریں گے اور آدمی ہم کو راہ دکھائیں گے غرض انہوں نے انکار اور کفر کا شیوہ اختیار کیا اور اعراض و روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےنیازی اور بےپروائی کی اور اللہ تعالیٰ بڑا بےنیاز اور جملہ صفات سے متصف ہے۔ یعنی رسول ان کے پاس معجزات اور دلائل لے کر آئے مگر انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ ہماری ہدایت کے لئے بشر آئیں گے بشر کی ہدایت کے لئے آسمان سے فرشتے آنے چاہئیں چونکہ بشر کے لئے بشر کا ہادی ہونا ان کی سمجھ میں نہیں آیا اس لئے انہوں نے رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 5۔ یعنی اس کو نہ کسی کی معصیت سے ضرر اور نہ کسی کی طاعت سے نفع ہے، خود مطیع و عاصی ہی کا نفع و ضرر ہے۔
Read the full tafseer →ان کے پاس ہمارے رسول گئے تو انہوں نے ان کو بشر کہہ کر ٹال دیا اور اپنی ڈگر پر قائم رہے
6 ؎ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا جیسے ہود ، صالح ، ابراہیم لوط اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوموں کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور انہوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ دیکھو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا ، یہ آخر ہیں کان ؟ یہ تو عام انسانوں کی طرح انسان ہیں خواص کی تو ان کی ہوا بھی نہیں لگی اگر یہ لوگ خود اس میں ہوتے تو آخر ان کے پاس بھی بڑے بڑے محلات ، کو ٹھیاں ، باغات اور نوکر و خدام ہوتے ۔ وہ باغوں میں بیٹھتے۔ لوگ ان کے ارد گرد حلقہ لگائے بیٹھتے ہوتے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا (…but they said, “ Shall some mortals give us guidance?”…64:6). Though the word basher [ mortal (s)] is singular, but in meaning it is plural. Therefore, the verb يَهْدُونَنَا ‘give us guidance’ is plural. All unbelievers held the notion that prophets and messengers cannot be human beings. The Qur’ an has time and again falsified and refuted this notion of the unbelievers. Alas, there is also a group of Muslims who denies the mortality of the Allah’ s Messenger. They need to think in which direction they are moving. His mortality is not contradictory to his…
Read the full tafseer →11 The word bayyinet as used in the original has a vast meaning. Bayyin (sing. of bayyinat in Arabic is something which is very clear and manifest. Saying about the Prophets that they came with bayyinat gives the meaning that firstly, they brought such manifest signs as bore clear testimony to their having been appointed by AIIah; secondly, they presented whatever they presented with rational and clear arguments; thirdly, there was no ambiguity in their teaching; they clearly explained what was the truth and what was falsehood. what was lawful and what was unlawful, what path man should…
Read the full tafseer →