At-Taghaabun 64:4

At-Taghaabun · from ayah 4

64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He knows what is within the heavens and earth and knows what you conceal and what you declare. And Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah At-Taghaabun

All translations of 64:4

زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب اس کو معلوم ہے، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہو، اس کا بھی اسے پورا علم ہے، اور اللہ دلوں کی باتوں تک کا خوب جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ جانتا ہے اور ان باتوں کو (بھی) جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو، اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں والی (راز کی) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ تو دلوں کے راز تک جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ باخبر ہے سینوں کے بھیدوں سے بھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور (اسی طرح) وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ تم لوگ چھپا کر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جو کہ تم اعلانیہ کرتے ہو اور اللہ پوری طرح جانتا ہے دلوں کی باتوں تک کو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔ اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو تم علانیہ کرتے ہو اور اللہ تو دلوں تک کی بات خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ اس سے بھی باخبر ہے جو تمہارے سینوں کے اندر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور اللہ دل کے بھیدوں سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows what is in the heavens and the earth, and knows what you conceal and what you disclose. Allah even knows what lies hidden in the breasts of people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows all that is in the heavens and the earth, and He knows whatever you conceal and whatever you reveal. Allah is fully aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows all that is in the heavens and the earth, and He knows whatever you conceal and whatever you reveal. Allah is fully aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He knows what is in the heavens and on earth, and He knows what you conceal and what you reveal. And Allah is the All-Knower of what is in the breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth all that is in the heavens and the earth, and He knoweth what ye conceal and what ye publish. And Allah is Aware of what is in the breasts (of men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He knows what is within the heavens and earth and knows what you conceal and what you declare. And Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

He knows all that is in the heavens and the earth and all that you reveal or conceal. God knows best whatever the hearts contain.

— Muhammad Sarwar

He knows what is in the heavens and the earth, and He knows what you hide and what you manifest; and Allah is Cognizant of what is in the hearts.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth whatsoever is In the heavens and the earth, and He knoweth whatsoever ye keep secret, and whatsoever ye make known; and Allah is the Knower of whatsoever is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

He knows what is in the heavens and on earth; and He knows what ye conceal and what ye reveal: yea, Allah knows well the (secrets) of (all) hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 64:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہوچکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّغَابُن 8 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو "۔ سورة التَّغَابُن 9 یعنی وہ انسان کے صرف ان اعمال ہی سے واقف نہیں ہے جو لوگوں کے علم میں آجاتے ہیں بلکہ ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو سب سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ مزید براں وہ محض اعمال کی ظاہر شکل ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کے ہر عمل کے پیچھے کیا ارادہ اور کیا مقصد کار فرما تھا اور جو کچھ اس نے کیا کس نیت سے کیا اور کیا سمجھتے ہوئے کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان غور کرے تو اسے اندازہ ہوسکتا ہے انصاف صرف آخرت ہی میں ہوسکتا ہے اور صرف خدا ہی کی عدالت میں صحیح انصاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–5

(آیت) وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ، (اس نے تمہاری صورت بنائی پھر تمہاری صورتوں کو بہتر بنایا) صورت گری در حقیقت خالق کائنات کی مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے اور غور کرو کہ کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ، ہر نوح میں اصناف مختلفہ اور ہر صنف میں لاکھوں کروڑوں افراد مختلفہ پائے جاتے ہیں، ایک کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی، ایک نوع انسانی میں ملکوں اور خطوں کے اختلاف سے نسلوں اور قوموں کے اختلاف سے شکل و صورت میں کھبے ہوئے امتیازات، پھر ان میں ہر فرد کی شکل و صورت کا دوسرے سب سے ممتاز ہونا ایک ایسی حیرت انگیز صنعت و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یعلم ما فی السموات والارض ویعلم ما تسرون وما تعلنون واللہ علیم بذات الصدور) (4)۔ (کوئی بات اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے)۔ یعنی اس مغالطہ میں نہ رہو کہ بھلا اللہ تعالیٰ کو ساری دنیا کے تمام خفیہ و اعلانیہ اعمال کی خبر کہاں ہوگی کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا اور سب کو جزا یا سزا دے گا ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب سے واقف ہے اور تم کوئی کام خواہ پوشیدہ طور پر کردیا علانیہ وہ تمہارے ہر قول و فعل کو جانتا ہے بلکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اس سے بھی باخبر رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی اس کا علم کائنات ارضی و سماوی سب پر محیط ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے، اس سے قبل جو وعدے اور وعیدین بیان ہوئی ہیں، یہ ان کی تاکید ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعلم مافی ............................................ الصدور (46 : 4) ” زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے “۔ اس حقیقت کا ایک مومن کے دل میں بیٹھنا ، اسے معرفت رب عطا کرتا ہے۔ اس طرح اپنے رب کی معرفت حاصل ہونے کے بعد اس کے آفاقی اور کائناتی ایمان کا یہ پہلو بہت مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ اللہ کی نظروں میں ہے۔ کوئی ایسا راز نہیں ہے جو اس پر مخفی ہو۔ اس کے ضمیر میں کوئی گہری سوچ بھی ایسی نہیں ہے جس سے اللہ باخبر نہ ہو۔ یہ تین آیات ہی انسان کے لئے اس قدر رہنمائی فراہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

4 یعنی تم سے پہلے بہت قومیں " عاد " و " ثمود " وغیرہ ہلاک کی گئیں اور آخرت کا عذاب الگ رہا۔ یہ خطاب اہل مکہ کو ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے“ اب دوسری جہت ملاحظہ کیجیے : { وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ } ”اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔“ اور تیسری جہت کیا ہے ؟ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ } ”اور اللہ اس سے بھی باخبر ہے جو تمہارے سینوں کے اندر ہے۔“ اس آیت کے الفاظ اور مفہوم کے حوالے سے میں بہت عرصہ متردّد رہا کہ بظاہر تو یہاں الفاظ کی تکرار نظر آتی ہے کہ جو کچھ ہم چھپاتے ہیں وہی تو ہمارے سینوں میں ہوتا ہے ‘ لیکن تکرارِ محض چونکہ کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے اس لیے مجھے یقین تھا کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 یعنی جو باتیں تم دل میں چھپاتے یا چھپائے رکھتے ہو انہیں بھی جانتا ہے اور جو کچھ زبان سے کہہ دیتے ہو اسے بھی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو اعمال تم لوگوں سے چھپ چھپا کر کرتے ہو۔ اللہ انہیں جانتا ہے اور جو لوگوں کے سامنے کرتے ہو انہیں بھی۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو کام تم نے کیا ہے وہ کس نیت اور کس ارادہ سے کیا ہے پھر اسی کے مطابق تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عدل صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں صرف ظاہری اعمال اور ان کی ظاہری صورت پر ہی انحصار کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ حاصل یہ کہ اس کی قدرت کی طرح اس کی صفت علم بھی کامل ومکمل ہے، جزئیات وکلیات، غیب وشہادت سب پر یکساں حاوی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–8

وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم ما فی السموت ... الصدور . ” وہ اس سے بھی واقف ہے جو زمین اور آسمان میں ہے اور سب چیزوں کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو اور وہ دلوں تک کی بات کو جاننے والا ہے۔ “ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ : یعنی اللہ تمہارے اسرار اور ان خیالات سے واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پوشیدہ ہوتے ہیں ‘ جو چیز معلوم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے خواہ وہ کلی ہو یا جزئی 1 ؂ اللہ اس کو جانتا ہے کیونکہ ہر چیز سے اس کی نسبت (یعنی تخلیقی تعلق و نسبت) .......... 1 ؂ حکماء مشائیہ کہتے ہیں کہ واجب الوجود کے علم کا تعلق کلیات سے ہے ‘ جزئیات سے نہیں ہے ‘ وہ جزئیات کو نہیں جانتا اگر جانتا ہے تو من حیث الکلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور مخلوقات میں سے جو بھی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب کو جانتا ہے اور تمہارے سب ان کاموں کو جو کہ تم خفیہ کرتے ہو اور جو کہ تم علانیہ کرتے ہو جانتا ہے اور وہ دلوں میں جو نیکی و برائی ہے اس سے بھی واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ۔۔۔۔: یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب انسان کے جسم کا ہر ذرہ منتشر ہوجائے گا اور اس نے جو کچھ کیا وہ معدوم ہوچکا ہوگا تو اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا اور اسکے اعمال کی کسی کو کیا خبرہو گی کہ ان کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے۔ فرمایا وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے (اور وہ ہر جاندار کے زندگی میں ٹھکانے کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی مرنے کے بعد وہ کہاں ہے۔ دیکھئے ہود : 6) اس لیے اسے کچھ مشکل نہیں کہ جو جہاں بھی ہے اسے دوبارہ زندہ کر دے اور وہ تمہارے اعمال سے واقف ہے خواہ تم انہیں چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ (دیکھئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس آیت کی تفسیر کئی مواقع پر گزر چکی ہے وہ عالم غیب و شہادت ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : وہ جانتا ہے اس کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے ] [وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ : اور وہ جانتا ہے اس کو جو تم لوگ چھپاتے ہو ] [وَمَا تُعْلِنُوْنَ : اور اس کو جو تم لوگ علانیہ کرتے ہو ] [وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : اور اللہ جاننے والا ہے سینوں والی (بات) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ مافی السموت ومافی الارض اور مافی الصدور کو جانتا ہے : چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا ﴿ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (الآیۃ) (اور وہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں) ۔ ﴿ وَ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ﴾ (اور وہ تمہارے سب اقوال اور اعمال کو جانتا ہے جنہیں تم چھپاتے ہو اور جنہیں تم ظاہر کرتے ہو) ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 004﴾ (اور وہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے) ۔ یعنی اس کا علم اقوال اور افعال تک ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے بندے جو کچھ سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں اگرچہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ ” یعلم ما فی السماوات “ جس طرح خالق و متصرف اور قادر و مکتار وہی ہے، اسی طرح عالم الغیب بھی وہی ہے لہذا وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے۔ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز تمہارے ظاہری اور باطنی اقوال وافعال اور تمہارے دلوں کی باتیں بھی جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سور ۃ التغابن ہے جو کہ اس کی آیت 9 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے ۔ تغابن غبن کے مادہ سے ہے ۔ جس میں نقصان کا معنی پایا جاتا ہے اور یوم التغابن قیامت کے دن کو کہا گیا ہے جس کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں سورة تحریم کے بعد نازل ہوئی ، تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اس کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ اور یہ سورة 241 الفاظ اور 1070 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ، جو حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ 4 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ علن العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔ تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (التغابن : 4) (وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) منکرینِ قیامت کے ایک اشتباہ کا صفت علم سے ازالہ آخرت کے منکرین کا یہ خیال تھا کہ اولًا تو قیامت کا وقوع ہی محال ہے اور اگر بالفرض قیامت آہی گئی تو یہ بات تو کسی طرح معقول نہیں کہ ہر انسان کے زندگی بھر کے اعمال کا حساب کیا جاسکے۔ چونکہ ہر شخص زندگی میں بیشمار اعمال کا ارتکاب کرتا ہے۔ تو پوری نوع…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : اے لوگو ! جس ” اللہ “ کی ہر چیز تعریف کرتی ہے اسی نے تمہیں بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے ہر عمل کو دیکھنے والا ہے اس لیے کہ اس سے تمہاری کوئی خفیہ اور ظاہر بات پوشیدہ نہیں جب اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے تو تمہیں ایسی ذات کے ساتھ کفر و شرک نہیں کرنا چاہیے۔ (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمَوٰتٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 29) ” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا پھر آسمان کا ارادہ فرمایا تو ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنایا اور وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ (وہ اس سے بھی واقف ہے جو زمین اور جو آسمان میں ہے۔ اور سب چیزوں) وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللّٰہُ عَلِیمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو تم علانیہ کرتے ہو۔ اور وہ دلوں تک کی باتوں کو جاننے والا ہے) وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو جانتے ہیں۔ پھر جو بندے بھید چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے بھی واقف ہے۔ پھر وہ سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔ کلیات و جزئیات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر مخفی ہو۔ پس اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور احتیاط کی جائے۔ اور جو چیز اس کی رضا کے خلاف ہو۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گزر چکا ہے لہ الملک ولہ الحمد کا یہ مطلب ہے کہ زمین و آسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اس لئے ہر ایک چیز زمین و آسمان کی اپنے اپنے حال کے موافق اسی کی حمد و ثنا میں لگی ہوئی ہے وھو علی کل شی قدیر کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے کہ بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة تبارک الذی میں آئے گی۔ وھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے (وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ) یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمہارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ سب کچھ جو تم لوگ چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ اپنے ظاہر و باطن کا معاملہ درست رکھنے کی فکر و کوشش میں لگے رہا کرو، کہ یہی اصل اور اساس ہے دارین کی فوز و فلاح کی، اللہ توفیق بخشے آمین ثم آمین۔ پس جن لوگوں نے کفر و انکار سے کام لیا اور حق کو جھٹلایا وہ آخر کار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، سو کفر و انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال برا اور نہایت ہولناک ہے، تاریخ اس کی گواہ ہے، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے کمال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تخیلقات تشریح : یہ تمام آیات اللہ وحد لا شریک کی لاجواب تخلیقات اور بےحساب حکمتوں کا اظہار کر رہی ہیں ہم خود اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی تمام بہترین تخلیقات ہمارے دل و دماغ میں اس خالق کے وجود کا یقین پکا کردیتی ہیں جو کسی کا محتاج نہیں بالکل واحد ہے ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خالق ومالک کی تعریف نہ کریں اور اسی سے اپنی مرادیں نہ مانگیں۔ اللہ صرف ایک ہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر چیز جوڑوں میں ہے یا دو سے زیادہ میں ہے یہی فرق ہے مخلوق اور خالق میں۔ کیسی کیسی چیزیں اللہ نے بنا دی ہیں جن کو جاننا اور سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہاں انسان کو اس نے اپنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔ قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 مطلب یہ ہے کہ تمہارا کوئی بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا عمل اللہ تعالیٰسے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس کی سزا سے بچ سکو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(64:4) ما تسرون : ما موصولہ۔ تسرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر۔ جو تم پوشیدہ رکھتے ہو، جو تم چھپاتے ہو وما تعلنون۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ تعلنون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اعلان (افعال) مصدر۔ اعلان کرنا۔ آشکارا کرنا ، ظاہر کرنا۔ واللہ علیہم بذات الصدور : اللہ مبتداء ، باقی جملہ اس کی خبر۔ یہ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ اور اللہ کی صفات جو اوپر مذکور ہوئیں۔ ان کی تائید میں آیا ہے۔ علیہم، علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے (خوب جاننے والا۔ علماء جمع۔ ب حرف جار ہے۔ ذات الصدور۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ متعلق خبر۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ یعلم ماتسرون :…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔ تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

صفات باری تعالی۔ (ف 1) بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گذرچکا ہے ، لہ الملک ولہ الحمد۔ کا یہ مطلب ہے کہ زمین وآسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اسی لیے ہر ایک چیز اپنے حال کے موافق اسی کی حمد وثنا لگی ہوئی ہے ، وھو علی کل شئی قدیر۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة الملک میں آئے گی ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن۔ کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ نے اپنے علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–6

[1] بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی فرق صرف مومن و کافر کا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش۔ یہی بات نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے : '' اے لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے، ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ ''

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة التغابن تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔ معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) وہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے اور پوشیدہ رکھتے ہو اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک کو خوب جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ آسمانوں زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا اور سینوں کے رازوں سے واقف ہے 4 ؎ وہی اللہ تعالیٰ ہے جو آسمانوں اور زمین کے اندر جو کچھ چھپا ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ اس کائنات کے اندر دکھائی دیتا ہے اس کی حقیقت کو بھی وہی سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہے اور کیونکر ہے ۔ رب ذوالجلال والاکرام کی بےپایاں قدرت اور اس کی حکمت کی کرشمہ سازیاں وہ خود ہی جان سکتا ہے اور خود ہی جانتا ہے اور پھر اس کے بعد اگر اس نے کسی کو علم دیا ہے تو وہ اس ساری کائنات میں صرف اور صرف ایک انسان ہی ہے جس کو عطا کیا ہے پھر جتنا اس نے اس کو دیا ہے اس سے بھی واقف ہے اور جتنا ابھی اس کو نہیں دیا وہ بھی اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–5

وَصَوَّرَ‌كُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَ‌كُمْ (…and shaped your figures, and made your figures good…64:3). Shaping the figures of the creatures is one of the exclusive attributes of Allah, that is why Al-Musawwiru [ the shaper ] is one of His attributive names. If we analyze or look carefully into the universe, there are several classes of things. Each class has several species and each species has several sexes. Each sex has billions of members. No single shape ever resembles another shape. Among humankind, for instance, on account of difference of country or territory or difference of stock and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 Another translation can be: "Whatever you da secretly and whatever openly." 9 That is, "He is aware not only of those acts of tnan, which come to the notice of the people but He knows also those acts which remain hidden from them. Moreover, He dces not only see the superficial form of the acts, but also knows what intention and purpose underlay each act of man and with what motive and aim he did whatever he did- This is such a truth that if man ponders over it seriously, he can fully well understand that justice can be done only in the Hereafter, and only in God's Court can real justice be…

Read the full tafseer →