Explained with ayahs 1–4
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہوچکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 7
اس آیت میں تین باتیں علی الترتیب بیان کی گئی ہیں جن کے درمیان ایک بہت گہرا منطقی ربط ہے۔
پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ نے یہ کائنات بر حق پیدا کی ہے۔ " برحق " کا لفظ جب خبر کے لیے بولا جاتا ہے تو مراد ہوتی ہے سچی خبر۔ حکم کے لیے بولا جاتا ہے تو مطلب ہوتا ہے مبنی بر عدل و انصاف حکم۔ قول کے لیے بولا جاتا ہے تو مقصود ہوتا ہے راست اور درست قول۔ اور جب کسی فعل کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو مراد ایسا فعل ہوتا ہے جو حکیمانہ اور معقول ہو نہ کہ لایعنی اور فضول۔ اب یہ ظاہر ہے کہ خَلْق ایک فعل ہے، اس لیے تخلیق کائنات کو بر حق کہنے کا مطلب لا محالہ یہ ہے کہ یہ کائنات کچھ کھیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(آیت) وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ، (اس نے تمہاری صورت بنائی پھر تمہاری صورتوں کو بہتر بنایا) صورت گری در حقیقت خالق کائنات کی مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے اور غور کرو کہ کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ، ہر نوح میں اصناف مختلفہ اور ہر صنف میں لاکھوں کروڑوں افراد مختلفہ پائے جاتے ہیں، ایک کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی، ایک نوع انسانی میں ملکوں اور خطوں کے اختلاف سے نسلوں اور قوموں کے اختلاف سے شکل و صورت میں کھبے ہوئے امتیازات، پھر ان میں ہر فرد کی شکل و صورت کا دوسرے سب سے ممتاز ہونا ایک ایسی حیرت انگیز صنعت و…
Read the full tafseer →(خلق السموات والارض بالحق و صورکم فاممن صورکم والیہ المصیر) (3)۔
(جزاء و سزا اہتمام ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے)۔ یہ اوپر والی بات کی دلیل بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کی ہے۔ اس مقصد حق کا تقاضا یہ ہے کہ اسکے بعد لازماً ایک ایسا دن آئے جس میں حق پسندوں کو ان کی حق پسندی کا صلہ ملے اور جن کی زندگی اس مقصد حق کے خلاف گزری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔
(وصورکم فاحسن صورکم)۔ یہ اس اہتمام کی طرف توجہ دلائی ہے جو ان کی خلقت میں خالق نے ملحوظ رکھا ہے ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ انسان کی تخلیق بہترین سانچہ پر ہوئی ہے۔ چناچہ سورة تین میں فرمایا ہے
(لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم)…
Read the full tafseer →3۔ 1 اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چناچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔
3۔ 2 تمہاری شکل وصورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔
3۔ 2 کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہوجائے۔
Read the full tafseer →خلق السموت .................... المصیر (46 : 3) ” اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے ، اور اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے “۔
آیت کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ” اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا “۔ اس سے ایک مومن کو یہ شعور ملتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور تدبیر میں حق ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ کوئی عارضی یا غیر ضروری چیز نہیں ہے۔ اس کائنات کی تشکیل ہی حق پر ہے اور جو ذات یہ حقیقت بیان کررہی ہے وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان اور اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یہ کائنات کس بنیاد پر قائم ہے۔ کسی شخص کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے تو…
Read the full tafseer →3 سب جانوروں سے انسان کی خلقت اچھی ہے۔ دیکھنے میں بھی خوبصورت، اور ملکات و قویٰ میں بھی تمام عالم سے ممتاز، بلکہ سب کا مجموعہ اور خلاصہ، اسی لیے صوفیہ اسے " عالم صغیر " کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 3{ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ } ”اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کے ساتھ“
اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات عبث پیدا نہیں کی ‘ بلکہ یہ ایک بہت ہی بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے اور انسان اس کی تخلیق کی معراج ہے۔ چناچہ کائنات کی تخلیق کے ذکر کے بعد خاص طور پر تخلیق ِانسانی کا ذکر فرمایا :
{ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ”اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو بہت ہی عمدہ صورت گری کی۔“
انسانی ڈھانچے کی ساخت ‘ جسم کی بناوٹ ‘ چہرے کے خدوخال ‘ غرض ایک ایک عضو کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ‘ انتہائی متناسب اور دیدہ زیب ہے۔
{ وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ۔ } ”اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔“
کیا…
Read the full tafseer →5 وہ حقیقی مصلحت یہ تھی کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا کردیں جو انسان کی زندگی اور زندگی کی بقا کے لئے ضروری تھیں۔ تمام اشیاء کو انسان کا خادم بنادیا اور وہ تمام چیزیں انسان ہی کی خدمت پر مامور ہیں۔
6 انسان میں دوسری مخلوق سے کیا کیا صفات زائد ہیں ؟ : یعنی انسان کو سیدھا کھڑا ہو کردو پاؤں پر چلنے والی مخلوق بنایا۔ اسے بولنے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے اور جواب دینے کی قوتیں عطا فرمائیں۔ پھر اس کو یہ عقل و شعور بھی بخشا کہ وہ تمام مخلوق سے اپنے حسب ضرورت کام لے سکے، انہیں اپنا مطیع و منقاد بنا سکے اور ان پر حکومت کرسکے۔ اور یہ صفات انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق…
Read the full tafseer →3۔ یہاں جتنی صفات الہی بیان ہوئی ہیں، بہت سی آیات قرآنی کی طرح، ان میں سے ہر صفت کا اثبات کسی نہ کسی مشرکانہ گمراہی کی تردید، کسی نہ کسی جاہلی عقیدہ کے ابطال ہی میں ہے۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ آسمان و زمین نہ دیوی، دیوتا ہیں، نہ خود آفریدہ بلکہ حق تعالیٰ کے خلق کیے ہوئے ہیں، جس طرح اور ساری مخلوق ہے، (آیت) ” بالحق “۔ یہ سارا کارخانہ کائنات، جس کی پوری پیمائش کسی بندہ سے نہ آج تک ہوسکی ہے، نہ آئندہ کبھی ہوسکے گی، یوں ہی بلامقصد، محض تماشہ و تفریح کی خاطر وجود میں نہیں لے آیا گیا ہے، بلکہ مخصوص و متعین اعلی مقاصد ہی کے ماتحت ایک حکیم مطلق کے ارادہ وتجویز کے مطابق وجود میں لایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب…
Read the full tafseer →خلق السموات والارض بالحق و صورکم فاحسن صورکم ولیہ المصیر .
” اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائیں ‘ سو اچھی صورتیں بنائیں اور اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ “
بِالْحَقِّ : یعنی کامل حکمت کے ساتھ پیدا کیا کہ یہ ساری کائنات ایک صانع حکیم کی ہستی اور وحدانیت کی نشاندہی کر رہی ہے۔
وَصَوَّرَکُمْ : اور اے لوگو ! اللہ نے تمہارے نقشے بنائے۔
فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ : اور تمام حیوانوں سے زیادہ خوب صورت تمہارے نقشے بنائے ‘ ظاہر میں بھی (کہ دیکھنے میں سب سے اچھے دکھائی دیتے ہو) اور باطنی طور پر بھی (تمام جہان سے زیادہ علم ‘ عقل اور معرفت کے حامل ہو) ۔
وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ…
Read the full tafseer →اس نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعض لوگ ظاہری طور پر کافر ہیں اور بعض مومن یا یہ کہ تم میں سے بعض کافر ہیں جو ایمان قبول کرلیں گے۔ یہ ایمان پر برانگیختہ کرنا ہوا اور بعض مومن ہیں جو کفر اختیار کرلیں گے یہ کفر سے ڈرانا ہوا یا یہ کہ تم میں بعض ظاہری و باطنی طور پر کافر ہیں اور بعض مومن اور بعض تم میں سے ظاہری طور پر مومن اور خفیہ طور پر کافر ہیں جیسا کہ منافق۔ اس نے حق و باطل کے اظہار کے لیے یا یہ کہ زوال و فنا کے لیے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور تمہارا بہ نسبت جانوروں کے عمدہ نقشہ بنایا کہ تمہارے نقشہ کو ہاتھوں، پیروں، کانوں اور آنکھوں اور تمام اعضاء کے ساتھ مضبوط…
Read the full tafseer →1۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ : جس سے مراد یہاں حکمت و مصلحت ہے اور ان کی پیدائش کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا فرما دیں جو انسان کی بقاء کے لیے ضروری تھیں اور انہیں انسان کی خدمت پر مامور کردیا ، جیسا کہ فرمایا :(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) (البقرہ : 29)”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ زمر (5)
2۔ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ : اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا فرمائی اچھی پیدا فرمائی۔ (دیکھئے سجدہ : 7) یہاں فرمایا کہ اس نے تمہاری صورت…
Read the full tafseer →خلق السموت والارض بالحق اس کی تفسیر کئی مواقع پر گزر چیک ہے یعنی اسی نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ امر حق ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : باء لام کے معنی میں ہے، یعنی انہیں حق کے لئے پیدا فرمایا۔ مراد ہوگا جنہوں نے برے اعمال کئے انہیں ان کے عمل کی جزا دے اور جہنمیوں نے اچھا علم کیا انہیں اچھائی کا بدلہ عطا فرمائے۔ وصورکم فاحسن صورکم مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں (4) اللہ تعالیٰ نے آپ کی کر اتم کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ (2) تمام مخلوق مراد ہے۔ (3) تصویر کا معنی گزر چکا ہے اس سے مراد خط لگانا اور شکل و صورت بنانا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…
Read the full tafseer →[خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] [بِالْحَقِّ : حق (مقصد) کے ساتھ ] [وَصَوَّرَكُمْ : اور اس نے صورت بنائی تم لوگوں کی ] [فَاَحْسَنَ : پھر اس نے حسن دیا ] [صُوَرَكُمْ : تمہاری صورتوں کو ] [وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ : اور اس کی طرف ہی لوٹنا ہے ]
نوٹ۔ 2: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتب آسمانی نے کبھی انسان کے پیدائشی گنہگار ہونے کا وہ تصور پیش نہیں کیا جسے ڈیڑھ ہزار سال سے عیسائیت نے اپنا بنیادی عقیدہ بنا رکھا ہے۔ آج خود کیتھولک علماء یہ کہنے لگے ہیں کہ بائبل میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ چناچہ بائبل کا ایک مشہور جرمن عالم ریورینڈ ہربرٹ ہاگ اپنی کتاب…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو حکمت سے پیدا فرمایا اور تمہاری اچھی صورتیں بنائیں :
﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق (یعنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا ﴿ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ 1ۚ﴾ اللہ تعالیٰ نے تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری اچھی صورتیں بنائیں۔
اس میں انسانوں پر امتنان فرمایا اور اپنے ایک احسان عظیم کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے ماؤں کے رحموں میں تمہاری صورتیں بنا دیں اور اچھی صورتیں بنائیں ہاتھ، پاؤں آنکھ ناک قد وقامت کے اعتبار سے جو اعضاء انسانی میں تناسب ہے اور ساتھ ہی حسن و جمال ہے۔ ان سب کو دیکھ کر انسانوں کو اپنے خالق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →4:۔ ” خلق السماوات “ اس ساری کائنات کو اس نے اظہار حق کے لیے پیدا فرمایا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے۔ ” وصورکم فاحسن صورکم “ منجملہ صنائع قدرت و بدائع صنعت خود تمہاری پیدائش اور تمہاری صورت سازی ہے کہ اس نے تمام مخلوقات میں تمہیں سب سے زیادہ حسن و جمال عطا فرمایا اور ظاہری جمال و کمال کے ساتھ ساتھ تمہارے باطن کی تکمیل و تحسین کے لیے دستور ہدایت نازل فرمایا۔ چونکہ تم سب آخر کار اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیے جاؤ گے۔ اس لیے توحید اور دیگر احکام خداوندی سے سرتابی کر کے اپنے باطن کو نہ بگاڑو تاکہ عذاب جہنم سے تمہارا ظاہری حسن و جمال بھی نہ بگڑ جائے (والیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سور ۃ التغابن ہے جو کہ اس کی آیت 9 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے ۔ تغابن غبن کے مادہ سے ہے ۔ جس میں نقصان کا معنی پایا جاتا ہے اور یوم التغابن قیامت کے دن کو کہا گیا ہے جس کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں سورة تحریم کے بعد نازل ہوئی ، تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اس کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں۔
اس سورة مبارکہ میں اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ اور یہ سورة 241 الفاظ اور 1070 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ، جو حضور ﷺ…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ 0 ۚ وَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُ 3
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ ج وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (التغابن : 3)
(اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہاری صورتوں کو خوبصورت بنایا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ )
جزا و سزا پر ربوبیت سے استدلال
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا فرمایا ہے، یعنی ہر مخلوق کو اس نے اس طرح بنایا جس طرح اسے بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنی تخلیق کے مقاصد کو صحیح طریقے سے انجام دے سکے۔ کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں آپ غور کریں تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ چیونٹی کا ننھا سا جسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : اے لوگو ! جس ” اللہ “ کی ہر چیز تعریف کرتی ہے اسی نے تمہیں بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے ہر عمل کو دیکھنے والا ہے اس لیے کہ اس سے تمہاری کوئی خفیہ اور ظاہر بات پوشیدہ نہیں جب اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے تو تمہیں ایسی ذات کے ساتھ کفر و شرک نہیں کرنا چاہیے۔
(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمَوٰتٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 29)
” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا پھر آسمان کا ارادہ فرمایا تو ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنایا اور وہ…
Read the full tafseer →3 : خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اسی نے آسمانون کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا) اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اور وہ یہ ہے کہ زمین کو مکلفین کے ٹھہرائو کی جگہ بنادیا تاکہ وہ عمل کریں اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔
سب سے زیادہ خوبصورت انسان :
وَصَوََّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ (اور تمہاری صورتیں بنائیں) پس اچھی صورتیں بنائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات میں سب سے زیادہ شاندار اور خوبصورت بنایا۔ اس کی دلیل نمبر 1۔ عقلی یہ ہے۔ کہ انسان کبھی بھی یہ تمنا نہیں کرتا کہ اس کی صورت دیگر حیوانات میں سے کسی کی شکل جیسی ہوتی۔ نمبر 2۔ اس کی حسن صورت کی دلیل یہ بھی کہ…
Read the full tafseer →2 ۔ ابوسعیدخدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا پس تم میں سے بعض اپنی زندگی میں کافر ہیں اور انجام میں مومن ہیں اور تم میں سے بعض اپنی زندگی میں مومن ہیں انجام میں کافر ہیں۔ عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں پس تم میں سے بعض اللہ کا انکار کرنے والے ستاروں پر ایمان لانے والے ہیں اور تم سے بعض اللہ پر ایمان لانے والے ستاروں کا انکار کرنے والے ہیں اور کہا گیا ہے ” فمنکم کافر “ کہ اس بات کا اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور یہ دھریہ کا مذہب ہے۔ ” ومنکم مومن “ اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور اس میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیدا کیا ہے اور اس کا کفر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گزر چکا ہے لہ الملک ولہ الحمد کا یہ مطلب ہے کہ زمین و آسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اس لئے ہر ایک چیز زمین و آسمان کی اپنے اپنے حال کے موافق اسی کی حمد و ثنا میں لگی ہوئی ہے وھو علی کل شی قدیر کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے کہ بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة تبارک الذی میں آئے گی۔ وھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا چناچہ فرمایا (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔ یعنی تمام اجرام ارضی وفل کی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں (بالحق) حق کے ساتھ۔ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض وغایت کے لیے جو اللہ تعالیٰ کو مقصود ہے۔ ( وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۚ ) اور اس نے تمہاری صورت گری کی اور تمہاری بہترین صورتیں بنائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ التین 4) ۔ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔…
Read the full tafseer →3 ۔ سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، سو کوئی شا ہے یا نہ چاہے، مانہ یا نہ مانے، اس کو بہرحال وہاں پہنچنا اور حاضر ہونا ہوگا تاکہ وہاں پہنچ کر وہ اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوسکیں، سو جس وحدہ لاشریک نے عظیم مقصد کے تحت اس کائنات کو پیدا فرمایا، اور جس اہتمام سے اس نے انسان کو وجود بخشا اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ہر کوئی اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہو کر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تخیلقات
تشریح : یہ تمام آیات اللہ وحد لا شریک کی لاجواب تخلیقات اور بےحساب حکمتوں کا اظہار کر رہی ہیں ہم خود اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی تمام بہترین تخلیقات ہمارے دل و دماغ میں اس خالق کے وجود کا یقین پکا کردیتی ہیں جو کسی کا محتاج نہیں بالکل واحد ہے ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خالق ومالک کی تعریف نہ کریں اور اسی سے اپنی مرادیں نہ مانگیں۔ اللہ صرف ایک ہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر چیز جوڑوں میں ہے یا دو سے زیادہ میں ہے یہی فرق ہے مخلوق اور خالق میں۔ کیسی کیسی چیزیں اللہ نے بنا دی ہیں جن کو جاننا اور سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہاں انسان کو اس نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی بامقصد پیدا کیا ہے تاکہ ابتلاء کے ذریعہ نیک و بد کو جزا و سزا دی جائے۔ نیز دیکھئے ( سورة روم : 8)9 یعنی اس نے اپنی تمام مخلوقات میں سے تمہاری شکل و صورت اور بناوٹ بہترین بنائی۔ دیکھنے میں بھی خوبصورت اور عقل و استعداد کے اعتبارے بھی سب سے ممتاز۔
1 نہ کہ کی اور طرف لہٰذا ناگزیر ہے کہ تم اس کے حضور اپنے نیک اعمال کا نیک اور برے اعمال کا برا بدلہ پائو۔
Read the full tafseer →(64:3) بالحق : حق کے ساتھ ۔ بہمہ وجوہ ٹھیک ٹھاک۔
صورکم : فعل ماضی واحد مذکر غائب تصویر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی صورت بنانا کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تمہاری صورت کھینچی، اس نے تمہاری شکل بنائی۔
فاحسن صورکمتعقیب کا ہے احسن ماضی واحد مذکر غائب اس نے اچھا بنایا۔ احسان (افعال) مصدر۔ صورکم : مضاف مضاف الیہ۔ صور جمع ہے صورۃ کی، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ۔ پھر اس نے تمہاری صورتوں کو اچھا بنایا۔
المصیر : اسم ظرف مکان صیر (باب ضرب) مصدر۔ لوٹنے کی جگہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
صفات باری تعالی۔
(ف 1) بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گذرچکا ہے ، لہ الملک ولہ الحمد۔ کا یہ مطلب ہے کہ زمین وآسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اسی لیے ہر ایک چیز اپنے حال کے موافق اسی کی حمد وثنا لگی ہوئی ہے ، وھو علی کل شئی قدیر۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة الملک میں آئے گی ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن۔ کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ نے اپنے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
[1] بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی فرق صرف مومن و کافر کا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش۔ یہی بات نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے : '' اے لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے، ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التغابن
تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔
معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت…
Read the full tafseer →(3) اس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری صورتیں بہت اچھی بنائیں اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی ساخت اور بناوٹ میں کمال حکمت کی رعایت رکھی گئی ہے تمام مخلوق اسی رعایت کی وجہ سے فائدہ اٹھارہی ہے۔
……اور تمام خلق کی ضروریات زندگی اسی آسمان و زمین سے وابستہ ہے پھر تمام مخلوق میں سے انسان کو بہترین صورت پر بنایا اور قدوقامت اور ناک نقشے کے اعتبار سے اس کو خوشنما اور موزوں طریق پر ترتیب دیا، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی خلقت اچھی ہے۔ اس خوبی اور کمال حسن کو انسان بھی سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی پر حکمت و پر منفعت بنایا۔
2۔ چناچہ اعضا انسانی کے برابر کسی حیوان کے اعضاء میں تناسب نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور انسانوں کو جو شکل و صورت دی وہ بہت خوب دی
3 ؎ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ، کیا مطلب ؟ یہ تفہیم کرانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ان کے اندر ہے یا اوپر اور نیچے سب کا سب اللہ نے اسی طرح پیدا کیا جس طرح کہ اس کو پیدا کرنا چاہئے تھا اور کسی چیز کو ناحق پیدا نہیں کیا ۔ یعنی ایسا نہیں بنایا کہ اس کے متعلق کوئی شخص کہہ سکے کہ اگر اس کو اس طرح نہ بنایا ہوتا تو اس کا یہ فائدہ ہوتا گویا اس میں کمی بیشی کو ثابت نہیں کرسکتا ۔ آپ کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز پر اس طرح غور کریں کہ اس میں آپ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (…and shaped your figures, and made your figures good…64:3). Shaping the figures of the creatures is one of the exclusive attributes of Allah, that is why Al-Musawwiru [ the shaper ] is one of His attributive names. If we analyze or look carefully into the universe, there are several classes of things. Each class has several species and each species has several sexes. Each sex has billions of members. No single shape ever resembles another shape. Among humankind, for instance, on account of difference of country or territory or difference of stock and…
Read the full tafseer →7 In this verse three things have been stated in their sequence, which are well connected logically:
First, it has been said that AIlah has created this universe with the tnrth. When the word "with the truth" is spoken for a news, it means a true news; when it is spoken for a command, it means a command based on justice; when it is spoken for a statement, it means a correct statement; and when it is used for an act, it implies an act which is wise, reasonable and useful. Now, khalq (to create) is an act; therefore, to say that the universe has been created with the truth, would inevitably…
Read the full tafseer →