Explained with ayahs 5–6
سابقہ واقعات سے سبق لو
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں ؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی ؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے یہاں بھی اپنے بد افعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل وبراہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 10
یعنی دنیا میں انہوں نے شامت اعمال کا جو مزا چکھا وہ ان کے جرائم کی نہ اصل سزا تھی نہ پوری سزا۔ اصلی اور پوری سزا تو ابھی آخرت میں ان کو بھگتنی ہے۔ لیکن دنیا میں جو عذاب ان پر آیا اس سے لوگ یہ سبق لے سکتے ہیں کہ جن قوموں نے بھی اپنے رب کے مقابلے میں کفر کا رویہ اختیار کیا وہ کس طرح بگڑتی چلی گئیں اور آخر کس انجام سے دوچار ہوئیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 5۔ 6۔ ہود، حاشیہ 105)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(آیت) وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ، (اس نے تمہاری صورت بنائی پھر تمہاری صورتوں کو بہتر بنایا) صورت گری در حقیقت خالق کائنات کی مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے اور غور کرو کہ کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ، ہر نوح میں اصناف مختلفہ اور ہر صنف میں لاکھوں کروڑوں افراد مختلفہ پائے جاتے ہیں، ایک کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی، ایک نوع انسانی میں ملکوں اور خطوں کے اختلاف سے نسلوں اور قوموں کے اختلاف سے شکل و صورت میں کھبے ہوئے امتیازات، پھر ان میں ہر فرد کی شکل و صورت کا دوسرے سب سے ممتاز ہونا ایک ایسی حیرت انگیز صنعت و…
Read the full tafseer →(الم یاتکم نبواء الذین کفروا من قبل فذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم) (5)۔
(مکافات ِ عمل کی شہادت تاریخ سے)۔ فرمایا کہ کیا اس ملک کی پچھلی قوموں کی تاریخ تمہارے علم میں نہیں آئی کہ انہوں نے کفر کیا تو اس کفر کا دبال انہیں اس دنیا میں بھی چکھنا پڑا اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے ؟ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے۔ جن کی سرگزشتیں تفصیل سے پچھلی سورتوں میں سنائی بھی گئی ہیں اور قریش ان سے فی الجملہ واقف بھی ہے بلکہ ان میں سے بعض قوموں کی بستیوں کے کھنڈروں پر سے ان کو گزرنے کے مواقع بھی ملتے رہتے تھے۔ ان کی تاریخ کی طرف اشارہ کر کے متنبہ فرمایا کہ یہ واقعات…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔
5۔ 2 یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →الم بالکم ............................ حمید (46 : 6) (46 : 5۔ 6) ” کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا ، تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔ “
یہ خطاب تمام مشرکین کو ہے کہ اس سے قبل جن لوگوں نے تکذیب کی ان کا جو انجام ہوا ، اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 یعنی تم سے پہلے بہت قومیں " عاد " و " ثمود " وغیرہ ہلاک کی گئیں اور آخرت کا عذاب الگ رہا۔ یہ خطاب اہل مکہ کو ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ اَلَـمْ یَاْتِکُمْ نَـبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ } ”کیا تمہارے پاس خبریں آ نہیں چکی ہیں ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا تھا پہلے“
قومِ نوح علیہ السلام ‘ قومِ ہود علیہ السلام ‘ قومِ صالح علیہ السلام اور دوسری اقوام کے واقعات مکی قرآن میں بار بار دہرائے گئے ہیں۔
{ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ”تو انہوں نے اپنے کیے کی سزا چکھ لی“
انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کفر کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا گیا۔
{ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ } ”اور ان کے لیے دردناک عذاب بھی ہے۔“
دنیا کی سزا بھگتنے کے بعد ان اقوام کے افراد ابھی تو عالم برزخ میں ہیں ‘ لیکن ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →10 ان لوگوں سے مراد وہ سابقہ اقوام ہیں جن پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔ اور یہ سزا نہ تو ان کی اصل سزا تھی اور نہ پوری سزا تھی۔ یہ عذاب تو انہیں محض اس لئے چکھایا گیا تھا کہ آئندہ جرائم سے باز آجائیں اور مظلوم ان کے مظالم سے نجات پاجائیں۔ اس لحاظ سے دنیا کا یہ عذاب محض ایک مجرم کی گرفتاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ رہی اصل اور پوری سزا تو وہ انہیں آخرت میں ملے گی۔
Read the full tafseer →5۔ (آخرت میں) یعنی وبال عاجل کے علاوہ، جس کا مشاہدہ ہر شخص اوراق تاریخ کی مدد سے کرسکتا ہے، ان سرکش ونافرمان قوموں کے لیے آخرت کا عذاب آجل بھی ہے۔ (آیت) ” الذین کفروا من قبل “۔ اس میں وہ تمام قومیں آگئیں، جو اسلام سے قبل دنیا میں نمودار ہوئیں، اور خدائی قانون کی مخالفت کر کر کے دنیا سے نابود ہوگئیں۔ (آیت) ” فذاقوا وبال امرھم “۔ یعنی اسی دنیا میں اپنے کفر و طغیان کا مزہ چکھا، اور ہلاک وبرباد ہوکر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…
Read the full tafseer →الم یاتکم .... عذاب الیم .
” کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی ‘ جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا پھر انہوں نے اپنے اعمال کا وبال (دُنیا میں بھی) چکھا اور (اس کے علاوہ آخرت میں بھی) ان کے لیے عذاب دردناک ہے۔ “
اَلَمْ یَاْ تِکُمْ : یعنی اے کافرو ! کیا تم کو پہلے کافروں کے حالات (اور عذاب و سزا) کی خبر نہیں پہنچی۔ سابق کافروں سے مراد ہیں قوم نوح ‘ قوم ثمود ‘ قوم عاد اور اصحاب الایکہ (بن والے) وغیرہ۔
وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ انہوں نے دنیا میں ہی اپنے کفر کے ضرر کا مزہ چکھ لیا۔ وبال کا اصل مفہوم ہے ثقل ‘ بار ‘ طعام و بیل (ثقیل کھانا) مطر دبیل (بھاری بارش) ۔
وَلَھُمْ…
Read the full tafseer →اے مکہ والو کیا تمہیں بذریعہ کتاب گزشتہ قوموں کی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا، انہوں نے عذاب و ہلاکت کے ذریعے دنیا میں اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی اگر تم اپنے اس خالق پر ایمان نہ لائے اور اس کے ساتھ کفر پر ڈٹے رہے جو ان صفات کا مالک ہے اور جس کی طرف تمہیں واپس جانا ہے، تو کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جنہوں نے اس سے پہلے اپنے خالق ومالک کے علاوہ اس کے رسولوں اور آخرت کا بھی انکار کیا ، مثلاً قوم نوح ، عاد وثمود اور آل فرعون وغیرہ جو مال و دولت اور قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ (دیکھئے روم : 9) قریش مکہ کا گزر اکثر شام اور یمین کی طرف سفر میں ان کی برباد شدہ بستیوں پر ہوتا تھا اور عرب میں ان کے واقعات مشہور تھے۔
2۔ فَذَاقُوْا…
Read the full tafseer →خطاب قریش کو ہے یعنی کیا تمہارے پاس گزری ہوئی امتوں کے کفار کی خبر نہیں پہنچی۔ انہیں دنیا میں بھی ان کے اعمال پر سزا دی گئی اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…
Read the full tafseer →[اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا پہنثی نہیں تم لوگوں کے پاس ] [نَبَؤُا الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کی خبر جنھوں نے کفر کیا ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ : پھر انھوں نے چکھی اپنے کیے کی سزا ] [وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے ]
Read the full tafseer →گزشتہ اقوام سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین :
پانچویں اور چھٹی آیت میں مخاطبین قرآن کو گزشتہ اقوام کی بدحالی کا انجام بتایا جس میں یہ سمجھایا کہ اگر تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی برا انجام ہوگا، ارشاد فرمایا ﴿ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ﴾ (کیا تمہارے پاس ان کافروں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے) ﴿ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ﴾ (سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا) یہ تو دنیا میں ہوا ﴿ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ005﴾ اور (آخرت میں) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6:۔ ” الم یاتکم “ یہ تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے۔ کیا تمہیں ان کافر قوموں کا حال معلوم نہیں جو تم سے پہلے گذرے ہیں انہوں نے توحید کا انکار کیا اور خدا سے بغاوت کی، تو ان کو دنیا ہی میں انواع و اقسام عذاب سے تباہ کر کے کفر و شرک اور انکار و جحود کا مزہ چکھا دیا گیا۔ اور آخرت میں بھی ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ذلک بانہ کانت تاتیہم “ دنیا اور آخرت میں وہ اس سزا کے مستحق کیوں ہوئے ؟ اس لیے کہ ان کے پاس پیغمبر دلائل و برا ہیں لے کر آئے اور ہر اسلوب وانداز سے مسئلہ توحید کو ان پر واضح کیا، مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی اور کہنے لگے کیا بشر ہمارے ہادی بن کر آئے ہیں ؟ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ 0 ۡفَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 5
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ز فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (التغابن : 5)
(کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا، پس انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا (اور ان کے لیے آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے) ۔
جزائِ اعمال پر تاریخ سے استدلال
یہ آخرت کے آنے کی ایک ایسی دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے جو واقعاتی بھی ہے اور عقلی بھی۔ مخالفین سے کہا گیا ہے کہ تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہیں اور جن کا تعلق تمہارے اپنے ملک سے ہے کیا ان کی تاریخ اور ان کے احوال تمہارے علم میں نہیں آئے۔ اس سے اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور قوم لوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق اور بہترین مصّور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ وہ جانتا ہے جو لوگ ظاہر اور خفیہ طور پر کرتے ہیں اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ جو ذات دلوں کی راز اور سب کچھ جانتی ہے اس کی بغاوت کر کے انسان کہاں جاسکتا ہے۔ اس لیے اس نے پہلے نافرمانوں کا انجام بتلا کر دوسروں کو انتباہ کیا ہے کہ اے نافرمان لوگوں کیا تمہیں پہلے لوگوں کے انجام کا علم نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کئی انداز اختیار فرمائے ہیں۔ ان میں ایک انداز یہ اختیار فرمایا کہ لوگوں کو…
Read the full tafseer →5 : اَلَمْ یَاْتِکُمْ (کیا تم کو نہیں پہنچی) یہ کفار مکہ کو خطاب ہے۔ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ (خبر ان لوگوں کی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا) یعنی قوم نوح، ہود، صالح، لوط۔ فَذَا قُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ (انہوں نے اپنے اعمال کا وبال (دنیا میں بھی) چکھا) یعنی دنیا میں کفر کی سزا چکھی۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور اس کے علاوہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے) جو آخرت میں ملے گا۔
Read the full tafseer →4 ۔” یعلم مافی السموات والارض “
” ویعلم ماتسرون وما تعلنون واللہ علیم بذات الصدور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 6۔ اوپر حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کے منکروں کو ایک اور طرح قائل کرنے کو فرمایا کہ یہ مکہ کے مشرک لوگ حشر کو اور حشر کے سامان کے لئے نیک کام کرنے کو ان سے کہا جاتا ہے اس کو ہر وقت جھٹلاتے ہیں تو کیا شام کے ملک کی طرف تجارت کے سفر میں ان کو پچھلی قوموں کی کچھ اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں اور ان کو کیا ان لوگوں کو یہ حال معلوم نہیں ہوا کہ جس طرح ان حال کے لوگوں کو حشر کے قائم ہونے اور اس کے لئے سامان کرنے کی نصیحت کرنے کو اللہ کے رسول آئے اسی طرح ان لوگوں کی نصیحت کے لئے بھی اللہ کے رسول ہر ایک زمانے میں آئے تھے اور طرح طرح سے ان کو نصیحت بھی کی لیکن ان لوگوں نے ان عقلی باتوں سے کام…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا پس اللہ نے انہیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھایا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا۔ (وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) اور آخڑت میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →6 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور تخصیص و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے اپس اے لوگو پہلے منکروں کی خبر نہیں پہنچی ؟ یعنی جیسے قوم نوح، قوم ھود اور قوم صالح وغیرہ کی کہ وہ لوگ اپنے کفر اور انکار اور بغاوت و سرکشی کے نتیجے میں آخر کار کس انجام سے دو چار ہوئے ؟ سو کفر و انکار اور تکذیب حق کا آخری انجام اور نتیجہ بہرحال تباہی اور ہولناک تباہی ہے، پس اس پر ملنے والی مہلت اور ڈھیل سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے تاریخ سے درس عبرت و بصیرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، کہ تاریخ کو صرف معلومات میں اضافے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت انسان کی فضیلت اور فرائض پھر ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے جو ایمان لائے یا جنہوں نے کفر کیا ان آیات میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تمہارے سامنے گزشتہ تاریخی واقعات موجود ہیں کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی دنیا میں ان کو مختلف عذاب دیے گئے مثلاً کسی کی بستیاں الٹ دی گئیں۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور کئی انسانی شکل و صورت سے محروم کر کے بدنما جانور بنا دیے گئے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن جو عذاب ان کو ملے گا وہ تو بڑا ہی درد ناک ہوگا۔ مگر کفار اس لیے بےپرواہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کو اگر ہماری رہنمائی مقصود تھی تو اسے چاہیے تھا کہ آسمان سے فرشتے بھیجتا نہ کہ ہم جیسے یہ آدمی گویا ان کے نزدیک کوئی پیغمبر بشر (آدمی) نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰنے متعدد ٓیات میں اس خیال کے باطل ہونے کے دلائل دیئے۔ دیکھئے سورة ابراہیم 10-10 سورة کہف 110 سورة مومنون 33 سورة شعراء 86 سورة یٰسین 154 یعنی وہ اپنی ذات میں تمام خوبیوں کا مالک ہے اسے کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں ہے جو شخص اس کی عبادت کرتا ہے اپنے بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو شخص اس کی بادت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنا نقصا آپ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(64:5) الم یاتکم : ا ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ لم یاتی مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی آنا۔ آجانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ خطاب کفار مکہ یا تمام اہل مکہ سے ہے۔ کیا تمہارے پاس نہیں آئی۔ (اے اہل مکہ یا اے کفار مکہ) ۔ نبو اسم مرفوع۔ خبر۔ اطلاع۔ مضاف۔ الذین کفروا اسم موصول و صلہ جنہوں نے کفر کیا۔
من قبل : ای من قبلکم تم سے پہلے ۔ متعلق صلہ۔ اسم موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ نبؤ کا۔ کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جنہوں نے تم سے قبل کفر اختیار کیا (مثل قوم نوح وقوم ہود (علیہ السلام) ، قوم صالح (علیہ السلام) وغیرہ)
فذاقوا :ترتیب کا ہے یعنی وہ خبر یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حشر کے منکروں کو قائل کرنے اور اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا ذکر۔
(ف 1) کیا امم ماضیہ وقرون سابقہ کے حالات کہ ان کا کیا حال ہوا تم کو قران میں نہیں پہنچے، جیسے قوم عاد فرعون وغیرہ انہوں نے کفر کیا اور اپنے کفر کا مزہ چھا، وبال بھگتا، سزا پائی دنیا میں عذاب پایا ، ہلاک ہوگئے آخرت میں عذاب الیم دردرساں ملے گا، اے کافرو، اگر تمنے بھی ایسا ہی کیا تو یادر کھنا کہ ایک نہ ایک دن تم کو بھی ان کی سی تباہی کی صورت دیکھنی پڑے گی اور اللہ تعالیٰ تم کو بھی نیست ونابود کردے گا یہ دنیا کی چند روزہ زندگی ہے جو چاہے سو کرلو ایک دن ہمارے دربار میں لوٹ کر آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
[1] بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی فرق صرف مومن و کافر کا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش۔ یہی بات نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے : '' اے لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے، ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التغابن
تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔
معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت…
Read the full tafseer →(5) کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اب سے پہلے یعنی تم سے پہلے کفر کے مرتکب ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا اور ان کے لئے اور بھی دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے جنہوں نے کفر کیا تھا ان کی خبر تم کو نہیں پہنچی اور کیا ان کی خبر تم تک نہیں آئی کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلا دنیا میں بھی ملا۔ اور انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا یہ مزا چکھنا تو دنیا میں ہوا، اور آخرت میں ان کے لئے اور دردناک عذاب موجود ہے اور ان کو ابھی اور دردناک عذاب ہونے والا ہے یعنی یہاں تو جو وبال پڑا وہ تو پڑا بھی آخرت میں اور دردناک عذاب تیار ہے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ وہ خبر پہنچنا بھی مقتضی وجوب اطاعت کو ہے۔
Read the full tafseer →کیا آپ ان کافروں کو جانتے نہیں ہیں جو اپنے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ؟
5 ؎ مطلب یہ ہے کہ اب سے پہلے کتنے ہی اکھڑ اس دھرتی پر پیدا ہوچکے ہیں جو ہم چوما دیگرے نیست کے نعرے بلند کرتے رہے اور جنہوں نے ( انا ربکم الاعلیٰ ) کی صدائیں بلند کیں ۔ یہ عاد ، ثمود ، اہل مدین ، قوم تبع ، فرعون ، قارون ، ہامان اور رشد اد وغیرہ اور ایسے ہی دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ سارے لوگ وہ ہیں جو اپنے اپنے وقت میں بڑے بڑے دعوے کرچکے اور ان کی خبریں ہم تم کو ایک بار نہیں کئی بار قرآن کریم میں سنا چکے کیا یہ سب کے سب اپنے اپنے کیے کے انجام کو پہنچ کر نہیں رہے ؟ بلا شبہ وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس وقت کے وہ ہیکڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (…and shaped your figures, and made your figures good…64:3). Shaping the figures of the creatures is one of the exclusive attributes of Allah, that is why Al-Musawwiru [ the shaper ] is one of His attributive names. If we analyze or look carefully into the universe, there are several classes of things. Each class has several species and each species has several sexes. Each sex has billions of members. No single shape ever resembles another shape. Among humankind, for instance, on account of difference of country or territory or difference of stock and…
Read the full tafseer →10 That is, "The evil that they tasted in the world in consequence of their misdeeds was neither the real punishment of their crimes nor the full punishment. The real and full punishment they have yet to suffer in the Hereafter. However, the people can learn a lesson from the torment that visited them. They can see how the nations which adopted an attitude of unbelief against their Lord, went an degenerating and consequently met with an evil and disgraceful end." (For further explanation, see E.N.'s 5, 6 of Al-A'raf, E.N. 105 of Hud) .
Read the full tafseer →